ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.8 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk اشاریہ:Biwi-ki-tarbiyat-khwaja-hasan-nizami-ebooks.pdf 252 12010 35153 26966 2026-06-26T04:12:13Z Taranpreet Goswami 90 35153 proofread-index text/x-wiki {{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template |Type=book |Title=Biwi-ki-tarbiyat-khwaja-hasan-nizami |Language=ur |Volume= |Author= |Translator= |Editor= |Illustrator= |School= |Publisher= |Address= |Year= |Key= |ISBN= |OCLC= |LCCN= |BNF_ARK= |ARC= |DOI= |Source=_empty_ |Image=1 |Progress=OCR |Transclusion=no |Validation_date= |Pages=<pagelist 1="Cover" 2="Preface" 3="1" /> |Volumes= |Remarks= |Width= |Header={{center|(1)}} |Footer= |tmplver= }} [[زمرہ:Urdu]] ery5p1jtfobl019o3hk0u55gvt671sg 35154 35153 2026-06-26T04:12:40Z Taranpreet Goswami 90 35154 proofread-index text/x-wiki {{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template |Type=book |Title=Biwi-ki-tarbiyat-khwaja-hasan-nizami |Language=ur |Volume= |Author= |Translator= |Editor= |Illustrator= |School= |Publisher= |Address= |Year= |Key= |ISBN= |OCLC= |LCCN= |BNF_ARK= |ARC= |DOI= |Source=pdf |Image=1 |Progress=OCR |Transclusion=no |Validation_date= |Pages=<pagelist 1="Cover" 2="Preface" 3="1" /> |Volumes= |Remarks= |Width= |Header={{center|(1)}} |Footer= |tmplver= }} [[زمرہ:Urdu]] 3l3h1lzxawqsk2ru3v4nrn2hsnpgxdc صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/19 250 12685 35146 31780 2026-06-26T03:47:45Z Taranpreet Goswami 90 /* پروف خوانی شدہ */ 35146 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||١٨|بیتال پچیسی}}</noinclude>مدن منجری تھا اسی طرح اس راج کنیا نے بھی ایک دن مدنمجری سے پوچھا کہ میرے لائق شوہر کہان ہے تب مینا بولی بھوگوتی نگری کا راجہ روپ سین ہے سو تیرا شوہر ہوگا غرض کہ بغیر دیکھے ہی ایک کا ایک فریفتہ ہوا کچھ دنون کے بعد وہ برہمن وہان جا پہونچا اور اس راجہ سے اپنے راجہ کا پیغام کہا اسنے بھی ان کی بات مانی اور اپنا ایک برہمن بلوا اسنے ٹیکا اور سب رسوم کی چیزین سونپ اس برہمن کے ساتھ بھیجا اور یہ کہدیاکہ تم ہماری طرف سے جاکر منتی کر راجہ کو ٹیکا دے کر جلدی چلے آؤ جب تم آؤگے '''راجہ روپ سین کا شادی کیلئے برات لیکر جانا''' تب ہم شادی کی تیاری کرینگے القِصّہ یہ دونون برہمن وہان سے چلے کچھ دنون مین راجہ روپ سین کے پاس آپہونچے اور سب حال وہان کا کہا یہ راجہ خوش ہو کر سب تیاری کر بیاہ کرنے کو چلا بعد چند روز کے اس دیس مین پہونچ شادی کر جنیر وغیرہ لے راجہ سے بدا ہو اپنے دیس کو واپس ہوا راج کینا نے بھی چلتے وقت مدن منجری کا پنجرہ ساتھ لے لیا کتنے دنون کے پیچھے اپنے دیس مین آ پہونچے اور سکھ چین سے اپنے محل مین رہنے لگے ایک دن کی بات ہے کہ طوطا اور مینا کے دونون پنجرے گدّی کے پاس رکھے تھے کہ راجہ رانی آپسمین کہنے لگے اکیلے رہنے سے کسی کا دن نہین کٹتا اس سے بہتر ہوتا کہ طوطا اور مینا کی آپسمین شادی کر کے دونون کو ایک پنجرے مین رکھ دیا جاوے تو یہ بھی خوشی سے رہین آپسمین اسطور کی باتین کر ایک بڑا پنجرہ منگوا دونون کو آپسمین رکھا چند روز کے بعد راجہ رائی آپسمین بیٹھ کچھ باتین کرتے تھے کہ طوطا مینا سے کہنے لگا کہ دنیا مین بھوگ اصل ہے اور جسنے جگت مین پیدا ہو کر بھوگ نہین کیا اسکی زندگی بیکار گئی اس سے تو مجھے بھوگ کرنے دے یہ سنکر مینا بولی مجھے مرد کی خواہش نہین جب اسے پوچھا کِس لیے مینا بولی کہ مرد پاپی ادھرمی دغاباز استری کے ہتیا کرنے والے ہوتے ہین یہ سنکر طوطے نے کہا کہ عورت بھی دغاباز جھوٹی بیوقوف لالچی ہتیاری ہوتی ہے جب اسطرح سے دونون جھگڑنے لگے تو راجہ نے پوچھا تم کسواسطے آپس مین جھگڑتے ہو مینا بولی مہاراج مرد عورت کی ہتیا کرنے والے ہوتے ہین اسواسطے مجھے مرد کی چاہ نہین مہاراج مین ایک<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 9yr89uhgvvsdkyrsnxt9vczspqm9hcc صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/20 250 12686 35147 31787 2026-06-26T04:00:34Z Taranpreet Goswami 90 /* پروف خوانی شدہ */ 35147 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /> {{rh|بیتال پچیسی|١٩|}}</noinclude>بات کہتی ہون آپ سنئے کہ مرد ایسے ہوتے ہین ایلا پور نام ایک نگر ہے وہان ایک بڑا مالدار سیٹھ تھا اس کے اولاد نہ ہوتی تھی وہ اسواسطے ہمیشہ تیرتھ برت کرتا اور ہمیشہ پران سنتا برہمنون کو بہت سی خیرات دیا کرتا غرض کتنی مرّت مین بھگوان کی مرضی سے اس سیٹھ کے ایک لڑکا پیدا ہوا ان نے بڑی دھوم سے اس کی شادی کی اور برہمن بھائیوں کو بہت سا دان دیا اور بھوکے پیاسے کنگالون کو بھی بہت کچھ دیا جبکہ وہ پانچ برس کا ہوا تو اسے پڑھنے کو بٹھایا اور وہ یہان سے تو پڑھنے کو جاتا لیکن وہان جا کر لڑکون مین جوا کھیلا کرتا بعد چند روز کے وہ سیٹھ مر گیا اور یہ آزاد ہوا دن کو تو جوا کھیلا کرتا اور رات کو رنڈی بازی اسی طرح سے کئی برس مین اپنا سارا دھن کھو ناچار ہو دیس سے نکل خراب ہوتا ہوا چندرپور نگر مین جا پہونچا وبان ہیم گپت نام ایک ساہوکار تھا اس کے بہت دولت تھی یہ اسکے پاس گیا اور اپنے باپ کا