ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.1 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/64 250 12712 32492 30830 2026-05-07T03:52:51Z Tamanpreet Kaur 81 32492 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|۶۳}}</noinclude>تیمی بیتیان پیو کے سررمین میٹھوں تو سکھ سے جوگ کردن یہ سوچ کر اس لڑکے کے شریرین آکروٹ لے رام کرشن کا ایسا اٹھ بیٹھا جسے کوئی سونے سے اٹھ بیٹھے یہ دیکھ تمام لوگ چنبے میں ہو اپنے گر آئے اور اسکے باپ کو یہ اچرج دیکھ میرا ہوا تو پہلے ہنسا اور پچھے رویانی کتھا کہ میاں ہوا اور راجہ گرم در کیوں پہنتا اور کیوں کیا تب راجہ نے کہا جوگی کو اسکے شریرمیں جاتے دیکھا دریہ بریا سیلک کر نا اور اپنے شہر کے چھوٹنے کی ہو ہو رہا کہ ایک بیٹی مجھے بھی اپنا ر ر چھوتا ہر بین بال پھر سی درخت پر انکا اور راجہ بھی پینے کا دھی پر کہ سیچلا۔ انچوین کراتی ] بیتال بولا اے راجہ کشن و شامین دھرم پور نگر ہو وہ ان کے راجہ کا نام بابل تھا ایک سے اس دیس کا دوسرا سمعنا ناچار ہمورات کے وقت رانی کو بیٹی سمیت ساتھ سے جنگل میں پھیل گیا جب کئی ایک کوس بن میں پہونچا تو پر بھات ہوا اور ایک گائوں نظر آیات رانی اور راج کنیا کو ایک پیڑ تلے سیٹھلا آپ کانون کی طرف کھانے کا سامان لینے کوچلا تھاکہ اتنے میں پہیلیوں نے گھر اور کہا ہتھیار ڈال دی یہ شکر راجہ نے تیر مارنا شروع کیا اور ادھر سے انھوں نے پہلاج ایک پر لڑائی رہی اور کتنے ایک لوک میلیون کے ہار گئے اپنے ین ایک تیر راجہ کے کیال میں ایسا نگا ہ تھا اریٹیریا اور ایک نے راجہ کا سر کاٹ لیا جب پرانی اور رانا نے راجہ کو ملا دیکھا اور ونی بینی الی بن کو چلین اس طرح سر کوس دو کوس چل باندی ہو کر ٹھین اور انیک انیک بھانت کی چنتا کرنے لگیں اتنے میں چند سین نام راجا در اسکا بیٹا دونوں شکار کھیلتے ہوئے جنگل مین آنکلے اور دونون کے پانوں چندہ دیکھ راجہ نے اپنے پیر سے کہا کہ اس مہابن میں آدمی کے بانون کے نشان کہان سے آئے راج پیر نے کہا ماراج یہ چرن استری کے بین پرش کا پاکنون ایسا بھونین ہو تا راجہ نے کہا سچ ہوا ایسا کو مل چرن پرش کا نہیں ہوتا پھر اج تیر نے کہا اسی سے گئی ہیں راجہ نے کہا چلواس بن مین ڈھونڈھین جولین توجس کایہ بڑا پائون ہو سو مجھے دودن گا اور دوسری میں لوں گا سیٹ نہیں کچن بند ہو آگے جا دیکھیں تو دونوں بیٹھی ہوئی ہیں انھیں دیکھ خوش ہو موافق قرار کے اپنے اپنے گھر کے پانی کو راجکمارنے رکھا اور راج کیا کو راجہ نے اتنی کتھاکہ متال بولا او راجہ کوم ان دونوں کے آئے میر ان دونوں لڑکوں کا آپس مین کیانا تا ہو گا ی سن را جل گیان ہوچپ ہورہاپھر خیال خوش ہو بولا اے راجہ بکر میں تیری بترا اور انہیں دیکھات پرشن ہوا پر ایک بت میں مجھ سر کہتا ہوں سو اوشن کہ جسکے شریر کے دو متمان انٹو کے اور نیند کا کھرسی اور نامرات نہیں ہو تیری نگرمی آیا ہواور مجھ سے میرے لیے کوبھیجا اوراپ بیٹھا ر گھٹ میں بہت جگا رہاہواور تجھے پر چاہتا ہوا لے میں اتار