ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.1
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/23
250
12219
32500
28272
2026-05-08T01:57:06Z
Harry sidhuz
157
32500
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{center|۱۵
}}</noinclude>اُسوقت الیسی ابتری اور خرابی پھیلی ہوئی تھی کہ ابل شیراز کو ایک دم اطمینان نصیب نہ تھا ۔ اگرچہ
اتابک سعد بن زنگی نهایت عادل رحم دل بامروت اور فیاض بادشاہ تھا مگر اُس کی طبیعت مین اولُو العَزمی حد سے زیادہ تھی۔ اکثر شیراز کو خالی چھوڑ کر عراق کی حدود مین لشکرکشی کرتا رہتا تھا۔ اور اپنی مہمات کے شوق مین ممالک محروسہ کو بالکل فراموش کر دیتا تھا۔ اُس کی غیبت کے زمانہ مین اکشر مفسد لوگ میدان خالی پاکر اطراف و جوانب سے شیراز پر چڑ آتے تھے ۔ اور قتل و غارت کر کے پلے جاتے تھے ۔ چنانچہ ساتوین صدی کے آغاز مین اول اتابک اوزبک پہلوان نے اور پھر چند روز بعد سلطان غیاث الدّین نے بہت سے لشکر کے ساتھہ آ کر
شیراز کو ایسا تاخت و تاراج کیا کہ اُسکی تباہی اور بربادی مین کوئی دقیقہ باقی نہ رہا۔ایسی حالت
مین تحصیل علم کی فرصت شیخ کو وطن مین ملنی دشوار بلکہ ناممکن تھی۔ اِسکے علاوہ امن کے زمانہ مین بھی وطن کے مکروہات اور موانع ہمیشہ تحصیلِ علم مین رخنہ انداز ہوتے ہین ۔ یہ اسباب تھے جنہون نے شیخ کو ترک وطن پر مجبور کیا ۔ چنانچہ ذیل کے اشعار مین اُس نے شیراز سے تنگ اکر بغداد جانے کا ذکر کیا ہے:
<poem>دلم از صحبت شیراز به کلی بگرفت
وقت آنست کہ پرسی خبر از بغدادم
سعدیا حب وطن گر چه حدیثیست صحیح
نتوان مُرد به سختی کہ من اینجا زادم</poem>
ترجمہ ۔ میرا دل شیراز کی صحبت سے تنگ آگیا۔ اب وہ وقت ہے کہ مجھسے بغداد کا حال پوچھو۔ اے سعدی وطن کی محبت اگرچہ صحیح بات ہے ۔ مگر اس ضرورت سے کہ مین یہان پیدا ہون سختی سے مرا نہین جاتا۔{{nop}}<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
90w6899txijcqsqrjtdnjcfyfx7qkey
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/50
250
13118
32497
32414
2026-05-08T01:50:47Z
Harry sidhuz
157
32497
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" />(۴۹)</noinclude>مین مرگیا پھر بعد سیاست نے گرد سے جاکر پو چھا کہ میراسلامی انسا نی کے کارن ہوا اب مجھے کیا کرنا ذات
5 سو گیا کیجئے اُسنے کہا سلوک کا دھرم ہو سوامی کے پیچھے اپنا جی بھی دے یہ سنکے خشی وہاں گیا
جهان لوگ راجہ کو جلانے کے لئے لیگئے تھے جتنی دیر من راجہ کی چتا تیار ہوئی اپنے بھی اشنان اور
پوجا سے فراغت کی اور جب چتا میں آگ لگی تب یہ بھی چتا کے پاس گیا اور سورج کے سامنے ہاتھ
اور تیراگن گاؤن اتنا کہ ڈنڈوت کر آگ میں کود پڑا یہ خبر من انماد فی اپنے گرد کے پاس گئی اور اس سے
سب کہہ کے پوچھا مہاراج استری کا دھرم کیا ہو اُسنے کہا کا تا پتا نے جس کو اپنی کینیا د سی اس کی سیوا
کرنے سے وہ کلونتی کہلاتی ہو اور دھرم شاستر می لکھا ہو کہ جو نارمی اپنے سوامی کے جیتے تیپ برت
کرتی ہو وہ اپنے سوامی کی عمر م کرتی ہو اورانت کا کورک میں پرتی بر را تیم توی یک سوم کیساہی
گیا گذرا ہوا اسی کی سیوا کرنے سے اسکی سکت ہوتی ہو اور جو ناری شمشان میں بستی ہو نیکی کا نا کر جتنے
پائوں زمین پر رکھتی ہو اتنی اسو میدہ جنگ کرنی کا پھل ہو تا ہو اسین کچھ سند یہ نہیں پریشن ڈنڈوت
کر اپنے گھر کو آئی اور اشنان دھیان کہ بہت سادان بر ممنو ن کو دے چتا کے پاس جا ایک پر کر با کر
بولی ہو نا تھے میں تیری داسی جنم تنجم مون اتنا کہ وہ بھی آگ میں جا بیٹھی اور جیل گئی اتنی کتھا کہ
بیتیاں بولا اسے راجہ ان مینوں میں گیس کا است اودھک ہوا راجہ میر بکرماجیت نے کہا اس راجہ
کا بیتیال نے کہا کس طرح راجہ بولا سیناپت کی دی ہوئی استری کو چھوڑ اور اسی کیو اسٹے جان
دی پر دھرم رکھا سوامی کے لیے سیوک کو جان دینی اچت ہو اور یت کے لئے استری کوستی ہونا
لازم ہے اس کارن راجہ کا ست ادھک ہوا بتیاں اتنی سُن اُسی تر در بین جان کا راجہ بھی
پیچھے پیچھے جا پھر سے باندھے کا ندھے پر رکھ لے چلا
شر بوین کہانی
بیتال بولا اے راجہ جین نگر کا ماسین نام راجہ تھا اور وہان
کا باشی دیو شر بابر مین جسکے بیٹے
کا نام گناکر نمادہ برا جواری ہو یہاں تک کہ جو کچھ اس بر من کا دن تھا وہ سب جو سے مین ہار دیا
تب سارے کنبے کے لوگوں نے گنا کہ کو گھر سے نکال دیا اور اس سے کچھ بن نہ آیا ناچار موکر دبانے
چلا تو کتنے دنوں میں ایک شہر مین آیا دیکھتا گیا ہو کہ ایک جوگی دھونی لگائے ہوئے بیٹھا ہر دندات
کر وہاں میٹھ گیا جوگی نے اس سے بوجھ تو کچھ کھائیگا اسنے کہا مہا راج دنگے تو کیوں نہ کھاؤں گا جوگی نے
ایک
آدمی کی کھوپری مین کھانا بھر کر اسے لا دیا اسے دیکھ کر کہا اس
کیپال کا کھانا میں نہ کھاؤ گا جیسے<noinclude></noinclude>
8cahe1dlr4qvmq1gdcu6b37uo2p0amw
32498
32497
2026-05-08T01:51:13Z
Harry sidhuz
157
32498
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" />{{center|(۴۹)
}}</noinclude>مین مرگیا پھر بعد سیاست نے گرد سے جاکر پو چھا کہ میراسلامی انسا نی کے کارن ہوا اب مجھے کیا کرنا ذات
5 سو گیا کیجئے اُسنے کہا سلوک کا دھرم ہو سوامی کے پیچھے اپنا جی بھی دے یہ سنکے خشی وہاں گیا
جهان لوگ راجہ کو جلانے کے لئے لیگئے تھے جتنی دیر من راجہ کی چتا تیار ہوئی اپنے بھی اشنان اور
پوجا سے فراغت کی اور جب چتا میں آگ لگی تب یہ بھی چتا کے پاس گیا اور سورج کے سامنے ہاتھ
اور تیراگن گاؤن اتنا کہ ڈنڈوت کر آگ میں کود پڑا یہ خبر من انماد فی اپنے گرد کے پاس گئی اور اس سے
سب کہہ کے پوچھا مہاراج استری کا دھرم کیا ہو اُسنے کہا کا تا پتا نے جس کو اپنی کینیا د سی اس کی سیوا
کرنے سے وہ کلونتی کہلاتی ہو اور دھرم شاستر می لکھا ہو کہ جو نارمی اپنے سوامی کے جیتے تیپ برت
کرتی ہو وہ اپنے سوامی کی عمر م کرتی ہو اورانت کا کورک میں پرتی بر را تیم توی یک سوم کیساہی
گیا گذرا ہوا اسی کی سیوا کرنے سے اسکی سکت ہوتی ہو اور جو ناری شمشان میں بستی ہو نیکی کا نا کر جتنے
