ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.9 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/57 250 12858 35192 35188 2026-07-01T13:30:01Z Charan Gill 46 35192 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>رکہتے تھے اور نیک سیرتی اور حسن اخلاق کے لحاظ سے بیمشل تہے۔ شیخ سعدی کے ساتہ ان کو حد سے زیادہ خلوص اور اعتقاد تھا اور شیخ کو ہہی جیسا کہ اوسکے قصائد و قطعات اور دیگر تحریرات سے ظاہر ہوتا ہے اِن دونون سے انتہا درجہ کی محبت اور الفت تہی۔ ظاہرا جب سے شیخ نے سفر ترک کر کے شیراز مین اقامت اختیار کی تہی اُسکے تمام اخراجات اور اُسکی خانقاہ کے مصارف کے متکفل خواجہ شمس الدین اور خواجہ علاء الدین تہے۔ ایک بار خواجہ شمس الدین نے پانچسو دینار بطور نزر کے اپنے غلام کے ہاتہ دارالسلطنت بتریز سے شیخ کی خدمت مین بہیجے۔ راہ مین غلام نے شیخ کے معمولی اغماض اور چشم پوشی کے بہر سے پر اُس مین سے ڈیڑہ سو دینار نکال لیے اور ساڑ ہے تین سو شیخ کے حوالے کیے۔ شیخ نے دیکہا کہ صاحب دیوان کے خط مین پانسو لکہے ہین اور غلام نے ساڑہے تین سو دئے ہین اس کی رسید مین یہ قطہ لکہہ بہیجا<ref>بندق بخارائی جو ایک زبر دست شاعر ہے اسکو ہی یہ اتفاق میں آیا ہے ۔ بادشاہ نے اس کو پانسو تو مان العام</ref> نامه اکر می {{Block center|<poem>خواجه تشریفم فرستادی و مال مالت افزون باد و خصمت پایمال هر به دیناریت سالی عمر باد تا بمانی ششصد و پنجاه سال</poem>}} عمر تنے محکو عزت دی ال اللہ ہی ہیں۔ تمہاری دولت زیادہ اور تمہارے دشمن با کمال ہوں۔ تمہاری معرفی ودینار ایک برس کے سراہتے ہو تو کار ساز پوتین سورس دنیا مین روز صاحب دیوان سنے پر مضمون دریافت کر کے غلام کو بہت زور تو بیچ کی اور قم کی بابت نمارک باقات کر کے شیخ ست معالی چاہیں۔ اس قسم کے مرمت آمیز شعار اور بھی کئی<noinclude>{{rule}}</noinclude> gcmllnq74f3pbr7ss2143vl7hrk16da 35193 35192 2026-07-01T14:02:28Z Charan Gill 46 35193 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>رکہتے تھے اور نیک سیرتی اور حسن اخلاق کے لحاظ سے بیمشل تہے۔ شیخ سعدی کے ساتہ ان کو حد سے زیادہ خلوص اور اعتقاد تھا اور شیخ کو ہہی جیسا کہ اوسکے قصائد و قطعات اور دیگر تحریرات سے ظاہر ہوتا ہے اِن دونون سے انتہا درجہ کی محبت اور الفت تہی۔ ظاہرا جب سے شیخ نے سفر ترک کر کے شیراز مین اقامت اختیار کی تہی اُسکے تمام اخراجات اور اُسکی خانقاہ کے مصارف کے متکفل خواجہ شمس الدین اور خواجہ علاء الدین تہے۔ ایک بار خواجہ شمس الدین نے پانچسو دینار بطور نزر کے اپنے غلام کے ہاتہ دارالسلطنت بتریز سے شیخ کی خدمت مین بہیجے۔ راہ مین غلام نے شیخ کے معمولی اغماض اور چشم پوشی کے بہر سے پر اُس مین سے ڈیڑہ سو دینار نکال لیے اور ساڑ ہے تین سو شیخ کے حوالے کیے۔ شیخ نے دیکہا کہ صاحب دیوان کے خط مین پانسو لکہے ہین اور غلام نے ساڑہے تین سو دئے ہین اس کی رسید مین یہ قطہ لکہہ بہیجا. {{Block center|<poem>خواجه تشریفم فرستادی و مال مالت افزون باد و خصمت پایمال هر به دیناریت سالی عمر باد تا بمانی ششصد و پنجاه سال</poem>}} ترجمہ - تمنے محکو عزت دی اور نقدی بہیجی ۔ تمہاری دولت زیادہ اور تمہارے دشمن پامال ہوں۔ تمہاری امر فی دینار ایک برس کے حساب سے ہو جیو تا کہ تم ساڑھے تین سو برس دنیا مین رہو. صاحب دیوان نے یہ مضمون دریافت کر کے غلام کو بہت زجر و توبیچ کی اور رقم کی بابت ندارک ماقات کر کے شیخ سے معافی چاہی<ref>بندق بخارائی جو ایک زبر دست شاعر ہے اسکو ہی یہ اتفاق میں آیا ہے ۔ بادشاہ نے اس کو پانسو تو مان العام</ref> ۔ اس قسم کے مزاح آمیز اشعار اور بھی کئی<noinclude>{{rule}}</noinclude> 2aimap9tkq8oxtjfx9ekbdiq21ksmww 35198 35193 2026-07-02T00:53:49Z Charan Gill 46 35198 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>رکہتے تھے اور نیک سیرتی اور حسن اخلاق کے لحاظ سے بیمشل تہے۔ شیخ سعدی کے ساتہ ان کو حد سے زیادہ خلوص اور اعتقاد تھا اور شیخ کو ہہی جیسا کہ اوسکے قصائد و قطعات اور دیگر تحریرات سے ظاہر ہوتا ہے اِن دونون سے انتہا درجہ کی محبت اور الفت تہی۔ ظاہرا جب سے شیخ نے سفر ترک کر کے شیراز مین اقامت اختیار کی تہی اُسکے تمام اخراجات اور اُسکی خانقاہ کے مصارف کے متکفل خواجہ شمس الدین اور خواجہ علاء الدین تہے۔ ایک بار خواجہ شمس الدین نے پانچسو دینار بطور نزر کے اپنے غلام کے ہاتہ دارالسلطنت بتریز سے شیخ کی خدمت مین بہیجے۔ راہ مین غلام نے شیخ کے معمولی اغماض اور چشم پوشی کے بہر سے پر اُس مین سے ڈیڑہ سو دینار نکال لیے اور ساڑ ہے تین سو شیخ کے حوالے کیے۔ شیخ نے دیکہا کہ صاحب دیوان کے خط مین پانسو لکہے ہین اور غلام نے ساڑہے تین سو دئے ہین اس کی رسید مین یہ قطہ لکہہ بہیجا. {{Block center|<poem>خواجه تشریفم فرستادی و مال مالت افزون باد و خصمت پایمال هر به دیناریت سالی عمر باد تا بمانی ششصد و پنجاه سال</poem>}} ترجمہ - تمنے محکو عزت دی اور نقدی بہیجی ۔ تمہاری دولت زیادہ اور تمہارے دشمن پامال ہوں۔ تمہاری امر فی دینار ایک برس کے حساب سے ہو جیو تا کہ تم ساڑھے تین سو برس دنیا مین رہو. صاحب دیوان نے یہ مضمون دریافت کر کے غلام کو بہت زجر و توبیچ کی اور رقم کی بابت ندارک ماقات کر کے شیخ سے معافی چاہی<ref>بندق بخارائی جو ایک زبر دست شاعر ہے اسکو ہی یہ اتفاق میں آیا ہے ۔ بادشاہ نے اس کو پانسو تو مان العاممیں بیچے تے گا اسکو دو سو پنچے اُس نے یہ علہ بارش اور مکہ میں قطعہ شاہ دشمن گداز، دوست نواز آن جہاں گیر کو جہاں دار است بیش بود التون کرم منو دین لطف سلطان به بند و بسیاریست همه از همان ناب است دکتون در رانم در همه پیدار است یا گرین غلط شنو ستم یا که پروانچی طلب گار است یا گردو حسب است ترکی بیش از آلتون دوست دینانات نگرس قصد میں جیساکہ ظاہرہے شیخ کے قلعہ کیسی شوی او صحافت میں پریش اور آنتوں کو پیراستن پا نا چاہیے ۔ ترکی الان میان در کار حمید پالتو تو مان ہے ۔ </ref> ۔ اس قسم کے مزاح آمیز اشعار اور بھی کئی<noinclude>{{rule}}</noinclude> 4roo9tvdjozodc9ql34pav69rk150xa 35200 35198 2026-07-02T06:37:22Z BalramBodhi 60 35200 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>رکہتے تھے اور نیک سیرتی اور حسن اخلاق کے لحاظ سے بیمشل تہے۔ شیخ سعدی کے ساتہ ان کو حد سے زیادہ خلوص اور اعتقاد تھا اور شیخ کو ہہی جیسا کہ اوسکے قصائد و قطعات اور دیگر تحریرات سے ظاہر ہوتا ہے اِن دونون سے انتہا درجہ کی محبت اور الفت تہی۔ ظاہرا جب سے شیخ نے سفر ترک کر کے شیراز مین اقامت اختیار کی تہی اُسکے تمام اخراجات اور اُسکی خانقاہ کے مصارف کے متکفل خواجہ شمس الدین اور خواجہ علاء الدین تہے۔ ایک بار خواجہ شمس الدین نے پانچسو دینار بطور نزر کے اپنے غلام کے ہاتہ دارالسلطنت بتریز سے شیخ کی خدمت مین بہیجے۔ راہ مین غلام نے شیخ کے معمولی اغماض اور چشم پوشی کے بہر سے پر اُس مین سے ڈیڑہ سو دینار نکال لیے اور ساڑ ہے تین سو شیخ کے حوالے کیے۔ شیخ نے دیکہا کہ صاحب دیوان کے خط مین پانسو لکہے ہین اور غلام نے ساڑہے تین سو دئے ہین اس کی رسید مین یہ قطہ لکہہ بہیجا. {{Block center|<poem>خواجه تشریفم فرستادی و مال مالت افزون باد و خصمت پاءمال هر بدیناریت سلہ عمر باد تا بمانی شیشصد و پنجاه سال</poem>}} ترجمہ - تمنے مجکو عزت دی اور نقدی بہیجی۔ تمہاری دولت زیادہ اور تمہارے دشمن پامال ہون۔ تمہاری امر فی دینار ایک برس کے حساب سے ہو جیو تا کہ تم ساڑھے تین سو برس دنیا مین رہو. صاحب دیوان نے یہ مضمون دریافت کر کے غلام کو بہت زجر و توبیخ کی اور رقم کی بابت تدارک مافات کر کے شیخ سے معافی چاہی<ref>بندق بخارائی جو ایک زبر دست شاعر ہے اسکو ہی یہ اتفاق میں آیا ہے ۔ بادشاہ نے اس کو پانسو تو مان العاممیں بیچے تے گا اسکو دو سو پنچے اُس نے یہ علہ بارش اور مکہ میں قطعہ شاہ دشمن گداز، دوست نواز آن جہاں گیر کو جہاں دار است بیش بود التون کرم منو دین لطف سلطان به بند و بسیاریست همه از همان ناب است دکتون در رانم در همه پیدار است یا گرین غلط شنو ستم یا که پروانچی طلب گار است یا گردو حسب است ترکی بیش از آلتون دوست دینانات نگرس قصد میں جیساکہ ظاہرہے شیخ کے قلعہ کیسی شوی او صحافت میں پریش اور آنتوں کو پیراستن پا نا چاہیے ۔ ترکی الان میان در کار حمید پالتو تو مان ہے ۔ </ref> ۔ اس قسم کے مزاح آمیز اشعار اور بھی کئی<noinclude>{{rule}}</noinclude> cv4rjpqp875zsbc3vqu29irkyufhcqf صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/58 250 12859 35194 31626 2026-07-01T23:26:49Z Charan Gill 46 35194 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مینتون پرشیخ نے صباح دیوان کو لکہے ہیں ایک بار اوس نے اپنی نظم و نثر کا مجموعہ خواجہ کو حسب الطلب بہیجا تھا ۔ جب ایک مدت تک وہاں سے رسید نہ آئی تو اُسکے تقاضے کے لیے یہ قطعہ لکہہ بیجا ۔ '''قطعہ''' {{Block center|<poem>ســفــیـنـه حــکـمـیـات و نـظــم و نـثــر لـطــیـف کـــه بـــارگـــاه مـــلـــوک و صـــدور را شـــایـــد بــه صــدر صــاحــب صــاحــبــقـران فـرســتــادم مــگــر بــه عــیـن عــنــایـت قــبــول فــرمــایـنـد رونـــده رفـــت نــدانــم رســـیــد یــا نــرســـیــد ازیــن قـــیـــاس کـــه آیــنـــده دیـــر مـــی آیـــد بــه پــارســایــی ازیــن حــال مــشــورت بـــردم مـگـر ز خــاطـر مـن بــنـد بــســتــه بــگـشــایـد چــه گـفــت نـدانـی کـه خــواجــه دریـایـیـســت نــه هــر ســفــیــنــه ز دریــا درســت بـــاز آیــد</poem>}} نه هر سفینه نزود | ایک بار خواجہ علاء الدین نے جلال الدین متین کوجوک شیراز می کسی جلیل القدر نصب پر مامورتھا تیزی سے یہ حکم بجا کراس قدر دنیا شیخ کی خدمت مین بسیج دو مگر اس وقت جلال الدین انتقال ہو چکا تھا پہلے دور تو شیخ کے پاس پہنچی جب شیخ کو اس حال کی اطلاع ہوئی تو اسے ہنسی سے خواجہ علاء الدین کو یہ قطعہ کہ بیجا قطعہ بقہ حاشیہ مصفی ۲۵ ۔ میں بیچے تے گا اسکو دو سو پنچے اُس نے یہ علہ بارش اور مکہ میں قطعہ سفر ۴۹ - - شاه دشمن گداز دست تو از آن جهانگیر کوهبان داراست بیش بود التون کرم منو دین لطف سلطان به بند و بسیاریست همه از همان ناب است دکتون در رانم در همه پیدار است یا گرین غلط شنو ستم یا که پروانچی طلب گار است یا گردو حسب است ترکی بیش از آلتون دوست دینانات نگرس قصد میں جیساکہ ظاہرہے شیخ کے قلعہ کیسی شوی او صحافت میں پریش اور آنتوں کو پیراستن پا نا چاہیے ۔ ترکی الان میان در کار حمید پالتو تو مان ہے ۔<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> jwpplqv1adianhb5eoabal4xm185gt7 35195 35194 2026-07-01T23:49:53Z Charan Gill 46 35195 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مینتون پرشیخ نے صباح دیوان کو لکہے ہیں ایک بار اوس نے اپنی نظم و نثر کا مجموعہ خواجہ کو حسب الطلب بہیجا تھا ۔ جب ایک مدت تک وہاں سے رسید نہ آئی تو اُسکے تقاضے کے لیے یہ قطعہ لکہہ بیجا ۔ '''قطعہ''' {{Block center|<poem>سفینهٔ حکمیات و نظم و نثر لطیف که بارگاه ملوک و صدور را شاید به صدر صاحب صاحبقران فرستادم مگر به عین عنایت قبول فرماید رونده رفت ندانم رسید یا نرسید ازین قیاس که آینده دیر می‌آید به پارسایی ازین حال مشورت بردم مگر ز خاطر من بند بسته بگشاید چه گفت ندانی که خواجه دریاییست نه هر سفینه ز دریا درست باز آید</poem>}} ایک بار خواجہ علاءالدین نے جلالالدین ختنی کو جو کہ شیراز مین کسی جلیل القدر نصب پر مامور تھا تبریز سے یہ حکم بہیجا کہ اس قدر دنیا شیخ کی خدمت مین بسیج دو مگر اس وقت جلال الدین انتقال ہو چکا تھا پہلے دور تو شیخ کے پاس پہنچی جب شیخ کو اس حال کی اطلاع ہوئی تو اسے ہنسی سے خواجہ علاء الدین کو یہ قطعہ کہ بیجا قطعہ بقہ حاشیہ مصفی ۲۵ ۔ میں بیچے تے گا اسکو دو سو پنچے اُس نے یہ علہ بارش اور مکہ میں قطعہ سفر ۴۹ - - شاه دشمن گداز دست تو از آن جهانگیر کوهبان داراست بیش بود التون کرم منو دین لطف سلطان به بند و بسیاریست همه از همان ناب است دکتون در رانم در همه پیدار است یا گرین غلط شنو ستم یا که پروانچی طلب گار است یا گردو حسب است ترکی بیش از آلتون دوست دینانات نگرس قصد میں جیساکہ ظاہرہے شیخ کے قلعہ کیسی شوی او صحافت میں پریش اور آنتوں کو پیراستن پا نا چاہیے ۔ ترکی الان میان در کار حمید پالتو تو مان ہے ۔<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> jmxt6f786g2c1hc7kxqbv6mncrhcee6 35196 35195 2026-07-02T00:09:57Z Charan Gill 46 35196 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مینتون پرشیخ نے صباح دیوان کو لکہے ہیں ایک بار اوس نے اپنی نظم و نثر کا مجموعہ خواجہ کو حسب الطلب بہیجا تھا ۔ جب ایک مدت تک وہاں سے رسید نہ آئی تو اُسکے تقاضے کے لیے یہ قطعہ لکہہ بیجا ۔ '''قطعہ''' {{Block center|<poem>سفینهٔ حکمیات و نظم و نثر لطیف که بارگاه ملوک و صدور را شاید به صدر صاحب صاحبقران فرستادم مگر به عین عنایت قبول فرماید رونده رفت ندانم رسید یا نرسید ازین قیاس که آینده دیر می‌آید به پارسایی ازین حال مشورت بردم مگر ز خاطر من بند بسته بگشاید چه گفت ندانی که خواجه دریاییست نه هر سفینه ز دریا درست باز آید</poem>}} ایک بار خواجہ علاءالدین نے جلالالدین ختنی کو جو کہ شیراز مین کسی جلیل القدر نصب پر مامور تھا تبریز سے یہ حکم بہیجا کہ اس قدر دینار شیخ کی خدمت مین بہیجو مگر اس وقت جلال الدین کا انتقال ہو چکا تھااسلئے وہ رقم شیخ کے پاس نہ پہنچی جب شیخ کو اِس حال کی اطلاع ہوئی تو اسنے ہنسی سے خواجہ علاءالدین کو یہ قطعہ لکہہ بیجا قطعہ بقہ حاشیہ مصفی ۲۵ ۔ میں بیچے تے گا اسکو دو سو پنچے اُس نے یہ علہ بارش اور مکہ میں قطعہ سفر ۴۹ - - شاه دشمن گداز دست تو از آن جهانگیر کوهبان داراست بیش بود التون کرم منو دین لطف سلطان به بند و بسیاریست همه از همان ناب است دکتون در رانم در همه پیدار است یا گرین غلط شنو ستم یا که پروانچی طلب گار است یا گردو حسب است ترکی بیش از آلتون دوست دینانات نگرس قصد میں جیساکہ ظاہرہے شیخ کے قلعہ کیسی شوی او صحافت میں پریش اور آنتوں کو پیراستن پا نا چاہیے ۔ ترکی الان میان در کار حمید پالتو تو مان ہے ۔<noinclude></noinclude> b2n4cm42898law38t238hyycwf112f4 35197 35196 2026-07-02T00:31:27Z Charan Gill 46 35197 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مینتون پرشیخ نے صباح دیوان کو لکہے ہیں ایک بار اوس نے اپنی نظم و نثر کا مجموعہ خواجہ کو حسب الطلب بہیجا تھا ۔ جب ایک مدت تک وہاں سے رسید نہ آئی تو اُسکے تقاضے کے لیے یہ قطعہ لکہہ بیجا ۔ '''قطعہ''' {{Block center|<poem>سفینهٔ حکمیات و نظم و نثر لطیف که بارگاه ملوک و صدور را شاید به صدر صاحب صاحبقران فرستادم مگر به عین عنایت قبول فرماید رونده رفت ندانم رسید یا نرسید ازین قیاس که آینده دیر می‌آید به پارسایی ازین حال مشورت بردم مگر ز خاطر من بند بسته بگشاید چه گفت ندانی که خواجه دریاییست نه هر سفینه ز دریا درست باز آید</poem>}} ایک بار خواجہ علاءالدین نے جلالالدین ختنی کو جو کہ شیراز مین کسی جلیل القدر نصب پر مامور تھا تبریز سے یہ حکم بہیجا کہ اس قدر دینار شیخ کی خدمت مین بہیجو مگر اس وقت جلال الدین کا انتقال ہو چکا تھااسلئے وہ رقم شیخ کے پاس نہ پہنچی جب شیخ کو اِس حال کی اطلاع ہوئی تو اسنے ہنسی سے خواجہ علاءالدین کو یہ قطعہ لکہہ بیجا قطعہ<noinclude></noinclude> tdfbzsylrs5p6hlzc0g7i0zxzc0yg54 35201 35197 2026-07-02T06:55:54Z BalramBodhi 60 35201 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مونتون پر شیخ نے صاحب دیوان کو لکہے ہین ایک بار اوس نے اپنی نظم و نثر کا مجموعہ خواجہ کو حسب الطلب بہیجا تھا۔ جب ایک مدت تک وہان سے رسید نہ آئی تو اُسکے تقاضے کے لیے یہ قطعہ لکہہ بیجا۔ '''قطعہ''' {{Block center|<poem>سفینهٔ حکمیات و نظم و نثر لطیف که بارگاه ملوک و صدور را شاید به صدر صاحب صاحبقران فرستادم مگر به عین عنایت قبول فرماید سفینہ رفت و ندانم رسید یا نرسید بدان دلیل کہ آینده دیر می‌آید به پارسایے ازین حال مشورت بردم مگر ز خاطر من بند بسته بکشاید چه گفت۔گفت ندانی کہ خواجہ دریاءیست نہ هر سفینه ز دریا درست باز آید</poem>}} ایک بار خواجہ علاءالدین نے جلالالدین ختنی کو جو کہ شیراز مین کسی جلیل القدر منصب پر مامور تھا تبریز سے یہ حکم بہیجا کہ اس قدر دینار شیخ کی خدمت مین بہیجو مگر اس وقت جلال الدین کا انتقال ہو چکا تھااسلئے وہ رقم شیخ کے پاس نہ پہنچی جب شیخ کو اِس حال کی اطلاع ہوئی تو اسنے ہنسی سے خواجہ علاءالدین کو یہ قطعہ لکہہ بیجا قطعہ<noinclude></noinclude> 867keq2hd6m7a7zzq8vjaernww7ouri صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/59 250 12860 35202 31629 2026-07-02T07:20:16Z BalramBodhi 60 35202 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>پیام صاحب دیوان علاے دولتاد وین کہ وین بدولت او ہمی نازد رسید و پایہ حرمت فجر ود سعدی را ہے نماند کہ مسر بر فلک بر افرازد مثال داد کہ صدر ختن جلال الدین قبول حضرت او را تعہدے سازد ولیک بر سر ادخیل مرگ تاخته بود چنانکہ برہمہ ابناے بہر مے تاذد جلال زنده نخواہد شدن درین دنیا کہ بندگان خداوندگار بنوازد می از دور عقبی نیز طمع بریدم از و در سرائے حقے نیز کی اہم نظام مردم نمین به پردازد که از نه ترجمہ صاحب دیوان علاء الدین جسکے عمدہ دولت پر دین کو ناز ہے جسکی تخریجی اور سلامی کو عزت بخشی۔ قریب تھا کہ اسکا سر آسمان تک نہ پہنچ جائے۔ اس میں حکم تھا کہ میر جلال الدین کے فرمان کی تعمیل کرے گا اس پر کاجل کی بڑائی ہو چکی تھی جیسی کسب پر ہواکرتی ہے ۔ اب جلال الدین دنیا مین تو آنیوالا ہے نہیں کہ خدا کے بندوں کی خبر ہے ۔ میں نے آخرت مین بھی اس سے امید قطع کی کیونکہ وہ ان لوگوں کے استغا تے اوسکو میری طرف کا ہے کو متوجہ ہونے دینگے ۔ خواجہ علاء الدین نے فورا اسکی تلافی کی ور در ایا۔ شیخ کی خانقاہ جہان اب اسکی تیرے یہ بھی صاحب دیوان کے ار و پیست بنی تھی ۔ اس کا مر کے لیے پچا س ہزار دینار اس نے شیخ کو دئے تھے ۔ شیخ نے ہر چند انکے لینے سے انکار کیا گیا اب وایران نے بزارمنت و سایت مسکو راضی کیا امی کی زندگی ہی ہیں اس رقم سے ایک عالیشان دریا یا خانقاہ سیارے کے بیچے جا گوشت شمال مغرب میں شہرسے نا جو اسے بنائی گئی اور شیخ اختر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> ar1m6973dhctgek2f4dl415edu5u276 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/293 250 13160 35199 32575 2026-07-02T01:41:16Z Kaur.gurmel 74 35199 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|۲۸۷}}</noinclude>راون کو سزا دی جا چُکی ۔ اب لنکا میں رہنے کی ضرورت نہ تھی ۔ رام چندر نے چلنے کی تیاری کرنے کا حُکم دیا ۔ بھھیشن نے سُنا کہ رامچندر جا رہے ہیں تو آکر بولا ۔ ' مہاراج ! مجھ سے ایسی کونسی خطا ہوئی جو آپ نے اتنی جلد چلنے کی ٹھان لی ۔ بھلا دس پانچ دن تو مجھے خدمت کرنے کا موقع دیجئے ۔ ابھی تو میں آپ کی کچھ مہمانی کر ہی نہ سکا'. رامچندر نے کہا ۔ بھھیشن ! میرے لئے راس سے زیادہ خوشی کی اور کونسی بات ہو سکتی تھی کہ کچھ دن تمہاری صحبت کا نظمت اُٹھاؤں ۔ تم جیسے صاف دل آدمی بڑے نصیبوں سے ملتے ہیں ۔ مگر بات یہ ۔ ہے کہ میں نے بھرت سے چودھویں سال کے پورے ہوتے ہی کوٹ جانے کا وعدہ کیا تھا۔ اب چودہ سال پورے ہونے میں دو ہی چار دن کی کسر ہے۔ اگر مجھے ایک دن کی بھی دیر<noinclude></noinclude> 2vbnz7zgmw5ezczgzu5r1gzndw0nigq اشاریہ:Alif Layla (1847).pdf 252 13796 35203 2026-07-02T10:05:27Z Kuldeepburjbhalaike 17 ”“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35203 proofread-index text/x-wiki {{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template |Type=book |Title= |Language=en |Volume= |Author= |Translator= |Editor= |Illustrator= |School= |Publisher= |Address= |Year= |Key= |ISBN= |OCLC= |LCCN= |BNF_ARK= |ARC= |DOI= |Source=_empty_ |Image=1 |Progress=X |Transclusion=no |Validation_date= |Pages=<pagelist /> |Volumes= |Remarks= |Width= |Header= |Footer= |tmplver= }} nqdfl2wgvgj7cyqvtkqb2yosr7n08b7 اشاریہ:Guldasta - Anjuman by Wajid Ali Khan (1849).pdf 252 13797 35204 2026-07-02T11:32:10Z Kuldeepburjbhalaike 17 ”“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35204 proofread-index text/x-wiki {{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template |Type=book |Title= |Language=ur |Volume= |Author= |Translator= |Editor= |Illustrator= |School= |Publisher= |Address= |Year= |Key= |ISBN= |OCLC= |LCCN= |BNF_ARK= |ARC= |DOI= |Source=_empty_ |Image=1 |Progress=X |Transclusion=no |Validation_date= |Pages=<pagelist /> |Volumes= |Remarks= |Width= |Header= |Footer= |tmplver= }} pl43nlhaquobu6x7do5a63sddr83orp