ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.9 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/61 250 12862 35227 31635 2026-07-04T12:57:45Z BalramBodhi 60 35227 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کرتا تھا۔ مردار انکیا نو کو دہ برابر قصائد اور پند نامہ وغیرہ مین اِس طرح خطاب کرتا ہے جیسے بڑے اور بزرگ چہوٹون کو کیا کرتے ہیں۔اُس کے سوا ملک عادل شمس الدین جو کہ غالباً انکیانو کے بعد شیراز کا حاکم ہوا تھاأ وہ بھی حد سے زیادہ شیخ کی تعظیم اور عزت کرتا تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ شیراز مین فوج کے سپاہیون اور افسرون نے چوری ست سرکاری کہجورین جو زمین کے محصول مین زمیندارون سے وصول کی تھے سبزی فروشون کے ہاتون جبراً کسی وعدہ پر مہنگے نرخ سے بیچنی شروع کین اور بہت سے بوجھہ شیخ کے بہائی کی دکان پر بھی جو کہ خاس بادشاہی ڈیوڑھی کے پاس بقالی کی دوکان کرتا تھا بہجوائے۔ شیخ اس زمانہ مین حضرت ابو عبدالله ابن خضیف کی خاتقاہ من مجاور تہا۔ اُسکو بہی اِس واقعہ کی خبر پہنچی۔ اُس نے ملک شمس الدین کو جو کہ اس حال سے بیخیر تہا ایک قطعہ لکھ بہیجا جس مین اہل فوج کی شکایت اور اپنے بہائی کی دوکانداری اور بینوائی کا حال لکھا تھا۔ شمس الدین نے فوراً اسکا تدارک کیا اور خود شیخ کے پاس آیا اور معافی چاہی اور ہزار درم پیش کرکے کہا کہ یہ حقیر رقم آپکے بہائی کے خرچ کے لیے ہے اسکو قبول کیجئے۔ شیخ نے لیکر ہہائی کو بہیجدی۔ شیخ کی وفات شیراز مین جبکہ آمابکان فارس کے خاندان کا خاتمہ ہو چکا تہا اور ولایت پی یہ بزرگوار چوتہی صدی ہجری کے اکابر صوفیہ مین سے ہین جنکی نیست خواجہ عبدالہ انصاری نے لکہا ہے کہ حقائق دستارف مین کسی کی تصنیفات ابن خضیف کی برابر تہین آینا. سر گورادسلی نے اوسکی وقات انابک محمد شاہ ابن نام شادبن سعد زندگی کے عہد مین لکہی ہے۔ مگر یہ بالکل غلط ہے۔ اتابک محمد شاہ ٦٦٠ مین تخت پر بیٹہا تہا اور ادارہ مہینے سلطنت کر کے مرگیا۔ پر اُسکا بہائی سلجوق شاہ تخت نشین ہوا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> japi2rsqybasgc4v9acq2nu81oiv75b 35236 35227 2026-07-05T02:41:56Z Charan Gill 46 35236 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کرتا تھا۔ مردار انکیا نو کو دہ برابر قصائد اور پند نامہ وغیرہ مین اِس طرح خطاب کرتا ہے جیسے بڑے اور بزرگ چہوٹون کو کیا کرتے ہیں۔اُس کے سوا ملک عادل شمس الدین جو کہ غالباً انکیانو کے بعد شیراز کا حاکم ہوا تھاأ وہ بھی حد سے زیادہ شیخ کی تعظیم اور عزت کرتا تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ شیراز مین فوج کے سپاہیون اور افسرون نے چوری ست سرکاری کہجورین جو زمین کے محصول مین زمیندارون سے وصول کی تھے سبزی فروشون کے ہاتون جبراً کسی وعدہ پر مہنگے نرخ سے بیچنی شروع کین اور بہت سے بوجھہ شیخ کے بہائی کی دکان پر بھی جو کہ خاس بادشاہی ڈیوڑھی کے پاس بقالی کی دوکان کرتا تھا بہجوائے۔ شیخ اس زمانہ <ref>یہ بزرگوار چوتہی صدی ہجری کے اکابر صوفیہ مین سے ہین جنکی نیست خواجہ عبدالہ انصاری نے لکہا ہے کہ حقائق دستارف مین کسی کی تصنیفات ابن خضیف کی برابر تہین آینا.</ref>مین حضرت ابو عبدالله ابن خضیف کی خاتقاہ من مجاور تہا۔ اُسکو بہی اِس واقعہ کی خبر پہنچی۔ اُس نے ملک شمس الدین کو جو کہ اس حال سے بیخیر تہا ایک قطعہ لکھ بہیجا جس مین اہل فوج کی شکایت اور اپنے بہائی کی دوکانداری اور بینوائی کا حال لکھا تھا۔ شمس الدین نے فوراً اسکا تدارک کیا اور خود شیخ کے پاس آیا اور معافی چاہی اور ہزار درم پیش کرکے کہا کہ یہ حقیر رقم آپکے بہائی کے خرچ کے لیے ہے اسکو قبول کیجئے۔ شیخ نے لیکر ہہائی کو بہیجدی۔ شیخ کی وفات<ref>سر گورادسلی نے اوسکی وقات انابک محمد شاہ ابن نام شادبن سعد زندگی کے عہد مین لکہی ہے۔ مگر یہ بالکل غلط ہے۔ اتابک محمد شاہ ٦٦٠ مین تخت پر بیٹہا تہا اور ادارہ مہینے سلطنت کر کے مرگیا۔ پر اُسکا بہائی سلجوق شاہ تخت نشین ہوا</ref> شیراز مین جبکہ آمابکان فارس کے خاندان کا خاتمہ ہو چکا تہا اور ولایت<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> kyizcm72r7fs69qral2u0tivcspwyp7 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/294 250 13161 35228 35208 2026-07-04T14:29:14Z Kaur.gurmel 74 35228 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>ہو گئی تو بھرت کو بڑا صدمہ ہوگا ۔ بشرطِ زندگی پھر کبھی ملاقات ہوگی ۔ ابھی تو اجودھیا تک پہنچنے میں مہینوں لگینگے'. بھبھیشن ۔ 'مہاراج! اجودھیا تو آپ دو دن میں پہنچ جائینگے'. رامچندر۔ صرف دو دن میں؟ یہ کَیسے مُمکن ہے'؟ بھبھیں ۔'میرے بھائی راون نے اپنے لئے ایک ہوائی تخت بنوایا تھا ۔ اُسے پُشپک بمان کہتے ہیں۔ اس کی چال ایک ہزار میل روزانہ ہے۔ بڑے آرام کی چیز ہے ۔ دس بارہ آدمی آسانی سے بیٹھ سکتے ہیں ۔ ایشور نے چاہا تو آج کے تیسرے دن آپ اجودھیا میں ہونگے ۔ مگر میری اتنی عرض آپ کو قبول کرنا پڑیگی۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلونگا۔ جہان آپ کے ہزاروں چاکر ہیں وہاں مجھے بھی ایک چاکر سمجھئے'.<noinclude></noinclude> 5a7oe7q74z10h0wqcuiyor3t8sg15uz صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/295 250 13162 35229 32577 2026-07-04T14:44:59Z Kaur.gurmel 74 35229 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اُسی دن پشپک بمان آ گیا ۔ عجیب و غریب چیز تھی ۔ کل گھماتے ہی ہوا میں اُٹھ کر اُڑنے لگتی تھی ۔ بیٹھنے کی جگہ الگ ، سونے کی جگہ الگ ہیرے و جواہرات جڑے ہوئے ۔ ایسا معلُوم ہوتا تھا کہ کوئی اُڑنے والا محل ہے ۔ رامچندر اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔ مگر جب چلنے کو تیار ہوئے تو ہنومان، سگریو، انگد ، نیل، جامونت ، سبھی سرداروں نے کہا 'مہاراج ! آپ کی خدمت میں اتنے دنوں تک رہنے کے بعد اب یہ جُدائی نہیں سہی جاتی ۔ اگر آپ یہاں نہیں رہتے تو ہم لوگوں کو ہی ساتھ لیتے چلئے۔ وہاں آپ کی تاجپوشی کا جشن منائینگے ۔ کوسلبا ماتا کے درشن کرینگے، گرو وشسٹ ، وشوا متر، بھاردواج وغیرہ کے اُپدیش سُنینگے ۔ اور آپ کی خدمت کرینگے'. رامچندر نے پہلے تو اُنہیں سمجھایا کہ آپ لوگوں نے میرے اوپر جو احسان کئے ہیں وہی<noinclude></noinclude> rqruy587d78zhmqo7xpyu295hqcgfzo 35230 35229 2026-07-04T14:45:27Z Kaur.gurmel 74 /* پروف خوانی شدہ */ 35230 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>اُسی دن پشپک بمان آ گیا ۔ عجیب و غریب چیز تھی ۔ کل گھماتے ہی ہوا میں اُٹھ کر اُڑنے لگتی تھی ۔ بیٹھنے کی جگہ الگ ، سونے کی جگہ الگ ہیرے و جواہرات جڑے ہوئے ۔ ایسا معلُوم ہوتا تھا کہ کوئی اُڑنے والا محل ہے ۔ رامچندر اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔ مگر جب چلنے کو تیار ہوئے تو ہنومان، سگریو، انگد ، نیل، جامونت ، سبھی سرداروں نے کہا 'مہاراج ! آپ کی خدمت میں اتنے دنوں تک رہنے کے بعد اب یہ جُدائی نہیں سہی جاتی ۔ اگر آپ یہاں نہیں رہتے تو ہم لوگوں کو ہی ساتھ لیتے چلئے۔ وہاں آپ کی تاجپوشی کا جشن منائینگے ۔ کوسلبا ماتا کے درشن کرینگے، گرو وشسٹ ، وشوا متر، بھاردواج وغیرہ کے اُپدیش سُنینگے ۔ اور آپ کی خدمت کرینگے'. رامچندر نے پہلے تو اُنہیں سمجھایا کہ آپ لوگوں نے میرے اوپر جو احسان کئے ہیں وہی<noinclude></noinclude> q8nqb6h6z0wcqdil68ntnlaso76zl8h صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/296 250 13163 35231 32578 2026-07-04T14:59:59Z Kaur.gurmel 74 35231 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کافی ہیں ، اب اور زیادہ احسانوں کے بوجھ سے نہ دبائیے ۔ مگر جب اُن لوگوں نے بہت اصرار کیا تو مجبوراً اُن لوگوں کو بھی ساتھ لے لیا ۔ سب کے سب بمان پر بیٹھے ۔ اور بمان ہوا میں اُڑ چلا ۔ رامچند اور سیتاجی میں باتیں ہونے لگیں ۔ دونو نے اپنے اپنے حالات بیان کئے ۔ بمان ہوا میں اڑتا چلا جاتا تھا ۔ جس راستہ سے آئے تھے۔ اُسی راستہ سے جا رہے تھے ۔ راستہ میں جو خاص خاص مقامات آتے تھے انہیں رامچندر جی سینا کو دکھا دیتے تھے ۔ پہلے سمندر نظر آیا ۔ اُس پر بندھا ہوا میل دیکھ کر سینتا جی کو بڑا تعجب ہوا۔ پھر وہ مقام آیا جہاں رام چندر نے بالی کو مارا تھا ۔ اس کے بعد کسکندها پوری نظر آئی ۔ رام چندر نے کہا جس راجہ سگریو کی مدد سے ہم نے لنکا فتح کی اُن کا مکان یہیں ہے ۔ سیتا جی نے<noinclude></noinclude> 8sy19gmncks05ni9iejewt4o7fml6u2 35237 35231 2026-07-05T06:36:39Z Tamanpreet Kaur 81 35237 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کافی ہیں ، اب اور زیادہ احسانوں کے بوجھ سے نہ دبائیے ۔ مگر جب اُن لوگوں نے بہت اصرار کیا تو مجبوراً اُن لوگوں کو بھی ساتھ لے لیا ۔ سب کے سب بمان پر بیٹھے ۔ اور بمان ہوا میں اُڑ چلا ۔ رامچند اور سیتاجی میں باتیں ہونے لگیں ۔ دونو نے اپنے اپنے حالات بیان کئے ۔ بمان ہوا میں اُڑتا چلا جاتا تھا ۔ جس راستہ سے آئے تھے۔ اُسی راستہ سے جا رہے تھے ۔ راستہ میں جو خاص خاص مقامات آتے تھے اُنہیں رامچندر جی ستا کو دکھا دیتے تھے ۔ پہلے سمندر نظر آیا ۔ اُس پر بندھا ہوا پُل دیکھ کر ستا جی کو بڑا تعجب ہوا۔ پھر وہ مقام آیا جہاں رام چندر نے بالی کو مارا تھا ۔ اس کے بعد کسکندها پوری نظر آئی ۔ رام چندر نے کہا جس راجہ سگریو کی مدد سے ہم نے لنکا فتح کی اُن کا مکان یہیں ہے ۔ سیتا جی نے<noinclude></noinclude> 2pxmlp3w8c64bww41kjt2944dbwyum1 صفحہ:Qissa-e-Gul-o-Sanobar by Munshi Neem Chand Khatri.pdf/10 250 13803 35232 2026-07-05T02:07:24Z Charan Gill 46 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”(r) دیکھتے پائین وا بیا باد شاہ کہ فرشتے اسکی آیوری کے دربان تین اور مہر و مار اس کی درسگاہ جلال کے رسیان ۱۰ نان خر کی نہاد کو اور فراست اس نے سخت اور دانش نے اس کی دادری پر خومار شہادت کهول » رونق بار بازار هنا هر اسکی قدرت کی باغبانی سے ہیں ، اور...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35232 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>(r) دیکھتے پائین وا بیا باد شاہ کہ فرشتے اسکی آیوری کے دربان تین اور مہر و مار اس کی درسگاہ جلال کے رسیان ۱۰ نان خر کی نہاد کو اور فراست اس نے سخت اور دانش نے اس کی دادری پر خومار شہادت کهول » رونق بار بازار هنا هر اسکی قدرت کی باغبانی سے ہیں ، اور انتظام کشور استی اسکے نسخہ حکمت کی پاسبانی سے خاک سے ایسی پاک اور تین بنائین کے فرشتوں کے دلوں کو بھائیں ا سکے خانسامان عنایت نے پر ایک کو لبا س الوان بجنا آفتاب کو اور خود کو ظہورہ اعروں کو جمکو جگہ کو دیک و در خون کو سیر پوشاک و مستوں کو من برناک و آسمان کو اطس آنی کی جہاد زمین کو سبز و خونیز کی نیاد<noinclude></noinclude> 1n3gu3uifb42ug6h6ejjy4hzya7z4e6 صفحہ:Qissa-e-Gul-o-Sanobar by Munshi Neem Chand Khatri.pdf/9 250 13804 35233 2026-07-05T02:07:44Z Charan Gill 46 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”( ) سادے ، جمال فلک اُس کے بار احسان سے جھک رہی اور مرغ زرین خورشید بر سحر ا سکے خرین مرحمت سے دانہ کواکب جنگ را ہی زون سے آسمان تک اجادار بھی اور اجرام مادی نے اسکی در گاه کبر یامین پیشانی مسجود جھنگائی ہا اور ماہ سے ماہی تک چھوٹے برے نے اپنی مراد...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35233 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>( ) سادے ، جمال فلک اُس کے بار احسان سے جھک رہی اور مرغ زرین خورشید بر سحر ا سکے خرین مرحمت سے دانہ کواکب جنگ را ہی زون سے آسمان تک اجادار بھی اور اجرام مادی نے اسکی در گاه کبر یامین پیشانی مسجود جھنگائی ہا اور ماہ سے ماہی تک چھوٹے برے نے اپنی مراد بھر پانی ہی ناخدای کرم اسکا جب بادبان لطف اٹھانا ہی کتنے امید جہان کو سائل مراد پر پچھلا نا ہی . اور دریائے عنایت اُس کا جب جون پر آنا ہی گناہ کے جہاز ان کو ایک پین میں دبانا ہی " جو اسکے