ویکی اقتباس urwikiquote https://ur.wikiquote.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%81_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.9 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی اقتباس تبادلۂ خیال ویکی اقتباس فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk سانچہ:New pages 10 2677 14943 14858 2026-07-01T00:00:51Z Aafis Bot 2972 تجدید فہرست (روبہ) 14943 wikitext text/x-wiki <div style="background-color: #faf9b2;color:var(--color-base-fixed,#202122); border: 2px solid #faf9b2; border-bottom: none; padding-top: 0.3em; padding-bottom: 0.3em; font-size: large; text-align:center;"> '''[[Special:NewPages|نئے صفحات]]''' </div> <!-- Image start --> [[File:Czeslaw Milosz 3 ap.tif|thumb|ویکی اقتباس میں نیا: [[چیسلاو میلوش]]]] <!-- Image end --> <div style="background: #ffffec; color:var(--color-base-fixed,#202122); border: 2px solid #faf9b2; border-top: none; padding: 0.6em; padding-top: none;"> <!-- NOTE BEFORE ADDING: Total of fourteen (15) only, in chronological order: add to top, remove from bottom --> <!-- List Top --> :[[چیسلاو میلوش]] :[[سید عبد اللہ]] :[[جامعہ عثمانیہ و دار الترجمہ]] :[[انجمن ترقی اردو]] :[[ڈاکٹر مسعود حسین خان]] :[[مولانا شوکت علی]] :[[جامعہ ملیہ اسلامیہ]] :[[دار المصنفین شبلی اکیڈمی]] :[[سیدہ سیدیں حمید]] :[[عصمت چغتائی]] :[[گودان]] :[[ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر]] :[[اسماعیل میرٹھی]] :[[انتوان دے سان اگزوپری]] :[[منظور نعمانی]] <!-- List Bottom --> {{break}} <div style="text-align:center;" class="plainlinks">چند نئے صفحات کی ایک جزوی فہرست ([[Special:NewPages|نئے صفحات]] [http://ur.wikiquote.org/w/index.php?title=سانچہ:New_pages&action=edit شامل کریں])</div></div><noinclude>[[Category:Main Page templates|{{PAGENAME}}]]</noinclude> inwv2zx9i72yqy6hve6aot4ov8t3plw سید سلیمان ندوی 0 5150 14889 12137 2026-06-30T18:18:16Z Shadabgdg 2947 14889 wikitext text/x-wiki '''[[w:سید سلیمان ندوی|سید سلیمان ندوی]]''' (22 نومبر 1884ء – 22 نومبر 1953ء) برصغیر کے ایک عظیم ہندوستانی مورخ، سیرت نگار اور اردو کے مایہ ناز نثری ادیب تھے۔ انہوں نے اپنے استاد علامہ شبلی نعمانی کی وفات کے بعد مشہور تاریخی کتاب "سیرت النبی" کو مکمل کیا۔ == اقتباسات == * تاریخ کا فرض صرف یہ نہیں ہے کہ وہ ماضی کے واقعات کو دہرا دے، بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ حال کے انسانوں کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سکھائے اور ان کے اخلاق کی اصلاح کرے۔ ** سید سلیمان ندوی، ''مقالاتِ سلیمان''، جلد اول، دارالمصنفین، اعظم گڑھ، ص: 45۔ * زبان وہی زندہ رہتی ہے جو دوسری زبانوں کے اچھے اور مفید الفاظ کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ لچک ہی زبان کی زندگی کی سب سے بڑی علامت ہے۔ ** سید سلیمان ندوی، ''نقوشِ سلیمانی''، ص: 88۔ * علم اگر انسان کو خاکساری اور عاجزی نہیں سکھاتا، تو وہ علم نہیں بلکہ ایک ذہنی حجاب ہے جو انسان کو سچائی کو دیکھنے سے محروم کر دیتا ہے۔ ** سید سلیمان ندوی، ''مکتوباتِ سلیمان''، ص: 112۔ * مذہبی مسائل کی تحقیقات میں میرا یہ عمل رہا ہے کہ عقائد میں سلف صالحین کے مسلک سے علاحدگی نہ ہو، البتہ اپنی بساط بھر دلائل کی تنقید کے بعد فقہا کے کسی ایک مسلک کو ترجیح دی ہے۔ ** سید سلیمان ندوی، ''معارف (رسالہ)''، جنوری 1943ء۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:اردو مورخین]] [[زمرہ:1884ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1953ء کی وفیات]] mxy4jh7izlu8f483vg4c60zdwu881fk 14927 14889 2026-06-30T20:02:35Z Shadabgdg 2947 14927 wikitext text/x-wiki '''[[w:سید سلیمان ندوی|سید سلیمان ندوی]]''' (22 نومبر 1884ء – 22 نومبر 1953ء) برصغیر کے ممتاز مورخ، سیرت نگار اور اردو نثر نگار تھے۔ انہوں نے اپنے استاد علامہ شبلی نعمانی کی وفات کے بعد مشہور تاریخی کتاب "سیرت النبی" کو مکمل کیا اور معارف پریس اعظم گڑھ کے ذریعے علمی نثر کو عروج پر پہنچایا۔ [[File:Arts College, Osmania University.jpg|thumb|200px|دارالمصنفین اعظم گڑھ کے علمی جرائد میں ان کا نثری اسلوب ایک دستاویزی درجہ رکھتا ہے]] == اقتباسات == * تاریخ کا کام محض مرے ہوئے بادشاہوں کے ناموں اور سنوں کی فہرست مرتب کر دینا نہیں ہے، بلکہ گزرے ہوئے زمانوں کے تمدنی اور اخلاقی انقلابات کا سراغ لگا کر ان سے عبرت حاصل کرنا ہے۔ *: سید سلیمان ندوی، ''مقالاتِ سلیمان''، جلد اول (مقالہ: تاریخ)، دارالمصنفین، اعظم گڑھ، طبع اول 1939ء، ص: 45۔ * اردو زبان کے لسانی ارتقا پر جب ہم غور کرتے ہیں، تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس کی تعمیر میں عربی اور فارسی کے علمی الفاظ کے ساتھ ساتھ مقامی ہند آریائی زبانوں کے مزاج کا گہرا اثر شامل ہے، جس نے اسے ایک ہمہ گیر نثری قالب دیا۔ *: سید سلیمان ندوی، ''نقوشِ سلیمانی''، دارالمصنفین، اعظم گڑھ، طبع سوم 1951ء، ص: 88۔ * علم کا کمال عقل کی موشگافیوں میں نہیں، بلکہ اس باطنی نور میں ہے جو انسان کو اپنی حقیقت سے روشناس کرائے اور اس کے اندر حق کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کا جذبہ پیدا کرے۔ *: سید سلیمان ندوی، ''مکتوباتِ سلیمان''، معارف پریس، اعظم گڑھ، طبع اول 1948ء، ص: 112۔ * مذہبی مسائل کی تحقیقات میں میرا یہ عمل رہا ہے کہ عقائد میں سلف صالحین کے مسلک سے علاحدگی نہ ہو، البتہ اپنی بساط بھر دلائل کی تنقید کے بعد فقہا کے کسی ایک مسلک کو ترجیح دی ہے۔ *: سید سلیمان ندوی، ''معارف (رسالہ)''، دارالمصنفین، اعظم گڑھ، جلد 51، شمارہ 1، جنوری 1943ء، ص: 5۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:اردو مورخین]] [[زمرہ:1884ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1953ء کی وفیات]] 21irmdg62hwlwzx58p3embuexh3w1a4 14928 14927 2026-06-30T20:03:54Z Shadabgdg 2947 14928 wikitext text/x-wiki '''[[w:سید سلیمان ندوی|سید سلیمان ندوی]]''' (22 نومبر 1884ء – 22 نومبر 1953ء) برصغیر کے ممتاز مورخ، سیرت نگار اور اردو نثر نگار تھے۔ انہوں نے اپنے استاد علامہ شبلی نعمانی کی وفات کے بعد مشہور تاریخی کتاب "سیرت النبی" کو مکمل کیا اور معارف پریس اعظم گڑھ کے ذریعے علمی نثر کو عروج پر پہنچایا۔ ==اقتباسات== * تاریخ کا کام محض مرے ہوئے بادشاہوں کے ناموں اور سنوں کی فہرست مرتب کر دینا نہیں ہے، بلکہ گزرے ہوئے زمانوں کے تمدنی اور اخلاقی انقلابات کا سراغ لگا کر ان سے عبرت حاصل کرنا ہے۔ *: سید سلیمان ندوی، ''مقالاتِ سلیمان''، جلد اول (مقالہ: تاریخ)، دارالمصنفین، اعظم گڑھ، طبع اول 1939ء، ص: 45۔ * اردو زبان کے لسانی ارتقا پر جب ہم غور کرتے ہیں، تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس کی تعمیر میں عربی اور فارسی کے علمی الفاظ کے ساتھ ساتھ مقامی ہند آریائی زبانوں کے مزاج کا گہرا اثر شامل ہے، جس نے اسے ایک ہمہ گیر نثری قالب دیا۔ *: سید سلیمان ندوی، ''نقوشِ سلیمانی''، دارالمصنفین، اعظم گڑھ، طبع سوم 1951ء، ص: 88۔ * علم کا کمال عقل کی موشگافیوں میں نہیں، بلکہ اس باطنی نور میں ہے جو انسان کو اپنی حقیقت سے روشناس کرائے اور اس کے اندر حق کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کا جذبہ پیدا کرے۔ *: سید سلیمان ندوی، ''مکتوباتِ سلیمان''، معارف پریس، اعظم گڑھ، طبع اول 1948ء، ص: 112۔ * مذہبی مسائل کی تحقیقات میں میرا یہ عمل رہا ہے کہ عقائد میں سلف صالحین کے مسلک سے علاحدگی نہ ہو، البتہ اپنی بساط بھر دلائل کی تنقید کے بعد فقہا کے کسی ایک مسلک کو ترجیح دی ہے۔ *: سید سلیمان ندوی، ''معارف (رسالہ)''، دارالمصنفین، اعظم گڑھ، جلد 51، شمارہ 1، جنوری 1943ء، ص: 5۔ ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:اردو مورخین]] [[زمرہ:1884ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1953ء کی وفیات]] morpq7bslyw348g2rzj13cvbu03blev ذاکر حسین (سیاستدان) 0 5374 14877 13130 2026-06-30T17:43:54Z Shadabgdg 2947 14877 wikitext text/x-wiki '''[[w:ذاکر حسین (سیاست دان)| ذاکر حسین]]''' (8 فروری، 1897 - 3 مئی، 1969) 13 مئی 1967 سے اپنی وفات تک ہندوستان کے تیسرے صدر تھے۔ وہ ایک ممتاز ماہر تعلیم، دانشور اور ملک کے پہلے مسلم صدر تھے۔ [[File:Dr. Zakir Husain in 1968 (cropped).jpg|thumb|ذاکر حسین]] == اقتباسات == === کتاب "سچائی کی تلاش" (Quest for Truth - 1999) === * میں امید کرتا ہوں کہ مجھے یہ فرض کرنے کی معافی مل جائے گی کہ ملک کے اس سب سے اعلیٰ عہدے کے لیے میرا انتخاب، بنیادی طور پر اگر مکمل طور پر نہیں تو، میری قوم کی تعلیم کے ساتھ میری طویل وابستگی کی وجہ سے ہوا ہے۔ ** صدرِ ہند منتخب ہونے پر پہلا خطاب۔ * ایک طالب علم کی زندگی کا مقصد اپنے اندر موجود کسی بھی وہم، تعصب یا کمینہ عادات پر قابو پانا ہونا چاہیے۔ یہ اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے ناخواندہ بھائیوں میں تعلیم کو پھیلائے اور تعلیم کی اس ترویج کو خود اپنی تعلیم کا حصہ سمجھے۔ اسے علم صرف علم کی خاطر حاصل کرنا چاہیے، لیکن اسے زندگی کی مادی ضروریات سے بھی بے خبر نہیں ہونا چاہیے۔ ** آٹھویں جماعت میں لکھا گیا ان کا پہلا اسکول مضمون۔ * (اسکول میں) محبت اور شفقت کے ایسے ماحول نے میری زندگی کو اب تک سختیوں کا سامنا نہیں کرنے دیا تھا۔ دوسروں پر انحصار کرنا میری عادت بن چکی تھی۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ کالج کے سفر سے پہلے میں نے زندگی میں کبھی خود ٹرین کا ٹکٹ تک نہیں خریدا تھا... پہلے ہی دن مجھے اندازہ ہو گیا کہ اسکول کی کنٹرول شدہ زندگی سے نکل کر کالج کی آزاد زندگی میں قدم رکھنا، خود کو ہر طرح کی پریشانیوں کی دعوت دینے کے مترادف ہے۔ وہاں کوئی آپ کو یہ نہیں بتاتا کہ کیسے پڑھنا ہے، کیا کرنا ہے، کہاں جانا ہے، کب سونا ہے اور کب جاگنا ہے۔ جو پابندیوں کا عادی ہو، وہ اس آزادی سے گھبرا جاتا ہے۔ * میرے تعلیمی افکار کی عمارت تقریباً پوری طرح جارج کیرشینسٹائنر (Georg Kerschensteiner) کے نظریات کی مرہونِ منت ہے۔ تاہم، بعد کے مراحل میں گاندھی جی کے اثرات اور اس موضوع پر ان کی تفصیلی وضاحت نے اسے گہرائی اور وسعت بخشی۔ الفاظ منصوبوں میں بدل گئے اور ایک محض نظریاتی خاکہ میری زندگی کا ایک ناقابل تسخیر حصہ بن گیا۔ * میں نے اپنے جرمن اساتذہ اور فلسفیوں سے بہت کچھ حاصل کیا ہے اور میں اس قرض کو دل سے تسلیم کرتا ہوں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ کسی اور نے میرے خیالات کی نشوونما میں حصہ نہیں لیا۔ میں ہندوستانی، سوئس، انگریزی اور امریکی اساتذہ اور تعلیمی فلسفیوں کے خیالات سے بھی اسی طرح متاثر ہوا ہوں۔ میں ہمیشہ سچائی اور صوابدید کو اپنی کھوئی ہوئی جائیداد سمجھتا ہوں اور جہاں سے بھی ملتی ہے، اسے اٹھا لیتا ہوں۔ * خدا کے لیے، ہمارے ملک کی سیاست کی اصلاح کریں اور اسے بہتر بنائیں۔ ** بنیادی تعلیمی کانفرنس (1940) میں گفتگو۔ * اگر آپ مجھ سے راجیہ سبھا کے چیئرمین کے طور پر کام جاری رکھنے کو کہیں گے، تو میں اتنا کمزور نہیں ہوں کہ اس چیلنج سے انکار کر دوں... اور اگر آپ مجھ سے راشٹرپتی بھون جانے کو کہیں گے، تو میں اتنا مضبوط نہیں ہوں کہ اس پیشکش کو ٹھکرا سکوں۔ ** اندرا گاندھی کے کہنے پر جب آئی کے گجرال ان سے صدارتی انتخاب لڑنے کی رضامندی لینے آئے تھے۔ * اگر آپ کی والدہ اتنی منظم، سادہ، نیک اور باوسائل نہ ہوتیں، تو میں آج جو کچھ ہوں، وہ کبھی نہ ہوتا۔ ** اپنی بیٹی سے گفتگو کے دوران۔ === کتاب "ذاکر حسین کی انفرادیت اور خدمات" (1997) === * سیاست، خاص طور پر ہمارے ملک میں، ایک پہاڑی ندی کی طرح ہے جو اچانک بپھر جاتی ہے اور جلد ہی اتر جاتی ہے، جب کہ تعلیمی کام نہ صرف مونسون میں بلکہ گرمیوں میں بھی پہاڑوں کے دلوں (برف) کو پگھلا کر بہتا رہتا ہے۔ سیاست کا تعلق قومی وجود کو مضبوط کرنے سے ہے اور یہ فطری طور پر بے صبرا ہے، جب کہ تعلیم سماجی نظریات کے لیے وقف ہے اور یہ فطرتاً صابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم آقا ہے اور سیاست اس کی خادم۔ * مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان کی قومی زندگی کی ترقی میں اداروں کو ایک بڑا کردار ادا کرنا ہے۔ اگر مجھے اس کا یقین نہ ہوتا تو میں جامعہ کا کام چھوڑ کر علی گڑھ نہ آتا، جس کے ساتھ میں ذہنی اور جذباتی طور پر گہرائی سے جڑا ہوا ہوں۔ * اس موضوع پر برسوں کی سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ 'عمل' (کام) ہی مؤثر تعلیم کا واحد ذریعہ ہے۔ یہ کام کبھی ہاتھ سے کرنے والا (دستی) ہو سکتا ہے اور کبھی ذہنی۔ اگرچہ صرف کام ہی انسان کو تعلیم دے سکتا ہے، لیکن طویل مشاہدے اور تجربے کے بعد میرا یہ بھی ایمان ہے کہ ہر کام انسان کو تعلیم نہیں دیتا (جب تک اس میں کوئی مقصد نہ ہو)۔ * ہمارے ملک کو ہماری گردنوں سے نکلنے والے گرم خون کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اسے ہمارے ماتھے کے پسینے کی ضرورت ہے جو سال کے بارہ مہینے بہتا رہے۔ اس وقت سنجیدہ کام کی سخت ضرورت ہے۔ ہمارا مستقبل کسان کے ٹوٹے ہوئے جھونپڑے، کاریگر کی تاریک چھت اور گاؤں کے پھوس کے اسکول سے بنے گا یا بگڑے گا۔ سیاسی کشمکش، کانفرنسوں اور کانگریسوں میں ایک یا دو دن کے جھگڑے طے کرنا تو ممکن ہے، لیکن جن مقامات کی میں نے نشان دہی کی ہے، وہ صدیوں سے ہماری تقدیر کے مرکز رہے ہیں۔ ان شعبوں میں کام کرنے کے لیے صبر اور استقلال کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ آپ کو تھکا دیتا ہے اور اس کا کوئی شکریہ بھی ادا نہیں کرتا، اس کے فوری نتائج نہیں نکلتے؛ لیکن ہاں، اگر کوئی طویل عرصے تک ڈٹا رہے، تو یہ اسے میٹھا پھل دیتا ہے۔ * ہمارا پسینہ ہی ہمارے تمام مسائل کا جواب ہے، اور کسان، کاریگر اور استاد وہ تین عوامل ہیں جو بالترتیب انسان کے جسم، ذہن اور روح کو غذا فراہم کرتے ہیں۔ * زندگی بہت وسیع، جامع اور متحرک ہے۔ اس میں روح اور مادہ، آئیڈیل ازم اور عملیت پسندی دونوں شامل ہیں اور یہ شرافت اور رذالت کے محور کے گرد گھومتی ہے۔ زندگی اعلیٰ مقاصد کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔ یہ ایک مشن ہے، ایک خدمت ہے، اور بالآخر ایک عبادت ہے۔ * مجھے اپنے اندر گہرائی میں یہ یقین محسوس ہوتا ہے کہ قدرت نے ہندوستان کو وہ تجربہ گاہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں ثقافتی امتزاج کا سب سے بڑا تجربہ کیا جائے گا اور اسے کامیابی سے مکمل کیا جائے گا۔ عالمی تاریخ میں ہندوستان کا مشن انسانیت کی ایک الگ قسم کو تیار کرنا ہے، جو اپنے اندر ان متنوع اقسام کی زندگیوں کو یکجا اور ہم آہنگ کرے جنہیں تاریخ نے پیدا کیا ہے... تاکہ مہذب وجود کا ایک ایسا نمونہ تیار ہو سکے جو موجودہ رائج طریقوں سے زیادہ اطمینان بخش ہو۔ === تعلیمی فلسفہ (Philosophy of Education) === * کمزور عقائد کی جگہ صحت مند عادات کو اور غیر متعلقہ اداروں کی جگہ ترقی پسند اداروں کو لانا چاہیے۔ ہمارے ارادوں کو عقل کی دھندلی روشنی سے نہیں بلکہ سچے عقائد کے بھرپور اجالے سے رہنمائی ملنی چاہیے۔ * انسانیت (Humanities) اور سائنس ایک دوسرے کے متضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کے متمم (تکمیل کرنے والے) ہیں۔ انسان کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ سائنس اقدار، خصوصاً اخلاقی اقدار سے خالی ہے۔ اخلاقی فیصلے کے بغیر سائنس ہر ایک کی اتحادی بن جاتی ہے - اچھے کی بھی اور برے کی بھی - اور یہ دنیا کو جنت میں بدلنے یا اسے حقیقی جہنم بنانے دونوں میں مددگار ہو سکتی ہے۔ * میرا یہ موقف ہے کہ تعلیم قومی مقصد کا ایک اہم ترین ذریعہ ہے اور اس کی تعلیم کا معیار، قوم کے معیار کے ساتھ اٹوٹ طور پر جڑا ہوا ہے۔ * تعلیم کو اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ اس ورثے کے درمیان فرق کر سکے جو ہماری مدد کرتا ہے اور اس ورثے کے درمیان جو ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے، اس روایت کے درمیان جو ہمیں کمزور کرتی ہے اور اس روایت کے درمیان جو ہمیں مضبوط کرتی ہے۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:بھارتی سیاستدان]] [[زمرہ:ماہرین تعلیم]] [[زمرہ:صدور ہند]] [[زمرہ:1897ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1969ء کی وفیات]] kz51tvkjcel3hycvq6saqipcpjxd5y7 14878 14877 2026-06-30T17:48:11Z Shadabgdg 2947 14878 wikitext text/x-wiki '''[[w:ذاکر حسین (سیاست دان)|ذاکر حسین]]''' (8 فروری 1897ء – 3 مئی 1969ء) ہندوستان کے تیسرے صدر، ممتاز ماہر تعلیم اور دانشور تھے۔ وہ ملک کے پہلے مسلم صدر تھے۔ [[File:Dr. Zakir Husain in 1968 (cropped).jpg|thumb|ذاکر حسین]] == اقتباسات == === خطباتِ جامعہ === * تعلیم کا مقصد طالب علم کے دل و دماغ کو آزاد کرنا ہے، اسے کسی خاص سانچے میں ڈھالنا نہیں۔ علم صرف معلومات کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کے کردار کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔ ** خطباتِ جامعہ، ص 42۔ * ہماری سیاست کا رخ بدلنا ہوگا، سیاست اگر اخلاق سے عاری ہو جائے تو وہ ملک و قوم کے لیے زہرِ قاتل بن جاتی ہے۔ سیاست کو تعلیم اور اخلاق کے تابع ہونا چاہیے۔ ** خطباتِ جامعہ، ص 115۔ * قومی یکجہتی اور یکسانیت میں فرق ہے۔ ہندوستان کی خوبصورتی اس کے رنگ برنگے تمدن میں ہے، اور ہمیں اس کثرت میں وحدت کو تلاش کرنا ہوگا۔ ** خطباتِ جامعہ، ص 168۔ === تعلیمی خطبات === * میں نے برسوں کی سوچ بچار کے بعد یہ سیکھا ہے کہ 'عمل' یا 'کام' ہی مؤثر تعلیم کا واحد ذریعہ ہے۔ جب تک بچہ اپنے ہاتھ سے کام نہیں کرے گا، اس کی ذہنی صلاحیتیں بیدار نہیں ہوں گی۔ ** تعلیمی خطبات، ص 24۔ * سچا استاد وہ نہیں جو صرف نصابی کتابیں پڑھا دے، بلکہ وہ ہے جو طالب علم کے اندر علم کی پیاس اور سچائی کی تڑپ پیدا کر دے۔ ** تعلیمی خطبات، ص 89۔ * سائنس اگر اخلاقی اقدار سے محروم ہو جائے تو وہ دنیا کو جہنم بنا سکتی ہے۔ سائنس کو عقل دیتی ہے لیکن اخلاق اسے جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ ** تعلیمی خطبات، ص 132۔ === مضامین اور مقالات === * ہمارا پسینہ ہی ہمارے تمام قومی مسائل کا حل ہے۔ کسان، کاریگر اور استاد وہ تین طاقتیں ہیں جو بالترتیب انسان کے جسم، ذہن اور روح کو غذا فراہم کرتی ہیں۔ ** مقالاتِ ذاکر، ص 76۔ * زندگی بہت وسیع اور متحرک ہے۔ یہ محض مادی آسائشوں کا نام نہیں بلکہ یہ اعلیٰ مقاصد کے لیے جدوجہد، خدمت اور بالآخر ایک عبادت ہے۔ ** مقالاتِ ذاکر، ص 95۔ * ہندوستان کی خاک کا ایک ایک ذرہ میرے لیے مقدس ہے۔ قدرت نے اس ملک کو مختلف تہذیبوں کے ملاپ کی ایک عظیم تجربہ گاہ بنایا ہے جہاں ایک نیا انسان جنم لے رہا ہے۔ ** سوانح و مقالات، ص 210۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:صدور ہند]] [[زمرہ:بھارتی سیاستدان]] [[زمرہ:ماہرین تعلیم]] [[زمرہ:1897ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1969ء کی وفیات]] 1hgez251r85gxto3oe5a36dbglix5j3 14955 14878 2026-07-01T04:39:21Z Shadabgdg 2947 14955 wikitext text/x-wiki '''[[w:ذاکر حسین (سیاست دان)| ذاکر حسین]]''' فروری 8، 1897 - 3 مئی، 1969) 13 مئی 1967 سے اپنی موت تک ہندوستان کے تیسرے صدر تھے، ایک ماہر تعلیم اور دانشور، ہندستان کے پہلے مسلمان صدر تھے۔ [[File:Dr. Zakir Husain in 1968 (cropped).jpg|thumb|ذاکر حسین(سیاستدان)]] ==اقتباسات== *میں نے اپنے جرمن اساتذہ اور فلسفیوں سے بہت کچھ حاصل کیا ہے اور میں اس قرض کو دل سے تسلیم کرتا ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی اور نے میرے خیالات کی نشوونما میں حصہ نہیں لیا۔ میں ہندوستانی، سوئس، انگریزی اور امریکی اساتذہ اور تعلیمی فلسفیوں کے خیالات سے اسی طرح متاثر ہوا ہوں۔ میں ہمیشہ سچائی اور صوابدید کو اپنی کھوئی ہوئی جائیداد سمجھتا ہوں اور جہاں سے بھی ملتا ہوں اٹھا لیتا ہوں۔ ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:سیاستدان]] 245ccywwxd0jtzrjv3egunw1g52pbkh شبلی نعمانی 0 5675 14884 14503 2026-06-30T18:01:57Z Shadabgdg 2947 14884 wikitext text/x-wiki '''[[w:شبلی نعمانی|شبلی نعمانی]]''' (3 جون 1857ء – 18 نومبر 1914ء) برصغیر کے ایک نامور مؤرخ، سیرت نگار، ماہرِ تعلیم، اور دارالمصنفین (اعظم گڑھ) کے بانی تھے۔ ان کی تصانیف اور مقالات اردو نثر، تنقید اور تاریخی تحقیق کا عظیم سرمایہ ہیں۔ [[File:Shibli Nomani.jpg|thumb|علامہ شبلی نعمانی]] == اقتباسات == * جو قوم اپنی تاریخ اور کارناموں کو زندہ نہیں رکھ سکتی، وہ خود بھی طویل عرصے تک زندہ نہیں رہ سکتی۔ تاریخ صرف بادشاہوں کی جنگوں کا نام نہیں، بلکہ قوم کے اخلاق کا آئینہ ہے۔ ** علامہ شبلی نعمانی، ''مقالاتِ شبلی''، جلد اول، دارالمصنفین، اعظم گڑھ، ص: 34۔ * تنقید کا مقصد محض خامیاں نکالنا اور عیب جوئی کرنا نہیں ہے، بلکہ خوبیوں کو اجاگر کرنا اور علم کا صحیح مقام متعین کرنا ہے۔ ** علامہ شبلی نعمانی، ''شعر العجم''، جلد چہارم (دیباچہ)، ص: 88۔ * صرف علم کا ہونا کافی نہیں، اس پر عمل کرنا اور اسے معاشرے کی فلاح اور اخلاقی اصلاح کے لیے استعمال کرنا اصل کمال ہے۔ ** علامہ شبلی نعمانی، ''مکاتیبِ شبلی''، جلد دوم، ص: 56۔ * کوئی بھی بڑی اور بامقصد تبدیلی بغیر مسلسل محنت، استقامت، سچی لگن اور اندھی تقلید کو چھوڑے بغیر ممکن نہیں۔ ** علامہ شبلی نعمانی، ''مقالاتِ شبلی''، جلد دوم، ص: 112۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:صدور ہند]] [[زمرہ:بھارتی سیاستدان]] [[زمرہ:ماہرین تعلیم]] [[زمرہ:1857ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1914ء کی وفیات]] ns3a2on26hn3azn0oj78fv5g7y0qfor 14885 14884 2026-06-30T18:04:49Z Shadabgdg 2947 14885 wikitext text/x-wiki '''[[w:شبلی نعمانی|شبلی نعمانی]]''' (3 جون 1857ء – 18 نومبر 1914ء) برصغیر کے ایک نامور مؤرخ، سیرت نگار، ماہرِ تعلیم، اور دارالمصنفین (اعظم گڑھ) کے بانی تھے۔ ان کی تصانیف اور مقالات اردو نثر، تنقید اور تاریخی تحقیق کا عظیم سرمایہ ہیں۔ [[File:Cover design of Aurangzeb Alamgir par ek nazar.jpg|thumb|200px|علامہ شبلی نعمانی کی مشہور تصنیف کا سرورق]] == اقتباسات == * جو قوم اپنی تاریخ اور کارناموں کو زندہ نہیں رکھ سکتی، وہ خود بھی طویل عرصے تک زندہ نہیں رہ سکتی۔ تاریخ صرف بادشاہوں کی جنگوں کا نام نہیں، بلکہ قوم کے اخلاق کا آئینہ ہے۔ ** علامہ شبلی نعمانی، ''مقالاتِ شبلی''، جلد اول، دارالمصنفین، اعظم گڑھ، ص: 34۔ * تنقید کا مقصد محض خامیاں نکالنا اور عیب جوئی کرنا نہیں ہے، بلکہ خوبیوں کو اجاگر کرنا اور علم کا صحیح مقام متعین کرنا ہے۔ ** علامہ شبلی نعمانی، ''شعر العجم''، جلد چہارم (دیباچہ)، ص: 88۔ * صرف علم کا ہونا کافی نہیں، اس پر عمل کرنا اور اسے معاشرے کی فلاح اور اخلاقی اصلاح کے لیے استعمال کرنا اصل کمال ہے۔ ** علامہ شبلی نعمانی، ''مکاتیبِ شبلی''، جلد دوم، ص: 56۔ * کوئی بھی بڑی اور بامقصد تبدیلی بغیر مسلسل محنت، استقامت، سچی لگن اور اندھی تقلید کو چھوڑے بغیر ممکن نہیں۔ ** علامہ شبلی نعمانی، ''مقالاتِ شبلی''، جلد دوم، ص: 112۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:اردو مورخین]] [[زمرہ:ماہرین تعلیم]] [[زمرہ:1857ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1914ء کی وفیات]] fk6inwv8064r19cdq3t09wiyxq9j4sq 14923 14885 2026-06-30T19:50:28Z Shadabgdg 2947 14923 wikitext text/x-wiki '''[[w:شبلی نعمانی|شبلی نعمانی]]''' (3 جون 1857ء – 18 نومبر 1914ء) برصغیر کے ایک مایہ ناز مؤرخ، سیرت نگار، نقاد اور دارالمصنفین (اعظم گڑھ) کے بانی تھے۔ ان کی تصانیف اور مقالات اردو نثر، الہیات، اور ادبی تنقید کا سب سے وقیع اور مستند کلاسیکی سرمایہ مانی جاتی ہیں۔ [[File:Cover design of Aurangzeb Alamgir par ek nazar.jpg|thumb|200px|علامہ شبلی نعمانی کی تصانیف کا مروجہ جامعاتی نصاب میں بنیادی مقام ہے]] ==اقتباسات== * مؤرخ کا سب سے پہلا اور مقدس فرض یہ ہے کہ وہ واقعات کو اسی رنگ میں دکھائے جس رنگ میں وہ واقع ہوئے ہیں۔ اس میں نہ تو قومی ہمدردی کا پاس ہونا چاہیے اور نہ کسی ذاتی تعصب کا دخل۔ *: شبلی نعمانی، ''مقالاتِ شبلی''، جلد اول (مقالہ: تاریخ نگاری کا اصول)، دارالمصنفین، اعظم گڑھ، طبع چہارم 1954ء، ص: 12۔ * شاعری اور تخیل کا باہمی تعلق ایسا ہے جیسے جسم اور روح کا۔ جو شعر تخیل کی دولت سے محروم ہے، وہ محض الفاظ کا ایک بے جان قالب ہے جس میں کوئی فکری یا جمالیاتی اثر پیدا نہیں ہو سکتا۔ *: شبلی نعمانی، ''شعر العجم''، جلد چہارم، معارف پریس، اعظم گڑھ، طبع پنجم 1945ء، ص: 22۔ * علم کلام کا اصل مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ مروجہ عقائد کی مدافعت کی جائے، بلکہ یہ ہے کہ بدلتے ہوئے فلسفے اور نئے دور کے شکوک و شبہات کے سامنے مذہب کی فکری اور عقلی برتری کو ثابت کیا جائے۔ *: شبلی نعمانی، ''علم الکلام''، دارالمصنفین، اعظم گڑھ، طبع اول 1902ء، ص: 6۔ * کسی قوم کی سچی اور حقیقی تاریخ اس کے راجوں اور مہاراجوں کے درباروں اور جنگوں کی تفصیل نہیں ہے، بلکہ اس کے عوام کے اخلاق، تمدن، معاشرت اور علوم و فنون کے تدریجی ارتقا کا نام ہے۔ *: شبلی نعمانی، ''مقالاتِ شبلی''، جلد اول (مقالہ: تاریخ)، دارالمصنفین، اعظم گڑھ، طبع چہارم 1954ء، ص: 45۔ ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] gvilared7ob608g1zckstz5xb0zse8l مولوی عبدالحق 0 5677 14887 14505 2026-06-30T18:09:37Z Shadabgdg 2947 14887 wikitext text/x-wiki '''[[w:مولوی عبد الحق|مولوی عبد الحق]]''' (20 اپریل 1870ء – 16 اگست 1961ء)، جنہیں احتراماً 'بابائے اردو' کہا جاتا ہے، ایک عظیم محقق، ماہرِ لسانیات اور نقاد تھے۔ انہوں نے انجمن ترقی اردو کے پلیٹ فارم سے اردو زبان و ادب کی ترویج، لغت نویسی اور علمی ترقی کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ == اقتباسات == * اردو صرف ایک زبان نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری مشترکہ تہذیب، تاریخ اور شاندار ثقافتی روایات کی سب سے بڑی امین ہے۔ ** مولوی عبد الحق، ''مقالاتِ عبدالحق''، انجمن ترقی اردو، ص: 23۔ * جو قوم اپنی مادری زبان اور اس کے ادب کی قدر نہیں کرتی، وہ دنیا کے کسی بھی علمی میدان میں سچی ترقی حاصل نہیں کر سکتی۔ ** مولوی عبد الحق، ''خطباتِ عبدالحق''، ص: 56۔ * زبان کی ترقی اور بقا کا انحصار محض حکومتوں پر نہیں، بلکہ اس کے بولنے والوں کی علمی کاوشوں اور زندہ دلی پر ہوتا ہے۔ ** حوالہ سابق، ص: 89۔ * ہمیں اردو کو محض شاعری اور جذبات کی زبان نہیں رکھنا، بلکہ اسے جدید سائنس اور عصری علوم کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا ہے۔ ** مولوی عبد الحق Mercantile، ''افکارِ عبدالحق''، ص: 112۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:ماہرینِ لسانیات]] [[زمرہ:1870ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1961ء کی وفیات]] tktzbtmryxrdonubw0u14az8yicvfxm 14924 14887 2026-06-30T19:54:18Z Shadabgdg 2947 14924 wikitext text/x-wiki '''[[w:مولوی عبد الحق|مولوی عبد الحق]]''' (20 اپریل 1870ء – 16 اگست 1961ء) برصغیر کے ایک عظیم محقق، ماہرِ لسانیات اور نقاد تھے، جنہیں اردو زبان و ادب کے لیے ان کی تاحیات خدمات پر احتراماً 'بابائے اردو' کہا جاتا ہے۔ انہوں نے انجمن ترقی اردو کے پلیٹ فارم سے لغت نویسی، قدیم مخطوطات کی دریافت اور اردو کو جامعاتی سطح پر نافذ کرنے کے لیے تاریخی خدمات انجام دیں۔ == اقتباسات == * زبان کا کام صرف یہ نہیں ہے کہ وہ دل کے ارمان یا شعر و شاعری کے نازک خیالات ادا کر دے، بلکہ اس کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ روزمرہ کے کاروبار، سائنس، اور فلسفے کے بوجھ کو کہاں تک سنبھال سکتی ہے۔ *: مولوی عبد الحق، ''خطباتِ عبدالحق''، انجمن ترقی اردو، کراچی، طبع چہارم 1952ء، ص: 45۔ * انجمن ترقی اردو کا اصل مقصد صرف کتابیں چھاپنا نہیں ہے، بلکہ اردو زبان کو مروجہ علومِ جدیدہ کا ایسا مستند ذریعہ بنانا ہے کہ ہمیں اپنی اعلیٰ تعلیم کے لیے کسی غیر ملکی زبان کا سہارا نہ لینا پڑے۔ *: مولوی عبد الحق، ''مقالاتِ عبدالحق''، جلد اول، انجمن ترقی اردو، دہلی، طبع اول 1934ء، ص: 12۔ * تحقیق کا راستہ نہایت کٹھن اور صبر طلب ہے۔ پرانے گمنام مخطوطات کی خاک چھاننا اور ان میں سے لسانی حقائق برآمد کرنا کوئی تفریح نہیں، بلکہ ایک قومی اور علمی فریضہ ہے۔ *: مولوی عبد الحق، ''مقدماتِ عبدالحق''، جلد دوم، انجمن ترقی اردو، کراچی، طبع چہارم 1964ء، ص: 88۔ * کسی زبان کے الفاظ کی کثرت اس کی بزرگی کی دلیل نہیں ہوتی، بلکہ اس کا اصلی کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے قواعد کی سادگی اور وسعت کے باعث غیر زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر جذب کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے۔ *: مولوی عبد الحق، ''قواعدِ اردو'' (مقدمہ)، انجمن ترقی اردو، دہلی، طبع پنجم 1944ء، ص: 7۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:ماہرینِ لسانیات]] [[زمرہ:1870ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1961ء کی وفیات]] hystfc819isode4rbbcon2ovj7g9cf3 14925 14924 2026-06-30T19:54:30Z Shadabgdg 2947 14925 wikitext text/x-wiki '''[[w:مولوی عبد الحق|مولوی عبد الحق]]''' (20 اپریل 1870ء – 16 اگست 1961ء) برصغیر کے ایک عظیم محقق، ماہرِ لسانیات اور نقاد تھے، جنہیں اردو زبان و ادب کے لیے ان کی تاحیات خدمات پر احتراماً 'بابائے اردو' کہا جاتا ہے۔ انہوں نے انجمن ترقی اردو کے پلیٹ فارم سے لغت نویسی، قدیم مخطوطات کی دریافت اور اردو کو جامعاتی سطح پر نافذ کرنے کے لیے تاریخی خدمات انجام دیں۔ == اقتباسات == * زبان کا کام صرف یہ نہیں ہے کہ وہ دل کے ارمان یا شعر و شاعری کے نازک خیالات ادا کر دے، بلکہ اس کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ روزمرہ کے کاروبار، سائنس، اور فلسفے کے بوجھ کو کہاں تک سنبھال سکتی ہے۔ *: مولوی عبد الحق، ''خطباتِ عبدالحق''، انجمن ترقی اردو، کراچی، طبع چہارم 1952ء، ص: 45۔ * انجمن ترقی اردو کا اصل مقصد صرف کتابیں چھاپنا نہیں ہے، بلکہ اردو زبان کو مروجہ علومِ جدیدہ کا ایسا مستند ذریعہ بنانا ہے کہ ہمیں اپنی اعلیٰ تعلیم کے لیے کسی غیر ملکی زبان کا سہارا نہ لینا پڑے۔ *: مولوی عبد الحق، ''مقالاتِ عبدالحق''، جلد اول، انجمن ترقی اردو، دہلی، طبع اول 1934ء، ص: 12۔ * تحقیق کا راستہ نہایت کٹھن اور صبر طلب ہے۔ پرانے گمنام مخطوطات کی خاک چھاننا اور ان میں سے لسانی حقائق برآمد کرنا کوئی تفریح نہیں، بلکہ ایک قومی اور علمی فریضہ ہے۔ *: مولوی عبد الحق، ''مقدماتِ عبدالحق''، جلد دوم، انجمن ترقی اردو، کراچی، طبع چہارم 1964ء، ص: 88۔ * کسی زبان کے الفاظ کی کثرت اس کی بزرگی کی دلیل نہیں ہوتی، بلکہ اس کا اصلی کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے قواعد کی سادگی اور وسعت کے باعث غیر زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر جذب کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے۔ *: مولوی عبد الحق، ''قواعدِ اردو'' (مقدمہ)، انجمن ترقی اردو، دہلی، طبع پنجم 1944ء، ص: 7۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] 8o29zdpkc2hz77342tz43honea8kjpm ڈپٹی نذیر احمد 0 5682 14888 14478 2026-06-30T18:13:49Z Shadabgdg 2947 14888 wikitext text/x-wiki '''[[w:نذیر احمد دہلوی|ڈپٹی نذیر احمد]]''' (6 دسمبر 1833ء – 3 مئی 1912ء) اردو کے ممتاز ناول نگار، سماجی و مذہبی مصلح اور خطیب تھے۔ وہ عموماً ڈپٹی نذیر احمد دہلوی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے قانون، منطق، اخلاقیات اور لسانیات جیسے موضوعات پر تیس سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ [[File:Nazir Ahmad.jpg|thumb|ڈپٹی نذیر احمد]] == اقتباسات == * تربیت اولاد صرف اسی کا نام نہیں کہ پال پوس کر اولاد کو بڑا کر دیا، روٹی کمانے کھانے کا کوئی ہنر ان کو سکھا دیا ان کا بیاہ برات کر دیا بلکہ ان کے اخلاق کی تہذیب ان کے مزاج کی اصلاح ان کے عادات کی درستی ان کے خیالات اور معتقدات کی تصحیح بھی ماں باپ پر فرض ہے۔ ** توبۃ النصوح، ص: 3۔ * ارادہ یہی تھا کہ بلا تخصیص مذہب، تلقین حسن معاشرت اور تعلیم نیک کرداری اور اخلاق کی ضرورت لوگوں پر ثابت کی جائے، لیکن نیکی کو مذہب سے جدا کرنا ایسا ہے جیسے کوئی شخص روح کو جسد سے یا بو کو گل سے یا نور کو آفتاب سے یا عرض کو جوہر سے یا ناخن کو گوشت سے علیحدہ اور منفک کرنے کا قصد کرے۔ ** توبۃ النصوح، ص: 5۔ * جو عورت اپنے گھر کو سلیقے سے نہیں چلا سکتی، وہ معاشرے کی تعمیر میں کبھی مفید ثابت نہیں ہو سکتی۔ تعلیم کا پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے۔ ** مراۃ العروس، ص: 28۔ * قانون کی طاقت صرف جرائم کو روک سکتی ہے، لیکن انسان کو اندر سے تبدیل کرنے کے لیے اخلاق اور بہترین تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ** ابن الوقت، ص: 134۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو ناول نگار]] [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:1833ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1912ء کی وفیات]] rgshkadzlbp4gzrzwl91dxzcr8yp62d 14926 14888 2026-06-30T19:59:01Z Shadabgdg 2947 14926 wikitext text/x-wiki '''[[w:نذیر احمد دہلوی|ڈپٹی نذیر احمد]]''' (6 دسمبر 1833ء – 3 مئی 1912ء) اردو کے ممتاز ناول نگار، سماجی و مذہبی مصلح اور خطیب تھے۔ وہ عموماً ڈپٹی نذیر احمد دہلوی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے قانون، منطق، اخلاقیات اور لسانیات جیسے موضوعات پر تیس سے زائد کتابیں تصنیف کیں اور انہیں اردو کا پہلا باقاعدہ ناول نگار مانا جاتا ہے۔ [[File:Nazir Ahmad.jpg|thumb|200px|ڈپٹی نذیر احمد دہلوی]] == اقتباسات == * تربیت اولاد صرف اسی کا نام نہیں کہ پال پوس کر اولاد کو بڑا کر دیا، روٹی کمانے کھانے کا کوئی ہنر ان کو سکھا دیا ان کا بیاہ برات کر دیا بلکہ ان کے اخلاق کی تہذیب ان کے مزاج کی اصلاح ان کے عادات کی درستی ان کے خیالات اور معتقدات کی تصحیح بھی ماں باپ پر فرض ہے۔ *: نذیر احمد دہلوی، ''توبۃ النصوح''، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، طبع 1970ء، ص: 3۔ * ارادہ یہی تھا کہ بلا تخصیص مذہب، تلقین حسن معاشرت اور تعلیم نیک کرداری اور اخلاق کی ضرورت لوگوں پر ثابت کی جائے، لیکن نیکی کو مذہب سے جدا کرنا ایسا ہے جیسے کوئی شخص روح کو جسد سے یا بو کو گل سے یا نور کو آفتاب سے یا عرض کو جوہر سے یا ناخن کو گوشت سے علیحدہ اور منفک کرنے کا قصد کرے۔ *: نذیر احمد دہلوی، ''توبۃ النصوح''، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، طبع 1970ء، ص: 5۔ * عقل مند بیٹی وہی ہے جو سسرال جا کر اپنے سلیقے اور نیک خوئی سے سب کا دل موہ لے، اور فہمیدگی کا پہلا قاعدہ یہ ہے کہ انسان وقت اور ضرورت کو دیکھ کر اپنے خرچ اور کام کی بنیاد رکھے، نہ کہ اکبری کی طرح نادانی میں گھر بگاڑے۔ *: نذیر احمد دہلوی، ''مراۃ العروس''، مطبع مجتبائی، دہلی، طبع 1899ء، ص: 28۔ * ابن الوقت نے انگریزوں کی ظاہری وضع قطع اور طرزِ معاشرت کی نقل تو اختیار کر لی، لیکن وہ یہ نہ سمجھا کہ قوموں کا عروج لباس اور بود و باش بدلنے سے نہیں، بلکہ علم کی سچی بنیاد اور اپنی جڑوں سے وابستہ رہنے سے ہوتا ہے۔ *: نذیر احمد دہلوی، ''ابن الوقت''، نامی پریس، کانپور، طبع 1902ء، ص: 134۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] oqesmu50web7lymgneg5gbj74v4r5o2 شمس الرحمٰن فاروقی 0 5683 14913 14489 2026-06-30T18:56:23Z Shadabgdg 2947 14913 wikitext text/x-wiki '''[[w:شمس الرحمن فاروقی|شمس الرحمن فاروقی]]''' (30 ستمبر 1935ء – 25 دسمبر 2020ء) ایک بھارتی اردو ادیب، نقاد، لغت نویس اور نظریہ ساز تھے۔ وہ اردو ادب میں جدیدیت کے فروغ اور استحکام کے حوالے سے خاص شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ادبی تنقید کے ایسے نئے اصول اور نمونے وضع کیے جن میں مغربی ادبی تنقید کے نظریات کے ساتھ ساتھ عربی، فارسی اور اردو ادب کی مقامی جمالیاتی روایات کو شامل کیا، جس سے اردو تنقید اور لغت نویسی کو ایک نئی جہت حاصل ہوئی۔ [[File:Shamsur_Rahman_Farooqi.jpg|thumb|200px|شمس الرحمن فاروقی]] == اقتباسات == * انگریزوں نے ہندوستان میں فارسی زبان کی تعلیم کو نقصان ضرور پہنچایا لیکن ہندوستانی فارسی گوئی کی قدر شکنی میں ان کا ہاتھ نہیں نظر آتا۔ بلکہ انگریزوں نے تو ہندوستانی رایرانی کا فرق بظاہر بالکل نہیں کیا۔ انہوں نے ہندوستانی فارسی گویوں کی شاگردی اختیار کی، انہیں کی طرح شعر گوئی کی- ** ''غالب پر چار تحریریں''، ص: 10۔ * اپنے ہم عصروں اور تقریباً ہم عمروں میں بھی مجھے وہی لوگ زیادہ اچھے لگے جن کے لیے ادب سازشوں کا کھیل نہیں، بلکہ زندگی سے بھی ماورا ایک حقیقت ہے۔ اگر یہ گروپ بندی ہے تو میں ایسے گروپ کا فرد ہوتا خوش قسمتی سمجھتا ہوں۔ ** ''شعر، غیر شعر اور نثر''، ص: 21۔ * لغت نویسی اور الفاظ کی تاریخ کا مطالعہ دراصل کسی قوم کی تمدنی تاریخ کا مطالعہ ہے۔ لفظ صرف آوازوں کا مجموعہ نہیں ہوتے، بلکہ اپنے اندر صدیوں کے تہذیبی سفر کا سفرنامہ چھپائے رکھتے ہیں۔ ** ''لغتِ روزمرہ'' (دیباچہ)، ص: 8۔ * ادب میں جدیدیت (Modernism) کا مطلب ماضی سے رشتہ توڑنا نہیں ہے، بلکہ ماضی کے بہترین فکری سرمائے کو اپنے عہد کے بدلتے ہوئے سماجی اور ذہنی تقاضوں کے مطابق ایک نیا نثری قالب دینا ہے۔ ** ''نظریۂ جدیدیت''، ص: 45۔ * تنقید کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ مصنف کی تحریر کو اس کے اپنے عہد کے لسانی اور تمدنی پس منظر میں رکھ کر دیکھے، نہ کہ اس پر اپنے دور کے بنے بنائے نظریات زبردستی نافذ کرے۔ ** ''تعبیر کی شرح''، ص: 124۔ * اردو نثر میں وہ غیر معمولی لچک اور فکری گہرائی موجود ہے جو دنیا کے پیچیدہ ترین فلسفیانہ اور سائنسی افکار کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہمیں صرف اس کی وسعت پر یقین ہونا چاہیے۔ ** ''اردو زبان کا ابتدائی عہد اور لسانی ارتقا''، ص: 76۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:ماہرینِ لسانیات]] [[زمرہ:1935ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:2020ء کی وفیات]] nei8e4sx7z8te1uddyzipszuje4a47e 14947 14913 2026-07-01T03:14:23Z Shadabgdg 2947 [[Special:Contributions/Shadabgdg|Shadabgdg]] ([[User talk:Shadabgdg|تبادلۂ خیال]]) کی جانب سے کی گئی 14913 ویں ترمیم کا [[استرجع]]۔ 14947 wikitext text/x-wiki '''[[w: شمس الرحمٰن فاروقی| شمس الرحمٰن فاروقی]]''' (30 ستمبر 1935ء – 25 دسمبر 2020ء) ایک بھارتی اردو شاعر، ادیب، نقاد اور نظریہ ساز تھے۔ وہ اردو ادب میں جدیدیت کے فروغ اور استحکام کے حوالے سے خاص شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ادبی تنقید کے ایسے نئے اصول اور نمونے وضع کیے جن میں مغربی ادبی تنقید کے نظریات کو شامل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے ان اصولوں کو عربی، فارسی اور اردو ادب کی مقامی جمالیاتی روایات کے مطابق ڈھال کر اردو ادب پر منطبق کیا، جس سے اردو تنقید کو ایک نئی جہت حاصل ہوئی- [[File:Shamsur_Rahman_Farooqi.jpg|thumb| شمس الرحمٰن فاروقی ]] ==اقتباسات== * انگریزوں نے ہندوستان میں فارسی زبان کی تعلیم کو نقصان ضرور پہنچایا لیکن ہندوستانی فارسی گوئی کی قدر شکنی میں ان کا ہاتھ نہیں نظر آتا۔ بلکہ انگریزوں نے تو ہندوستانی رایرانی کا فرق بظاہر بالکل نہیں کیا۔ انہوں نے ہندوستانی فارسی گویوں کی شاگردی اختیار کی ، انہیں کی طرح شعر گوئی کی- ** غالب پر چار تحریریں ص10 * اپنے ہم عصروں اور تقریباً ہم عمروں میں بھی مجھے وہی لوگ زیادہ اچھے لگے جن کے لیے ادب سازشوں کا کھیل نہیں، بلکہ زندگی سے بھی ماورا ایک حقیقت ہے۔ اگر یہ گروپ بندی ہے تو میں ایسے گروپ کا فرد ہوتا خوش قسمتی سمجھتا ہوں۔ **شعر،غیر شعر اور نثر ص21 ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} 0oid5ki9a0lj3txejudss6s9fhnhvbl رشید احمد صدیقی 0 5687 14894 14514 2026-06-30T18:21:23Z Shadabgdg 2947 14894 wikitext text/x-wiki '''[[w:رشید احمد صدیقی|رشید احمد صدیقی]]''' (24 دسمبر 1894ء – 29 جنوری 1977ء) اردو ادب کے ایک ممتاز مزاح نگار، نقاد اور صاحبِ طرز نثری ادیب تھے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طویل عرصے تک تدریسی خدمات انجام دیں اور اردو نثر کو ایک نیا اسلوب دیا۔ == اقتباسات == * علی گڑھ صرف ایک یونیورسٹی یا عمارتوں کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک زندہ طرزِ فکر اور ایک تہذیب کا نام ہے جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک نئی زندگی دی۔ ** رشید احمد صدیقی، ''آشفتہ بیانی مری''، ص: 52۔ * طنز و مزاح کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں، بلکہ معاشرے کی ناہمواریوں پر اس طرح ہنسنا ہے کہ پڑھنے والے کو اندر سے اپنی اصلاح کا خیال آ جائے۔ ** رشید احمد صدیقی، ''مضامینِ رشید''، ص: 18۔ * انسان کی اصل قدروقیمت اس کی ڈگریوں یا اس کے عہدے سے نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے سے کم تر انسانوں کے ساتھ کس طرح پیش آتا ہے۔ ** رشید احمد صدیقی، ''ہم نفسانِ رفتہ''، ص: 76۔ * اردو زبان کی سب سے بڑی طاقت اس کی شیرینی اور اس کا لچکدار پن ہے۔ یہ دلوں کو جوڑنے والی زبان ہے، توڑنے والی نہیں۔ ** رشید احمد صدیقی، ''جدید اردو نثر''، ص: 134۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:ماہرین تعلیم]] [[زمرہ:1894ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1977ء کی وفیات]] em07ws5b8qofz8f44rsbe8m44c2jmn0 14930 14894 2026-06-30T20:06:18Z Shadabgdg 2947 [[Special:Contributions/Shadabgdg|Shadabgdg]] ([[User talk:Shadabgdg|تبادلۂ خیال]]) کی جانب سے کی گئی 14894 ویں ترمیم کا [[استرجع]]۔ 14930 wikitext text/x-wiki '''[[w|رشید احمد صدیقی]]''' (1892ء – 1977ء) ایک ممتاز ہندوستانی محقق، نقاد، خاکہ نگار، اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مایہ ناز استاد تھے۔ ان کی تحریریں اردو نثر میں طنز و مزاح اور علی گڑھ کی علمی و تہذیبی روایات کی بہترین عکاس ہیں۔ == اقوال == * علی گڑھ مسلم یونیورسٹی صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تہذیب، ایک روایت اور ایک خاص طرزِ احساس کا نام ہے۔ **رشید احمد صدیقی، ''آشفتہ بیانی میری''، ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ، ص: 34۔ * اردو زبان ہماری مشترکہ تہذیب کی وہ آخری پناہ گاہ ہے جہاں آج بھی مختلف مذاہب اور عقائد کے لوگ ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ **رشید احمد صدیقی، ''مضامینِ رشید''، ص: 58۔ * طنز و مزاح کا اصل مقصد کسی کی دل آزاری نہیں، بلکہ معاشرے کی ان خامیوں پر مسکرانا ہے جنہیں رو کر بھی نہیں سدھارا جا سکتا۔ **رشید احمد صدیقی، ''خنداں''، مکتبہ جامعہ، ص: 88۔ * سچا ادب انسان کو زندگی کی کڑوی سچائیوں کا سامنا کرنے اور انہیں خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ **رشید احمد صدیقی، ''گنج ہائے گراں مایہ''، ص: 112۔ 7svc4ma6ebybkq0p328mai8o4pqae92 حافظ محمود شیرانی 0 5691 14915 14522 2026-06-30T19:03:18Z Shadabgdg 2947 14915 wikitext text/x-wiki '''[[w:محمود خان شیرانی|محمود خان شیرانی]]''' (1880ء – 1946ء) برصغیر کے ایک نامور محقق، ماہرِ لسانیات اور مؤرخ تھے۔ ان کی مایہ ناز تصنیف 'پنجاب میں اردو' نے اردو زبان کے آغاز اور ارتقاء کے حوالے سے لسانیات کی دنیا میں ایک نئے اور اہم نظریے کی بنیاد رکھی۔ [[File:Hafiz Mehmood Khan Shirani.jpg|thumb|200px|حافظ محمود خان شیرانی]] == اقتباسات == * اردو زبان کسی شاہی دربار یا دفتر کی پیداوار نہیں، بلکہ یہ مختلف قوموں اور ثقافتوں کے عوامی میل جول کا ایک فطری اور تاریخی نتیجہ ہے۔ ** حافظ محمود شیرانی، ''پنجاب میں اردو''، نسیم بک ڈپو، لکھنؤ، ص: 34۔ * زبانیں احکامات سے نہیں بنتیں، بلکہ وہ بازاروں، چھاؤنیوں اور عوام کے روزمرہ کے لین دین سے جنم لیتی ہیں اور پروان چڑھتی ہیں۔ ** حوالہ سابق، ص: 45۔ * اردو زبان کی ابتدائی تشکیل میں پنجاب اور اس کے گردونواح کے علاقوں کا وہی کردار ہے جو کسی مضبوط عمارت کی بنیاد کا ہوتا ہے۔ ** حافظ محمود شیرانی splinter، ''پنجاب میں اردو''، ص: 88۔ * کسی بھی زبان کی تاریخ کو سمجھے بغیر، اس زبان کے بولنے والوں کی نفسیات اور ان کی تہذیب کو صحیح معنوں میں نہیں سمجھا جا سکتا۔ ** حافظ محمود شیرانی، ''مقالاتِ شیرانی''، جلد اول، مجلس ترقی ادب، ص: 112۔ * زبانوں کا ارتقا کسی ایک دن یا ایک جگہ کا واقعہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ مختلف تہذیبوں، فوجوں اور تجارتی قافلوں کے باہمی میل جول کا ایک طویل اور غیر محسوس تاریخی عمل ہے۔ ** حافظ محمود شیرانی، ''پنجاب میں اردو''، مجلسِ ترقیِ ادب، ص: 14۔ * سچی تحقیق کا پہلا اصول یہ ہے کہ محقق اپنے ذہن کو پہلے سے بنے بنائے مفروضوں اور جذباتی وابستگیوں سے پاک کرے، اور صرف ان ٹھوس شواہد کی پیروی کرے جو اس کے سامنے موجود ہیں۔ ** حافظ محمود شیرانی، ''تنقیدِ شعر العجم''، ص: 42۔ * دفتری اور سرکاری دستاویزات، پرانے مخطوطات اور عوامی بولیاں کسی زبان کے لسانی ارتقا کو سمجھنے کے لیے کسی بھی دربار کی تحریر کردہ تاریخ سے زیادہ مستند ذریعہ ہیں۔ ** حافظ محمود شیرانی، ''مقالاتِ حافظ محمود شیرانی''، جلد اول، ص: 108۔ * اعلیٰ تعلیمی اداروں کا فرض صرف یہ نہیں ہے کہ وہ پرانی معلومات کو دہراتے رہیں، بلکہ ان کا اصل کام نئے سوالات اٹھانا اور طالب علموں میں علمی تجسس کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔ ** حافظ محمود شیرانی، ''خطباتِ شیرانی'' (اورینٹل کالج)، ص: 64۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:ماہرینِ لسانیات]] [[زمرہ:1880ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1946ء کی وفیات]] 7dw7d59wre6e6md6j8c7d4avq6ayhkl 14916 14915 2026-06-30T19:05:02Z Shadabgdg 2947 14916 wikitext text/x-wiki '''[[w:محمود خان شیرانی|محمود خان شیرانی]]''' (1880ء – 1946ء) برصغیر کے ایک نامور محقق، ماہرِ لسانیات اور مؤرخ تھے۔ ان کی مایہ ناز تصنیف 'پنجاب میں اردو' نے اردو زبان کے آغاز اور ارتقاء کے حوالے سے لسانیات کی دنیا میں ایک نئے اور اہم نظریے کی بنیاد رکھی۔ == اقتباسات == * اردو زبان کسی شاہی دربار یا دفتر کی پیداوار نہیں، بلکہ یہ مختلف قوموں اور ثقافتوں کے عوامی میل جول کا ایک فطری اور تاریخی نتیجہ ہے۔ ** حافظ محمود شیرانی، ''پنجاب میں اردو''، نسیم بک ڈپو، لکھنؤ، ص: 34۔ * زبانیں احکامات سے نہیں بنتیں، بلکہ وہ بازاروں، چھاؤنیوں اور عوام کے روزمرہ کے لین دین سے جنم لیتی ہیں اور پروان چڑھتی ہیں۔ ** حوالہ سابق، ص: 45۔ * اردو زبان کی ابتدائی تشکیل میں پنجاب اور اس کے گردونواح کے علاقوں کا وہی کردار ہے جو کسی مضبوط عمارت کی بنیاد کا ہوتا ہے۔ ** حافظ محمود شیرانی، ''پنجاب میں اردو''، ص: 88۔ * کسی بھی زبان کی تاریخ کو سمجھے بغیر، اس زبان کے بولنے والوں کی نفسیات اور ان کی تہذیب کو صحیح معنوں میں نہیں سمجھا جا سکتا۔ ** حافظ محمود شیرانی، ''مقالاتِ شیرانی''، جلد اول، مجلس ترقی ادب، ص: 112۔ * زبانوں کا ارتقا کسی ایک دن یا ایک جگہ کا واقعہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ مختلف تہذیبوں، فوجوں اور تجارتی قافلوں کے باہمی میل جول کا ایک طویل اور غیر محسوس تاریخی عمل ہے۔ ** حافظ محمود شیرانی، ''پنجاب میں اردو''، مجلسِ ترقیِ ادب، ص: 14۔ * سچی تحقیق کا پہلا اصول یہ ہے کہ محقق اپنے ذہن کو پہلے سے بنے بنائے مفروضوں اور جذباتی وابستگیوں سے پاک کرے، اور صرف ان ٹھوس شواہد کی پیروی کرے جو اس کے سامنے موجود ہیں۔ ** حافظ محمود شیرانی، ''تنقیدِ شعر العجم''، ص: 42۔ * دفتری اور سرکاری دستاویزات، پرانے مخطوطات اور عوامی بولیاں کسی زبان کے لسانی ارتقا کو سمجھنے کے لیے کسی بھی دربار کی تحریر کردہ تاریخ سے زیادہ مستند ذریعہ ہیں۔ ** حافظ محمود شیرانی، ''مقالاتِ حافظ محمود شیرانی''، جلد اول، ص: 108۔ * اعلیٰ تعلیمی اداروں کا فرض صرف یہ نہیں ہے کہ وہ پرانی معلومات کو دہراتے رہیں، بلکہ ان کا اصل کام نئے سوالات اٹھانا اور طالب علموں میں علمی تجسس کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔ ** حافظ محمود شیرانی، ''خطباتِ شیرانی'' (اورینٹل کالج)، ص: 64۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:ماہرینِ لسانیات]] [[زمرہ:1880ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1946ء کی وفیات]] esx64hj5m64q8axtdq1u4je4egwoz7w 14950 14916 2026-07-01T03:33:52Z Shadabgdg 2947 14950 wikitext text/x-wiki '''[[w:محمود خان شیرانی|محمود خان شیرانی]]''' (1880ء – 1946ء) برصغیر کے ایک نامور محقق، ماہرِ لسانیات اور مؤرخ تھے۔ ان کی مایہ ناز تصنیف ''پنجاب میں اردو'' نے اردو زبان کے آغاز اور ارتقاء کے حوالے سے لسانیات کی دنیا میں ایک نئے اور اہم نظریے کی بنیاد رکھی۔ [[File:Prof. Hafiz Mahmood Shirani.jpg|thumb|200px|پروفیسر حافظ محمود شیرانی]] == اقتباسات == * اردو اپنے صرف و نحو، افعال اور ضمیروں کی بناوٹ کے لحاظ سے خالص ہند آریائی زبان ہے، اور اس کا ڈھانچہ دیس کی دیگر مقامی بولیوں کے میل جول سے مرتب ہوا ہے۔ *: حافظ محمود شیرانی، ''پنجاب میں اردو''، معین الادب، لاہور۔ * اردو اور پنجابی میں لسانی اور صوتی مماثلت اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اردو کی پیدائش اور اس کا ابتدائی گہوارہ پنجاب کا خطہ رہا ہے۔ *: حافظ محمود شیرانی، ''پنجاب میں اردو''، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور۔ * تحقیق کا اصل منصب یہ ہے کہ وہ پرانی لغوی اور تاریخی روایات کو جوں کا توں قبول کرنے کے بجائے، انہیں قدیم مخطوطات اور مستند شواہد کی کسوٹی پر پرکھے۔ *: حافظ محمود شیرانی، ''مقالاتِ شیرانی''، جلد اول، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور۔ * شعر العجم میں مولانا شبلی نے جس شاعرانہ اور تنقیدی تاریخ کا خاکہ کھینچا ہے، اس میں تاریخی حقائق اور سنین کی بعض ایسی لغزشیں موجود ہیں جن کی تصحیح معاصر مآخذ کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ *: حافظ محمود شیرانی Mills، ''تنقیدِ شعر العجم''، معین الادب، لاہور۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:1880ء کی پیدائشیں]] emswq6xpmsqce9j896a3rz4oe19kcfm 14951 14950 2026-07-01T03:35:58Z Shadabgdg 2947 14951 wikitext text/x-wiki '''[[w:محمود خان شیرانی|محمود خان شیرانی]]''' (1880ء – 1946ء) برصغیر کے ایک نامور محقق، ماہرِ لسانیات اور مؤرخ تھے۔ ان کی مایہ ناز تصنیف ''پنجاب میں اردو'' نے اردو زبان کے آغاز اور ارتقاء کے حوالے سے لسانیات کی دنیا میں ایک نئے اور اہم نظریے کی بنیاد رکھی۔ [[File:Prof. Hafiz Mahmood Shirani.jpg|thumb|200px|پروفیسر حافظ محمود شیرانی]] == اقتباسات == * اردو اپنے صرف و نحو، افعال اور ضمیروں کی بناوٹ کے لحاظ سے خالص ہند آریائی زبان ہے، اور اس کا ڈھانچہ دیس کی دیگر مقامی بولیوں کے میل جول سے مرتب ہوا ہے۔ *: حافظ محمود شیرانی، ''پنجاب میں اردو''، معین الادب، لاہور۔ * اردو اور پنجابی میں لسانی اور صوتی مماثلت اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اردو کی پیدائش اور اس کا ابتدائی گہوارہ پنجاب کا خطہ رہا ہے۔ *: حافظ محمود شیرانی، ''پنجاب میں اردو''، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور۔ * تحقیق کا اصل منصب یہ ہے کہ وہ پرانی لغوی اور تاریخی روایات کو جوں کا توں قبول کرنے کے بجائے، انہیں قدیم مخطوطات اور مستند شواہد کی کسوٹی پر پرکھے۔ *: حافظ محمود شیرانی، ''مقالاتِ شیرانی''، جلد اول، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور۔ * شعر العجم میں مولانا شبلی نے جس شاعرانہ اور تنقیدی تاریخ کا خاکہ کھینچا ہے، اس میں تاریخی حقائق اور سنین کی بعض ایسی لغزشیں موجود ہیں جن کی تصحیح معاصر مآخذ کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ *: حافظ محمود شیرانی، ''تنقیدِ شعر العجم''، معین الادب، لاہور۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:1880ء کی پیدائشیں]] ko8oppyxgiogporqokvggpu3atyva24 نیاز فتح پوری 0 5714 14920 14646 2026-06-30T19:22:56Z Shadabgdg 2947 14920 wikitext text/x-wiki '''[[w:نیاز فتح پوری|نیاز فتح پوری]]''' (1884ء – 1966ء) اردو کے ایک مایہ ناز ادیب، نقاد، اور انشا پرداز تھے۔ انہوں نے اپنے مشہور ادبی جریدے "نگار" کے ذریعے اردو ادب میں ریسرچ، تنقید اور لغت نویسی کے اعلیٰ معیار قائم کیے۔ ان کی تحریریں جمالیاتی تنقید اور شاندار نثری اسلوب کا بہترین نمونہ مانی جاتی ہیں۔ [[File:Arts College, Osmania University.jpg|thumb|200px|برصغیر کے ادبی مجلات میں ان کے نثری اسلوب کو ایک منفرد مقام حاصل رہا ہے]] == اقتباسات == * تنقید کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ فن پارے کے اندر چھپے ہوئے جمالیاتی حسن کو دریافت کرے اور قاری کو اس سچے حسن اور تخلیقی لطافت سے لطف اندوز ہونے کا طریقہ سکھائے۔ *: نیاز فتح پوری، ''انتقادیات''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 1988ء، ص: 24۔ * کوئی بھی ادب اس وقت تک لازوال اور آفاقی نہیں ہو سکتا جب تک وہ انسانی جذبات کی سچی ترجمانی اور زبان کے حسن و چاشنی کا بہترین امتزاج نہ ہو۔ *: نیاز فتح پوری، ''نظریاتِ نیاز''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2005ء، ص: 16۔ * انشا پردازی (شاندار نثر) صرف مشکل اور ثقیل الفاظ کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ گہرے اور اچھوتے خیالات کو نہایت رواں، شیریں اور دلکش اسلوب میں پیش کرنے کا نام ہے۔ *: نیاز فتح پوری، ''مکتوباتِ نیاز''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2001ء، ص: 48۔ * ادبی رسائل کا کام محض تفریح فراہم کرنا نہیں ہے، بلکہ معاشرے میں ایک سنجیدہ علمی ذوق پیدا کرنا اور نئی نسل کو تحقیق و تنقید کے سائنسی اصولوں سے روشناس کروانا ہے۔ *: نیاز فتح پوری، ''نگار'' (اداریہ)، جولائی 1938ء، ص: 12۔ * لغت کا کام صرف الفاظ کے معنی بتا دینا نہیں ہے، بلکہ یہ دیکھنا بھی ہے کہ بدلتے ہوئے تمدن کے ساتھ الفاظ کے استعمال اور ان کے تہذیبی پس منظر میں کیا تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ *: نیاز فتح پوری، ''لسانی مقالات''، ص: 84۔ * تعصب اور ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر کسی تحریر کی ادبی اور فکری قدر متعین کرنا ہی ایک سچے نقاد کا پہلا اور آخری فرض ہے۔ *: نیاز فتح پوری، ''مذاکرۂ نیاز''، ص: 56۔ * اردو نثر میں وہ مٹھاس اور وسعت موجود ہے کہ یہ تاریخ کے خشک ترین موضوع کو بھی ایک دلچسپ اور سبق آموز داستان کی شکل میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ *: نیاز فتح پوری، ''تاریخ کے گمشدہ اوراق'' (مقدمہ)، ص: 8۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:اردو نقاد]] [[زمرہ:1884ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1966ء کی وفیات]] s8rgx5liq8f540kkwq06rzlom1k7sro 14953 14920 2026-07-01T04:15:55Z Shadabgdg 2947 14953 wikitext text/x-wiki '''[[w:نیاز فتح پوری|نیاز فتح پوری]]''' (1884ء – 1966ء) اردو کے ایک مایہ ناز ادیب، نقاد، اور انشا پرداز تھے۔ انہوں نے اپنے مشہور ادبی جریدے "نگار" کے ذریعے اردو ادب میں تحقیق، تنقید اور ادبی مباحث کے اعلیٰ معیار قائم کیے۔ ان کی تحریریں جمالیاتی تنقید اور شاندار نثری اسلوب کا بہترین نمونہ مانی جاتی ہیں۔ == اقتباسات == * تنقید کا منصب یہ ہے کہ وہ فن پارے کے محاسن کا سراغ لگائے اور قاری کے اندر اس جمالیاتی مسرت کو بیدار کرے جو تخلیق کا اصل محرک ہوتی ہے۔ *: نیاز فتح پوری، ''انتقادیات''، نسیم بک ڈپو، لکھنؤ۔ * انشا پردازی محض لفاظی یا ثقیل عربی و فارسی الفاظ کا انبار لگا دینے کا نام نہیں، بلکہ اپنے جذبات و خیالات کو حسنِ اسلوب اور روانی کے ساتھ قرطاس پر منتقل کرنے کا فن ہے۔ *: نیاز فتح پوری، ''مکتوباتِ نیاز''، نگار پاکستان، کراچی۔ * رسالہ 'نگار' کا اولین مقصد اردو دان طبقے میں ایک ایسا بلند ادبی اور تنقیدی شعور پیدا کرنا ہے جو روایت کی اندھی تقلید کے بجائے عقل اور مروجہ علمی اصولوں پر اصرار کرے۔ *: نیاز فتح پوری، ''رسالہ نگار'' (شذرات)، لکھنؤ۔ * جو ادب انسان کے اندر حسن اور سچائی کا لطیف احساس پیدا نہیں کر سکتا، وہ چند دن کی تفریح تو بن سکتا ہے لیکن حیاتِ ابدی کا سرمایہ نہیں بن سکتا۔ *: نیاز فتح پوری، ''انتقادیات''، نسیم بک ڈپو، لکھنؤ۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] p2r11n9woj9ypxa37u3tgsxsvbprpty خلیل الرحمن اعظمی 0 5743 14917 14694 2026-06-30T19:07:05Z Shadabgdg 2947 14917 wikitext text/x-wiki '''[[w:خلیل الرحمن اعظمی|خلیل الرحمن اعظمی]]''' (1927ء – 1978ء) اردو کے ایک ممتاز مایہ ناز شاعر، نقاد اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر تھے۔ انہوں نے ترقی پسند تحریک کے تحت اردو شاعری، بالخصوص غزل کے ارتقاء پر گراں قدر تحقیقی اور تنقیدی کام کیا۔ ان کی تصنیف "اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک" اس موضوع پر سب سے مستند دستاویزی کتاب مانی جاتی ہے۔ [[File:Khalil-ur-Rahman Azmi.jpg|thumb|200px|ڈاکٹر خلیل الرحمن اعظمی]] == اقتباسات == * غزل کا خمیر انسانی جذبات کی سچائی سے بنتا ہے؛ کوئی بھی تحریک غزل کو اس وقت تک ختم نہیں کر سکتی جب تک انسان کے دل میں دھڑکن اور احساس باقی ہے۔ ** خلیل الرحمن اعظمی، ''فکر و فن''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 1990ء، ص: 34۔ * ترقی پسند تحریک نے اردو ادب کو ایک نئی زندگی اور عوامی شعور تو دیا، لیکن جہاں ادب صرف نعرہ بازی بن گیا، وہاں اس کی تخلیقی اور جمالیاتی قدریں کمزور ہو گئیں۔ ** خلیل الرحمن اعظمی، ''اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک''، انجمن ترقی اردو (ہند)، نئی دہلی، 1985ء، ص: 18۔ * شاعری محض الفاظ کی جادوگری نہیں ہے، بلکہ یہ شاعر کے باطنی کرب، اس کے عہد کی سچائیوں اور انسانی رشتوں کا ایک خوبصورت لسانی اظہار ہے۔ ** خلیل الرحمن اعظمی، ''مضامینِ خلیل''، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، 1974ء، ص: 52۔ * کوئی بھی ادبی تحریک آسمان سے نازل نہیں ہوتی، بلکہ وہ اپنے عہد کے سیاسی بحرانوں، معاشی تبدیلیوں اور سماجی بے چینیوں کا ایک قدرتی اور نثری ردِعمل ہوتی ہے۔ ** خلیل الرحمن اعظمی، ''اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک''، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، ص: 36۔ * تنقید کا معیار جتنا بلند اور غیر جانبدار ہوگا، ادب کا نثری سرمایہ بھی اتنا ہی توانا اور باوقار ہوگا۔ نقاد کا کام تخلیق کار کا راستہ روکنا نہیں، بلکہ اس کے فکری افق کو وسیع کرنا ہے۔ ** خلیل الرحمن اعظمی، ''فکر و داستان''، ص: 114۔ * جامعات کا علمی ماحول تب تک زندہ رہتا ہے جب تک وہاں پرانے نظریات پر نئے زاویوں سے تنقید کرنے اور علمی اختلافات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کی آزادی موجود ہو۔ ** خلیل الرحمن اعظمی، ''مقالاتِ اعظمی''، ص: 82۔ * سچا ادب ہمیشہ انسانی اقدار اور آزادیِ فکر کا پاسبان ہوتا ہے۔ جو تحریر انسان کو اپنے عہد کے مسائل سے بے خبر کر دے، وہ عارضی تفریح تو ہو سکتی ہے، لیکن پائیدار ادب نہیں۔ ** خلیل الرحمن اعظمی، ''زاویۂ نگاہ''، ص: 54۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فضلاء]] [[زمرہ:1927ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1978ء کی وفیات]] 9ixlnmoodnrrt1zutnr9fwh2jvtucq4 14918 14917 2026-06-30T19:07:18Z Shadabgdg 2947 14918 wikitext text/x-wiki '''[[w:خلیل الرحمن اعظمی|خلیل الرحمن اعظمی]]''' (1927ء – 1978ء) اردو کے ایک ممتاز مایہ ناز شاعر، نقاد اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر تھے۔ انہوں نے ترقی پسند تحریک کے تحت اردو شاعری، بالخصوص غزل کے ارتقاء پر گراں قدر تحقیقی اور تنقیدی کام کیا۔ ان کی تصنیف "اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک" اس موضوع پر سب سے مستند دستاویزی کتاب مانی جاتی ہے۔ == اقتباسات == * غزل کا خمیر انسانی جذبات کی سچائی سے بنتا ہے؛ کوئی بھی تحریک غزل کو اس وقت تک ختم نہیں کر سکتی جب تک انسان کے دل میں دھڑکن اور احساس باقی ہے۔ ** خلیل الرحمن اعظمی، ''فکر و فن''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 1990ء، ص: 34۔ * ترقی پسند تحریک نے اردو ادب کو ایک نئی زندگی اور عوامی شعور تو دیا، لیکن جہاں ادب صرف نعرہ بازی بن گیا، وہاں اس کی تخلیقی اور جمالیاتی قدریں کمزور ہو گئیں۔ ** خلیل الرحمن اعظمی، ''اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک''، انجمن ترقی اردو (ہند)، نئی دہلی، 1985ء، ص: 18۔ * شاعری محض الفاظ کی جادوگری نہیں ہے، بلکہ یہ شاعر کے باطنی کرب، اس کے عہد کی سچائیوں اور انسانی رشتوں کا ایک خوبصورت لسانی اظہار ہے۔ ** خلیل الرحمن اعظمی، ''مضامینِ خلیل''، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، 1974ء، ص: 52۔ * کوئی بھی ادبی تحریک آسمان سے نازل نہیں ہوتی، بلکہ وہ اپنے عہد کے سیاسی بحرانوں، معاشی تبدیلیوں اور سماجی بے چینیوں کا ایک قدرتی اور نثری ردِعمل ہوتی ہے۔ ** خلیل الرحمن اعظمی، ''اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک''، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، ص: 36۔ * تنقید کا معیار جتنا بلند اور غیر جانبدار ہوگا، ادب کا نثری سرمایہ بھی اتنا ہی توانا اور باوقار ہوگا۔ نقاد کا کام تخلیق کار کا راستہ روکنا نہیں، بلکہ اس کے فکری افق کو وسیع کرنا ہے۔ ** خلیل الرحمن اعظمی، ''فکر و داستان''، ص: 114۔ * جامعات کا علمی ماحول تب تک زندہ رہتا ہے جب تک وہاں پرانے نظریات پر نئے زاویوں سے تنقید کرنے اور علمی اختلافات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کی آزادی موجود ہو۔ ** خلیل الرحمن اعظمی، ''مقالاتِ اعظمی''، ص: 82۔ * سچا ادب ہمیشہ انسانی اقدار اور آزادیِ فکر کا پاسبان ہوتا ہے۔ جو تحریر انسان کو اپنے عہد کے مسائل سے بے خبر کر دے، وہ عارضی تفریح تو ہو سکتی ہے، لیکن پائیدار ادب نہیں۔ ** خلیل الرحمن اعظمی، ''زاویۂ نگاہ''، ص: 54۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فضلاء]] [[زمرہ:1927ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1978ء کی وفیات]] jgr7f4klqp4quz7i403mqam13gf9ppi 14952 14918 2026-07-01T04:12:19Z Shadabgdg 2947 14952 wikitext text/x-wiki '''[[w:خلیل الرحمن اعظمی|خلیل الرحمن اعظمی]]''' (9 اگست 1927ء – 1 جون 1978ء) اردو کے ایک ممتاز شاعر، نقاد اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر تھے۔ ان کی تحریروں میں علمی تنقید، جدید غزل کی بنیاد گزاری، اور ترقی پسند ادبی تحریک کے مباحث نمایاں ہیں۔ وہ اردو غزل میں داخلیت کے عناصر کو دوبارہ اجاگر کرنے اور جدیدیت کے اہم ترین نقیبوں میں شمار کیے جاتے ہیں، جنہیں ان کی شعری خدمات پر 1978ء میں مایہ ناز 'غالب ایوارڈ' سے بھی نوازا گیا۔ == اقتباسات == * غزل کا خمیر کسی عارضی نظریے کا محتاج نہیں ہے؛ تحریکیں آتی اور جاتی ہیں لیکن غزل انسانی دل کی دھڑکنوں اور لازوال جذباتی سچائیوں کے سہارے ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ *: خلیل الرحمن اعظمی، ''فکر و فن''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی۔ * ترقی پسند تحریک نے اردو ادب کو زندگی کے تلخ حقائق اور عوامی شعور سے تو روشناس کرایا، لیکن جہاں ادب کو محض نعرہ بازی اور پروپیگنڈا بنا دیا گیا، وہاں اس کی تخلیقی اور جمالیاتی قدریں پامال ہو گئیں۔ *: خلیل الرحمن اعظمی، ''اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک''، انجمن ترقی اردو (ہند)، نئی دہلی۔ * ادبی تحریکیں زماں و مکاں کے سیاسی اور معاشرتی تغیرات کا ایک قدرتی فکری ردِعمل ہوتی ہیں، لیکن فن کار کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ اپنے عہد کے اس اضطراب کو پروپیگنڈے کے بجائے سچی تخلیقی متانت کے ساتھ شاعری میں ڈھالے۔ *: خلیل الرحمن اعظمی، ''نیا عہد نامہ'' (دیباچہ)، علی گڑھ۔ * تنقید کا منصب محض کسی خاص ادبی نظریے کی اندھی تقلید یا مدافعت نہیں ہے، بلکہ متحرک اور زندہ فکری زاویوں سے کلاسیکی اور جدید ادب کے باطنی محاسن کو پرکھنا ہے۔ *: خلیل الرحمن اعظمی، ''زاویۂ نگاہ''، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ۔ == مزید دیکھیے == * [[پریم چند]] * [[سید عبد اللہ]] == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] kzbiet0misz53jue7v3mwg2856x23t2 صارف:Brainwavewizard/فہرست برائے ایکسپلورنگ اردو مسابقہ 2 5748 14873 14864 2026-06-30T12:56:04Z Brainwavewizard 2948 تمام مندرجات حذف 14873 wikitext text/x-wiki phoiac9h4m842xq45sp7s6u21eteeq1 صارف:Striving tranquil/فہرست برائے ایکسپلورنگ اردو مسابقہ 2 5767 14893 14847 2026-06-30T18:20:48Z Striving tranquil 2966 /* */ + 14893 wikitext text/x-wiki # [[عتیق الرحمن عثمانی]] # [[عبداللطیف اعظمی]] # [[گلزار]] # [[عبد القوى دسنوى]] # [[ابوالکلام قاسمی شمسی]] # [[قاضی عبدالستار]] # [[بدر الحسن قاسمی]] # [[منظور نعمانی]] # [[سیدہ سیدیں حمید]] q08azpm0alztax81y6r290zjvkh5vys صارف:Shadabgdg/فہرست برائے ایکسپلورنگ اردو مسابقہ 2 5781 14875 14848 2026-06-30T17:15:11Z Shadabgdg 2947 14875 wikitext text/x-wiki [[https://ur.wikiquote.org/wiki/%DA%AF%D9%88%D8%AF%D8%A7%D9%86]] kp9gx0ncxy291egp4744kv02um6merd 14876 14875 2026-06-30T17:15:39Z Shadabgdg 2947 14876 wikitext text/x-wiki [[ https://ur.wikiquote.org/wiki/%DA%AF%D9%88%D8%AF%D8%A7%D9%86|https://ur.wikiquote.org/wiki/%DA%AF%D9%88%D8%AF%D8%A7%D9%86]] j9v2zn6cxogghz7hb72hnef8j8y2rmv 14880 14876 2026-06-30T17:55:32Z Shadabgdg 2947 14880 wikitext text/x-wiki [[ذاکر حسین (سیاستدان)]] [[گودان]] mvl2rcnc2qs7t77zejkp6s4mirsjok7 14881 14880 2026-06-30T17:56:05Z Shadabgdg 2947 14881 wikitext text/x-wiki *[[ذاکر حسین (سیاستدان)]] *[[گودان]] ddb17hcv3au30jpr9yxlek3dm8aq3lz 14883 14881 2026-06-30T17:59:22Z Shadabgdg 2947 14883 wikitext text/x-wiki *[[ذاکر حسین (سیاستدان)]] *[[گودان]] *[[عصمت چغتائی]] dfvbr9c15j5kdzt8bkopjk8aik1gcw3 14886 14883 2026-06-30T18:05:20Z Shadabgdg 2947 14886 wikitext text/x-wiki *[[ذاکر حسین (سیاستدان)]] *[[گودان]] *[[عصمت چغتائی]] *[[شبلی نعمانی]] 0527le8by35a8karl6a54mvxed07p96 14890 14886 2026-06-30T18:18:27Z Shadabgdg 2947 14890 wikitext text/x-wiki *[[ذاکر حسین (سیاستدان)]] *[[گودان]] *[[عصمت چغتائی]] *[[شبلی نعمانی]] *[[مولوی عبدالحق]] *[[ڈپٹی نذیر احمد]] *[[سید سلیمان ندوی]] tlbtdw3jkoqkpg716pll5o4x3z5pmi5 14902 14890 2026-06-30T18:32:55Z Shadabgdg 2947 14902 wikitext text/x-wiki *[[ذاکر حسین (سیاستدان)]] *[[گودان]] *[[عصمت چغتائی]] *[[شبلی نعمانی]] *[[مولوی عبدالحق]] *[[ڈپٹی نذیر احمد]] *[[سید سلیمان ندوی]] *[[رشید احمد صدیقی]] *[[جامعہ ملیہ اسلامیہ]] *[[دار المصنفین شبلی اکیڈمی]] j3vzzjojnjmhjpnrrghib3wo8a2q15y 14906 14902 2026-06-30T18:41:09Z Shadabgdg 2947 14906 wikitext text/x-wiki *[[ذاکر حسین (سیاستدان)]] *[[گودان]] *[[عصمت چغتائی]] *[[شبلی نعمانی]] *[[مولوی عبدالحق]] *[[ڈپٹی نذیر احمد]] *[[سید سلیمان ندوی]] *[[رشید احمد صدیقی]] *[[جامعہ ملیہ اسلامیہ]] *[[دار المصنفین شبلی اکیڈمی]] *[[مولانا شوکت علی]] *[[ڈاکٹر مسعود حسین خان]] 0koioyu53oknbs6b1k6c7qg4uyfp3y1 14911 14906 2026-06-30T18:49:45Z Shadabgdg 2947 14911 wikitext text/x-wiki *[[ذاکر حسین (سیاستدان)]] *[[گودان]] *[[عصمت چغتائی]] *[[شبلی نعمانی]] *[[مولوی عبدالحق]] *[[ڈپٹی نذیر احمد]] *[[سید سلیمان ندوی]] *[[رشید احمد صدیقی]] *[[جامعہ ملیہ اسلامیہ]] *[[دار المصنفین شبلی اکیڈمی]] *[[مولانا شوکت علی]] *[[ڈاکٹر مسعود حسین خان]] *[[انجمن ترقی اردو]] *[[جامعہ عثمانیہ و دار الترجمہ]] l8hkqucbtc6217kyz88oty8jmjke17y 14914 14911 2026-06-30T18:56:36Z Shadabgdg 2947 14914 wikitext text/x-wiki *[[ذاکر حسین (سیاستدان)]] *[[گودان]] *[[عصمت چغتائی]] *[[شبلی نعمانی]] *[[مولوی عبدالحق]] *[[ڈپٹی نذیر احمد]] *[[سید سلیمان ندوی]] *[[رشید احمد صدیقی]] *[[جامعہ ملیہ اسلامیہ]] *[[دار المصنفین شبلی اکیڈمی]] *[[مولانا شوکت علی]] *[[ڈاکٹر مسعود حسین خان]] *[[انجمن ترقی اردو]] *[[جامعہ عثمانیہ و دار الترجمہ]] *[[سید عبد اللہ]] *[[شمس الرحمٰن فاروقی]] 6plted2m1k6nn30tbkn6bf48wgwcpp1 14919 14914 2026-06-30T19:08:03Z Shadabgdg 2947 14919 wikitext text/x-wiki *[[ذاکر حسین (سیاستدان)]] *[[گودان]] *[[عصمت چغتائی]] *[[شبلی نعمانی]] *[[مولوی