ویکی اقتباس urwikiquote https://ur.wikiquote.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%81_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.8 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی اقتباس تبادلۂ خیال ویکی اقتباس فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk محمد اقبال 0 2392 14866 14486 2026-06-30T08:35:55Z Brainwavewizard 2948 /* اقوال */ 14866 wikitext text/x-wiki [[File:Iqbal.jpg|thumb|]] [[تصویر:Allama Iqbals Tomb East & south walls July 1 2005.jpg|thumb|علامہ اقبال کا مزار]] '''[[:w:محمد اقبال|محمد اقبال]]''' (9 نومبر 1877ء تا 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، [[قانون دان]]، [[سیاستدان]]، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور [[فارسی]] میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت [[اسلام]] کی طرف تھا۔ == اقوال == *اختتام اور مقاصد، چاہے وہ شعوری یا لاشعوری رجحانات کے طور پر موجود ہوں، ہمارے شعوری تجربے کی تپش اور ڈھنگ کی تشکیل کرتے ہیں۔ **اسلام میں مذہبی فکر کی تعمیر نو (1930)، صفحہ۔ 42 * قوی انسان ماحول تخلیق کرتا ہے۔ کمزوروں کو ماحول کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا پڑتا ہے۔ * قوت باطل کو چھو لیتی ہے تو باطل حق میں بدل جاتا ہے۔ * تہذیب مرد قوی کا ایک خیال ہے۔ * پیکر قوت مہدی کا انتظار چھوڑ دو، جاؤ اور مہدی کو تخلیق کرو۔ ** شذرات اقبال، مجلس ترقی ادب، لاہور '''(بال جبریل 042) یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبحگاہی''' *یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبحگاہی، کہ خودی کے عرفا کا ہے مقام پادشاہی *تیری زندگی اسی سے، تیری آبرو اسی سے، جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو روسیاہی *نہ دیا نشان منزل مجھے اے حکیم تو نے، مجھے کیا گلہ ہو تجھ سے، تو نہ رہ نشین نہ راہی *میرے حلقہ سخن میں ابھی زیر تربیت ہیں، وہ گدا کہ جانتے ہیں راہ و رسم کجکلاحی *یہ معاملے ہیں نازک، جو تری رضا ہو تو کر، کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق خانقاہی *تو ہما کا ہے شکاری، ابھی ابتدا ہے تیری، نہیں مصلحت سے خالی یہ جہان مرغ و ماہی *تو عرب ہو یا عجم ہو، تیرا ”لا الہ الا اللہ“، لغت غریب، جب تک تیرا دل نہ دے گواہی '''(بال جبریل 145) روحِ ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے''' *کھول آنکھ، زمین دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ، مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ *اس جلوۂ بے پردہ کو پردوں میں چھپا دیکھ، ایامِ جدائی کے ستم دیکھ، جفا دیکھ، بیتاب نہ ہو معرکۂ بیم و رجا دیکھ *ہیں تیرے تصرف میں یہ بدل، یہ گھٹائیں، یہ گنبدِ افلاک، یہ خاموش فضائیں *یہ کوہ یہ صحرا، یہ سمندر یہ ہوائیں، تھیں پیش نظر کل تو فرشتوں کی ادائیں، آئینۂ ایام میں آج اپنی ادا دیکھ *سمجھے گا زمانہ تری آنکھوں کے اشارے، دیکھیں گے تجھے دور سے گردوں کے ستارے *نہ پيد تيرے بحر تخیل کے کنارے، پہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارے، تعمیر خودی کر، اثر آہ رسا دیکھ *خورشید جہاں تاب کی جو تیرے شرر میں، آباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہنر میں *جچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میں، جنت تری پنہاں ہے تیرے خون جگر میں، اے پیکرِ گل کوشش پہم کی جزا دیکھ *نالندا تیرے عود کا ہر تار ازل سے، تو جنس محبت کا خیریدار ازل سے *تو پیر صنم خانۂ اسرار ازل سے، محنت کش و خون ریز و کم آزار ازل سے، ہے رکاب تقدیر جہاں تیری رضا، دیکھ '''(بانگِ درا ۰۲۱) دردِ عشق''' *اے دردِ عشق! ہے گوہرِ ابد تُو، نہ مہرموں میں دیکھ نہ ہو آشکارا تُو *پنہاں تہِ نقاب تری جلوگاہ ہے، ظاہر پرست محفلِ نو کی نگاہ ہے *آئی نئی ہوا چمنِ ہست و بود میں، اے دردِ عشق! اب نہیں لذت نمود میں *ہاں، خود نمائیوں کی تجھے جستجو نہ ہو، مِنّت پذیر نالۂ بلبل کا تُو نہ ہو *خالی شرابِ عشق سے لالہ کا جام ہو، پانی کی بوند گریۂ شبنم کا نام ہو *پنہاں دروںِ سینا کہیں راز ہو تیرا، اشکِ جگر گداز نہ غمّاز ہو تیرا *گویا زبانِ شاعرِ رنگین بیاں نہ ہو، آوازِ نے میں شکوۂ فرصت نہاں نہ ہو *یہ دور نکته چین ہے، کہیں چُپ کے بیٹھ رہ، جس دل میں تُو مکیں ہے، وہیں چُپ کے بیٹھ رہ *غافل ہے تجھ سے حیرتِ علم آفریدہ دیکھ! جویا نہیں تری نگاہِ نارسیدہ دیکھ *رہنے دے جستجو میں خیالِ بلند کو، حیرت میں چھوڑ دیدۂ حکمت پسند کو *جس کی بہار تُو ہو یہ ایسا چمن نہیں، قابل تری نمود کے یہ انجمن نہیں *یہ انجمن ہے کشتۂ نظرۂ مجاز، مقصد تری نگاہ کا خلوت سرائے راز *ہر دل مئے خیال کی مستی سے چور ہے، کچھ اور آج کل کے کلاموں کا طور ہے '''(بانگِ درا-۱۲۳) قربِ سلطان''' *تمیزِ حاکم و محکوم مٹ نہیں سکتی، مجال کیا کہ گداگر ہو شاہ کا ہم دوش *جہاں میں خواجہ پرستی ہے بندے کا کمال، رضائے خواجہ طلب کن قبائے رنگین پوش *مگر غرض جو حصولِ رضائے حاکم ہو، خطاب ملتا ہے منصب پرست و قوم فروش *پرانے طرزِ عمل میں ہزار مشکل ہے، نئے اصول سے خالی ہے فکر کی آغوش *مزا تو یہ ہے کہ یوں زیرِ آسمان رہیے، "ہزار گونہ سخن در دہن و لب خاموش *یہی اصول ہے سرمایۂ سکونِ حیات، "گدائے گوشہ نشینی تو حافظہ مے خروش *مگر خروش پہ مائل ہے تُو تو بسم اللہ، "بگیر بادۂ صافی بہ بانگِ چنگ بنوش *شریکِ بزمِ امیر و وزیر و سلطان ہو، لڑا کے توڑ دے سنگِ ہوس سے شیشۂ ہوش *پیامِ مرشدِ شیراز بھی مگر سن لے، کہ ہے یہ سرِّ نہاں خانۂ ضمیرِ سر فروش *"مہلِ نورِ تجلّی ست رای انور شاہ، چو قرب طلبی در صفائے نیت کُش '''(بانگِ درا-۱۵۵) پھول''' *تجھے کیوں فکر ہے اے گل دلِ سد چاکِ بلبل کی، تو اپنے پیرہن کے چاک تو پہلے رفو کر لے *تمنّا آبرو کی ہو اگر گلزارِ ہستی میں، تو کانٹوں میں الجھ کر زندگی کرنے کی خو کر لے *صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے، پابندِ گِل بھی ہے، انہیں پابندیوں میں حصولِ آزادی کو تو کر لے *تَنک بخشی کو استغنا سے پیغامِ خجالت دے، نہ رہ منّت کشِ شبنم، نگوں جام و سبو کر لے *نہیں یہ شانِ خوداری، چمن سے توڑ کر تجھ کو، کوئی دستار میں رکھ لے، کوئی زيبِ گلو کر لے *چمن میں غنچۂ گل سے یہ کہ کر اڑ گئی شبنم، مذاقِ جورِ گلچیں ہو تو پیدا رنگ و بو کر لے *اگر منظور ہو تجھ کو خزاں ناآشنا رہنا، جہانِ رنگ و بو سے، پہلے قطعِ آرزو کر لے *اس میں دیکھ، مضمر ہے کمالِ زندگی تیرا، جو تجھ کو زينتِ دامن کوئی آئینہ رو کر لے '''(ضربِ کلیم-۰۰۹) زمین و آسمان''' *ممکن ہے کہ تو جس کو سمجھتا ہے بہاراں، اوروں کی نگاہوں میں وہ موسم ہو خزاں کا *ہے سلسلہ احوال کا ہر لمحہ دگرگوں، اے سالکِ راہ، فکر نہ کر سود و زیاں کا *ہے سلسلہ احوال کا ہر لمحہ دگرگوں، اے سالکِ راہ، فکر نہ کر سود و زیاں کا '''(ضربِ کلیم-۱۱۹) نگاہِ شوق''' *یہ کائنات چھپاتی نہیں ضمیر اپنا، کہ ذرہ ذرہ میں ہے ذوقِ آشکارائی *کچھ اور ہی نظر آتا ہے کاروبارِ جہاں، نگاہِ شوق اگر ہو شریکِ بینائی *اسی نگاہ سے مہجوم قوم کے فرزند، ہوئے جہاں میں سزاوارِ کار فرمائی *اسی نگاہ میں ہے قاہری و جباری، اسی نگاہ میں ہے دلبری و رعنائی *اسی نگاہ سے ہر ذرّے کو، جنون میرا، سکھا رہا ہے راہ و رسمِ دشتِ پیمائی *نگاہِ شوق میسر نہیں اگر تجھ کو، ترا وجود ہے قلب و نظر کی رسوائی ''' پہاڑ اور گلہری ''' کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا ایک گلہری سے, تُجھے ہو شرم تو پانی میں جاکر دوں مر ذرا سی چیز ہے, اس پر غرور کیا کہنا, یہ عقل اور یہ سمجھ, یہ شعو کیا کتنا خدا کی شاں ہے, نہ چیز, چیز بن بیٹھے,جو بے شعور ہوں یوں با بن بیٹھے تی بساط ہے کیا, میری شاں کے آگے, زمین ہے پست میری آن بان کی آگے جو بات مجھ میں ہے, توجہ کو وہ ہے نصیب کہاں, بھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں کہاں یہ سن کر گلہری نے منہ سنبھال ذرا, یہ کچّی باتیں ہیں دل سے انھیں نکال ذرا جو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا ہوا, نہیں ہے تو بھی تو آخر میری طرح چھوٹا ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی خدا کی قدرت ہے, کوئی بڑا کوئی چھوٹا یہ اسی کی حکمت ہے بڑا جہاں میں توجہ کو بنا دیا اس نے , مجھے درخت پر چڑھنا سیکھا دیا اس نے قدم اٹھانے کی طاقت نہیں ذرا توجہ میں, میری برائی ہے خوبی اور کیا ہے توجہ مریں جو تو بڑا ہے, تو مجھ سا ہنر دکھا, یہ چھالیہ ہے ذرا توڑ کر دیکھا مجھ کو نہیں ہے چیز ایکمی کوئی زمانے مریں, کوئی بڑا نہیں قدرت کے کارخانے میں۔ ==اقبال کے بارے میں اقتباسات== *اقبال کے فکر و فلسفہ کا مرکزی مسئلہ نہ خودی ہے، نہ عشق، نہ عمل، اور نہ ہی قوت و حرکت؛ بلکہ ان سب کے برخلاف موت اقبال کا بنیادی مسئلہ ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جو ان کے وجود میں ایک ایسی لرزش اور ہلچل پیدا کرتا ہے جو ان کی پوری ہستی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ **ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 8 * اقبال کے بارے میں اردو تنقید کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہے کہ “عظیم مفکر” ہونا لازماً “عظیم شاعر” ہونے کے مترادف نہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ فلسفے کو شاعری میں ڈھالنے کے مقابلے میں شاعری کو فلسفے میں بیان کرنا شاید زیادہ آسان ہے- ** ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 12 * اقبال کو اردو شاعری میں مختلف اسالیب کے ایک کامل و مکمل کرنے والے شاعر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، اور ساتھ ہی بہت سے نئے اسالیب کے موجد کے طور پر بھی۔ **ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 34 ==مزید دیکھیے== * [[فہرست شخصیات بلحاظ نام|شخصیات]] ==حوالہ جات== {{Wikipedia}} [[زمرہ:1877ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1938ء کی وفیات]] [[زمرہ:پاکستانی شعراء]] [[زمرہ:شعراء]] [[زمرہ:برطانوی ہند کی شخصیات]] [[زمرہ:لاہور کی شخصیات]] [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:اردو ادب]] [[زمرہ:شعرائے اردو]] [[زمرہ: فارسی ادب]] [[زمرہ:فارسی شعراء]] [[زمرہ:فارسی زبان کے شعراء]] [[زمرہ:فارسی زبان کے مصنفین]] [[زمرہ:پاکستانی شخصیات]] [[زمرہ:ہندوستانی مسلمان]] [[زمرہ:سیاست دان]] [[زمرہ:تحریک پاکستان کے قائدین]] [[زمرہ:کارکنان تحریک پاکستان]] [[زمرہ:پاکستانی سیاستدان]] [[زمرہ:پاکستانی علما]] [[زمرہ:پاکستانی غیر افسانوی مصنفین]] 8yemk4fgn7weux0ywp847w1o6wtxlkt 14867 14866 2026-06-30T08:39:25Z Brainwavewizard 2948 /* اقوال */ 14867 wikitext text/x-wiki [[File:Iqbal.jpg|thumb|]] [[تصویر:Allama Iqbals Tomb East & south walls July 1 2005.jpg|thumb|علامہ اقبال کا مزار]] '''[[:w:محمد اقبال|محمد اقبال]]''' (9 نومبر 1877ء تا 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، [[قانون دان]]، [[سیاستدان]]، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور [[فارسی]] میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت [[اسلام]] کی طرف تھا۔ == اقوال == *اختتام اور مقاصد، چاہے وہ شعوری یا لاشعوری رجحانات کے طور پر موجود ہوں، ہمارے شعوری تجربے کی تپش اور ڈھنگ کی تشکیل کرتے ہیں۔ **اسلام میں مذہبی فکر کی تعمیر نو (1930)، صفحہ۔ 42 * قوی انسان ماحول تخلیق کرتا ہے۔ کمزوروں کو ماحول کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا پڑتا ہے۔ * قوت باطل کو چھو لیتی ہے تو باطل حق میں بدل جاتا ہے۔ * تہذیب مرد قوی کا ایک خیال ہے۔ * پیکر قوت مہدی کا انتظار چھوڑ دو، جاؤ اور مہدی کو تخلیق کرو۔ ** شذرات اقبال، مجلس ترقی ادب، لاہور '''(بال جبریل 042) یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبحگاہی''' *یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبحگاہی، کہ خودی کے عرفا کا ہے مقام پادشاہی *تیری زندگی اسی سے، تیری آبرو اسی سے، جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو روسیاہی *نہ دیا نشان منزل مجھے اے حکیم تو نے، مجھے کیا گلہ ہو تجھ سے، تو نہ رہ نشین نہ راہی *میرے حلقہ سخن میں ابھی زیر تربیت ہیں، وہ گدا کہ جانتے ہیں راہ و رسم کجکلاحی *یہ معاملے ہیں نازک، جو تری رضا ہو تو کر، کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق خانقاہی *تو ہما کا ہے شکاری، ابھی ابتدا ہے تیری، نہیں مصلحت سے خالی یہ جہان مرغ و ماہی *تو عرب ہو یا عجم ہو، تیرا ”لا الہ الا اللہ“، لغت غریب، جب تک تیرا دل نہ دے گواہی '''(بال جبریل 145) روحِ ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے''' *کھول آنکھ، زمین دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ، مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ *اس جلوۂ بے پردہ کو پردوں میں چھپا دیکھ، ایامِ جدائی کے ستم دیکھ، جفا دیکھ، بیتاب نہ ہو معرکۂ بیم و رجا دیکھ *ہیں تیرے تصرف میں یہ بدل، یہ گھٹائیں، یہ گنبدِ افلاک، یہ خاموش فضائیں *یہ کوہ یہ صحرا، یہ سمندر یہ ہوائیں، تھیں پیش نظر کل تو فرشتوں کی ادائیں، آئینۂ ایام میں آج اپنی ادا دیکھ *سمجھے گا زمانہ تری آنکھوں کے اشارے، دیکھیں گے تجھے دور سے گردوں کے ستارے *نہ پيد تيرے بحر تخیل کے کنارے، پہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارے، تعمیر خودی کر، اثر آہ رسا دیکھ *خورشید جہاں تاب کی جو تیرے شرر میں، آباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہنر میں *جچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میں، جنت تری پنہاں ہے تیرے خون جگر میں، اے پیکرِ گل کوشش پہم کی جزا دیکھ *نالندا تیرے عود کا ہر تار ازل سے، تو جنس محبت کا خیریدار ازل سے *تو پیر صنم خانۂ اسرار ازل سے، محنت کش و خون ریز و کم آزار ازل سے، ہے رکاب تقدیر جہاں تیری رضا، دیکھ '''(بانگِ درا ۰۲۱) دردِ عشق''' *اے دردِ عشق! ہے گوہرِ ابد تُو، نہ مہرموں میں دیکھ نہ ہو آشکارا تُو *پنہاں تہِ نقاب تری جلوگاہ ہے، ظاہر پرست محفلِ نو کی نگاہ ہے *آئی نئی ہوا چمنِ ہست و بود میں، اے دردِ عشق! اب نہیں لذت نمود میں *ہاں، خود نمائیوں کی تجھے جستجو نہ ہو، مِنّت پذیر نالۂ بلبل کا تُو نہ ہو *خالی شرابِ عشق سے لالہ کا جام ہو، پانی کی بوند گریۂ شبنم کا نام ہو *پنہاں دروںِ سینا کہیں راز ہو تیرا، اشکِ جگر گداز نہ غمّاز ہو تیرا *گویا زبانِ شاعرِ رنگین بیاں نہ ہو، آوازِ نے میں شکوۂ فرصت نہاں نہ ہو *یہ دور نکته چین ہے، کہیں چُپ کے بیٹھ رہ، جس دل میں تُو مکیں ہے، وہیں چُپ کے بیٹھ رہ *غافل ہے تجھ سے حیرتِ علم آفریدہ دیکھ! جویا نہیں تری نگاہِ نارسیدہ دیکھ *رہنے دے جستجو میں خیالِ بلند کو، حیرت میں چھوڑ دیدۂ حکمت پسند کو *جس کی بہار تُو ہو یہ ایسا چمن نہیں، قابل تری نمود کے یہ انجمن نہیں *یہ انجمن ہے کشتۂ نظرۂ مجاز، مقصد تری نگاہ کا خلوت سرائے راز *ہر دل مئے خیال کی مستی سے چور ہے، کچھ اور آج کل کے کلاموں کا طور ہے '''(بانگِ درا-۱۲۳) قربِ سلطان''' *تمیزِ حاکم و محکوم مٹ نہیں سکتی، مجال کیا کہ گداگر ہو شاہ کا ہم دوش *جہاں میں خواجہ پرستی ہے بندے کا کمال، رضائے خواجہ طلب کن قبائے رنگین پوش *مگر غرض جو حصولِ رضائے حاکم ہو، خطاب ملتا ہے منصب پرست و قوم فروش *پرانے طرزِ عمل میں ہزار مشکل ہے، نئے اصول سے خالی ہے فکر کی آغوش *مزا تو یہ ہے کہ یوں زیرِ آسمان رہیے، "ہزار گونہ سخن در دہن و لب خاموش *یہی اصول ہے سرمایۂ سکونِ حیات، "گدائے گوشہ نشینی تو حافظہ مے خروش *مگر خروش پہ مائل ہے تُو تو بسم اللہ، "بگیر بادۂ صافی بہ بانگِ چنگ بنوش *شریکِ بزمِ امیر و وزیر و سلطان ہو، لڑا کے توڑ دے سنگِ ہوس سے شیشۂ ہوش *پیامِ مرشدِ شیراز بھی مگر سن لے، کہ ہے یہ سرِّ نہاں خانۂ ضمیرِ سر فروش *"مہلِ نورِ تجلّی ست رای انور شاہ، چو قرب طلبی در صفائے نیت کُش '''(بانگِ درا-۱۵۵) پھول''' *تجھے کیوں فکر ہے اے گل دلِ سد چاکِ بلبل کی، تو اپنے پیرہن کے چاک تو پہلے رفو کر لے *تمنّا آبرو کی ہو اگر گلزارِ ہستی میں، تو کانٹوں میں الجھ کر زندگی کرنے کی خو کر لے *صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے، پابندِ گِل بھی ہے، انہیں پابندیوں میں حصولِ آزادی کو تو کر لے *تَنک بخشی کو استغنا سے پیغامِ خجالت دے، نہ رہ منّت کشِ شبنم، نگوں جام و سبو کر لے *نہیں یہ شانِ خوداری، چمن سے توڑ کر تجھ کو، کوئی دستار میں رکھ لے، کوئی زيبِ گلو کر لے *چمن میں غنچۂ گل سے یہ کہ کر اڑ گئی شبنم، مذاقِ جورِ گلچیں ہو تو پیدا رنگ و بو کر لے *اگر منظور ہو تجھ کو خزاں ناآشنا رہنا، جہانِ رنگ و بو سے، پہلے قطعِ آرزو کر لے *اس میں دیکھ، مضمر ہے کمالِ زندگی تیرا، جو تجھ کو زينتِ دامن کوئی آئینہ رو کر لے '''(ضربِ کلیم-۰۰۹) زمین و آسمان''' *ممکن ہے کہ تو جس کو سمجھتا ہے بہاراں، اوروں کی نگاہوں میں وہ موسم ہو خزاں کا *ہے سلسلہ احوال کا ہر لمحہ دگرگوں، اے سالکِ راہ، فکر نہ کر سود و زیاں کا *ہے سلسلہ احوال کا ہر لمحہ دگرگوں، اے سالکِ راہ، فکر نہ کر سود و زیاں کا '''(ضربِ کلیم-۱۱۹) نگاہِ شوق''' *یہ کائنات چھپاتی نہیں ضمیر اپنا، کہ ذرہ ذرہ میں ہے ذوقِ آشکارائی *کچھ اور ہی نظر آتا ہے کاروبارِ جہاں، نگاہِ شوق اگر ہو شریکِ بینائی *اسی نگاہ سے مہجوم قوم کے فرزند، ہوئے جہاں میں سزاوارِ کار فرمائی *اسی نگاہ میں ہے قاہری و جباری، اسی نگاہ میں ہے دلبری و رعنائی *اسی نگاہ سے ہر ذرّے کو، جنون میرا، سکھا رہا ہے راہ و رسمِ دشتِ پیمائی *نگاہِ شوق میسر نہیں اگر تجھ کو، ترا وجود ہے قلب و نظر کی رسوائی ''' پہاڑ اور گلہری ''' کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا ایک گلہری سے, تُجھے ہو شرم تو پانی میں جاکر دوں مر ذرا سی چیز ہے, اس پر غرور کیا کہنا, یہ عقل اور یہ سمجھ, یہ شعو کیا کتنا خدا کی شاں ہے, نہ چیز, چیز بن بیٹھے,جو بے شعور ہوں یوں با بن بیٹھے تی بساط ہے کیا, میری شاں کے آگے, زمین ہے پست میری آن بان کی آگے جو بات مجھ میں ہے, توجہ کو وہ ہے نصیب کہاں, بھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں کہاں یہ سن کر گلہری نے منہ سنبھال ذرا, یہ کچّی باتیں ہیں دل سے انھیں نکال ذرا جو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا ہوا, نہیں ہے تو بھی تو آخر میری طرح چھوٹا ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی خدا کی قدرت ہے, کوئی بڑا کوئی چھوٹا یہ اسی کی حکمت ہے بڑا جہاں میں توجہ کو بنا دیا اس نے , مجھے درخت پر چڑھنا سیکھا دیا اس نے قدم اٹھانے کی طاقت نہیں ذرا توجہ میں, میری برائی ہے خوبی اور کیا ہے توجہ مریں جو تو بڑا ہے, تو مجھ سا ہنر دکھا, یہ چھالیہ ہے ذرا توڑ کر دیکھا مجھ کو نہیں ہے چیز ایکمی کوئی زمانے مریں, کوئی بڑا نہیں قدرت کے کارخانے میں۔ ==اقبال کے بارے میں اقتباسات== *اقبال کے فکر و فلسفہ کا مرکزی مسئلہ نہ خودی ہے، نہ عشق، نہ عمل، اور نہ ہی قوت و حرکت؛ بلکہ ان سب کے برخلاف موت اقبال کا بنیادی مسئلہ ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جو ان کے وجود میں ایک ایسی لرزش اور ہلچل پیدا کرتا ہے جو ان کی پوری ہستی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ **ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 8 * اقبال کے بارے میں اردو تنقید کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہے کہ “عظیم مفکر” ہونا لازماً “عظیم شاعر” ہونے کے مترادف نہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ فلسفے کو شاعری میں ڈھالنے کے مقابلے میں شاعری کو فلسفے میں بیان کرنا شاید زیادہ آسان ہے- ** ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 12 * اقبال کو اردو شاعری میں مختلف اسالیب کے ایک کامل و مکمل کرنے والے شاعر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، اور ساتھ ہی بہت سے نئے اسالیب کے موجد کے طور پر بھی۔ **ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 34 ==مزید دیکھیے== * [[فہرست شخصیات بلحاظ نام|شخصیات]] ==حوالہ جات== {{Wikipedia}} [[زمرہ:1877ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1938ء کی وفیات]] [[زمرہ:پاکستانی شعراء]] [[زمرہ:شعراء]] [[زمرہ:برطانوی ہند کی شخصیات]] [[زمرہ:لاہور کی شخصیات]] [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:اردو ادب]] [[زمرہ:شعرائے اردو]] [[زمرہ: فارسی ادب]] [[زمرہ:فارسی شعراء]] [[زمرہ:فارسی زبان کے شعراء]] [[زمرہ:فارسی زبان کے مصنفین]] [[زمرہ:پاکستانی شخصیات]] [[زمرہ:ہندوستانی مسلمان]] [[زمرہ:سیاست دان]] [[زمرہ:تحریک پاکستان کے قائدین]] [[زمرہ:کارکنان تحریک پاکستان]] [[زمرہ:پاکستانی سیاستدان]] [[زمرہ:پاکستانی علما]] [[زمرہ:پاکستانی غیر افسانوی مصنفین]] n7uy2dfkha2u3t12bsd43bs8u947kp3 14868 14867 2026-06-30T08:40:16Z Brainwavewizard 2948 /* اقوال */ 14868 wikitext text/x-wiki [[File:Iqbal.jpg|thumb|]] [[تصویر:Allama Iqbals Tomb East & south walls July 1 2005.jpg|thumb|علامہ اقبال کا مزار]] '''[[:w:محمد اقبال|محمد اقبال]]''' (9 نومبر 1877ء تا 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، [[قانون دان]]، [[سیاستدان]]، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور [[فارسی]] میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت [[اسلام]] کی طرف تھا۔ == اقوال == *اختتام اور مقاصد، چاہے وہ شعوری یا لاشعوری رجحانات کے طور پر موجود ہوں، ہمارے شعوری تجربے کی تپش اور ڈھنگ کی تشکیل کرتے ہیں۔ **اسلام میں مذہبی فکر کی تعمیر نو (1930)، صفحہ۔ 42 * قوی انسان ماحول تخلیق کرتا ہے۔ کمزوروں کو ماحول کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا پڑتا ہے۔ * قوت باطل کو چھو لیتی ہے تو باطل حق میں بدل جاتا ہے۔ * تہذیب مرد قوی کا ایک خیال ہے۔ * پیکر قوت مہدی کا انتظار چھوڑ دو، جاؤ اور مہدی کو تخلیق کرو۔ ** شذرات اقبال، مجلس ترقی ادب، لاہور '''(بال جبریل 042) یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبحگاہی''' *یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبحگاہی، کہ خودی کے عرفا کا ہے مقام پادشاہی *تیری زندگی اسی سے، تیری آبرو اسی سے، جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو روسیاہی *نہ دیا نشان منزل مجھے اے حکیم تو نے، مجھے کیا گلہ ہو تجھ سے، تو نہ رہ نشین نہ راہی *میرے حلقہ سخن میں ابھی زیر تربیت ہیں، وہ گدا کہ جانتے ہیں راہ و رسم کجکلاحی *یہ معاملے ہیں نازک، جو تری رضا ہو تو کر، کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق خانقاہی *تو ہما کا ہے شکاری، ابھی ابتدا ہے تیری، نہیں مصلحت سے خالی یہ جہان مرغ و ماہی *تو عرب ہو یا عجم ہو، تیرا ”لا الہ الا اللہ“، لغت غریب، جب تک تیرا دل نہ دے گواہی '''(بال جبریل 145) روحِ ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے''' *کھول آنکھ، زمین دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ، مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ *اس جلوۂ بے پردہ کو پردوں میں چھپا دیکھ، ایامِ جدائی کے ستم دیکھ، جفا دیکھ، بیتاب نہ ہو معرکۂ بیم و رجا دیکھ *ہیں تیرے تصرف میں یہ بدل، یہ گھٹائیں، یہ گنبدِ افلاک، یہ خاموش فضائیں *یہ کوہ یہ صحرا، یہ سمندر یہ ہوائیں، تھیں پیش نظر کل تو فرشتوں کی ادائیں، آئینۂ ایام میں آج اپنی ادا دیکھ *سمجھے گا زمانہ تری آنکھوں کے اشارے، دیکھیں گے تجھے دور سے گردوں کے ستارے *نہ پيد تيرے بحر تخیل کے کنارے، پہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارے، تعمیر خودی کر، اثر آہ رسا دیکھ *خورشید جہاں تاب کی جو تیرے شرر میں، آباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہنر میں *جچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میں، جنت تری پنہاں ہے تیرے خون جگر میں، اے پیکرِ گل کوشش پہم کی جزا دیکھ *نالندا تیرے عود کا ہر تار ازل سے، تو جنس محبت کا خیریدار ازل سے *تو پیر صنم خانۂ اسرار ازل سے، محنت کش و خون ریز و کم آزار ازل سے، ہے رکاب تقدیر جہاں تیری رضا، دیکھ '''(بانگِ درا ۰۲۱) دردِ عشق''' *اے دردِ عشق! ہے گوہرِ ابد تُو، نہ مہرموں میں دیکھ نہ ہو آشکارا تُو *پنہاں تہِ نقاب تری جلوگاہ ہے، ظاہر پرست محفلِ نو کی نگاہ ہے *آئی نئی ہوا چمنِ ہست و بود میں، اے دردِ عشق! اب نہیں لذت نمود میں *ہاں، خود نمائیوں کی تجھے جستجو نہ ہو، مِنّت پذیر نالۂ بلبل کا تُو نہ ہو *خالی شرابِ عشق سے لالہ کا جام ہو، پانی کی بوند گریۂ شبنم کا نام ہو *پنہاں دروںِ سینا کہیں راز ہو تیرا، اشکِ جگر گداز نہ غمّاز ہو تیرا *گویا زبانِ شاعرِ رنگین بیاں نہ ہو، آوازِ نے میں شکوۂ فرصت نہاں نہ ہو *یہ دور نکته چین ہے، کہیں چُپ کے بیٹھ رہ، جس دل میں تُو مکیں ہے، وہیں چُپ کے بیٹھ رہ *غافل ہے تجھ سے حیرتِ علم آفریدہ دیکھ! جویا نہیں تری نگاہِ نارسیدہ دیکھ *رہنے دے جستجو میں خیالِ بلند کو، حیرت میں چھوڑ دیدۂ حکمت پسند کو *جس کی بہار تُو ہو یہ ایسا چمن نہیں، قابل تری نمود کے یہ انجمن نہیں *یہ انجمن ہے کشتۂ نظرۂ مجاز، مقصد تری نگاہ کا خلوت سرائے راز *ہر دل مئے خیال کی مستی سے چور ہے، کچھ اور آج کل کے کلاموں کا طور ہے '''(بانگِ درا-۱۲۳) قربِ سلطان''' *تمیزِ حاکم و محکوم مٹ نہیں سکتی، مجال کیا کہ گداگر ہو شاہ کا ہم دوش *جہاں میں خواجہ پرستی ہے بندے کا کمال، رضائے خواجہ طلب کن قبائے رنگین پوش *مگر غرض جو حصولِ رضائے حاکم ہو، خطاب ملتا ہے منصب پرست و قوم فروش *پرانے طرزِ عمل میں ہزار مشکل ہے، نئے اصول سے خالی ہے فکر کی آغوش *مزا تو یہ ہے کہ یوں زیرِ آسمان رہیے، "ہزار گونہ سخن در دہن و لب خاموش *یہی اصول ہے سرمایۂ سکونِ حیات، "گدائے گوشہ نشینی تو حافظہ مے خروش *مگر خروش پہ مائل ہے تُو تو بسم اللہ، "بگیر بادۂ صافی بہ بانگِ چنگ بنوش *شریکِ بزمِ امیر و وزیر و سلطان ہو، لڑا کے توڑ دے سنگِ ہوس سے شیشۂ ہوش *پیامِ مرشدِ شیراز بھی مگر سن لے، کہ ہے یہ سرِّ نہاں خانۂ ضمیرِ سر فروش *"مہلِ نورِ تجلّی ست رای انور شاہ، چو قرب طلبی در صفائے نیت کُش '''(بانگِ درا-۱۵۵) پھول''' *تجھے کیوں فکر ہے اے گل دلِ سد چاکِ بلبل کی، تو اپنے پیرہن کے چاک تو پہلے رفو کر لے *تمنّا آبرو کی ہو اگر گلزارِ ہستی میں، تو کانٹوں میں الجھ کر زندگی کرنے کی خو کر لے *صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے، پابندِ گِل بھی ہے، انہیں پابندیوں میں حصولِ آزادی کو تو کر لے *تَنک بخشی کو استغنا سے پیغامِ خجالت دے، نہ رہ منّت کشِ شبنم، نگوں جام و سبو کر لے *نہیں یہ شانِ خوداری، چمن سے توڑ کر تجھ کو، کوئی دستار میں رکھ لے، کوئی زيبِ گلو کر لے *چمن میں غنچۂ گل سے یہ کہ کر اڑ گئی شبنم، مذاقِ جورِ گلچیں ہو تو پیدا رنگ و بو کر لے *اگر منظور ہو تجھ کو خزاں ناآشنا رہنا، جہانِ رنگ و بو سے، پہلے قطعِ آرزو کر لے *اس میں دیکھ، مضمر ہے کمالِ زندگی تیرا، جو تجھ کو زينتِ دامن کوئی آئینہ رو کر لے '''(ضربِ کلیم-۰۰۹) زمین و آسمان''' *ممکن ہے کہ تو جس کو سمجھتا ہے بہاراں، اوروں کی نگاہوں میں وہ موسم ہو خزاں کا *ہے سلسلہ احوال کا ہر لمحہ دگرگوں، اے سالکِ راہ، فکر نہ کر سود و زیاں کا *ہے سلسلہ احوال کا ہر لمحہ دگرگوں، اے سالکِ راہ، فکر نہ کر سود و زیاں کا '''(ضربِ کلیم-۱۱۹) نگاہِ شوق''' *یہ کائنات چھپاتی نہیں ضمیر اپنا، کہ ذرہ ذرہ میں ہے ذوقِ آشکارائی *کچھ اور ہی نظر آتا ہے کاروبارِ جہاں، نگاہِ شوق اگر ہو شریکِ بینائی *اسی نگاہ سے مہجوم قوم کے فرزند، ہوئے جہاں میں سزاوارِ کار فرمائی *اسی نگاہ میں ہے قاہری و جباری، اسی نگاہ میں ہے دلبری و رعنائی *اسی نگاہ سے ہر ذرّے کو، جنون میرا، سکھا رہا ہے راہ و رسمِ دشتِ پیمائی *نگاہِ شوق میسر نہیں اگر تجھ کو، ترا وجود ہے قلب و نظر کی رسوائی ''' پہاڑ اور گلہری ''' کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا ایک گلہری سے, تُجھے ہو شرم تو پانی میں جاکر دوں مر ذرا سی چیز ہے, اس پر غرور کیا کہنا, یہ عقل اور یہ سمجھ, یہ شعو کیا کتنا خدا کی شاں ہے, نہ چیز, چیز بن بیٹھے,جو بے شعور ہوں یوں با بن بیٹھے تی بساط ہے کیا, میری شاں کے آگے, زمین ہے پست میری آن بان کی آگے جو بات مجھ میں ہے, توجہ کو وہ ہے نصیب کہاں, بھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں کہاں یہ سن کر گلہری نے منہ سنبھال ذرا, یہ کچّی باتیں ہیں دل سے انھیں نکال ذرا جو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا ہوا, نہیں ہے تو بھی تو آخر میری طرح چھوٹا ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی خدا کی قدرت ہے, کوئی بڑا کوئی چھوٹا یہ اسی کی حکمت ہے بڑا جہاں میں توجہ کو بنا دیا اس نے , مجھے درخت پر چڑھنا سیکھا دیا اس نے قدم اٹھانے کی طاقت نہیں ذرا توجہ میں, میری برائی ہے خوبی اور کیا ہے توجہ مریں جو تو بڑا ہے, تو مجھ سا ہنر دکھا, یہ چھالیہ ہے ذرا توڑ کر دیکھا مجھ کو نہیں ہے چیز ایکمی کوئی زمانے مریں, کوئی بڑا نہیں قدرت کے کارخانے میں۔ ==اقبال کے بارے میں اقتباسات== *اقبال کے فکر و فلسفہ کا مرکزی مسئلہ نہ خودی ہے، نہ عشق، نہ عمل، اور نہ ہی قوت و حرکت؛ بلکہ ان سب کے برخلاف موت اقبال کا بنیادی مسئلہ ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جو ان کے وجود میں ایک ایسی لرزش اور ہلچل پیدا کرتا ہے جو ان کی پوری ہستی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ **ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 8 * اقبال کے بارے میں اردو تنقید کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہے کہ “عظیم مفکر” ہونا لازماً “عظیم شاعر” ہونے کے مترادف نہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ فلسفے کو شاعری میں ڈھالنے کے مقابلے میں شاعری کو فلسفے میں بیان کرنا شاید زیادہ آسان ہے- ** ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 12 * اقبال کو اردو شاعری میں مختلف اسالیب کے ایک کامل و مکمل کرنے والے شاعر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، اور ساتھ ہی بہت سے نئے اسالیب کے موجد کے طور پر بھی۔ **ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 34 ==مزید دیکھیے== * [[فہرست شخصیات بلحاظ نام|شخصیات]] ==حوالہ جات== {{Wikipedia}} [[زمرہ:1877ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1938ء کی وفیات]] [[زمرہ:پاکستانی شعراء]] [[زمرہ:شعراء]] [[زمرہ:برطانوی ہند کی شخصیات]] [[زمرہ:لاہور کی شخصیات]] [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:اردو ادب]] [[زمرہ:شعرائے اردو]] [[زمرہ: فارسی ادب]] [[زمرہ:فارسی شعراء]] [[زمرہ:فارسی زبان کے شعراء]] [[زمرہ:فارسی زبان کے مصنفین]] [[زمرہ:پاکستانی شخصیات]] [[زمرہ:ہندوستانی مسلمان]] [[زمرہ:سیاست دان]] [[زمرہ:تحریک پاکستان کے قائدین]] [[زمرہ:کارکنان تحریک پاکستان]] [[زمرہ:پاکستانی سیاستدان]] [[زمرہ:پاکستانی علما]] [[زمرہ:پاکستانی غیر افسانوی مصنفین]] gjf7dj6eerxif8dubwsz2mnjnanirf2 14869 14868 2026-06-30T09:58:47Z Brainwavewizard 2948 /* اقبال کے بارے میں اقتباسات */ 14869 wikitext text/x-wiki [[File:Iqbal.jpg|thumb|]] [[تصویر:Allama Iqbals Tomb East & south walls July 1 2005.jpg|thumb|علامہ اقبال کا مزار]] '''[[:w:محمد اقبال|محمد اقبال]]''' (9 نومبر 1877ء تا 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، [[قانون دان]]، [[سیاستدان]]، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور [[فارسی]] میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت [[اسلام]] کی طرف تھا۔ == اقوال == *اختتام اور مقاصد، چاہے وہ شعوری یا لاشعوری رجحانات کے طور پر موجود ہوں، ہمارے شعوری تجربے کی تپش اور ڈھنگ کی تشکیل کرتے ہیں۔ **اسلام میں مذہبی فکر کی تعمیر نو (1930)، صفحہ۔ 42 * قوی انسان ماحول تخلیق کرتا ہے۔ کمزوروں کو ماحول کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا پڑتا ہے۔ * قوت باطل کو چھو لیتی ہے تو باطل حق میں بدل جاتا ہے۔ * تہذیب مرد قوی کا ایک خیال ہے۔ * پیکر قوت مہدی کا انتظار چھوڑ دو، جاؤ اور مہدی کو تخلیق کرو۔ ** شذرات اقبال، مجلس ترقی ادب، لاہور '''(بال جبریل 042) یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبحگاہی''' *یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبحگاہی، کہ خودی کے عرفا کا ہے مقام پادشاہی *تیری زندگی اسی سے، تیری آبرو اسی سے، جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو روسیاہی *نہ دیا نشان منزل مجھے اے حکیم تو نے، مجھے کیا گلہ ہو تجھ سے، تو نہ رہ نشین نہ راہی *میرے حلقہ سخن میں ابھی زیر تربیت ہیں، وہ گدا کہ جانتے ہیں راہ و رسم کجکلاحی *یہ معاملے ہیں نازک، جو تری رضا ہو تو کر، کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق خانقاہی *تو ہما کا ہے شکاری، ابھی ابتدا ہے تیری، نہیں مصلحت سے خالی یہ جہان مرغ و ماہی *تو عرب ہو یا عجم ہو، تیرا ”لا الہ الا اللہ“، لغت غریب، جب تک تیرا دل نہ دے گواہی '''(بال جبریل 145) روحِ ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے''' *کھول آنکھ، زمین دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ، مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ *اس جلوۂ بے پردہ کو پردوں میں چھپا دیکھ، ایامِ جدائی کے ستم دیکھ، جفا دیکھ، بیتاب نہ ہو معرکۂ بیم و رجا دیکھ *ہیں تیرے تصرف میں یہ بدل، یہ گھٹائیں، یہ گنبدِ افلاک، یہ خاموش فضائیں *یہ کوہ یہ صحرا، یہ سمندر یہ ہوائیں، تھیں پیش نظر کل تو فرشتوں کی ادائیں، آئینۂ ایام میں آج اپنی ادا دیکھ *سمجھے گا زمانہ تری آنکھوں کے اشارے، دیکھیں گے تجھے دور سے گردوں کے ستارے *نہ پيد تيرے بحر تخیل کے کنارے، پہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارے، تعمیر خودی کر، اثر آہ رسا دیکھ *خورشید جہاں تاب کی جو تیرے شرر میں، آباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہنر میں *جچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میں، جنت تری پنہاں ہے تیرے خون جگر میں، اے پیکرِ گل کوشش پہم کی جزا دیکھ *نالندا تیرے عود کا ہر تار ازل سے، تو جنس محبت کا خیریدار ازل سے *تو پیر صنم خانۂ اسرار ازل سے، محنت کش و خون ریز و کم آزار ازل سے، ہے رکاب تقدیر جہاں تیری رضا، دیکھ '''(بانگِ درا ۰۲۱) دردِ عشق''' *اے دردِ عشق! ہے گوہرِ ابد تُو، نہ مہرموں میں دیکھ نہ ہو آشکارا تُو *پنہاں تہِ نقاب تری جلوگاہ ہے، ظاہر پرست محفلِ نو کی نگاہ ہے *آئی نئی ہوا چمنِ ہست و بود میں، اے دردِ عشق! اب نہیں لذت نمود میں *ہاں، خود نمائیوں کی تجھے جستجو نہ ہو، مِنّت پذیر نالۂ بلبل کا تُو نہ ہو *خالی شرابِ عشق سے لالہ کا جام ہو، پانی کی بوند گریۂ شبنم کا نام ہو *پنہاں دروںِ سینا کہیں راز ہو تیرا، اشکِ جگر گداز نہ غمّاز ہو تیرا *گویا زبانِ شاعرِ رنگین بیاں نہ ہو، آوازِ نے میں شکوۂ فرصت نہاں نہ ہو *یہ دور نکته چین ہے، کہیں چُپ کے بیٹھ رہ، جس دل میں تُو مکیں ہے، وہیں چُپ کے بیٹھ رہ *غافل ہے تجھ سے حیرتِ علم آفریدہ دیکھ! جویا نہیں تری نگاہِ نارسیدہ دیکھ *رہنے دے جستجو میں خیالِ بلند کو، حیرت میں چھوڑ دیدۂ حکمت پسند کو *جس کی بہار تُو ہو یہ ایسا چمن نہیں، قابل تری نمود کے یہ انجمن نہیں *یہ انجمن ہے کشتۂ نظرۂ مجاز، مقصد تری نگاہ کا خلوت سرائے راز *ہر دل مئے خیال کی مستی سے چور ہے، کچھ اور آج کل کے کلاموں کا طور ہے '''(بانگِ درا-۱۲۳) قربِ سلطان''' *تمیزِ حاکم و محکوم مٹ نہیں سکتی، مجال کیا کہ گداگر ہو شاہ کا ہم دوش *جہاں میں خواجہ پرستی ہے بندے کا کمال، رضائے خواجہ طلب کن قبائے رنگین پوش *مگر غرض جو حصولِ رضائے حاکم ہو، خطاب ملتا ہے منصب پرست و قوم فروش *پرانے طرزِ عمل میں ہزار مشکل ہے، نئے اصول سے خالی ہے فکر کی آغوش *مزا تو یہ ہے کہ یوں زیرِ آسمان رہیے، "ہزار گونہ سخن در دہن و لب خاموش *یہی اصول ہے سرمایۂ سکونِ حیات، "گدائے گوشہ نشینی تو حافظہ مے خروش *مگر خروش پہ مائل ہے تُو تو بسم اللہ، "بگیر بادۂ صافی بہ بانگِ چنگ بنوش *شریکِ بزمِ امیر و وزیر و سلطان ہو، لڑا کے توڑ دے سنگِ ہوس سے شیشۂ ہوش *پیامِ مرشدِ شیراز بھی مگر سن لے، کہ ہے یہ سرِّ نہاں خانۂ ضمیرِ سر فروش *"مہلِ نورِ تجلّی ست رای انور شاہ، چو قرب طلبی در صفائے نیت کُش '''(بانگِ درا-۱۵۵) پھول''' *تجھے کیوں فکر ہے اے گل دلِ سد چاکِ بلبل کی، تو اپنے پیرہن کے چاک تو پہلے رفو کر لے *تمنّا آبرو کی ہو اگر گلزارِ ہستی میں، تو کانٹوں میں الجھ کر زندگی کرنے کی خو کر لے *صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے، پابندِ گِل بھی ہے، انہیں پابندیوں میں حصولِ آزادی کو تو کر لے *تَنک بخشی کو استغنا سے پیغامِ خجالت دے، نہ رہ منّت کشِ شبنم، نگوں جام و سبو کر لے *نہیں یہ شانِ خوداری، چمن سے توڑ کر تجھ کو، کوئی دستار میں رکھ لے، کوئی زيبِ گلو کر لے *چمن میں غنچۂ گل سے یہ کہ کر اڑ گئی شبنم، مذاقِ جورِ گلچیں ہو تو پیدا رنگ و بو کر لے *اگر منظور ہو تجھ کو خزاں ناآشنا رہنا، جہانِ رنگ و بو سے، پہلے قطعِ آرزو کر لے *اس میں دیکھ، مضمر ہے کمالِ زندگی تیرا، جو تجھ کو زينتِ دامن کوئی آئینہ رو کر لے '''(ضربِ کلیم-۰۰۹) زمین و آسمان''' *ممکن ہے کہ تو جس کو سمجھتا ہے بہاراں، اوروں کی نگاہوں میں وہ موسم ہو خزاں کا *ہے سلسلہ احوال کا ہر لمحہ دگرگوں، اے سالکِ راہ، فکر نہ کر سود و زیاں کا *ہے سلسلہ احوال کا ہر لمحہ دگرگوں، اے سالکِ راہ، فکر نہ کر سود و زیاں کا '''(ضربِ کلیم-۱۱۹) نگاہِ شوق''' *یہ کائنات چھپاتی نہیں ضمیر اپنا، کہ ذرہ ذرہ میں ہے ذوقِ آشکارائی *کچھ اور ہی نظر آتا ہے کاروبارِ جہاں، نگاہِ شوق اگر ہو شریکِ بینائی *اسی نگاہ سے مہجوم قوم کے فرزند، ہوئے جہاں میں سزاوارِ کار فرمائی *اسی نگاہ میں ہے قاہری و جباری، اسی نگاہ میں ہے دلبری و رعنائی *اسی نگاہ سے ہر ذرّے کو، جنون میرا، سکھا رہا ہے راہ و رسمِ دشتِ پیمائی *نگاہِ شوق میسر نہیں اگر تجھ کو، ترا وجود ہے قلب و نظر کی رسوائی ''' پہاڑ اور گلہری ''' کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا ایک گلہری سے, تُجھے ہو شرم تو پانی میں جاکر دوں مر ذرا سی چیز ہے, اس پر غرور کیا کہنا, یہ عقل اور یہ سمجھ, یہ شعو کیا کتنا خدا کی شاں ہے, نہ چیز, چیز بن بیٹھے,جو بے شعور ہوں یوں با بن بیٹھے تی بساط ہے کیا, میری شاں کے آگے, زمین ہے پست میری آن بان کی آگے جو بات مجھ میں ہے, توجہ کو وہ ہے نصیب کہاں, بھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں کہاں یہ سن کر گلہری نے منہ سنبھال ذرا, یہ کچّی باتیں ہیں دل سے انھیں نکال ذرا جو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا ہوا, نہیں ہے تو بھی تو آخر میری طرح چھوٹا ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی خدا کی قدرت ہے, کوئی بڑا کوئی چھوٹا یہ اسی کی حکمت ہے بڑا جہاں میں توجہ کو بنا دیا اس نے , مجھے درخت پر چڑھنا سیکھا دیا اس نے قدم اٹھانے کی طاقت نہیں ذرا توجہ میں, میری برائی ہے خوبی اور کیا ہے توجہ مریں جو تو بڑا ہے, تو مجھ سا ہنر دکھا, یہ چھالیہ ہے ذرا توڑ کر دیکھا مجھ کو نہیں ہے چیز ایکمی کوئی زمانے مریں, کوئی بڑا نہیں قدرت کے کارخانے میں۔ ==اقبال کے بارے میں اقتباسات== *اقبال کے فکر و فلسفہ کا مرکزی مسئلہ نہ خودی ہے، نہ عشق، نہ عمل، اور نہ ہی قوت و حرکت؛ بلکہ ان سب کے برخلاف موت اقبال کا بنیادی مسئلہ ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جو ان کے وجود میں ایک ایسی لرزش اور ہلچل پیدا کرتا ہے جو ان کی پوری ہستی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ **ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 8 * اقبال کے بارے میں اردو تنقید کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہے کہ “عظیم مفکر” ہونا لازماً “عظیم شاعر” ہونے کے مترادف نہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ فلسفے کو شاعری میں ڈھالنے کے مقابلے میں شاعری کو فلسفے میں بیان کرنا شاید زیادہ آسان ہے- ** ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 12 * اقبال کو اردو شاعری میں مختلف اسالیب کے ایک کامل و مکمل کرنے والے شاعر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، اور ساتھ ہی بہت سے نئے اسالیب کے موجد کے طور پر بھی۔ **ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 34 اقبال لاہور کی شاہی مسجد کے احاطے میں مدفون ہیں، اور ان کی قبر پر سپاہی پہرہ دیتے ہیں۔ اس قسم کی جذباتی یا خطیبانہ علامتیں ہمیشہ تشویش پیدا کرتی ہیں، کیونکہ وہ اکثر حقیقت پر پردہ ڈال دیتی ہیں۔ اور مغلیہ طرزِ تعمیر سے مزین یہ مقبرہ خود ایک طرح کی فنی بے حرمتی محسوس ہوتا، اگر اس کے بالکل سامنے لاہور کا عظیم مغل قلعہ—جس کی شاہی جھروکے کی منظرکشی مغلیہ مصوری کے بہترین نمونوں میں محفوظ ہے—خستہ حالی کا شکار نہ ہوتا؛ اگر اسی لاہور میں شالامار باغ اور شہنشاہ جہانگیر اور ان کی ملکہ کے مقبرے مکمل زوال کا شکار نہ ہوتے؛ اگر چار سو برس پیچھے جائیں تو بہاولپور کے علاقے اُچ میں تیرھویں صدی کے مقبروں کے نہایت نفیس رنگین ٹائلوں سے آراستہ مینار، جو برصغیر کے بہترین اسلامی آثار میں شمار ہوتے ہیں، آدھے بہہ نہ چکے ہوتے؛ اگر اس سے بھی زیادہ قدیم دور میں بدھ مت کے تاریخی شہر ٹیکسلا، جسے سکندر اعظم بھی جانتا تھا اور جہاں کبھی بے مثال آثار موجود تھے، کے گردونواح کو لفظی معنوں میں کان کنی کے ذریعے تباہ نہ کیا جا رہا ہوتا؛ اور اگر پاکستان، جو اب بھی اسلامی سلطنت کے خوابوں کا تعاقب کر رہا ہے، افغانستان کے بدھ مت کے نوادرات کی آخری لوٹ مار کا ذمہ دار نہ ہوتا۔ اپنی مختصر تاریخ میں اقبال کی مذہبی ریاست—جو اب بھی نیم جاگیردارانہ، گہری جہالت میں مبتلا، اپنے نصابی کتب میں تاریخ کو مسخ کرنے والی، اور اسی ریاستی نظام کو کمزور کرنے والی ثابت ہوئی جس کی اسے خدمت کرنی تھی—نے خود کو صرف ایک ایسے ثقافتی صحرا کے تصور سے وابستہ دکھایا، جہاں عظمت کی ہر شکل ہمیشہ کہیں اور سمجھی جاتی رہی۔ — پھر بھی یہ عجیب بات تھی کہ پاکستان کا جھکاؤ عرب دنیا کی طرف اس قدر نمایاں تھا: عرب لباس پہنے ایک ننھا بچہ، اور پاکستان اسٹیل منصوبے کا نام بھی ایک عرب فاتح کے نام پر رکھ دیا گیا۔ شاعر اقبال نے 1930ء میں ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کا تصور پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان کا اسلام اپنی نوعیت میں منفرد ہے، "ایک قوم کو تشکیل دینے والی قوت… اپنی بہترین شکل میں۔" انہوں نے کہا تھا: "لہٰذا میں ہندوستان اور اسلام دونوں کے بہترین مفاد میں ایک متحدہ مسلم ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتا ہوں۔ ہندوستان کے لیے اس کا مطلب امن اور سلامتی ہے… اور اسلام کے لیے یہ ایک ایسا موقع ہے کہ وہ اس مہر سے نجات حاصل کرے جو عرب سامراج نے اس پر ثبت کر دی تھی۔" لیکن 1930ء کے بعد دنیا بدل چکی تھی۔ عرب دنیا دوبارہ عالمی معاملات میں اثر و رسوخ حاصل کر چکی تھی، اور 1947ء کے بعد پاکستان بھی بدل گیا تھا۔ اب وہ صرف اقبال کی تصور کردہ مسلم ریاست کا خواہاں نہ رہا، بلکہ اپنی ناکامیوں کے پس منظر میں ایک ناممکن حد تک خالص مذہب کی تلاش میں اپنے عربی ماضی کی طرف رجوع کرنے لگا—ایک ایسا ماضی جو بیک وقت پراسرار بھی تھا اور حقیقی بھی۔ بنبھور میں، جو ابتدائی عرب سلطنتوں کی ایک دور افتادہ چوکی تھی، آپ انسانی ہڈیوں پر چلتے تھے۔ ==مزید دیکھیے== * [[فہرست شخصیات بلحاظ نام|شخصیات]] ==حوالہ جات== {{Wikipedia}} [[زمرہ:1877ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1938ء کی وفیات]] [[زمرہ:پاکستانی شعراء]] [[زمرہ:شعراء]] [[زمرہ:برطانوی ہند کی شخصیات]] [[زمرہ:لاہور کی شخصیات]] [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:اردو ادب]] [[زمرہ:شعرائے اردو]] [[زمرہ: فارسی ادب]] [[زمرہ:فارسی شعراء]] [[زمرہ:فارسی زبان کے شعراء]] [[زمرہ:فارسی زبان کے مصنفین]] [[زمرہ:پاکستانی شخصیات]] [[زمرہ:ہندوستانی مسلمان]] [[زمرہ:سیاست دان]] [[زمرہ:تحریک پاکستان کے قائدین]] [[زمرہ:کارکنان تحریک پاکستان]] [[زمرہ:پاکستانی سیاستدان]] [[زمرہ:پاکستانی علما]] [[زمرہ:پاکستانی غیر افسانوی مصنفین]] 5k8lo4xihvm4jaj3d8dad0sjs4leyi2 سانچہ:New pages 10 2677 14858 14816 2026-06-30T00:00:33Z Aafis Bot 2972 تجدید فہرست (روبہ) 14858 wikitext text/x-wiki <div style="background-color: #faf9b2;color:var(--color-base-fixed,#202122); border: 2px solid #faf9b2; border-bottom: none; padding-top: 0.3em; padding-bottom: 0.3em; font-size: large; text-align:center;"> '''[[Special:NewPages|نئے صفحات]]''' </div> <!-- Image start --> [[File:Ghulam Nabi Gowhar with grandson.jpg|thumb|ویکی اقتباس میں نیا: [[غلام نبی جوہر]]]] <!-- Image end --> <div style="background: #ffffec; color:var(--color-base-fixed,#202122); border: 2px solid #faf9b2; border-top: none; padding: 0.6em; padding-top: none;"> <!-- NOTE BEFORE ADDING: Total of fourteen (15) only, in chronological order: add to top, remove from bottom --> <!-- List Top --> :[[غلام نبی جوہر]] :[[انتوان دے سان اگزوپری]] :[[منظور نعمانی]] :[[بدر الحسن قاسمی]] :[[قاضی عبدالستار]] :[[ابوالکلام قاسمی شمسی]] :[[ابواللیث صدیقی]] :[[مظفر حنفی]] :[[حامدی کاشمیری]] :[[شوکت حیات]] :[[گلزار]] :[[عبد القوى دسنوى]] :[[محمد یونس]] :[[عبداللطیف اعظمی]] :[[عتیق الرحمن عثمانی]] <!-- List Bottom --> {{break}} <div style="text-align:center;" class="plainlinks">چند نئے صفحات کی ایک جزوی فہرست ([[Special:NewPages|نئے صفحات]] [http://ur.wikiquote.org/w/index.php?title=سانچہ:New_pages&action=edit شامل کریں])</div></div><noinclude>[[Category:Main Page templates|{{PAGENAME}}]]</noinclude> eewilpc2a4lbpqin7jv0xn7ei30peha صارف:Muntaqibah/فہرست برائے ایکسپلورنگ اردو مسابقہ 2 5681 14861 14810 2026-06-30T01:15:20Z Muntaqibah 2617 /* */ + 14861 wikitext text/x-wiki # [[ولی محمد ولی]] # [[ڈپٹی نذیر احمد]] # [[محمد اقبال]] # [[شمس الرحمٰن فاروقی]] # [[منظر بھوپالی]] # [[آغا حشر کاشمیری]] # [[صالحہ عابد حسین]] # [[شوکت تھانوی]] # [[بشیر بدر]] # [[امجد اسلام امجد]] # [[محمد ابراہیم ذوق]] # [[حفیظ جالندھری]] # [[ابو الکلام قاسمی]] # [[ازہر شاہ قیصر]] # [[گوپی چند نارنگ]] # [[ف س اعجاز]] # [[قمر رئیس]] # [[مضطر خیرآبادی]] # [[رئیس امروہوی]] # [[عمیرہ احمد]] # [[نمرہ احمد]] # [[الطاف فاطمہ]] # [[سید امین اشرف]] # [[ادا جعفری]] # [[رشید النساء]] # [[راجندر سنگھ بیدی]] # [[جنید بغدادی]] # [[شیخ عبدالقادر جیلانی]] # [[محمد یونس]] # [[شوکت حیات]] # [[غلام نبی جوہر]] 7gp7evpuxa7t40n9joo9fd00d3vkw5w صارف:Brainwavewizard/فہرست برائے ایکسپلورنگ اردو مسابقہ 2 5748 14864 14706 2026-06-30T07:57:19Z Brainwavewizard 2948 14864 wikitext text/x-wiki مین اسماعیل میرٹھی پر ایک مضمون لکھا ہے۔ ti2lih7qzjet5gn6j2m70uhebm4yqs7 صارف:Striving tranquil/فہرست برائے ایکسپلورنگ اردو مسابقہ 2 5767 14827 14811 2026-06-29T16:54:30Z Striving tranquil 2966 /* */ + 14827 wikitext text/x-wiki # [[عتیق الرحمن عثمانی]] # [[عبداللطیف اعظمی]] # [[گلزار]] # [[عبد القوى دسنوى]] # [[ابوالکلام قاسمی شمسی]] ra8ezipuf2k8lfdueqejkhrs6w6y85f 14835 14827 2026-06-29T17:05:01Z Striving tranquil 2966 /* */ + 14835 wikitext text/x-wiki # [[عتیق الرحمن عثمانی]] # [[عبداللطیف اعظمی]] # [[گلزار]] # [[عبد القوى دسنوى]] # [[ابوالکلام قاسمی شمسی]] # [[قاضی عبدالستار]] 8938vruz9ms869mt9pvsexdfyyv3vqz 14841 14835 2026-06-29T17:16:56Z Striving tranquil 2966 /* */ نام بڑھایا 14841 wikitext text/x-wiki # [[عتیق الرحمن عثمانی]] # [[عبداللطیف اعظمی]] # [[گلزار]] # [[عبد القوى دسنوى]] # [[ابوالکلام قاسمی شمسی]] # [[قاضی عبدالستار]] # [[بدر الحسن قاسمی]] dolj5ug6w1u0rehds28ujr2q2wbf2kj 14847 14841 2026-06-29T17:26:23Z Striving tranquil 2966 /* */ نام بڑھایا 14847 wikitext text/x-wiki # [[عتیق الرحمن عثمانی]] # [[عبداللطیف اعظمی]] # [[گلزار]] # [[عبد القوى دسنوى]] # [[ابوالکلام قاسمی شمسی]] # [[قاضی عبدالستار]] # [[بدر الحسن قاسمی]] # [[منظور نعمانی]] ris31jyjxfo0cnkqgce0umg39aaqjjm گلزار 0 5771 14828 14805 2026-06-29T16:56:37Z Striving tranquil 2966 /* */ اقتباسات 14828 wikitext text/x-wiki '''[[w: گلزار | گلزار ]]''' جن کا اصل نام سمپورن سنگھ کلرہ ہے، 18 اگست 1934 کو پیدا ہوئے۔ وہ برصغیر کے معروف شاعر، نغمہ نگار، ادیب، فلمی کہانی و مکالمہ نگار اور فلم ہدایت کار ہیں۔ گلزار نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1963 کی مشہور فلم بندنی سے کیا- ==اقتباسات== pepo9hjl2wlazd9d51tjncjine9ljjg 14829 14828 2026-06-29T16:57:02Z Striving tranquil 2966 /* اقتباسات */ اقتباس پوسٹ کیا 14829 wikitext text/x-wiki '''[[w: گلزار | گلزار ]]''' جن کا اصل نام سمپورن سنگھ کلرہ ہے، 18 اگست 1934 کو پیدا ہوئے۔ وہ برصغیر کے معروف شاعر، نغمہ نگار، ادیب، فلمی کہانی و مکالمہ نگار اور فلم ہدایت کار ہیں۔ گلزار نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1963 کی مشہور فلم بندنی سے کیا- ==اقتباسات== * وہ بے کار کے کام کرتا رہتا ہے، بیلوں کو گھنٹیاں باندھنا، سینگ رنگنا، سجانا سنوارنا، مشکیوں پر نقش ونگار بنانا، چوپال پر گانا بجانا یعنی وہ زندگی کا جمالیاتی پہلو ہے جو بظاہر غیر افادی ہوتا ہے۔ گاؤں والوں کے نزدیک اس کی سب حرکتیں نکلتی تھیں ۔ لوگ سمجھتے کہ وہ فالتو کے کاموں میں لگا رہتا ہے۔ کب تک مفت کی بٹورتا، بھوکا رہنے لگا، بیمار ہوا، مر گیا، تب گاؤں والوں کو احساس ہوا جیسے کوئی بڑی کمی آگئی ہو۔ وہ جو بے کام کے کام کرتا تھا زندگی کے رنگ و نور میں اس کا کتنا بڑا حصہ تھا۔ **دھواں،ص:11 73wv9cp2d6f3v6hbev3px2n6vtddobg 14830 14829 2026-06-29T16:57:54Z Striving tranquil 2966 /* اقتباسات */ + 14830 wikitext text/x-wiki '''[[w: گلزار | گلزار ]]''' جن کا اصل نام سمپورن سنگھ کلرہ ہے، 18 اگست 1934 کو پیدا ہوئے۔ وہ برصغیر کے معروف شاعر، نغمہ نگار، ادیب، فلمی کہانی و مکالمہ نگار اور فلم ہدایت کار ہیں۔ گلزار نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1963 کی مشہور فلم بندنی سے کیا- ==اقتباسات== * وہ بے کار کے کام کرتا رہتا ہے، بیلوں کو گھنٹیاں باندھنا، سینگ رنگنا، سجانا سنوارنا، مشکیوں پر نقش ونگار بنانا، چوپال پر گانا بجانا یعنی وہ زندگی کا جمالیاتی پہلو ہے جو بظاہر غیر افادی ہوتا ہے۔ گاؤں والوں کے نزدیک اس کی سب حرکتیں نکلتی تھیں ۔ لوگ سمجھتے کہ وہ فالتو کے کاموں میں لگا رہتا ہے۔ کب تک مفت کی بٹورتا، بھوکا رہنے لگا، بیمار ہوا، مر گیا، تب گاؤں والوں کو احساس ہوا جیسے کوئی بڑی کمی آگئی ہو۔ وہ جو بے کام کے کام کرتا تھا زندگی کے رنگ و نور میں اس کا کتنا بڑا حصہ تھا۔ **دھواں،ص:11 میرا خیال ہے نیامجموعہ لوگوں کے سامنے پیش کرنے سے پہلے ہر شاعر کو ایک بار تو یہ گھبراہٹ ضرور ہوتی ہوگی کہ پتا نہیں لوگ کیا کہین گے۔ اکا دُکا نظمیں لکھتے رہنے، اور چھپ جانے سے اپنے پورے کام کا اندازہ نہیں ہو پاتا۔ جب دھان کی ڈھیری لگتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ پچھلے سال میں کتنا مینہ برسا، کتنی دھوپ کھلی ! **رات پشمینے کی،ص:24 17pqubk3nlieo4do1q8pafnoi6x8hpy ابوالکلام قاسمی شمسی 0 5777 14822 2026-06-29T16:49:17Z Striving tranquil 2966 /* */ صفحہ بنایا 14822 wikitext text/x-wiki '''[[w: ابوالکلام قاسمی شمسی | ابوالکلام قاسمی شمسی]]''' (پیدائش: 25 اکتوبر 1951ء) ایک ہندوستانی عالم، مصنف، مؤرخ، تذکرہ نگار، مقالہ نگار اور مترجم قرآن ہیں۔ تقریباً تیرہ سال تک مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کے پرنسپل رہ چکے ہیں۔ تذکرہ علمائے بہار، تحریک آزادی میں علمائے کرام کا حصہ، بہار کی اردو شاعری میں علما کا حصہ اور تسہیل القرآن جیسی کتابیں ان کی تصانیف میں شامل ہیں۔ c2rnx3t69s8lpfd42ypv1v51a3712kf 14823 14822 2026-06-29T16:49:47Z Striving tranquil 2966 /* */ iqtabasat 14823 wikitext text/x-wiki '''[[w: ابوالکلام قاسمی شمسی | ابوالکلام قاسمی شمسی]]''' (پیدائش: 25 اکتوبر 1951ء) ایک ہندوستانی عالم، مصنف، مؤرخ، تذکرہ نگار، مقالہ نگار اور مترجم قرآن ہیں۔ تقریباً تیرہ سال تک مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کے پرنسپل رہ چکے ہیں۔ تذکرہ علمائے بہار، تحریک آزادی میں علمائے کرام کا حصہ، بہار کی اردو شاعری میں علما کا حصہ اور تسہیل القرآن جیسی کتابیں ان کی تصانیف میں شامل ہیں۔ ==اقتباسات== fcrleejyg5iflvkburxikws52gytcyy 14824 14823 2026-06-29T16:50:32Z Striving tranquil 2966 /* اقتباسات */ اقتباس ڈالا 14824 wikitext text/x-wiki '''[[w: ابوالکلام قاسمی شمسی | ابوالکلام قاسمی شمسی]]''' (پیدائش: 25 اکتوبر 1951ء) ایک ہندوستانی عالم، مصنف، مؤرخ، تذکرہ نگار، مقالہ نگار اور مترجم قرآن ہیں۔ تقریباً تیرہ سال تک مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کے پرنسپل رہ چکے ہیں۔ تذکرہ علمائے بہار، تحریک آزادی میں علمائے کرام کا حصہ، بہار کی اردو شاعری میں علما کا حصہ اور تسہیل القرآن جیسی کتابیں ان کی تصانیف میں شامل ہیں۔ ==اقتباسات== * ہندوستان میں مدارس کے قیام کی روایت مسلمانوں کے آمد سے شروع ہوتی ہے۔ البتہ اس کی نشاۃ ثانیہ دارالعلوم دیو بند کے قیام سے ہوئی۔ ۱۸۵۷ء میں شاملی کے میدان میں علماء کرام کی انگریزوں کے ساتھ جنگ ہوئی اس کی قیادت حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ، حضرت مولانا قاسم نانوتوی ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی اور دیگر علمائے کرام کر رہے تھے۔ ** مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ سے مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی تک، ص:17 ajy8c4axl3eiwodb697xs6qgpo06z40 14825 14824 2026-06-29T16:51:09Z Striving tranquil 2966 /* اقتباسات */ + 14825 wikitext text/x-wiki '''[[w: ابوالکلام قاسمی شمسی | ابوالکلام قاسمی شمسی]]''' (پیدائش: 25 اکتوبر 1951ء) ایک ہندوستانی عالم، مصنف، مؤرخ، تذکرہ نگار، مقالہ نگار اور مترجم قرآن ہیں۔ تقریباً تیرہ سال تک مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کے پرنسپل رہ چکے ہیں۔ تذکرہ علمائے بہار، تحریک آزادی میں علمائے کرام کا حصہ، بہار کی اردو شاعری میں علما کا حصہ اور تسہیل القرآن جیسی کتابیں ان کی تصانیف میں شامل ہیں۔ ==اقتباسات== * ہندوستان میں مدارس کے قیام کی روایت مسلمانوں کے آمد سے شروع ہوتی ہے۔ البتہ اس کی نشاۃ ثانیہ دارالعلوم دیو بند کے قیام سے ہوئی۔ ۱۸۵۷ء میں شاملی کے میدان میں علماء کرام کی انگریزوں کے ساتھ جنگ ہوئی اس کی قیادت حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ، حضرت مولانا قاسم نانوتوی ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی اور دیگر علمائے کرام کر رہے تھے۔ ** مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ سے مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی تک، ص:17 * مدرسہ کی روایت بہت قدیم ہے۔ اس کی روایت حضور ﷺ کی بعثت سے شروع ہوتی ۔ ہے۔ حضور ﷺ کے بغیر ہونے سے پہلے جہالت کا دور دورہ تھا ملک عرب میں چند آدمی تھے جو پڑھنا لکھنا جانتے تھے تعلیم کی کمی کی وجہ سے دنیا جہالت کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ** مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ سے مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی تک، ص:17 fhtlacf5av3xwe0ruddl5zf5yh5ni9j 14826 14825 2026-06-29T16:51:39Z Striving tranquil 2966 /* اقتباسات */ + 14826 wikitext text/x-wiki '''[[w: ابوالکلام قاسمی شمسی | ابوالکلام قاسمی شمسی]]''' (پیدائش: 25 اکتوبر 1951ء) ایک ہندوستانی عالم، مصنف، مؤرخ، تذکرہ نگار، مقالہ نگار اور مترجم قرآن ہیں۔ تقریباً تیرہ سال تک مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کے پرنسپل رہ چکے ہیں۔ تذکرہ علمائے بہار، تحریک آزادی میں علمائے کرام کا حصہ، بہار کی اردو شاعری میں علما کا حصہ اور تسہیل القرآن جیسی کتابیں ان کی تصانیف میں شامل ہیں۔ ==اقتباسات== * ہندوستان میں مدارس کے قیام کی روایت مسلمانوں کے آمد سے شروع ہوتی ہے۔ البتہ اس کی نشاۃ ثانیہ دارالعلوم دیو بند کے قیام سے ہوئی۔ ۱۸۵۷ء میں شاملی کے میدان میں علماء کرام کی انگریزوں کے ساتھ جنگ ہوئی اس کی قیادت حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ، حضرت مولانا قاسم نانوتوی ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی اور دیگر علمائے کرام کر رہے تھے۔ ** مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ سے مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی تک، ص:17 * مدرسہ کی روایت بہت قدیم ہے۔ اس کی روایت حضور ﷺ کی بعثت سے شروع ہوتی ۔ ہے۔ حضور ﷺ کے بغیر ہونے سے پہلے جہالت کا دور دورہ تھا ملک عرب میں چند آدمی تھے جو پڑھنا لکھنا جانتے تھے تعلیم کی کمی کی وجہ سے دنیا جہالت کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ** مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ سے مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی تک، ص:17 * نظام تعلیم کا دوسرا جز و نصاب تعلیم ہے۔ عام طور پر مدارس کے سلسلہ میں لوگ سمجھتے ہیں کہ اس میں قرآن، حدیث اور اردو کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ** مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ سے مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی تک، ص:18 0jao3973iy1lob2g4bhb60mcr06n9bb قاضی عبدالستار 0 5778 14831 2026-06-29T17:00:20Z Striving tranquil 2966 صفحہ بنایا 14831 wikitext text/x-wiki '''[[w: قاضی عبدالستار | قاضی عبدالستار]]''' shqezp656wsdzz2663qm4es4najo4ca 14832 14831 2026-06-29T17:01:07Z Striving tranquil 2966 /* */ 14832 wikitext text/x-wiki '''[[w: قاضی عبدالستار | قاضی عبدالستار]]''' اردو کے مشہور افسانہ نگار اور تاریخی ناول نگار تھے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں پروفیسر اور اسی کے صدر شعبہ رہ چکے ہیں۔ انھیں پدم شری اعزاز اور غالب اکیڈمی اعزاز سے نوازا گیا، جس میں سابق الذکر اعزاز کے وہ اولین وصول کنندہ رہے تھے۔ iy7hz59hrjriiko7p7ez6bxmzjs64vf 14833 14832 2026-06-29T17:01:58Z Striving tranquil 2966 /* */ اقتباس 14833 wikitext text/x-wiki '''[[w: قاضی عبدالستار | قاضی عبدالستار]]''' اردو کے مشہور افسانہ نگار اور تاریخی ناول نگار تھے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں پروفیسر اور اسی کے صدر شعبہ رہ چکے ہیں۔ انھیں پدم شری اعزاز اور غالب اکیڈمی اعزاز سے نوازا گیا، جس میں سابق الذکر اعزاز کے وہ اولین وصول کنندہ رہے تھے۔ ==اقتباسات== * اگر جمالیات حسن کی فطرت کا اصولی اور منظم مطالعہ اور تجزیہ کرنا چاہتا ہے تو یہ ماننے پر مجبور ہے کہ یہ مطالعہ اور تجزیہ انسانی علم کے مین دائروں کے اندر رہ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ یعنی سائنس نفسیات اور فلسفے کے دائرہ کا ر ہی تجز یہ جمال کی تحر گاہ بن سکتے ہیں ۔ ** جمالیات اور ہندستانی جمالیات ص:7 bh0df776psei3zterws1ql99trmakjy 14834 14833 2026-06-29T17:02:27Z Striving tranquil 2966 /* اقتباسات */ + 14834 wikitext text/x-wiki '''[[w: قاضی عبدالستار | قاضی عبدالستار]]''' اردو کے مشہور افسانہ نگار اور تاریخی ناول نگار تھے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں پروفیسر اور اسی کے صدر شعبہ رہ چکے ہیں۔ انھیں پدم شری اعزاز اور غالب اکیڈمی اعزاز سے نوازا گیا، جس میں سابق الذکر اعزاز کے وہ اولین وصول کنندہ رہے تھے۔ ==اقتباسات== * اگر جمالیات حسن کی فطرت کا اصولی اور منظم مطالعہ اور تجزیہ کرنا چاہتا ہے تو یہ ماننے پر مجبور ہے کہ یہ مطالعہ اور تجزیہ انسانی علم کے مین دائروں کے اندر رہ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ یعنی سائنس نفسیات اور فلسفے کے دائرہ کا ر ہی تجز یہ جمال کی تحر گاہ بن سکتے ہیں ۔ ** جمالیات اور ہندستانی جمالیات ص:7 * ماہرین نفسیات کی مصیبت کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب وہ انسان کے احساس جمال کی کارکردگی کا تجزیہ کرتے ہیں اس لیے کہ وہ انسانی جذبات کو تولنے پر کھتے کی صلاحیت تو یقینا رکھتے ہیں لیکن یہ قطعی ضروری نہیں ہو سکتا کہ وہ پیکر ان جمال کی قدر جمال یا صفت جمال سے اسی سطح پر اور اسی شدت کے ساتھ متاثر بھی ہو سکیں میں سطح پر اور جس شدت کے ساتھ احساس جمال میں شرابور کوئی دوسرا انسان ہوتا ہے۔  ** جمالیات اور ہندستانی جمالیات ص:9 5xco82s04e1uv2wzwfg6laiqv46mzcu بدر الحسن قاسمی 0 5779 14836 2026-06-29T17:10:19Z Striving tranquil 2966 صفحہ بنایا 14836 wikitext text/x-wiki '''[[w: بدر الحسن قاسمی| بدر الحسن قاسمی]]'''ایک ممتاز ہندوستانی عالم دین، فقیہ اور مصنف ہیں جنھیں عربی اور اردو زبانوں میں علمی خدمات بالخصوص فقہ اور مقاصد شریعہ کے شعبوں میں مہارت کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ انھوں نے دار العلوم دیوبند اور کویت کی وزارت اوقاف جیسے اہم اداروں میں کلیدی علمی و تحقیقی ذمہ داریاں انجام دیں۔ 7fpjb7fkzbetz85kn57jx54ps1grrcr 14837 14836 2026-06-29T17:11:20Z Striving tranquil 2966 /* */ اقتباسات 14837 wikitext text/x-wiki '''[[w: بدر الحسن قاسمی| بدر الحسن قاسمی]]'''ایک ممتاز ہندوستانی عالم دین، فقیہ اور مصنف ہیں جنھیں عربی اور اردو زبانوں میں علمی خدمات بالخصوص فقہ اور مقاصد شریعہ کے شعبوں میں مہارت کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ انھوں نے دار العلوم دیوبند اور کویت کی وزارت اوقاف جیسے اہم اداروں میں کلیدی علمی و تحقیقی ذمہ داریاں انجام دیں۔ ==اقتباسات== 1skjdwpi5jr0n9r97mnxhdlh2shw7d0 14838 14837 2026-06-29T17:11:55Z Striving tranquil 2966 /* اقتباسات */ اقتباس ایڈ کیا 14838 wikitext text/x-wiki '''[[w: بدر الحسن قاسمی| بدر الحسن قاسمی]]'''ایک ممتاز ہندوستانی عالم دین، فقیہ اور مصنف ہیں جنھیں عربی اور اردو زبانوں میں علمی خدمات بالخصوص فقہ اور مقاصد شریعہ کے شعبوں میں مہارت کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ انھوں نے دار العلوم دیوبند اور کویت کی وزارت اوقاف جیسے اہم اداروں میں کلیدی علمی و تحقیقی ذمہ داریاں انجام دیں۔ ==اقتباسات== * معاشرہ میں عورت کا مقام بے حد بلند رکھا گیا ہے۔ ماں کی حیثیت سے اسکی قدر و عظمت ضروری ہے، بیوی کی حیثیت سے اس کے ساتھ حسن عشرت ضروری ہے اور بیٹی کی حیثیت سے اسکی حسن تربیت ضروری ہے۔ ** مسلم معاشرہ میں خواتین کا علمی وادبی ذوق ص:15 nq47m00rkyxf5ehbio2no3cbigp1de3 14839 14838 2026-06-29T17:13:22Z Striving tranquil 2966 /* اقتباسات */ + 14839 wikitext text/x-wiki '''[[w: بدر الحسن قاسمی| بدر الحسن قاسمی]]'''ایک ممتاز ہندوستانی عالم دین، فقیہ اور مصنف ہیں جنھیں عربی اور اردو زبانوں میں علمی خدمات بالخصوص فقہ اور مقاصد شریعہ کے شعبوں میں مہارت کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ انھوں نے دار العلوم دیوبند اور کویت کی وزارت اوقاف جیسے اہم اداروں میں کلیدی علمی و تحقیقی ذمہ داریاں انجام دیں۔ ==اقتباسات== * معاشرہ میں عورت کا مقام بے حد بلند رکھا گیا ہے۔ ماں کی حیثیت سے اسکی قدر و عظمت ضروری ہے، بیوی کی حیثیت سے اس کے ساتھ حسن عشرت ضروری ہے اور بیٹی کی حیثیت سے اسکی حسن تربیت ضروری ہے۔ ** مسلم معاشرہ میں خواتین کا علمی وادبی ذوق ص:15 * جہاں تک علم و عمل میں باکمال بنے کی بات ہے تو اس میدان میں وہ مرد سے بھی سبقت لے جاسکتی ہے، مرد کی مردانگی صرف زندگی کے عام معاملات میں اسے فوقیت عطا کرتی ہے ور نہ فرعون کی بیوی آسیہ شوہر سے قطعی طور پر مختلف اور فوقیت رکھنے والی تھیں جبکہ حضرت لوط اور ہود کی بیویاں پیغمبروں کی شریک حیات ہونے کے باوجود بدترین انجام سے دو چار ہوئیں۔ ** مسلم معاشرہ میں خواتین کا علمی وادبی ذوق ص:15 9k9tm96entia4ff2qmcctc6zydrtzz4 14840 14839 2026-06-29T17:16:02Z Striving tranquil 2966 /* اقتباسات */ + 14840 wikitext text/x-wiki '''[[w: بدر الحسن قاسمی| بدر الحسن قاسمی]]'''ایک ممتاز ہندوستانی عالم دین، فقیہ اور مصنف ہیں جنھیں عربی اور اردو زبانوں میں علمی خدمات بالخصوص فقہ اور مقاصد شریعہ کے شعبوں میں مہارت کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ انھوں نے دار العلوم دیوبند اور کویت کی وزارت اوقاف جیسے اہم اداروں میں کلیدی علمی و تحقیقی ذمہ داریاں انجام دیں۔ ==اقتباسات== * معاشرہ میں عورت کا مقام بے حد بلند رکھا گیا ہے۔ ماں کی حیثیت سے اسکی قدر و عظمت ضروری ہے، بیوی کی حیثیت سے اس کے ساتھ حسن عشرت ضروری ہے اور بیٹی کی حیثیت سے اسکی حسن تربیت ضروری ہے۔ ** مسلم معاشرہ میں خواتین کا علمی وادبی ذوق ص:15 * جہاں تک علم و عمل میں باکمال بنے کی بات ہے تو اس میدان میں وہ مرد سے بھی سبقت لے جاسکتی ہے، مرد کی مردانگی صرف زندگی کے عام معاملات میں اسے فوقیت عطا کرتی ہے ور نہ فرعون کی بیوی آسیہ شوہر سے قطعی طور پر مختلف اور فوقیت رکھنے والی تھیں جبکہ حضرت لوط اور ہود کی بیویاں پیغمبروں کی شریک حیات ہونے کے باوجود بدترین انجام سے دو چار ہوئیں۔ ** مسلم معاشرہ میں خواتین کا علمی وادبی ذوق ص:15 *مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کے لئے نعمت بھی بن سکتے ہیں اور آزمائش اور مصیبت بھی، اور قدیم زمانہ سے یہ قصے تو روز مرہ کے حقائق رہے ہیں کہ ایک نہایت ہی دست گرفتہ اور بخیل شخص کسی عورت کی خاطر اپنا سب کچھ لٹا سکتا ہے ، اور ایک نہایت ہی بزدل انسان غیر معمولی شجاعت کا مظاہرہ کر سکتا ہے اور اپنی جان تک بعض حالات میں قربان کر سکتا ہے، اسی طرح ایک انتہائی نظمند اور باوقار شخص عورت کے دام میں پھنس کر نہایت ہی طفلانہ حرکتیں کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے، تاریخ و ادب کی کتابیں اسطرح کے بے شمار واقعات سے لبریز ہیں۔ ** مسلم معاشرہ میں خواتین کا علمی وادبی ذوق ص:146 0nttsd5rrdhu9540kbfaob7qb4lluqh منظور نعمانی 0 5780 14842 2026-06-29T17:21:15Z Striving tranquil 2966 صفحہ بنایا 14842 wikitext text/x-wiki '''[[w: منظور نعمانی| منظور نعمانی]]''' (1905ء - 1997ء) بھارت کے ایک نامور مسلم عالم دین،مبلغ،محقق،مناظر اور مصنف تھے۔ دار العلوم دیوبند کے فارغ التحصیل تھے، دار العلوم ندوۃ العلماء سے خاص تعلق تھا اور وہاں درس بھی دیتے تھے۔ 4yser8hgobyxrfs9weodx7fosrxewoo 14843 14842 2026-06-29T17:22:13Z Striving tranquil 2966 /* */ اقتباسات 14843 wikitext text/x-wiki '''[[w: منظور نعمانی| منظور نعمانی]]''' (1905ء - 1997ء) بھارت کے ایک نامور مسلم عالم دین،مبلغ،محقق،مناظر اور مصنف تھے۔ دار العلوم دیوبند کے فارغ التحصیل تھے، دار العلوم ندوۃ العلماء سے خاص تعلق تھا اور وہاں درس بھی دیتے تھے۔ ==اقتباسات== rdl3fo2eqvaor1x5jygwtf2cftdrk79 14844 14843 2026-06-29T17:22:48Z Striving tranquil 2966 /* اقتباسات */ اقتباس 14844 wikitext text/x-wiki '''[[w: منظور نعمانی| منظور نعمانی]]''' (1905ء - 1997ء) بھارت کے ایک نامور مسلم عالم دین،مبلغ،محقق،مناظر اور مصنف تھے۔ دار العلوم دیوبند کے فارغ التحصیل تھے، دار العلوم ندوۃ العلماء سے خاص تعلق تھا اور وہاں درس بھی دیتے تھے۔ ==اقتباسات== * یہ بات اسلام کی تعلیمات کے بالکل خلاف اور نہایت غیر شریفانہ اور سخت بزدلی کی بات ہے کہ جو بیچارے بے قصور ہندو ہمارے محلہ سے گزریں ہم اُن کو ستائیں اور اُن پر ظلم کریں **انسانیات زندہ ہے,ص: 13 d2rpsmprgs6ckz35uvzl3lr11i89rrh 14845 14844 2026-06-29T17:23:10Z Striving tranquil 2966 /* اقتباسات */ 14845 wikitext text/x-wiki '''[[w: منظور نعمانی| منظور نعمانی]]''' (1905ء - 1997ء) بھارت کے ایک نامور مسلم عالم دین،مبلغ،محقق،مناظر اور مصنف تھے۔ دار العلوم دیوبند کے فارغ التحصیل تھے، دار العلوم ندوۃ العلماء سے خاص تعلق تھا اور وہاں درس بھی دیتے تھے۔ ==اقتباسات== * یہ بات اسلام کی تعلیمات کے بالکل خلاف اور نہایت غیر شریفانہ اور سخت بزدلی کی بات ہے کہ جو بیچارے بے قصور ہندو ہمارے محلہ سے گزریں ہم اُن کو ستائیں اور اُن پر ظلم کریں **انسانیت زندہ ہے,ص: 13 54dapj1z1giov64xb76tbpb9yfjl1cj 14846 14845 2026-06-29T17:24:23Z Striving tranquil 2966 /* اقتباسات */ + 14846 wikitext text/x-wiki '''[[w: منظور نعمانی| منظور نعمانی]]''' (1905ء - 1997ء) بھارت کے ایک نامور مسلم عالم دین،مبلغ،محقق،مناظر اور مصنف تھے۔ دار العلوم دیوبند کے فارغ التحصیل تھے، دار العلوم ندوۃ العلماء سے خاص تعلق تھا اور وہاں درس بھی دیتے تھے۔ ==اقتباسات== * یہ بات اسلام کی تعلیمات کے بالکل خلاف اور نہایت غیر شریفانہ اور سخت بزدلی کی بات ہے کہ جو بیچارے بے قصور ہندو ہمارے محلہ سے گزریں ہم اُن کو ستائیں اور اُن پر ظلم کریں **انسانیت زندہ ہے,ص: 13 * ایک چیز جو دینی اور شرعی حیثیت سے ہر مسلمان کے لئے یکساں درجہ میں ضروری ہے خواہ وہ دنیا کے کسی بھی علاقہ کا رہنے والا ہو اور اُس کی اصل جزا آخرت میں جنت اور اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔ **غیر اسلامی اقتدار کے تحت رہنے والے مسلمانوں کے لئے لائحہ عمل،ص:11 hkykt9iw6nhq7c7ekounn6de1q7ga01 صارف:Shadabgdg/فہرست برائے ایکسپلورنگ اردو مسابقہ 2 5781 14848 2026-06-29T19:17:15Z Shadabgdg 2947 خالی صفحہ بنایا 14848 wikitext text/x-wiki phoiac9h4m842xq45sp7s6u21eteeq1 انتوان دے سان اگزوپری 0 5782 14849 2026-06-29T19:18:52Z Muntaqibah 2617 صفحہ تخلیق کیا 14849 wikitext text/x-wiki '''[[w: انتوان دے سان اگزوپری| انتوان دے سان اگزوپری]]''' ==اقتباسات== ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} 0xmmk34g3ajbm5ecedh4vul98mznkvw 14850 14849 2026-06-29T19:20:47Z Muntaqibah 2617 /* */ تصویر شامل کی 14850 wikitext text/x-wiki '''[[w: انتوان دے سان اگزوپری| انتوان دے سان اگزوپری]]''' [[File:Busto Antoine de Saint-Exupéry.jpg|thumb| انتوان دے سان اگزوپری]] ==اقتباسات== ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} 7k4lye9f8otwssxvk6igdlmtw51u9op 14851 14850 2026-06-29T19:22:47Z Muntaqibah 2617 /* */ اضافہ 14851 wikitext text/x-wiki '''[[w: انتوان دے سان اگزوپری| انتوان دے سان اگزوپری]]''' (29 جون 1900 – 31 جولائی 1944) ایک فرانسیسی ادیب، شاعر اور ہوا باز تھے [[File:Busto Antoine de Saint-Exupéry.jpg|thumb| انتوان دے سان اگزوپری]] ==اقتباسات== ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} quwcczqh73jwvfx0h6zbu8yqg77cb84 14852 14851 2026-06-29T19:26:01Z Muntaqibah 2617 /* */ تصویر تبدیل کی 14852 wikitext text/x-wiki '''[[w: انتوان دے سان اگزوپری| انتوان دے سان اگزوپری]]''' (29 جون 1900 – 31 جولائی 1944) ایک فرانسیسی ادیب، شاعر اور ہوا باز تھے [[File:Antoine de Saint-Exupéry.jpg|thumb|Even our misfortunes are a part of our belongings.