دیتا ہوں کہ نہ ہو ا کرنے کا تجھے کیا ا ایران<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> qg9bcb1c0nyjkioe9ryo0d2tj27p4lb صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/40 250 13114 32493 32433 2026-05-07T04:38:46Z Taranpreet Goswami 90 /* پروف خوانی شدہ */ 32493 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{c|۲۹}}</noinclude>ترنت دیبی نکل کر بولی اے بیٹی مین بہت خوش ہوئی تیری ہمت پر تو بر مانگ وہ بولی ماتا جو تو مجھ سے سنتشٹ ہوئی ہے تو اس چور کو جی دان دے پھر دیبی بولی اسی طرح ہوگا یہ کہہ پتال سے امرت لا کر چور کو جلا دیا اتنی کتھا کہہ بیتال نے پوچھا اے راجہ بتاؤ کہ چور پہلے کِس کارن ہنسا اور پیچھے کِس لیے روپا راجہ نے کہا جس واسطے وہ ہنسا وہ باعث مین جانتا ہون اور جس لیے وہ رویا وہ بھی مجھے معلوم ہے سن بیتال چور نے جی مین بچارا یہ جو میرے واسطے اپنا سب کچھ دیتی ہے اب اسکا مین کیا اپکار کرونگا یہ سمجھ کر وہ رویا پھر اپنے من مین بچارا کہ مرنے کے سمے اپنے پریت کی بھگوان کی کچھ گتِ جانی نہین جاتی دیکھو وہ کلچھّن کو لکشمی دے کل ہین کو بدیا مورکھ کو دے سندر استری پہاڑ پر برسا دے برکھا ایسی ایسی باتین سوچکر ہنسا یہ سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ پھر وہان گیا اور اسے کھول گٹھری باندھ کاندھے رکھ لیچلا {{center|'''چودہوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ بکرم کسماوتی نام ایک نگر ہے وہان کا سوبچار نام راجہ جسکی بیٹی کا نام چندر پربھا تھا جب وہ بر جوگ ہوئی تب ایک دِن بسنت رت مین سکھیون کو ساتھ لے سیر باغ کو گئی وہان زنانے کے بندوبست سے پہلے ایک برہمن کا لڑکا برس بیس کا بہت خوبصورت منسوی نام کہین سے پھرتا ہوا اس باغ مین ایک درخت کے نیچے ٹھنڈی چھاؤن پا کے سو رہا تھا راجہ کے لوگون نے آ اس باڑی مین زنانے کا بندوبست کیا پر اتفاقاً اس برہمن کے لڑکے کو کسی نے نہ دیکھا اور وہ اس درخت کے نیچے سوتا رہا اور راج کنیان اپنی سہیلیون سمیت باغ مین داخل ہوئی سہیلیون کے ساتھ سیر تماشا دیکھتی ہوئی کہان آتی ہے کہ جہان وہ لڑکا سوتا تھا اسکا وہان پہونچنا کہ وہ لوگون کے پائون کی آہٹ سے اٹھ بٹھا دونون کی چار نظرین ہوئین اور کام دیو کے ایسے بس ہوۓ کہ ادھر برہمن کا لڑکا غش کھاکر گر زمین پر گرا ادھر بے سُدہ ہو راج کنیا کے پائون کاپنے لگے پر وہین اسے سکھیون نے ہاتھون ہاتھ تھام لیا آخرکار {{center|'''چندر بھان کا سیر باغ کو سکھیون سمیت جانا اور ایک برہمن کا درختونکی آڑ سے اسے دیکھکر غش ہونا'''}}<noinclude></noinclude> mxniixuj4ug74eihrcsup9evp8t1t1h صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/48 250 13120 32491 32440 2026-05-06T17:09:26Z Charan Gill 46 32491 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>جی سے دوسرے جی کو بچانے والے سنسار مین بہی ہوتے ہین بر مانگن مین تیرے ساہس پرسن تشٹ ہوا یہ سن کے جیموت باہن نے