ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.9 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/57 250 12858 35205 35200 2026-07-02T14:36:50Z Charan Gill 46 35205 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>رکہتے تھے اور نیک سیرتی اور حسن اخلاق کے لحاظ سے بیمشل تہے۔ شیخ سعدی کے ساتہ ان کو حد سے زیادہ خلوص اور اعتقاد تھا اور شیخ کو ہہی جیسا کہ اوسکے قصائد و قطعات اور دیگر تحریرات سے ظاہر ہوتا ہے اِن دونون سے انتہا درجہ کی محبت اور الفت تہی۔ ظاہرا جب سے شیخ نے سفر ترک کر کے شیراز مین اقامت اختیار کی تہی اُسکے تمام اخراجات اور اُسکی خانقاہ کے مصارف کے متکفل خواجہ شمس الدین اور خواجہ علاء الدین تہے۔ ایک بار خواجہ شمس الدین نے پانچسو دینار بطور نزر کے اپنے غلام کے ہاتہ دارالسلطنت بتریز سے شیخ کی خدمت مین بہیجے۔ راہ مین غلام نے شیخ کے معمولی اغماض اور چشم پوشی کے بہر سے پر اُس مین سے ڈیڑہ سو دینار نکال لیے اور ساڑ ہے تین سو شیخ کے حوالے کیے۔ شیخ نے دیکہا کہ صاحب دیوان کے خط مین پانسو لکہے ہین اور غلام نے ساڑہے تین سو دئے ہین اس کی رسید مین یہ قطہ لکہہ بہیجا. {{Block center|<poem>خواجه تشریفم فرستادی و مال مالت افزون باد و خصمت پاءمال هر بدیناریت سلہ عمر باد تا بمانی شیشصد و پنجاه سال</poem>}} ترجمہ - تمنے مجکو عزت دی اور نقدی بہیجی۔ تمہاری دولت زیادہ اور تمہارے دشمن پامال ہون۔ تمہاری امر فی دینار ایک برس کے حساب سے ہو جیو تا کہ تم ساڑھے تین سو برس دنیا مین رہو. صاحب دیوان نے یہ مضمون دریافت کر کے غلام کو بہت زجر و توبیخ کی اور رقم کی بابت تدارک مافات کر کے شیخ سے معافی چاہی<ref>بندق بخارائی جو ایک زبر دست شاعر ہے اسکو ہی یہ اتفاق میں آیا ہے ۔ بادشاہ نے اس کو پانسو تومان انعام میں بیچے تہے مگر اسکو دو سو پہُنچے اُس نے یہ قطعہ بادشاہ کو لکہہ بہیجا قطعہ {{Block center|<poem>شاہ دشمن گداز، دوست نواز آن جہانگیر کو جہان دار است بیش بود التون کرم منو دین لطف سلطان به ببند و بسیار است سہصد از همان غائب است دکتون در رانم در صد پیدادار است یا گرین غلط شنو ستم یا که پروانہ چی طلب گار است یا گردو حسب است ترکی بیش از آلتون دوست دینانات</poem>}} نگرس قصد میں جیساکہ ظاہرہے شیخ کے قلعہ کیسی شوی او صحافت میں پریش اور آنتوں کو پیراستن پا نا چاہیے ۔ ترکی الان میان در کار حمید پالتو تو مان ہے ۔ </ref> ۔ اس قسم کے مزاح آمیز اشعار اور بھی کئی<noinclude>{{rule}}</noinclude> g5dzkts5rrxpavknh3c6fmyj7dg91b5 صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/59 250 12860 35209 35202 2026-07-03T05:59:16Z BalramBodhi 60 35209 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>پیام صاحب دیوان علاے دولتاد وین کہ وین بدولت او ہمی نازد رسید و پایہ حرمت فجر ود سعدی را ہے نماند کہ مسر بر فلک بر افرازد مثال داد کہ صدر ختن جلال الدین قبول حضرت او را تعہدے سازد ولیک بر سر ادخیل مرگ تاخته بود چنانکہ برہمہ ابناے بہر مے تاذد جلال زنده نخواہد شدن درین دنیا کہ بندگان خداوندگار بنوازد طمع بریدم از و در سرائے عقبے نیز کے از \نظام\ مردم نمین نه پردازد ترجمہ صاحب دیوان علاء الدین جسکے عہد دولت پر دین کو ناز ہے اُسکی تحریر پہنچی اور سعدی کو عزت بخشی۔ قریب تھا کہ اُسکا سر آسمان تک پہنچ جائے۔ اس میں حکم تھا کہ میر جلال الدین اُسکے فرمان کی تعمیل کرے مگر اُسپر لشکر اجل کی چڑائی ہو چکی تھی جیسی کہ سب پر ہوا کرتی ہے۔ اب جلال الدین دنیا مین تو آنیوالا ہے نہیں کہ خدا کے بندوں کی خبر لے۔ مین نے آخرت مین بہی اُس سے امید قطع کی کیونکہ وہان لوگون کے استغاتے اوسکو میری طرف کا ہے کو متوجہ ہونے دینگے۔ خواجہ علاء الدین نے فوراً اُسکی تلافی کی اور عزر چاہا۔ شیخ کی خانقاہ جہان اب اُسکی قبر ہے یہ بہی صاحب دیوان کے روپہ سے بنی تہی۔ اس کام کے لیے پچاس ہزار دینار اُس نے شیخ کو دئے تہے۔ شیخ نے ہرچند اُنکے لینے سے انکار کیا مگر صاحب دیوان نے بہزار منت و سماجت اُسکو راضی کیا اور شیخ کی زندگی ہی مین اس رقم سے ایک عالیشان مدرسہ یا خانقاہ پہاڑ کے نیچے جو کہ گوشہ شمال و مغرب مین شہر سے ملا ہوا ہے بنوائی گئی اور شیخ آخر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> rhhjtbh5t3c2athc7p43bj1h1snnlwn 35211 35209 2026-07-03T07:05:48Z Charan Gill 46 35211 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Block center|<poem>پیام صاحب عادل علاء دولت و دین که دین به دولت ایام او همی نازد رسید و پایۀ حرمت فزود سعدی را بسی نماند که سر بر فلک برافرازد مثال داد که صدر ختن جلال الدین قبول حضرت او را تعقدی سازد ولیک بر سر او خیل مرگ تاخته بود چنان که بر سر ابنای دهر می تازد جلال زنده نخواهد شدن در این دنیا که بندگان خداوندگار بنوازد طمع بریدم از او در سرای عقبی نیز </poem>}} ترجمہ صاحب دیوان علاء الدین جسکے عہد دولت پر دین کو ناز ہے اُسکی تحریر پہنچی اور سعدی کو عزت بخشی۔ قریب تھا کہ اُسکا سر آسمان تک پہنچ جائے۔ اس میں حکم تھا کہ میر جلال الدین اُسکے فرمان کی تعمیل کرے مگر اُسپر لشکر اجل کی چڑائی ہو چکی تھی جیسی کہ سب پر ہوا کرتی ہے۔ اب جلال الدین دنیا مین تو آنیوالا ہے نہیں کہ خدا کے بندوں کی خبر لے۔ مین نے آخرت مین بہی اُس سے امید قطع کی کیونکہ وہان لوگون کے استغاتے اوسکو میری طرف کا ہے کو متوجہ ہونے دینگے۔ خواجہ علاء الدین نے فوراً اُسکی تلافی کی اور عزر چاہا۔ شیخ کی خانقاہ جہان اب اُسکی قبر ہے یہ بہی صاحب دیوان کے روپہ سے بنی تہی۔ اس کام کے لیے پچاس ہزار دینار اُس نے شیخ کو دئے تہے۔ شیخ نے ہرچند اُنکے لینے سے انکار کیا مگر صاحب دیوان نے بہزار منت و سماجت اُسکو راضی کیا اور شیخ کی زندگی ہی مین اس رقم سے ایک عالیشان مدرسہ یا خانقاہ پہاڑ کے نیچے جو کہ گوشہ شمال و مغرب مین شہر سے ملا ہوا ہے بنوائی گئی اور شیخ آخر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 6280tl1w1jcg20argku9rbsykgo38ix 35212 35211 2026-07-03T07:07:39Z Charan Gill 46 35212 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Block center|<poem>پیام صاحب عادل علاء