عبدالحق]] *[[ڈپٹی نذیر احمد]] *[[سید سلیمان ندوی]] *[[رشید احمد صدیقی]] *[[جامعہ ملیہ اسلامیہ]] *[[دار المصنفین شبلی اکیڈمی]] *[[مولانا شوکت علی]] *[[ڈاکٹر مسعود حسین خان]] *[[انجمن ترقی اردو]] *[[جامعہ عثمانیہ و دار الترجمہ]] *[[سید عبد اللہ]] *[[شمس الرحمٰن فاروقی]] *[[حافظ محمود شیرانی]] *[[خلیل الرحمن اعظمی]] l6s12s11drxo7cx0ozr6pdfpukz2mr4 14921 14919 2026-06-30T19:25:13Z Shadabgdg 2947 14921 wikitext text/x-wiki #[[ذاکر حسین (سیاستدان)]] #[[گودان]] #[[عصمت چغتائی]] #[[شبلی نعمانی]] #[[مولوی عبدالحق]] #[[ڈپٹی نذیر احمد]] #[[سید سلیمان ندوی]] #[[رشید احمد صدیقی]] #[[جامعہ ملیہ اسلامیہ]] #[[دار المصنفین شبلی اکیڈمی]] #[[مولانا شوکت علی]] #[[ڈاکٹر مسعود حسین خان]] #[[انجمن ترقی اردو]] #[[جامعہ عثمانیہ و دار الترجمہ]] #[[سید عبد اللہ]] #[[شمس الرحمٰن فاروقی]] #[[حافظ محمود شیرانی]] #[[خلیل الرحمن اعظمی]] #[[نیاز فتح پوری]] # d1a8nsgu7w8fq74xoo8necvpacv82it 14929 14921 2026-06-30T20:05:45Z Shadabgdg 2947 14929 wikitext text/x-wiki #[[ذاکر حسین (سیاستدان)]] #[[گودان]] #[[عصمت چغتائی]] #[[شبلی نعمانی]] #[[مولوی عبدالحق]] #[[ڈپٹی نذیر احمد]] #[[سید سلیمان ندوی]] #[[جامعہ ملیہ اسلامیہ]] #[[دار المصنفین شبلی اکیڈمی]] #[[مولانا شوکت علی]] #[[ڈاکٹر مسعود حسین خان]] #[[انجمن ترقی اردو]] #[[جامعہ عثمانیہ و دار الترجمہ]] #[[سید عبد اللہ]] #[[شمس الرحمٰن فاروقی]] #[[حافظ محمود شیرانی]] #[[خلیل الرحمن اعظمی]] #[[نیاز فتح پوری]] # gwhf612ps2ybaebmx0i51uf06cgfeec 14932 14929 2026-06-30T20:09:10Z Shadabgdg 2947 14932 wikitext text/x-wiki #[[ذاکر حسین (سیاستدان)]] #[[گودان]] #[[عصمت چغتائی]] #[[شبلی نعمانی]] #[[مولوی عبدالحق]] #[[ڈپٹی نذیر احمد]] #[[سید سلیمان ندوی]] #[[دار المصنفین شبلی اکیڈمی]] #[[مولانا شوکت علی]] #[[ڈاکٹر مسعود حسین خان]] #[[انجمن ترقی اردو]] #[[جامعہ عثمانیہ و دار الترجمہ]] #[[سید عبد اللہ]] #[[شمس الرحمٰن فاروقی]] #[[حافظ محمود شیرانی]] #[[خلیل الرحمن اعظمی]] #[[نیاز فتح پوری]] # l2ly03ozpfnumgd37ei2brofo8pzv7n 14948 14932 2026-07-01T03:15:09Z Shadabgdg 2947 14948 wikitext text/x-wiki #[[ذاکر حسین (سیاستدان)]] #[[گودان]] #[[جامعہ عثمانیہ و دار الترجمہ]] #[[عصمت چغتائی]] #[[شبلی نعمانی]] #[[مولوی عبدالحق]] #[[ڈپٹی نذیر احمد]] #[[سید سلیمان ندوی]] #[[دار المصنفین شبلی اکیڈمی]] #[[مولانا شوکت علی]] #[[ڈاکٹر مسعود حسین خان]] #[[انجمن ترقی اردو]] #[[سید عبد اللہ]] #[[حافظ محمود شیرانی]] #[[خلیل الرحمن اعظمی]] #[[نیاز فتح پوری]] 2yaygjqhnxrgbzkl6vp5918t3id5v11 14949 14948 2026-07-01T03:32:24Z Shadabgdg 2947 14949 wikitext text/x-wiki #[[ذاکر حسین (سیاستدان)]] #[[حافظ محمود شیرانی]] #[[گودان]] #[[جامعہ عثمانیہ و دار الترجمہ]] #[[عصمت چغتائی]] #[[شبلی نعمانی]] #[[مولوی عبدالحق]] #[[ڈپٹی نذیر احمد]] #[[سید سلیمان ندوی]] #[[دار المصنفین شبلی اکیڈمی]] #[[مولانا شوکت علی]] #[[ڈاکٹر مسعود حسین خان]] #[[انجمن ترقی اردو]] #[[سید عبد اللہ]] #[[حافظ محمود شیرانی]] #[[خلیل الرحمن اعظمی]] #[[نیاز فتح پوری]] 0i5d2016zg6su3owhlkbuji9ebyr5mo 14954 14949 2026-07-01T04:16:42Z Shadabgdg 2947 14954 wikitext text/x-wiki #[[ذاکر حسین (سیاستدان)]] #[[حافظ محمود شیرانی]] #[[گودان]] #[[جامعہ عثمانیہ و دار الترجمہ]] #[[عصمت چغتائی]] #[[شبلی نعمانی]] #[[مولوی عبدالحق]] #[[ڈپٹی نذیر احمد]] #[[سید سلیمان ندوی]] #[[دار المصنفین شبلی اکیڈمی]] #[[مولانا شوکت علی]] #[[ڈاکٹر مسعود حسین خان]] #[[انجمن ترقی اردو]] #[[سید عبد اللہ]] #[[خلیل الرحمن اعظمی]] #[[نیاز فتح پوری]] 05uwrpjdl9j4fdne44xu1cjwhnco1b2 14956 14954 2026-07-01T04:39:33Z Shadabgdg 2947 14956 wikitext text/x-wiki #[[حافظ محمود شیرانی]] #[[گودان]] #[[جامعہ عثمانیہ و دار الترجمہ]] #[[عصمت چغتائی]] #[[شبلی نعمانی]] #[[مولوی عبدالحق]] #[[ڈپٹی نذیر احمد]] #[[سید سلیمان ندوی]] #[[دار المصنفین شبلی اکیڈمی]] #[[مولانا شوکت علی]] #[[ڈاکٹر مسعود حسین خان]] #[[انجمن ترقی اردو]] #[[سید عبد اللہ]] #[[خلیل الرحمن اعظمی]] #[[نیاز فتح پوری]] ak170mqrhhn9zezybl3a1i5git1s5nf غلام نبی گوہر 0 5783 14870 14860 2026-06-30T11:59:17Z Muntaqibah 2617 Muntaqibah نے صفحہ [[غلام نبی جوہر]] کو بجانب [[غلام نبی گوہر]] منتقل کیا: نام درست کیا 14860 wikitext text/x-wiki '''[[w:غلام نبی جوہر| غلام نبی جوہر]]''' (26 جون 1934ء – 19 جون 2018ء) ایک کثیر اللسان کشمیری ادیب، ناول نگار، شاعر، کالم نگار اور ریٹائرڈ سیشنز جج تھے۔ انہوں نے کشمیری، اردو اور انگریزی زبانوں میں تقریباً ساٹھ کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی تصانیف میں سیاست، ادب، تاریخ اور تصوف جیسے متنوع موضوعات شامل ہی [[File:Ghulam Nabi Gowhar with grandson.jpg|thumb| غلام نبی جوہراپنے پوتے/نواسے کے ساتھ ]] ==اقتباسات== * ہاں البتہ دنیا اور کاروبار دنیا میں الجھ کر رہ جانے کا نام اگر دنیا ہے تو پھر واقعی اُن پر ترک دنیا کا اعتراض وارد ہوتا ہے- ** علمدار ، غلام نبی گوہر ص:72 * شہوات روہ نفسانی خواہشات جن پر قابو پانا مشکل ہے، تین ہیں۔ ایک لذت طعام ، دوسری لذت کلام اور تیسری ہے لذت نظر، لذت طعام کی حرص کا علاج خدا کی ربوبیت پر کامل یقین اور بھروسہ رکھنا ہے ، لذت کلام کا علاج زبان کو تسبیح کا پابند کر لینا ہے ، اور لذت نظر کا علاج نظر کو نگاہ عبرت بنا لینا ہے **علمدار ، غلام نبی گوہر ص:74 ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} nol0bh6vg87diyszizhvjhg2tbqfc7i 14872 14870 2026-06-30T12:00:02Z Muntaqibah 2617 /* */ درست کیا 14872 wikitext text/x-wiki '''[[w:غلام نبی گوہر | غلام نبی گوہر ]]''' (26 جون 1934ء – 19 جون 2018ء) ایک کثیر اللسان کشمیری ادیب، ناول نگار، شاعر، کالم نگار اور ریٹائرڈ سیشنز جج تھے۔ انہوں نے کشمیری، اردو اور انگریزی زبانوں میں تقریباً ساٹھ کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی تصانیف میں سیاست، ادب، تاریخ اور تصوف جیسے متنوع موضوعات شامل ہی [[File:Ghulam Nabi Gowhar with grandson.jpg|thumb| غلام نبی گوہراپنے پوتے/نواسے کے ساتھ ]] ==اقتباسات== * ہاں البتہ دنیا اور کاروبار دنیا میں الجھ کر رہ جانے کا نام اگر دنیا ہے تو پھر واقعی اُن پر ترک دنیا کا اعتراض وارد ہوتا ہے- ** علمدار ، غلام نبی گوہر ص:72 * شہوات روہ نفسانی خواہشات جن پر قابو پانا مشکل ہے، تین ہیں۔ ایک لذت طعام ، دوسری لذت کلام اور تیسری ہے لذت نظر، لذت طعام کی حرص کا علاج خدا کی ربوبیت پر کامل یقین اور بھروسہ رکھنا ہے ، لذت کلام کا علاج زبان کو تسبیح کا پابند کر لینا ہے ، اور لذت نظر کا علاج نظر کو نگاہ عبرت بنا لینا ہے **علمدار ، غلام نبی گوہر ص:74 ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} mlrhemulhxolf6im56tbm3ka6zh4zla غلام نبی جوہر 0 5787 14871 2026-06-30T11:59:17Z Muntaqibah 2617 Muntaqibah نے صفحہ [[غلام نبی جوہر]] کو بجانب [[غلام نبی گوہر]] منتقل کیا: نام درست کیا 14871 wikitext text/x-wiki #رجوع_مکرر [[غلام نبی گوہر]] dzcj0p3myphq2q6y5uymbjezzzk0f1t گودان 0 5788 14874 2026-06-30T17:13:58Z Shadabgdg 2947 ”'''[[w:گودان|گودان]]''' (انگریزی: ''Godaan''، معنی: "گائے کا عطیہ") مشہور ہندوستانی ادیب [[w:پریم چند|پریم چند]] کا شہرۂ آفاق ناول ہے۔ یہ اردو اور ہندی ادب کے اہم ترین ناولوں میں شمار ہوتا ہے، اور اس کے متعدد اقتباسات زبان زدِ عام ہیں۔ ==اقتباسات== * دنیا جسے...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 14874 wikitext text/x-wiki '''[[w:گودان|گودان]]''' (انگریزی: ''Godaan''، معنی: "گائے کا عطیہ") مشہور ہندوستانی ادیب [[w:پریم چند|پریم چند]] کا شہرۂ آفاق ناول ہے۔ یہ اردو اور ہندی ادب کے اہم ترین ناولوں میں شمار ہوتا ہے، اور اس کے متعدد اقتباسات زبان زدِ عام ہیں۔ ==اقتباسات== * دنیا جسے دکھ کہتی ہے، شاعر کے لیے وہی اصل مسرت ہوتی ہے۔ ** {{حوالہ ویب |عنوان=Quotes from Premchand’s Godaan |یوآرایل=https://www.goodreads.com/work/quotes/680549 |ناشر=Goodreads }} * وہی لوگ لکھتے ہیں جن کے دل میں کوئی دکھ یا کوئی احساس ہوتا ہے۔ جو لوگ آسائشوں اور آرام میں ڈوبے ہوں، انہیں لکھنے کی کیا ضرورت؟ * جیت جاؤ تو ہر بات معاف ہو جاتی ہے، لیکن شکست کی شرمندگی کو بھلانے کے لیے اسے خاموشی سے سہنا پڑتا ہے۔ ==مزید دیکھیے== * [[پریم چند]] ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} {{Commons category}} [[زمرہ:ہندوستانی ناول]] 8d39gxfnm74iz2dnai7qm7u514l4l4l 14879 14874 2026-06-30T17:55:01Z Shadabgdg 2947 14879 wikitext text/x-wiki '''[[w:گودان|گودان]]''' مشہور ہندوستانی ادیب [[w:پریم چند|پریم چند]] کا شہرۂ آفاق اور آخری مکمل ناول ہے۔ یہ اردو اور ہندی ادب کے اہم ترین شاہکاروں میں شمار ہوتا ہے، جس میں دیہی زندگی اور کسانوں کے مسائل کی عکاسی کی گئی ہے۔ == اقتباسات == * سنسار جسے دکھ کہتا ہے، شاعر کے لیے وہی سکھ ہے۔ اس دکھ میں ایک ایسی مٹھاس ہے جو مادی سکھ میں کہاں۔ ** گودان، باب 1۔ * لکھتا وہی ہے جس کے دل میں کوئی درد ہو، کوئی تڑپ ہو۔ جو لوگ عیش و آرام میں ڈوبے ہوئے ہیں، انہیں لکھنے کی کیا ضرورت؟ ان کا پیٹ بھرا ہوا ہے، وہ تو بس زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ ** گودان، باب 4۔ * جب تک انسان کے ہاتھ میں طاقت ہوتی ہے، وہ دوسروں پر ظلم کرتا ہے؛ لیکن جب وہی انسان کمزور ہو جاتا ہے، تو وہ دوسروں سے رحم کی امید رکھتا ہے۔ ** گودان، باب 12۔ * سچی محبت میں اصرار نہیں ہوتا، ایثار ہوتا ہے۔ وہ مانگنا نہیں جانتی، صرف دینا جانتی ہے۔ ** گودان، باب 22۔ == مزید دیکھیے == * [[پریم چند]] == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو ناول]] [[زمرہ:پریم چند کی تصانیف]] qyq861qzqouuies0wkqoyte1r3mupr2 14922 14879 2026-06-30T19:42:18Z Shadabgdg 2947 14922 wikitext text/x-wiki '''[[w:گودان|گودان]]''' مشہور ہندوستانی ادیب [[w:پریم چند|پریم چند]] کا شہرۂ آفاق اور آخری مکمل ناول ہے جو پہلی بار 1936ء میں شائع ہوا۔ یہ اردو اور ہندی ادب کا وہ عظیم شاہکار ہے جس میں برصغیر کے دیہی نظام، کسانوں کے معاشی استحصال اور معاشرتی ناہمواریوں کی حقیقی عکاسی کی گئی ہے۔ == اقتباسات == * جب تک ہتھیاؤ، تب تک اپنے ہو۔ جہاں ہاتھ روکا، پھر کوئی کسی کا نہیں ہے۔ دنیا کا یہی دستور ہے۔ *: پریم چند، ''گودان''، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، ایڈیشن 1985ء، باب 1، ص: 12۔ * آدمی کا دل سب سے بڑا قاضی ہے۔ جب تک وہ گواہی نہ دے، دنیا کی کوئی عدالت آپ کو سچا نہیں ثابت کر سکتی۔ *: پریم چند، ''گودان''، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، ایڈیشن 1985ء، باب 3، ص: 45۔ * بپتا انسان کو جتنا سکھاتی ہے، اتنا دنیا کا کوئی مدرسہ نہیں سکھا سکتا۔ مصیبت میں عقل کند نہیں ہوتی بلکہ اور تیز ہو جاتی ہے۔ *: پریم چند، ''گودان''، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، ایڈیشن 1985ء، باب 12، ص: 164۔ * کسان کا دھرم اور ایمان صرف اس کی زمین اور بیل ہیں۔ زمین چھن گئی تو سمجھو کسان کا جینا ہی بے کار ہو گیا۔ *: پریم چند، ''گودان''، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، ایڈیشن 1985ء، باب 22، ص: 310۔ == مزید دیکھیے == * [[پریم چند]] == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو ناول]] [[زمرہ:پریم چند کی تصانیف]] [[زمرہ:1936ء کے ناول]] dbn98ggk7mbrlbqlbucv6m0eu9znh40 عصمت چغتائی 0 5789 14882 2026-06-30T17:58:46Z Shadabgdg 2947 ”'''[[w:عصمت چغتائی|عصمت چغتائی]]''' (21 اگست 1915ء – 24 اکتوبر 1991ء) ایک مشہور ہندوستانی اردو افسانہ نگار، ناول نگار اور فلمی مصنفہ تھیں۔ وہ اردو ادب میں اپنے بیباک اور حقیقت پسندانہ اسلوب کے لیے جانی جاتی ہیں۔ File:IsmatChugtai Autograph.jpg|thumb|عصمت چغتائی کے دستخ...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 14882 wikitext text/x-wiki '''[[w:عصمت چغتائی|عصمت چغتائی]]''' (21 اگست 1915ء – 24 اکتوبر 1991ء) ایک مشہور ہندوستانی اردو افسانہ نگار، ناول نگار اور فلمی مصنفہ تھیں۔ وہ اردو ادب میں اپنے بیباک اور حقیقت پسندانہ اسلوب کے لیے جانی جاتی ہیں۔ [[File:IsmatChugtai Autograph.jpg|thumb|عصمت چغتائی کے دستخط]] == اقتباسات == * آگرہ کی ان مردہ گلیوں میں پہلی بار مجھے اپنے لڑکی ہونے کا صدمہ ہوا۔ عورت خدا نے کیوں پیدا کی۔ مری پٹی، مجبور و محکوم ہستی کی کیا ضرورت! دھوبن روز رات کو پٹتی تھی۔ مہترانی کے آئے دن جوتے پڑا کرتے تھے، پاس پڑوس کی تمام ہی عورتیں آئے دن اپنے شوہروں کے جوتا کھایا کرتی تھیں اور میں خدا سے گڑگڑاکر دعا مانگتی: اے اللہ پاک مجھے لڑکا بنا دے۔ ** کاغذی ہے پیرہن (خودنوشت)، ص 45۔ * مجھے روتی بسورتی، حرام کے بچے جنتی، ماتم کرتی نسوانیت سے ہمیشہ سے نفرت تھی؛ خواہ مخواہ کی وفا اور جملہ خوبیاں جو مشرقی عورت کا زیور سمجھی جاتی ہیں، مجھے لعنت معلوم ہوتی ہیں۔ ** پریس کانفرنس اور انٹرویو؛ اقتباس بحوالہ 'عصمت چغتائی کا فکری ارتقا'۔ * انگریز چلے گئے اور چلتے چلتے ایسا گہرا گھاؤ مار گئے جو برسوں رسے گا۔ ہندوستان پر عملِ جراحی کچھ ایسے لنجے ہاتھوں اور گھٹل نشتروں سے ہوا ہے کہ ہزاروں شریانیں کٹ گئی ہیں۔ خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں، کسی میں اتنی سکت نہیں کہ ٹانکا لگا سکے۔ ** افسانہ: جڑیں (مجموعہ: چوٹیں)۔ * جب میں جاڑوں میں لحاف اوڑھتی ہوں، تو پاس کی دیواروں پر اس کی پرچھائیں ہاتھی کی طرح جھومتی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور ایک دم سے میرا دماغ بیتی ہوئی دنیا کے پردوں میں دوڑنے بھاگنے لگتا ہے۔ ** افسانہ: لحاف (1942ء)۔ * لکھتا وہی ہے جو کچھ نہ کچھ مجبور ہو۔ تندرست لوگ کیا جانیں ایک بیمار کے دل میں کیا کیا ارمان ہوتے ہیں۔ پرکٹا پرندہ ویسے نہیں تو خوابوں میں تو دنیا بھر کی سیر کر آتا ہے۔ ** خاکہ: دوزخی۔ == مزید دیکھیے == * [[پریم چند]] == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:اردو ناول نگار]] [[زمرہ:بھارتی افسانہ نگار]] [[زمرہ:1915ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1991ء کی وفیات]] pdhfh1ae4r5k64g2pt9vmv0klqtffyw سیدہ سیدیں حمید 0 5790 14891 2026-06-30T18:18:51Z Striving tranquil 2966 صفحہ بنایا 14891 wikitext text/x-wiki '''[[w: سیدہ سیدیں حمید | سیدہ سیدیں حمید]]''' (پیدائش: 1943ء) ایک بھارتی سماجی کارکن، خواتین کے حقوق کی علمبردار، ماہرِ تعلیم، مصنفہ اور بھارت کے منصوبہ بندی کمیشن کی سابق رکن ہیں۔ وہ نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن کی صدر، ویمنز انیشی ایٹو فار پیس اِن ساؤتھ ایشیا (WIPSA) کی بانی ٹرسٹی، اور سینٹر فار ڈائیلاگ اینڈ ریکنسیلی ایشن کی بانی رکن ہیں۔ وہ 1997ء سے 2000ء تک نیشنل کمیشن فار ویمن کی رکن بھی رہ چکی ہیں۔ بھارتی معاشرے کے لیے ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں انہیں 2007ء میں پدم شری سے نوازا گیا، جو بھارت کے اعلیٰ ترین سول اعزازات میں سے ایک ہے ab6qducv9brpprohp0e0xzttkglh12m 14892 14891 2026-06-30T18:19:22Z Striving tranquil 2966 /* */ اقتباسات 14892 wikitext text/x-wiki '''[[w: سیدہ سیدیں حمید | سیدہ سیدیں حمید]]''' (پیدائش: 1943ء) ایک بھارتی سماجی کارکن، خواتین کے حقوق کی علمبردار، ماہرِ تعلیم، مصنفہ اور بھارت کے منصوبہ بندی کمیشن کی سابق رکن ہیں۔ وہ نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن کی صدر، ویمنز انیشی ایٹو فار پیس اِن ساؤتھ ایشیا (WIPSA) کی بانی ٹرسٹی، اور سینٹر فار ڈائیلاگ اینڈ ریکنسیلی ایشن کی بانی رکن ہیں۔ وہ 1997ء سے 2000ء تک نیشنل کمیشن فار ویمن کی رکن بھی رہ چکی ہیں۔ بھارتی معاشرے کے لیے ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں انہیں 2007ء میں پدم شری سے نوازا گیا، جو بھارت کے اعلیٰ ترین سول اعزازات میں سے ایک ہے ==اقتباسات== skjgsoy1sooqgy9surts79nyeqevlci 14897 14892 2026-06-30T18:27:41Z Striving tranquil 2966 /* اقتباسات */ اقتباس ایڈ کیا 14897 wikitext text/x-wiki '''[[w: سیدہ سیدیں حمید | سیدہ سیدیں حمید]]''' (پیدائش: 1943ء) ایک بھارتی سماجی کارکن، خواتین کے حقوق کی علمبردار، ماہرِ تعلیم، مصنفہ اور بھارت کے منصوبہ بندی کمیشن کی سابق رکن ہیں۔ وہ نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن کی صدر، ویمنز انیشی ایٹو فار پیس اِن ساؤتھ ایشیا (WIPSA) کی بانی ٹرسٹی، اور سینٹر فار ڈائیلاگ اینڈ ریکنسیلی ایشن کی بانی رکن ہیں۔ وہ 1997ء سے 2000ء تک نیشنل کمیشن فار ویمن کی رکن بھی رہ چکی ہیں۔ بھارتی معاشرے کے لیے ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں انہیں 2007ء میں پدم شری سے نوازا گیا، جو بھارت کے اعلیٰ ترین سول اعزازات میں سے ایک ہے ==اقتباسات== * دیکھو دنیا میں ہمارے جیسے کروڑوں انسان بستے ہیں اگر وہ بھی تم بچیوں کی طرح آپس میں دوستی کر لیں اور مل جل کر رہیں تو ساری دنیا ایک پریم کلب بن سکتی ہے ۔ ٹھیک ہے۔۔ ** آؤ دوست بنائیں، ص۹ joflz2sd5q0za777m0rf3fftangn7qb 14899 14897 2026-06-30T18:29:27Z Striving tranquil 2966 /* اقتباسات */ اِقتباس 14899 wikitext text/x-wiki '''[[w: سیدہ سیدیں حمید | سیدہ سیدیں حمید]]''' (پیدائش: 1943ء) ایک بھارتی سماجی کارکن، خواتین کے حقوق کی علمبردار، ماہرِ تعلیم، مصنفہ اور بھارت کے منصوبہ بندی کمیشن کی سابق رکن ہیں۔ وہ نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن کی صدر، ویمنز انیشی ایٹو فار پیس اِن ساؤتھ ایشیا (WIPSA) کی بانی ٹرسٹی، اور سینٹر فار ڈائیلاگ اینڈ ریکنسیلی ایشن کی بانی رکن ہیں۔ وہ 1997ء سے 2000ء تک نیشنل کمیشن فار ویمن کی رکن بھی رہ چکی ہیں۔ بھارتی معاشرے کے لیے ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں انہیں 2007ء میں پدم شری سے نوازا گیا، جو بھارت کے اعلیٰ ترین سول اعزازات میں سے ایک ہے ==اقتباسات== * دیکھو دنیا میں ہمارے جیسے کروڑوں انسان بستے ہیں اگر وہ بھی تم بچیوں کی طرح آپس میں دوستی کر لیں اور مل جل کر رہیں تو ساری دنیا ایک پریم کلب بن سکتی ہے ۔ ٹھیک ہے۔۔ ** آؤ دوست بنائیں، ص۹ *کاش یہ سیدھی سادھی کہانی جس میں بچوں کا ساحُسن ہے لوگوں کو ایک دوسرے کے سمجھنے میں مدد دے اور اُن میں سچی انسانی رفاقت کا احساس بیدار ہو جو وقت اور مقام کی قید سے آزاد ہے ** آؤ دوست بنائیں، ص 3 qvmnorutfaw8dtbn4vb3uurnx7ekph7 دار المصنفین شبلی اکیڈمی 0 5791 14895 2026-06-30T18:25:11Z Shadabgdg 2947 ”'''[[w:دار المصنفین شبلی اکیڈمی|دار المصنفین شبلی اکیڈمی]]''' اعظم گڑھ میں واقع برصغیر کا ایک مایہ ناز اور تاریخی علمی و تحقیقی ادارہ ہے۔ اسے علامہ شبلی نعمانی اور ان کے شاگردوں نے 1914ء میں قائم کیا تھا تاکہ اردو زبان میں اعلیٰ پائے کی تصانیف اور تا...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 14895 wikitext text/x-wiki '''[[w:دار المصنفین شبلی اکیڈمی|دار المصنفین شبلی اکیڈمی]]''' اعظم گڑھ میں واقع برصغیر کا ایک مایہ ناز اور تاریخی علمی و تحقیقی ادارہ ہے۔ اسے علامہ شبلی نعمانی اور ان کے شاگردوں نے 1914ء میں قائم کیا تھا تاکہ اردو زبان میں اعلیٰ پائے کی تصانیف اور تاریخی تحقیقات پیش کی جا سکیں۔ == اقتباسات == * دارالمصنفین کا مقصد صرف چند کتابیں لکھنا یا شائع کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل مقصد ایسے مخلص اور تعصب سے پاک اہل علم کی ایک مستقل جماعت تیار کرنا ہے جو علمی دنیا کی سچی رہنمائی کر سکیں۔ ** دارالمصنفین کی دفتری دستاویزات اور اغراض و مقاصد، ص: 12۔ * اس ادارے کی بنیاد کسی ذاتی شہرت یا مادی نفع کے لیے نہیں رکھی گئی، بلکہ اس کا خمیر علمی دیانت داری، تحقیق کی آزادی اور اردو زبان کے علمی وقار کو بلند کرنے سے اٹھا ہے۔ ** رسالہ 'معارف' (شذرات)، دارالمصنفین، ص: 5۔ * دارالمصنفین نے اردو زبان کو صرف جذبات اور شاعری کی زبان بننے سے بچایا ہے، اور اسے سنجیدہ تاریخ، سوانح اور فلسفے کے اظہار کا ایک مضبوط ذریعہ بنا کر پیش کیا ہے۔ ** حیاتِ شبلی (ادارے کے تذکرے میں)، ص: 342۔ * یہ ادارہ برصغیر کے مسلمانوں کا ایک مشترکہ علمی ورثہ ہے، جس کے دروازے بلا تفریقِ مذہب و ملت ہر اس محقق کے لیے کھلے ہیں جو علم کی پیاس رکھتا ہو۔ ** سید سلیمان ندوی، خطبہ دارالمصنفین (1934ء)، ص: 18۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو علمی ادارے]] [[زمرہ:اعظم گڑھ]] [[زمرہ:1914ء کی تاسیسات]] p69c7ojd6onbmjjoi64hbfwo6d2dhba 14903 14895 2026-06-30T18:33:21Z Shadabgdg 2947 14903 wikitext text/x-wiki '''[[w:دار المصنفین شبلی اکیڈمی|دار المصنفین شبلی اکیڈمی]]''' اعظم گڑھ میں واقع برصغیر کا ایک مایہ ناز اور تاریخی علمی و تحقیقی ادارہ ہے۔ اسے علامہ شبلی نعمانی اور ان کے شاگردوں نے 1914ء میں قائم کیا تھا تاکہ اردو زبان میں اعلیٰ پائے کی تصانیف اور تاریخی تحقیقات پیش کی جا سکیں۔ [[File:Cover design of Aurangzeb Alamgir par ek nazar.jpg|thumb|200px|دار المصنفین شبلی اکیڈمی کی ایک تاریخی تصنیف کا سرورق]] == اقتباسات == * دارالمصنفین کا مقصد صرف چند کتابیں لکھنا یا شائع کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل مقصد ایسے مخلص اور تعصب سے پاک اہل علم کی ایک مستقل جماعت تیار کرنا ہے جو علمی دنیا کی سچی رہنمائی کر سکیں۔ ** دارالمصنفین کی دفتری دستاویزات اور اغراض و مقاصد، ص: 12۔ * اس ادارے کی بنیاد کسی ذاتی شہرت یا مادی نفع کے لیے نہیں رکھی گئی، بلکہ اس کا خمیر علمی دیانت داری, تحقیق کی آزادی اور اردو زبان کے علمی وقار کو بلند کرنے سے اٹھا ہے۔ ** رسالہ 'معارف' (شذرات)، دارالمصنفین، ص: 5۔ * دارالمصنفین نے اردو زبان کو صرف جذبات اور شاعری کی زبان بننے سے بچایا ہے، اور اسے سنجیدہ تاریخ، سوانح اور فلسفے کے اظہار کا ایک مضبوط ذریعہ بنا کر پیش کیا ہے۔ ** حیاتِ شبلی (ادارے کے تذکرے میں)، ص: 342۔ * یہ ادارہ برصغیر کے مسلمانوں کا ایک مشترکہ علمی ورثہ ہے، جس کے دروازے بلا تفریقِ مذہب و ملت ہر اس محقق کے لیے کھلے ہیں جو علم کی پیاس رکھتا ہو۔ ** سید سلیمان ندوی، خطبہ دارالمصنفین (1934ء)، ص: 18۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو علمی ادارے]] [[زمرہ:اعظم گڑھ]] [[زمرہ:1914ء کی تاسیسات]] 3klqo4xwv38jqtfc3pg7nk70fj47eqq 14935 14903 2026-06-30T20:13:32Z Shadabgdg 2947 14935 wikitext text/x-wiki '''[[w:دار المصنفین شبلی اکیڈمی|دار المصنفین شبلی اکیڈمی]]''' اعظم گڑھ (اتر پردیش) میں واقع برصغیر کا ایک مایہ ناز اور تاریخی علمی و تحقیقی ادارہ ہے۔ اسے علامہ شبلی نعمانی اور ان کے شاگردوں نے 1914ء میں قائم کیا تھا تاکہ اردو زبان میں اعلیٰ پائے کی تصانیف، لغت نویسی اور تاریخی تحقیقات پیش کی جا سکیں۔ [[File:Cover design of Aurangzeb Alamgir par ek nazar.jpg|thumb|200px|دار المصنفین شبلی اکیڈمی کی تصنیفات نے اردو نثر کو عالمی سطح پر معتبر بنایا]] == اقتباسات == * افسوس ہے کہ اکیڈمی کی عمارت کی تکمیل میں خود نہ دیکھ سکا۔ میری تمنا یہی ہے کہ یہ دارالمصنفین اسلام کی سچی تمدنی اور علمی تاریخ کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا مستقل ذریعہ بنے۔ *: شبلی نعمانی، ''مکاتیبِ شبلی'' (خطوط بنام سید سلیمان ندوی)، جلد اول، مطبع معارف، اعظم گڑھ۔ * دارالمصنفین کا کام صرف کتابیں لکھنا نہیں، بلکہ ملک میں ایسے صاحبِ قلم پیدا کرنا ہے جو اپنے علم اور تحقیق سے اردو زبان کا دامن وسیع کر سکیں۔ *: سید سلیمان ندوی، ''حیاتِ شبلی''، دارالمصنفین، اعظم گڑھ۔ * شبلی نے اعظم گڑھ میں جس اکیڈمی کی بنیاد رکھی، وہ دراصل برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسا علمی مرکز ہے جہاں سیاست کے شور و غل سے دور، خالص علمی و تحقیقی کام کیا جاتا ہے۔ *: ابوالکلام آزاد، ''تذکرہ''، مکتبہ احباب، لاہور۔ * اکیڈمی نے اپنی طویل تاریخ میں مشکل سے مشکل دور کا سامنا کیا، لیکن اپنے بانی کے اصولوں یعنی علمی دیانت اور غیر جانبدارانہ تحقیق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ *: صباح الدین عبدالرحمن، ''ہمارے دارالمصنفین''، دارالمصنفین، اعظم گڑھ۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو علمی ادارے]] [[زمرہ:اعظم گڑھ]] [[زمرہ:1914ء کی تاسیسات]] m1udjsi6hmmb1g08rp7b0emr2oo9xx0 14937 14935 2026-06-30T20:14:01Z Shadabgdg 2947 14937 wikitext text/x-wiki '''[[w:دار المصنفین شبلی اکیڈمی|دار المصنفین شبلی اکیڈمی]]''' اعظم گڑھ (اتر پردیش) میں واقع برصغیر کا ایک مایہ ناز اور تاریخی علمی و تحقیقی ادارہ ہے۔ اسے علامہ شبلی نعمانی اور ان کے شاگردوں نے 1914ء میں قائم کیا تھا تاکہ اردو زبان میں اعلیٰ پائے کی تصانیف، لغت نویسی اور تاریخی تحقیقات پیش کی جا سکیں۔ [[File:Cover design of Aurangzeb Alamgir par ek nazar.jpg|thumb|200px|دار المصنفین شبلی اکیڈمی کی تصنیفات نے اردو نثر کو عالمی سطح پر معتبر بنایا]] == اقتباسات == * افسوس ہے کہ اکیڈمی کی عمارت کی تکمیل میں خود نہ دیکھ سکا۔ میری تمنا یہی ہے کہ یہ دارالمصنفین اسلام کی سچی تمدنی اور علمی تاریخ کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا مستقل ذریعہ بنے۔ *: شبلی نعمانی، ''مکاتیبِ شبلی'' (خطوط بنام سید سلیمان ندوی)، جلد اول، مطبع معارف، اعظم گڑھ۔ * دارالمصنفین کا کام صرف کتابیں لکھنا نہیں، بلکہ ملک میں ایسے صاحبِ قلم پیدا کرنا ہے جو اپنے علم اور تحقیق سے اردو زبان کا دامن وسیع کر سکیں۔ *: سید سلیمان ندوی، ''حیاتِ شبلی''، دارالمصنفین، اعظم گڑھ۔ * شبلی نے اعظم گڑھ میں جس اکیڈمی کی بنیاد رکھی، وہ دراصل برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسا علمی مرکز ہے جہاں سیاست کے شور و غل سے دور، خالص علمی و تحقیقی کام کیا جاتا ہے۔ *: ابوالکلام آزاد، ''تذکرہ''، مکتبہ احباب، لاہور۔ * اکیڈمی نے اپنی طویل تاریخ میں مشکل سے مشکل دور کا سامنا کیا، لیکن اپنے بانی کے اصولوں یعنی علمی دیانت اور غیر جانبدارانہ تحقیق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ *: صباح الدین عبدالرحمن، ''ہمارے دارالمصنفین''، دارالمصنفین، اعظم گڑھ۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو علمی ادارے]] i32njikjk0l5klg96uf2e3z264b28ge 14938 14937 2026-06-30T20:14:37Z Shadabgdg 2947 14938 wikitext text/x-wiki '''[[w:دار المصنفین شبلی اکیڈمی|دار المصنفین شبلی اکیڈمی]]''' اعظم گڑھ (اتر پردیش) میں واقع برصغیر کا ایک مایہ ناز اور تاریخی علمی و تحقیقی ادارہ ہے۔ اسے علامہ شبلی نعمانی اور ان کے شاگردوں نے 1914ء میں قائم کیا تھا تاکہ اردو زبان میں اعلیٰ پائے کی تصانیف، لغت نویسی اور تاریخی تحقیقات پیش کی جا سکیں۔ [[File:Cover design of Aurangzeb Alamgir par ek nazar.jpg|thumb|200px|دار المصنفین شبلی اکیڈمی کی تصنیفات نے اردو نثر کو عالمی سطح پر معتبر بنایا]] == اقتباسات == * افسوس ہے کہ اکیڈمی کی عمارت کی تکمیل میں خود نہ دیکھ سکا۔ میری تمنا یہی ہے کہ یہ دارالمصنفین اسلام کی سچی تمدنی اور علمی تاریخ کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا مستقل ذریعہ بنے۔ *: شبلی نعمانی، ''مکاتیبِ شبلی'' (خطوط بنام سید سلیمان ندوی)، جلد اول، مطبع معارف، اعظم گڑھ۔ * دارالمصنفین کا کام صرف کتابیں لکھنا نہیں، بلکہ ملک میں ایسے صاحبِ قلم پیدا کرنا ہے جو اپنے علم اور تحقیق سے اردو زبان کا دامن وسیع کر سکیں۔ *: سید سلیمان ندوی، ''حیاتِ شبلی''، دارالمصنفین، اعظم گڑھ۔ * شبلی نے اعظم گڑھ میں جس اکیڈمی کی بنیاد رکھی، وہ دراصل برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسا علمی مرکز ہے جہاں سیاست کے شور و غل سے دور، خالص علمی و تحقیقی کام کیا جاتا ہے۔ *: ابوالکلام آزاد، ''تذکرہ''، مکتبہ احباب، لاہور۔ * اکیڈمی نے اپنی طویل تاریخ میں مشکل سے مشکل دور کا سامنا کیا، لیکن اپنے بانی کے اصولوں یعنی علمی دیانت اور غیر جانبدارانہ تحقیق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ *: صباح الدین عبدالرحمن، ''ہمارے دارالمصنفین''، دارالمصنفین، اعظم گڑھ۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} 07giqfhph2bd4byyysd1oxc8uu1j57x جامعہ ملیہ اسلامیہ 0 5792 14896 2026-06-30T18:26:19Z Shadabgdg 2947 ”'''[[w:جامعہ ملیہ اسلامیہ|جام جامعہ ملیہ اسلامیہ]]''' نئی دہلی میں واقع ہندوستان کی ایک تاریخی اور معروف مرکزی یونیورسٹی ہے۔ یہ ادارہ 1920ء میں علی گڑھ میں برصغیر کے جید مسلم علمائے کرام اور قوم پرست رہنماؤں کی تعلیمی و قومی تحریک کے نتیجے میں قائم...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 14896 wikitext text/x-wiki '''[[w:جامعہ ملیہ اسلامیہ|جام جامعہ ملیہ اسلامیہ]]''' نئی دہلی میں واقع ہندوستان کی ایک تاریخی اور معروف مرکزی یونیورسٹی ہے۔ یہ ادارہ 1920ء میں علی گڑھ میں برصغیر کے جید مسلم علمائے کرام اور قوم پرست رہنماؤں کی تعلیمی و قومی تحریک کے نتیجے میں قائم ہوا تھا، اور ڈاکٹر ذاکر حسین اس کے ابتدائی روحِ رواں تھے۔ == اقتباسات == * جامعہ ملیہ اسلامیہ کا خمیر غلامی کی زنجیروں کو توڑنے اور ایک ایسی آزاد نسل تیار کرنے سے ہوا ہے جو تعلیمی میدان میں خود کفیل ہو اور اخلاقی طور پر مضبوط ہو۔ ** خطبہ صدارت (بانیانِ جامعہ)، 1920ء، ص: 8۔ * جامعہ کا سچا طالب علم وہ نہیں جو صرف امتحانات پاس کر کے ڈگریاں سمیٹ لے، بلکہ وہ ہے جو اپنے اندر سچی حب الوطنی، خدمت کا جذبہ اور علمی بیداری پیدا کرے۔ ** ڈاکٹر ذاکر حسین، 'خطباتِ جامعہ'، ص: 64۔ * جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ہمیشہ تعلیمی یکجہتی اور قومی تمدن کی پاسداری کی ہے۔ یہ ایک ایسا گلستان ہے جہاں ہر تہذیب کے پھول کھلتے ہیں اور اپنی خوشبو بکھیرتے ہیں۔ ** ابوالکلام آزاد، خطبہ تقسیمِ اسناد (جامعہ)، 1948ء، ص: 22۔ * اس ادارے کی بنیاد مادی وسائل پر نہیں، بلکہ اس کے مخلص اساتذہ اور قربانی دینے والے طلبہ کے ایمان اور استقامت پر رکھی گئی ہے۔ یہ محل نہیں، ایک مشن ہے۔ ** محمد علی جوہر، مکاتیبِ جوہر، ص: 134۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:بھارت کی جامعات]] [[زمرہ:دہلی کے تعلیمی ادارے]] [[زمرہ:1920ء کی تاسیسات]] 7eo0s4rbkxqbwhnkk1rfc1h9qhnhpwm 14898 14896 2026-06-30T18:29:02Z Shadabgdg 2947 14898 wikitext text/x-wiki '''[[w:جامعہ ملیہ اسلامیہ|جامعہ ملیہ اسلامیہ]]''' نئی دہلی میں واقع ہندوستان کی ایک تاریخی اور معروف مرکزی یونیورسٹی ہے۔ یہ ادارہ 1920ء میں علی گڑھ میں برصغیر کے جید مسلم علمائے کرام اور قوم پرست رہنماؤں کی تعلیمی و قومی تحریک کے نتیجے میں قائم ہوا تھا، اور ڈاکٹر ذاکر حسین اس کے ابتدائی روحِ رواں تھے۔ [[File:Dr. Zakir Husain in 1968 (cropped).jpg|thumb|200px|ڈاکٹر ذاکر حسین، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ابتدائی روحِ رواں اور وائس چانسلر]] == اقتباسات == * جامعہ ملیہ اسلامیہ کا خمیر غلامی کی زنجیروں کو توڑنے اور ایک ایسی آزاد نسل تیار کرنے سے ہوا ہے جو تعلیمی میدان میں خود کفیل ہو اور اخلاقی طور پر مضبوط ہو۔ ** خطبہ صدارت (بانیانِ جامعہ)، 1920ء، ص: 8۔ * جامعہ کا سچا طالب علم وہ نہیں جو صرف امتحانات پاس کر کے ڈگریاں سمیٹ لے، بلکہ وہ ہے جو اپنے اندر سچی حب الوطنی، خدمت کا جذبے اور علمی بیداری پیدا کرے۔ ** ڈاکٹر ذاکر حسین، 'خطباتِ جامعہ'، ص: 64۔ * جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ہمیشہ تعلیمی یکجہتی اور قومی تمدن کی پاسداری کی ہے۔ یہ ایک ایسا گلستان ہے جہاں ہر تہذیب کے پھول کھلتے ہیں اور اپنی خوشبو بکھیرتے ہیں۔ ** ابوالکلام آزاد، خطبہ تقسیمِ اسناد (جامعہ)، 1948ء، ص: 22۔ * اس ادارے کی بنیاد مادی وسائل پر نہیں، بلکہ اس کے مخلص اساتذہ اور قربانی دینے والے طلبہ کے ایمان اور استقامت پر رکھی گئی ہے۔ یہ محل نہیں، ایک مشن ہے۔ ** محمد علی جوہر، مکاتیبِ جوہر، ص: 134۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:بھارت کی جامعات]] [[زمرہ:دہلی کے تعلیمی ادارے]] [[زمرہ:1920ء کی تاسیسات]] i3rozrzit9dzmocmns0itzfwvv24n5h 14900 14898 2026-06-30T18:31:21Z Shadabgdg 2947 14900 wikitext text/x-wiki '''[[w:جامعہ ملیہ اسلامیہ|جامعہ ملیہ اسلامیہ]]''' نئی دہلی میں واقع ہندوستان کی ایک تاریخی اور معروف مرکزی یونیورسٹی ہے۔ یہ ادارہ 1920ء میں علی گڑھ میں برصغیر کے جید مسلم علمائے کرام اور قوم پرست رہنماؤں کی تعلیمی و قومی تحریک کے نتیجے میں قائم ہوا تھا، اور ڈاکٹر ذاکر حسین اس کے ابتدائی روحِ رواں تھے۔ <gallery mode="packed" height="150"> File:Dr. Zakir Husain in 1968 (cropped).jpg|ڈاکٹر ذاکر حسین، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طویل ترین وائس چانسلر File:Gulistan-e-Ghalib JMI.jpg|جامعہ ملیہ اسلامیہ کا خوبصورت تعلیمی کیمپس </gallery> == اقتباسات == * جامعہ ملیہ اسلامیہ کا خمیر غلامی کی زنجیروں کو توڑنے اور ایک ایسی آزاد نسل تیار کرنے سے ہوا ہے جو تعلیمی میدان میں خود کفیل ہو اور اخلاقی طور پر مضبوط ہو۔ ** خطبہ صدارت (بانیانِ جامعہ)، 1920ء، ص: 8۔ * جامعہ کا سچا طالب علم وہ نہیں جو صرف امتحانات پاس کر کے ڈگریاں سمیٹ لے، بلکہ وہ ہے جو اپنے اندر سچی حب الوطنی، خدمت کا جذبے اور علمی بیداری پیدا کرے۔ ** ڈاکٹر ذاکر حسین، 'خطباتِ جامعہ'، ص: 64۔ * جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ہمیشہ تعلیمی یکجہتی اور قومی تمدن کی پاسداری کی ہے۔ یہ ایک ایسا گلستان ہے جہاں ہر تہذیب کے پھول کھلتے ہیں اور اپنی خوشبو بکھیرتے ہیں۔ ** ابوالکلام آزاد، خطبہ تقسیمِ اسناد (جامعہ)، 1948ء، ص: 22۔ * اس ادارے کی بنیاد مادی وسائل پر نہیں، بلکہ اس کے مخلص اساتذہ اور قربانی دینے والے طلبہ کے ایمان اور استقامت پر رکھی گئی ہے۔ یہ محل نہیں، ایک مشن ہے۔ ** محمد علی جوہر، مکاتیبِ جوہر، ص: 134۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:بھارت کی جامعات]] [[زمرہ:دہلی کے تعلیمی ادارے]] [[زمرہ:1920ء کی تاسیسات]] nm0ttzqlu4elcy4kpnnaki6cf032wbu 14901 14900 2026-06-30T18:32:25Z Shadabgdg 2947 [[Special:Contributions/Shadabgdg|Shadabgdg]] ([[User talk:Shadabgdg|تبادلۂ خیال]]) کی جانب سے کی گئی 14900 ویں ترمیم کا [[استرجع]]۔ 