پائوں زمین پر رکھتی ہو اتنی اسو میدہ جنگ کرنی کا پھل ہو تا ہو اسین کچھ سند یہ نہیں پریشن ڈنڈوت
کر اپنے گھر کو آئی اور اشنان دھیان کہ بہت سادان بر ممنو ن کو دے چتا کے پاس جا ایک پر کر با کر
بولی ہو نا تھے میں تیری داسی جنم تنجم مون اتنا کہ وہ بھی آگ میں جا بیٹھی اور جیل گئی اتنی کتھا کہ
بیتیاں بولا اسے راجہ ان مینوں میں گیس کا است اودھک ہوا راجہ میر بکرماجیت نے کہا اس راجہ
کا بیتیال نے کہا کس طرح راجہ بولا سیناپت کی دی ہوئی استری کو چھوڑ اور اسی کیو اسٹے جان
دی پر دھرم رکھا سوامی کے لیے سیوک کو جان دینی اچت ہو اور یت کے لئے استری کوستی ہونا
لازم ہے اس کارن راجہ کا ست ادھک ہوا بتیاں اتنی سُن اُسی تر در بین جان کا راجہ بھی
پیچھے پیچھے جا پھر سے باندھے کا ندھے پر رکھ لے چلا
شر بوین کہانی
بیتال بولا اے راجہ جین نگر کا ماسین نام راجہ تھا اور وہان
کا باشی دیو شر بابر مین جسکے بیٹے
کا نام گناکر نمادہ برا جواری ہو یہاں تک کہ جو کچھ اس بر من کا دن تھا وہ سب جو سے مین ہار دیا
تب سارے کنبے کے لوگوں نے گنا کہ کو گھر سے نکال دیا اور اس سے کچھ بن نہ آیا ناچار موکر دبانے
چلا تو کتنے دنوں میں ایک شہر مین آیا دیکھتا گیا ہو کہ ایک جوگی دھونی لگائے ہوئے بیٹھا ہر دندات
کر وہاں میٹھ گیا جوگی نے اس سے بوجھ تو کچھ کھائیگا اسنے کہا مہا راج دنگے تو کیوں نہ کھاؤں گا جوگی نے
ایک
آدمی کی کھوپری مین کھانا بھر کر اسے لا دیا اسے دیکھ کر کہا اس
کیپال کا کھانا میں نہ کھاؤ گا جیسے<noinclude></noinclude>
lyoxw272vhqnxnvo10r36qy09kagmff
32506
32498
2026-05-08T08:40:16Z
Charan Gill
46
32506
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" />{{center|(۴۹)
}}</noinclude>مین مرگیا پھر بعد سیناپت نے گرو سے جاکر پوچھا کہ میرا سوامی انسادِنی کے کارن ہوا اب مجھے کیا کرنا واجب ہے سو اگیا کیجئے اُسنے کہا سیوک کا دھرم ہے سوامی کے پیچھے اپنا جی بھی دے یہ سنکے بخشی وہان سے گیا
جهان لوگ راجہ کو جلانے کے لئے لیگئے تھے جتنی دیر من راجہ کی چتا تیار ہوئی اسنے بھی اشنان اور پوجا سے فراغت کی اور جب چتا مین آگ لگی تب یہ بھی چتا کے پاس گیا اور سورج کے سامنے ہاتھ جوڑ کہنے لگا اے سورج دیوتا مین مین بچ کرم کرکے یہی کامنا مانگتا ہون کہ جنم جنم اسی سوامی کو پاؤں اور تیرا گن گاؤن اتنا کہہ ڈنڈوت کر آگ میں کود پڑا یہ خبر سُن انمادنی اپنے گرد کے پاس گئی اور اس سے سب کہہ کے پوچھا مہاراج استری کا دھرم کیا ہے اُسنے کہا ماتا پتا نے جس کو اپنی کنیا دی اس کی سیوا
کرنے سے وہ کلونتی کہلاتی ہو اور دھرم شاستر مین لِکھا ہے کہ جو ناری اپنے سوامی کے جیتے تیپ برت
کرتی ہو وہ اپنے سوامی کی عمر م کرتی ہو اورانت کا کورک میں پرتی بر را تیم توی یک سوم کیساہی
گیا گذرا ہوا اسی کی سیوا کرنے سے اسکی سکت ہوتی ہو اور جو ناری شمشان میں بستی ہو نیکی کا نا کر جتنے
پائوں زمین پر رکھتی ہو اتنی اسو میدہ جنگ کرنی کا پھل ہو تا ہو اسین کچھ سند یہ نہیں پریشن ڈنڈوت
کر اپنے گھر کو آئی اور اشنان دھیان کہ بہت سادان بر ممنو ن کو دے چتا کے پاس جا ایک پر کر با کر
بولی ہو نا تھے میں تیری داسی جنم تنجم مون اتنا کہ وہ بھی آگ میں جا بیٹھی اور جیل گئی اتنی کتھا کہ
بیتیاں بولا اسے راجہ ان مینوں میں گیس کا است اودھک ہوا راجہ میر بکرماجیت نے کہا اس راجہ
کا بیتیال نے کہا کس طرح راجہ بولا سیناپت کی دی ہوئی استری کو چھوڑ اور اسی کیو اسٹے جان
دی پر دھرم رکھا سوامی کے لیے سیوک کو جان دینی اچت ہو اور یت کے لئے استری کوستی ہونا
لازم ہے اس کارن راجہ کا ست ادھک ہوا بتیاں اتنی سُن اُسی تر در بین جان کا راجہ بھی
پیچھے پیچھے جا پھر سے باندھے کا ندھے پر رکھ لے چلا
شر بوین کہانی
بیتال بولا اے راجہ جین نگر کا ماسین نام راجہ تھا اور وہان
کا باشی دیو شر بابر مین جسکے بیٹے
کا نام گناکر نمادہ برا جواری ہو یہاں تک کہ جو کچھ اس بر من کا دن تھا وہ سب جو سے مین ہار دیا
تب سارے کنبے کے لوگوں نے گنا کہ کو گھر سے نکال دیا اور اس سے کچھ بن نہ آیا ناچار موکر دبانے
چلا تو کتنے دنوں میں ایک شہر مین آیا دیکھتا گیا ہو کہ ایک جوگی دھونی لگائے ہوئے بیٹھا ہر دندات
کر وہاں میٹھ گیا جوگی نے اس سے بوجھ تو کچھ کھائیگا اسنے کہا مہا راج دنگے تو کیوں نہ کھاؤں گا جوگی نے
ایک
آدمی کی کھوپری مین کھانا بھر کر اسے لا دیا اسے دیکھ کر کہا اس
کیپال کا کھانا میں نہ کھاؤ گا جیسے<noinclude></noinclude>
k6wzpsguhosbuumczr2x334gli17sfb
32509
32506
2026-05-08T09:16:01Z
BalramBodhi
60
32509
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" />{{center|(۴۹)
}}</noinclude>مین مرگیا پھر بلبھدر سیناپت نے گرو سے جاکر پوچھا کہ میرا سوامی انمادِنی کے کارن موا اب مجھے کیا کرنا واجب ہے سو اگیا کیجئے اُسنے کہا سیوک کا دھرم ہے سوامی کے پیچھے اپنا جی بھی دے یہ سنکے بخشی وہان سے گیا جهان لوگ راجہ کو جلانے کے لئے لیگئے تھے جتنی دیر من راجہ کی چتا تیار ہوئی اسنے بھی اشنان اور پوجا سے فراغت کی اور جب چتا مین آگ لگی تب یہ بھی چتا کے پاس گیا اور سورج کے سامنے ہاتھ جوڑ کہنے لگا اے سورج دیوتا مین مین بچ کرم کرکے یہی کامنا مانگتا ہون کہ جنم جنم اسی سوامی کو پاؤں اور تیرا گن گاؤن اتنا کہہ ڈنڈوت کر آگ میں کود پڑا یہ خبر سُن انمادنی اپنے گرو کے پاس گئی اور اس سے سب کہہ کے پوچھا مہاراج استری کا دھرم کیا ہے اُسنے کہا ماتا پتا نے جس کو اپنی کنیا دی اس کی سیوا کرنے سے وہ کلونتی کہلاتی ہے اور دھرم شاستر مین لِکھا ہے کہ جو ناری اپنے سوامی کے جیتے تپ برت کرتی ہے وہ اپنے سوامی کی عمر کم کرتی ہے اورانت کال کو نرک مین پڑتی ہے پر اتم تو یہ ہے کے سوامی کیسا ہی گیا گذرا ہو اسی کی سیوا کرنے سے اسکی مکتِ ہوتی ہے اور جو ناری شمشان مین ستی ہو نیکی کام نا کر جتنے
پائوں زمین پر رکھتی ہو اتنی اسو میدہ جنگ کرنی کا پھل ہو تا ہو اسین کچھ سند یہ نہیں پریشن ڈنڈوت
کر اپنے گھر کو آئی اور اشنان دھیان کہ بہت سادان بر ممنو ن کو دے چتا کے پاس جا ایک پر کر با کر
