ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.1 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/52 250 13115 32519 32410 2026-05-09T08:19:23Z Charan Gill 46 32519 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>کِیس کا بھائی اس سنسار کی ریت ہے کہ کتنے آتے ہین اور کتنے جاتے ہین جو جگ اور ہوم کرنے والے ہین وے آگ کو ایشور جانتے ہین اور جو کم عقل ہین وہ مورتی کو بھگوان جانتے ہین اور جوگی لوگ اپنے گھٹ ہی مین ایشور کو جانتے ہین سو گرہستی دھرم کو مین نہ کرون گا بلکہ لوگ ابھی اس کرونگا اتنا کہہ اپنے گھر سے رخصت لے جوگی کے پاس گن مین مجھ نتر ادھ پر کمیشنی نہ آئی تب جوگی کے پاس گیا جوگی نے پوچھا دیا تجھے نہ آئی پھر ان نے کہا ہان مہاراج نہ آئی اتنا قصہ کہہ بیتال بولا اے راجہ کمو کیس کارن اسے بریا نہ آئی راجہ بولا کہ وہ سادھک دوچنا ہوا اس لیے نہ آئی اور کہا ہے کہ مترا ایک چت ہونے سے سدھ ہوتا ہے دوست ہونے سے نہین ہوتا اور یہ بھی کہا ہے کہ جو دان نہین کرتے ) تنکی کیرت نہین ہوتی اور جوست سے گھرے ہوئے ہین انھین راج نہین جو نیاؤ سے گھرے ہی نھین دولت نہین ملتی اور جو دھیان نہین لگاتے انھین بھگوان نہین ملتا یہ سُن جیال نے کہا جو سا دھک متر سدہ کرنے کے لئے آگ مین بیٹھا وہ مین طرح دو چت ہوا راجہ نے کہا متر سادھنے بریا جب و اپنے گھب کو ملنے گیا اس سے جوگی نے کر ور نہ کر اپنے من مین کہا ایسے دو چھتے سادھنک کو مین نے بدیا کیون سکھائی اس لئے بریا اسے نہ آئی اور کہا ہو کہ انسان کتنا ہی زور لگا و نے نصیب اسکے ساتھ رہتا ہے اور کتنا ہی کام اپنی بوجھ سے کرنے پر تقدیر کا لکھا ہی ملتا ہے یہ سنکر بنیا پھر اسی درخت پر جالگا اور راجہ بھی اسکے بیجھے جا اسے باندھہ کاندھے پر رکھ لیچلا اٹھارھوین کہانی - جیتال بولا اے راجہ گوگل پور نام ای نگر ہر وہان کے راجہ کا نام سرکشی اور اس نگرین دھناشی نام ایک سیٹھ بھی رہتا تھا اسکی پیری کا نام دھنوتی تھا چھوٹی عمری اس کا بنیادہ ایک گورمیت نام کے بنیے سے کردیا گیا کتنے ایک دونون کے اچھے ایک لڑکی اسکے ہوگی نام اس کا مومنی رکھا جب کا کئی برس کی ہوئی تب اسکا باپ مرگیا اور اس بینے کے بھائی بندون نے اسکا سریس چھین لیا وہ چار ہو اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ اندھیری رات کے سمے اس گھر سے نکل اپنے مان باپ کے گھر چلی تھوڑی ایک دور جا کر راہ بھول گئی ایک مرگھٹ پر جانگلی وہان ایک چور سولی پرلٹکا ہوا تھا اچانک اسکا پائون اسکے ہاتھ مین لگا وہ بولا کہ اس سمے مجھے کن نے دکھ دیا تب یہ بولی مین نے جان کر مجھے دکھ نہین دیا میری تقصیر معاف کر اپنے کہا دکھ اور سکھ کوئی کسی کو نہین دیتا جیسا بدھا تا کرم مین لکھ دیتا ہے ویسا ہی بھگتنا ہوتا ہو اور جولوگ کہتے ہین کہ یہ کام مین نے کیا سو بالکل جاہل ہین کیون کہ یہ سنسار کے تاگے مین بندھا ہوا ہے وہ جہان جہان چاہتا ہے جہان تمان جیو کو تصلح لے جاتا ہو بر جاتا کی<noinclude></noinclude> 10ld0qwukmcny4bdjkw51wy1gz6k7dd 32522 32519 2026-05-09T10:52:11Z Charan Gill 46 32522 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>کِیس کا بھائی اس سنسار کی ریت ہے کہ کتنے آتے ہین اور کتنے جاتے ہین جو جگ اور ہوم کرنے والے ہین وے آگ کو ایشور جانتے ہین اور جو کم عقل ہین وہ مورتی کو بھگوان جانتے ہین اور جوگی لوگ اپنے گھٹ ہی مین ایشور کو جانتے ہین سو گرہستی دھرم کو مین نہ کرون گا بلکہ لوگ ابھی اس کرونگا اتنا کہہ اپنے گھر سے رخصت لے جوگی کے پاس گن مین مجھ نتر ادھ پر کمیشنی نہ آئی تب جوگی کے پاس گیا جوگی نے پوچھا دیا تجھے نہ آئی پھر ان نے کہا ہان مہاراج