| ہماری مصیبتیں بھی ہمارے وجود اور ہماری متاع کا حصہ ہوتی ہیں۔]] ==اقتباسات== ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} ffn3uhg13spu1ggkppeid91vr0j2915 14853 14852 2026-06-29T19:26:28Z Muntaqibah 2617 /* اقتباسات */ اقتباس شامل کیا 14853 wikitext text/x-wiki '''[[w: انتوان دے سان اگزوپری| انتوان دے سان اگزوپری]]''' (29 جون 1900 – 31 جولائی 1944) ایک فرانسیسی ادیب، شاعر اور ہوا باز تھے [[File:Antoine de Saint-Exupéry.jpg|thumb|Even our misfortunes are a part of our belongings.| ہماری مصیبتیں بھی ہمارے وجود اور ہماری متاع کا حصہ ہوتی ہیں۔]] ==اقتباسات== * ی مصیبتیں بھی ہمارے وجود اور ہماری متاع کا حصہ ہوتی ہیں۔ ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} 9ezi3gg1yek8rzid6dvas7z5pzokbxr 14854 14853 2026-06-29T19:26:52Z Muntaqibah 2617 /* اقتباسات */ درستی 14854 wikitext text/x-wiki '''[[w: انتوان دے سان اگزوپری| انتوان دے سان اگزوپری]]''' (29 جون 1900 – 31 جولائی 1944) ایک فرانسیسی ادیب، شاعر اور ہوا باز تھے [[File:Antoine de Saint-Exupéry.jpg|thumb|Even our misfortunes are a part of our belongings.| ہماری مصیبتیں بھی ہمارے وجود اور ہماری متاع کا حصہ ہوتی ہیں۔]] ==اقتباسات== * ہماری مصیبتیں بھی ہمارے وجود اور ہماری متاع کا حصہ ہوتی ہیں۔ ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} hk42ceuseyngjlzqcleo610nl9bug04 14855 14854 2026-06-29T19:28:54Z Muntaqibah 2617 /* اقتباسات */ اقتباسات شامل کیے 14855 wikitext text/x-wiki '''[[w: انتوان دے سان اگزوپری| انتوان دے سان اگزوپری]]''' (29 جون 1900 – 31 جولائی 1944) ایک فرانسیسی ادیب، شاعر اور ہوا باز تھے [[File:Antoine de Saint-Exupéry.jpg|thumb|Even our misfortunes are a part of our belongings.| ہماری مصیبتیں بھی ہمارے وجود اور ہماری متاع کا حصہ ہوتی ہیں۔]] ==اقتباسات== * ہماری مصیبتیں بھی ہمارے وجود اور ہماری متاع کا حصہ ہوتی ہیں۔ * میرا راز سنو، یہ نہایت سادہ ہے: حقیقت کو صرف دل ہی دیکھ سکتا ہے۔ جو کچھ سب سے زیادہ اہم ہے، وہ نگاہِ ظاہر سے اوجھل رہتا ہے۔ * ہر قوم خود غرض ہے اور ہر قوم اپنی خود غرضی کو مقدس سمجھتی ہے۔ ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} 90n6921i0smth9p2krjybwxka7284b6 غلام نبی گوہر 0 5783 14856 2026-06-29T19:43:55Z Muntaqibah 2617 صفحہ تخلیق کیا 14856 wikitext text/x-wiki '''[[w:غلام نبی جوہر| غلام نبی جوہر]]''' (26 جون 1934ء – 19 جون 2018ء) ایک کثیر اللسان کشمیری ادیب، ناول نگار، شاعر، کالم نگار اور ریٹائرڈ سیشنز جج تھے۔ انہوں نے کشمیری، اردو اور انگریزی زبانوں میں تقریباً ساٹھ کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی تصانیف میں سیاست، ادب، تاریخ اور تصوف جیسے متنوع موضوعات شامل ہی ==اقتباسات== ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} r44fgaqlrbju49d5n2lr2k72iheozai 14857 14856 2026-06-29T19:46:36Z Muntaqibah 2617 /* */ تصویر شامل کی 14857 wikitext text/x-wiki '''[[w:غلام نبی جوہر| غلام نبی جوہر]]''' (26 جون 1934ء – 19 جون 2018ء) ایک کثیر اللسان کشمیری ادیب، ناول نگار، شاعر، کالم نگار اور ریٹائرڈ سیشنز جج تھے۔ انہوں نے کشمیری، اردو اور انگریزی زبانوں میں تقریباً ساٹھ کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی تصانیف میں سیاست، ادب، تاریخ اور تصوف جیسے متنوع موضوعات شامل ہی [[File:Ghulam Nabi Gowhar with grandson.jpg|thumb| غلام نبی جوہراپنے پوتے/نواسے کے ساتھ ]] ==اقتباسات== ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} jr0f9e69ykmhawx41ej0ed6gyrgopnb 14859 14857 2026-06-30T01:05:28Z Muntaqibah 2617 /* اقتباسات */ اِقتباس 14859 wikitext text/x-wiki '''[[w:غلام نبی جوہر| غلام نبی جوہر]]''' (26 جون 1934ء – 19 جون 2018ء) ایک کثیر اللسان کشمیری ادیب، ناول نگار، شاعر، کالم نگار اور ریٹائرڈ سیشنز جج تھے۔ انہوں نے کشمیری، اردو اور انگریزی زبانوں میں تقریباً ساٹھ کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی تصانیف میں سیاست، ادب، تاریخ اور تصوف جیسے متنوع موضوعات شامل ہی [[File:Ghulam Nabi Gowhar with grandson.jpg|thumb| غلام نبی جوہراپنے پوتے/نواسے کے ساتھ ]] ==اقتباسات== * شہوات روہ نفسانی خواہشات جن پر قابو پانا مشکل ہے، تین ہیں۔ ایک لذت طعام ، دوسری لذت کلام اور تیسری ہے لذت نظر، لذت طعام کی حرص کا علاج خدا کی ربوبیت پر کامل یقین اور بھروسہ رکھنا ہے ، لذت کلام کا علاج زبان کو تسبیح کا پابند کر لینا ہے ، اور لذت نظر کا علاج نظر کو نگاہ عبرت بنا لینا ہے **علمدار ، غلام نبی گوہر ص:74 ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} msz18gaeq65r8ssy0ur7lxv05t3z3sj 14860 14859 2026-06-30T01:09:32Z Muntaqibah 2617 /* اقتباسات */ اقتباس 14860 wikitext text/x-wiki '''[[w:غلام نبی جوہر| غلام نبی جوہر]]''' (26 جون 1934ء – 19 جون 2018ء) ایک کثیر اللسان کشمیری ادیب، ناول نگار، شاعر، کالم نگار اور ریٹائرڈ سیشنز جج تھے۔ انہوں نے کشمیری، اردو اور انگریزی زبانوں میں تقریباً ساٹھ کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی تصانیف میں سیاست، ادب، تاریخ اور تصوف جیسے متنوع موضوعات شامل ہی [[File:Ghulam Nabi Gowhar with grandson.jpg|thumb| غلام نبی جوہراپنے پوتے/نواسے کے ساتھ ]] ==اقتباسات== * ہاں البتہ دنیا اور کاروبار دنیا میں الجھ کر رہ جانے کا نام اگر دنیا ہے تو پھر واقعی اُن پر ترک دنیا کا اعتراض وارد ہوتا ہے- ** علمدار ، غلام نبی گوہر ص:72 * شہوات روہ نفسانی خواہشات جن پر قابو پانا مشکل ہے، تین ہیں۔ ایک لذت طعام ، دوسری لذت کلام اور تیسری ہے لذت نظر، لذت طعام کی حرص کا علاج خدا کی ربوبیت پر کامل یقین اور بھروسہ رکھنا ہے ، لذت کلام کا علاج زبان کو تسبیح کا پابند کر لینا ہے ، اور لذت نظر کا علاج نظر کو نگاہ عبرت بنا لینا ہے **علمدار ، غلام نبی گوہر ص:74 ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} nol0bh6vg87diyszizhvjhg2tbqfc7i ویکی اقتباس:آج کا اقتباس/30 جون 2026 4 5784 14862 2026-06-30T06:19:33Z Aafi 2411 آج کا اقتباس 14862 wikitext text/x-wiki {{Wikiquote:Quote of the day/Template | image1 = Polish kid in the ruins of Warsaw September 1939.jpg | image1px = 292px | image2 = Gaza war 2023 - 2025 IMG 7976.png | image2px = 385px | quote = <!-- ⨀ <br /> -->انسانی وجود میں بظاہر ایک بڑا نقص پایا جاتا ہے: وہ خود کو محض ایک مادی شے یا کٹ پتلی سمجھے جانے کو بالکل پسند نہیں کرتا۔ اس کے لیے اس احساس کو برداشت کرنا انتہائی دشوار ہوتا ہے کہ وہ اوپر سے مسلط کردہ تبدیلیوں کے سامنے بے بس ہو کر سرِ تسلیم خم کر لے۔ | author = چیسلاو میلوش }} sc5tr4ww5ny7xypn702u1qm0aby2qyj اسماعیل میرٹھی 0 5785 14863 2026-06-30T07:54:43Z Brainwavewizard 2948 ”محمد اسماعیل میرٹھی کی پیدائش میرٹھ میں ہوئی, سال ۱۸۴۴ میں۔ انھیں بچپن سے پڑھنے لکھنے کا شوق تھا, اپنے شوق اور محنت سے اُنہونے بڑی ترقی کی, کام عمر میں ملازم جو گئے, علم و ادب کی دنیا میں نام پیدا کیا۔ اردو اور فارسی کے استاد کی حیثیت سے اُنہونے...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 14863 wikitext text/x-wiki محمد اسماعیل میرٹھی کی پیدائش میرٹھ میں ہوئی, سال ۱۸۴۴ میں۔ انھیں بچپن سے پڑھنے لکھنے کا شوق تھا, اپنے شوق اور محنت سے اُنہونے بڑی ترقی کی, کام عمر میں ملازم جو گئے, علم و ادب کی دنیا میں نام پیدا کیا۔ اردو اور فارسی کے استاد کی حیثیت سے اُنہونے بچوں کی نفسیات, ذوق, شوق, پسند اور نہ پسند کا جائزہ لیا۔ انھیں تجربات کی مدد سے اُنہونے بچوں کے لیے نظمیں لکھیں اور اردو کی درسی کتابیں تیار کی۔ یہ کتابیں ہر زمانے میں مقبول ہوئی اور آج بھی بڑے شوق سے پڑھائی جاتی ہیں۔ اسماعیل میرٹھی نے ان کتابوں میں آسان اور دلیل زبان استعمال کیں ہے۔ idrlmespzclctw1fsjqetwkn8updbm0 ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر 0 5786 14865 2026-06-30T08:10:28Z Brainwavewizard 2948 ”ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا اصل نام راؤ سکپال تھا۔ وہ ۱۴ اپریل ۱۸۹۱ کو مدھیہ پردیش کے ایک قصبے مهو میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلّق مہارشٹر کے ایک مہار خاندان سے تھا۔ اس زمانے میں چھوٹ چات کی وبا عام تھی۔ ڈاکٹر بھیم راؤ امیڈکر کو بچپن ہی سے اس قسم کے بھ...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 14865 wikitext text/x-wiki ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا اصل نام راؤ سکپال تھا۔ وہ ۱۴ اپریل ۱۸۹۱ کو مدھیہ پردیش کے ایک قصبے مهو میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلّق مہارشٹر کے ایک مہار خاندان سے تھا۔ اس زمانے میں چھوٹ چات کی وبا عام تھی۔ ڈاکٹر بھیم راؤ امیڈکر کو بچپن ہی سے اس قسم کے بھید بھاؤ اور ناانصافی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ 21xfekqo8d0jsdw9oumfgvef533s0xc