ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.9
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
اشاریہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf
252
12022
35274
27088
2026-07-07T09:36:25Z
Kuldeepburjbhalaike
17
35274
proofread-index
text/x-wiki
{{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template
|Type=book
|Title=Bagh-o-bahar
|Language=ur
|Volume=
|Author=
|Translator=
|Editor=
|Illustrator=
|School=
|Publisher=
|Address=
|Year=
|Key=
|ISBN=
|OCLC=
|LCCN=
|BNF_ARK=
|ARC=
|DOI=
|Source=pdf
|Image=1
|Progress=T
|Transclusion=no
|Validation_date=
|Pages=<pagelist 1="Cover" 3="1" 2="Note" />
|Volumes=
|Remarks=
|Width=
|Header=
|Footer=
|tmplver=
}}
[[زمرہ:Urdu]]
tjifs6ssc6fg5cfdbhh01rksz9uqdgl
اشاریہ:Classical Islamic Education Institutions in Hindustan WDL9689.pdf
252
12117
35273
27518
2026-07-07T09:36:17Z
Kuldeepburjbhalaike
17
35273
proofread-index
text/x-wiki
{{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template
|Type=book
|Title=ہندوستان کی قدیم اسلامی درس گاہیں
|Language=ur
|Volume=
|Author=ابو الحسنات ندوی
|Translator=
|Editor=
|Illustrator=
|School=
|Publisher=وکیل بک ڈپو
|Address=امرتسر
|Year=1920
|Key=ندوی، ابو الحسنات
|ISBN=
|OCLC=
|LCCN=
|BNF_ARK=
|ARC=
|DOI=
|Source=pdf
|Image=1
|Progress=L
|Transclusion=no
|Validation_date=
|Pages=<pagelist />
|Volumes=1
|Remarks=
|Width=
|Header=
|Footer=
|tmplver=
}}
[[زمرہ:Urdu]]
3fotfr967we26re0us8u4j1wspa8dc8
اشاریہ:ইন্দর্ সভা - আগা হাসান আমানত (১৮৮৪).pdf
252
12226
35275
28338
2026-07-07T09:36:30Z
Kuldeepburjbhalaike
17
35275
proofread-index
text/x-wiki
{{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template
|Type=book
|Title=ইন্দর্ সভা
|Language=ur
|Volume=
|Author=Aga Hasan Amanat
|Translator=
|Editor=
|Illustrator=
|School=
|Publisher=
|Address=
|Year=1884
|Key=
|ISBN=
|OCLC=
|LCCN=
|BNF_ARK=
|ARC=
|DOI=
|Source=pdf
|Image=1
|Progress=OCR
|Transclusion=no
|Validation_date=
|Pages=<pagelist />
|Volumes=
|Remarks=
|Width=
|Header=
|Footer=
|tmplver=
}}
[[زمرہ:Urdu]]
m6inqotgrgka1uuzucf6rtft9b9ib5t
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/61
250
12862
35249
35236
2026-07-06T13:17:17Z
Charan Gill
46
35249
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کرتا تھا۔ مردار انکیا نو کو دہ برابر قصائد اور پند نامہ وغیرہ مین اِس طرح خطاب کرتا ہے جیسے بڑے اور بزرگ چہوٹون کو کیا کرتے ہیں۔اُس کے سوا ملک عادل شمس الدین جو کہ غالباً انکیانو کے بعد شیراز کا حاکم ہوا تھاأ وہ بھی حد سے زیادہ شیخ کی تعظیم اور عزت کرتا تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ شیراز مین فوج کے سپاہیون اور افسرون نے چوری ست سرکاری کہجورین جو زمین کے محصول مین زمیندارون سے وصول کی تھے سبزی فروشون کے ہاتون جبراً کسی وعدہ پر مہنگے نرخ سے بیچنی شروع کین اور بہت سے بوجھہ شیخ کے بہائی کی دکان پر بھی جو کہ خاس بادشاہی ڈیوڑھی کے پاس بقالی کی دوکان کرتا تھا بہجوائے۔ شیخ اس زمانہ <ref>یہ بزرگوار چوتہی صدی ہجری کے اکابر صوفیہ مین سے ہین جنکی نیست خواجہ عبدالہ انصاری نے لکہا ہے کہ حقائق دستارف مین کسی کی تصنیفات ابن خضیف کی برابر تہین آینا.</ref>مین حضرت ابو عبدالله ابن خضیف کی خاتقاہ من مجاور تہا۔ اُسکو بہی اِس واقعہ کی خبر پہنچی۔ اُس نے ملک شمس الدین کو جو کہ اس حال سے بیخیر تہا ایک قطعہ لکھ بہیجا جس مین اہل فوج کی شکایت اور اپنے بہائی کی دوکانداری اور بینوائی کا حال لکھا تھا۔ شمس الدین نے فوراً اسکا تدارک کیا اور خود شیخ کے پاس آیا اور معافی چاہی اور ہزار درم پیش کرکے کہا کہ یہ حقیر رقم آپکے