نہ آئی اتنا قصہ کہہ بیتال بولا اے راجہ کمو کیس کارن اسے بریا نہ آئی راجہ بولا کہ وہ سادھک دوچنا ہوا اس لیے نہ آئی اور کہا ہے کہ مترا ایک چت ہونے سے سدھ ہوتا ہے دوچت ہونے سے نہین ہوتا اور یہ بھی کہا ہے کہ جو دان نہین کرتے تنکی کیرت نہین ہوتی اور جو ست سے گھرے ہوئے ہین انھین راج نہین جو نیاؤ سے گھرے ہی انھین دولت نہین ملتی اور جو دھیان نہین لگاتے انھین بھگوان نہین ملتا یہ سُن بتال نے کہا جو سادھک منتر سدھ کرنے کے لئے آگ مین بیٹھا وہ کِس طرح دوچت ہوا راجہ نے کہا منتر سادھنے بدیا جب وہ اپنے کٹمب کو ملنے گیا اس سے جوگی نے کرورھ کر اپنے من مین کہا ایسے دوچتے سادھک کو مین نے بدّیا کیون سکھائی اس لئے بدیا اسے نہ آئی اور کہا ہے کہ انسان کتنا ہی زور لگاوے نصیب اسکے ساتھ رہتا ہے اور کتنا ہی کام اپنی بوجھ سے کرلے پر تقدیر کا لکھا ہی ملتا ہے یہ سنکر بنیا پھر اسی درخت پر جا لٹگا اور راجہ بھی اسکے پیجھے جا اسے باندھہ کاندھے پر رکھ لیچلا {{center|'''اٹھارھوین کہانی'''}} جیتال بولا اے راجہ گوگل پور نام ای نگر ہر وہان کے راجہ کا نام سرکشی اور اس نگرین دھناشی نام ایک سیٹھ بھی رہتا تھا اسکی پیری کا نام دھنوتی تھا چھوٹی عمری اس کا بنیادہ ایک گورمیت نام کے بنیے سے کردیا گیا کتنے ایک دونون کے اچھے ایک لڑکی اسکے ہوگی نام اس کا مومنی رکھا جب کا کئی برس کی ہوئی تب اسکا باپ مرگیا اور اس بینے کے بھائی بندون نے اسکا سریس چھین لیا وہ چار ہو اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ اندھیری رات کے سمے اس گھر سے نکل اپنے مان باپ کے گھر چلی تھوڑی ایک دور جا کر راہ بھول گئی ایک مرگھٹ پر جانگلی وہان ایک چور سولی پرلٹکا ہوا تھا اچانک اسکا پائون اسکے ہاتھ مین لگا وہ بولا کہ اس سمے مجھے کن نے دکھ دیا تب یہ بولی مین نے جان کر مجھے دکھ نہین دیا میری تقصیر معاف کر اپنے کہا دکھ اور سکھ کوئی کسی کو نہین دیتا جیسا بدھا تا کرم مین لکھ دیتا ہے ویسا ہی بھگتنا ہوتا ہو اور جولوگ کہتے ہین کہ یہ کام مین نے کیا سو بالکل جاہل ہین کیون کہ یہ سنسار کے تاگے مین بندھا ہوا ہے وہ جہان جہان چاہتا ہے جہان تمان جیو کو تصلح لے جاتا ہو بر جاتا کی<noinclude></noinclude> 6dnp0uh3cmnehyvainxfkxtnbg4xop1 صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/51 250 13117 32516 32413 2026-05-08T15:55:39Z Charan Gill 46 32516 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>بھوجن نہ کیا تب جوگی نے ایسا منتر پڑھ کر ایک یکشِنی ہاتھ جوڑ ان کے حاضر ہوئی اور وہ بولی مہاراج جو آگیا ہو سو کرون جوگی نے کہا اِس برہمن کو حسب خواہش بھوجن دے اتنا سن کے اسنے ایک اچھا مندر بنا اسمین سب سکھ کے سامان رکھ کے اسے یہان سے اپنے ساتھ لے گئی اور ایک چوکی پر بیٹھایا طرح طرح کے لذیذ کھانے اور پکوان تھال بھر بھر کے اسکے روبرو رکھے اس نے من مانتا جو بھایا سو کھایا اور اسکے بعد پاندان اسکے سنمکھ رکھ دیا اور کیسر چندن گلاب مین گھس کر اسکے بدن مین لگا یا پھر اچھے کپڑے خوشبویات سے باس کرکے پہنا پھولون کے مالے گلے مین ڈال وہان سے پلنگ پر لا بٹھا یا کہ اتنے مین سانجھ ہوئی اور یہ بھی اپنی تیاری کر پیج پر جابیٹھی اور اس برمن نے ساری دین سکھ چین کائی جب صبح ہوئی تب وہ مشینی اپنے استھان پر گئی اور اسنے جوگی کے پاس آن کے کہا سوامی وہ چلی گئی اب مین کیا کردن جوگی بولا بد یا کے بل سے آئی تھی جسے بد یا آتی ہو اسکے پاس رہتی ہے اپنے کہا مہاراج یہ بریا مجھے دو تومن سادھون تب جوگی نے ایک منتر ا سکو دیا اور کہا کہ اس منتر کو چالیس دن آدھی رات کے سے جل مین بیٹھ ایک چت ہو کر سادھ اسی طرح یہ سادھنے