دھیان میں دھونی اگائے جیتے ہیں سلطنت کے زوال انکے نصیب ہیں ، اور جو اسکے خیال میں آنکھ مو مد سے رہتے ہیں وہ آینہ دل میں ساری کیفیت<noinclude></noinclude> 5pyhbksxyfsatz60kyi1etwvjm5vo8m صفحہ:Qissa-e-Gul-o-Sanobar by Munshi Neem Chand Khatri.pdf/8 250 13805 35234 2026-07-05T02:08:17Z Charan Gill 46 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”بسم الله الرحمن الرحیم حمد ہی اُس صانع کی کہ جس نے انسان کو اشرف مخلوقات بنایا اور عالم کو ظلمت ہستی پہنایا اس کے ابر احسان سے کیا دیان عشق و محبت کی سیراب بین" اور اُس کے باران رحمت سے کھتیان حسن و جمال کی شاداب " فلک پر جلوہ خورشید اُسکے ایوان ج...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35234 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>بسم الله الرحمن الرحیم حمد ہی اُس صانع کی کہ جس نے انسان کو اشرف مخلوقات بنایا اور عالم کو ظلمت ہستی پہنایا اس کے ابر احسان سے کیا دیان عشق و محبت کی سیراب بین" اور اُس کے باران رحمت سے کھتیان حسن و جمال کی شاداب " فلک پر جلوہ خورشید اُسکے ایوان جلال کا ایک دوست ندان ہی اور محمود صبح اس کے شبستان جمال کا شمعدان ، قلم میں یہد کہت کہاں ہیں کہ وصاف اس کی قدرت کا لکھے ۔ اور کاغذ بین برو سمت کهان که مرح اُسکی ا سمین)<noinclude></noinclude> gpplmvmgtf9nym5hmey58ofhet02qz0 صفحہ:Guldasta - Anjuman by Wajid Ali Khan (1849).pdf/4 250 13806 35235 2026-07-05T02:12:13Z Charan Gill 46 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”موجب اسکے کتاب کو صیح کر لیون بنطالو فرمائین اور مور دین کو اسکے ہوا و سہی کہیں کوئی عاملی نظری تی ہو اسکو از راہ مہربانی اب صلی مخصوص نفقته تا نیٹ و تذکیر من واحد کی مبیع به ان اور انکو نے غلط تار میں نہیں کہا ہے کہ ج جو کہے گئے ہیں مطر سے رابین ع...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35235 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>موجب اسکے کتاب کو صیح کر لیون بنطالو فرمائین اور مور دین کو اسکے ہوا و سہی کہیں کوئی عاملی نظری تی ہو اسکو از راہ مہربانی اب صلی مخصوص نفقته تا نیٹ و تذکیر من واحد کی مبیع به ان اور انکو نے غلط تار میں نہیں کہا ہے کہ ج جو کہے گئے ہیں مطر سے رابین عرض صرف اسما کی فہرست بابون کی پہلا باب حروف تہجی کے قاعدے اور بندی مصدر ان کے بیانین دوسرا باب بندی مشکلوں کے بیان میں - تیسرے باب میں اتحاد اس کے معنی کا بیان - 10 مونے باب بان اردو کے سلطان حماد کنایات کا بیان ہے (۲۴۹ ان باب تا نیٹ وہی کیر کے بیان میں - تے باب مین زبان اردو کی صرف سو کا بیان ہے ۔ - ۴۰۱ ساتویں باب میں ذکر علم معنی وبیان کا ہے ۔ -- ۲۸۷ آنتوان باب علم حساب کے بیان میں ہے ۔ نوین بات میں اطباد حکم و شعر او غیرہ کے محاورت کا بیان د ستوین باب میں مراسلات ومکاتبات کا بیان ہے - 1049<noinclude></noinclude> if1dqilsmyhf0lypb0s6vah2r0hl6fj