کہا اے دیو جو تم میرے اوپر خوش ہوئے تواب ناگون کو مت کھاؤ اور جو کھائے مین نھین جلاد و بیسن گڑڑ نے پاتال سے امرت لاگر سانیون کے ہاڑون پر چھڑکا کہ پھروہ سب جی اٹھے اور اس سے کہا کہ اے جیوت باہن میرے پرساد سے تیرا کیا جو ان پر تھے لے گایہ برو سے لڑا اپنے استھان پر گیا اور سنکھ چوڑاپنے دمعام کو گیا اور موت یا مین بھی وہان سے چلا راہ مین اسکا فراور ساس اور استری کی پھر ان سمیت اپنے باپ کے پاس آیا جب یہ حوال سنا تو اسکے چار اور محرم بھائی بلکہ سارے کر کے لگ ملنے کو آئے اور پانون پر انھین لیا راج پر بھایا اسی کتھا کہ میان بولا اسے راجہ ان مین سے ست کیس کا ادھیک ہو راجہ پیر عمر با بیت نے کہا کہ چوڑ کا بتیال نے کہا کس طرح راجہ نے کہا گیا ہو اسنکھ چوڑ پھر جی دینے کو آیا اور کڑڑ کے کھانے سے بچایا مبتال بولا کہ جس نے غیر کے لیے اپنی جان دی اشکانست کیون نہ ادھیک ہو راجہ نے کہا جیموت با من ذات کا چھتری ہو اسی جنی دینے کا ابھی اس ہورہا ہو اس سے اسے جان دینی کچھ ٹین نہ معلوم دی یہ سن بال پھر ای پیٹر پر جالگا اور راجہ جاوہان سے اسے باندھ کا ندھے پر رکھ لیچا سولھوین کہانی بیتال بولا اے راجہ میر بکرماجیت چندر شیکھر نام ایک نگر ہو وہان کا رہنے والا تین دت ایک سیٹھ تھا اسکی ایک بیٹی تھی اسکا نام دھوم ہوتی تھا جب وہ جوان ہوئی تب اسکے باپ نے دہانکے راجہ سے جا کر کہا مہاراج میرے گھر مین ایک کیا ہو جو آپکو اسکی چاہ ہو تو بیچے نہین تو مین اور کسی کو دوست یہ مشن راجہ نے دو تین برائے نوکرون کو بلا کر کہا کہ اس سیٹھ کی لڑکی کے لکشن جا کر دیکھ آ وے راجہ کی آگیا سے سیٹھ کے گھر آئے اور اس لڑکی کا روپ دیکھ سبھی موت ہوئے حسن ایسا گویا اندھیرے گھر کا اجالا ا تمھین مرگ کی سی چوٹی ناگنی سی بھوین کمان کی سی ناک طوطا کی سی دانتون کی تعبیسی قوتی کی سی لڑی ہو نٹھ کندرو کے پابند گلا کبوتر کا ساتھ جیتنے کی سی ہاتھ پاکنون کومل کنول کے سے چندر بھی چپک برتی نفس گنی کو کل مینی چسکے روپ کو دیکھ اندر کی اپسرہ بھی شرمندہ ہوا سطح کی حسین کیسے علامتون سے آراستہ دیکھ انھون نے آپسیمین بچار کیا ایسی جو نادری راجہ کے گھر من جائیگی تو راجہ - آدھین ہو دیگا اور راج کلاج کی چنتا نہ کر یگا اس سے بہتر یہ کہ راجہ سے کہئے کہ وہ کو کشتی ہو آپکے جوس نہین یہ بچار کر وہا نے راجہ کے پاس آ کر انھون نے یہ عرض کیا مہا راح اس کینیا کو پہنے دیکھا ہو آپکے لائق نہین یہ نے راجہ نے سیٹھ سے کم مین یا نہ کرو گا پی ٹی نے نے گھر کا کام کا کلام جو جو ان کا مینا تھا اسکے<noinclude></noinclude> fk5veh9ie9rtb19c4q787zlleys5beq 32495 32491 2026-05-07T11:04:09Z BalramBodhi 60 32495 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>جی سے دوسرے جی کو بچانے والے سنسار مین بہی ہوتے ہین بر مانگ مین تیرے ساہس پر سنتشٹ ہوا یہ سن کے جیموت باہن نے کہا اے دیو جو تم میرے اوپر خوش ہوئے تو اب ناگون کو مت کھاؤ اور جو کھائے ہین انھین جلا دو یہ سن گڑڑ نے پاتال