کو جایا کرتا تھا طرح طرح کی ڈراؤنی صورتمین نظر آتین پر یہ کسی سے نہ ڈرتا جبکہ بہت مدت ہو چکی تو اس نے جوگی سے آکر کہا کہ مہاراج جتنے دن آپ نے کیے تھے مین سادھ آیا اس نے کہا اتنے دن اب آگ مین بیٹھ کے سادھ اُس نے کہا مہاراج ایک بار کعب سے مل آون پھرا کے سادھون گا جوگی سے کہہ بلا جو اپنے گھر کو گیا اور کنبے کے لوگون نے اسے جو دیکھا تو گلے لگارہونے لگے اور اس کے باپ نے کہا گنا کر اتنے دنون ہو تو کہان تھا اور کیس واسطے گھر کو بسارا اسے پتر ایسے کہا ہو جو پت برتا استری کو چھوڑ کے جدا رہتا ہے اور جوان ناری کو پیٹھ دیتا ہے جو جسے چاہتا ہو وہ اسے نہین چاہتا وہ چنڈال کی سمان ہوتا ہو اور یہ بھی کہا ہے کہ گرہستی دھرم برابر کوئی دھرم نہین اور گھر والی استری کے برابر سنسار مین کوئی سکہ دینے والی نہین اور جو اتاپتا کی ندا کرتے ہین سواد هم زمین اور ان کی گت گمت کبھی نہین ہوتی ایسا بر مانے کہان تب گنا کر بولا کہ یہ شر برکت اور مانس کا بنا ہوا ہے سوکیرون کی کھان ہو اور سبھاؤ اس کا یہ ہے کہ ایک روز اسکی خبر نہ کیجئے تو گندھ آتی ہے جو ایسے شریر سے محبت کرتے ہین وہ مورکھ مین اور جو اس سے بہیت نہین کرتے وہ پنڈت ہین اور اسی شریر کا یہی دھرم ہے کہ بار بار جنم لیتا ہے اور ٹھتا ہے ایسے شریر کا کیا بھروسا کیجئے اسے بہتر پاک کیجئے پر یہ نہین ہوتا جیسے غلیظ کا بھرا گھر اور کے دھونے سے پاک نہین ہوتا اور کویلے کو کوئی بیرو ھوئے پردہ جلا نہین ہوتا اورمین شہرمین مل اور موت سدا بہا کرین وہ کس طرح سے پاک ہو اتنا کہ میان بولا کیس کی مان کیس کا باپ کرسکتی جورد<noinclude></noinclude> gmc7o2o3yl6nzp8489ssrroetsexwkd 32517 32516 2026-05-09T01:08:50Z Charan Gill 46 32517 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>بھوجن نہ کیا تب جوگی نے ایسا منتر پڑھ کر ایک یکشِنی ہاتھ جوڑ ان کے حاضر ہوئی اور وہ بولی مہاراج جو آگیا ہو سو کرون جوگی نے کہا اِس برہمن کو حسب خواہش بھوجن دے اتنا سن کے اسنے ایک اچھا مندر بنا اسمین سب سکھ کے سامان رکھ کے اسے یہان سے اپنے ساتھ لے گئی اور ایک چوکی پر بیٹھایا طرح طرح کے لذیذ کھانے اور پکوان تھال بھر بھر کے اسکے روبرو رکھے اس نے من مانتا جو بھایا سو کھایا اور اسکے بعد پاندان اسکے سنمکھ رکھ دیا اور کیسر چندن گلاب مین گِھسکر اسکے بدن مین لگایا پھر اچھے کپڑے خوشبویات سے باس کرکے پہنا پھولون کے مالے گلے مین ڈال وہان سے پلنگ پر لا بیٹھایا کہ اتنے مین سانجھ ہوئی اور یہ بھی اپنی تیاری کر سیج پر جا بیٹھی اور اس برہمن نے ساری رین سکھ چین کائی جب صبح ہوئی تب وہ یکشنی اپنے استھان پر گئی اور اسنے جوگی کے پاس آن کے کہا سوامی وہ چلی گئی اب مین کیا کرون جوگی بولا بدیا کے بل سے آئی تھی جسے بدیا آتی ہو اسکے پاس رہتی ہے اسنے کہا مہاراج یہ بدیا مجھے دو تو مین سادھون تب جوگی نے ایک منتر اسکو دیا اور کہا کہ اس منتر کو چالیس دن آدھی رات کے سمے جل مین بیٹھ ایک چت ہو کر سادھ اسی طرح یہ سادھنے کو جایا کرتا تھا طرح طرح کی ڈراؤنی صورتین نظر آتین پر یہ کسی سے نہ ڈرتا جبکہ بہت مدّت ہو چکی تو اس نے جوگی سے آکر کہا کہ مہاراج جتنے دن آپ نے کہے تھے مین سادھ آیا اس نے کہا اتنے دن اب آگ مین بیٹھ کے سادھ اُس نے کہا مہاراج ایک بار کٹمب سے مِل آون پھر آکے سادھون گا جوگی سے کہہ بلا ہوا اپنے گھر کو گیا اور کنبے کے لوگون نے اسے جو دیکھا تو گلے لگا رونے لگے اور اس کے باپ نے کہا گناکر اتنے دنون سے تو کہان تھا اور کِیس واسطے گھر کو بسارا اے پتر ایسے کہا ہے جو پتِبرتا استری کو چھوڑ کے جدا رہتا ہے اور جوان ناری کو پیٹھ دیتا ہے جو جسے چاہتا ہے وہ اسے