ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.9
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/24
250
12690
35240
31825
2026-07-06T03:59:41Z
Taranpreet Goswami
90
/* پروف خوانی شدہ */
35240
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|٢٣|}}</noinclude>پیادے آ پہونچے اور اسے باندھ کر کوتوال کے پاس لائے کوتوال نے راجہ کو خبر دی راجہ نے اس سے یہ احوال بلوا کر پوچھا کہا مین کچھ نہین جانتا اور سیٹھ کی لڑکی سے جو بلا کر پوچھا تو اسنے کہا مہاراج عیان دیکھ کے مجھ سے کیا پوچھتے ہو پھر راجہ نے اس سے کہا تجھے کیا سزا دین یہ سنکے بولا آپ کے انصاف مین جو ٹھہرے سو کیجئے راجہ نے کہا اسے لیجا کر سولی دو لوگ راجہ کا حکم پا کے اسے سولی دینے لے چلے یہ سنجوگ دیکھ کر چور بھی وہان کھڑا تماشہ دیکھتا تھا تب اس نے دہائی دی راجہ نے اسے بلوا کر پوچھا تو کون ہے کہا مہاراج مین چور ہون اور یہ بے گناہ ہے ناحق اس کا خون ہوتا ہے آپ نے کچھ انصاف نکیا تب راجہ نے اسے بھی بلوایا اور چور سے پوچھا اپنے دھرم سے سچ کہہ یہ مقدمہ کس طرح سے ہے چور نے مفصل احوال کہا تو راجہ نے اچھی طرح سمجھا آخر ہرکارے بھیج اس عورت کا یار جو موا ہوا پڑا تھا اس کے منھ مین سے ناک منگوا کے دیکھی تب جانا کہ بے تقصیر ہے اور چور سچا ہے پھر چور بولا مہاراج نیکون کا پالنا اور بدون کو سزا دنیا راجاؤن کا برابر دھرم چلا آتا ہے اتنی بات کہہ کر چورامن طوطا بولا مہاراج ایسی گن کی پوری ناریان ہوتی ہین راجہ نے اس ناری کا منھ کالا کروا سر منڈوا کر گدہے پر چڑھا نگری کے پھیرے دلوا چڑھوا دیا اس چور اور ساہوکار بچے کو پیڑے دے رخصت کیا اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ ان دونون مین سے کسے زیادہ پاپ ہوا راجہ بیر بکرما جیت بولا استری کو بیتال بولا کہ کس طرح یہ سنکے راجہ نے کہا مرد کیسا ہی بدکار کیون نہ ہو پر اسے دھرم ادھرم کا بچار رہتا ہے اس سے ناری کو بہت سا پاپ ہوا یہ بات سن کے پھر بیتال چلا گیا اسی درخت پر جا لٹکا پھر راجہ جا اسکو پیڑ سے اتار گٹھری باندھے کاندھے پر رکھ لیچلا
پانچوین کہانی
بیتال بولا اے راجہ اجین نام ایک شہر ہے وہان کا راجہ مہابل اور اسکے ہرداس نام ایک ہرکارا تھا اس ہرکارے کی بیٹی کا نام مہادیوی وہ بہت خوبصورت تھی جب وہ شادی کی قابل ہوئی تو اس کے باپ کو فکر ہوئی کہ اسکا بیاہ کر دینا چاہیے غرضکہ ایک دن اس لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ پتا جی جو سب ہنر جانتا ہو مجھے اسے دیجیو تب اسنے کہا کہ جو سب علم سے واقِف ہوگا تیری شادی مین اسکے ساتھ کر دونگا پھر ایک دن اس راجہ نے ہرداس کو بلاکر پوچھا ملک دکن مین ہر چند نامہ راجہ ہے اسکی تم جا کر میری طرف سے خیر و عافیت پوچھو انکی خیریت مراج لے آؤ ہرداس یہ راجہ کا حکم پاکر رخصت ہوا اور اس راجہ کے پاس کتنے ایک دنون مین جا پہونچا اور اس سے اپنے راجہ کا سب پیغام کہا اور ہمیشہ اس راجہ کے پاس رہنے لگا غرض ایک دن کی بات ہے کہ اس راجا نے اس سے پوچھا کہ اے ہرداس ابھی کلجگ شُروع ہویا یا نہین تب اسے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
lrdesdg2cm5xoqvywj6j91xxxecugrt
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/62
250
12863
35238
31638
2026-07-05T13:02:20Z
BalramBodhi
60
35238
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>فارس خانان تاتار کی حکومت مین آگئی تہی ٦٩١ ہجری میں واقع ہوئی ہے۔ کسی شاعر نے اُسکے مرنے کی تاریخ اِس طرح کہی ہے.
وُر سجر معارف شیخ سعدی کہ در دریاے ست معنی بود خ\غواص
مہ شوال روز جمعه روحش
بدان درگاه رفت از روی اخلاص
یکے پرسید سال فوت گفتم ز خاصان بو دازان تاریخ شود ٦٩١ ھہ خاص
شیخ کی عمر کسی نے ایک سو دو برس کی اور کسی نے ایک سو دس برس اور اکثر نے ایک سو بیس برس کی لکہی ہے۔ ہمارے نزدیک یہی پچہلا قول صحیح معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ شیخ جیسا کہ بوستان کی ایک حکایت سے معلوم ہوتا ہے جوانی کے زمانہ مین شیراز سے باہر گیا اور بغداد مین اُس نے مدتون امام ابن جوزی سے تحصیل علم کیا ہے۔ امام ابن جوزی کی وفات ٥٩٧ ھ مین ہو چکی تہی۔ اور شیخ کی وفات اس سے ٩٤ برس بعد واقع ہوئی پس اگر شیخ کی تمام عمر ایک سو دو برس کی سمجہی جائے تو لازم آتا ہے کہ شیخ زیادہ سے زیادہ نو برس کی عمر مین امام ابن جوزی سے تحصیل علم کر چکا تہا اور اگر ایک سو دس برس کی عمر قرار دی جائے تو یہ لازم آتا ہے کہ وہ سترہ برس کی عمر مین تحصیل علم سے فارغ ہو چکا تھا اور شیراز سے بچپن ہی کے زمانہ مین نکل گیا تھا۔
بقیہ حاشیه صفحہ ٥٣۔ ہوا اور ٦٦٢ مین قتل کیا گیا پہر سعد زنگی کی بیٹی آبس خاتون کے نام کا اخباراور ٦٦٧ ھ مین اُسکو سعزرل کرکے سلطان اباق خان نے سردار
ی اسکول کی سالان با اخرکیا گئے کوئی
تنفس تابکان فارس کے خاندان کا نگران حین : پس شیخ کی وفات یا کار پر کیا گیا اندان تا کیک
کے زوال سے جو ہیں پس بعد اور اتابک محمد شاہ کے عمر سے تیس برس بعد واقع ہوئی ہے ۱۲ -<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
4cqvxxqcwe7mqm7gfx32j75hkdomgu2
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/63
250
12864
35239
31641
2026-07-05T13:33:06Z
BalramBodhi
60
35239
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>
پس جس طرح پہلی بات خلاف قیاس ہے اُسی طرح دوسری بات خلاف واقع ہے۔
سر گوراوسلی نے انگلستان کے ایک سیاح ولیم فرنیکلین کے سفرنامہ سے جو کہ ١٧٨٦ ع مین فارس گیا تھا شیخ کے مدفن کا حال اِس طرح لکہا ہے کہ "شیخ کا فرار مقام دلکشا سے ایک میل جانب شرق پہاڑ کے نیچے واقع ہے۔ عمارت اُس کی بہت بڑی اور مربع ہے اور قبر سنگین بنی ہوئی ہے۔ جس کا طول چہ فٹ اور عرض ڈہائی فٹ ہے۔ قبر کے تمام مناعون
پر کچھ عبارت قدیم نسخ خط مین کندہ ہے جسمین شیخ کا اور اُسکی تصنیفات کا حال درج ہے۔ قبر ایک سیاہ رنگ کے چوبی قبر پوش سے جسپر سنہری کام ہو رہا ہے ڈیکی رہتی ہے اور اُسپر شیخ ہی کا ایک شعر خط نستعلیق مین لکہا ہوا ہے۔ جب اِس قبرپوش کو بٹاتے ہین تو قبر کا