بولی ہو نا تھے میں تیری داسی جنم تنجم مون اتنا کہ وہ بھی آگ میں جا بیٹھی اور جیل گئی اتنی کتھا کہ
بیتیاں بولا اسے راجہ ان مینوں میں گیس کا است اودھک ہوا راجہ میر بکرماجیت نے کہا اس راجہ
کا بیتیال نے کہا کس طرح راجہ بولا سیناپت کی دی ہوئی استری کو چھوڑ اور اسی کیو اسٹے جان
دی پر دھرم رکھا سوامی کے لیے سیوک کو جان دینی اچت ہو اور یت کے لئے استری کوستی ہونا
لازم ہے اس کارن راجہ کا ست ادھک ہوا بتیاں اتنی سُن اُسی تر در بین جان کا راجہ بھی
پیچھے پیچھے جا پھر سے باندھے کا ندھے پر رکھ لے چلا
شر بوین کہانی
بیتال بولا اے راجہ جین نگر کا ماسین نام راجہ تھا اور وہان
کا باشی دیو شر بابر مین جسکے بیٹے
کا نام گناکر نمادہ برا جواری ہو یہاں تک کہ جو کچھ اس بر من کا دن تھا وہ سب جو سے مین ہار دیا
تب سارے کنبے کے لوگوں نے گنا کہ کو گھر سے نکال دیا اور اس سے کچھ بن نہ آیا ناچار موکر دبانے
چلا تو کتنے دنوں میں ایک شہر مین آیا دیکھتا گیا ہو کہ ایک جوگی دھونی لگائے ہوئے بیٹھا ہر دندات
کر وہاں میٹھ گیا جوگی نے اس سے بوجھ تو کچھ کھائیگا اسنے کہا مہا راج دنگے تو کیوں نہ کھاؤں گا جوگی نے
ایک
آدمی کی کھوپری مین کھانا بھر کر اسے لا دیا اسے دیکھ کر کہا اس
کیپال کا کھانا میں نہ کھاؤ گا جیسے<noinclude></noinclude>
121uvzj3udkatqfmnc4i0wh25qzqtz9
32510
32509
2026-05-08T09:26:02Z
Charan Gill
46
32510
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" />{{center|(۴۹)
}}</noinclude>مین مرگیا پھر بلبھدر سیناپت نے گرو سے جاکر پوچھا کہ میرا سوامی انمادِنی کے کارن موا اب مجھے کیا کرنا واجب ہے سو اگیا کیجئے اُسنے کہا سیوک کا دھرم ہے سوامی کے پیچھے اپنا جی بھی دے یہ سنکے بخشی وہان سے گیا جهان لوگ راجہ کو جلانے کے لئے لیگئے تھے جتنی دیر من راجہ کی چتا تیار ہوئی اسنے بھی اشنان اور پوجا سے فراغت کی اور جب چتا مین آگ لگی تب یہ بھی چتا کے پاس گیا اور سورج کے سامنے ہاتھ جوڑ کہنے لگا اے سورج دیوتا مین مین بچ کرم کرکے یہی کامنا مانگتا ہون کہ جنم جنم اسی سوامی کو پاؤں اور تیرا گن گاؤن اتنا کہہ ڈنڈوت کر آگ میں کود پڑا یہ خبر سُن انمادنی اپنے گرو کے پاس گئی اور اس سے سب کہہ کے پوچھا مہاراج استری کا دھرم کیا ہے اُسنے کہا ماتا پتا نے جس کو اپنی کنیا دی اس کی سیوا کرنے سے وہ کلونتی کہلاتی ہے اور دھرم شاستر مین لِکھا ہے کہ جو ناری اپنے سوامی کے جیتے تپ برت کرتی ہے وہ اپنے سوامی کی عمر کم کرتی ہے اورانت کال کو نرک مین پڑتی ہے پر اتم تو یہ ہے کے سوامی کیسا ہی گیا گذرا ہو اسی کی سیوا کرنے سے اسکی مکتِ ہوتی ہے اور جو ناری شمشان مین ستی ہو نیکی کام نا کر جتنے پائوں زمین پر رکھتی ہے اتنی اسومیدہ جگ کرنے کا پھل ہوتا ہے اسمین کچھ سندیہ نہین ہے یہ سن ڈنڈوت کر اپنے گھر کو آئی اور اشنان دھیان کر بہت سا دان برہمنون کو دے چتا کے پاس جاایک پرکرما کر
بولی ہے ناتھ مین تیری داسی جنم ججم ہون اتنا کہہ وہ بھی آگ مین جا بیٹھی اور جل گئی اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ ان مینوں میں گیس کا است اودھک ہوا راجہ میر بکرماجیت نے کہا اس راجہ
کا بیتیال نے کہا کس طرح راجہ بولا سیناپت کی دی ہوئی استری کو چھوڑ اور اسی کیو اسٹے جان
دی پر دھرم رکھا سوامی کے لیے سیوک کو جان دینی اچت ہو اور یت کے لئے استری کوستی ہونا
لازم ہے اس کارن راجہ کا ست ادھک ہوا بتیاں اتنی سُن اُسی تر در بین جان کا راجہ بھی
پیچھے پیچھے جا پھر سے باندھے کا ندھے پر رکھ لے چلا
شر بوین کہانی
بیتال بولا اے راجہ جین نگر کا ماسین نام راجہ تھا اور وہان
کا باشی دیو شر بابر مین جسکے بیٹے
کا نام گناکر نمادہ برا جواری ہو یہاں تک کہ جو کچھ اس بر من کا دن تھا وہ سب جو سے مین ہار دیا
تب سارے کنبے کے لوگوں نے گنا کہ کو گھر سے نکال دیا اور اس سے کچھ بن نہ آیا ناچار موکر دبانے
چلا تو کتنے دنوں میں ایک شہر مین آیا دیکھتا گیا ہو کہ ایک جوگی دھونی لگائے ہوئے بیٹھا ہر دندات
کر وہاں میٹھ گیا جوگی نے اس سے بوجھ تو کچھ کھائیگا اسنے کہا مہا راج دنگے تو کیوں نہ کھاؤں گا جوگی نے
ایک
آدمی کی کھوپری مین کھانا بھر کر اسے لا دیا اسے دیکھ کر کہا اس
کیپال کا کھانا میں نہ کھاؤ گا جیسے<noinclude></noinclude>
l8ycwjjhnwu7w580lzsyym0oihiqt99
32511
32510
2026-05-08T09:30:00Z
Charan Gill
46
32511
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" />{{center|(۴۹)
}}</noinclude>مین مرگیا پھر بلبھدر سیناپت نے گرو سے جاکر پوچھا کہ میرا سوامی انمادِنی کے کارن موا اب مجھے کیا کرنا واجب ہے سو اگیا کیجئے اُسنے کہا سیوک کا دھرم ہے سوامی کے پیچھے اپنا جی بھی دے یہ سنکے بخشی وہان سے گیا جهان لوگ راجہ کو جلانے کے لئے لیگئے تھے جتنی دیر من راجہ کی چتا تیار ہوئی اسنے بھی اشنان اور پوجا سے فراغت کی اور جب چتا مین آگ لگی تب یہ بھی چتا کے پاس گیا اور سورج کے سامنے ہاتھ جوڑ کہنے لگا اے سورج دیوتا مین مین بچ کرم کرکے یہی کامنا مانگتا ہون کہ جنم جنم اسی سوامی کو پاؤن اور تیرا گن گاؤن اتنا کہہ ڈنڈوت کر آگ مین کود پڑا یہ خبر سُن انمادنی اپنے گرو کے پاس گئی اور اس سے سب کہہ کے پوچھا مہاراج استری کا دھرم کیا ہے اُسنے کہا ماتا پتا نے جس کو اپنی کنیا دی اس کی سیوا کرنے سے وہ کلونتی کہلاتی ہے اور دھرم شاستر مین لِکھا ہے کہ جو ناری اپنے سوامی کے جیتے تپ برت کرتی ہے وہ اپنے سوامی کی عمر کم کرتی ہے اورانت کال کو نرک مین پڑتی ہے پر اتم تو یہ ہے کے سوامی کیسا ہی گیا گذرا ہو اسی کی سیوا کرنے سے اسکی مکتِ ہوتی ہے اور جو ناری شمشان مین ستی ہو نیکی کام نا کر جتنے پائون زمین پر رکھتی ہے اتنی اسومیدہ جگ کرنے کا پھل ہوتا ہے اسمین کچھ سندیہ نہین ہے یہ سن ڈنڈوت کر اپنے گھر کو آئی اور اشنان دھیان کر بہت سا دان برہمنون کو دے چتا کے پاس جاایک پرکرما کر
بولی ہے ناتھ مین تیری داسی جنم ججم ہون اتنا کہہ وہ بھی آگ مین جا بیٹھی اور جل گئی اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ ان تینون مین کِس کا ست اودھک ہوا راجہ بیر بکرماجیت نے کہا اس راجہ کا بیتال نے کہا کس طرح راجہ بولا سیناپت کی دی ہوئی استری کو چھوڑ اور اسی کیو اسٹے جان