نہین چاہتا وہ چنڈال کی سمان ہوتا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ گرہستی دھرم برابر کوئی دھرم نہین اور گھر والی استری کے برابر سنسار مین کوئی سکھ دینے والی نہین اور جو ماتا پتا کی ندا کرتے ہین سوادهرم زمین اور ان کی گت گمت کبھی نہین ہوتی ایسا بر مانے کہان تب گنا کر بولا کہ یہ شر برکت اور مانس کا بنا ہوا ہے سوکیرون کی کھان ہو اور سبھاؤ اس کا یہ ہے کہ ایک روز اسکی خبر نہ کیجئے تو گندھ آتی ہے جو ایسے شریر سے محبت کرتے ہین وہ مورکھ مین اور جو اس سے بہیت نہین کرتے وہ پنڈت ہین اور اسی شریر کا یہی دھرم ہے کہ بار بار جنم لیتا ہے اور ٹھتا ہے ایسے شریر کا کیا بھروسا کیجئے اسے بہتر پاک کیجئے پر یہ نہین ہوتا جیسے غلیظ کا بھرا گھر اور کے دھونے سے پاک نہین ہوتا اور کویلے کو کوئی بیرو ھوئے پردہ جلا نہین ہوتا اورمین شہرمین مل اور موت سدا بہا کرین وہ کس طرح سے پاک ہو اتنا کہ میان بولا کیس کی مان کیس کا باپ کرسکتی جورد<noinclude></noinclude> qv50s77qum9c0ec6jst9sp7hi896gfu 32521 32517 2026-05-09T09:41:29Z BalramBodhi 60 32521 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>بھوجن نہ کیا تب جوگی نے ایسا منتر پڑھا کے ایک یکشِنی ہاتھ جوڑ ان کے حاضِر ہوئی اور وہ بولی مہاراج جو آگیا ہو سو کرون جوگی نے کہا اِس برہمن کو حسب خواہش بھوجن دے اتنا سن کے اسنے ایک اچھا مندر بنا اسمین سب سکھ کے سامان رکھ کے اسے یہان سے اپنے ساتھ لے گئی اور ایک چوکی پر بیٹھایا طرح طرح کے لذیذ کھانے اور پکوان تھال بھر بھر کے اسکے روبرو رکھے اس نے من مانتا جو بھایا سو کھایا اور اسکے بعد پاندان اسکے سنمکھ رکھ دیا اور کیسر چندن گلاب مین گِھسکر اسکے بدن مین لگایا پھر اچھے کپڑے خوشبویات سے باس کرکے پہنا پھولون کے مالے گلے مین ڈال وہان سے پلنگ پر لا بیٹھایا کہ اتنے مین سانجھ ہوئی اور یہ بھی اپنی تیاری کر سیج پر جا بیٹھی اور اس برہمن نے ساری رین سکھ چین سے کاٹی جب صبح ہوئی تب وہ یکشنی اپنے استھان پر گئی اور اسنے جوگی کے پاس آن کے کہا سوامی وہ چلی گئی اب مین کیا کرون جوگی بولا بدّیا کے بل سے آئی تھی جسے بدیا آتی ہے اسکے پاس رہتی ہے اسنے کہا مہاراج یہ بدّیا مجھے دو تو مین سادھون تب جوگی نے ایک منتر اسکو دیا اور کہا کہ اس منتر کو چالیس دن آدھی رات کے سمے جل مین بیٹھ ایک چت ہو کر سادھ اسی طرح یہ سادھنے کو جایا کرتا تھا طرح طرح کی ڈراؤنی صورتین نظر آتین پر یہ کسی سے نہ ڈرتا جبکہ بہت مدّت ہو چکی تو اس نے جوگی سے آکر کہا کہ مہاراج جتنے دن آپ نے کہے تھے مین سادھ آیا اس نے کہا اتنے دن اب آگ مین بیٹھ کے سادھ اُس نے کہا مہاراج ایک بار کٹمب سے مِل آون پھر آکے سادھون گا جوگی سے کہہ بدا ہوا اپنے گھر کو گیا اور کنبے کے لوگون نے اسے جو دیکھا تو گلے لگا رونے لگے اور اس کے باپ نے کہا گناکر اتنے دنون سے تو کہان تھا اور کِس واسطے گھر کو بسارا اے پتر ایسے کہا ہے جو پتِبرتا استری کو چھوڑ کے جدا رہتا ہے اور جوان ناری کو پیٹھ دیتا ہے جو جسے چاہتا ہے وہ اسے نہین چاہتا وہ چنڈال کی سمان ہوتا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ گرہستی دھرم برابر کوئی دھرم نہین اور گھر والی استری کے برابر سنسار مین کوئی سکھ دینے والی نہین اور جو ماتا پتا کی نندا کرتے ہین سو ادهم نر ہین اور ان کی گتِ مکتِ کبھی نہین ہوتی ایسا برما نے کہا ہے تب گناکر بولا کہ یہ شریر رکت اور مانس کا بنا ہوا ہے سو کیڑون کی کھان ہے اور سُبھاؤ اس کا یہ ہے کہ ایک روز اسکی خبر نہ کیجئے تو درگندھ آتی ہے جو ایسے شریر سے محبت کرتے ہین وہ مورکھ ہین اور جو اس سے ہیت نہین کرتے وہ پنڈت ہین اور