تعویز دکہائی دیتا ہے۔ اکثر ابل اسلام جو اطراف و جوانب سے شیخ کے مزار پر آتے ہینں وہ پہول اور دیگر اکسام کے چڑہاوے چڑاتے ہین اور زائین کے مطالہ کے لیے ایک نسخہ شیخ کے کلیات کا نہایت خوشخط لکھا ہوا مزار پر رکہا رہتا ہے۔ مقبرہ کی دیوارون پر بہت سے فارسی اشعار لکہے ہوئے ہین جو لوگ دوردست مقامات سے وہان زیارت کو آئے ہین یہ اشعار انہون نے لکہے ہین۔ شیخ کے مقبرہ کی عمارت اب روز بروز گرتی جاتی ہے اور اگر اب اُسکی خبر جلد نہ لی گئی تو بالکل کہنڈر ہو جائیگی۔ نہایت افسوس کی بات ہے اور زمانہ کا عجیب انقلاب ہے کہ کسی شخص کو اُسکی مرمت کرانیکا خیال نہین۔ اس مقبرہ کے متصل اکسر دیندارونں اور بزرگون کے مزار مین جنہون نے اپنی خواہش سے یہان دفن ہونا چاہا ہے۔ اِسکے بعد سرگوراوسلی صاحب لکھتے ہین کہ ١٨١١ ء کے شروع مین جبکہ مین<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
emlnl6ul27tv0p89z40k5tiwcff3vl2
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/64
250
12865
35244
31644
2026-07-06T05:59:26Z
BalramBodhi
60
35244
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جارج سوم بادشاہ انگلستان کی طرف سے بعنوان سفارت فتح علی شاہ قاچار کے پاس پیغام لیکر طہران کو جاتا تہا اسوقت کئی مہینے شیراز مین میرا مقام رہا جب تک مین وہان رہا اکثر شیخ کے مزار پر جاتا تہا۔ مسٹر فرینکلن کے لکہنے کی تصدیق شیخ کے مزار پر جا کر ہوتی ہے۔ اُسکی قبر حقیقت مین بالکل بوسیدہ ہوگئی ہے اور تمام عمارت عنقریب منہدم ہوا چاہتی ہے۔ باغ اور درخت جو زمانہ سابق مین وہان تہے اُن کا اب نام و نشان تک باقی نہین رہا۔ میرے دل مین یہ خیال آیا کہ اگر تہوڑا سا روپیہ خرچ کیا جائے تو اِس مقبرہ کی مرمت بخوبی ہو سکتی ہے اور میرے حسن عقیدت نے جو مین شیخ اور اسکے کام کے ساتھ رکھتا تھا مجکو آمادہ کیا کہ اپنے پاس سے روپیہ صرف کر کے شیخ کے مقبرہ کی مرمت کرادین۔ مگر شاہ ایران کا پانچوان بیٹا حسین علی مرزا جو اُس وقت فارس کا گورنر تہا اُس نے مجکو اس ارادہ سے باز رکھا اور نہایت سرگرمی سے کہا کہ مین اپنے روپیہ سے مزار کی مرمت کرا دون گا آپ کیون اسقدر تکلیف اٹھاتے ہین۔ اُس نے کہا کہ مین شیخ کے مزار کی مرمت اُسی خوبی اور اسلوب اور عمدگی سے
کراوُن گا جیسے کریم خان زند نے خواجہ حافظ کے مزار کی کرائی تہی۔ لیکن افسوس ہے کہ اُس نے اپنا وعدہ پورا نہ کیا۔
نہایت تاسسف کا مقام ہے کہ عنقریب وہان کوئی نشان ایسا باقی نہ رہیگا جس سے معلوم ہو کہ وہ خطہ ایران کا فخر جہد و تقری اور ذہن وجورت اور علم و نضل مین اپنا مشل نہ رکہتا تھا کہان اور کس جگہ دفن ہوا ہے۔
سجان الد کیا عبرت کا مقام ہے کہ ایک عیسائی مذہب دین کے اُس کنارہ کا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
i3310vkzmqluho424gbj6pvmaia583w
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/65
250
12866
35245
31647
2026-07-06T06:13:35Z