دی پر دھرم رکھا سوامی کے لیے سیوک کو جان دینی اچت ہو اور یت کے لئے استری کوستی ہونا
لازم ہے اس کارن راجہ کا ست ادھک ہوا بتیان اتنی سُن اُسی تر در بین جان کا راجہ بھی
پیچھے پیچھے جا پھر سے باندھے کا ندھے پر رکھ لے چلا
شر بوین کہانی
بیتال بولا اے راجہ جین نگر کا ماسین نام راجہ تھا اور وہان
کا باشی دیو شر بابر مین جسکے بیٹے
کا نام گناکر نمادہ برا جواری ہو یہان تک کہ جو کچھ اس بر من کا دن تھا وہ سب جو سے مین ہار دیا
تب سارے کنبے کے لوگون نے گنا کہ کو گھر سے نکال دیا اور اس سے کچھ بن نہ آیا ناچار موکر دبانے
چلا تو کتنے دنون مین ایک شہر مین آیا دیکھتا گیا ہو کہ ایک جوگی دھونی لگائے ہوئے بیٹھا ہر دندات
کر وہان میٹھ گیا جوگی نے اس سے بوجھ تو کچھ کھائیگا اسنے کہا مہا راج دنگے تو کیون نہ کھاؤن گا جوگی نے
ایک
آدمی کی کھوپری مین کھانا بھر کر اسے لا دیا اسے دیکھ کر کہا اس
کیپال کا کھانا مین نہ کھاؤ گا جیسے<noinclude></noinclude>
ho3xagfab0p19rvu09r3jzzi1zjqb8i
32512
32511
2026-05-08T11:48:44Z
Charan Gill
46
32512
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" />{{center|(۴۹)
}}</noinclude>مین مرگیا پھر بلبھدر سیناپت نے گرو سے جاکر پوچھا کہ میرا سوامی انمادِنی کے کارن موا اب مجھے کیا کرنا واجب ہے سو اگیا کیجئے اُسنے کہا سیوک کا دھرم ہے سوامی کے پیچھے اپنا جی بھی دے یہ سنکے بخشی وہان سے گیا جهان لوگ راجہ کو جلانے کے لئے لیگئے تھے جتنی دیر من راجہ کی چتا تیار ہوئی اسنے بھی اشنان اور پوجا سے فراغت کی اور جب چتا مین آگ لگی تب یہ بھی چتا کے پاس گیا اور سورج کے سامنے ہاتھ جوڑ کہنے لگا اے سورج دیوتا مین مین بچ کرم کرکے یہی کامنا مانگتا ہون کہ جنم جنم اسی سوامی کو پاؤن اور تیرا گن گاؤن اتنا کہہ ڈنڈوت کر آگ مین کود پڑا یہ خبر سُن انمادنی اپنے گرو کے پاس گئی اور اس سے سب کہہ کے پوچھا مہاراج استری کا دھرم کیا ہے اُسنے کہا ماتا پتا نے جس کو اپنی کنیا دی اس کی سیوا کرنے سے وہ کلونتی کہلاتی ہے اور دھرم شاستر مین لِکھا ہے کہ جو ناری اپنے سوامی کے جیتے تپ برت کرتی ہے وہ اپنے سوامی کی عمر کم کرتی ہے اورانت کال کو نرک مین پڑتی ہے پر اتم تو یہ ہے کے سوامی کیسا ہی گیا گذرا ہو اسی کی سیوا کرنے سے اسکی مکتِ ہوتی ہے اور جو ناری شمشان مین ستی ہو نیکی کام نا کر جتنے پائون زمین پر رکھتی ہے اتنی اسومیدہ جگ کرنے کا پھل ہوتا ہے اسمین کچھ سندیہ نہین ہے یہ سن ڈنڈوت کر اپنے گھر کو آئی اور اشنان دھیان کر بہت سا دان برہمنون کو دے چتا کے پاس جاایک پرکرما کر
بولی ہے ناتھ مین تیری داسی جنم ججم ہون اتنا کہہ وہ بھی آگ مین جا بیٹھی اور جل گئی اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ ان تینون مین کِس کا ست اودھک ہوا راجہ بیر بکرماجیت نے کہا اس راجہ کا بیتال نے کہا کِس طرح راجہ بولا سیناپت کی دی ہوئی استری کو چھوڑ اور اسی کیواسٹے جان
دی پر دھرم رکھا سوامی کے لیے سیوک کو جان دینی اچت ہے اور یتِ کے لئے استری کو ستی ہونا لازم ہے اس کارن راجہ کا ست ادھک ہوا بتیان اتنی سُن اُسی تر در بین جان کا راجہ بھی
پیچھے پیچھے جا پھر سے باندھے کا ندھے پر رکھ لے چلا
شر بوین کہانی
بیتال بولا اے راجہ جین نگر کا ماسین نام راجہ تھا اور وہان
کا باشی دیو شر بابر مین جسکے بیٹے
کا نام گناکر نمادہ برا جواری ہو یہان تک کہ جو کچھ اس بر من کا دن تھا وہ سب جو سے مین ہار دیا
تب سارے کنبے کے لوگون نے گنا کہ کو گھر سے نکال دیا اور اس سے کچھ بن نہ آیا ناچار موکر دبانے
چلا تو کتنے دنون مین ایک شہر مین آیا دیکھتا گیا ہو کہ ایک جوگی دھونی لگائے ہوئے بیٹھا ہر دندات
کر وہان میٹھ گیا جوگی نے اس سے بوجھ تو کچھ کھائیگا اسنے کہا مہا راج دنگے تو کیون نہ کھاؤن گا جوگی نے
ایک
آدمی کی کھوپری مین کھانا بھر کر اسے لا دیا اسے دیکھ کر کہا اس
کیپال کا کھانا مین نہ کھاؤ گا جیسے<noinclude></noinclude>
2izd0rs1ymrg17wtpaujx8xc37qgy13
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/49
250
13119
32496
32441
2026-05-07T12:21:32Z
Charan Gill
46
32496
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>اسکے ساتھ اپنی لڑکی کا بواہ کر دیا اور وہ اسکے گھر مین رہنے لگی ایک دن کا ذکر ہے کہ راجہ کی سواری اس راہ سے نکلی اور وہ بھی اس سے سنگار کیے اپنے کوٹھے پر کھڑی تھی اتفاقاً راجہ کی اور اسکی چار نظرین ہوئین راجہ اپنے من مین کہنے لگا یہ دیو کنیا ہے یا اپسرا ہے یا نر کنیا ہے غرض اسکا روپ دیکھ موہت ہو گیا اور وہان سے نپٹ بیقرار ہو اپنے مندر کو آیا اسکا منھ دیکھ دربان بولا مہاراج آپ کے سریر مین کیا درد ہے راجہ نے کہا آج مین نے آتے ہوئے راستے مین ایک کوٹھے پر سند استری دیکھی ہر مین نہین
جانتا ہون کہ وہ حور یا پری یا انسان ہر کہ اسکے روپ نے یکبارگی میٹر من موہ لیا اس سے بیکل
ہون یہ سنکے دربان نے عرض کی مہاراج اسی سیٹھ کی لڑکی ہو جو آپکا سینات بل بھی ہے وہ ہر بیاہ لایا
راجہ نے کہا مین نے جن لوگون کو کشن دینے بھیجا تھا انھون نے ہم سے دعاکی یہ کہ راجہ نے جو بد رکو
فرمایا انھین جلد لے آؤ راجہ کا حکم ارجو بدار امین بلالا یا غرض جب دے راجہ کے سامنے آئے
تو راجہ نے کہا مین نے جس لیے تعین بھیجا تھا اور جو میری خشا تھی سوتم نے نہ کیا بلکہ پنے اپنے جی
سے ایک جھوٹی بات بنا کر مجھے جواب دیا۔ آج مین نے اپنی آنکھون سے اسے دیکھا ایسی سندر
نارسی سب گن پوری ہو کہ اس سے اس سے تھی کٹھن ہو یہ سکے انھون نے کہا مہاراج جوآپ فرمادین
سکرین پر پر تم نے اسکو منی جیس وائے حضور مین عرض کیا تھا سو وہ مدعا سنئے آپس مین ہم نے
یہ بچارا کہ ایسی سند ناری جو مہاراج کے گھر من جائیگی تو مہاراج دیکھتے ہی اسکے بس مین ہون گے
اور راج کاج سب چھوڑ دینگے توراج بھنگ ہوگا اس سے ہم نے ایسا بنا کر کہا تھا یہ شکر راجہ
نے
کیا اچھا تم سچ کہتے ہو اچھا کا جو ہے نہ کہا پر اسکی یا مین راجہ کو بید بے چینی تھی اور سب لوگون پر جہ