اسی شریر کا یہی دھرم ہے کہ بار بار جنم لیتا ہے اور مٹتا ہے ایسے شریر کا کیا بھروسا کیجئے اسے بہتیرا پاک کیجئے پر یہ نہین ہوتا جیسے غلیظ کا بھرا گھڑا اوپر کے دھونے سے پاک نہین ہوتا اور کویلے کو کوئی بہتیرا دھوئے پر وہ اجلا نہین ہوتا اور جس شریر مین مل اور موت سدا بہا کرین وہ کِس طرح سے پاک ہو اتنا کہہ بیتال بولا کِس کی مان کِس کا باپ کِسکی جورو<noinclude></noinclude> 5p3e811vpt37b5g319snf8ej55ii0xe صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/50 250 13118 32513 32512 2026-05-08T12:31:07Z BalramBodhi 60 32513 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" />{{center|(۴۹) }}</noinclude>مین مرگیا پھر بلبھدر سیناپت نے گرو سے جاکر پوچھا کہ میرا سوامی انمادِنی کے کارن موا اب مجھے کیا کرنا واجب ہے سو اگیا کیجئے اُسنے کہا سیوک کا دھرم ہے سوامی کے پیچھے اپنا جی بھی دے یہ سنکے بخشی وہان سے گیا جهان لوگ راجہ کو جلانے کے لئے لیگئے تھے جتنی دیر من راجہ کی چتا تیار ہوئی اسنے بھی اشنان اور پوجا سے فراغت کی اور جب چتا مین آگ لگی تب یہ بھی چتا کے پاس گیا اور سورج کے سامنے ہاتھ جوڑ کہنے لگا اے سورج دیوتا مین مین بچ کرم کرکے یہی کامنا مانگتا ہون کہ جنم جنم اسی سوامی کو پاؤن اور تیرا گن گاؤن اتنا کہہ ڈنڈوت کر آگ مین کود پڑا یہ خبر سُن انمادنی اپنے گرو کے پاس گئی اور اس سے سب کہہ کے پوچھا مہاراج استری کا دھرم کیا ہے اسنے کہا ماتا پتا نے جس کو اپنی کنیا دی اس کی سیوا کرنے سے وہ کلونتی کہلاتی ہے اور دھرم شاستر مین لِکھا ہے کہ جو ناری اپنے سوامی کے جیتے تپ برت کرتی ہے وہ اپنے سوامی کی عمر کم کرتی ہے اورانت کال کو نرک مین پڑتی ہے پر اتم تو یہ ہے کے سوامی کیسا ہی گیا گذرا ہو اسی کی سیوا کرنے سے اسکی مکتِ ہوتی ہے اور جو ناری شمشان مین ستی ہو نیکی کامنا کر جتنے پائون زمین پر رکھتی ہے اتنی اسومیدہ جگ کرنے کا پھل ہوتا ہے اسمین کچھ سندیہ نہین ہے یہ سن ڈنڈوت کر اپنے گھر کو آئی اور اشنان دھیان کر بہت سا دان برہمنونکو دے چتا کے پاس جاایک پرکرما کر بولی ہے ناتھ مین تیری داسی جنم ججم ہون اتنا کہہ وہ بھی آگ مین جا بیٹھی اور جل گئی اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ اِن تینون مین کِس کا ستِ ادھک ہوا راجہ بیر بکرماجیت نے کہا اس راجہ کا بیتال نے کہا کِس طرح راجہ بولا سیناپت کی دی ہوئی استری کو چھوڑ اور اسی کیواستے جان دی پر دھرم رکھا سوامی کے لیے سیوک کو جان دینی اچت ہے اور پتِ کے لئے استری کو ستی ہونا لازم ہے اس کارن راجہ کا ست ادھک ہوا بتیال اتنی سُن اُسی تر ور مین جا لٹکا راجہ بھی پیچھے پیچھے جا پھر سے باندھ کاندھے پر رکھ لے چلا {{center|شر بوین کہانی}} بیتال بولا اے راجہ جین نگر کا ماسین نام راجہ تھا اور وہان کا باشی دیو شر بابر مین جسکے بیٹے کا نام گناکر نمادہ برا جواری ہو یہان تک کہ جو کچھ اس بر من کا دن تھا وہ سب جو سے مین ہار دیا تب سارے کنبے کے لوگون نے گنا کہ کو گھر سے نکال دیا اور اس سے کچھ بن نہ آیا ناچار موکر دبانے چلا تو کتنے دنون مین ایک شہر مین آیا دیکھتا گیا ہو کہ ایک جوگی دھونی لگائے ہوئے بیٹھا ہر دندات کر وہان میٹھ گیا جوگی نے اس سے بوجھ تو کچھ کھائیگا اسنے کہا مہا راج دنگے تو کیون نہ کھاؤن گا جوگی نے ایک آدمی کی کھوپری مین کھانا بھر کر اسے لا دیا اسے دیکھ کر کہا اس کیپال کا کھانا مین نہ کھاؤ گا جیسے<noinclude></noinclude> dst1gfqsqfr1omp66cj967grjs1ptta 32514 32513 2026-05-08T13:13:51Z Charan Gill 46 32514 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" />{{center|(۴۹) }}</noinclude>مین