ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.1
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
اشاریہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf
252
12113
32486
32029
2026-05-06T03:35:13Z
Harry sidhuz
157
/* ਸੋਧਣਾ */
32486
proofread-index
text/x-wiki
{{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template
|Type=book
|Title=Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila
|Language=ur
|Volume=
|Author=mazhar-ali-khan-wila
|Translator=
|Editor=
|Illustrator=
|School=
|Publisher=
|Address=
|Year=
|Key=
|ISBN=
|OCLC=
|LCCN=
|BNF_ARK=
|ARC=
|DOI=
|Source=pdf
|Image=1
|Progress=C
|Transclusion=no
|Validation_date=
|Pages=<pagelist />
|Volumes=
|Remarks=
|Width=
|Header=
|Footer=
|tmplver=
}}
fcjzmkyx5i2e1k22m9pv70repqprfp1
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/39
250
13113
32487
32427
2026-05-06T04:09:01Z
Taranpreet Goswami
90
/* پروف خوانی شدہ */
32487
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{center|'''دیو کا راجہ کے لشکر کو کھانا اور راجہ کا چور کو پکڑ لانا'''}}
بھاگا جاتا تھا کہ چور نے للکارا تو راجپوت ہو کر لڑائی سے بھاگتا ہے یہ سنتے ہی راجہ پھر ا کھڑا ہوا اور وہ دونون مقابل ہو جنگ کرنے لگے آخر کار راجہ اسے گرفتار کر مشکین باندھ نگر مین لے آیا پھر اس کو نہلوا دھلوا اچھے اچھے کپڑے پہنا ایک اونٹ پر بٹھلا ڈھنڈھورا ساتھ کر ساری نگری کے پھیرنے کو بھیجا اور سولی اسکے واسطے کھڑی کرنے کا حکم دیا شہر کے لوگون مین سے جو اسے دیکھتا تھا سو کہتا تھا کہ اسی چور نے تمام نگر کو لوٹا ہے اور اب اسے راجہ سولی دیگا جبکہ دھرم دھوج سیٹھ کی حویلی کے نیچے وہ چور گیا تو اس سیٹھ کی بیٹی نے ڈھنڈھوریے کی آواز سُن اپنی داسی سے پوچھا کہ کاہے کی ڈونڈی باجتی ہے وہ بولی جو چور اس نگر مین چوری کرتا تھا اسے راجہ پکڑ لایا ہے اب سولی دیگا یہ سنکے دیکھنے کو وہ بھی دوڑی آئی چور کا روپ جوبن دیکھتے ہی فریفتہ ہو گئی اور اپنے باپ سے آکر کہا تم اسوقت راجہ کے پاس جاؤ اور اس چور کو چھوڑا لاؤ سیٹھ بولا کہ جس چور نے راجہ کا تمام نگر موسا ہو اور جس لیے ساری فوج کٹی اسکو میرے کہے سے کیونکر چھوڑیگا پھر اسنے کہا جو تمھارے سب کچھ دیے سے بھی راجہ اسے چھوڑ دے تو ترنت تم اسے چھوڑا لاو اور جو وہ نہ آویگا تو مین بھی اپنی جان دیدونگی یہ سُن سیٹھ نے راجہ سے جا کر کہا مہاراج پانچ لاکھ روپئے مجھ سے لے لیجئے اور اس چور کو چھوڑ دیجئے راجہ بولا اس چور نے سارا نگر موسا اور تمام لشکر اس کے سبب سے غارت ہوا اسے مین کسطرح چھوڑ دونگا جب راجہ نے اسکی بات نہ مانی ناچار پھر یہ اپنے گھر کو آیا اور اپنی بیٹی سے کہا جتنا کہنے کا دھرم تھا اتنا مین نے کہا لیکن راجہ نے نہ مانا اتنے عرصاً