سے امرت لاگر سانپون کے ہاڑون پر چھڑکا کہ پھر وہ سب جی اٹھے اور اس سے کہا کہ اے جمیوت باہن میرے پرساد سے تیرا گیا ہوا راج پھر تجھے ملےگا یہ بر دے گڑڑ اپنے استھان پر گیا اور سنکھ چوڑ اپنے دھام کو گیا اور جمیوت باہن بھی وہان سے چلا راہ مین اسکا خراور ساس اور استری ملی پھر ان سمیت اپنے باپ کے پاس آیا جب یہ احوال سنا تو اسکے چچا اور چچیرے بھائی بلکہ سارے کٹمب کے لوگ ملنے کو آئے اور پانون پر انھین لیجا راج پر بٹھایا اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ ان مین سے ست کِس کا ادھِک ہوا راجہ بیر بکرما جیت نے کہا کہ سنکھ چوڑ کا بیتال نے کہا کِس طرح راجہ نے کہا گیا ہوا سنکھ چوڑ پھر جی دینے کو آیا اور کڑڑ کے کھانے سے بچایا بیتال بولا کہ جس نے غیر کے لیے اپنی جان دی اسکا ست کیون نہ ادھِک ہو راجہ نے کہا جیموت باہن ذات کا چھتری ہے اسی جی دینے کا ابھیاس ہو رہا ہے اس سے اسے جان دینی کچھ کٹھِن نہ معلوم دی یہ سن بیتال پھر پیٹر پر جا لٹکا اور راجہ جا وہان سے اسے باندھ کاندھے پر رکھ لیچلا {{center|سولھوین کہانی}} بیتال بولا اے راجہ بیر بکرماجیت چندر شیکھر نام ایک نگر ہے وہان کا رہنے والا رتن دت ایک سیٹھ تھا اسکی ایک بیٹی تھی اسکا نام دھوما وتی تھا جب وہ جوان ہوئی تب اسکے باپ نے وہانکے راجہ سے جا کر کہا مہاراج میرے گھر مین ایک کنیا ہے جو آپکو اسکی چاہ ہو تو لیجئے نہین تو مین اور کسی کو دون یہ سُن راجہ نے دو تین پرانے نوکرون کو بلا کر کہا کہ اس سیٹھ کی لڑکی کے لکشن جا کر دیکھ آؤ وے راجہ کی آگیا سے سیٹھ کے گھر آئے اور اس لڑکی کا روپ دیکھ سبھی موہت ہوئے حسن ایسا گویا اندھیرے گھر کا اجالا آنکھین مرگ کی سی چوٹی ناگنی سی بھوین کمان کی سی ناک طوطا کی سی دانتون کی بتیسی موتی کی سی لڑی ہونٹھ کندرو کے مانِند گلا کبوتر کا سا کمر جیتے کی سی ہاتھ پانون کومل کنول کے سے چندر مکھی چمپک برتی ہنس گمنی کوکل بینی جسکے روپ کو دیکھ اندر کی اپسرہ بھی شرمندہ ہو اسطرح کی حسین سب نیک علامتون سے آراستہ دیکھ انھون نے آپسمین بچار کیا ایسی جو ناری راجہ کے گھر من جائیگی تو راجہ اسکے آدھین ہوویگا اور راج کاج کی چنتا نہ کر یگا اس سے بہتر ہہ کہ راجہ سے کہئے کہ وہ کولکشنی ہے آپکے جوگ نہین یہ بچار کر وہانسے راجہ کے پاس آ کر انھون نے یہ عرض کیا مہاراح اس کنیا کو ہمنے دیکھا ہے آپکے لائق نہین یہ سنکے راجہ نے سیٹھ سے کہا مین بیاہ نہ کرونگا پھر سیٹھ نے اپنے گھر آ کیا کام کیا کہ بلبھدر جو راجہ کا سیناپت تھا<noinclude></noinclude> i4bgpor1mg7nyos0vn5qnef5rudlksl صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/47 250 13121 32490 32489 2026-05-06T14:12:56Z Charan Gill 46 32490 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>ناگ جو میرا بیٹا ہے تسکی آج باری ہے اسے گڑڑ کھاوےگا اس دکھ سے مین روتی ہون اُن نے کہا اے ماتا مت رو تیرے بدلے مین اپنا پران دون گا بڑھیا بولی ایسا مت کیجو تو ہی میرا سنکھ چوڑ ہے