مرگیا پھر بلبھدر سیناپت نے گرو سے جاکر پوچھا کہ میرا سوامی انمادِنی کے کارن موا اب مجھے کیا کرنا واجب ہے سو اگیا کیجئے اُسنے کہا سیوک کا دھرم ہے سوامی کے پیچھے اپنا جی بھی دے یہ سنکے بخشی وہان سے گیا جهان لوگ راجہ کو جلانے کے لئے لیگئے تھے جتنی دیر من راجہ کی چتا تیار ہوئی اسنے بھی اشنان اور پوجا سے فراغت کی اور جب چتا مین آگ لگی تب یہ بھی چتا کے پاس گیا اور سورج کے سامنے ہاتھ جوڑ کہنے لگا اے سورج دیوتا مین مین بچ کرم کرکے یہی کامنا مانگتا ہون کہ جنم جنم اسی سوامی کو پاؤن اور تیرا گن گاؤن اتنا کہہ ڈنڈوت کر آگ مین کود پڑا یہ خبر سُن انمادنی اپنے گرو کے پاس گئی اور اس سے سب کہہ کے پوچھا مہاراج استری کا دھرم کیا ہے اسنے کہا ماتا پتا نے جس کو اپنی کنیا دی اس کی سیوا کرنے سے وہ کلونتی کہلاتی ہے اور دھرم شاستر مین لِکھا ہے کہ جو ناری اپنے سوامی کے جیتے تپ برت کرتی ہے وہ اپنے سوامی کی عمر کم کرتی ہے اورانت کال کو نرک مین پڑتی ہے پر اتم تو یہ ہے کے سوامی کیسا ہی گیا گذرا ہو اسی کی سیوا کرنے سے اسکی مکتِ ہوتی ہے اور جو ناری شمشان مین ستی ہو نیکی کامنا کر جتنے پائون زمین پر رکھتی ہے اتنی اسومیدہ جگ کرنے کا پھل ہوتا ہے اسمین کچھ سندیہ نہین ہے یہ سن ڈنڈوت کر اپنے گھر کو آئی اور اشنان دھیان کر بہت سا دان برہمنونکو دے چتا کے پاس جاایک پرکرما کر بولی ہے ناتھ مین تیری داسی جنم ججم ہون اتنا کہہ وہ بھی آگ مین جا بیٹھی اور جل گئی اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ اِن تینون مین کِس کا ستِ ادھک ہوا راجہ بیر بکرماجیت نے کہا اس راجہ کا بیتال نے کہا کِس طرح راجہ بولا سیناپت کی دی ہوئی استری کو چھوڑ اور اسی کیواستے جان دی پر دھرم رکھا سوامی کے لیے سیوک کو جان دینی اچت ہے اور پتِ کے لئے استری کو ستی ہونا لازم ہے اس کارن راجہ کا ست ادھک ہوا بتیال اتنی سُن اُسی تر ور مین جا لٹکا راجہ بھی پیچھے پیچھے جا پھر سے باندھ کاندھے پر رکھ لے چلا {{center|{{x-larger|'''شرہوین کہانی'''}}}} بیتال بولا اے راجہ اجین نگر کا مہاسین نام راجہ تھا اور وہان کا باشی دیو شرما برہمین جسکے بیٹے کا نام گناکر تھا وہ بڑا جواری ہوا یہان تک کہ جو کچھ اس برہمن کا دھن تھا وہ سب جوے مین ہار دیا تب سارے کنبے کے لوگون نے گناکر کو گھر سے نکال دیا اور اس سے کچھ بن نہ آیا ناچار ِہوکر وبانسے چلا تو کتنے دنون مین ایک شہر مین آیا دیکھتا کیا ہے کہ ایک جوگی دھونی لگائے ہوئے بیٹھا ہے ڈنڈاوت کر وہان بیٹھ گیا جوگی نے اس سے بوچھا تو کچھ کھائیگا اسنے کہا مہا راج دنگے تو کیون نہ کھاؤن گا جوگی نے ایک آدمی کی کھوپری مین کھانا بھر کر اسے لا دیا اسے دیکھ کر کہا اس کیپال کا کھانا مین نہ کھاؤ گا جیسے<noinclude></noinclude> s8n6wmxe7cake55w6chrxfi8px4b2m0 32515 32514 2026-05-08T15:04:11Z Charan Gill 46 32515 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" />{{center|(۴۹) }}</noinclude>مین مرگیا پھر بلبھدر سیناپت نے گرو سے جاکر پوچھا کہ میرا سوامی انمادِنی کے کارن موا اب مجھے کیا کرنا واجب ہے سو اگیا کیجئے اُسنے کہا سیوک کا دھرم ہے سوامی کے پیچھے اپنا جی بھی دے یہ سنکے بخشی وہان سے گیا جهان لوگ راجہ کو جلانے کے لئے لیگئے تھے جتنی دیر من راجہ کی چتا تیار ہوئی اسنے بھی اشنان اور پوجا سے فراغت کی اور جب چتا مین آگ لگی تب یہ بھی چتا کے پاس گیا اور سورج کے سامنے ہاتھ جوڑ کہنے لگا اے سورج دیوتا مین مین بچ کرم کرکے یہی کامنا مانگتا ہون کہ جنم جنم اسی سوامی کو پاؤن اور تیرا گن گاؤن اتنا کہہ ڈنڈوت کر آگ مین کود پڑا یہ خبر سُن انمادنی اپنے گرو کے پاس گئی اور