کی بیقراری ظاہر تھی اتنے مین بھا بھد بھی آپہونچا اپنے ہاتھ جوڑ کے سامنے کھڑے ہو کر عرض تھی
اس پر تھومی ناتھ مین آپ کا داس ہون وہ آپ کی داسی اور اسکی خاطر آپ اتنی مصیبت
اٹھا دین اس سے مہاراج آپ حکم دیجئے وہ حاضر ہ یہ بات من راجہ کردہ کر کے بولا غیر عورت کے
پاس جانا بڑا ادھرم ہے یہ بات کیون تونے مجھ سے بھی کیا مین ادھرمی ہون جواد محرم کردن برانی
تری ہوا کے سمان ہے اور برا ناد من مائی برابر سو بھائی جیسا اپنا جی آدمی مجھے ویسا ہی سبط
مجھے کبھدر بولا وہ میری داسی ہو جب مین نے آپ کو دی پھر بیگانی استری کیون کر ہوئی راجہ
نے کہا جس کام کے کرنے سے سفسار مین کلنک لگے سو کام مین نہ کرون گا پھر سینات نے
عرض کی کہ مہاراج اسے مین گھر سے نکال اور جگہ رکھ میشیا کر آپ کے پاس لاؤن گا تب راجہ
کو بیشیا کریگا تومین تجھے بڑا ڈنڈ دودن گا یہ کہ اسکی یاد مین چنتا کر
نے کہا جو است را دارن شان<noinclude></noinclude>
6l40k4ot079hb9zrpzpbm285iq6yxu7
32502
32496
2026-05-08T04:36:34Z
Charan Gill
46
32502
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>اسکے ساتھ اپنی لڑکی کا بواہ کر دیا اور وہ اسکے گھر مین رہنے لگی ایک دن کا ذکر ہے کہ راجہ کی سواری اس راہ سے نکلی اور وہ بھی اس سے سنگار کیے اپنے کوٹھے پر کھڑی تھی اتفاقاً راجہ کی اور اسکی چار نظرین ہوئین راجہ اپنے من مین کہنے لگا یہ دیو کنیا ہے یا اپسرا ہے یا نر کنیا ہے غرض اسکا روپ دیکھ موہت ہو گیا اور وہان سے نپٹ بیقرار ہو اپنے مندر کو آیا اسکا منھ دیکھ دربان بولا مہاراج آپ کے سریر مین کیا درد ہے راجہ نے کہا آج مین نے آتے ہوئے راستے مین ایک کوٹھے پر سند استری دیکھی ہے مین نہین جانتا ہون کہ وہ حور یا پری یا انسان ہے کہ اسکے روپ نے یکبارگی میرا من موہ لیا اس سے بیکل ہون یہ سنکے دربان نے عرض کی مہاراج اسی سیٹھ کی لڑکی ہے جو آپکا سینپات بل بھدر ہے وہ ہر بیاہ لایا
راجہ نے کہا مین نے جن لوگون کو کشن دیکھنے بھیجا تھا انھون نے ہم سے دغا کی یہ کہہ راجہ نے جوبدار کو فرمایا انھین جلد لے آؤ راجہ کا حکم پاکر جوبدار انھین بلا لایا غرض جب وے راجہ کے سامنے آئے تو راجہ نے کہا مین نے جس لیے تمھین بھیجا تھا اور جو میری منشا تھی سو تم نے نہ کیا بلکہ اپنے اپنے جی سے ایک جھوٹی بات بنا کر مجھے جواب دیا۔ آج مین نے اپنی آنکھون سے اسے دیکھا ایسی سندر ناری سب گن پوری ہے کہ اس سمے اس سے ملنی کٹھِن ہے یہ سنکے انھون نے کہا مہاراج جوآپ فرماوین سکرین پر پر تم نے اسکو منی جیس وائے حضور مین عرض کیا تھا سو وہ مدعا سنئے آپس مین ہم نے
یہ بچارا کہ ایسی سند ناری جو مہاراج کے گھر من جائیگی تو مہاراج دیکھتے ہی اسکے بس مین ہون گے
اور راج کاج سب چھوڑ دینگے توراج بھنگ ہوگا اس سے ہم نے ایسا بنا کر کہا تھا یہ شکر راجہ
نے
کیا اچھا تم سچ کہتے ہو اچھا کا جو ہے نہ کہا پر اسکی یا مین راجہ کو بید بے چینی تھی اور سب لوگون پر جہ
کی بیقراری ظاہر تھی اتنے مین بھا بھد بھی آپہونچا اپنے ہاتھ جوڑ کے سامنے کھڑے ہو کر عرض تھی
اس پر تھومی ناتھ مین آپ کا داس ہون وہ آپ کی داسی اور اسکی خاطر آپ اتنی مصیبت
اٹھا دین اس سے مہاراج آپ حکم دیجئے وہ حاضر ہ یہ بات من راجہ کردہ کر کے بولا غیر عورت کے
پاس جانا بڑا ادھرم ہے یہ بات کیون تونے مجھ سے بھی کیا مین ادھرمی ہون جواد محرم کردن برانی
تری ہوا کے سمان ہے اور برا ناد من مائی برابر سو بھائی جیسا اپنا جی آدمی مجھے ویسا ہی سبط
مجھے کبھدر بولا وہ میری داسی ہو جب مین نے آپ کو دی پھر بیگانی استری کیون کر ہوئی راجہ
نے کہا جس کام کے کرنے سے سفسار مین کلنک لگے سو کام مین نہ کرون گا پھر سینات نے
عرض کی کہ مہاراج اسے مین گھر سے نکال اور جگہ رکھ میشیا کر آپ کے پاس لاؤن گا تب راجہ
کو بیشیا کریگا تومین تجھے بڑا ڈنڈ دودن گا یہ کہ اسکی یاد مین چنتا کر
نے کہا جو است را دارن شان<noinclude></noinclude>
5v2y3byyl0yaospingeknccgxghy07j
32503
32502
2026-05-08T04:55:50Z
Charan Gill
46
32503
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>اسکے ساتھ اپنی لڑکی کا بواہ کر دیا اور وہ اسکے گھر مین رہنے لگی ایک دن کا ذکر ہے کہ راجہ کی سواری اس راہ سے نکلی اور وہ بھی اس سے سنگار کیے اپنے کوٹھے پر کھڑی تھی اتفاقاً راجہ کی اور اسکی چار نظرین ہوئین راجہ اپنے من مین کہنے لگا یہ دیو کنیا ہے یا اپسرا ہے یا نر کنیا ہے غرض اسکا روپ دیکھ موہت ہو گیا اور وہان سے نپٹ بیقرار ہو اپنے مندر کو آیا اسکا منھ دیکھ دربان بولا مہاراج آپ کے سریر مین کیا درد ہے راجہ نے کہا آج مین نے آتے ہوئے راستے مین ایک کوٹھے پر سند استری دیکھی ہے مین نہین جانتا ہون کہ وہ حور یا پری یا انسان ہے کہ اسکے روپ نے یکبارگی میرا من موہ لیا اس سے بیکل ہون یہ سنکے دربان نے عرض کی مہاراج اسی سیٹھ کی لڑکی ہے جو آپکا سینپات بل بھدر ہے وہ ہر بیاہ لایا
راجہ نے کہا مین نے جن لوگون کو کشن دیکھنے بھیجا تھا انھون نے ہم سے دغا کی یہ کہہ راجہ نے جوبدار کو فرمایا انھین جلد لے آؤ راجہ کا حکم پاکر جوبدار انھین بلا لایا غرض جب وے راجہ کے سامنے آئے تو راجہ نے کہا مین نے جس لیے تمھین بھیجا تھا اور جو میری منشا تھی سو تم نے نہ کیا بلکہ اپنے اپنے جی سے ایک جھوٹی بات بنا کر مجھے جواب دیا۔ آج مین نے اپنی آنکھون سے اسے دیکھا ایسی سندر ناری سب گن پوری ہے کہ اس سمے اس سے ملنی کٹھِن ہے یہ سنکے انھون نے کہا مہاراج جوآپ فرماوین سکرین پر پر تم نے اسکو منی جیس وائے حضور مین عرض کیا تھا سو وہ مدعا سنئے آپسمین ہم نے
یہ بچارا کہ ایسی سندر ناری جو مہاراج کے گھر من جائیگی تو مہاراج دیکھتے ہی اسکے بس مین ہون گے اور راج کاج سب چھوڑ دینگے تو راج بھنگ ہوگا اس سے ہم نے ایسا بنا کر کہا تھا یہ شنکر راجہ نے کہا اچھا تم سچ کہتے ہو اچھا کا جو ہے نہ کہا پر اسکی یاد مین راجہ کو بیہد بے چینی تھی اور سب لوگون پر راجہ کی بیقراری ظاہر تھی اتنے مین بھا بھلبھدر بھی آپہونچا اپنے ہاتھ جوڑ کے سامنے کھڑے ہو کر عرض تھی
اس پر تھومی ناتھ مین آپ کا داس ہون وہ آپ کی داسی اور اسکی خاطر آپ اتنی مصیبت