BalramBodhi
60
35245
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>رہنے والا جہان دنیا کی ابادی ختم ہوتی ہے باوجود اختلاف مزہب۔ اختلاف قورم اور اختلاف ملک کے ایک مسلمان مصنف کی ایسی قدر کرے کہ عالم سفر مین اُسکے مقبرہ کی مرمت کرانے پر آمادہ ہوا اور اپنے پاس سے روپیہ خرچ کرنے کو موجور ہو۔ اور ایک مسلمان شاہزادہ سے باوجود اتحاد زبان۔ اتحاد مذہب۔ اتحاد قوم و ملک کے ایسی بیقدری اور
بے اعتنائی ظہور مین آئے۔
{{center|فاعتبروايا أولى انا جايد}}<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
l0xa9musx272cnba7r6yo21nafofi6r
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/66
250
12867
35246
31651
2026-07-06T06:52:43Z
BalramBodhi
60
35246
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{c|<big>'''دوسرا باب'''</big>}}
{{c|شیخ کی تصنیفات}}
{{c|شیخ کی شاعری کی شُہرت اُس کی زندگی مین}}
شیخ کی جادو بیانی اور وضاحت و بلاغت کا چرچا اُسکی زندگی ہی مین تمام ایران۔ ترکستاتاتار اور ہندوستان مین اسقدر پہیل گیا تھا کہ اُس زمانہ کی حالت پر لحاض کرنیکے بعد اسپر مشکل سے یقین آتا ہے۔ خود شیخ بہی گلستان کے دیباچہ مین کہتا ہے در فقر جمیل سعدی کہ در افراد عوام افتاوہ رعیت شخش کہ ... بیا زمین رفت" شیراز اور ایرانا کا ترین کی کیا اسلامی کا خاصا ہے
پہلے اس سے کہ شیخ کا شرمین پہنچے وہان کے چھوٹے بڑے اُس کے کمالات
سے واقف تہے۔
جس زمانہ مین شیخ کا شخر پہنچا ہے۔ غالباً وہ زمانہ ہے کہ چنگیزخان چینی تاتار کو خوارزمیو نے فتح کر چکا ہے اور سلطان محمد خوارزم کے ساتھہ چند روز کے لیے اُسکی صلع ہو گئی ہے۔ جب شیخ کا شغر کی جامع مسجد مین گیا تو وہان ایک طالب علم مقدمہ زمخشری ہاتہہ مین لیے زبان سے یہ کہہ رہا تھا کہ "مغرب زید عمرواً" شیخ اُس سے چہُل کی باتین کرنے لگا اور کہا کیون صاحب خوارزم و خطا مین صلح ہو گئی مگر زید اورعمر دکی خصومت بدستور چلی جاتی ہے۔ طالبعلم ہنس پڑا
علامہ یا اللہ میری صاحب ان کی اتنے عربی زبان کی تنوین ایک مختصر تہین لکہا ہے اُسکا نام مقدمہ زمخشری ہے۔<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
47oyg02f5f49hlmj3ozd6v9ql29nmk0
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/296
250
13163
35241
35237
2026-07-06T04:55:22Z
Kaur.gurmel
74
/* پروف خوانی شدہ */
35241
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کافی ہیں ، اب اور زیادہ احسانوں کے بوجھ
سے نہ دبائیے ۔ مگر جب اُن لوگوں نے بہت
اصرار کیا تو مجبوراً اُن لوگوں کو بھی ساتھ
لے لیا ۔ سب کے سب بمان پر بیٹھے ۔ اور
بمان ہوا میں اُڑ چلا ۔ رامچند اور سیتاجی
میں باتیں ہونے لگیں ۔ دونو نے اپنے اپنے