نام و نشان بتایا وہ سنتے ہیں خوش ہوا اس سے اٹھکر ملا اور پوچھا تمھارا آنا کیونکر ہوا تب یہ بولا مین جہاز لے ایک ٹاپو مین سوداگری کو گیا تھا اور وہان جا اس مال کو بیچ اور مال کی بھرتی کر جہاز لے اپنے دیس کو چلا ناگہان ایک ایسا طوفان آیا کہ جہاز تباہ ہو گیا اور مین ایک تختے مین بیٹھ کر بہتا بہتا بہان آ پہونچا اب شرم آتی ہے کہ مال دولت تو سب جاتی ریہی ایسی حالت مین اپنے شہر کے لوگون کو کیا منھ جا کر دکھاؤون غرض جب اس طرح کی باتین اسکے آگے کین تب وہ بھی من مین بچارنے لگا کہ میری فکر بھگوان نے گھر بیٹھے ہی مٹا دی اور ایسا سنجوگ بھگوان ہی کی کرپا سے بن پڑتا ہے اب دیر کرنا مناسِب نہین سب سے بہتر یہ ہے کہ کنیا کے ہاتھ پیلے کر دیجے جو کچھ اسوقت ہو بہتر ہے اور کل کی کسے خبر ِہے ایسا کچھ اپنے جی مین منصوبہ باندھ سیٹھنی کے پاس آ کہنے لگا کہ ایک سیٹھ کا لڑکا آیا ہے جو تم کہو تو رتناوتی کا بیاہ اس سے کردون وہ بھی یہ سن خوش ہو بولی کہ ساہ جی ایسا سنجوگ جب بھگوان بناتا ہے تب بنتا ہے کیونکہ گھر بیٹھے من کی خواہش پوری ہوئی اس سے بہتر یہ ہے کہ دیر مت کرو اور جلد پروہت کو بلوا شُبھ لگن شدهوا شادی کر دو تب اس سیٹھ نے برہمن کو بُلوا شُبھ لگن مہورت ٹھہرائی کنیا دان کر بہت سا جہیز دیا غرض جب بیاہ ہو چکا تو وہین باہم رہنے لگے پھر کتنے ایک دنون کے پیچھے ساہ کی بیٹی سے اُن نے کہا ہمین تمھارے دیس مین آئے ہوئے بہت دن ہو گئے اور اپنے گھر بار کی کچھ خبر نہین اس سے ہمارا چت بہت اداس رہتا ہے مین نے سب احوال اپنا تم سے کہا اب تمھین یہ چاہیے کہ اپنی مان سے اس طرح سمجھا کر کہو کہ وہ راضی ہو ہمین بدا کرین تو ہم اپنے شہر کو جاوین تمھاری مرضی ہو تو تم بھی چلو تب ان نے اپنی مان سے کہا کہ بالم ہمارے دیس کو جانا چاہتے ہین اب تم وہ کرو جسمین ان کے جی کو دُکھ نہ ہووے سیٹھانی نے اپنے خاوند کے پاس جاکر کہا تمھارا داماد گھر جانے کی اجازت مانگتا ہے یہ شنکر ساہ بولا اچھا بدا کر دینگے کیونکہ برانے پوت پر کچھ اپنا زور نہین چلتا جسمین اسکی خوشی ہوگی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 4p9jvcf27d4untxq3538y5ywlxw49zp صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/290 250 13157 35140 35008 2026-06-25T13:02:52Z Jinder77 234 35140 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Block center|۲۸۴}} سری رامچندر جی آپ کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ وہ خود آتے مگر شہر میں آئے سے مجبور ہیں ۔ سیتا جی خوشی خوشی پالکی پر بیٹھیں ۔ رامچندر سے ملنے کی خوشی میں انہیں کپڑوں کی بھی پرواہ نہ تھی ۔ مگر بھھیشن کی رانی سرما نے اُن کے جسم پر اُبٹن ملا، سر میں تیل ڈالا، بال گوندھے۔ بیش قیمت ساڑی پہنائی اور رخصت کیا۔ سواری روانہ ہوئی ۔ ہزاروں آدمی ساتھ تھے. {{gap}}رامچندر کو دیکھتے ہی سیتا جی کی آنکھوں - خوشی کے آنسو بہنے لگے ۔ وہ پالکی سے اُتر کر اُن کی طرف چلیں ۔ رامچندر اپنی جگہ پر کھڑے رہے ۔ اُن کے چہرے سے خوشی نہیں ظاہر ہو رہی تھی ۔ بلکہ رنج ظاہر ہوتا تھا ۔ سیتا قریب آگئیں ۔ پھر بھی وہ اپنی جگہ پر کھڑے رہے۔ تب سیتا جی اُن کے دل کی بات سمجھ گئیں ۔ وُہ اُن کے پیروں پر نہیں گریں ۔ سر جھکا کر کھڑی ہو گئیں ۔ اُن کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ہے سے<noinclude></noinclude> nosln7om1ubetfneaphf1ios2ar7z4s 35141 35140 2026-06-25T13:29:31Z Jinder77 234 35141 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Block center|۲۸۴}} سری رامچندر جی آپ کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ وہ خود آتے مگر شہر میں آئے سے مجبور ہیں ۔ سیتا جی خوشی خوشی پالکی پر بیٹھیں ۔ رامچندر سے ملنے کی خوشی میں انہیں کپڑوں کی بھی پرواہ نہ تھی ۔ مگر بھبھیشن کی رانی سرما نے اُن کے جسم پر اُبٹن ملا، سر میں تیل ڈالا، بال گوندھے۔ بیش قیمت ساڑی پہنائی اور رخصت کیا۔ سواری روانہ ہوئی ۔ ہزاروں آدمی ساتھ تھے. {{gap}}رامچندر کو دیکھتے ہی سیتا جی کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے ۔ وہ پالکی سے اُتر کر اُن کی طرف چلیں ۔ رامچندر اپنی جگہ پر کھڑے رہے ۔ اُن کے چہرے سے خوشی نہیں ظاہر ہو رہی تھی ۔ بلکہ رنج ظاہر ہوتا تھا ۔ سیتا قریب آگئیں ۔ پھر بھی وہ اپنی جگہ پر کھڑے رہے۔ تب سیتا جی اُن کے دل کی بات سمجھ گئیں ۔ وُہ اُن کے پیروں پر نہیں گریں ۔ سر جھکا کر کھڑی ہو گئیں ۔ اُن کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے.<noinclude></noinclude> eugliblbv9gyvu8sz6nfj1ufghpde7g صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/291 250 13158 35142 32573 2026-06-25T13:34:54Z Jinder77 234 35142 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Block center|٢٨٤}} ایک منٹ کے بعد سیتا جی نے لکشمن سے کہا ۔ بھیا ۔ کھڑے کیا دیکھتے ہو ۔ میرے لئے ایک چتا تیار کرواؤ ۔ جب سوامی جی کو مجھ سے نفرت ہے تو میرے لئے آگ کی گود کے سوا اور کہیں جگہ نہیں ۔ اُن کے درشن ہو گئے ۔ میرے لئے یہی خوش نصیبی کی بات ہے۔ ہائے! کیا سوچ رہی تھی ۔ اور کیا ہوا ! {{gap}}یہ بات نہ تھی کہ رامچندر کو سیتا جی پر کسی قسم کا شبہہ تھا ۔ وہ خوب جانتے تھے کہ سیتا جی نے کبھی راون سے سیدھے منہ بات بھی نہیں کی ۔ ہمیشہ اس سے نفرت کرتی رہیں۔ لیکن دنیا کو سیتا جی کی صاف دلی پر کیسے یقین آتا ۔ سیتا جی بھی دل میں یہ بات خوب سمجھتی تھیں ۔ اسی لئے انہوں نے اپنے بارے میں کچھ نہ کہا ۔ جان دینے کے لئے تیار ہو گئیں ۔ را مچندر کا سینہ پھٹا جاتا تھا مگر مجنوز تھے : ذرا دیر میں چتا تیار ہو گئی ۔ اس میں آگ -<noinclude></noinclude> kmi2fh4so9csp3puglc51x60wxc552j صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/283 250 13705 35143 35136 2026-06-25T15:30:52Z Kaur.gurmel 74 35143 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{Block center|٢٧٧}}</noinclude>{{gap}}سلوچنا اُسی وقت راج محل سے نِکل کر رامچندر کی فوج میں آئی ۔ اَور رامچندر کے روبرو جاکر بولی' مہاراج - ایک اناتھ بدھوا آپ سے ایک درخواست کرنے آئی ہے ۔ اُسے قبول کیجۓ ۔ میرے پتی ویر میگھناد کا سر مجھے دے دیجئے ۔ {{gap}} رامچندر نے فوراً میگھناد کا سر سلوچنا کو دلوا دِیا ۔ اور اُس کے تھوڑی ہی دیر بعد سلوچنا ستی ہو گئی ۔ چتا کی لپٹ آسمان تک پہنچی۔ کسی نے سلوچنا کو جاتے نہ دیکھا ۔ پر وہ بہشت میں داخل ہو گئی ؟ {{Block center|'''(۵) راون میدان میں'''}} {{gap}}رات بھر تو راون غم اور غُصّہ سے جلتا رہا ۔ صبح ہوتے ہی میدان کی طرف چلا ۔ لنکا کی ساری فوج اُس کے ساتھ تھی ۔ آج لڑائی کا فیصلہ ہو جائیگا ۔ اس لئے دونو طرف کے لوگ اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لئے تیار<noinclude></noinclude> 96fgdtt5ng50pn57t5glomg8d67qjyd صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/284 250 13706 35144 35100 2026-06-25T15:43:22Z Kaur.gurmel 74 35144 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Block center|٢٧٨}} بیٹھے تھے ۔ راون کو میدان میں دیکھتے ہی رامچندر خود تیر و کمان لئے نکل آئے ۔ اب تک اُنہوں نے راون کا صرف نام سُنا تھا۔ اب اُس کی صورت دیکھی تو مارے غصہ کے آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے ۔ اُدھر راون کو بھی اپنے دو بیٹوں کے خون کا اور اپنی بہن کی بعزتی ےعزتی کا بدلہ لینا تھا ۔ گھمسان کی لڑائی ہونے لگی۔ راون کی برابری کرنے والا لنکا میں تو کیا رامچندر کی فوج میں بھی کوئی نہ تھا ۔ سگریو، انگر ہنومان وغیرہ دلاور اُس پر ایک ساتھ بھالے، گرز اور تیر چلاتے تھے ۔ نیل اور نل اُس پر پتھر مارتے تھے ۔ پر اُس نے اتنی تیزی سے تیر چلائے کہ کوئی سامنے نہ ٹھیر سکا.لکشمن نے دیکھا کہ رامچنداس کے مقابلہ میں اکیلے رہے جاتے ہیں تو وہ بھی آکھڑے ہوئے اور نیزوں کی بوچھار کرنے لگے ۔ مگر راون پہاڑ کی طرح اٹل کھڑا سب کے حملوں کا جواب دے رہا<noinclude></noinclude> kuehq6sqxmx4lb2b5903awvo10isac9 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/285 250 13707 35163 35103 2026-06-26T11:35:14Z Kaur.gurmel 74 35163 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{Block center|٢٧٩ }}</noinclude>تھا۔ آخر اُس نے موقع پا کر ایک تیر ایسا چلایا کہ لکشمن بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔ دوسرا تیر رامچندر پر پڑا ۔ وہ بھی گِھر پڑے ۔ راون نے فوراً تلوار نکالی اور چاہتا تھا کہ رامچندر کو قتل کر دے کہ ہنومان نے لپک کر اُس کے سینہ میں ایک گدا اتنے زور سے ماری کہ وہ سنبھل نہ سکا ۔ اس کا گرنا تھا کہ رام اور لکشمن اُٹھ بیٹھے ۔ راون بھی ہوش میں آگیا ۔ پھر لڑائی ہونے لگی ۔ آخر رامچندر کا ایک تیر راون کے سینہ میں ترازو ہو گیا ۔ خون کی دھار یہ نکلی اُس کی آنکھیں بند ہو گئیں ۔ رتھ بان نے سمجھا راون کا کام تمام ہو گیا ۔ رتھ کو میدان سے بھگا کر شہر کی طرف چلا ۔ راستہ میں راون کو ہوش آ گیا ۔ رتھ کو شہر کی طرف جاتے دیکھ کر غصّہ سے آگ ہو گیا ۔ اُسی وقت رتھ کو میدان کی طرف لے چلنے کا حکم دیا ۔ اتفاق سے اُسی وقت بھبھیشن سامنے آگیا ۔ راون نے اُسے<noinclude></noinclude> 4gykymwyoq25w32i17a9m4aj0qg8lfk 35164 35163 2026-06-26T11:47:33Z Kaur.gurmel 74 35164 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{Block center|٢٧٩ }}</noinclude>تھا۔ آخر اُس نے موقع پا کر ایک تیر ایسا چلایا کہ لکشمن بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔ دوسرا تیر رامچندر پر پڑا ۔ وہ بھی گِر پڑے ۔ راون نے فوراً تلوار نکالی اور چاہتا تھا کہ رامچندر کو قتل کر دے کہ ہنومان نے لپک کر اُس کے سینہ میں ایک گدا اتنے زور سے ماری کہ وہ سنبھل نہ سکا ۔ اس کا گرنا تھا کہ رام اور لکشمن اُٹھ بیٹھے ۔ راون بھی ہوش میں آگیا ۔ پھر لڑائی ہونے لگی ۔ آخر رامچندر کا ایک تیر راون کے سینہ میں ترازو ہو گیا ۔ خون کی دھار یہ نکلی اُس کی آنکھیں بند ہو گئیں ۔ رتھبان نے سمجھا راون کا کام تمام ہو گیا ۔ رتھ کو میدان سے بھگا کر شہر کی طرف چلا ۔ راستہ میں راون کو ہوش آ گیا ۔ رتھ کو شہر کی طرف جاتے دیکھ کر غصّہ سے آگ ہو گیا ۔ اُسی وقت رتھ کو میدان کی طرف لے چلنے کا حکم دیا ۔ اتفاق سے اُسی وقت بھبھیشن سامنے آ گیا ۔ راون نے اُسے<noinclude></noinclude> 0vxveqxi0op6r82q97hrp0nwkegq0ui صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/61 250 13726 35159 34967 2026-06-26T06:13:31Z BalramBodhi 60 35159 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۴}} <div style="border:1px solid #000; padding:3px;"> <div style="border:1px solid #000; padding:1em;"> ملت و تخریب بنائے دین و مذهب پندارند و از بینجا است کہ بسے از مردمان در تحصیل علم و تکمیل فنون تعلل و تہاون می کنند و بعض اشخاص بفرستادن اطفال در اسکول مضایقہ می دارند ظاہراً منشائے آں جز نافہمی بیدانشی نیست والا اصل این است کہ ہرگاه بحضور سرکار والا اقتدار متحقق گردید کہ رعایائے ایں مملکت بسبب بے علمی و بے ہُنری از طریقہ کسب معاش چناں بے خبر اند کہ از اوقات گذاری خودہا با راحت و آسایش معذوراند۔ لاجرم بحکم والاے جناب ملکہ انگلستان کہ از راه تفضلات خسروانہ صدور یافت برائے تعلیم و تربیت آنہا باہتمام تمام و صرف مالا کلام درہریک اضلاع و امصار مدارس اسکول و کالج بنا گردید و در ہر ضلع صاحبان بعہده انسپکٹر بہ نیابت شاں مستعد و هندوستانی برائے طریقہ تربیت معین گشتند و برائے درس و تدریس و تعلیم کسب و علوم و فنون زبان انگریزی وغیرہ آں تاکید مزید شد تا باشندگان ایں ملک عموماً از جہل و بے دانشی و ارستہ بہ تحصیل علم و دانش بخوبی تحصیل معاش نمایند و از تنگنائے تنگی و عسرت بر آمده با مسرت و عشرت صرف اوقات خودہا نمایند. {{gap}}مخفی نیست کہ باشندگان ملک یورپ یعنی ولایت انگلشیہ باعش تحصیل علوم ہرگونہ امورات را از رسائی عقل رسائے خود بجوبہیاے تمام انجام میدہند۔ بخلاف اہالی ایں دیار کہ باعث بعلمی و بے دانشی بے سلیقہ محض اند اگر علم و ہنر و فہم و دانش درمیان شائع گردد ہر یکے لوازمہ آسایش و آرام راجا مع شود و تشریف شاہی را کماہی نزریا فتن و نیکی را بجائے خود حمل نہ کردن چہ قدر افسوس و حسرت است کہ بشرح نمی آید جناب لفتنٹ گورنر بہادر چناں قیاس میفرمایند کہ بناے اینہمہ خیالات فاسدہ براہ غلط فہمی است نہ از روئے تعصب و بد باطنی باید دانست کہ غرض سرکار بہ تربیت و تعلیم انگریزی آں نیست کہ حرفے بر دین و آئین شاں در آید بلکہ ہر کس مجاز است کہ ہر علم و </div> </div><noinclude></noinclude> cjuecbxdcxqjkt78ganel7f4pp860wi صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/62 250 13727 35162 34968 2026-06-26T06:52:58Z BalramBodhi 60 35162 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۱}} <div style="border:1px solid #000; padding:3px;"> <div style="border:1px solid #000; padding:1em;"> ہنر کہ مرغوب و متبوع باشد و باعث فائدہ داہند بہ تحصیل آں پرواز و مگر ایںہم دانستی است کہ باکول زبان انگریزی کتب و رسائل ہر فن موجود است و ہمیشہ تجربہ ہائے جدید و اختراعات نو بنو بر روے کار می آیند کہ بزبان دیگر حاصل نیست زبان انگریزی زبان والی ملک و صاحب سلطنت است و در عدالتہا باعث افہام و تفہیم عوام زبان مروجہ ایں ملک جاری ست دریں صورت بتحصیل و تکمیل زبان انگریزی و اردو جنگلہ از برائے حصول معاش و ترقیات حرمت و غرمت و اقبال بلا شک است و از واجباتہ است. {{gap}}مخفی مباد کہ از ارائیکہ نواب معلے القاب لفتنٹ گورنر بہادر احوال ایں و یار را بچشم خود دیدہ و از اکثر اشخاص شنیدہ و ہمت والا نعمت محتشم الیہ بفکر درستی اوضاع باشندگان ایں ملک و بایجاد طریق تعلیم و تربیت و آرام و آسایش و حفظ عزت و حرمت ہر یک عموماً مصروف است و ازغایت مہربانی و دلسوزی اصلاح حال شرفا و نجبا و زمینداران و رعایان خصوصاً مد نظر است. {{gap}}لہذا اشتہار داوہ می آید کہ ہمگنان سکنہ ایں ملک بر نیک نیتی و بلند ہمتی سرکار والا اقتدار واقف و مطلع بودہ شکر خدا بجا آرند و باطمینان تمام اوقات خود ہا بسر کردہ بدعاے دوام دولت اہد مدت سرکار و لتمدأ مصروف باشند۔ </div> </div><noinclude></noinclude> cdstid3kg6wtt0wl765ci45d1rwle4p صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/63 250 13728 35160 34970 2026-06-26T06:16:30Z Charan Gill 46 35160 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="0" user="Asimali2003" /></noinclude>www.urduchannel.in الخطبات الاحمدية العبة البير المحمدية وہ دو کہ اب جن میں مرحوم سے ہی نے تاریخ خوب اور پاک اسلام کی مذہبی تاریخ کو نہایت منان سے بیان که یا ہے اور عیسائی مورخوں کے بیجا امت امنات کے جواب جو پاک ذہب اسلام اور بانی اسلام بصفوة وا" شاه اور قرآن کریم پر ار حقیقت اس حوم و تھور نے اس کتاب کی تصنیف کے مذہب پاک اسلام کی وہ خدمت کی ہے جو ہر طرح قابل تعریف حسین ہے اور ممکن نہیں کیا سو لسوڑی کے ساتھ کوئی اور صاحب ایسی بے بہائی تصنیف کرے اور لیکن یہ کہ نہایت اعلیٰ درجہ کی مصاف بان اُردو میں جو مسلمان کہ سچے دل سے قوم سلام کے ہمدرد اور ترقی خواہ اور اسلام سے واقفیت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کا فرض ہے کہ اس بے بہا کتنا کے مفرور ا مطالعہ کریں بھی روشنی سے تعلیم یافتہ مسلمان جو عربی زبان کی عدم واقفیت ہونے کے علاوہ انگریزی فل کتاب میں نہایت مدلل اور مفید تر بشیر دیکھینگے ۔ اگرچہ اس کتاب میں ۱۲۶ پر کئے گئے تھے ایسے تسلی بخش اور پیچھے دنیاں شکر ہوتے ہیں جو قابل دید ہیں ۔ ہم مختصر طور پر تھوڑے سے مضامین کی فہرست پر یہ ناظرین کرتے ہیں- یا چہ اور بارہ خصیے شامل ہیں :۔ باسیہ میں یہ عتیں ہیں۔ مذہب کیا چیز ہے۔ ند کیے رکھنے کا سچا اصول کیا ہے اسلام کے پر آن احکام کا نعرہ ہے ۔ اُن کتابوں پر عمت جو عیسائی اور مسلمانوں نے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات پر لکھی۔ مریم میور کی کتاب لائف آف محمد کا ذکر جس کے جواب میں یہ کتاب لکھی گئی ہے دیمہ اول۔ عرب کا جغرافیہ کے قبائل اور سلاطین پرمتفقانہ بحث لفظ ساز اس کی تحقیق حضرت ابر سیم اور حضرت سہیل کے حالات پر حققانہ بخشیں حضرت ہاجرہ کی حریت پر بحث ؟ مخطبه دوم بر جاہلیت کی رسوم وعادات بت پرستی اور سود رانا کیا کاری زنان بایت میں رسوم ازدواج 4 خطبه سوم عرب جاہلیت کو دیان بخش های تفصیل براسلام کی مناسب دیگر اسامی نابیت خطبہ چہار امر اسلام انسان کے لئے مت اور تمام عیار کے ندا سب کی پشت پناہ ہو الا انانی تان کے موافق ہے۔ کثرت ازواج طلاق او اسلامی پر حقانه بخشید اور یہ مائیوں کے مذہب کو اسلام ر مسلمانوں کی مذہبی کتابوں پر محققانہ بحث . خطبه ششم مذہبی روانیوں کے معتبر اور غیر معتبر ہونے پر مدل مبحث * قرآن مجید کی جمع و ترتیب اور نزول پوشیں . شت خانہ کعبہ کی مفصل تاریخ و خطہ ہو یا حضرت کے نت ا حفر کے نشہ پر لفقار بحث فنجان یا حضرت شجر ان مصنف کتاب و بشارات نسبت آنحضرت کے دو توریت میں ہیں " بار دہم۔ روایات شق صد را در مرح کی تحقیق خطبہ دوار دا ہم جناب میری اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی بارہ برس تک کے حالات ! اس کتاب کو شروع میں سرسید مرحوم کی رنگین کسی تصویر ہے یہ کتا نہایت خوشخہ لانے و جبر کا غذ پر طبع کیتی ہے۔ د ہے قیمت بلا حبلد ہے<noinclude></noinclude> pvatb69oalt5dbvbe3j1grq5webse06 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/286 250 13752 35165 35108 2026-06-26T11:57:18Z Kaur.gurmel 74 35165 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>{{Block center|٢٨٠}} دیکھتے ہی بھالے سے وار کیا ۔ چاہتا تھا ۔ کہ اُس کی دغابازی کی سزا دے دے۔ مگر لکشمن نے ایک تیر چلا کر بھالے کو کاٹ ڈالا ۔ بھبھیشن کی جان بچ گئی ۔ اب کی راون نے اگن بان چھوڑنے شروع کئے ۔ ان تیروں سے آگ کے شعلے نکلتے تھے ۔ رامچندر کی فوج میں کھلبلی پڑ گئی ۔ مگر راون کے سینہ میں جو زخم لگا تھا اُس سے وہ ہر لمحہ کمزور ہوتا جاتا تھا ۔ یہاں تک کہ اُس کے ہاتھ سے کمان چھوٹ کر گر پڑا ۔ اس وقت رامچندر نے کہا ۔ 'راجہ راون - اب تو تمہیں معلوم ہو گیا کہ ہم لوگ اتنے کمزور نہیں ہیں جتنا تم سمجھتے تھے ۔ تمہارا سارا خاندان تمہاری حماقت کا شکار ہو گیا ۔ کیا اب بھی تمہاری آنکھیں نہیں کھلیں ۔ اب بھی اگر تم اپنی شرارت سے باز آؤ تو ہم تمہیں معاف کر دینگے'. {{gap}}راون نے سنبھل کر کمان اُٹھا لی اور بولا- کیا تم سمجھتے ہو کہ کمبھ کرن اور میگھناد کے<noinclude></noinclude> 6jz4rmjsgplqeu9g203tdguqulrzqqo 35166 35165 2026-06-26T11:57:59Z Kaur.gurmel 74 35166 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{Block center|٢٨٠}}</noinclude>دیکھتے ہی بھالے سے وار کیا ۔ چاہتا تھا ۔ کہ اُس کی دغابازی کی سزا دے دے۔ مگر لکشمن نے ایک تیر چلا کر بھالے کو کاٹ ڈالا ۔ بھبھیشن کی جان بچ گئی ۔ اب کی راون نے اگن بان چھوڑنے شروع کئے ۔ ان تیروں سے آگ کے شعلے نکلتے تھے ۔ رامچندر کی فوج میں کھلبلی پڑ گئی ۔ مگر راون کے سینہ میں جو زخم لگا تھا اُس سے وہ ہر لمحہ کمزور ہوتا جاتا تھا ۔ یہاں تک کہ اُس کے ہاتھ سے کمان چھوٹ کر گر پڑا ۔ اس وقت رامچندر نے کہا ۔ 'راجہ راون - اب تو تمہیں معلوم ہو گیا کہ ہم لوگ اتنے کمزور نہیں ہیں جتنا تم سمجھتے تھے ۔ تمہارا سارا خاندان تمہاری حماقت کا شکار ہو گیا ۔ کیا اب بھی تمہاری آنکھیں نہیں کھلیں ۔ اب بھی اگر تم اپنی شرارت سے باز آؤ تو ہم تمہیں معاف کر دینگے'. {{gap}}راون نے سنبھل کر کمان اُٹھا لی اور بولا- کیا تم سمجھتے ہو کہ کمبھ کرن اور میگھناد کے<noinclude></noinclude> jkxxj987s4aapqwkx6dvgv5ypbgedun صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/289 250 13755 35139 35128 2026-06-25T12:59:28Z Jinder77 234 35139 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>{{Block center|٢٨٣}} لنکا کی گدی پر بیٹھینگے ۔ رامچندر نے اُن سے جو وعدہ کیا تھا اُسے پورا کرنے کے لئے لکشمن اُن کے ساتھ جا رہے ہیں ۔ شہر میں ڈونڈی پٹ گئی ہے. کہ اب راجہ بھبھیشن لنکا کے راجہ ہوئے ۔ دونو طرف چھتوں سے اُن پر پھولوں کی بارش ہو رہی ہے ۔ امرا نذریں پیش کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں ۔ عام معافی کا اعلان کر دیا گیا ہے ۔ راون کا غم کوئی نہیں کرتا۔ سبھی اُس کے ظلم سے بیزار تھے ۔ بھبھیشن کا سبھی جس گا رہے ہیں. {{gap}}بھبھیشن کو گدی پر بٹھا کر رامچندر نے ہنومان کو سیتاجی کے پاس بھیجا بھبھیشن پالکی لے کر پہلے ہی سے حاضر تھے ۔ سیتاجی کی خوشی کا کون اندازہ کر سکتا ہے ۔ اتنے دنوں کی قید کے بعد آج اُنہیں آزادی ملی ہے مارے خوشی کے انہیں غش آگیا ۔ جب ہوش آیا تو ہنومان نے اُن کے قدموں پر سر جھکا کر کہا ۔ ماتا !