اس سے سب کہہ کے پوچھا مہاراج استری کا دھرم کیا ہے اسنے کہا ماتا پتا نے جس کو اپنی کنیا دی اس کی سیوا کرنے سے وہ کلونتی کہلاتی ہے اور دھرم شاستر مین لِکھا ہے کہ جو ناری اپنے سوامی کے جیتے تپ برت کرتی ہے وہ اپنے سوامی کی عمر کم کرتی ہے اورانت کال کو نرک مین پڑتی ہے پر اتم تو یہ ہے کے سوامی کیسا ہی گیا گذرا ہو اسی کی سیوا کرنے سے اسکی مکتِ ہوتی ہے اور جو ناری شمشان مین ستی ہو نیکی کامنا کر جتنے پائون زمین پر رکھتی ہے اتنی اسومیدہ جگ کرنے کا پھل ہوتا ہے اسمین کچھ سندیہ نہین ہے یہ سن ڈنڈوت کر اپنے گھر کو آئی اور اشنان دھیان کر بہت سا دان برہمنونکو دے چتا کے پاس جاایک پرکرما کر بولی ہے ناتھ مین تیری داسی جنم ججم ہون اتنا کہہ وہ بھی آگ مین جا بیٹھی اور جل گئی اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ اِن تینون مین کِس کا ستِ ادھک ہوا راجہ بیر بکرماجیت نے کہا اس راجہ کا بیتال نے کہا کِس طرح راجہ بولا سیناپت کی دی ہوئی استری کو چھوڑ اور اسی کیواستے جان دی پر دھرم رکھا سوامی کے لیے سیوک کو جان دینی اچت ہے اور پتِ کے لئے استری کو ستی ہونا لازم ہے اس کارن راجہ کا ست ادھک ہوا بتیال اتنی سُن اُسی تر ور مین جا لٹکا راجہ بھی پیچھے پیچھے جا پھر سے باندھ کاندھے پر رکھ لے چلا {{center|{{x-larger|'''شرہوین کہانی'''}}}} بیتال بولا اے راجہ اجین نگر کا مہاسین نام راجہ تھا اور وہان کا باشی دیو شرما برہمین جسکے بیٹے کا نام گناکر تھا وہ بڑا جواری ہوا یہان تک کہ جو کچھ اس برہمن کا دھن تھا وہ سب جوے مین ہار دیا تب سارے کنبے کے لوگون نے گناکر کو گھر سے نکال دیا اور اس سے کچھ بن نہ آیا ناچار ِہوکر وبانسے چلا تو کتنے دنون مین ایک شہر مین آیا دیکھتا کیا ہے کہ ایک جوگی دھونی لگائے ہوئے بیٹھا ہے ڈنڈاوت کر وہان بیٹھ گیا جوگی نے اس سے پوچھا تو کچھ کھائیگا اسنے کہا مہاراج دوگے تو کیون نہ کھاؤن گا جوگی نے ایک آدمی کی کھوپری مین کھانا بھر کر اسے لا دیا اسے دیکھ کر کہا اس کپال کا کھانا مین نہ کھاؤنگا جب اسنے<noinclude></noinclude> 9bng8czokyclkr43omq1rl5awq6vnrd 32520 32515 2026-05-09T09:08:29Z BalramBodhi 60 32520 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" />{{center|(۴۹) }}</noinclude>مین مرگیا پھر بلبھدر سیناپت نے گرو سے جاکر پوچھا کہ میرا سوامی انمادِنی کے کارن موا اب مجھے کیا کرنا واجب ہے سو اگیا کیجئے اُسنے کہا سیوک کا دھرم ہے سوامی کے پیچھے اپنا جی بھی دے یہ سنکے بخشی وہان سے گیا جهان لوگ راجہ کو جلانے کے لئے لیگئے تھے جتنی دیر من راجہ کی چتا تیار ہوئی اسنے بھی اشنان اور پوجا سے فراغت کی اور جب چتا مین آگ لگی تب یہ بھی چتا کے پاس گیا اور سورج کے سامنے ہاتھ جوڑ کہنے لگا اے سورج دیوتا مین مین بچ کرم کرکے یہی کامنا مانگتا ہون کہ جنم جنم اسی سوامی کو پاؤن اور تیرا گن گاؤن اتنا کہہ ڈنڈوت کر آگ مین کود پڑا یہ خبر سُن انمادنی اپنے گرو کے پاس گئی اور اس سے سب کہہ کے پوچھا مہاراج استری کا دھرم کیا ہے اسنے کہا ماتا پتا نے جس کو اپنی کنیا دی اس کی سیوا کرنے سے وہ کلونتی کہلاتی ہے اور دھرم شاستر مین لِکھا ہے کہ جو ناری اپنے سوامی کے جیتے تپ برت کرتی ہے وہ اپنے سوامی کی عمر کم کرتی ہے اورانت کال کو نرک مین پڑتی ہے پر اتم تو یہ ہے کے سوامی کیسا ہی گیا گذرا ہو اسی کی سیوا کرنے سے اسکی مکتِ ہوتی ہے اور جو ناری شمشان مین ستی ہو نیکی کامنا کر جتنے پائون زمین پر رکھتی ہے اتنی اسومیدہ جگ کرنے کا پھل ہوتا ہے اسمین کچھ سندیہ نہین ہے یہ سن ڈنڈوت کر اپنے گھر کو آئی اور اشنان دھیان کر بہت سا دان برہمنونکو دے چتا کے پاس جاایک پرکرما