بہائی کے خرچ کے لیے ہے اسکو قبول کیجئے۔ شیخ نے لیکر ہہائی کو بہیجدی۔
شیخ کی وفات<ref>سر گورادسلی نے اوسکی وقات انابک محمد شاہ ابن نام شادبن سعد زندگی کے عہد مین لکہی ہے۔ مگر یہ بالکل غلط ہے۔ اتابک محمد شاہ ٦٦٠ مین تخت پر بیٹہا تہا اور ادارہ مہینے سلطنت کر کے مرگیا۔ پر اُسکا بہائی سلجوق شاہ تخت نشین ہوا اور ٦٦٢ مین قتل کیا گیا پہر سعد زنگی کی بیٹی آبس خاتون کے نام کا خطبہاور سکّہ جاری ہوا اور ٦٦٧ھ مین اُسکو معزول کرکے سلطان اباق خان نے سردار انکیانو کو جو کہ شیخ کا ممدوح ہے حاکم فارس مقرر کیا۔ اب آگے کوئی متنفس اتابکان فارس کے خاندان کا حکمران نہین ہوا۔ پس شیخ کی وفات جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا خاندان اتابک
کے زوال سے چوبیس پرس بعد اور اتابک محمد شاہ کے عمد سے تیس برس بعد واقع ہوئی ہے</ref> شیراز مین جبکہ آمابکان فارس کے خاندان کا خاتمہ ہو چکا تہا اور ولایت<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
sgh2pz7n9cwgpu6xtdy1wb6l447u7wo
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/62
250
12863
35247
35238
2026-07-06T13:12:28Z
Charan Gill
46
35247
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>فارس خانان تاتار کی حکومت مین آگئی تہی ٦٩١ ہجری میں واقع ہوئی ہے۔ کسی شاعر نے اُسکے مرنے کی تاریخ اِس طرح کہی ہے.
{{Block center|<poem>دُر سجر معارف شیخ سعدی
کہ در دریاے معنی بود غواص
مہ شوال روز جمعه روحش
بدان درگاه رفت از روی اخلاص
یکے پرسید سال فوت گفتم
ز خاصان بودازان تاریخ شود ٦٩١ ھہ خاص</poem>}}
شیخ کی عمر کسی نے ایک سو دو برس کی اور کسی نے ایک سو دس برس اور اکثر نے ایک سو بیس برس کی لکہی ہے۔ ہمارے نزدیک یہی پچہلا قول صحیح معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ شیخ جیسا کہ بوستان کی ایک حکایت سے معلوم ہوتا ہے جوانی کے زمانہ مین شیراز سے باہر گیا اور بغداد مین اُس نے مدتون امام ابن جوزی سے تحصیل علم کیا ہے۔ امام ابن جوزی کی وفات ٥٩٧ ھ مین ہو چکی تہی۔ اور شیخ کی وفات اس سے ٩٤ برس بعد واقع ہوئی پس اگر شیخ کی تمام عمر ایک سو دو برس کی سمجہی جائے تو لازم آتا ہے کہ شیخ زیادہ سے زیادہ نو برس کی عمر مین امام ابن جوزی سے تحصیل علم کر چکا تہا اور اگر ایک سو دس برس کی عمر قرار دی جائے تو یہ لازم آتا ہے کہ وہ سترہ برس کی عمر مین تحصیل علم سے فارغ ہو چکا تھا اور شیراز سے بچپن ہی کے زمانہ مین نکل گیا تھا۔
ہوا اور ٦٦٢ مین قتل کیا گیا پہر سعد زنگی کی بیٹی آبس خاتون کے نام کا خطبہاور سکّہ جاری ہوا اور ٦٦٧ھ مین اُسکو معزول کرکے سلطان اباق خان نے سردار انکیانو کو جو کہ شیخ کا ممدوح ہے حاکم فارس مقرر کیا۔ اب آگے کوئی متنفس اتابکان فارس کے خاندان کا حکمران نہین ہوا۔ پس شیخ کی وفات جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا خاندان اتابک
کے زوال سے چوبیس پرس بعد اور اتابک محمد شاہ کے عمد سے تیس برس بعد واقع ہوئی ہے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
sspjyki978jc2fj9v46qziq7yg9lvl4
35248
35247
2026-07-06T13:16:00Z
Charan Gill
46
35248
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>فارس خانان تاتار کی حکومت مین آگئی تہی ٦٩١ ہجری میں واقع ہوئی ہے۔ کسی شاعر نے اُسکے مرنے کی تاریخ اِس طرح کہی ہے.