حالات بیان کئے ۔ بمان ہوا میں اُڑتا چلا
جاتا تھا ۔ جس راستہ سے آئے تھے۔ اُسی
راستہ سے جا رہے تھے ۔ راستہ میں جو
خاص خاص مقامات آتے تھے اُنہیں رامچندر
جی سیتا کو دکھا دیتے تھے ۔ پہلے سمندر نظر
آیا ۔ اُس پر بندھا ہوا پُل دیکھ کر سیتا جی
کو بڑا تعجب ہوا۔ پھر وہ مقام آیا جہاں
رام چندر نے بالی کو مارا تھا ۔ اس کے بعد
کسکندها پوری نظر آئی ۔ رام چندر نے کہا
جس راجہ سگریو کی مدد سے ہم نے لنکا فتح
کی اُن کا مکان یہیں ہے ۔ سیتا جی نے<noinclude></noinclude>
ia2dhdzwtd4p6s4asm76tvtzc3tuccr
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/297
250
13164
35242
32579
2026-07-06T04:56:47Z
Kaur.gurmel
74
35242
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|۲۹۱}}</noinclude>سگریو کی رانی سے ملاقات کرنے کی خواہش
ظاہر کی ۔ اس لئے بمان روک دیا گیا ۔ اور لوگ
سگریو کے گھر اُترے ۔ تارا نے سیتا جی کے
گلے میں پھولوں کی مالا پہنائی اور اپنے ساتھ
محل میں لے گئیں ۔ سگریو نے اپنے معزز مہمانوں
کی دعوت کی اور انہیں دو چار دن روکنا چاہا
مگر رامچندر کیسے رک سکتے تھے ۔ دوسرے دن
پھر بمان روانہ ہوا ۔ سگریو وغیرہ بھی اُس پر
کر چلے - رامچندر جی سے اُن لوگوں کو
اتنی محبت ہو گئی تھی کہ اُن کو چھوڑتے ہوئے
ان لوگوں کو صدمہ ہوتا تھا.
رامچندر نے پھر سیتا جی کو خاص خاص
مقامات دکھانا شروع کئے ۔ دیکھو یہ وہ جنگل
ہے جہاں ہم تمہیں تلاش کرتے پھرتے تھے۔
اہا دیکھو وہ چھوٹی سی جھونپڑی جو نظر آ رہی
ہے وہی شیوری کا مکان ہے ۔ یہاں رات
بھر ہم نے جو آرام پایا اتنا کبھی اپنے<noinclude></noinclude>
8vko3kbgga1batpzc25av99ujty6hjr
35243
35242
2026-07-06T05:09:28Z
Kaur.gurmel
74
/* پروف خوانی شدہ */
35243
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" />{{center|۲۹۱}}</noinclude>سگریو کی رانی سے ملاقات کرنے کی خواہش
ظاہر کی ۔ اس لئے بمان روک دیا گیا ۔ اور لوگ
سگریو کے گھر اُترے ۔ تارا نے سیتا جی کے
گلے میں پھولوں کی مالا پہنائی اور اپنے ساتھ
محل میں لے گئیں ۔ سگریو نے اپنے معزز مہمانوں
کی دعوت کی اور انہیں دو چار دن روکنا چاہا
مگر رامچندر کیسے رُک سکتے تھے ۔ دوسرے دن
پھر بمان روانہ ہوا ۔ سگریو وغیرہ بھی اُس پر بیٹھ
کر چلے - رامچندر جی سے اُن لوگوں کو
اتنی محبت ہو گئی تھی کہ اُن کو چھوڑتے ہوئے
ان لوگوں کو صدمہ ہوتا تھا.
رامچندر نے پھر سیتا جی کو خاص خاص
مقامات دکھانا شروع کئے ۔ دیکھو یہ وہ جنگل
ہے جہاں ہم تمہیں تلاش کرتے پھرتے تھے۔
اہا دیکھو وہ چھوٹی سی جھونپڑی جو نظر آ رہی
ہے وہی شیوری کا مکان ہے ۔ یہاں رات
بھر ہم نے جو آرام پایا اتنا کبھی اپنے<noinclude></noinclude>
epyglh7qqm1fy9crlot1ducu3i96khy