ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.8
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/21
250
12687
35176
31790
2026-06-30T04:17:43Z
Taranpreet Goswami
90
/* پروف خوانی شدہ */
35176
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||٢٠|بیتال پچیسی}}</noinclude>وہی ہم کرینگے یہ کہہ اپنی بیٹی کو بلاکر پوچھا تم اپنی بات کہو سُسرال جاؤگی یا نیہر مین رہوگی اسمین لڑکی نے شرما کے کچھ جواب نہ دیا الٹی پھر آئی اور اپنے خاوند سے آکر کہا کہ ہمارے ماتا پتا کہہ چکے ہین کہ جس مین انکی خوشی ہوگی وہ ہم کرینگے تو ہمین مت چھوڑ جائیو غرض اس سیٹھ نے داماد کو بلا بہت سی دولت دے بدا کیا اور لڑکی کا بھی ڈولہ ایک لونڈی سمیت ساتھ کردیا تب یہ وہان سے چلا جب ایک جنگل مین پہونچا تو اسنے ساہ کی بیٹی سے کہا کہ یہان بہت ڈر ہے جو تم اپنا سب گہنا اتار دو تو وہ ہم اپنی کمر مین باندھ لین پھر آگے جب شہر آویگا تو تم پہن لینا اس نے سنتے ہی سب زیور اتار دیا اور اسنے زیور لے کہارون کو بدا کر لونڈی کو مار کر کوینئ مین ڈال دیا اور اسکو بھی زور سے کونئین مین دھکیل سب گھنا لے اپنے دیس کو چلا گیا اتنے مین ایک مُسافر اس راہ سے آیا اور رونیکی آواز سن کھڑا ہو اپنے جی مین کہنے لگا کہ اس جنگل مین آدمی کے رونے کی آواز کہان سے آئی یہ بچار اس رونے کی آواز کی طرف چلا کہ ایک کنوان نظر آیا اور اسمین جھانکا تو دیکھتا کیا ہے کہ اسمین ایک عورت روتی ہے تب اس عورت کو نکال احوال پوچھنے لگا کہ تو کون ہے اور کس طرح سے اِسمین گری یہ سنکے اسنے کہا مین ہیم گپت سیٹھ کی بیٹی ہون اور اپنے بالم کے ساتھ اسکے دیس کو جاتی تھی کہ اسمین چورون نے آ گھیرا اور میری لونڈی کو مارکر کنوین مین ڈال دیا اور گہنے سمیت میرے شوہر کو باندھ کر لیگئے نہ انکی مجھے خبر ہے نہ میری انھین یہ سُن وہ مُسافِر اسے ساتھ لے آیا اور اس سیٹھ کے گھر پہونچا گیا یہ اپنے مان باپ کے پاس گئی وے اسے دیکھ کر پوچھنے لگے کہ تیری کیا گت ہوئی اسنے کہا ہمین راہ مین آ کے چورون نے لوٹا اور لونڈی کو مار کر کنوئین مین ڈال مجھے ایک اندھے کنوئین مین دہکیل دیا اور میرے شوہر کو گہنے سمیت باندھ کر لے چلے جب اور دھن مانگنے لگے ان نے کہا جو کچھ تھا تمنے لے لیا اب میرے پاس کیا ہے آگے یہ مجھے خبر نہین کہ انھین مارا یا چھوڑا تب اسکا باپ بولا بیٹی فکر مت ک تیرا سوامی جیتا ہے بھگوان چاہے تو تھوڑے دنون مین آن ملے کیونکہ چور دھن کے گاہک ہوتے ہین جیو کے گاہک نہین اس سیٹھ نے جو جو گہنا اسکا گیا تھا اسکے بدلے اور زیور دے کر بہت سا دلاسا دل دہی کی اور وہ سیٹھ کا لڑکا بھی اپنے گھر پہنچ سب زیور بیچ دن رات رنڈی بازی کرنے اور جوا کہیلنے لگا یہان تک کہ سب روپئے تمام ہوۓ تب روٹی کو محتاج ہوا آخر جب نہایت دکھ پانے لگا تو اپنے من مین ایک دن بچارا کہ سُسرال جا کر یہ بہانہ کیجئے کہ تمھارے نواسا پیدا ہوا ہے اسکی بدھائی دینے کو مین آیا ہون یہ بات اپنے جی مین ٹھان کر چلا کئی دن مین وہان پہونچا جب اسنے چاہا کہ گھر مین جاؤن تو سامنے سے اسکی استری نے نزدیک آکر کہا سوامی تم اپنے جی مین کِسی بات کی پروا مت کرو مین نے اپنے باپ سے کہا ہے کہ چورون نے آکر لونڈی کو مارا اور میرا زیور اتارا مجھے کنوُین مین ڈال میرے خاوند کو باندھ لیگۓ یہی بات تم بھی کہیؤ کچھ چنتا نہ کرو گھر تمھارا ہے اور مین<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