{{Block center|<poem>دُر سجر معارف شیخ سعدی
کہ در دریاے معنی بود غواص
مہ شوال روز جمعه روحش
بدان درگاه رفت از روی اخلاص
یکے پرسید سال فوت گفتم
ز خاصان بودازان تاریخ شود ٦٩١ ھہ خاص</poem>}}
شیخ کی عمر کسی نے ایک سو دو برس کی اور کسی نے ایک سو دس برس اور اکثر نے ایک سو بیس برس کی لکہی ہے۔ ہمارے نزدیک یہی پچہلا قول صحیح معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ شیخ جیسا کہ بوستان کی ایک حکایت سے معلوم ہوتا ہے جوانی کے زمانہ مین شیراز سے باہر گیا اور بغداد مین اُس نے مدتون امام ابن جوزی سے تحصیل علم کیا ہے۔ امام ابن جوزی کی وفات ٥٩٧ ھ مین ہو چکی تہی۔ اور شیخ کی وفات اس سے ٩٤ برس بعد واقع ہوئی پس اگر شیخ کی تمام عمر ایک سو دو برس کی سمجہی جائے تو لازم آتا ہے کہ شیخ زیادہ سے زیادہ نو برس کی عمر مین امام ابن جوزی سے تحصیل علم کر چکا تہا اور اگر ایک سو دس برس کی عمر قرار دی جائے تو یہ لازم آتا ہے کہ وہ سترہ برس کی عمر مین تحصیل علم سے فارغ ہو چکا تھا اور شیراز سے بچپن ہی کے زمانہ مین نکل گیا تھا۔<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
cpugwo3a40xxdszp9wbe4wh933jy7w7
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/65
250
12866
35250
35245
2026-07-06T13:26:05Z
Charan Gill
46
35250
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>رہنے والا جہان دنیا کی ابادی ختم ہوتی ہے باوجود اختلاف مزہب۔ اختلاف قورم اور اختلاف ملک کے ایک مسلمان مصنف کی ایسی قدر کرے کہ عالم سفر مین اُسکے مقبرہ کی مرمت کرانے پر آمادہ ہوا اور اپنے پاس سے روپیہ خرچ کرنے کو موجور ہو۔ اور ایک مسلمان شاہزادہ سے باوجود اتحاد زبان۔ اتحاد مذہب۔ اتحاد قوم و ملک کے ایسی بیقدری اور
بے اعتنائی ظہور مین آئے۔
{{center|فَاعْتَبِرُوا يَاأُولِي الأَبْصَارِ}}<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
5keyc15y9woypfy5vqwt2zsnjiqxh5l
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/66
250
12867
35251
35246
2026-07-06T14:00:58Z
Charan Gill
46
35251
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{c|<big>'''دوسرا باب'''</big>}}
{{c|شیخ کی تصنیفات}}
{{c|شیخ کی شاعری کی شُہرت اُس کی زندگی مین}}
شیخ کی جادو بیانی اور وضاحت و بلاغت کا چرچا اُسکی زندگی ہی مین تمام ایران۔ ترکستاتاتار اور ہندوستان مین اسقدر پہیل گیا تھا کہ اُس زمانہ کی حالت پر لحاض کرنیکے بعد اسپر مشکل سے یقین آتا ہے۔ خود شیخ بہی گلستان کے دیباچہ مین کہتا ہے در فقر جمیل سعدی کہ در افراد عوام افتاوہ رعیت شخش کہ ... بیا زمین رفت" شیراز اور ایرانا کا ترین کی کیا اسلامی کا خاصا ہے
پہلے اس سے کہ شیخ کا شرمین پہنچے وہان کے چھوٹے بڑے اُس کے کمالات
سے واقف تہے۔