دولت و دین که دین به دولت ایام او همی نازد رسید و پایۀ حرمت فزود سعدی را بسی نماند که سر بر فلک برافرازد مثال داد که صدر ختن جلال الدین قبول حضرت او را تعقدی سازد ولیک بر سر او خیل مرگ تاخته بود چنان که بر سر ابنای دهر می تازد جلال زنده نخواهد شدن در این دنیا که بندگان خداوندگار بنوازد طمع بریدم از او در سرای عقبی نیز </poem>}} <big>'''ترجمہ'''</big> صاحب دیوان علاء الدین جسکے عہد دولت پر دین کو ناز ہے اُسکی تحریر پہنچی اور سعدی کو عزت بخشی۔ قریب تھا کہ اُسکا سر آسمان تک پہنچ جائے۔ اس میں حکم تھا کہ میر جلال الدین اُسکے فرمان کی تعمیل کرے مگر اُسپر لشکر اجل کی چڑائی ہو چکی تھی جیسی کہ سب پر ہوا کرتی ہے۔ اب جلال الدین دنیا مین تو آنیوالا ہے نہیں کہ خدا کے بندوں کی خبر لے۔ مین نے آخرت مین بہی اُس سے امید قطع کی کیونکہ وہان لوگون کے استغاتے اوسکو میری طرف کا ہے کو متوجہ ہونے دینگے۔ خواجہ علاء الدین نے فوراً اُسکی تلافی کی اور عزر چاہا۔ شیخ کی خانقاہ جہان اب اُسکی قبر ہے یہ بہی صاحب دیوان کے روپہ سے بنی تہی۔ اس کام کے لیے پچاس ہزار دینار اُس نے شیخ کو دئے تہے۔ شیخ نے ہرچند اُنکے لینے سے انکار کیا مگر صاحب دیوان نے بہزار منت و سماجت اُسکو راضی کیا اور شیخ کی زندگی ہی مین اس رقم سے ایک عالیشان مدرسہ یا خانقاہ پہاڑ کے نیچے جو کہ گوشہ شمال و مغرب مین شہر سے ملا ہوا ہے بنوائی گئی اور شیخ آخر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> df5meulaihi36kap2cs0ga4qjvrfraj 35213 35212 2026-07-03T07:16:51Z Charan Gill 46 35213 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Block center|<poem>پیام صاحب عادل علاء دولت و دین که دین به دولت ایام او همی نازد رسید و پایۀ حرمت فزود سعدی را بسی نماند که سر بر فلک برافرازد مثال داد که صدر ختن جلال الدین قبول حضرت او را تعقدی سازد ولیک بر سر او خیل مرگ تاخته بود چنان که بر سر ابنای دهر می تازد جلال زنده نخواهد شدن در این دنیا که بندگان خداوندگار بنوازد طمع بریدم از او در سرای عقبی نیز </poem>}} <big>'''ترجمہ'''</big> صاحب دیوان علاء الدین جسکے عہد دولت پر دین کو ناز ہے اُسکی تحریر پہنچی اور سعدی کو عزت بخشی۔ قریب تھا کہ اُسکا سر آسمان تک پہنچ جائے۔ اس میں حکم تھا کہ میر جلال الدین اُسکے فرمان کی تعمیل کرے مگر اُسپر لشکر اجل کی چڑائی ہو چکی تھی جیسی کہ سب پر ہوا کرتی ہے۔ اب جلال الدین دنیا مین تو آنیوالا ہے نہیں کہ خدا کے بندوں کی خبر لے۔ مین نے آخرت مین بہی اُس سے امید قطع کی کیونکہ وہان لوگون کے استغاتے اوسکو میری طرف کا ہے کو متوجہ ہونے دینگے۔ خواجہ علاء الدین نے فوراً اُسکی تلافی کی اور عزر چاہا۔ شیخ کی خانقاہ جہان اب اُسکی قبر ہے یہ بہی صاحب دیوان کے روپہ سے بنی تہی۔ اس کام کے لیے پچاس ہزار دینار اُس نے شیخ کو دئے تہے۔ شیخ نے ہرچند اُنکے لینے سے انکار کیا مگر صاحب دیوان نے بہزار منت و سماجت اُسکو راضی کیا اور شیخ کی زندگی ہی مین اس رقم سے ایک عالیشان مدرسہ یا خانقاہ پہاڑ کے نیچے جو کہ گوشۂ شمال و مغرب مین شہر سے ملا ہوا ہے بنوائی گئی اور شیخ آخر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> b9jvaqv38b7bw9egul3p8wlr5vup2iw صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/60 250 12861 35210 31632 2026-07-03T06:29:12Z BalramBodhi 60 35210 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>عمر تک وہین عزلت نشین رہا۔ شیخ سے اکثر اہل علم حقائق و معارف کے دقائق و غوامض پوچھتے تھے اور وہ ہر ایک کا جواب تحریر یا تقریر مین دیتا تھا۔ ازانجملہ علی بن احمد نے ایک قطعہ مولانا سعد الدین کا جو کہ علم و فضل کے سوا شاعری مین بہی مشتاق و ماہر تہا نقل کیا ہے جس مین یہ استفسار کیا گیا ہے کہ سالک کی رہنما عقل ہے یا عشق۔ چونکہ اِس قطعہ سے اُس زمانہ کے علما کی راے شیخ کی نسبت اچھی طرح ظاہر ہوتی ہے اسلیے وہ قطعہ یہان نقل کیا جاتا ہے۔ قطعہ سالک راه خدا پادشه ملک سخن اے زالفاظ تو آفاق پر از در یتیم اختر سعدی دعالم زفروغ تو منیر مواضع عقلی وگینی زانظر و عقیم تو پیشین شهر و شهرداران را چه محل سحر بے موقع ناید بر اعجاز کلیم ند و ما از توسالی ست که تو یه سوال نکند مردم پاکیزه سیر جز به کریمی مرد را همین عقل نماید یا عشق این در بسته تو بگشاست که با بیت تعلیمی گر به این هر دو یک شخص نیا بیند فرود دارد مارغ رول بیدار تو هستند مقیم پاه منصب بر یک کرم باز هایی تا الان اخوات تازه و جان تقسیم شو باد آسوده دفارغ زید و نیک جهان خاطر آینه کردار و چون نفس سیکیم شیخ نے اُسکے جواب مین ایک طول طویل بحث نثر مین لکہی ہے جو اُس کے کلیات مین موجود ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ شیراز مین جو شخص حاکم ہوتا تھا وہ شیخ کا نہایت ادب اور تعظیمی اور سات<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> eid4mfpjkixhiva3pam6oou4css1qwz صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/294 250 13161 35206 32576 2026-07-03T02:44:58Z Kaur.gurmel 74 35206 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>ہو گئی تو بھرت کو بڑا صدمہ ہوگا ۔ بشرط زندگی پھر کبھی ملاقات ہوگی ۔ ابھی تو اجودھیا تک پہنچنے میں مہینوں لگینگے'. بھبھیشن ۔ 'مہاراج! اجودھیا تو آپ دو دن میں پہنچ جائینگے'. رامچندر صرف دو دن میں ؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ بھبھیں ۔ میرے بھائی راون نے اپنے لئے ایک ہوائی تخت بنوایا تھا ۔ اُسے پشک بمان کہتے ہیں۔ اس کی چال ایک ہزار میل روزانہ ہے۔ بڑے آرام کی چیز ہے ۔ دس بارہ آدمی آسانی سے بیٹھ سکتے ہیں ۔ ایشور نے چاہا تو آج کے تیسرے دن آپ اجودھیا میں ہونگے ۔ مگر میری اتنی عرض آپ کو قبول کرنا پڑیگی۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلونگا۔ جہان آپ کے ہزاروں چاکر ہیں وہاں مجھے بھی ایک چاکر سمجھتے '؟<noinclude></noinclude> h8hbdgfl8bi5k4alia0sbtn9k02o00q 35207 35206 2026-07-03T03:03:55Z Kaur.gurmel 74 35207 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>ہو گئی تو بھرت کو بڑا صدمہ ہوگا ۔ بشرطِ زندگی پھر کبھی ملاقات ہوگی ۔ ابھی تو اجودھیا تک پہنچنے میں مہینوں لگینگے'. بھبھیشن ۔ 'مہاراج! اجودھیا تو آپ دو دن میں پہنچ جائینگے'. رامچندر۔ صرف دو دن میں؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ بھبھیں ۔ میرے بھائی راون نے اپنے لئے ایک ہوائی تخت بنوایا تھا ۔ اُسے پشک بمان کہتے ہیں۔ اس کی چال ایک ہزار میل روزانہ ہے۔ بڑے آرام کی چیز ہے ۔ دس بارہ آدمی آسانی سے بیٹھ سکتے ہیں ۔ ایشور نے چاہا تو آج کے تیسرے دن آپ اجودھیا میں ہونگے ۔ مگر میری اتنی عرض آپ کو قبول کرنا پڑیگی۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلونگا۔ جہان آپ کے ہزاروں چاکر ہیں وہاں مجھے بھی ایک چاکر سمجھئے'.<noinclude></noinclude> sh19hzecqkvmyw2hkjlkvlp46dicy49 35208 35207 2026-07-03T03:10:53Z Kaur.gurmel 74 /* پروف خوانی شدہ */ 35208 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>ہو گئی تو بھرت کو بڑا صدمہ ہوگا ۔ بشرطِ زندگی پھر کبھی ملاقات ہوگی ۔ ابھی تو اجودھیا تک پہنچنے میں مہینوں لگینگے'. بھبھیشن ۔ 'مہاراج! اجودھیا تو آپ دو دن میں پہنچ جائینگے'. رامچندر۔ صرف دو دن میں؟ یہ کَیسے مُمکن ہے'؟ بھبھیں ۔'میرے بھائی راون نے اپنے لئے ایک ہوائی تخت بنوایا تھا ۔ اُسے پُشک بمان کہتے ہیں۔ اس کی چال ایک ہزار میل روزانہ ہے۔ بڑے آرام کی چیز ہے ۔ دس بارہ آدمی آسانی سے بیٹھ سکتے ہیں ۔ ایشور نے چاہا تو آج کے تیسرے دن آپ اجودھیا میں ہونگے ۔ مگر میری اتنی عرض آپ کو قبول کرنا پڑیگی۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلونگا۔ جہان آپ کے ہزاروں چاکر ہیں وہاں مجھے بھی ایک چاکر سمجھئے'.<noinclude></noinclude> h8y8r8fxvl9bgtcrzbbahgk8b40mg7v اشاریہ:Tutinamah - Muhammad Qadir - Sayad Haider Bakhsh Haidri (1836).pdf 252 13798 35214 2026-07-03T11:27:25Z Kuldeepburjbhalaike 17 ”“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35214 proofread-index text/x-wiki {{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template |Type=book |Title= |Language=en |Volume= |Author= |Translator= |Editor= |Illustrator= |School= |Publisher= |Address= |Year= |Key= |ISBN= |OCLC= |LCCN= |BNF_ARK= |ARC= |DOI= |Source=_empty_ |Image=1 |Progress=X |Transclusion=no |Validation_date= |Pages=<pagelist /> |Volumes= |Remarks= |Width= |Header= |Footer= |tmplver= }} nqdfl2wgvgj7cyqvtkqb2yosr7n08b7 35215 35214 2026-07-03T11:33:08Z Kuldeepburjbhalaike 17 35215 proofread-index text/x-wiki {{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template |Type=book |Title= |Language=en |Volume= |Author= |Translator= |Editor= |Illustrator= |School= |Publisher= |Address= |Year= |Key= |ISBN= |OCLC= |LCCN= |BNF_ARK= |ARC= |DOI= |Source=pdf |Image=1 |Progress=X |Transclusion=no |Validation_date= |Pages=<pagelist /> |Volumes= |Remarks= |Width= |Header= |Footer= |tmplver= }} afusak2ezww6dk7yirrtfx1f8o1879g