یہ کہتی تھی کہ اتنے مین سنکھ چوڑ بھی آپہونچا اور اس سے سنکر کہا اے مہاراج مجھے سے دردری بہت سے پیدا ہوتے ہین اور مرتے مین پر آپ سے دھرماتما دیاونت سنسار مین گھڑی گھڑی پیدا نہین ہوتے اس سے آپ میرے بدلے اپنا جی نہ دیجئے کیونکہ آپ کے جینے سے لاکھون آدمیون کا اپکار ہوگا اور میرا جینا مرنا دونون برابر ہے تب جیموت باہن بولا کہ یہ ست پرشون کا دھرم نہین ہے جو مکھسے کہکر نہ کرین تو جہان سے آیا ہو وہان چلا جا یہ سنکے سنکھ جوڑ تو دیبی کے درشن کو گیا اور آکاس سے گڑڑ اترا اتنے مین راجکمار دیکھتا کیا ہے کہ پاؤُن تو اسکے چار بانس برابر ہین اور تاڑ سے لنبی چونچ پہاڑ کے سمان پیٹ پھاٹک کے مانِند آنکھین اور گھٹا کے سمان بال چونچ کھولکر راج پتر پر دوڑا پہلے پتر نے اپنے تئین بچایا پر دوسری بار وہ چونچ مین رکھ اسکو لے اڑا اور چکر مارنے لگا اتنے مین ایک بازوبند کہ اسکے نگ پر راجہ کا نام کھدا ہوا تھا وہ کھلکر لہو بھرا راج کنیا کے سامنے گرا وہ اسکو دیکھ کر مورچھا کھا کر گر پڑی جب ایک گھڑی کے بعد ہوش مین آئی تو اسنے سب احوال اپنے ماتا پتا سے کہلا بھیجا وہ یہ مصیبت سنکر آئے اور لہو سے بھرا بازوبند دیکھ روئے پھر تینون آدمی ڈھونڈھنے نکلے کہ رستے مین انھین سنکھ جوڑ بھی ملا اور انسے بڑھکر اکیلا وہان گیا جہان راجکمار کو دیکھا تھا اور پکار پکار کہنے لگا اے گڑڑ چھوڑ دے یہ تیرا بھکش نہین ہے سنکھ چوڑ میرا نام ہے مین تیرا بھکش ہون یہ سنکر گڑڑ گبھرا کر گرا اور اپنے جی مین سوچا برہمن یا چھتری مین نے کھایا یہ کیا کیا اس راج پتر سے کہا اے پرش سچ کہہ کس لیے اپنا جی دیتا ہے راجکمار بولا اے گڑڑ برکس چھایا کرتے ہین دوسرونکے اوپر اور آپ دھوپ مین بیٹھتے پھولتے پھلتے ہین پرائے واسطے بھلے لوگون اور برکسون کا یہی دھرم ہے جو یہ زندگی غیر کے کام نہ آوے تو اس شریر سے کیا پروجن ہے مشل مشہور ہے کہ جون جون چندن کو گھستے ہین تون تون دونی سگندھ دیتا ہے اور جون جون چھیل کاٹ ٹکڑے کرتے ہین تون تون ایکھ ادھک ادھک سواد دیتا ہے جون جون کنچن کو جلاتے ہین تون تون چمکدار ہوتا جاتا ہے بھلے لوگ جو ہین جان جانے سے بھی اپنی نیک عادت نہین چھوڑتے انہین کسی نے بھلا کہا تو کیا اور بُرا کہا تو کیا دولت رہی تو کیا جو نہ رہی تو کیا ابھی مرے تو کیا اور مدّت کے بعد مرے تو کیا جو لوگ نیاؤ کی راہ سے چلتے ہین کچھ ہو اور راہ پر قدم نہین دھرتے تو کیا ہوا جو موٹے ہوئے بادلے غرض جسکے شریر سے اپکار نہ ہو اسکی زندگی بیکار ہے اور برانے ارتھ جنکا جیو ہے انھین کا جینا سفل ہے یون تو کنّا کو ابھی اپنا جی پالنا ہے جو برہمن گؤ متر استری کے خاطِر بلکہ بیگانے کیواسطے جی ایتے ہین نشچے سُدا بیکنٹھ باس کرتے ہین گڑڑ بولا دنیا مین سب اپنی جان کی رکشا کرتے ہین اور اپنے<noinclude></noinclude> 4vbpyxfvpgnm3q3ezy6kf4se7nbrs4z صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/41 250 13122 32494 32448 2026-05-07T05:18:27Z Taranpreet Goswami 90 /* پروف خوانی شدہ */ 32494 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>چنڈول مین لِٹا گھر کو لے آئین اور وہان برہمن کا لڑکا ایسا بے سُدھ پڑا تھا کہ اپنے تن من کی کچھ سُدھ نہ رکھتا تھا اس عرصہ مین دو برہمن ششی اور مول دیو نام کامردیس سے بدیا پڑھے ہوئے وہان آ نکلے مول دیو نے اس برہمن کے لڑکے کو پڑا دیکھ کر کہا اے ششی ایسا بے سُدہ یہ کیون پڑا ہے وہ بولا نائکہ نے بھوُن کی کمان سے نین کے تیر مارے ہین اس سے یہ بے سُدھ پڑا ہے مول دیو نے کہا اسے اٹھایا چاہیے اسنے کہا تمھین اٹھانے سے کیا درکار ہے اسنے ششی کا کہنا نہ مانا اور اسنے پانی چھڑک کے اٹھایا اور پوچھا تیری کیا حالت ہوئی ہے وہ برہمن بولا دکھ اس سے کہئے جو دکھ دور کرے اور جو سن کے دور نہ کر سکے اس سے کہنا کیا حاصِل وہ بولا اچھا تو اپنی پیر ہمارے آگے کہہ ہم دور کرینگے یہ سنکے وہ بولا کہ راج کنیا اپنی سکھیونکو ساتھ لیے آئی تھی سو اسکے دیکھنے سے یہ میری گت ہوئی ہے جو وہ ملیگی تو مین بھی جیو رکھونگا نہین تو پران تجونگا تب وہ بولا ہمارے استھان پر چل کہ اسکے ملنے کا ہم جتن کر دینگے اور نہین تو تجھے بہت سا دھن دینگے تب منسوی بولا کہ سنسار مین بھگوان نے بہت رتن پیدا کیے ہین پر استری رتن سب سے بہتر ہے اور اسکے لیے انسان دھن کی خواہش کرتا ہے جب ناری کو تیاگا تو دھن لیکر کیا کرونگا جن کو حسین عورت میسر نہ ہو اسنے تو دنیا مین جوان بھلے ہین دھرم کا دھن ہے پھل اور دھن کا پھل سکھ اور سکھ کا پھل ہے ناری اور جہان ناری نہین شُکھ کہا یہ سنکے مول دیو بولا جو تو مانگےگا سو دونگا تب اسنے کہا اے برہمن مجھے وہی کنیا دلا دے پھر مول دیو نے کہا اچھا تو ہمارے ساتھ چل تجھے وہی کنیا دلا دیوین گے غرض بہت سی تسلی کر اسے اپنے گھر لے گیا اور وہان جا کر دو گٹکے بنائے ایک گڑکا اس برہمن کو دے کر کہا جبّ یہ منھ مین رکھےگا تب تو بارہ برس کی کنیا ہو جائےگا اور جس وقت تو اسے منھ سے نکال لےگا تو مرد جیون کا تیون ہو جائیگا تو اسے اپنے مکھ مین رکھ اپنے جو اپنے مکھ مین رکھا تو بارہ برس کی کنیا ہو گیا اور دوسرے گٹکے کو جو اسے مکھ مین رکھا تو آپ اسی برس کا ڈوکر بن گیا اور اس کنیا کو لیے ہوئے راجہ کے یہان گیا راجہ نے برہمن کو دیکھ کر ڈنڈوت کر آسن بیٹھنے کو دیا اور ایک آسن لڑکی کو بھی تب برہمن نے ایک اشلوک پڑھ اسیس دی کہ جس کی شوبھا تینون لوک مین پھیل رہی ہے اور جن نے بامن ہو راجا بل کو چھلا اور جن نے بندر ساتھ لے سمندر کا پل باندھا اور جن نے پربت ہاتھ پر رکھ کر اندر کے ہجر سے گوال بال بچائے سو ہی باسودیو تمھاری رکھشا کرے یہ سنکے راجہ نے پوچھا مہاراج آپ کہان سے پدھارے مول دیو برہمین بولا کہ گنگا پار سے مین آیا ہون اور وہی میرا گھر ہے اور مین اپنے بیٹے کی ہہو کو لینے گیا تھا پیچھے میرے گاؤن مین بھگدڑ پڑی سو مین نہین جانتا کہ برہمنی اور میرا لڑکا کہان بھاگ گئے اور اب مین اسکو ساتھ لئے ہوئے انھین کس طرح ڈھونڈون گا اس سے<noinclude></noinclude> ikiqgbm6ck7qckv5e7ce2mugdno7qq8