جس زمانہ مین شیخ کا شخر پہنچا ہے۔ غالباً وہ زمانہ ہے کہ چنگیزخان چینی تاتار کو خوارزمیو نے فتح کر چکا ہے اور سلطان محمد خوارزم کے ساتھہ چند روز کے لیے اُسکی صلع ہو گئی ہے۔ جب شیخ کا شغر کی جامع مسجد مین گیا تو وہان ایک طالب علم مقدمہ زمخشری<ref>علامہ جار اللہ زمخشری صاحب تفسیر کشاف نے عربی زبان کی نحو مین ایک مختصر متن لکہا ہے اُسکا نام مقدمہ زمخشری ہے۔</ref> ہاتہہ مین لیے زبان سے یہ کہہ رہا تھا کہ "مغرب زید عمرواً" شیخ اُس سے چہُل کی باتین کرنے لگا اور کہا کیون صاحب خوارزم و خطا مین صلح ہو گئی مگر زید اورعمر دکی خصومت بدستور چلی جاتی ہے۔ طالبعلم ہنس پڑا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
ajk0ehea7x09u6z642br13a1d586o5f
35252
35251
2026-07-06T14:03:16Z
Charan Gill
46
35252
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> {{center|{{x-larger|'''دوسرا باب'''}}}}
{{c|شیخ کی تصنیفات}}
{{c|{{larger|'''شیخ کی شاعری کی شُہرت اُس کی زندگی مین'''}}}}
شیخ کی جادو بیانی اور وضاحت و بلاغت کا چرچا اُسکی زندگی ہی مین تمام ایران۔ ترکستاتاتار اور ہندوستان مین اسقدر پہیل گیا تھا کہ اُس زمانہ کی حالت پر لحاض کرنیکے بعد اسپر مشکل سے یقین آتا ہے۔ خود شیخ بہی گلستان کے دیباچہ مین کہتا ہے در فقر جمیل سعدی کہ در افراد عوام افتاوہ رعیت شخش کہ ... بیا زمین رفت" شیراز اور ایرانا کا ترین کی کیا اسلامی کا خاصا ہے
پہلے اس سے کہ شیخ کا شرمین پہنچے وہان کے چھوٹے بڑے اُس کے کمالات
سے واقف تہے۔
جس زمانہ مین شیخ کا شخر پہنچا ہے۔ غالباً وہ زمانہ ہے کہ چنگیزخان چینی تاتار کو خوارزمیو نے فتح کر چکا ہے اور سلطان محمد خوارزم کے ساتھہ چند روز کے لیے اُسکی صلع ہو گئی ہے۔ جب شیخ کا شغر کی جامع مسجد مین گیا تو وہان ایک طالب علم مقدمہ زمخشری<ref>علامہ جار اللہ زمخشری صاحب تفسیر کشاف نے عربی زبان کی نحو مین ایک مختصر متن لکہا ہے اُسکا نام مقدمہ زمخشری ہے۔</ref> ہاتہہ مین لیے زبان سے یہ کہہ رہا تھا کہ "مغرب زید عمرواً" شیخ اُس سے چہُل کی باتین کرنے لگا اور کہا کیون صاحب خوارزم و خطا مین صلح ہو گئی مگر زید اورعمر دکی خصومت بدستور چلی جاتی ہے۔ طالبعلم ہنس پڑا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
a0djig3lpeym0euwbmqifdrzp7oos1q
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/67
250
13689
35253
34757
2026-07-06T14:24:13Z
Charan Gill
46
35253
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>۵۹
اور شوق کا لن پوچها - فرمایا خاک پک شیراز ۔ اس نے کہ کو بیدی کا کا مراد ہے ؟ شیخ نے
بطریق فروت اسی وقت دو عربی شرک کرتا ہے ۔ اُس نے کسی قدر حمل کے بعد کیا سحری کا زیاد تو
کلام فارسی ہے اگر کچھہ اس میں سے یاد ہو توپر کیے۔ آپ نے ویسے ہی دو فارسی شعر پر ہے
جن میں سے ایک یہ ہے شعر
{{Block center|<poem>اے دل عشاق بدام تو صید ما بتو مشغول و تو با عمرو زید</poem>}}