2wjlqtdqxjum55niq4t2kf4bq3sw4b2
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/22
250
12688
35177
31802
2026-06-30T04:32:38Z
Taranpreet Goswami
90
/* پروف خوانی شدہ */
35177
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|٢١|}}</noinclude>لونڈی ہون یہ کہکر وہ گھر مین چلی گئی یہ اس سیٹھ کے پاس گیا اسنے گلے لگا کر سب احوال پوچھا جس طرح اسکی جورو سمجھا گئی تھی اُسنے اسی طرح کہا سارے گھر مین خوشی ہوئی پھر سیٹھ نے اسے اشنان کروا کھانا کھلا بہت سا بھروسا دیکر کہا کہ یہ گھر تمہارا ہے انند سے رہو یہ وہین رہنے لگا غرض کتنے ایک دنون کے بعد رات کے وقت وہ ساہ کی بیٹی گہنا پہنے ہوئے اسکے پاس سونے کے لئے آئی اور سو گئی جب دو پہر رات ہوئی ان نے دیکھا کہ یہ غافل سو گئی ہے تب ایک چھری ایسی اُسکے گلے مین ماری کہ وہ مر گئی اور سارا گہنا اتار اپنے دیس کی راہ لی اتنی بات کہہ مینا بولی مہاراج یہ مین نے اپنی آنکھون سے دیکھا ہے اس واسطے مجھے مرد سے کچھ کام نہین مہاراج دیکھو مرد کی ذات ایسی ڈاکو ہوتی ہے کون ایسے سے دوستی کر اپنے گھر مین سانپ پالے مہاراج آپ اسے سوچیے کہ اس عورت نے کیا گناہ کیا تھا یہ سُن راجہ نے کہا اے طوطے عورت مین عیب کیا ہے تو مجھ سے کہہ تب وہ بولا مہاراج سنئے کنچن پور ایک نگر یے وہان ساگردت نام ایک سیٹھ تھا اسکے بیٹے کا نام سری دت اور ایک شہر کا نام جیری پور وہان سوم دت نام ایک سیٹھ تھا اور اسکی بیٹی کا نام جیسری وہ دوسرے سیٹھ کے بیٹے کو بیاہی تھی اور لڑکا کِسی ملک مین سوداگری کے واسطے گیا تھا وہ اپنے مان باپ کے یہان رہتی تھی غرض جب اسے سوداگری مین بارہ برس گزر گئے اور یہ جوان ہوئی ایک روز سکھی سے کہنے لگی کہ اے بہن میرا جوبن یون ہی جاتا ہے سنسار کا سکھ مین نے ابتک کچھ نہین دیکھا یہ بات سکھی نے شنکر اسے کہا تو اپنے جی مین دھیرج دھر بھگوان چاہے تو تیرا شوہر جلدی آ ملتا ہے اس بات کو سنکر غصّہ ہو اٹاری پر چڑھ جھروکے سے جھاکی تو دبکھتی کیا ہے کہ ایک جوان چلا آتا ہے جب نزدیک آیا تو اسکی اور اسکی یکا یک چار نظرین ہوئین دونون کا دل مل گیا تھا اِن نے اپنی سکھی سے کہا کہ اس شخص کو میرے پاس لے آ یہ سُن سکھی نے جاکر کہا کہ سومدت کی کنیا نے تنہائی مین بلایا ہے پر تم میرے گھر آئیو اپنے گھر کا پتہ اسکو بتا دیا اُن نے کہا کہ رات مین آؤن گا سکھی نے یہ سیٹھ کی لڑکی سے آکر کہا یہ سنکر جیسری نے سکھی سے کہا کہ تو اپنے گھر مین جا جب وہ آوے مجھے خبر کرنا تو مین بھی اس گھر مین تیار ہو کر چلونگی سکھی اس کی بات سنکراپنے گھر گئی دروازہ پر بیٹھ کر اسکی راہ تاکنے لگی اتنے مین وہ آیا ان نے اسے اپنی ڈیوڑھی مین
