ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.9 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/56 250 12857 35185 31620 2026-07-01T06:34:48Z BalramBodhi 60 35185 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>سالشان احمد نے اپنے گھرانے میں سب سے اول اسلام قبول کیا آخر ارغنون خان برادر سلطان احمد کے باتہ سے ٦٦٣ ہجری مین شہید کیا گیا۔ شہادت سے چند ساعت پہلے اُس نے تہوڑی سی مہلت چاہی تہی اُس نازک وقت میں نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے بیویان کے نام ایک وصیت نامہ تحریر کیا اور ایک خت ... تبریز کو لکہا جو تاریخ وصاف مین بجنسہ منقول ہے اور جس سے اُسکا کمال استقلال اور فراخ حوسلگی پائی جاتی ہے۔ اُس کے چہوٹے بہائی علاءالدین جو نبی نے بغداد کی حکومت کے زمانہ میں اُس اُجڑے اور ویران شہر کو جو کہ ہلاکو خان کے ظلم و بیداد سے بالکل پامال ہو گیا تہا چند روز مین اپنے عدل اور شفقت اور دلجوئی رعایا سے از سرنو معمور کر دیا۔ نجف اشرف میں نہر کہدوائی جسمین ایک لاکہہ دینار سے زیادہ صرف ہوا اور فرات کا پانی کوفہ کی مسجد مین لے گیا۔ تاریخ مین لکہا ہے کہ جو کام بڑے بڑے خلیفہ اور بادشاہون سے نہو سکے تہے وہ اِس فیاض ورد انشمند وزیر کی کوشش سے ظہور مین آئے تاریخ جہهان کشا جو اُسنے تاتاریون کی فتوجات کے بیان مین لکہی ہے وہ اُن تمام تاریخون کا ... ہے جو اس باب مین لکہی گئی ہین۔ الغرض یہ دونون بہائی جو کہ دنیوی جاہ داقتدار کے علاوہ کمالات علمی مین بہی امتیاز سلطان احمد کا نام اسلاوتے پہلے کو دارتا با ارین مین اِس سے پہلے صرف برکہ خان جوجی خان کا بیٹا اور چنگیز خان کا پوتا مسلمان ہوا تہا جس کے پاس خوارزم دونست بچاق اور روس وغیرہ کی حکومت تهی ۱۲<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> a699hbyl8bntmgz5wpc3wp16g4fgi1f صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/57 250 12858 35186 31623 2026-07-01T07:07:21Z BalramBodhi 60 35186 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>رکہتے تھے اور نیک سیرتی اور حسن اخلاق کے لحاظ سے بیمشل تہے۔ شیخ سعدی کے ساتہ ان کو حد سے زیادہ خلوص اور اعتقاد تھا اور شیخ کو ہہی جیسا کہ اوسکے قصائد و قطعات اور دیگر تحریرات سے ظاہر ہوتا ہے اِن دونون سے انتہا درجہ کی محبت اور الفت تہی۔ ظاہرا جب سے شیخ نے سفر ترک کر کے شیراز مین اقامت اختیار کی تہی اُسکے تمام اخراجات اور اُسکی خانقاہ کے مصارف کے متکفل خواجہ شمس الدین اور خواجہ علاء الدین تہے۔ ایک بار خواجہ شمس الدین نے پانچسو دینار بطور نزر کے اپنے غلام کے ہاتہ دارالسلطنت بتریز سے شیخ کی خدمت مین بہیجے۔ راہ مین غلام نے شیخ کے معمولی اغماض اور چشم پوشی کے بہر سے پر اُس مین سے ڈیڑہ سو دینار نکال لیے اور ساڑ ہے تین سو شیخ کے حوالے کیے۔ شیخ نے دیکہا کہ صاحب دیوان کے خط مین پانسو لکہے ہین اور غلام نے ساڑہے تین سو دئے ہین اس کی رسید مین یہ قطہ لکہہ بہیجا<refبندق بخارائی جو ایک زبر دست شاعر ہے اسکو ہی یہ اتفاق میں آیا ہے ۔ بادشاہ نے اس کو پانسو تو مان العام></ref> نامه اکر می خواجه تشریف فرستادی ان ایات ، فرمیون بار و نعمت با کمال یاد پائمال ر دیناریست سارے هم باد تا بازی می پنجاه سال عمر تنے محکو عزت دی ال اللہ ہی ہیں۔ تمہاری دولت زیادہ اور تمہارے دشمن با کمال ہوں۔ تمہاری معرفی ودینار ایک برس کے سراہتے ہو تو کار ساز پوتین سورس دنیا مین روز صاحب دیوان سنے پر مضمون دریافت کر کے غلام کو بہت زور تو بیچ کی اور قم کی بابت نمارک باقات کر کے شیخ ست معالی چاہیں۔ اس قسم کے مرمت آمیز شعار اور بھی کئی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> qfdex2vabcz1c33q9513yzvhm4o0p8j 35187 35186 2026-07-01T07:08:32Z BalramBodhi 60 35187 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>رکہتے تھے اور نیک سیرتی اور حسن اخلاق کے لحاظ سے بیمشل تہے۔ شیخ سعدی کے ساتہ ان کو حد سے زیادہ خلوص اور اعتقاد تھا اور شیخ کو ہہی جیسا کہ اوسکے قصائد و قطعات اور دیگر تحریرات سے ظاہر ہوتا ہے اِن دونون سے انتہا درجہ کی محبت اور الفت تہی۔ ظاہرا جب سے شیخ نے سفر ترک کر کے شیراز مین اقامت اختیار کی تہی اُسکے تمام اخراجات اور اُسکی خانقاہ کے مصارف کے متکفل خواجہ شمس الدین اور خواجہ علاء الدین تہے۔ ایک بار خواجہ شمس الدین نے پانچسو دینار بطور نزر کے اپنے غلام کے ہاتہ دارالسلطنت بتریز سے شیخ کی خدمت مین بہیجے۔ راہ مین غلام نے شیخ کے معمولی اغماض اور چشم پوشی کے بہر سے پر اُس مین سے ڈیڑہ سو دینار نکال لیے اور ساڑ ہے تین سو شیخ کے حوالے کیے۔ شیخ نے دیکہا کہ صاحب دیوان کے خط مین پانسو لکہے ہین اور غلام نے ساڑہے تین سو دئے ہین اس کی رسید مین یہ قطہ لکہہ بہیجا<refبندق بخارائی جو ایک زبر دست شاعر ہے اسکو ہی یہ اتفاق میں آیا ہے ۔ بادشاہ نے اس کو پانسو تو مان العام>بندق بخارائی جو ایک زبر دست شاعر ہے اسکو ہی یہ اتفاق میں آیا ہے ۔ بادشاہ نے اس کو پانسو تو مان العام</ref> نامه اکر می خواجه تشریف فرستادی ان ایات ، فرمیون بار و نعمت با کمال یاد پائمال ر دیناریست سارے هم باد تا بازی می پنجاه سال عمر تنے محکو عزت دی ال اللہ ہی ہیں۔ تمہاری دولت زیادہ اور تمہارے دشمن با کمال ہوں۔ تمہاری معرفی ودینار ایک برس کے سراہتے ہو تو کار ساز پوتین سورس دنیا مین روز صاحب دیوان سنے پر مضمون دریافت کر کے غلام کو بہت زور تو بیچ کی اور قم کی بابت نمارک باقات کر کے شیخ ست معالی چاہیں۔ اس قسم کے مرمت آمیز شعار اور بھی کئی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> estfsevageeyudc0w0sehgbqk4puiem 35188 35187 2026-07-01T07:23:17Z Charan Gill 46 35188 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>رکہتے تھے اور نیک سیرتی اور حسن اخلاق کے لحاظ سے بیمشل تہے۔ شیخ سعدی کے ساتہ ان کو حد سے زیادہ خلوص اور اعتقاد تھا اور شیخ کو ہہی جیسا کہ اوسکے قصائد و قطعات اور دیگر تحریرات سے ظاہر ہوتا ہے اِن دونون سے انتہا درجہ کی محبت اور الفت تہی۔ ظاہرا جب سے شیخ نے سفر ترک کر کے شیراز مین اقامت اختیار کی تہی اُسکے تمام اخراجات اور اُسکی خانقاہ کے مصارف کے متکفل خواجہ شمس الدین اور خواجہ علاء الدین تہے۔ ایک بار خواجہ شمس الدین نے پانچسو دینار بطور نزر کے اپنے غلام کے ہاتہ دارالسلطنت بتریز سے شیخ کی خدمت مین بہیجے۔ راہ مین غلام نے شیخ کے معمولی اغماض اور چشم پوشی کے بہر سے پر اُس مین سے ڈیڑہ سو دینار نکال لیے اور ساڑ ہے تین سو شیخ کے حوالے کیے۔ شیخ نے دیکہا کہ صاحب دیوان کے خط مین پانسو لکہے ہین اور غلام نے ساڑہے تین سو دئے ہین اس کی رسید مین یہ قطہ لکہہ بہیجا<ref>بندق بخارائی جو ایک زبر دست شاعر ہے اسکو ہی یہ اتفاق میں آیا ہے ۔ بادشاہ نے اس کو پانسو تو مان العام</ref> نامه اکر می خواجه تشریف فرستادی ان ایات ، فرمیون بار و نعمت با کمال یاد پائمال ر دیناریست سارے هم باد تا بازی می پنجاه سال عمر تنے محکو عزت دی ال اللہ ہی ہیں۔ تمہاری دولت زیادہ اور تمہارے دشمن با کمال ہوں۔ تمہاری معرفی ودینار ایک برس کے سراہتے ہو تو کار ساز پوتین سورس دنیا مین روز صاحب دیوان سنے پر مضمون دریافت کر کے غلام کو بہت زور تو بیچ کی اور قم کی بابت نمارک باقات کر کے شیخ ست معالی چاہیں۔ اس قسم کے مرمت آمیز شعار اور بھی کئی<noinclude>{{rule}}</noinclude> o0wyi3x4vvb0ekgbj7xwogsxaiim1to صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/290 250 13157 35182 35141 2026-06-30T15:53:03Z ~2026-37524-66 249 35182 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{Block center|۲۸۴}}</noinclude>سری رامچندر جی آپ کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ وہ خود آتے مگر شہر میں آنے سے مجبور ہیں ۔ سیتا جی خوشی خوشی پالکی پر بیٹھیں ۔ رامچندر سے ملنے کی خوشی میں انہیں کپڑوں کی بھی پرواہ نہ تھی ۔ مگر بھبھیشن کی رانی سرما نے اُن کے جسم پر اُبٹن ملا، سر میں تیل ڈالا، بال گوندھے۔ بیش قیمت ساڑی پہنائی اور رخصت کیا۔ سواری روانہ ہوئی ۔ ہزاروں آدمی ساتھ تھے. {{gap}}رامچندر کو دیکھتے ہی سیتا جی کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے ۔ وہ پالکی سے اُتر کر اُن کی طرف چلیں ۔ رامچندر اپنی جگہ پر کھڑے رہے ۔ اُن کے چہرے سے خوشی نہیں ظاہر ہو رہی تھی ۔ بلکہ رنج ظاہر ہوتا تھا ۔ سیتا قریب آ گئیں ۔ پھر بھی وہ اپنی جگہ پر کھڑے رہے۔ تب سیتا جی اُن کے دل کی بات سمجھ گئیں ۔ وُہ اُن کے پیروں پر نہیں گریں ۔ سر جھکا کر کھڑی ہو گئیں ۔ اُن کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے.{{nop}}<noinclude></noinclude> hrqye6tiol7lec8ni055ai6k3vkofmv 35184 35182 2026-06-30T15:55:19Z Kaur.gurmel 74 /* پروف خوانی شدہ */ 35184 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" />{{Block center|۲۸۴}}</noinclude>سری رامچندر جی آپ کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ وہ خود آتے مگر شہر میں آنے سے مجبور ہیں ۔ سیتا جی خوشی خوشی پالکی پر بیٹھیں ۔ رامچندر سے ملنے کی خوشی میں انہیں کپڑوں کی بھی پرواہ نہ تھی ۔ مگر بھبھیشن کی رانی سرما نے اُن کے جسم پر اُبٹن ملا، سر میں تیل ڈالا، بال گوندھے۔ بیش قیمت ساڑی پہنائی اور رخصت کیا۔ سواری روانہ ہوئی ۔ ہزاروں آدمی ساتھ تھے. {{gap}}رامچندر کو دیکھتے ہی سیتا جی کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے ۔ وہ پالکی سے اُتر کر اُن کی طرف چلیں ۔ رامچندر اپنی جگہ پر کھڑے رہے ۔ اُن کے چہرے سے خوشی نہیں ظاہر ہو رہی تھی ۔ بلکہ رنج ظاہر ہوتا تھا ۔ سیتا قریب آ گئیں ۔ پھر بھی وہ اپنی جگہ پر کھڑے رہے۔ تب سیتا جی اُن کے دل کی بات سمجھ گئیں ۔ وُہ اُن کے پیروں پر نہیں گریں ۔ سر جھکا کر کھڑی ہو گئیں ۔ اُن کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے.{{nop}}<noinclude></noinclude> fdw5i34daf8lu63nyeptgmwh6mmoply صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/291 250 13158 35189 35142 2026-07-01T09:19:40Z Kaur.gurmel 74 35189 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{Block center|٢٨٤}}</noinclude>ایک منٹ کے بعد سیتا جی نے لکشمن سے کہا ۔ بھیا ۔ کھڑے کیا دیکھتے ہو ۔ میرے لئے ایک چتا تیار کرواؤ ۔ جب سوامی جی کو مجھ سے نفرت ہے تو میرے لئے آگ کی گود کے سوا اور کہیں جگہ نہیں ۔ اُن کے درشن ہو گئے ۔ میرے لئے یہی خوش نصیبی کی بات ہے۔ ہائے! کیا سوچ رہی تھی ۔ اور کیا ہوا! {{gap}}یہ بات نہ تھی کہ رامچندر کو سیتا جی پر کسی قسم کا شبہہ تھا ۔ وہ خوب جانتے تھے کہ سیتا جی نے کبھی راون سے سیدھے منہ بات بھی نہیں کی ۔ ہمیشہ اس سے نفرت کرتی رہیں۔ لیکن دنیا کو سیتا جی کی صاف دلی پر کیسے یقین آتا ۔ سیتا جی بھی دل میں یہ بات خوب سمجھتی تھیں ۔ اسی لئے انہوں نے اپنے بارے میں کچھ نہ کہا ۔ جان دینے کے لئے تیار ہو گئیں ۔ را مچندر کا سینہ پھٹا جاتا تھا مگر مجنوز تھے : ذرا دیر میں چتا تیار ہو گئی ۔ اس میں آگ -<noinclude></noinclude> boigdhjwb8bf9lzc7sdzrigwrjqz5xk 35190 35189 2026-07-01T09:35:19Z Kaur.gurmel 74 /* پروف خوانی شدہ */ 35190 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" />{{Block center|٢٨٤}}</noinclude>ایک منٹ کے بعد سیتا جی نے لکشمن سے کہا ۔' بھیّا ۔ کھڑے کیا دیکھتے ہو ۔ میرے لئے ایک چتا تیار کرواؤ ۔ جب سوامی جی کو مجھ سے نفرت ہے تو میرے لئے آگ کی گود کے سوا اور کہیں جگہ نہیں ۔ اُن کے درشن ہو گئے ۔ میرے لئے یہی خوش نصیبی کی بات ہے۔ ہائے! کیا سوچ رہی تھی ۔ اور کیا ہوا'! {{gap}}یہ بات نہ تھی کہ رامچندر کو سیتا جی پر کسی قسم کا شُبہہ تھا ۔ وہ خوب جانتے تھے کہ سیتا جی نے کبھی راون سے سیدھے مُنہ بات بھی نہیں کی ۔ ہمیشہ اس سے نفرت کرتی رہیں۔ لیکن دنیا کو سیتا جی کی صاف دلی پر کیسے یقین آتا ۔ سیتا جی بھی دل میں یہ بات خوب سمجھتی تھیں ۔ اسی لئے انہوں نے اپنے بارے میں کچھ نہ کہا ۔ جان دینے کے لئے تیار ہو گئیں ۔ رامچندر کا سینہ پھٹا جاتا تھا مگر مجبنوز تھے. {{gap}} ذرا دیر میں چتا تیار ہو گئی ۔ اس میں آگ<noinclude></noinclude> i6sszbyxo6fu8s6jmwzvv9lryo4silb صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/292 250 13159 35191 32574 2026-07-01T09:51:16Z Kaur.gurmel 74 /* پروف خوانی شدہ */ 35191 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>لگا دی گئی ۔ شعلے اُٹھنے لگے ۔ سیتا جی نے رام چندر کو پرنام کیا اور چتا میں کُودنے چلیں۔ وہاں ساری فوج جمع تھی ۔ سیتا جی کو آگ کی طرف بڑھتے دیکھ کہ چاروں طرف شور مچ گیا ۔ سب لوگ چلِاّ چلِاّ کر کہنے لگے ۔' ہم کو سیتاجی پر کسی قسم کا شک نہیں ہے ۔ وہ دیوی ہیں۔ ہماری ماتا ہیں، ہم اُن کی پرستش کرتے ہیں۔ ہنومان انگد، سگریو وغیرہ سیتاجی کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے ۔ اُس وقت رامچندر کو یقین ہوا کہ اب سیتا جی کی پاکدامنی پر کسی کو شُبہہ نہیں ۔ اُنہوں نے آگے بڑھ کر سیتا جی کو چھاتی سے لگا لیا ۔ سارا میدان خوشی کے نعروں سے گونج اُٹھا. {{center|<big>(٧) اجودھیا کو واپسی</big>}} رام چندر نے لنکا پر جس ارادہ سے حملہ کیا تھا وہ پورا ہو گیا ۔ سیتا جی چُھڑا لی گئیں۔<noinclude></noinclude> sv69r377bmbknw6muh3pcrzoriy7whh صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/289 250 13755 35180 35139 2026-06-30T15:07:54Z ~2026-37524-66 249 35180 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{Block center|٢٨٣}}</noinclude>لنکا کی گدّی پر بیٹھینگے ۔ رامچندر نے اُن سے جو وعدہ کیا تھا اُسے پورا کرنے کے لئے لکشمن اُن کے ساتھ جا رہے ہیں ۔ شہر میں ڈونڈی پٹ گئی ہے. کہ اب راجہ بھبھیشن لنکا کے راجہ ہوئے ۔ دونو طرف چھتوں سے اُن پر پھولوں کی بارش ہو رہی ہے ۔ امرا نذریں پیش کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں ۔ عام معافی کا اعلان کر دیا گیا ہے ۔ راون کا غم کوئی نہیں کرتا۔ سبھی اُس کے ظلم سے بیزار تھے ۔ بھبھیشن کا سبھی جس گا رہے ہیں. {{gap}}بھبھیشن کو گدّی پر بٹھا کر رامچندر نے ہنومان کو سیتاجی کے پاس بھیجا بھبھیشن پالکی لے کر پہلے ہی سے حاضر تھے ۔ سیتاجی کی خوشی کا کون اندازہ کر سکتا ہے ۔ اتنے دنوں کی قید کے بعد آج اُنہیں آزادی مِلی ہے مارے خوشی کے انہیں غش آ گیا ۔ جب ہوش آیا تو ہنومان نے اُن کے قدموں پر سر جھکا کر کہا ۔ 'ماتا !<noinclude></noinclude> la5jw7kk9nhnd48yyiib5hg7g7e72l0 35181 35180 2026-06-30T15:42:42Z ~2026-37524-66 249 35181 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{Block center|٢٨٣}}</noinclude>لنکا کی گدّی پر بیٹھینگے ۔ رامچندر نے اُن سے جو وعدہ کیا تھا اُسے پورا کرنے کے لئے لکشمن اُن کے ساتھ جا رہے ہیں ۔ شہر میں ڈونڈی پٹ گئی ہے. کہ اب راجہ بھبھیشن لنکا کے راجہ ہوئے ۔ دونو طرف چھتوں سے اُن پر پھولوں کی بارش ہو رہی ہے ۔ امرا نذریں پیش کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں ۔ عام معافی کا اعلان کر دیا گیا ہے ۔ راون کا غم کوئی نہیں کرتا۔ سبھی اُس کے ظلم سے بیزار تھے ۔ بھبھیشن کا سبھی جس گا رہے ہیں. {{gap}}بھبھیشن کو گدّی پر بٹھا کر رامچندر نے ہنومان کو سیتا جی کے پاس بھیجا بھبھیشن پالکی لے کر پہلے ہی سے حاضر تھے ۔ سیتاجی کی خوشی کا کون اندازہ کر سکتا ہے ۔ اتنے دنوں کی قید کے بعد آج اُنہیں آزادی مِلی ہے مارے خوشی کے انہیں غش آ گیا ۔ جب ہوش آیا تو ہنومان نے اُن کے قدموں پر سر جھکا کر کہا ۔ 'ماتا!<noinclude></noinclude> 3tbg2oafir2imu7vcuh6fvp6vwbdwq9 35183 35181 2026-06-30T15:54:57Z Kaur.gurmel 74 /* پروف خوانی شدہ */ 35183 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" />{{Block center|٢٨٣}}</noinclude>لنکا کی گدّی پر بیٹھینگے ۔ رامچندر نے اُن سے جو وعدہ کیا تھا اُسے پورا کرنے کے لئے لکشمن اُن کے ساتھ جا رہے ہیں ۔ شہر میں ڈونڈی پٹ گئی ہے. کہ اب راجہ بھبھیشن لنکا کے راجہ ہوئے ۔ دونو طرف چھتوں سے اُن پر پھولوں کی بارش ہو رہی ہے ۔ امرا نذریں پیش کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں ۔ عام معافی کا اعلان کر دیا گیا ہے ۔ راون کا غم کوئی نہیں کرتا۔ سبھی اُس کے ظلم سے بیزار تھے ۔ بھبھیشن کا سبھی جس گا رہے ہیں. {{gap}}بھبھیشن کو گدّی پر بٹھا کر رامچندر نے ہنومان کو سیتا جی کے پاس بھیجا بھبھیشن پالکی لے کر پہلے ہی سے حاضر تھے ۔ سیتاجی کی خوشی کا کون اندازہ کر سکتا ہے ۔ اتنے دنوں کی قید کے بعد آج اُنہیں آزادی مِلی ہے مارے خوشی کے انہیں غش آ گیا ۔ جب ہوش آیا تو ہنومان نے اُن کے قدموں پر سر جھکا کر کہا ۔ 'ماتا!<noinclude></noinclude> nnw1qu2wwdogawuzryke0wxa1ekre76