اٹھا دین اس سے مہاراج آپ حکم دیجئے وہ حاضر ہ یہ بات من راجہ کردہ کر کے بولا غیر عورت کے
پاس جانا بڑا ادھرم ہے یہ بات کیون تونے مجھ سے بھی کیا مین ادھرمی ہون جواد محرم کردن برانی
تری ہوا کے سمان ہے اور برا ناد من مائی برابر سو بھائی جیسا اپنا جی آدمی مجھے ویسا ہی سبط
مجھے کبھدر بولا وہ میری داسی ہو جب مین نے آپ کو دی پھر بیگانی استری کیون کر ہوئی راجہ
نے کہا جس کام کے کرنے سے سفسار مین کلنک لگے سو کام مین نہ کرون گا پھر سینات نے
عرض کی کہ مہاراج اسے مین گھر سے نکال اور جگہ رکھ میشیا کر آپ کے پاس لاؤن گا تب راجہ
کو بیشیا کریگا تومین تجھے بڑا ڈنڈ دودن گا یہ کہ اسکی یاد مین چنتا کر
نے کہا جو است را دارن شان<noinclude></noinclude>
7esu33t2xvzwn0gspa5pl6hc89x04u4
32504
32503
2026-05-08T06:31:28Z
BalramBodhi
60
32504
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>اسکے ساتھ اپنی لڑکی کا بواہ کر دیا اور وہ اسکے گھر مین رہنے لگی ایک دن کا ذکر ہے کہ راجہ کی سواری اس راہ سے نکلی اور وہ بھی اس سے سنگار کیے اپنے کوٹھے پر کھڑی تھی اتفاقاً راجہ کی اور اسکی چار نظرین ہوئین راجہ اپنے من مین کہنے لگا یہ دیو کنیا ہے یا اپسرا ہے یا نر کنیا ہے غرض اسکا روپ دیکھ موہت ہو گیا اور وہان سے نپٹ بیقرار ہو اپنے مندر کو آیا اسکا منھ دیکھ دربان بولا مہاراج آپ کے سریر مین کیا درد ہے راجہ نے کہا آج مین نے آتے ہوئے راستے مین ایک کوٹھے پر سندر استری دیکھی ہے مین نہین جانتا ہون کہ وہ حور یا پری یا انسان ہے کہ اسکے روپ نے یکبارگی میرا من موھ لیا اس سے بیکل ہون یہ سنکے دربان نے عرض کی مہاراج اسی سیٹھ کی لڑکی ہے جو آپکا سینپات بل بھدر ہے وہ اسے بیاہ لایا ہے
راجہ نے کہا مین نے جن لوگون کو لکشن دینے بھیجا تھا انھون نے ہم سے دغا کی یہ کہہ راجہ نے چوبدار کو فرمایا انھین جلد لے آؤ راجہ کا حکم پاکر چوبدار انھین بلا لایا غرض جب وے راجہ کے سامنے آئے تو راجہ نے کہا مین نے جس لیے تمھین بھیجا تھا اور جو میری منشا تھی سو تم نے نہ کیا بلکہ اپنے اپنے جی سے ایک جھوٹی بات بنا کر مجھے جواب دیا۔ آج مین نے اپنی آنکھون سے اسے دیکھا ایسی سندر ناری سب گن پوری ہے کہ اس سمے اس سے ملنی کٹھِن ہے یہ سنکے انھون نے کہا مہاراج جو آپ فرماوین سو سچ ہے پر ہم نے اسکو کلکسنی جس واستئے حضور مین عرض کیا تھا سو وہ مدعا سنئے آپس مین ہم نے یہ بچارا کہ ایسی سندر ناری جو مہاراج کے گھر من جائیگی تو مہاراج دیکھتے ہی اسکے بس مین ہون گے اور راج کاج سب چھوڑ دینگے تو راج بھنگ ہوگا اس سے ہم نے ایسا بنا کر کہا تھا یہ شنکر راجہ نے کہا اچھا تم سچ کہتے ہو اچھا کیا جو سچ نہ کہا پر اسکی یاد مین راجہ کو بیہد بے چینی تھی اور سب لوگون پر راجہ کی بیقراری ظاہر تھی اتنے مین بھلبھدر بھی آپہونچا اسنے ہاتھ جوڑ کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کی
اس پرتھوی ناتھ مین آپ کا داس ہون وہ آپ کی داسی اور اسکی خاطر آپ اتنی مصیبت اٹھا دین اس سے مہاراج آپ حکم دیجئے وہ حاضر ہو یہ بات سن راجہ کرودہ کر کے بولا غیر عورت کے پاس جانا بڑا ادھرم ہے یہ بات کیون تونے مجھ سے کہی کیا مین ادھرمی ہون جو ادہ رم کرون برانی استری ماتا کے سمان ہے اور برانا دھن ماٹی برابر سو بھائی جیسا اپنا جی آدمی سمجھے ویسا ہی سبکا سمجھے بلبھدر بولا وہ میری داسی ہے جب مین نے آپ کو دی پھر بیگانی استری کیون کر ہوئی راجہ
نے کہا جس کام کے کرنے سے سنسکار مین کلنک لگے سو کام مین نہ کرون گا پھر سینات نے
عرض کی کہ مہاراج اسے مین گھر سے نکال اور جگہ رکھ میشیا کر آپ کے پاس لاؤن گا تب راجہ
کو بیشیا کریگا تومین تجھے بڑا ڈنڈ دودن گا یہ کہ اسکی یاد مین چنتا کر
نے کہا جو است را دارن شان<noinclude></noinclude>
lnxb1fq5mqrcwecl01fphr0uz908xq1
32505
32504
2026-05-08T08:15:33Z
Charan Gill
46
32505
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>اسکے ساتھ اپنی لڑکی کا بواہ کر دیا اور وہ اسکے گھر مین رہنے لگی ایک دن کا ذکر ہے کہ راجہ کی سواری اس راہ سے نکلی اور وہ بھی اس سے سنگار کیے اپنے کوٹھے پر کھڑی تھی اتفاقاً راجہ کی اور اسکی چار نظرین ہوئین راجہ اپنے من مین کہنے لگا یہ دیو کنیا ہے یا اپسرا ہے یا نر کنیا ہے غرض اسکا روپ دیکھ موہت ہو گیا اور وہان سے نپٹ بیقرار ہو اپنے مندر کو آیا اسکا منھ دیکھ دربان بولا مہاراج آپ کے سریر مین کیا درد ہے راجہ نے کہا آج مین نے آتے ہوئے راستے مین ایک کوٹھے پر سندر استری دیکھی ہے مین نہین جانتا ہون کہ وہ حور یا پری یا انسان ہے کہ اسکے روپ نے یکبارگی میرا من موھ لیا اس سے بیکل ہون یہ سنکے دربان نے عرض کی مہاراج اسی سیٹھ کی لڑکی ہے جو آپکا سینپات بل بھدر ہے وہ اسے بیاہ لایا ہے
راجہ نے کہا مین نے جن لوگون کو لکشن دینے بھیجا تھا انھون نے ہم سے دغا کی یہ کہہ راجہ نے چوبدار کو فرمایا انھین جلد لے آؤ راجہ کا حکم پاکر چوبدار انھین بلا لایا غرض جب وے راجہ کے سامنے آئے تو راجہ نے کہا مین نے جس لیے تمھین بھیجا تھا اور جو میری منشا تھی سو تم نے نہ کیا بلکہ اپنے اپنے جی سے ایک جھوٹی بات بنا کر مجھے جواب دیا۔ آج مین نے اپنی آنکھون سے اسے دیکھا ایسی سندر ناری سب گن پوری ہے کہ اس سمے اس سے ملنی کٹھِن ہے یہ سنکے انھون نے کہا مہاراج جو آپ فرماوین سو سچ ہے پر ہم نے اسکو کلکسنی جس واستئے حضور مین عرض کیا تھا سو وہ مدعا سنئے آپس مین ہم نے یہ بچارا کہ ایسی سندر ناری جو مہاراج کے گھر من جائیگی تو مہاراج دیکھتے ہی اسکے بس مین ہون گے اور راج کاج سب چھوڑ دینگے تو راج بھنگ ہوگا اس سے ہم نے ایسا بنا کر کہا تھا یہ شنکر راجہ نے کہا اچھا تم سچ کہتے ہو اچھا کیا جو سچ نہ کہا پر اسکی یاد مین راجہ کو بیہد بے چینی تھی اور سب لوگون پر راجہ کی بیقراری ظاہر تھی اتنے مین بھلبھدر بھی آپہونچا اسنے ہاتھ جوڑ کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کی اس پرتھوی ناتھ مین آپ کا داس ہون وہ آپ کی داسی اور اسکی خاطر آپ اتنی مصیبت اٹھا دین اس سے مہاراج آپ حکم دیجئے وہ حاضر ہو یہ بات سن راجہ کرودہ کر کے بولا غیر عورت کے پاس جانا بڑا ادھرم ہے یہ بات کیون تونے مجھ سے کہی کیا مین ادھرمی ہون جو ادہ رم کرون برانی استری ماتا کے سمان ہے اور برانا دھن ماٹی برابر سو بھائی جیسا اپنا جی آدمی سمجھے ویسا ہی سبکا سمجھے بلبھدر بولا وہ میری داسی ہے جب مین نے آپ کو دی پھر بیگانی استری کیون کر ہوئی راجہ نے کہا جس کام کے کرنے سے سنسکار مین کلنک لگے سو کام مین نہ کرون گا پھر سینات نے عرض کی کہ مہاراج اسے مین گھر سے نکال اور جگہ رکھ بیشیا کر آپ کے پاس لاؤن گا تب راجہ نے کہا جو ست ناری کو بیشیا کریگا تو مین تجھے بڑا ڈنڈ دودن گا یہ کہہ اسکی یاد مین چنتا کرکے دس دِن<noinclude></noinclude>
