ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.8 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/63 250 13728 35173 35160 2026-06-29T08:03:16Z BalramBodhi 60 35173 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="0" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|الخطبات الاحمديہ نے الجر البير المحمدية}} یعنی وہ دلچسپ کتاب جس میں مرحوم سر سید نے تاریخ عرب اور پاک اسلام کی مذہبی تاریخ کو نہایت وضاحت سے بیان کیا ہے اور عیسائی مورخوں کے بیجا اعتہ امنات کے جواب جو پاک مذہب اسلام اور بانی اسلام علیةالضنو راه تملاء اور قرآن کریم پر کئے گۓ تھے ایسے تسلیبخش اور سچے و ناداں شکن دئ ہین جو کابل دید ہین۔ در حقیقت اُس مرحوم و تھور نے اس کتاب کی تصنیف سے مذہب پاک اسلام کی وہ خدمت کی ہے جو ہر طرح قابل تعریف و تسحسین ہے اور ممکن نہیں کہ اس و لسوزی کے ساتھ کوئی اور صاحب ایسی بے بہا کتاب تصنیف کرے اور لطن یہ کہ نہایت اعلیٰ درجہ کی صاف زبان اُردو میں جو مسلمان کہ سچے دل سے قوم اسلام کے ہمدرد اور ترقی خواہ اور اسلام سے واقفیت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کا فرض ہے کہ اس بے بہا کتنا کا ضرور مطالعہ کریں نئیی روشنی کے تعلیم یافتہ مسلمان جو عربی زبان کی عدم واقفیت ہونے کے علاوہ انگریزی فلسفا کتاب میں نہایت مدلل اور مفید تر ایحشں دیکھینگے۔ اگرچہ اس کتاب میں ١٢٠١ ہم مختصر طور پر تھوڑے سے مضامین کی فہرست یہ ناظرین کرتے ہین یا چہ اور بارہ خصیے شامل ہیں. دیباچہ میں یہ عتیں ہیں۔ مذہب کیا چیز ہے۔ بہ سکچے مذہب کے پرکھنے کا سچا اصول کیا ہے اسلام صحی طور پر کن احکام کا نعرہ ہے ۔ اُن کتابوں پر بحث جو عیسائی اور مسلمانوں نے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات پر لکھی۔ سرویم میور کی کتاب لائف آف محمد کا ذکر جس کے جواب میں یہ کتاب لکھی گئی. خطبءہ اول۔ عرب کا جغرافیہ عرب کے قبائل اور سلاطین پر محقتانہ بحث۔ لفظ ساز آسن کی تحقیق۔ حضرت ابراھیم اور حضرت اسمہیل کے حالات پر محققانہ بخشیں حضرت ہاجرہ کی حریت پر بحث. خطبه دوم۔ عرب جاعیّت کی رسوم و عادات بت پرستی۔عجرا سود اور خانہ کابہ کا زکر۔ حج زمنہ جاہلیت میں رسوم ازدواج. خطبه سوم۔ عرب جاہلیت کے دیان پر بحث نہایت تفصیل سے۔اسلام کی مناسبت دیگر ااہامی مذاہب سے. خطبہ چہارم۔ اسلام انسان کے لئے رحمت اور تمام انبیا کے مذاہب کی پشت و پناہ ہے۔ اسلام انسانی تمدّن کے موافق ہے۔ کثرت ازواج طلاق اور غلامی پر محققانه بحشین۔یحدیوں اور عیسائیوں کے مذہب کو اسلام سے فایدہ پہنچا. خطبہ پنجم۔ مسلمانوں کی مذہبی کتابوں پر محققانہ بحث. خطبه ششم۔ مذہبی روانیوں کے معتبر اور غیر معتبر ہونے پر مدتل بحش. خطبہ ہفتم۔ قرآن مجید کی جمع و ترتیب اور نزول پر بحشیں. خطبہ ہشتم۔ خانہ کعبہ کی مفصل تاریخ. خطبہ نوہ۔آنحضرت کے ناسبنامہ پر محققانه بحش۔ عذرا ا حفر کے نشہ پر لفقار بحث فنجان یا حضرت شجرہ نسب مصنف کتاب. خطبہ دہم۔ بشارات نسبت آنحضرت کے دو توریت میں ہیں " بار دہم۔ روایات شق صد را در مرح کی تحقیق خطبہ دوار دا ہم جناب میری اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی بارہ برس تک کے حالات ! اس کتاب کو شروع میں سرسید مرحوم کی رنگین کسی تصویر ہے یہ کتا نہایت خوشخہ لانے و جبر کا غذ پر طبع کیتی ہے۔ د ہے قیمت بلا حبلد ہے<noinclude></noinclude> p4pvuwz01jqogrjubq8qg82bu1z98ya صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/287 250 13753 35174 35122 2026-06-29T09:05:52Z Kaur.gurmel 74 35174 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>{{Block center|٢٨١}} مارے جانے سے میں ڈر گیا ہوں ۔ راون کو اپنی ہمّت اور قُوت کا بھروسہ ہے ۔ وہ دوسروں کے بل پر نہیں لڑتا ۔ دلیروں کی اولاد لڑائی میں مرنے کے سوا اور ہوتی ہی کس لئے ہے۔ اب سنبھل جاؤ ۔ میں پھر وار کرتا ہوں. {{gap}}مگر یہ محض گیدڑ بھبکی تھی ۔ رامچندر نے جو تیر مارا تو وہ پھر راون کے سینہ میں لگا ۔ ایک زخم پہلے لگ چکا تھا ۔ اس دوسرے زخم نے خاتمہ کر دیا ۔ راون رتھ کے نیچے گر پڑا ۔ اور تڑپ تڑپ کر جان دے دی ۔ ظالم تھا ۔ بےانصاف تھا ۔ کمینہ تھا ۔ مگر دلیر بھی تھا مرتے وقت بھی کمان اُس کے ہاتھ میں تھی. {{gap}}راون کو رتھ کے نیچے گرتے دیکھ بھبھیشن دوڑ کر اُس کے پاس آگیا ۔ دیکھا تو وہ دم توڑ رہا تھا ۔ اس وقت بھائی کے خون نے جوش مارا ۔ بھبھیشن راون کی خون آلود لاش سے لپٹ کر زار زار رونے لگا ۔ اتنے میں -<noinclude></noinclude> 4v6ufcgqbft0v3zgwqf1l33na6qljk4 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/288 250 13754 35175 35126 2026-06-29T09:14:38Z Kaur.gurmel 74 /* پروف خوانی شدہ */ 35175 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>{{Block center|٢٨٢}} راون کی رانی مندودری اور دوسری رانیاں بھی آکر ماتم کرنے لگیں ۔ رامچندر نے انہیں سمجھا کر رُخصت کیا ۔ سپاہیوں نے چاہا کہ چل کر لنکا کو لوٹیں ، مگر رامچندر نے انہیں منع کیا۔ ہارے ہوئے دشمن کے ساتھ وہ کسی قسم کی زیادتی نہیں کرنی چاہتے تھے . {{center|<big>'''(٦) بھبھیشن کی تاجپوشی'''</big>}} {{gap}}ایک دن وہ تھا کہ بھبھیشن ذلیل ہو کر روتا ہوا نکلا تھا ۔ آج وہ فتحمند اور سرخرو ہو کہ لنکا میں داخل ہوا ۔ سامنے سواروں کا ایک دستہ تھا ۔ طرح طرح کے باجے بج رہے تھے ۔ بھبھیشن ایک خوبصورت رتھ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ لکشمن بھی اُن کے ساتھ تھے ۔ پیچھے فوج کے نامی سورما اپنے اپنے رتھوں پر شان سے بیٹھے ہوئے چلے جا رہے تھے ۔ آج بھبھیشن کا باقاعدہ راج تیلک ہوگا ۔ وُہ<noinclude></noinclude> 4kaaeb1lrxsvgd80qhync56kj01ya22 صفحہ:1900 urdu qavaid urdu.pdf/13 250 13795 35171 2026-06-29T00:54:24Z Charan Gill 46 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”{{center|'''<big>مقدّمہ</big>'''}} اردو زبان دنیا کی جدید زبانوں میں سے ہے اور ابھی ابھی اس نے اپنے بل بوتے پر کھڑا ہونا سکھا ہے ۔ زبان نہ کسی کی ایجا د ہوتی ہے اور نہ کوئی اُسے ایجاد کر سکتا ہے جس اصول پر نیچے سے کو نیل پھوٹتی اپتے نکلتے ، شاخیں کھیتی، پھل پ...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35171 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{rh||9}}</noinclude>{{center|'''<big>مقدّمہ</big>'''}} اردو زبان دنیا کی جدید زبانوں میں سے ہے اور ابھی ابھی اس نے اپنے بل بوتے پر کھڑا ہونا سکھا ہے ۔ زبان نہ کسی کی ایجا د ہوتی ہے اور نہ کوئی اُسے ایجاد کر سکتا ہے جس اصول پر نیچے سے کو نیل پھوٹتی اپتے نکلتے ، شاخیں کھیتی، پھل پھول لگتے ہیں اور ایک توانج وہی تھا سا پودا ایک تناور درخت ہو جاتا ہے ۔ اسی اصول کے مطابق زبان پیدا ہوئی ، بڑھتی اور پھیلتی پھولتی ہے ۔ اردو اس زمانے کی یادگار ہے ، جب مسلمان فاتح ہندوستان میں داخل ہوئے اور اہل ہند سے انکا میں بول روز بروز بڑھتا گیا۔ اُس وقت ملک کی زبان میں تخفیف سنا تغیر پیدا ہو تا چلا ، جس نے آخر ایک نئی صورت اختیار کی۔ جس کا ان میں سے کسی کو سان گمان بھی نہ تھا ۔ مسلمان فارسی بولتے آئے تھے اور ایک زمانے تک ان کی زبان فارسی ہی رہی۔ دربار و دفاتر میں بھی اُسی کا سکہ جاری تھا۔ ہندوؤں نے بھی اُسے شوق سے سیکھا ۔ اُس زمانے میں فارسی لکھنا پڑھنا تہذیب میں داخل تھا ۔ فارسی کے علاوہ عربی مسلمانوں کی نہ ہی اور علمی زبان تھی ۔ دستار فضیلت کا اعنا بغیر تحصیل زبان عربی نا مکمل تھا۔ کیونکہ مسلمانوں کے علوم و فنون کا خندا نہ اسی زبان میں<noinclude></noinclude> rvhdfit6azrs5knw5i9jnxy9ifqki1y 35172 35171 2026-06-29T00:58:11Z Charan Gill 46 35172 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{rh||9}}</noinclude>{{center|'''<big>مقدّمہ</big>'''}} اردو زبان دنیا کی جدید زبانوں میں سے ہے اور ابھی ابھی اس نے اپنے بل بوتے پر کھڑا ہونا سکیھا ہے ۔ زبان نہ کسی کی ایجاد ہوتی ہے اور نہ کوئی اُسے ایجاد کر سکتا ہے جس اصول پر نیچے سے کو نیل پھوٹتی اپتے نکلتے، شاخیں کھیتی، پھل پھول لگتے ہیں اور ایک توانج وہی تھا سا پودا ایک تناور درخت ہو جاتا ہے ۔ اسی اصول کے مطابق زبان پیدا ہوئی ، بڑھتی اور پھیلتی پھولتی ہے ۔ اردو اس زمانے کی یادگار ہے ، جب مسلمان فاتح ہندوستان میں داخل ہوئے اور اہل ہند سے انکا میں بول روز بروز بڑھتا گیا۔ اُس وقت ملک کی زبان میں تخفیف سنا تغیر پیدا ہو تا چلا ، جس نے آخر ایک نئی صورت اختیار کی۔ جس کا ان میں سے کسی کو سان گمان بھی نہ تھا ۔ مسلمان فارسی بولتے آئے تھے اور ایک زمانے تک ان کی زبان فارسی ہی رہی۔ دربار و دفاتر میں بھی اُسی کا سکہ جاری تھا۔ ہندوؤں نے بھی اُسے شوق سے سیکھا ۔ اُس زمانے میں فارسی لکھنا پڑھنا تہذیب میں داخل تھا ۔ فارسی کے علاوہ عربی مسلمانوں کی نہ ہی اور علمی زبان تھی ۔ دستار فضیلت کا اعنا بغیر تحصیل زبان عربی نا مکمل تھا۔ کیونکہ مسلمانوں کے علوم و فنون کا خندا نہ اسی زبان میں<noinclude></noinclude> g03imqpsdxcd43cxbg7mwn4ku3ymo1v