مین چور کو نگری کے پھیرے دلوا کر سولی کے پاس لا کر کھڑا کیا اور چور نے اس بنئے کی بیٹی کا احوال جو سنا تو کھلکھلا کر ہنسا پھر ڈکرا ڈکرا رونے لگا اتنے مین لوگون نے اسے سولی پر کھینچ لیا اور بنئے کی بیٹی اسکے مرنے کی خبر سن کے ستی ہونے کے لیے اس جگہ پر ائی چتا بنوا اور اسمین بیٹھ اس چور کو سولی سے اتار اسکا سر گود مین رکھ جلنے کو بیٹھا چاہتی تھی کہ اسمین آگ دلوا دے اتفاقاً وبان ایک دیبی کا مندر تھا اسمین سے<noinclude></noinclude>
bkohoycaa5im7vkzx32dy1nken91su8
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/47
250
13121
32484
32483
2026-05-05T17:40:33Z
Charan Gill
46
32484
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>ناگ جو میرا بیٹا ہے تسکی آج باری ہے اسے گڑڑ کھاوےگا اس دکھ سے مین روتی ہون اُن نے کہا اے ماتا مت رو تیرے بدلے مین اپنا پران دون گا بڑھیا بولی ایسا مت کیجو تو ہی میرا سنکھ چوڑ ہے یہ کہتی تھی کہ اتنے مین سنکھ چوڑ بھی آپہونچا اور اس سے سنکر کہا اے مہاراج مجھے سے دردری بہت سے پیدا ہوتے ہین اور مرتے مین پر آپ سے دھرماتما دیاونت سنسار مین گھڑی گھڑی پیدا نہین ہوتے اس سے آپ میرے بدلے اپنا جی نہ دیجئے کیونکہ آپ کے جینے سے لاکھون آدمیون کا اپکار ہوگا اور میرا جینا مرنا دونون برابر ہے تب جیموت بامن بولا کہ یہ ست پرشون کا دھرم نہین ہے جو کہ سر کمک نہ کرین تو جہان سے آیا ہو وہان چلا جا یہ سنکے سنکھ جوڑ تو دیبی کے درشن کو گیا اور آکاس سے گڑڑ اترا اتنے مین راجکمار دیکھتا کیا ہے کہ پاؤُن تو اسکے چار بانس برابر ہین اور تاڑ سے لنبی چونچ پہاڑ کے سمان پیٹ پھاٹک کے مانِند آنکھین اور گھٹا کے سمان بال چونچ کھولکر ان پر پر وڈا اپنے پرنے اپنے تین بچایا پر دوسری بار
وہ چونچ مین رکھ اسکو لے اڑا اور چکر مارنے لگا اتنے مین ایک بازوبند کہ اسکے نگ پر راجہ کا نام کھدا
ہوا تھاوہ کھلکہ ہم بھرا راج کینیا کے سامنے گرا وہ اسکو دیکھ کر پو چھا کھا کر گر پڑی جب ایک گھڑی کے
بعد موش مین آئی تو اسنے سب احوال اپنے ماتا پتا سے کہلا بھیجا وہ یہ صیبت شکر آئے اور لہو سے بھر بازدید
دیکھ روئے پھر یون آدمی ڈھونڈھنے نکلے کہ رستے مین انھین سنکہ جو بھی بلا اور انسے بڑھکر اکیلا دہران
گیا جہان راجگا کو دیکھاتھا اور چار چار کنے لگا اس گڑ چھوڑ دے یہ تیرا نکش نہین ہو سکہ چوڑ میل نام کی
مین تیر میکش ہون یہ شکر گڑ گھر گرگیا اور اپنے جی مین سوچابہ مین یا چھتری مین نے کھایا یہ کیا کیا این
راج پیر سے کہا اے پرش بسیج کو کس لیے اپنا جی دیتا ہو راجکمار بولا اے