3eer3uzuf85h6ugvawd6jx0u72x0j75
32507
32505
2026-05-08T08:56:31Z
BalramBodhi
60
32507
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>اسکے ساتھ اپنی لڑکی کا بواہ کر دیا اور وہ اسکے گھر مین رہنے لگی ایک دن کا ذکر ہے کہ راجہ کی سواری اس راہ سے نکلی اور وہ بھی اس سے سنگار کیے اپنے کوٹھے پر کھڑی تھی اتفاقاً راجہ کی اور اسکی چار نظرین ہوئین راجہ اپنے من مین کہنے لگا یہ دیو کنیا ہے یا اپسرا ہے یا نر کنیا ہے غرض اسکا روپ دیکھ موہت ہو گیا اور وہان سے نپٹ بیقرار ہو اپنے مندر کو آیا اسکا منھ دیکھ دربان بولا مہاراج آپ کے سریر مین کیا درد ہے راجہ نے کہا آج مین نے آتے ہوئے راستے مین ایک کوٹھے پر سندر استری دیکھی ہے مین نہین جانتا ہون کہ وہ حور یا پری یا انسان ہے کہ اسکے روپ نے یکبارگی میرا من موھ لیا اس سے بیکل ہون یہ سنکے دربان نے عرض کی مہاراج اسی سیٹھ کی لڑکی ہے جو آپکا سینپات بل بھدر ہے وہ اسے بیاہ لایا ہے راجہ نے کہا مین نے جن لوگون کو لکشن دینے بھیجا تھا انھون نے ہم سے دغا کی یہ کہہ راجہ نے چوبدار کو فرمایا انھین جلد لے آؤ راجہ کا حکم پاکر چوبدار انھین بلا لایا غرض جب وے راجہ کے سامنے آئے تو راجہ نے کہا مین نے جس لیے تمھین بھیجا تھا اور جو میری منشا تھی سو تم نے نہ کیا بلکہ اپنے اپنے جی سے ایک جھوٹی بات بنا کر مجھے جواب دیا۔ آج مین نے اپنی آنکھون سے اسے دیکھا ایسی سندر ناری سب گن پوری ہے کہ اس سمے اس سے ملنی کٹھِن ہے یہ سنکے انھون نے کہا مہاراج جو آپ فرماوین سو سچ ہے پر ہم نے اسکو کلکسنی جس واستئے حضور مین عرض کیا تھا سو وہ مدعا سنئے آپس مین ہم نے یہ بچارا کہ ایسی سندر ناری جو مہاراج کے گھر من جائیگی تو مہاراج دیکھتے ہی اسکے بس مین ہون گے اور راج کاج سب چھوڑ دینگے تو راج بھنگ ہوگا اس سے ہم نے ایسا بنا کر کہا تھا یہ شنکر راجہ نے کہا اچھا تم سچ کہتے ہو اچھا کیا جو سچ نہ کہا پر اسکی یاد مین راجہ کو بیہد بے چینی تھی اور سب لوگون پر راجہ کی بیقراری ظاہر تھی اتنے مین بھلبھدر بھی آپہونچا اسنے ہاتھ جوڑ کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کی اس پرتھوی ناتھ مین آپ کا داس ہون وہ آپ کی داسی اور اسکی خاطر آپ اتنی مصیبت اٹھا دین اس سے مہاراج آپ حکم دیجئے وہ حاضر ہو یہ بات سن راجہ کرودہ کر کے بولا غیر عورت کے پاس جانا بڑا ادھرم ہے یہ بات کیون تونے مجھ سے کہی کیا مین ادھرمی ہون جو ادہ رم کرون برانی استری ماتا کے سمان ہے اور برانا دھن ماٹی برابر سو بھائی جیسا اپنا جی آدمی سمجھے ویسا ہی سبکا سمجھے بلبھدر بولا وہ میری داسی ہے جب مین نے آپ کو دی پھر بیگانی استری کیون کر ہوئی راجہ نے کہا جس کام کے کرنے سے سنسار مین کلنک لگے سو کام مین نہ کرون گا پھر سینات نے عرض کی کہ مہاراج اسے مین گھر سے نکال اور جگہ رکھ بیشیا کر آپ کے پاس لاؤن گا تب راجہ نے کہا جو ست ناری کو بیشیا کریگا تو مین تجھے بڑا ڈنڈ دودن گا یہ کہہ راجہ اسکی یاد مین چنتا کرکے دنا دِن<noinclude></noinclude>
771vh3rdl3i4gzyspyvbzbwjnbvye2a
32508
32507
2026-05-08T09:01:07Z
BalramBodhi
60
32508
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>اسکے ساتھ اپنی لڑکی کا بواہ کر دیا اور وہ اسکے گھر مین رہنے لگی ایک دن کا ذکر ہے کہ راجہ کی سواری اس راہ سے نکلی اور وہ بھی اس سے سنگار کیے اپنے کوٹھے پر کھڑی تھی اتفاقاً راجہ کی اور اسکی چار نظرین ہوئین راجہ اپنے من مین کہنے لگا یہ دیو کنیا ہے یا اپسرا ہے یا نر کنیا ہے غرض اسکا روپ دیکھ موہت ہو گیا اور وہان سے نپٹ بیقرار ہو اپنے مندر کو آیا اسکا منھ دیکھ دربان بولا مہاراج آپ کے سریر مین کیا درد ہے راجہ نے کہا آج مین نے آتے ہوئے راستے مین ایک کوٹھے پر سندر استری دیکھی ہے مین نہین جانتا ہون کہ وہ حور یا پری یا انسان ہے کہ اسکے روپ نے یکبارگی میرا من موھ لیا اس سے بیکل ہون یہ سنکے دربان نے عرض کی مہاراج اسی سیٹھ کی لڑکی ہے جو آپکا سینپات بل بھدر ہے وہ اسے بیاہ لایا ہے راجہ نے کہا مین نے جن لوگون کو لکشن دینے بھیجا تھا انھون نے ہم سے دغا کی یہ کہہ راجہ نے چوبدار کو فرمایا انھین جلد لے آؤ راجہ کا حکم پاکر چوبدار انھین بلا لایا غرض جب وے راجہ کے سامنے آئے تو راجہ نے کہا مین نے جس لیے تمھین بھیجا تھا اور جو میری منشا تھی سو تم نے نہ کیا بلکہ اپنے اپنے جی سے ایک جھوٹی بات بنا کر مجھے جواب دیا۔ آج مین نے اپنی آنکھون سے اسے دیکھا ایسی سندر ناری سب گن پوری ہے کہ اس سمے اس سے ملنی کٹھِن ہے یہ سنکے انھون نے کہا مہاراج جو آپ فرماوین سو سچ ہے پر ہم نے اسکو کلکسنی جس واستئے حضور مین عرض کیا تھا سو وہ مدعا سنئے آپس مین ہم نے یہ بچارا کہ ایسی سندر ناری جو مہاراج کے گھر من جائیگی تو مہاراج دیکھتے ہی اسکے بس مین ہون گے اور راج کاج سب چھوڑ دینگے تو راج بھنگ ہوگا اس سے ہم نے ایسا بنا کر کہا تھا یہ شنکر راجہ نے کہا اچھا تم سچ کہتے ہو اچھا کیا جو سچ نہ کہا پر اسکی یاد مین راجہ کو بیہد بے چینی تھی اور سب لوگون پر راجہ کی بیقراری ظاہر تھی اتنے مین بھلبھدر بھی آپہونچا اسنے ہاتھ جوڑ کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کی اس پرتھوی ناتھ مین آپ کا داس ہون وہ آپ کی داسی اور اسکی خاطر آپ اتنی مصیبت اٹھا دین اس سے مہاراج آپ حکم دیجئے وہ حاضر ہو یہ بات سن راجہ کرودہ کر کے بولا غیر عورت کے پاس جانا بڑا ادھرم ہے یہ بات کیون تونے مجھ سے کہی کیا مین ادھرمی ہون جو ادہ رم کرون برانی استری ماتا کے سمان ہے اور برانا دھن ماٹی برابر سو بھائی جیسا اپنا جی آدمی سمجھے ویسا ہی سبکا سمجھے بلبھدر بولا وہ میری داسی ہے جب مین نے آپ کو دی پھر بیگانی استری کیون کر ہوئی راجہ نے کہا جس کام کے کرنے سے سنسار مین کلنک لگے سو کام مین نہ کرون گا پھر سینات نے عرض کی کہ مہاراج اسے مین گھر سے نکال اور جگہ رکھ بیشیا کر آپ کے پاس لاؤن گا تب راجہ نے کہا جو ست ناری کو بیشیا کریگا تو مین تجھے بڑا ڈنڈ دودن گا یہ کہہ راجہ اسکی یاد مین چنتا کرکے دس دِن<noinclude></noinclude>