میں کو جب شیخ نے کا شعر سے چلنے کا ارادہ کیا کسی سے اس طالب علم نے کرنے پاک سعدی یہی
شخص ہے۔ وہ بہاگا ہوا شیخ کے پاس چلا آیا اور نہایت افسوس کیا کہ پہلے سے آپ نے اپنا
تام نہ بنایا ہمیں آپ کی خدمت گزاری ہے۔ معارت واپس آیا مگر اب بھی بندر از شهر مین چکار نیام
کیجئے توہم وگ خدمتگزاری سے مستفید ہوں اسکے جواب میں آپ نے یہ اشعار پر ہے ۔
اشعار
بزرگے دیدم اندر و بسیاری قناعت کرده از دنیا به فارسی
چرا گفته به شهراندیب کی کہ بارے بندازوں پر کشائی
:
بگفت آنجا به به ریان نزند پرگل بسیار شد سی ان بلغزند
سی طرح ملتان سے جوکہ شیراز سے چودہ سو میل ہے دو بارخان شہید سلطان محمد قاآن نے
شیخ کی شہرت سنگریہ سکو وطن سے بلا یا گروہ بڑہاپے کے سبب نہ آسکا۔
تبریز کے حمام میں میر شیخ اورمشہور شاعری کو تیزی کی نوک جھوک ہوئی ہے وہ نہایت
ا این باد و نسبت اعلی اور کالا علی کے ان کے ارمان سے مارا یاری می تا معاصرین<noinclude></noinclude>
nao8uedf67de02hrs7ovjevvflxf080
35254
35253
2026-07-06T14:52:03Z
Charan Gill
46
35254
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>۵۹
اور شوق کا لن پوچها - فرمایا خاک پک شیراز ۔ اس نے کہ کو بیدی کا کا مراد ہے ؟ شیخ نے
بطریق فروت اسی وقت دو عربی شرک کرتا ہے ۔ اُس نے کسی قدر حمل کے بعد کیا سحری کا زیاد تو
کلام فارسی ہے اگر کچھہ اس میں سے یاد ہو توپر کیے۔ آپ نے ویسے ہی دو فارسی شعر پر ہے
جن میں سے ایک یہ ہے شعر
{{Block center|<poem>اے دل عشاق بدام تو صید
ما بتو مشغول و تو با عمرو زید</poem>}}
شیخ کو جب شیخ نے کا شعر سے چلنے کا ارادہ کیا کسی سے اس طالب علم نے کرنے پاک سعدی یہی
شخص ہے۔ وہ بہاگا ہوا شیخ کے پاس چلا آیا اور نہایت افسوس کیا کہ پہلے سے آپ نے اپنا
تام نہ بنایا ہمیں آپ کی خدمت گزاری ہے۔ معارت واپس آیا مگر اب بھی بندر از شهر مین چکار نیام
کیجئے توہم وگ خدمتگزاری سے مستفید ہوں اسکے جواب میں آپ نے یہ اشعار پر ہے ۔
{{center|{{larger|'''اشعار'''}}}}
{{Block center|<poem>بزرگے دیدم اندر کو ہسیارے
قناعت کرده از دنیا بہ غارے
چرا گفتم به شہراندر نیائ
کہ بارے بنداز دل بر کشائی
بگفت آنجا پریرویانِ نَغْزند
چو گِل بسیار شد پیلان بلغزند</poem>}}
سی طرح ملتان سے جوکہ شیراز سے چودہ سو میل ہے دو بارخان شہید سلطان محمد قاآن نے
شیخ کی شہرت سنگریہ سکو وطن سے بلا یا گروہ بڑہاپے کے سبب نہ آسکا۔
تبریز کے حمام میں میر شیخ اورمشہور شاعری کو تیزی کی نوک جھوک ہوئی ہے وہ نہایت
ا این باد و نسبت اعلی اور کالا علی کے ان کے ارمان سے مارا یاری می تا معاصرین<noinclude></noinclude>
a20w8jyrvfsmgbeca1gf0wuuszg9y01
35263
35254
2026-07-07T07:23:51Z
BalramBodhi
60
35263