گراڈ پر چھایا کرتے مین عورت کے
اوپر اور آپ دھوپ مین بیٹھتے پھولتے پھلتے ہین پرائے واسطے بھلے لوگون اور برکسون کا یہی دھرم ہی
جو یہ زندگی غیر کے کام نہ آوے تو اس شرر سے کیا پر دین ہر شل مشہور ہو کہ جون جون چندن کو گی
ہین تون تون دونی سگندھ دیتا ہو اور جون جون جھیل کاٹ لٹکڑے کرتے ہین تون تون ایکھ ادھک
ادھک مواد دیتا ہو جون جون پنجن کو جلاتے ہین تون تون چگدار ہوتا جاتا ہر تھے اور مین جان جانے سے
بھی اپنی نیک عادت نہین چھوڑتے انہین کسی نے بھیل کا تو کیا اور کہا کا تو کیا دولت ہی تو یا جونہ ہی تو کیا ابی
مرے تو کیا اور مرت کے بعد مرے تو کیا جولوگ نیاؤ کی راہ پر چلتے ہی کچھ ہو اور اہ پر قدم نہین دھرتے
تو کیا ہوا جو موٹے ہوئے بادلے غرض جسکے شریر اپکا نہ ہو سکی زندگی بیکار اور پرانے ارتھے جنکا جنون رہین
اپنے مین سوجے سدا سیکنڈ اس کرتے مین گڑ بولا دنیا مین سب اپنی جان کی رکشا کرتے ہین اور اپنے<noinclude></noinclude>
8en4sskge0x2fvp25ghgirkgyoph98c
32485
32484
2026-05-05T23:46:09Z
Charan Gill
46
32485
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>ناگ جو میرا بیٹا ہے تسکی آج باری ہے اسے گڑڑ کھاوےگا اس دکھ سے مین روتی ہون اُن نے کہا اے ماتا مت رو تیرے بدلے مین اپنا پران دون گا بڑھیا بولی ایسا مت کیجو تو ہی میرا سنکھ چوڑ ہے یہ کہتی تھی کہ اتنے مین سنکھ چوڑ بھی آپہونچا اور اس سے سنکر کہا اے مہاراج مجھے سے دردری بہت سے پیدا ہوتے ہین اور مرتے مین پر آپ سے دھرماتما دیاونت سنسار مین گھڑی گھڑی پیدا نہین ہوتے اس سے آپ میرے بدلے اپنا جی نہ دیجئے کیونکہ آپ کے جینے سے لاکھون آدمیون کا اپکار ہوگا اور میرا جینا مرنا دونون برابر ہے تب جیموت بامن بولا کہ یہ ست پرشون کا دھرم نہین ہے جو کہ سر کمک نہ کرین تو جہان سے آیا ہو وہان چلا جا یہ سنکے سنکھ جوڑ تو دیبی کے درشن کو گیا اور آکاس سے گڑڑ اترا اتنے مین راجکمار دیکھتا کیا ہے کہ پاؤُن تو اسکے چار بانس برابر ہین اور تاڑ سے لنبی چونچ پہاڑ کے سمان پیٹ پھاٹک کے مانِند آنکھین اور گھٹا کے سمان بال چونچ کھولکر راج پتر پر دوڑا پہلے پتر نے اپنے تئین بچایا پر دوسری بار وہ چونچ مین رکھ اسکو لے اڑا اور چکر مارنے لگا اتنے مین ایک بازوبند کہ اسکے نگ پر راجہ کا نام کھدا
ہوا تھا وہ کھلکر لہو بھرا راج کنیا کے سامنے گرا وہ اسکو دیکھ کر موچھا کھا کر گر پڑی جب ایک گھڑی کے بعد ہوش مین آئی تو اسنے سب احوال اپنے ماتا پتا سے کہلا بھیجا وہ یہ یصبت شنکر آئے اور لہو سے بھرا بازوبند