<noinclude></noinclude> j0sqyzoygaww9c9m7hrok72fq7v9186 اشاریہ:1912 Tareekh Awadh urdu.pdf 252 13778 35156 35096 2026-06-26T04:17:55Z Taranpreet Goswami 90 35156 proofread-index text/x-wiki {{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template |Type=book |Title=تاریخ اودھ |Language=ur |Volume= |Author=Muhammad Najam-ul-ghani Khan |Translator= |Editor= |Illustrator= |School= |Publisher=Matba-ul-uloom |Address=muradabad |Year=1912 |Key= |ISBN= |OCLC= |LCCN= |BNF_ARK= |ARC= |DOI= |Source=pdf |Image=2 |Progress=C |Transclusion=no |Validation_date= |Pages=<pagelist 1="_" 2="Cover" 3="تعارف" 4to7="فہرست" 8="1" 234to236="_" /> |Volumes= |Remarks= |Width= |Header={{center|(1)}} |Footer= |tmplver= }} n6uypnhdtf85b0sk0roqqycprzjzuki اشاریہ:1901 Safarnama-Roam-O-Misr-O-Shaam urdu.pdf 252 13780 35157 35098 2026-06-26T04:22:02Z Taranpreet Goswami 90 35157 proofread-index text/x-wiki {{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template |Type=book |Title=سفرنامہ روم ؤ میسر ؤ شام |Language=ur |Volume= |Author=Muhammad Shibli Nomani |Translator= |Editor= |Illustrator= |School= |Publisher=Qoumi Press |Address=Delhi |Year=1901 |Key= |ISBN= |OCLC= |LCCN= |BNF_ARK= |ARC= |DOI= |Source=pdf |Image=1 |Progress=C |Transclusion=no |Validation_date= |Pages=<pagelist 1="Cover" 2to4="فہرست" /> |Volumes= |Remarks= |Width= |Header={{center|(1)}} |Footer= |tmplver= }} cfdxfst94bq99gbck19le4tfecdw5nq 35158 35157 2026-06-26T04:23:10Z Taranpreet Goswami 90 35158 proofread-index text/x-wiki {{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template |Type=book |Title=سفرنامہ روم ؤ میسر ؤ شام |Language=ur |Volume= |Author=Muhammad Shibli Nomani |Translator= |Editor= |Illustrator= |School= |Publisher=Qoumi Press |Address=Delhi |Year=1901 |Key= |ISBN= |OCLC= |LCCN= |BNF_ARK= |ARC= |DOI= |Source=pdf |Image=1 |Progress=C |Transclusion=no |Validation_date= |Pages=<pagelist 1="Cover" 2to4="فہرست" /> |Volumes= |Remarks= |Width= |Header={{center|(5)}} |Footer= |tmplver= }} 03w2eu0p9l5octn28yyksv4u1riw3bn صارف:Barras 2 13784 35145 2026-06-25T15:50:51Z Barras 243 ”[[m:User:Barras|>>>]]“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35145 wikitext text/x-wiki [[m:User:Barras|>>>]] cdvi63wxrv8gkd3jonxs4lgdygdiaj8 صفحہ:Biwi-ki-tarbiyat-khwaja-hasan-nizami-ebooks.pdf/77 250 13785 35148 2026-06-26T04:09:37Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”بیوی کی تربیت GA از خواجه حسن نظامی یونیورسٹی کے واسطے خلاف اُمید چندہ غربا تک سے ہول ہو چکا ہے۔ اُسی طرح اس اللہ ضروری کام میں بھی غربا سے چندہ لیا جاسکتا ہے ۔ (۱۴) عورتوں کی جبریہ تعلیم صرف مذہبی تو ضرور ہونی چاہئے باقی مشکل ہے . (۱۵) مسلمان عورت...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35148 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بیوی کی تربیت GA از خواجه حسن نظامی یونیورسٹی کے واسطے خلاف اُمید چندہ غربا تک سے ہول ہو چکا ہے۔ اُسی طرح اس اللہ ضروری کام میں بھی غربا سے چندہ لیا جاسکتا ہے ۔ (۱۴) عورتوں کی جبریہ تعلیم صرف مذہبی تو ضرور ہونی چاہئے باقی مشکل ہے . (۱۵) مسلمان عورتوں کا قومی لباس دو پستہ ، کرتا ، پائجامہ ڈھیل جس کو ہاتھ میں اُٹھا کر چلنے کی ضرورت نہ ہو اور بعض دوسرے ستر ویش کپڑے جو پوشش اور جسم کی اندرونی حفاظت کے پہلے مقصود ہیں ۔ جدت اور ترقی زمانہ کے لحاظ سے جو خوبصورتی اُنھیں پیدا کی جاسکتی ہے جائز ہے اور بپا بندی سر یوشی اندرونی شرعی کے کسی باریک سے باریک کپڑے کا پہننا ہی گناہ نہیں ہے ۔ ساڑی یا اهنگہ کو - بلوز اور اسکوٹ کو قومی لباس نہیں کہہ سکتے اس لیے کہ ساڈی پارسی مستورات کا خاص پہناوا ہے ۔ بہت گہ اہل ہنود کی مستورات کا جامہ ہے ۔ اسکرٹ بلوز انگریزی ہے۔ (14) قواعد حفظانِ صحت کے اصول کے موافق مستورات کا فرض ہے کہ مکان - ظرون استعمال روز مرہ - لباس پوشیدنی بستر اور فرش وغیرہ کی صفائی کا اہتمام رکھیں۔ غذا کو حتی الامکان خواہ وہ دال روٹی ہو نہایت صفائی اور ستھرے پن سے موسم اور صحت جسمانی کے لحاظ سے پکوانا چاہئے ۔ مکان کی صفائی مثلاً مکان کو کوڑھ کرکٹ سے صاف کرنا اور پائخانہ و بدر رو وغیرہ کا صباحت رکھنا اور اُس میں کوئی شے مزیل تین ڈان اس راجہ<noinclude></noinclude> pqjgngkyt9ja085wkte61403dlqi8bg صفحہ:Biwi-ki-tarbiyat-khwaja-hasan-nizami-ebooks.pdf/78 250 13786 35149 2026-06-26T04:09:56Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”بیوی کی تربیت 24 از خواجہ حسن نظامی سے اور تیز ہوا اور دھوپ سے ہوا کا صاف رکھنا اور سونے کے کمروں میں بخور خوشبو دار جلانا تکیہ دبستر روئی دار کو روزمرہ دھوپ میں ڈالنا ۔ پسینہ دار کپڑوں کو دھوبی سے ڈھلوانا یا خود دھونا اگر گھر میں کتے بلی اور پال...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35149 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بیوی کی تربیت 24 از خواجہ حسن نظامی سے اور تیز ہوا اور دھوپ سے ہوا کا صاف رکھنا اور سونے کے کمروں میں بخور خوشبو دار جلانا تکیہ دبستر روئی دار کو روزمرہ دھوپ میں ڈالنا ۔ پسینہ دار کپڑوں کو دھوبی سے ڈھلوانا یا خود دھونا اگر گھر میں کتے بلی اور پالتو جانور ہوں تو کم سے کم ملی کی حالتِ دیوانگی کو سختی کے ساتھ ملحوظ رکھنا ازبس ضروری ہے : نواں جواب از - ن - ن - بی صاحبہ کلکته (1) جب چار سال کا بچہ ہو تو کارڈ اور کھلونوں وغیرہ پر پہلے ایک ایک حرف پہچنوانا چاہیے ۔ پھر رفتہ رفتہ آہستگی و نرمی سے چند کتا ہیں اُردو اور اس کے بعد چند کتا ہیں فارسی ایسی پڑھا دنیا چاہیے کہ اُن میں ضروریات مذہب ، اخلاق ، انشاء اور ضروری قواعد حفظانِ صحت درج ہوں جسے آگاہی ہو جائے تاکہ اُنہیں اپنی مذہبی و قومی تمیز و شناخت ہو جائے ۔ پھر انگریزی وغیرہ کی تعلیم دے سکتے ہیں ۔ (۲) خود اپنے مکان اور معتبر زنانے مدرسوں کے ذریعے سے : (۳) جب جهالت و ذلالت کی رسوم چھوڑ کر شرعی طریقے رائج کیسے جائیں. (۴) میاں بیوی دونوں شریعیت اسلام پر عمل کریں کہ وہ علاوہ<noinclude></noinclude> 87nb3rfyikfkwvd5shuum4cje7gflr0 صفحہ:Biwi-ki-tarbiyat-khwaja-hasan-nizami-ebooks.pdf/79 250 13787 35150 2026-06-26T04:10:15Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”بیوی کی تربیت از خواجہ حسن نظامی مذہب کے حکیمانہ اسلامی قانون ہے جس پر غیر اسلام فرقے بھی عزت کی نظر کرتے ہیں ۔ (۵) آہو پالهنگ در گردن نتواند بخویشتن تهذیب و عزتِ نسوانی اطاعت شرعی ہے جس نے شریف زادیوں کو ایسا ہرن بنا رکھا ہے ۔ جس کی گردن میں ایک...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35150 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بیوی کی تربیت از خواجہ حسن نظامی مذہب کے حکیمانہ اسلامی قانون ہے جس پر غیر اسلام فرقے بھی عزت کی نظر کرتے ہیں ۔ (۵) آہو پالهنگ در گردن نتواند بخویشتن تهذیب و عزتِ نسوانی اطاعت شرعی ہے جس نے شریف زادیوں کو ایسا ہرن بنا رکھا ہے ۔ جس کی گردن میں ایک بوجھل رہتا پڑا ہو یہ اپنی چوکڑی خود ہی بھولا ہے ۔ دوسرے مہران کو لیکر کیا ہم کریگا اگر یہ گردن چھڑا کر آزاد نہ پھرے تو باہر کے کتے اور شکاری اسکی جان کو نقصان پہنچا ئینگے ۔ مگر مظلومہ کو چند زر دار بہنیں زندگی بھر روپیہ کی مدد دیا کریں تو شوہر کا ظلم یا تو کافور ہو جائیگا یا ایسا ہے اللہ کہ اخباروں میں اعلان کی ضرورت نہ پڑے گی . تمام تدارک کرنے والی بہنیں ۔ مظلومہ کے لیے پہلے گواہ مقرر کریں ۔ اُن کی گواہی پر اسلامی و عراقی فیصلہ کیا جائے ۔ شوہر نہ راضی ہو تو چھاپ کر سب بہنوں کو آگاہ کیا جائے ۔ وہ سب مدد دیگر شوہر کو مجبور کریں * (4) اگر شرع سے کم یا زیادہ ہے تو قابل اصلاح ہے جتنا کم یا زیادہ ہو اتنی اصلاح چاہئے .. (6) آزاد عورتیں دونوں میں سے جس دوکان میں اچھی چیز ہولے لیں ۔ خواہ دُکان نئی ہو ۔ خواہ پرانی بوسیدہ ہو ہے۔ (۸) اُن کے ولی و وارث حسب حالت تعلیم دلوا سکتے ہیں ہے (۹) جس طرح اُن کے وارث یا ولی پسند کریں ۔<noinclude></noinclude> 3s463tqyqdcy6aubbis3y858gy7u98d صفحہ:Biwi-ki-tarbiyat-khwaja-hasan-nizami-ebooks.pdf/80 250 13788 35151 2026-06-26T04:10:35Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”بیوی کی تربیت LA از خواجہ حسن نظامی (۱۱) اُن کی نسوانی عزت کی حفاظت ملحوظ رکھ کرہ (۱۲) جو اُن کا قانونِ شرع کی رو سے حصہ ہے ۔ اُسی کی رو سے توقع ہو سکتی ہے ۔ (۱۳) امیر بہنیں چندہ دیکر اگر محتاج لڑکیوں کے کھانے کپڑے اور خرچ تعلیم کا بندوبست کریں تو منا...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35151 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بیوی کی تربیت LA از خواجہ حسن نظامی (۱۱) اُن کی نسوانی عزت کی حفاظت ملحوظ رکھ کرہ (۱۲) جو اُن کا قانونِ شرع کی رو سے حصہ ہے ۔ اُسی کی رو سے توقع ہو سکتی ہے ۔ (۱۳) امیر بہنیں چندہ دیکر اگر محتاج لڑکیوں کے کھانے کپڑے اور خرچ تعلیم کا بندوبست کریں تو مناسب بندوبست ہو سکے گا ہے (۱۴) غریب عورتوں کو اُن کی ضرورت اور واجبات کا خرچ دیا جائے تو اُن کو جبر یہ تعلیم فرض کر کے دی جائے ہے. (۱۵) ولی یا وارث کی رضا سے اُن کا شریفانہ موجودہ وآئندہ قومی لباس ہو ۔ اور اس کی سخت ضرورت ہے۔ قرآن نے عورت کے مرد کو عورت کا لباس بتایا ہے ۔ اِس لیے قرآنی لباس عورت کے لیے جو قومی لباس درست کرتے رہیں گے وہی شریفانہ و قومی لباس ضروری و بہتر ہوگا ۔ جو بہنیں اپنی تراش خراش اپنی رائے سے کر ینگی اُن کی یہ مثال ہو گی کہ :- ایک بکری بہت خوبصورت تھی۔ مالک جب گھر سے جاتا تھا دروازہ بند کر دیتا تھا ۔ رات کو ایک ہوا دار جگہ بند کرتا تھا ۔ بکری کو یہ قید نا پسند ہوئی اور مالک پر غصہ آیا ایک دن شام ہی سے مکان کے باہر نکل کر اپنی رائے سے گاؤں کے باہر پھرنے لگی اُس سے بھیڑیے نے اپنا پیٹ بھر لیاہ ہو گا " اس لیے قرآنی لباس کی رائے کے موافق قومی لباس بہتر نوٹ : ہماری ان معزز بہن نے دسویں سوال کا جواب تحریر نہیں کیا ۔<noinclude></noinclude> 5idwv155fdnf9q1cexc6odj1jfkfza8 صفحہ:Biwi-ki-tarbiyat-khwaja-hasan-nizami-ebooks.pdf/81 250 13789 35152 2026-06-26T04:11:04Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”بیوی کی تربیت 69 از خواجہ حسن نظامی (۱۶) کھانے پینے ۔ سونے جاگنے محنت و آرام ہر چیز میں اعتدال رہے ۔ عمدہ عمدہ کھانے کھائیں کہ جب معدہ گوارا کریگا تو صحت درست رہیگی ۔ مکان اور لباس اچھا ، خوب عمدہ اور مصاصات ستھرا رکھیں ۔ اور ایک حکیم اور ایک ڈاکٹ...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35152 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بیوی کی تربیت 69 از خواجہ حسن نظامی (۱۶) کھانے پینے ۔ سونے جاگنے محنت و آرام ہر چیز میں اعتدال رہے ۔ عمدہ عمدہ کھانے کھائیں کہ جب معدہ گوارا کریگا تو صحت درست رہیگی ۔ مکان اور لباس اچھا ، خوب عمدہ اور مصاصات ستھرا رکھیں ۔ اور ایک حکیم اور ایک ڈاکٹر کی رائے پر ہمیشہ عمل کریں کہ وہ اُن کا مزاج شناس رہے : اس کے بعد ضروری ننھے یاد کرلیں اور دو ایک کتابیں اُردو یا فارسی پڑھ لیں ۔ بعد اسکے اور جو کچھ بتی ترقی کر سکیں بہتر ہے . دسوال جواب از ایں ۔ بی صاحبہ نان پاره ضلع برانچ (۱) بیچتے جب منہ سے بولنے لگیں تو اُن کے آئینہ دل کو زبانی تعلیم کلمه و مختصر آیات قرآنی سے چلا کریں ۔ اور جب کسی قدر بتلائی ہوئی باتوں کو یاد کرنے لگیں تو اس وقت اُن کو چھوٹے چھوٹے دلچسپ دینی رسالے پڑھائے جائیں ۔ ماں باپ اُستاد، ہمہینوں اور ہمجنسوں کا طرز عمل بچوں کی طبیعت میں زیادہ اثر کرتا ہے ۔ بتیوں کے ورثا کو زمانہ طفولیت میں احتیاط کی زیادہ ضرورت ہے ۔ (۲) لڑکیوں کی مائیں اگر تعلیم یافتہ ہوں تو اُنکے واسطے حصولِ<noinclude></noinclude> 1egw22dkbk3755pues1zy6gepwr21yj صفحہ:Biwi-ki-tarbiyat-khwaja-hasan-nizami-ebooks.pdf/82 250 13790 35155 2026-06-26T04:15:05Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”بیوی کی تربیت A. از خواجہ حسن نظامی علیم کا عمدہ ذریعہ ہے ۔ مگر یہ بات عام نہیں ہے ۔ اس وجہ سے اگر ایسا کیا جائے کہ لڑکیوں کے واسطے نہایت با عصمت و با حیا معلمہ ملازم رکھی جائے تو بجز اعلئے طبقہ کے لوگوں کے معمولی حیثیت والے معلمہ کے رکھنے کی استع...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35155 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|(1)}}</noinclude>بیوی کی تربیت A. از خواجہ حسن نظامی علیم کا عمدہ ذریعہ ہے ۔ مگر یہ بات عام نہیں ہے ۔ اس وجہ سے اگر ایسا کیا جائے کہ لڑکیوں کے واسطے نہایت با عصمت و با حیا معلمہ ملازم رکھی جائے تو بجز اعلئے طبقہ کے لوگوں کے معمولی حیثیت والے معلمہ کے رکھنے کی استعداد نہیں رکھتے ؟ بہترین طریقہ تعلیم پر ہو سکتا ہے کہ اسکول نسواں کے ہر ایک مقام پر قائم کرنے کی قوم کو توجہ دلائی جائے اور ہر اسکول نسواں کے اراکین اور معلمہ کو با عصمت اور شریف النفس ہونے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ عامہ خلائق مدارس نسواں گوشتبه نظروں سے دیکھتی ہے ؟ (۳) فضول خرچیاں شادی و غمی کی بالعموم ہندوستان میں زیادہ پائی جاتی ہیں اور اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ ہند میں بازار جانات دگر ہی گرم ہے ۔ عام خاندانوں میں جزوی دو چار لوگ با شرع پائے جاتے ہیں ۔ کنبہ کے پورے اعزا پابند شرع شریف میں ہیں ۔ بعض شرع کی پابندی چاہتے ہیں اور بعض رواج پر زور دیتے ہیں ۔ غرض کہ مختلف طبائع کے لوگ ہیں ۔ تا وقتے کہ اپنی خاندان پر شرع کا پورا اثر نہ ڈالا جائے فضول خرچی کا انسداد دشوار تر ہے : (۴) بیوی کو میاں کی مرضی کا پابند رہنا ۔ میاں کے احکام کو وراب التسلیم مانتا ۔ اور اُس کے آرام کو اپنی راحت سمجھنا ۔ پابند عصمت رہنا۔ میاں کو بیوی کی دلجوئی کرنا ۔ اُس کی خدمات کو وقعت اور عزت کی نظر سے دیکھنا ۔ اُس کو آرام پہنچانے<noinclude></noinclude> tvwv7biyxy4svj9m3iyk5gv71e3sh27 صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/64 250 13791 35161 2026-06-26T06:17:18Z Charan Gill 46 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”www.urduchannel.in احکام طعام اہل کتاب بیڈ اسلامی اس مسلمانوں کو یڈ اور نارے کے ساتھ کھانا کھانے کے واسطے اسلامی احکام اس میں سرسید نے نسایت معتبر احادیث اور قرآن پاک کی آیات جمع کرکے اس پربحث کی ہے۔ نہایت خوبی سے اس بات کی ثابت کیا ہے کہ قرآن پاک اور ن...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35161 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>www.urduchannel.in احکام طعام اہل کتاب بیڈ اسلامی اس مسلمانوں کو یڈ اور نارے کے ساتھ کھانا کھانے کے واسطے اسلامی احکام اس میں سرسید نے نسایت معتبر احادیث اور قرآن پاک کی آیات جمع کرکے اس پربحث کی ہے۔ نہایت خوبی سے اس بات کی ثابت کیا ہے کہ قرآن پاک اور نبی غریب صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس معاملہ میں کیا تعلیم دین پور النظر في السائل الامام العام الوحا اما محمد اعترالی ہے اس کتاب میں نے مالی شامل ہے والی عامل ارجن کو بعض مضامین پر فا ، بحث کی گئی ہے مضامین پر حفتا ب کحت کی آئی ہے ؟ ان کی تباہ المدون على غير ابلة "المضنون لا بار المفتون بابا المنت ال الاقتصادي الاقتصاد التقرة بين ما ونیر سے لئے گئے پہلی بار یہ خدا کی ذات پر بہت ہے میاریدا نام صاحب کی دار ے والا ہی راستہ کو اتمام اور ان کو علوم پر میت کیسی ہے جو تھی یا امین و میں لوح قلم کے معنوں کا بیان ہے بھوپال میں صراط اور بیزان کے معنوں پر کیتا ہے۔ شیاطین کی حقیقت پر محبت ہو۔ انھیں دربار مر امام صاحب الا ان الاسلام والات اس پر بحث کی گئی ہے کہ کن باتوں سے تکفیر ہو سکتی بیاہ کن باتوں سے نہیں ، قیم فضائل الامام من مسائل حجة السلام ینی کا بات تا رادار مروان کی وفات کے یہ امام صاحب کے بہ کے بائی بالا کا نام نے میں کیے اور مین کو ترسید مرحوم نے نہایت کیش منی سے تربیت یا خون کے ساتھ مری کیا ساری مقامات پر نہایت پوپ بحث بھی کی قیم ترقيم في قطبعا الكلف والقيم اسی یاد میں امن ایک کے قصہ جو قرآن مجروری ہے نہایت متانت اور سیب کی ہے الفت کیش الدمار والاستجابة اس رسا دیں و ا اور اس کے مقبول ہونے کی حقیقت بیان کی گئی ہے او قرآن شریفیہ سے تمام میاں یکجا جمع کر دی گئی ہیں محققانہ بحث ہے قیم لکچر اسلام سرسید احد خانصاحب کا کچھ اسلام کی نسبت قیمت المش<noinclude></noinclude> lj9k686kqjaznvgxeh7wt5rshbir9pe