بٹھا کر کہا تم یہان بیٹھو مین تمھاری خبر کرتی ہون اور آ کر جیسری سے کہا کہ تمھارا آشنا آن پہونچا ہے یہ سنکر اس نے کہا کہ ذرا ٹھہر جا گھر کے لوگ سو جاوین تو مین چلون پھر کچھ دیر کے بعد جب آدھی رات کا عمل ہوا اور سب سو گئے تب یہ چپکے سے اٹھکر اسکے ساتھ چلی اور ایک چھن مین آ پہونچی اور بے اختیار دونون نے اسکے
گھر مین ملاقات کی جب چار گھڑی رات باقی رہی یہ اٹھ کر اپنے گھر مین آ کر چپ چاپ سو رہی اور وہ بھی صبح کے وقت اپنے گھر کو گیا اسی طرح سے کتنے ایک دن بیت گئے آخر اس کا خاوند بھی پردیس سے اپنی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
tlbkxet3yvkcnyfbhrr8dh1xjj0eqaw
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/23
250
12689
35178
31811
2026-06-30T04:44:23Z
Taranpreet Goswami
90
/* پروف خوانی شدہ */
35178
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||٢٢|بیتال پچیسی}}</noinclude>سُسرال مین آیا جب اُس نے اپنے شوہر کو دیکھا جی مین چنتا کرکے سکھی سے کہا کہ اِس سوچ مین میرا جی ہے کیا کرون کدھر جاؤن میری نیند بھوک پیاس سب بسر گئی نہ ٹھنڈا اچھا معلوم ہوتا ہے نہ گرم اور جو کچھ احوال اپنے دل کا تھا سو سب کہا غرض جون تون کر کے دن تو کاٹا پر شام کے وقت جب اسکا شوہر کھانا کھا چکا تب اسکی ساس نے ایک جُدی چاپاری مین سیج ہچھوا کر کہلا بھیجا کہ تم وہان جا کر آرام کرو اور اپنی بیٹی سے کہا کہ تو جاکر اپنے شوہر کی سیوا کر وہ اس بات کو سن ناک بھون چڑھا کر چپکی ہو رہی پھر اسکی مان نے ڈانٹ کے اسکے پاس بھیجا بےبس ہو کر وہان گئی اور منھ پھر پلنگ پر لیٹ رہی وہ جیون جیون اس سے نیہ کی باتین کرتا تیون تیون اسے زیادہ دکھ ہوتا تھا پھر طرح طرح کی چیزین زیور جو جو ہر ایک مقام سے اسکے واسطے لایا تھا سو سب دیئے اور کہا کہ اسے پہن تب ان نے خفا ہو بہوین تان منھ پھیر لیا اور وہ بھی ناچار ہو کر سو رہا کیونکہ ہارا ماندہ راہ کا تھا پر اسے اپنے یار کی یاد مین نیند نہ آئی جب وہ سمجھی کہ یہ نیند سے غافِل ہوا تو وہ چپکے سے اٹھ اسے سوتا چھوڑ اندھیری رات مین نڈر اپنے دوست کے مکان کو چلی کہ راہ مین ایک چور نے اسکو دیکھ کر اپنے دل مین سوچا کہ عورت گہنا پہنے ہوئے آدھی رات کے وقت اکیلی کہان جاتی ہے یہ بات اپنے جی مین کہہ اسکے پیچھے ہو لیا غرض جیون تیون یہ اپنے یار کے مکان پر پہونچی اور وہان اسے سانپ کاٹ گیا تھا وہ مرا پڑا تھا اس نے جانا کہ سوتا ہے جدائی کی آگ مین تو جل ہی رہی تھی بےاختیار اس سے لپٹ گئی اور پیار کرنے لگی اور چور دور سے تماشہ دیکھنے لگا وہان ایک پیپل کے درخت پر ایک بھوت بھی بیٹھا ہوا یہ تماشہ دیکھتا تھا دل مین آیا کہ اس مردہ کے بدن مین بیٹھ اس سے بھوگ کیجئے یہ بچار کر اسکے قالب مین آکر بھوگ کیا آخر دانتون سے اسکی ناک کاٹ اسی درخت پر جا بیٹھا چور نے یہ سب احوال دیکھا اور وہ ناچار اسی رنگ لہو سے شرابور سکھی کے پاس گئی اور سب ماجرا کہا تب سکھی بولی کہ تو اپنے شوہر کے پاس جلد جا کہ آفتاب طلوع نہ ہونے پاوے اور وہان جا کر