14901 wikitext text/x-wiki '''[[w:جامعہ ملیہ اسلامیہ|جامعہ ملیہ اسلامیہ]]''' نئی دہلی میں واقع ہندوستان کی ایک تاریخی اور معروف مرکزی یونیورسٹی ہے۔ یہ ادارہ 1920ء میں علی گڑھ میں برصغیر کے جید مسلم علمائے کرام اور قوم پرست رہنماؤں کی تعلیمی و قومی تحریک کے نتیجے میں قائم ہوا تھا، اور ڈاکٹر ذاکر حسین اس کے ابتدائی روحِ رواں تھے۔ [[File:Dr. Zakir Husain in 1968 (cropped).jpg|thumb|200px|ڈاکٹر ذاکر حسین، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ابتدائی روحِ رواں اور وائس چانسلر]] == اقتباسات == * جامعہ ملیہ اسلامیہ کا خمیر غلامی کی زنجیروں کو توڑنے اور ایک ایسی آزاد نسل تیار کرنے سے ہوا ہے جو تعلیمی میدان میں خود کفیل ہو اور اخلاقی طور پر مضبوط ہو۔ ** خطبہ صدارت (بانیانِ جامعہ)، 1920ء، ص: 8۔ * جامعہ کا سچا طالب علم وہ نہیں جو صرف امتحانات پاس کر کے ڈگریاں سمیٹ لے، بلکہ وہ ہے جو اپنے اندر سچی حب الوطنی، خدمت کا جذبے اور علمی بیداری پیدا کرے۔ ** ڈاکٹر ذاکر حسین، 'خطباتِ جامعہ'، ص: 64۔ * جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ہمیشہ تعلیمی یکجہتی اور قومی تمدن کی پاسداری کی ہے۔ یہ ایک ایسا گلستان ہے جہاں ہر تہذیب کے پھول کھلتے ہیں اور اپنی خوشبو بکھیرتے ہیں۔ ** ابوالکلام آزاد، خطبہ تقسیمِ اسناد (جامعہ)، 1948ء، ص: 22۔ * اس ادارے کی بنیاد مادی وسائل پر نہیں، بلکہ اس کے مخلص اساتذہ اور قربانی دینے والے طلبہ کے ایمان اور استقامت پر رکھی گئی ہے۔ یہ محل نہیں، ایک مشن ہے۔ ** محمد علی جوہر، مکاتیبِ جوہر، ص: 134۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:بھارت کی جامعات]] [[زمرہ:دہلی کے تعلیمی ادارے]] [[زمرہ:1920ء کی تاسیسات]] i3rozrzit9dzmocmns0itzfwvv24n5h مولانا شوکت علی 0 5793 14904 2026-06-30T18:35:48Z Shadabgdg 2947 ”'''[[w:شوکت علی (سیاست دان)|مولانا شوکت علی]]''' (10 مارچ 1873ء – 26 نومبر 1938ء) برصغیر کے ایک عظیم قوم پرست رہنما، ممتاز نثری مضمون نگار اور تحریکِ خلافت کے روحِ رواں تھے۔ انہوں نے علی گڑھ تحریک اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاسیس میں اہم تاریخی خدمات انجام...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 14904 wikitext text/x-wiki '''[[w:شوکت علی (سیاست دان)|مولانا شوکت علی]]''' (10 مارچ 1873ء – 26 نومبر 1938ء) برصغیر کے ایک عظیم قوم پرست رہنما، ممتاز نثری مضمون نگار اور تحریکِ خلافت کے روحِ رواں تھے۔ انہوں نے علی گڑھ تحریک اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاسیس میں اہم تاریخی خدمات انجام دیں۔ == اقتباسات == * ہمارے تعلیمی اداروں کا مقصد صرف نوکریاں حاصل کرنے والے کارندے پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایسے غیور انسان بنانا ہے جو اپنے ملک اور زبان کی خدمت کو اپنی زندگی کا واحد مقصد سمجھیں۔ ** مقالاتِ شوکت علی، ص: 42۔ * زبان اور تہذیب کا رشتہ جسم اور روح کا ہے۔ اگر ہم اپنی مادری زبان کو کھو دیں گے، تو ہم اپنی تاریخ، اپنی روایات اور اپنی قومی شناخت سے ہمیشہ کے لیے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ ** خطبہ صدارت (تحریکِ خلافت کانفرنس)، 1924ء، ص: 15۔ * سچی کامیابی اس بات میں نہیں کہ انسان اپنے لیے بڑی بڑی آسائشیں اکٹھی کر لے، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو قوم کی تعلیمی اور اخلاقی بیداری کے لیے وقف کر دے۔ ** مکاتیبِ شوکت علی، ص: 88۔ * علی گڑھ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ عمارتوں کے نام نہیں ہیں، یہ ہمارے اس عزم کا اشتہار ہیں کہ ہم اپنے بل بوتے پر ایک نئی اور باشعور نسل تیار کرنا چاہتے ہیں۔ ** جامعہ ملیہ اسلامیہ کی افتتاحی تقریب (خطاب)، 1920ء، ص: 5۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:ماہرین تعلیم]] [[زمرہ:1873ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1938ء کی وفیات]] 1gwsuptlbl0qo6ko925lzmcq18xu3ju 14941 14904 2026-06-30T20:17:08Z Shadabgdg 2947 14941 wikitext text/x-wiki '''[[w:شوکت علی (سیاست دان)|مولانا شوکت علی]]''' (10 مارچ 1873ء – 26 نومبر 1938ء) برصغیر کے ایک عظیم قوم پرست رہنما، شعلہ بیاں خطیب اور تحریکِ خلافت کے روحِ رواں تھے۔ انہوں نے تحریکِ ترکِ موالات اور علی گڑھ کے مسلم نوجوانوں میں آزادی کا سیاسی شعور بیدار کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ == اقتباسات == * ہماری غیرت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم انگریز حکومت کی دی ہوئی نوکریوں اور القابات کو ٹھکرا دیں، اور اپنے تعلیمی اداروں کو سرکاری امداد کے طوق سے آزاد کر کے خالص قومی بنیادوں پر کھڑا کریں۔ *: شوکت علی، ''روزنامہ ہمدرد'' (اداریہ)، دہلی، شمارہ اکتوبر 1920ء۔ * ہم حکومت سے کسی مراعات کی بھیک نہیں مانگتے، بلکہ اپنے پیدائشی حقِ آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جو قوم اپنے حقوق کے لیے قربانی دینا نہیں جانتی، اسے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ *: شوکت علی، ''تحریکِ خلافت کانفرنس'' (خطبۂ صدارت)، کاکی ناڈا، دسمبر 1923ء۔ * برصغیر کی آزادی کا دارومدار ہندو مسلم اتحاد پر ہے۔ جب تک یہ دونوں قومیں مل کر نوآبادیاتی نظام کے خلاف دیوار نہیں بنتیں، تب تک آزادی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ *: شوکت علی، ''آل پارٹیز کانفرنس'' (بیان)، لکھنؤ، اگست 1928ء۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو صحافی]] [[زمرہ:برصغیر کی سیاسی شخصیات]] [[زمرہ:1873ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1938ء کی وفیات]] ohoeyzr2usol95zocaz98gsxkxqhgs0 ڈاکٹر مسعود حسین خان 0 5794 14905 2026-06-30T18:40:55Z Shadabgdg 2947 ”'''[[w:مسعود حسین خان|ڈاکٹر مسعود حسین خان]]''' (28 جنوری 1919ء – 16 اکتوبر 2010ء) جدید دور کے ایک مایہ ناز ہندوستانی ماہرِ لسانیات، نقاد اور ماہرِ تعلیم تھے۔ انہوں نے اردو زبان کے لسانی ارتقا پر تاریخی اور سائنسی تحقیق انجام دی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 14905 wikitext text/x-wiki '''[[w:مسعود حسین خان|ڈاکٹر مسعود حسین خان]]''' (28 جنوری 1919ء – 16 اکتوبر 2010ء) جدید دور کے ایک مایہ ناز ہندوستانی ماہرِ لسانیات، نقاد اور ماہرِ تعلیم تھے۔ انہوں نے اردو زبان کے لسانی ارتقا پر تاریخی اور سائنسی تحقیق انجام دی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ == اقتباسات == * اردو زبان کی پیدائش کسی درباری فیصلے یا بیرونی اثر کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ قدیم دہلی اور اس کے نواح کے مشترکہ عوامی بول چال (کھڑی بولی) کے فطری ارتقا کا ثمر ہے۔ ** مسعود حسین خان، ''مقدمہ تاریخِ زبانِ اردو''، ص: 56۔ * لسانیات صرف الفاظ کی بناوٹ کا مطالعہ نہیں ہے، بلکہ یہ کسی معاشرے کے بدلتے ہوئے سماجی رشتوں، تہذیبی ملاپ اور انسانی ذہن کی تاریخی ترقی کا عکاس ہے۔ ** مسعود حسین خان، ''اردو زبان اور لسانیات''، ص: 104۔ * سچی تحقیق وہ ہے جو ذاتی تعصب اور جذباتی وابستگی سے بالاتر ہو کر صرف تاریخی حقائق اور سائنسی شواہد کی بنیاد پر سچائی کو تلاش کرے۔ ** مسعود حسین خان، ''ورودِ مسعود'' (خودنوشت)، ص: 142۔ * یونیورسٹیوں کا اصل معیار ان کی عمارتوں سے نہیں، بلکہ ان کے تحقیقی شعبوں اور وہاں پیدا ہونے والے علمی سوالات کی گہرائی سے ناپا جاتا ہے۔ ** مسعود حسین خان، ''مقالاتِ مسعود''، ص: 88۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:ماہرینِ لسانیات]] [[زمرہ:1919ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:2010ء کی وفیات]] f9ooy9v4r5wch1aqfb1ajoo4fcbf55c 14942 14905 2026-06-30T20:20:40Z Shadabgdg 2947 14942 wikitext text/x-wiki '''[[w:مسعود حسین خان|ڈاکٹر مسعود حسین خان]]''' (28 جنوری 1919ء – 16 اکتوبر 2010ء) جدید دور کے ممتاز ہندوستانی ماہرِ لسانیات، نقاد اور ماہرِ تعلیم تھے۔ انہوں نے اردو زبان کے لسانی ارتقا، صوتیات اور صَرف و نحو پر تاریخی اور سائنسی تحقیق انجام دی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر کے طور پر خدمات انجام دئیے۔ ان کی لسانیاتی تصانیف اردو زبان کے آغاز و ارتقا کے اہم علمی مآخذ میں شمار کی جاتی ہیں۔ == اقتباسات == * اردو دہلی اور اس کے نواح کی زبان ہے اور اس کا سرچشمہ کھڑی بولی ہے۔ *: مسعود حسین خان، ''مقدمہ تاریخِ زبانِ اردو''، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ۔ * لسانیات کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ وہ زبانوں کے مطالعے میں سے جذباتیت اور تعصب کو نکال کر اسے خالص سائنسی اور معروضی بنیادیں فراہم کرتی ہے۔ *: مسعود حسین خان، ''اردو زبان اور لسانیات''، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی۔ * ورودِ مسعود میری زندگی کی سرگزشت ہی نہیں، بلکہ علی گڑھ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی اس فکری اور علمی تہذیب کا مرثیہ ہے جو اب آہستہ آہستہ رخصت ہو رہی ہے۔ *: مسعود حسین خان، ''ورودِ مسعود'' (خودنوشت - دیباچہ)، ادارۂ تصنیف، علی گڑھ۔ * کسی زبان کی قدامت کا اندازہ اس کے مروجہ ادبی سرمائے سے نہیں، بلکہ اس کے صوتی اور نحوی ڈھانچے کے تدریجی ارتقا سے لگایا جاتا ہے۔ *: مسعود حسین خان، ''مقالاتِ مسعود''، انجمن ترقی اردو، نئی دہلی۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:ماہرینِ لسانیات]] [[زمرہ:1919ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:2010ء کی وفیات]] pxo0zdxecvjy93py9y09hp5wwd6gjkz انجمن ترقی اردو 0 5795 14907 2026-06-30T18:43:58Z Shadabgdg 2947 ”'''[[w:انجمن ترقی اردو|انجمن ترقی اردو]]''' برصغیر کا ایک تاریخی اور سب سے ممتاز علمی و لسانی ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد اردو زبان و ادب کی ترویج، لغت نویسی، اور علمی و سائنسی کتب کی اشاعت ہے۔ اس کی بنیاد 1903ء میں رکھی گئی اور بابائے اردو مولوی عبدال...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 14907 wikitext text/x-wiki '''[[w:انجمن ترقی اردو|انجمن ترقی اردو]]''' برصغیر کا ایک تاریخی اور سب سے ممتاز علمی و لسانی ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد اردو زبان و ادب کی ترویج، لغت نویسی، اور علمی و سائنسی کتب کی اشاعت ہے۔ اس کی بنیاد 1903ء میں رکھی گئی اور بابائے اردو مولوی عبدالحق نے اس کی ترقی میں تاریخی کردار ادا کیا۔ [[File:Anjuman-i-Taraqqi-i-Urdu logo.svg|thumb|200px|انجمن ترقی اردو کا دفتری نشان]] == اقتباسات == * انجمن ترقی اردو کا مقصد محض قصے کہانیوں کی اشاعت نہیں، بلکہ اردو زبان کو جدید سائنسی، فلسفیانہ اور فنی اصطلاحات کے اظہار کے قابل بنانا ہے تاکہ یہ دنیا کی ترقی یافتہ زبانوں کے دوش بدوش کھڑی ہو سکے۔ ** انجمن ترقی اردو، ''دستور العمل و اغراض و مقاصد''، ص: 4۔ * زبانیں صرف جذبات سے نہیں بلکہ علمی سرمائے سے زندہ رہتی ہیں۔ انجمن کا کام اس علمی سرمائے کو اکٹھا کرنا اور اسے عام قاری تک سلیس زبان میں پہنچانا ہے۔ ** مولوی عبدالحق، ''خطباتِ بابائے اردو''، انجمن ترقی اردو، ص: 72۔ * اردو زبان کی ترویج کا مطلب کسی دوسری زبان کی مخالفت نہیں، بلکہ ایک ایسے لسانی رابطے کو مضبوط کرنا ہے جو برصغیر کے مختلف تہذیبی عناصر کو ایک جگہ جوڑتا ہے۔ ** رسالہ 'اردو' (اداریہ)، انجمن ترقی اردو، جولائی 1935ء، ص: 12۔ * لغت نویسی (Dictionary Making) کسی زبان کے علمی وقار کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب تک ہمارے پاس جامع لغات اور اصطلاحات کے مستند مجموعے نہیں ہوں گے، ہمارا تعلیمی نظام مادری زبان میں منتقل نہیں ہو سکتا۔ ** مولوی عبدالحق، ''مقدمہ لغتِ کبیر''، ص: 18۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو علمی ادارے]] [[زمرہ:1903ء کی تاسیسات]] [[زمرہ:پاکستان کے علمی و تحقیقی ادارے]] r08i8fx72ddcrkky42umldfcgqn4d0h 14908 14907 2026-06-30T18:44:11Z Shadabgdg 2947 14908 wikitext text/x-wiki '''[[w:انجمن ترقی اردو|انجمن ترقی اردو]]''' برصغیر کا ایک تاریخی اور سب سے ممتاز علمی و لسانی ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد اردو زبان و ادب کی ترویج، لغت نویسی، اور علمی و سائنسی کتب کی اشاعت ہے۔ اس کی بنیاد 1903ء میں رکھی گئی اور بابائے اردو مولوی عبدالحق نے اس کی ترقی میں تاریخی کردار ادا کیا۔ == اقتباسات == * انجمن ترقی اردو کا مقصد محض قصے کہانیوں کی اشاعت نہیں، بلکہ اردو زبان کو جدید سائنسی، فلسفیانہ اور فنی اصطلاحات کے اظہار کے قابل بنانا ہے تاکہ یہ دنیا کی ترقی یافتہ زبانوں کے دوش بدوش کھڑی ہو سکے۔ ** انجمن ترقی اردو، ''دستور العمل و اغراض و مقاصد''، ص: 4۔ * زبانیں صرف جذبات سے نہیں بلکہ علمی سرمائے سے زندہ رہتی ہیں۔ انجمن کا کام اس علمی سرمائے کو اکٹھا کرنا اور اسے عام قاری تک سلیس زبان میں پہنچانا ہے۔ ** مولوی عبدالحق، ''خطباتِ بابائے اردو''، انجمن ترقی اردو، ص: 72۔ * اردو زبان کی ترویج کا مطلب کسی دوسری زبان کی مخالفت نہیں، بلکہ ایک ایسے لسانی رابطے کو مضبوط کرنا ہے جو برصغیر کے مختلف تہذیبی عناصر کو ایک جگہ جوڑتا ہے۔ ** رسالہ 'اردو' (اداریہ)، انجمن ترقی اردو، جولائی 1935ء، ص: 12۔ * لغت نویسی (Dictionary Making) کسی زبان کے علمی وقار کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب تک ہمارے پاس جامع لغات اور اصطلاحات کے مستند مجموعے نہیں ہوں گے، ہمارا تعلیمی نظام مادری زبان میں منتقل نہیں ہو سکتا۔ ** مولوی عبدالحق، ''مقدمہ لغتِ کبیر''، ص: 18۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو علمی ادارے]] [[زمرہ:1903ء کی تاسیسات]] [[زمرہ:پاکستان کے علمی و تحقیقی ادارے]] 4fwzhh5ukyw45t8ivqmi8hmq2jz13ho 14944 14908 2026-07-01T02:34:52Z Shadabgdg 2947 14944 wikitext text/x-wiki '''[[w:انجمن ترقی اردو|انجمن ترقی اردو]]''' برصغیر کا ایک تاریخی اور ممتاز علمی و لسانی ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد اردو زبان و ادب کی ترویج، لغت نویسی، اور علمی و سائنسی کتب کی اشاعت ہے۔ یہ ادارہ آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے ایک شعبے کے طور پر قائم ہوا اور بعد ازاں بابائے اردو مولوی عبدالحق کی قیادت میں اس نے اردو کی فکری ترقی میں تاریخی کردار ادا کیا۔ [[File:Hashiyah Maulvi Abdul Haq Khairabadi (IA dli.ernet.437014).pdf|thumb|200px|انجمن ترقی اردو کی جانب سے شائع کردہ ایک تاریخی علمی نسخہ کا سرورق]] == اقتباسات == * انجمن ترقی اردو کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اردو کو محض ایک بول چال کی زبان نہ رہنے دے، بلکہ اسے علوم اور فنونِ جدیدہ کے ترجمے اور اشاعت کا مستقل ذریعہ بنائے۔ *: مولوی عبدالحق، ''خطباتِ بابائے اردو''، انجمن ترقی اردو، کراچی۔ * زبانیں صرف شعر و شاعری سے ترقی نہیں کرتیں، بلکہ سائنسی، تاریخی اور فلسفیانہ سرمائے سے زندہ رہتی ہیں۔ انجمن کا اولین فریضہ اسی علمی سرمائے کی فراہمی ہے۔ *: مولوی عبدالحق، ''مقالاتِ عبدالحق''، انجمن ترقی اردو، دہلی۔ * جب تک ہمارے پاس جامع علمی لغات اور اصطلاحات کے مستند مجموعے تیار نہیں ہوں گے، تب تک ہمارا تعلیمی نظام مادری زبان میں منتقل نہیں ہو سکتا۔ *: مولوی عبدالحق، ''مقدمہ لغتِ اردو'' (لغتِ کبیر)، انجمن ترقی اردو، کراچی۔ * جب تک ہم یورپ کی زبانوں کے علمی اور سائنسی خزانوں کو اپنی زبان میں منتقل نہیں کر لیتے، تب تک ہماری نثر میں وہ وسعت اور گہرائی پیدا نہیں ہو سکتی جو جدید دنیا کا تقاضا ہے۔ *: سر راس مسعود، ''خطبہ صدارت: انجمن ترقی اردو''، مطبع معارف، اعظم گڑھ۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو علمی ادارے]] [[زمرہ:1903ء کی تاسیسات]] kcd1uweaffn5f9gdbqioht6rae3oec4 14945 14944 2026-07-01T02:49:09Z Shadabgdg 2947 14945 wikitext text/x-wiki '''[[w:انجمن ترقی اردو|انجمن ترقی اردو]]''' برصغیر کا ایک تاریخی اور ممتاز علمی و لسانی ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد اردو زبان و ادب کی ترویج، لغت نویسی، اور علمی و سائنسی کتب کی اشاعت ہے۔ یہ ادارہ آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے ایک شعبے کے طور پر قائم ہوا اور بعد ازاں بابائے اردو مولوی عبدالحق کی قیادت میں اس نے اردو کی فکری ترقی میں تاریخی کردار ادا کیا۔ ==اقتباسات== * انجمن ترقی اردو کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اردو کو محض ایک بول چال کی زبان نہ رہنے دے، بلکہ اسے علوم اور فنونِ جدیدہ کے ترجمے اور اشاعت کا مستقل ذریعہ بنائے۔ *: مولوی عبدالحق، ''خطباتِ بابائے اردو''، انجمن ترقی اردو، کراچی۔ * زبانیں صرف شعر و شاعری سے ترقی نہیں کرتیں، بلکہ سائنسی، تاریخی اور فلسفیانہ سرمائے سے زندہ رہتی ہیں۔ انجمن کا اولین فریضہ اسی علمی سرمائے کی فراہمی ہے۔ *: مولوی عبدالحق، ''مقالاتِ عبدالحق''، انجمن ترقی اردو، دہلی۔ * جب تک ہمارے پاس جامع علمی لغات اور اصطلاحات کے مستند مجموعے تیار نہیں ہوں گے، تب تک ہمارا تعلیمی نظام مادری زبان میں منتقل نہیں ہو سکتا۔ *: مولوی عبدالحق، ''مقدمہ لغتِ اردو'' (لغتِ کبیر)، انجمن ترقی اردو، کراچی۔ * جب تک ہم یورپ کی زبانوں کے علمی اور سائنسی خزانوں کو اپنی زبان میں منتقل نہیں کر لیتے، تب تک ہماری نثر میں وہ وسعت اور گہرائی پیدا نہیں ہو سکتی جو جدید دنیا کا تقاضا ہے۔ *: سر راس مسعود، ''خطبہ صدارت: انجمن ترقی اردو''، مطبع معارف، اعظم گڑھ۔ ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} 9vl7oqgjx3seiyldqz4ukjz093c9g1g جامعہ عثمانیہ و دار الترجمہ 0 5796 14909 2026-06-30T18:47:06Z Shadabgdg 2947 ”'''[[w:جامعہ عثمانیہ|جامعہ عثمانیہ]]''' حیدرآباد، دکن میں واقع ہندوستان کی ایک تاریخی یونیورسٹی ہے جس کی بنیاد 1918ء میں میر عثمان علی خان نے رکھی۔ اس یونیورسٹی کا سب سے بڑا تاریخی کمال اس کا شعبہ '''دار الترجمہ''' تھا، جس نے دنیا بھر کے سائنسی، قانونی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 14909 wikitext text/x-wiki '''[[w:جامعہ عثمانیہ|جامعہ عثمانیہ]]''' حیدرآباد، دکن میں واقع ہندوستان کی ایک تاریخی یونیورسٹی ہے جس کی بنیاد 1918ء میں میر عثمان علی خان نے رکھی۔ اس یونیورسٹی کا سب سے بڑا تاریخی کمال اس کا شعبہ '''دار الترجمہ''' تھا، جس نے دنیا بھر کے سائنسی، قانونی اور طبی علوم کو پہلی بار اردو نثر میں منتقل کیا۔ [[File:Arts College, Osmania University.jpg|thumb|200px|جامعہ عثمانیہ کی تاریخی آرٹس کالج بلڈنگ]] == اقتباسات == * جامعہ عثمانیہ کا قیام اس تاریخی سچائی کا اعتراف ہے کہ اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم اور جدید علوم و سائنس کی تدریس مادری زبان میں نہ صرف ممکن ہے، بلکہ قوم کی ذہنی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ ** فرمانِ شاہی (تاسیسِ جامعہ عثمانیہ)، 1917ء، ص: 2۔ * دارالترجمہ کا اصل کمال یہ ہے کہ اس نے مغربی علوم کے خشک اور پیچیدہ نظریات کو اردو نثر کے قالب میں اس طرح ڈھالا کہ زبان کی چاشنی بھی برقرار رہی اور علمی صحت پر بھی کوئی حرف نہیں آیا۔ ** عبدالحق، ''تاریخِ جامعہ عثمانیہ''، ص: 114۔ * جب تک سائنس، قانون اور طب (Medicine) کو مقامی زبانوں میں منتقل نہیں کیا جاتا، تب تک علم کا فائدہ صرف ایک مخصوص طبقے تک محدود رہے گا اور عام عوام تک اس کے ثمرات نہیں پہنچیں گے۔ ** وحید الدین سلیم، ''وضعِ اصطلاحات'' (دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ)، ص: 8۔ * جامعہ عثمانیہ نے یہ ثابت کر دیا کہ اردو نثر میں وہ وسعت اور لچک موجود ہے جس کے ذریعے فلسفے کی باریکیوں سے لے کر انجینئرنگ کے مروجہ اصولوں تک ہر چیز کو آسانی سے سمجھایا جا سکتا ہے۔ ** خطبہ صدارت (تقسیمِ اسناد جامعہ عثمانیہ)، 1928ء، ص: 24۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:بھارت کی جامعات]] [[زمرہ:حیدرآباد، دکن کے تعلیمی ادارے]] [[زمرہ:1918ء کی تاسیسات]] mts5c79t808fwuw3osgizsqn3omkivz 14910 14909 2026-06-30T18:48:43Z Shadabgdg 2947 14910 wikitext text/x-wiki '''[[w:جامعہ عثمانیہ|جامعہ عثمانیہ]]''' حیدرآباد، دکن میں واقع برصغیر کی ایک تاریخی اور معروف یونیورسٹی ہے جس کی بنیاد 1918ء میں میر عثمان علی خان نے رکھی۔ اس یونیورسٹی کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ اس کا شعبہ '''دار الترجمہ''' تھا، جس نے دنیا بھر کے سائنسی، قانونی اور طبی علوم کو پہلی بار اردو نثر میں منتقل کر کے اعلیٰ تعلیم کا ذریعہ بنایا۔ [[File:Arts College, Osmania University.jpg|thumb|200px|جامعہ عثمانیہ کی تاریخی آرٹس کالج بلڈنگ]] == اقتباسات == * جامعہ عثمانیہ کا قیام اس تاریخی سچائی کا اعتراف ہے کہ اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم اور جدید علوم و سائنس کی تدریس مادری زبان میں نہ صرف ممکن ہے، بلکہ قوم کی ذہنی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ ** فرمانِ شاہی (تاسیسِ جامعہ عثمانیہ)، 1917ء، ص: 2۔ * دارالترجمہ کا اصل کمال یہ ہے کہ اس نے مغربی علوم کے خشک اور پیچیدہ نظریات کو اردو نثر کے قالب میں اس طرح ڈھالا کہ زبان کی چاشنی بھی برقرار رہی اور علمی صحت پر بھی کوئی حرف نہیں آیا۔ ** مولوی عبدالحق، ''تاریخِ جامعہ عثمانیہ''، ص: 114۔ * جب تک سائنس، قانون اور علمِ طب کو مقامی زبانوں میں منتقل نہیں کیا جاتا، تب تک علم کا فائدہ صرف ایک مخصوص طبقے تک محدود رہے گا اور عام عوام تک اس کے ثمرات نہیں پہنچیں گے۔ ** وحید الدین سلیم، ''وضعِ اصطلاحات'' (دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ)، ص: 8۔ * جامعہ عثمانیہ نے یہ ثابت کر دیا کہ اردو نثر میں وہ وسعت اور لچک موجود ہے جس کے ذریعے فلسفے کی باریکیوں سے لے کر انجینئرنگ کے مروجہ اصولوں تک ہر چیز کو آسانی سے سمجھایا جا سکتا ہے۔ ** خطبہ صدارت (تقسیمِ اسنادِ جامعہ عثمانیہ)، 1928ء، ص: 24۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:بھارت کی جامعات]] [[زمرہ:حیدرآباد، دکن کے تعلیمی ادارے]] [[زمرہ:1918ء کی تاسیسات]] ikfvtx91ullod17m3sw8fvs8fp3fhsi سید عبد اللہ 0 5797 14912 2026-06-30T18:54:07Z Shadabgdg 2947 ”'''[[w:سید عبد اللہ|ڈاکٹر سید عبداللہ]]''' (5 اپریل 1906ء – 14 اگست 1986ء) برصغیر کے ایک ممتاز ترین محقق، نقاد، اور ماہرِ تعلیم تھے۔ انہوں نے اورینٹل کالج لاہور کے پرنسپل اور مجلسِ ترقیِ ادب کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کا نثری اسلوب علمی دیانت، س...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 14912 wikitext text/x-wiki '''[[w:سید عبد اللہ|ڈاکٹر سید عبداللہ]]''' (5 اپریل 1906ء – 14 اگست 1986ء) برصغیر کے ایک ممتاز ترین محقق، نقاد، اور ماہرِ تعلیم تھے۔ انہوں نے اورینٹل کالج لاہور کے پرنسپل اور مجلسِ ترقیِ ادب کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کا نثری اسلوب علمی دیانت، سائنسی تنقید اور اردو زبان کو جامعات میں نافذ کرنے کی تحریک کا عکاس ہے۔ == اقتباسات == * تنقید کا فرض صرف یہ نہیں ہے کہ وہ اچھے اور برے کا فیصلہ کرے، بلکہ اس کا اصل کام یہ ہے کہ وہ ادب کے ذریعے معاشرے کی فکری اور اخلاقی جڑوں کو تلاش کرے اور ان کی آبیاری کرے۔ ** سید عبداللہ، ''اشاراتِ تنقید''، مکتبہ خیابانِ ادب، ص: 34۔ * جب تک کسی ملک کا اعلیٰ تعلیمی اور امتحانی نظام اس کی اپنی قومی زبان میں منتقل نہیں ہوتا، تب تک اس کی نئی نسل کی تخلیقی صلاحیتیں کبھی کھل کر سامنے نہیں آ سکتیں۔ ** سید عبداللہ، ''اردو زبان اور نفاذِ اردو''، ص: 112۔ * سچی تحقیق (Research) ایک صبر طلب عبادت ہے جس میں ذاتی پسند و ناپسند، جذباتیت اور مبالغہ آرائی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ محقق کا اصل سرمایہ صرف اور صرف غیر جانبدار حقائق ہوتے ہیں۔ ** سید عبداللہ، ''مباحث''، ص: 88۔ * کلاسیکی ادب کا مطالعہ صرف ماضی پرستی نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے عہد کی فکری تعمیر کے لیے اس بنیادی ورثے سے روشنی حاصل کرنا ہے جس پر ہماری پوری تہذیب کھڑی ہے۔ ** سید عبداللہ، ''طیفِ اقبال'' (مقدمہ)، ص: 15۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:ماہرین تعلیم]] [[زمرہ:1906ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1986ء کی وفیات]] acq6ejtj0eg47846o2a72tiagdo0lpv 14946 14912 2026-07-01T03:00:49Z Shadabgdg 2947 14946 wikitext text/x-wiki '''[[w:سید عبد اللہ|ڈاکٹر سید عبداللہ]]''' (5 اپریل 1906ء – 14 اگست 1986ء) برصغیر کے ممتاز محقق، نقاد اور ماہرِ تعلیم تھے۔ انہوں نے اورینٹل کالج لاہور کے پرنسپل اور مجلسِ ترقیِ ادب کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کی تحریروں میں علمی تنقید، تحقیق اور اردو زبان کے فروغ کے موضوعات نمایاں ہیں۔ == اقتباسات == * تنقید کا اصل منصب صرف الفاظ کی ظاہری خوبصورتی پرکھنا نہیں، بلکہ ادب کے باطنی محاسن اور ان تہذیبی اقدار کو آشکار کرنا ہے جن پر ایک زندہ معاشرے کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ *: سید عبداللہ، ''اشاراتِ تنقید''، مکتبہ خیابانِ ادب، لاہور۔ * اعلیٰ علوم کی تدریس کو مادری زبان سے جدا کرنا قومی غیرت اور ذہنی آزادی کے اصولوں کے صریحاً منافی ہے، کیونکہ غیر زبان کبھی تخلیقی فکر کی سچی امین نہیں ہو سکتی۔ *: سید عبداللہ، ''اردو زبان اور نفاذِ اردو''، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور۔ * تحقیق محض پرانی کتابوں کی اندھی تقلید کا نام نہیں، بلکہ یہ تو گزرے ہوئے زمانوں کے فکری آثار کی غیر جانبدارانہ تلاش اور علمی سچائی کی بازیافت کا ایک کٹھن سفر ہے۔ *: سید عبداللہ، ''مباحث''، مغربی پاکستان اردو اکیڈمی، لاہور۔ * کلاسیکی ادب کی طرف رجوع کرنا ماضی کی اندھی پرستش نہیں ہے، بلکہ اپنے اس قدیم سرمائے سے بصیرت حاصل کرنا ہے جس کے بغیر نئے عہد کی فکری تعمیر ممکن ہی نہیں۔ *: سید عبداللہ، ''طیفِ اقبال''، باذوق پریس، لاہور۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:1986ء کی وفیات]] gyas7ozc8x56q70ite5dx8ro06yx2rq چیسلاو میلوش 0 5798 14931 2026-06-30T20:07:16Z Muntaqibah 2617 صفحہ تخلیق کیا 14931 wikitext text/x-wiki '''[[w: چیسلاو میلوش | چیسلاو میلوش]]''' ==اقتباسات== ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} gyevdr2dhcu14qczdvce48bmfa9d5kw 14933 14931 2026-06-30T20:11:24Z Muntaqibah 2617 /* */ اضافہ 14933 wikitext text/x-wiki '''[[w: چیسلاو میلوش | چیسلاو میلوش]]''' 30 جون 1911 – 14 اگست 2004) ایک پولش شاعر اور مضمون نگار تھے، جنہیں 1980 میں ادب کا نوبل انعام دیا گیا تھا ==اقتباسات== ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} psyxj1rs3p0bdt9ddp6jousnvsq2j1f 14934 14933 2026-06-30T20:12:23Z Muntaqibah 2617 /* */ تصویر شامل کی 14934 wikitext text/x-wiki '''[[w: چیسلاو میلوش | چیسلاو میلوش]]''' 30 جون 1911 – 14 اگست 2004) ایک پولش شاعر اور مضمون نگار تھے، جنہیں 1980 میں ادب کا نوبل انعام دیا گیا تھا- [[File:Czeslaw Milosz 3 ap.tif|thumb|I [[understood]] more or less <br /> an order or an appeal in an unearthly tongue: <br /> [[day]] draws near <br /> another one <br /> do what you can.| چیسلاو میلوش]] ==اقتباسات== ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} npmj2n60nnc9u9ycsuswi33pk708nyr 14936 14934 2026-06-30T20:13:43Z Muntaqibah 2617 /* اقتباسات */ اقتباس شامل کیا 14936 wikitext text/x-wiki '''[[w: چیسلاو میلوش | چیسلاو میلوش]]''' 30 جون 1911 – 14 اگست 2004) ایک پولش شاعر اور مضمون نگار تھے، جنہیں 1980 میں ادب کا نوبل انعام دیا گیا تھا- [[File:Czeslaw Milosz 3 ap.tif|thumb|I [[understood]] more or less <br /> an order or an appeal in an unearthly tongue: <br /> [[day]] draws near <br /> another one <br /> do what you can.| چیسلاو میلوش]] ==اقتباسات== * ہر شاعر اُن نسلوں کا مقروض ہوتا ہے جنہوں نے اس کی مادری زبان میں اس سے پہلے لکھا۔ وہ اُن اسالیب اور شعری ہیئتوں کا وارث بنتا ہے جنہیں اس سے پہلے آنے والوں نے پروان چڑھایا۔ لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی محسوس کرتا ہے کہ اظہار کے وہ پرانے ذرائع اس کے اپنے تجربات کو مکمل طور پر بیان کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} khckk8nwq1lylq0d8r6y31yfhzja7js 14939 14936 2026-06-30T20:15:25Z Muntaqibah 2617 /* اقتباسات */ حوالہ شامل کیا 14939 wikitext text/x-wiki '''[[w: چیسلاو میلوش | چیسلاو میلوش]]''' 30 جون 1911 – 14 اگست 2004) ایک پولش شاعر اور مضمون نگار تھے، جنہیں 1980 میں ادب کا نوبل انعام دیا گیا تھا- [[File:Czeslaw Milosz 3 ap.tif|thumb|I [[understood]] more or less <br /> an order or an appeal in an unearthly tongue: <br /> [[day]] draws near <br /> another one <br /> do what you can.| چیسلاو میلوش]] ==اقتباسات== * ہر شاعر اُن نسلوں کا مقروض ہوتا ہے جنہوں نے اس کی مادری زبان میں اس سے پہلے لکھا۔ وہ اُن اسالیب اور شعری ہیئتوں کا وارث بنتا ہے جنہیں اس سے پہلے آنے والوں نے پروان چڑھایا۔ لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی محسوس کرتا ہے کہ اظہار کے وہ پرانے ذرائع اس کے اپنے تجربات کو مکمل طور پر بیان کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ ** [http://nobelprize.org/nobel_prizes/literature/laureates/1980/milosz-lecture-en.html Nobel lecture] نوبل لیکچر،(8 دسمبر 1980) ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} 2a6kvllpu8g8z2ei2gyvsy6knjx9xgj 14940 14939 2026-06-30T20:16:24Z Muntaqibah 2617 /* اقتباسات */ اقتباس شامل کیا 14940 wikitext text/x-wiki '''[[w: چیسلاو میلوش | چیسلاو میلوش]]''' 30 جون 1911 – 14 اگست 2004) ایک پولش شاعر اور مضمون نگار تھے، جنہیں 1980 میں ادب کا نوبل انعام دیا گیا تھا- [[File:Czeslaw Milosz 3 ap.tif|thumb|I [[understood]] more or less <br /> an order or an appeal in an unearthly tongue: <br /> [[day]] draws near <br /> another one <br /> do what you can.| چیسلاو میلوش]] ==اقتباسات== * ہر شاعر اُن نسلوں کا مقروض ہوتا ہے جنہوں نے اس کی مادری زبان میں اس سے پہلے لکھا۔ وہ اُن اسالیب اور شعری ہیئتوں کا وارث بنتا ہے جنہیں اس سے پہلے آنے والوں نے پروان چڑھایا۔ لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی محسوس کرتا ہے کہ اظہار کے وہ پرانے ذرائع اس کے اپنے تجربات کو مکمل طور پر بیان کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ ** [http://nobelprize.org/nobel_prizes/literature/laureates/1980/milosz-lecture-en.html Nobel lecture] نوبل لیکچر،(8 دسمبر 1980) * انسانی وجود میں بظاہر ایک بڑا نقص پایا جاتا ہے: وہ خود کو محض ایک مادی شے یا کٹ پتلی سمجھے جانے کو بالکل پسند نہیں کرتا۔ اس کے لیے اس احساس کو برداشت کرنا انتہائی دشوار ہوتا ہے کہ وہ اوپر سے مسلط کردہ تبدیلیوں کے سامنے بے بس ہو کر سرِ تسلیم خم کر لے۔ ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} btzkv489s1z8xmf6lwv80uvtjgjpbko ویکی اقتباس:آج کا اقتباس/1 جولائی 2026 4 5799 14957 2026-07-01T06:37:48Z Aafi 2411 آج کا اقتباس 14957 wikitext text/x-wiki {{Wikiquote:Quote of the day/Template | image1 = Henry Miller 1940.jpg | image1px = 222px | image2 = Brockenspecter.jpg | image2px = 272px | quote = <!-- ⨀ <br /> -->انسان کی منزل کبھی کوئی جگہ نہیں ہوتی، بلکہ چیزوں کو دیکھنے کا ایک نیا انداز ہوتی ہے۔ | author = ہینری ملر }} h1nq1wqvnl39gbquhiomkqz1kav7nvf ہینری ملر 0 5800 14958 2026-07-01T07:14:33Z Muntaqibah 2617 صفحہ تخلیق کیا 14958 wikitext text/x-wiki '''[[w: ہینری ملر | ہینری ملر]]''' (26 دسمبر 1891ء – 7 جون 1980ء) ایک امریکی ادیب اور مصور تھے۔ وہ نیم خودنوشت ناول کی ایک نئی طرز کو فروغ دینے کے لیے مشہور ہیں، جس میں کردار نگاری، سماجی تنقید، فلسفیانہ غور و فکر، شعور کی رو (Stream of Consciousness)، صریح زبان، جنسی موضوعات، حقیقتِ فوق (Surrealism) سے متاثر آزاد ربطِ خیال، اور تصوف جیسے عناصر کو یکجا کیا گیا ==اقتباسات== ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} 7j9tuscbzx96ovmnsecn2bdj0hbcaho 14959 14958 2026-07-01T07:18:32Z Muntaqibah 2617 /* */ تصویر شامل کی 14959 wikitext text/x-wiki '''[[w: ہینری ملر | ہینری ملر]]''' (26 دسمبر 1891ء – 7 جون 1980ء) ایک امریکی ادیب اور مصور تھے۔ وہ نیم خودنوشت ناول کی ایک نئی طرز کو فروغ دینے کے لیے مشہور ہیں، جس میں کردار نگاری، سماجی تنقید، فلسفیانہ غور و فکر، شعور کی رو، صریح زبان، جنسی موضوعات، حقیقتِ فوق سے متاثر آزاد ربطِ خیال، اور تصوف جیسے عناصر کو یکجا کیا گیا- [[File:Henry Miller 1940.jpg|thumb|right|Take a [[good]] look at me. [[Now]] tell me, do you [[think]] I'm the sort of fellow who gives a fuck what happens once he's [[dead]]?| مجھے اچھی طرح دیکھ لو۔ اب بتاؤ، کیا تمہیں واقعی لگتا ہے کہ میں ایسا آدمی ہوں جسے اس بات کی ذرا بھی پرواہ ہو کہ میرے مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟]] ==اقتباسات== ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} lbvandwavafinqfranxjzeuy4i0vkkb 14960 14959 2026-07-01T07:20:10Z Muntaqibah 2617 /* اقتباسات */ اقتباس شامل کیا 14960 wikitext text/x-wiki '''[[w: ہینری ملر | ہینری ملر]]''' (26 دسمبر 1891ء – 7 جون 1980ء) ایک امریکی ادیب اور مصور تھے۔ وہ نیم خودنوشت ناول کی ایک نئی طرز کو فروغ دینے کے لیے مشہور ہیں، جس میں کردار نگاری، سماجی تنقید، فلسفیانہ غور و فکر، شعور کی رو، صریح زبان، جنسی موضوعات، حقیقتِ فوق سے متاثر آزاد ربطِ خیال، اور تصوف جیسے عناصر کو یکجا کیا گیا- [[File:Henry Miller 1940.jpg|thumb|right|Take a [[good]] look at me. [[Now]] tell me, do you [[think]] I'm the sort of fellow who gives a fuck what happens once he's [[dead]]?| مجھے اچھی طرح دیکھ لو۔ اب بتاؤ، کیا تمہیں واقعی لگتا ہے کہ میں ایسا آدمی ہوں جسے اس بات کی ذرا بھی پرواہ ہو کہ میرے مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟]] ==اقتباسات== * انسان کی منزل کبھی کوئی جگہ نہیں ہوتی، بلکہ چیزوں کو دیکھنے کا ایک نیا انداز ہوتی ہے۔ ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} o4ayqtwa8d9v9ylpa9bqg6bmelh28ug