دیکھ روئے پھر تینون آدمی ڈھونڈھنے نکلے کہ رستے مین انھین سنکھ جوڑ بھی ملا اور اسنے بڑھکر اکیلا وہان گیا جہان راجکار کو دیکھا تھا اور پکار پکار کہنے لگا اے گڑڑ چھوڑ دے یہ تیرا بھکش نہین ہے سنکھ چوڑ میرا نام ہے مین تیرا بھکش ہون یہ شنکر گڑڑ گبھرا کر گرا اور اپنے جی مین سوچا برہمن یا چھتری مین نے کھایا یہ کیا کیا اس راج پتر سے کہا اے پرش سچ کہہ کس لیے اپنا جی دیتا ہے راجکمار بولا اے گڑڑ برکس چھایا کرتے ہین دوسرون کے اوپر اور آپ دھوپ مین بیٹھتے پھولتے پھلتے ہین پرائے واسطے بھلے لوگون اور برکسون کا یہی دھرم ہے جو یہ زندگی غیر کے کام نہ آوے تو اس شریر سے کیا پروجن ہے شل مشہور ہے کہ جون جون چندن کو گی
ہین تون تون دونی سگندھ دیتا ہو اور جون جون جھیل کاٹ لٹکڑے کرتے ہین تون تون ایکھ ادھک
ادھک مواد دیتا ہو جون جون پنجن کو جلاتے ہین تون تون چگدار ہوتا جاتا ہر تھے اور مین جان جانے سے
بھی اپنی نیک عادت نہین چھوڑتے انہین کسی نے بھیل کا تو کیا اور کہا کا تو کیا دولت ہی تو یا جونہ ہی تو کیا ابی
مرے تو کیا اور مرت کے بعد مرے تو کیا جولوگ نیاؤ کی راہ پر چلتے ہی کچھ ہو اور اہ پر قدم نہین دھرتے
تو کیا ہوا جو موٹے ہوئے بادلے غرض جسکے شریر اپکا نہ ہو سکی زندگی بیکار اور پرانے ارتھے جنکا جنون رہین
اپنے مین سوجے سدا سیکنڈ اس کرتے مین گڑ بولا دنیا مین سب اپنی جان کی رکشا کرتے ہین اور اپنے<noinclude></noinclude>
j27tez6jwjgjrvvuuc1zmxkw7w86z2w
32489
32485
2026-05-06T10:40:52Z
BalramBodhi
60
32489
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>ناگ جو میرا بیٹا ہے تسکی آج باری ہے اسے گڑڑ کھاوےگا اس دکھ سے مین روتی ہون اُن نے کہا اے ماتا مت رو تیرے بدلے مین اپنا پران دون گا بڑھیا بولی ایسا مت کیجو تو ہی میرا سنکھ چوڑ ہے یہ کہتی تھی کہ اتنے مین سنکھ چوڑ بھی آپہونچا اور اس سے سنکر کہا اے مہاراج مجھے سے دردری بہت سے پیدا ہوتے ہین اور مرتے مین پر آپ سے دھرماتما دیاونت سنسار مین گھڑی گھڑی پیدا نہین ہوتے اس سے آپ میرے بدلے اپنا جی نہ دیجئے کیونکہ آپ کے جینے سے لاکھون آدمیون کا اپکار ہوگا اور میرا جینا مرنا دونون برابر ہے تب جیموت باہن بولا کہ یہ ست پرشون کا دھرم نہین ہے جو مکھسے کہکر نہ کرین تو جہان سے آیا ہو وہان چلا جا یہ سنکے سنکھ جوڑ تو دیبی کے درشن کو گیا اور آکاس سے گڑڑ اترا اتنے مین راجکمار دیکھتا کیا ہے کہ پاؤُن تو اسکے چار بانس برابر ہین اور تاڑ سے لنبی چونچ پہاڑ کے سمان پیٹ پھاٹک کے مانِند آنکھین اور گھٹا کے سمان بال چونچ کھولکر راج پتر پر دوڑا پہلے پتر نے اپنے تئین بچایا پر دوسری بار وہ چونچ مین رکھ اسکو لے اڑا اور چکر مارنے لگا اتنے مین ایک بازوبند کہ اسکے نگ پر راجہ کا نام کھدا ہوا تھا وہ کھلکر لہو بھرا راج کنیا کے سامنے گرا وہ اسکو دیکھ کر مورچھا کھا کر گر پڑی جب ایک گھڑی کے بعد ہوش مین آئی تو اسنے سب احوال اپنے ماتا پتا سے کہلا بھیجا وہ یہ مصیبت سنکر آئے اور لہو سے بھرا بازوبند