کر بولی ہے ناتھ مین تیری داسی جنم ججم ہون اتنا کہہ وہ بھی آگ مین جا بیٹھی اور جل گئی اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ اِن تینون مین کِس کا ستِ ادھک ہوا راجہ بیر بکرماجیت نے کہا اس راجہ کا بیتال نے کہا کِس طرح راجہ بولا سیناپت کی دی ہوئی استری کو چھوڑ اور اسی کیواستے جان دی پر دھرم رکھا سوامی کے لیے سیوک کو جان دینی اچت ہے اور پتِ کے لئے استری کو ستی ہونا لازم ہے اس کارن راجہ کا ست ادھک ہوا بتیال اتنی سُن اُسی تر ور مین جا لٹکا راجہ بھی پیچھے پیچھے جا پھر سے باندھ کاندھے پر رکھ لے چلا {{center|{{x-larger|'''شرہوین کہانی'''}}}} بیتال بولا اے راجہ اجین نگر کا مہاسین نام راجہ تھا اور وہان کا باشِی دیو شرما برہمین جسکے بیٹے کا نام گناکر تھا وہ بڑا جواری ہوا یہان تک کہ جو کچھ اس برہمن کا دھن تھا وہ سب جوے مین ہار دیا تب سارے کنبے کے لوگون نے گناکر کو گھر سے نکال دیا اور اس سے کچھ بن نہ آیا ناچار ِہوکر وبانسے چلا تو کتنے دنون مین ایک شہر مین آیا دیکھتا کیا ہے کہ ایک جوگی دھونی لگائے ہوئے بیٹھا ہے ڈنڈوت کر وہان بیٹھ گیا جوگی نے اس سے پوچھا تو کچھ کھائیگا اسنے کہا مہاراج دوگے تو کیون نہ کھاؤن گا جوگی نے ایک آدمی کی کھوپڑی مین کھانا بھر کر اسے لا دیا اسے دیکھ کر کہااس کپال کا کھانا مین نہ کھاؤنگا جب اسنے<noinclude></noinclude> b0jqpai00iedg6w9umsfh696gfhkcmj صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/42 250 13123 32518 32449 2026-05-09T03:41:04Z Taranpreet Goswami 90 /* پروف خوانی شدہ */ 32518 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بہتر یہ ہے کہ آپ کے پاس اسے چھوڑتا جاؤن جب تک کہ مین نہ آؤن اسی جتن سے رکھنا یہ بات برہمن کی سن راجہ اپنے چت مین چنتا کرنے لگا کہ بہت خوبصورت جوان عورت کو مین کس طرح رکھونگا اور جو نہیں رکھتا ہون تو برہمن سراپ دیگا میرا راج بھنگ ہو جائے گا یہ اپنے جی مین بچار کے بولا مہاراج جو آپ نے اگیا کی قبول ہے پھر راجہ نے اپنی لڑکی کو بلاکر کہا ہیٹی اس برہمن کی بہو کو اپنے پاس لیجا کر بہت جتن سے رکھو {{center|'''مول دیو کا آنا اور اس برہمن کو عورت بنا کر راجہ بکرم کسماوتی کے حضور لیجانا اور'''</br> '''راجہ کا اس عورت کو اپنی لڑکی چندر پربھا کو سوپنا'''}} اور سوتے جاگتے کھاتے پیتے چلتے پھرتے چھن بھر اپنے پاس سے جدا مت کیجیو یہ سن راج کنیا اس برہمن کی بہو کا ہاتھ پکڑ اپنے محل مین لےگئی رات کے وقت دونون ایک سیج پر سوئن اور آپس مین باتین کرنے لگین باتین کرتے کرتے برہمن کی بہو بولی اے راج کنیا تو کِس دکھ کی ماری بہت دبلی ہو رہی ہے سو مجھ سے کہہ راج کنیا بولی ایک دِن بسنت رت مین سکھیونکو ساتھ لیئے مین باغ کی سیر کو گئی تھی اور وہان ایک برہمن بہت سندر کام دیو کے سمان مین نے دیکھا اور اسکی میری چار نظرین ہوئین ادھر وہ بیہوش ہوا ادھر مین بے سُدھ ہوئی تب سکھیان میری اوستھا دیکھ گھر کو لے آئین مین اسکا ناؤن ٹھاؤن کچھ نہین جانتی میری آنکھون مین وہی صورت سما رہی ہے مجھے کھانے پینے کی بھی کچھ رچ نہین اس درد سے میرے شریر کی یہ دسا ہوئی ہے یہ سنکے وہ برہمن کی بہو بولی جو تیرے پریتم سے تجھے ملا دون تو مجھے کیا دیگی راج کنیم بولی کہ سدا تیری داسی ہون گی یہ سنکے وہ گٹکا اپنے منھ سے نِکال پھر مرد ہو گیا اور یہ اسے دیکھ کے شرمائی پھر اس برہمن کے لڑکے نے گندھرب بواہ کی ریت سے اسکے ساتھ بیاہ کیا اور ہمیشہ اسی طرح رات کو مرد ہوتا اور دن کو عورت بنا رہتا آخِرکار چھ مہینے کے پچھے راج کنیا کو گربھ رہا ایک دِن کا ذِکر ہے<noinclude></noinclude> d5w7jacbauxl1opgcuwh2jj8trnuwjr