93kdyx93tcgvhj576reyn0qz4sbxogp
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/41
250
13122
32501
32494
2026-05-08T04:06:22Z
Taranpreet Goswami
90
32501
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>چنڈول مین لِٹا گھر کو لے آئین اور وہان برہمن کا لڑکا ایسا بے سُدھ پڑا تھا کہ اپنے تن من کی کچھ سُدھ نہ رکھتا تھا اس عرصہ مین دو برہمن ششی اور مول دیو نام کامردیس سے بدیا پڑھے ہوئے وہان آ نکلے مول دیو نے اس برہمن کے لڑکے کو پڑا دیکھ کر کہا اے ششی ایسا بے سُدہ یہ کیون پڑا ہے وہ بولا نائکہ نے بھوُن کی کمان سے نین کے تیر مارے ہین اس سے یہ بے سُدھ پڑا ہے مول دیو نے کہا اسے اٹھایا چاہیے اسنے کہا تمھین اٹھانے سے کیا درکار ہے اسنے ششی کا کہنا نہ مانا اور اسنے پانی چھڑک کے اٹھایا اور پوچھا تیری کیا حالت ہوئی ہے وہ برہمن بولا دکھ اس سے کہئے جو دکھ دور کرے اور جو سن کے دور نہ کر سکے اس سے کہنا کیا حاصِل وہ بولا اچھا تو اپنی پیر ہمارے آگے کہہ ہم دور کرینگے یہ سنکے وہ بولا کہ راج کنیا اپنی سکھیونکو ساتھ لیے آئی تھی سو اسکے دیکھنے سے یہ میری گت ہوئی ہے جو وہ ملیگی تو مین بھی جیو رکھونگا نہین تو پران تجونگا تب وہ بولا ہمارے استھان پر چل کہ اسکے ملنے کا ہم جتن کر دینگے اور نہین تو تجھے بہت سا دھن دینگے تب منسوی بولا کہ سنسار مین بھگوان نے بہت رتن پیدا کیے ہین پر استری رتن سب سے بہتر ہے اور اسکے لیے انسان دھن کی خواہش کرتا ہے جب ناری کو تیاگا تو دھن لیکر کیا کرونگا جن کو حسین عورت میسر نہ ہو انسے تو دنیا مین جوان بھلے ہین دھرم کا دھن ہے پھل اور دھن کا پھل سکھ اور سکھ کا پھل ہے ناری اور جہان ناری نہین شُکھ کہا یہ سنکے مول دیو بولا جو تو مانگےگا سو دونگا تب اسنے کہا اے برہمن مجھے وہی کنیا دلا دے پھر مول دیو نے کہا اچھا تو ہمارے ساتھ چل تجھے وہی کنیا دلا دیوین گے غرض بہت سی تسلی کر اسے اپنے گھر لے گیا اور وہان جا کر دو گٹکے بنائے ایک گڑکا اس برہمن کو دے کر کہا جبّ یہ منھ مین رکھےگا تب تو بارہ برس کی کنیا ہو جائےگا اور جس وقت تو اسے منھ سے نکال لےگا تو مرد جیون کا تیون ہو جائیگا تو اسے اپنے مکھ مین رکھ اسنے جو اپنے مکھ مین رکھا تو بارہ برس کی کنیا ہو گیا اور دوسرے گٹکے کو جو اسے مکھ مین رکھا تو آپ اسی برس کا ڈوکر بن گیا اور اس کنیا کو لیے ہوئے راجہ کے یہان گیا راجہ نے برہمن کو دیکھ کر ڈنڈوت کر آسن بیٹھنے کو دیا اور ایک آسن لڑکی کو بھی تب برہمن نے ایک اشلوک پڑھ اسیس دی کہ جس کی شوبھا تینون لوک مین پھیل رہی ہے اور جن نے بامن ہو راجا بل کو چھلا اور جن نے بندر ساتھ لے سمندر کا پل باندھا اور جن نے پربت ہاتھ پر رکھ کر اندر کے ہجر سے گوال بال بچائے سو ہی باسودیو تمھاری رکھشا کرے یہ سنکے راجہ نے پوچھا مہاراج آپ کہان سے پدھارے مول دیو برہمین بولا کہ گنگا پار سے مین آیا ہون اور وہی میرا گھر ہے اور مین اپنے بیٹے کی بہو کو لینے گیا تھا پیچھے میرے گاؤن مین بھگدڑ پڑی سو مین نہین جانتا کہ برہمنی اور میرا لڑکا کہان بھاگ گئے اور اب مین اسکو ساتھ لئے ہوئے انھین کس طرح ڈھونڈون گا اس سے<noinclude></noinclude>
clvus1d3aes7mm0ucuhcj7nqq1m9lqy
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/38
250
13142
32499
2026-05-08T01:54:23Z
Harry sidhuz
157
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «سلطان غیاث الدین بلبن کے بیٹے قاآن محمد سلطان ناظر مان نے جبکو خان شہید کہتے ہیں شیخ سے دو بار درخواست کی کہ آپ شیراز سے یہاں آگئے اور چنگا میرخسرو اسوقت محمد سلطان کے معما جون مین تھے اسلئے انکا کلام ہی تین کے لحظہ کے لیے بھیجا۔ یا وقت بہت معمہ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32499
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Harry sidhuz" /></noinclude>سلطان غیاث الدین بلبن کے بیٹے قاآن محمد سلطان ناظر مان نے جبکو خان شہید کہتے ہیں
شیخ سے دو بار درخواست کی کہ آپ شیراز سے یہاں آگئے اور چنگا میرخسرو اسوقت محمد سلطان
کے معما جون مین تھے اسلئے انکا کلام ہی تین کے لحظہ کے لیے بھیجا۔ یا وقت بہت
معمہ ہو گیا تھا اس سبب سے خود نہ آسکا۔ لیکن دونوں دفعہ اپنے دو دیوان اپنے ہاتہ کے
لکھے ہوئے خان شہید کو بھیجے اور امیر سر کی نسبت یہ لکھا کہ اس جوہر قابل کی تربیت !
قدر افزائی کرنی چاہیئے ۔
اور
شیخ کا ہندوستان مین چار دفعہ آنا ہی ثابت نہیں ہے ۔ صرف بوستان سے اتنا محارم
ہوتا ہے کہ اس نے سومنات سے نکلا ایکبار مغربی ہندوستان کا دورہ کیا ہے اور وہاں سے
بحر ہند اور بحر عرب کی راہ مین اور حجاز مین پہنچا ہے ۔
شیخ کے سفر جسقدر گلستان اور بوستان سے ثابت ہوتے ہیں انکی تفصیل یہ ہے کہ مشرق
مین خراسان ترکستان اور تاتاری گیا ہے اربیل کاشغر غیرہ میں عظیم رہا ہے جنوب مین
سومنات تک آیا اور ایک مدت تک یہان میرا اور سومنات سے مغربی ہندوستان
ین پر گوری کی راہ سے عرب کو چلا گیا۔ شمال و مغرب کی طرف عراق عجم - آذر بیجان عراق
عرب شام، فلسطین اور ایشیائے کوچک میں بارہا اسکا گزر ہوا ہے ۔ اصفهان تبریز - عنبر
ور
کوفر واسط بیت المقدس- ملابس الشرق - مشق- دیاریگر اور فقہائے روم کے شہرون اور
تربیون بین سایت در از تک اسکی آمد ورفت رہی ہے۔ مغرب کی جانب عرب اور افریقہ بین
بار جانا اور ان میرا معلوم ہوا ہے ۔ ہندوستان سے مراجعت کے وقت مین مین
تا
اس<noinclude></noinclude>
jw9o797co4r9crzzuwedopem2u69u1e