دیکھ روئے پھر تینون آدمی ڈھونڈھنے نکلے کہ رستے مین انھین سنکھ جوڑ بھی ملا اور انسے بڑھکر اکیلا وہان گیا جہان راجکمار کو دیکھا تھا اور پکار پکار کہنے لگا اے گڑڑ چھوڑ دے یہ تیرا بھکش نہین ہے سنکھ چوڑ میرا نام ہے مین تیرا بھکش ہون یہ سنکر گڑڑ گبھرا کر گرا اور اپنے جی مین سوچا برہمن یا چھتری مین نے کھایا یہ کیا کیا اس راج پتر سے کہا اے پرش سچ کہہ کس لیے اپنا جی دیتا ہے راجکمار بولا اے گڑڑ برکس چھایا کرتے ہین دوسرونکے اوپر اور آپ دھوپ مین بیٹھتے پھولتے پھلتے ہین پرائے واسطے بھلے لوگون اور برکسون کا یہی دھرم ہے جو یہ زندگی غیر کے کام نہ آوے تو اس شریر سے کیا پروجن ہے مشل مشہور ہے کہ جون جون چندن کو گھستے ہین تون تون دونی سگندھ دیتا ہے اور جون جون چھیل کاٹ ٹکڑے کرتے ہین تون تون ایکھ ادھک ادھک سواد دیتا ہے جون جون کنچن کو جلاتے ہین تون تون چمکدار ہوتا جاتا ہے بھلے لوگ جو ہین جان جانے سے بھی اپنی نیک عادت نہین چھوڑتے انہین کسی نے بھلا کہا تو کیا اور بُرا کہا تو کیا دولت رہی تو کیا جو نہ رہی تو کیا ابھی مرے تو کیا اور مدّت کے بعد مرے تو کیا جو لوگ نیاؤ کی راہ سے چلتے ہین کچھ ہو اور راہ پر قدم نہین دھرتے تو کیا ہوا جو موٹے ہوئے بادلے غرض جسکے شریر سے اپکار نہ ہو اسکی زندگی بیکار ہے اور برانے ارتھ جنکا جیو ہے انھین کا جینا سفل ہے یون تو کنّا کو ابھی اپنا جی پالنا ہے جو برہمن گؤ متر استری کے خاطر بلکہ بیگانے کیواستے جی
اپنے مین سوجے سدا بیکنٹھ باس کرتے ہین گڑڑ بولا دنیا مین سب اپنی جان کی رکشا کرتے ہین اور اپنے<noinclude></noinclude>
9hyb9mj0i3rwkayad6e06aj2t76ykrd
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/216
250
13137
32488
32476
2026-05-06T09:42:52Z
~2026-27540-63
195
32488
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|۲۱۰}}</noinclude>اس طرح سمندر کو سہمی ہوئی نظروں سے
دیکھتے رہوگے؟ تم میں سے کوئی اتنی ہمت
نہیں رکھتا کہ سمندر کو تیر کر لنکا تک جائے ؟
انگر نے کہا " میں تیر کر جا تو سکتا ہوں
پر شاید لوٹ کر نہ آ سکوں گی
8
نل نے کہا یہ نہیں تیر کر جا تو سکتا ہوں۔
پر شاید لوٹتے وقت آدھی دُور آتے
آتے بے دم ہو جاؤں :
رنیل بولا " جا تو میں بھی سکتا ہوں اور
شاید یہاں تک لوٹ بھی آؤں ۔ مگر
لنکا میں سیتا جی کا پتہ لگا سکوں اس
کا مجھے یقین نہیں" :
اسی طرح سبھوں نے اپنی اپنی ہمت
اور طاقت کا اندازہ لگایا ۔ مگر ہنومان جی
ابھی تک خاموش بیٹھے تھے ۔ جامونت نے اُن
سے بھی پوچھا یہ تم کیوں چپ ہو بھگت جی؟
بولتے کیوں نہیں ؟ کچھ تم سے بھی ہو سکیگا ؟<noinclude></noinclude>
8i6lmaw5l474iu6lj371mbjnoc3j8cu