ڈھار مار کر روئیو جو کوئی تجھ سے پوچھے تو کہنا اِن نے میری ناک کاٹ لی ہے سکھی کی بات سنتے ہی ترت جا ڈھاڑین مار مار رونے لگی اسکے رونیکی آواز سن سارے کٹمب کے لوگ آئے تب وے بولے کہ اے نلچ پاپی بیرحم بےتقصیر تو نے اسکی ناک کیون کاٹی وہ بھی یہ سوانگ دیکھ افسوس کر اپنے جی مین کہنے لگا کہ چنچل چت کا کالے سانپ کا ہتیار بند کا دشمن کا یقین نہ کیجئے اور تریا چرتر سے ڈر شاعر کیا بیان نہین کر سکتا اور جوگی کیا نہین جانتا شرابی کیا نہین کہتا عورت کیا نہین کر سکتی سچ ہے گھوڑون کا عیب بادل کا گرجنا تریا چرتر اور مرد کی قیمت یہ دیوتا بھی نہین جانتے آدمی کا تو کیا مقدور ہے اتنے مین اس کے باپ نے کوتوال کو خبر دی وہان سے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
kiewk17ry33rcxn5egknxczd365kjg2
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/64
250
13791
35179
35161
2026-06-30T06:10:56Z
BalramBodhi
60
35179
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>{{center|احکام طعام اہل کتاب}}
مسلمانوں کو یہوُ اور نصارے کے ساتھ کھانا کھانے کے واسطے اسلامی احکام اس میں سرسیدمرحوم نے نہایت معتبر احادیث اور قرآن پاک کی آیات جمع کرکے اس پر بحث کی ہے۔ نہایت خوبی سے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ قرآن پاک اور نبی عرب صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس معاملہ میں کیا تعلیم دینہیں.
{{center|النظر فے بعز مسائل الہمام ابو حامد امام محمد الغالی}}
اس کتاب میں آنھ رسالے شامل ہیں۔ جن میں امام غزالی عایہ الرحمتہ کے بعض مضامین پر محفقانہ بحث کی گئی ہے۔اُن کی تباہ "انون بہ على غير انون" الفنون بہ على بہا
المفتون بابا المنت ال الاقتصادي الاقتصاد التقرة بين ما
ونیر سے لئے گئے پہلی بار یہ خدا کی ذات پر بہت ہے میاریدا نام صاحب کی دار
ے والا ہی راستہ کو اتمام اور ان کو علوم پر میت کیسی ہے جو تھی یا امین و
میں لوح قلم کے معنوں کا بیان ہے بھوپال میں صراط اور بیزان کے معنوں پر کیتا ہے۔
شیاطین کی حقیقت پر محبت ہو۔ انھیں دربار مر امام صاحب الا ان الاسلام والات
اس پر بحث کی گئی ہے کہ کن باتوں سے تکفیر ہو سکتی بیاہ کن باتوں سے نہیں ، قیم
{{center|فضائل الامام من رسائل حجتہ السلام}}
ینی مکاتبات تا رادار مروان کی وفات کے یہ امام صاحب کے بہ کے بائی بالا کا نام
نے میں کیے اور مین کو ترسید مرحوم نے نہایت کیش منی سے تربیت یا خون کے ساتھ مری کیا ساری
مقامات پر نہایت پوپ بحث بھی کی قیم
{{center|ترقيم في قصہ اصحاب الكہف والقيم}}
اسی یاد میں امن ایک کے قصہ جو قرآن مجید میں ہے نہایت متانت اور سنف کی ہے یہ محققانہ بحث
{{center|الدعار والاستجابتہ}}
اس رسالہ میں دعا اور اُس کے مقبول ہونے کی حقیقت بیان کی گئی ہے اور قرآن شریف سے تمام میاں
یکجا جمع کر دی گئی ہیں محققانہ بحث ہے قیمت
{{center|لکچر اسلام}}
سر سید احمد خانصاحب کا لکچر اسلام کی نسبت قیمت
المش<noinclude></noinclude>
902q7ymbtuqnvdf75e0q321ys4x35c6