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>اور شیخ کا وتن پوچہا۔ فرمایا خاک پک شیراز۔ اُس نے کہا کوچہ سعدی کا کلام یاد ہے؟۔ شیخ نے غراح اُسیوقت دو عربی شعر کہکر پڑہے۔اُس نے کسی قدر تامل کے بعد کہا سعدی کا زیادتو کلام فارسی ہے اگر کچہ اُس مین سے یاد ہو تو پڑئے۔ آپ نے ویسے ہی دو فارسی شعر پڑہے جن مین سے ایک یہ ہے شعر
{{Block center|<poem>اے دل عشاق بدام تو صید
ما بتو مشغول و تو با عمد و زید</poem>}}
صبح کو جب شیخ نے کاشغر سے چلنے کا ارادہ کیا کسی نے اس طالب علم سے کہدیا کہ سعدی یہی شخص ہے۔ وہ بہاگا ہوا شیخ کے پاس چلا آیا اور نہایت افسوس کیا کہ پہلے سے آپ نے اپنا نام نہ بنایا کہ مین آپ کی خدمت گزاری سے سعادت حاصل کرتا۔اگر اب بہی چند روز شہر مین چلکر قیام کیجئے تو ہم لوگ خدمتگزاری سے مستفید ہون اسکے جواب مین آپ نے یہ اشعار پڑہے۔
{{center|{{larger|'''اشعار'''}}}}
{{Block center|<poem>بزرگے دیدم اندر کو ہسیارے
قناعت کرده از دنیا بہ غارے
چرا گفتم به شہراندر نیائ
کہ بارے بنداز دل بر کشائی
بگفت آنجا پریرویانِ نَغْزند
چو گل بسیار شد پیلان بلغزند</poem>}}
اسی طرح ملتان سے جو کہ شیراز سے چودہ سو میل ہے دو بار خان شہید سلطان محمد قاآن نے شیخ کی شہرت سنکر اوسکو وطن سے بلایا مگر وہ بڑہاپے کے سبب نہ آسکا۔
تبریز کے حمام مین جو شیخ اور مشہور شاعر حمام تیزی کی نوک جھوک ہوئی ہے وہ نہایت
خواجہ حمام الدین باوجود نسبت باطنی اور کمالات علمی کے تبریز کے امراین سے تہا اور شاعری مین تمام معاصرین<noinclude></noinclude>
prxx6b0ru5ng0esbctpovrk58ix8j9w
35264
35263
2026-07-07T07:54:25Z
Charan Gill
46
35264
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>اور شیخ کا وتن پوچہا۔ فرمایا خاک پک شیراز۔ اُس نے کہا کوچہ سعدی کا کلام یاد ہے؟۔ شیخ نے غراح اُسیوقت دو عربی شعر کہکر پڑہے۔اُس نے کسی قدر تامل کے بعد کہا سعدی کا زیادتو کلام فارسی ہے اگر کچہ اُس مین سے یاد ہو تو پڑئے۔ آپ نے ویسے ہی دو فارسی شعر پڑہے جن مین سے ایک یہ ہے شعر
{{Block center|<poem>اے دل عشاق بدام تو صید
ما بتو مشغول و تو با عمد و زید</poem>}}
صبح کو جب شیخ نے کاشغر سے چلنے کا ارادہ کیا کسی نے اس طالب علم سے کہدیا کہ سعدی یہی شخص ہے۔ وہ بہاگا ہوا شیخ کے پاس چلا آیا اور نہایت افسوس کیا کہ پہلے سے آپ نے اپنا نام نہ بنایا کہ مین آپ کی خدمت گزاری سے سعادت حاصل کرتا۔اگر اب بہی چند روز شہر مین چلکر قیام کیجئے تو ہم لوگ خدمتگزاری سے مستفید ہون اسکے جواب مین آپ نے یہ اشعار پڑہے۔
{{center|{{larger|'''اشعار'''}}}}
{{Block center|<poem>بزرگے دیدم اندر کو ہسیارے
قناعت کرده از دنیا بہ غارے
چرا گفتم به شہراندر نیائ
کہ بارے بنداز دل بر کشائی
بگفت آنجا پریرویانِ نَغْزند
چو گل بسیار شد پیلان بلغزند</poem>}}
اسی طرح ملتان سے جو کہ شیراز سے چودہ سو میل ہے دو بار خان شہید سلطان محمد قاآن نے شیخ کی شہرت سنکر اوسکو وطن سے بلایا مگر وہ بڑہاپے کے سبب نہ آسکا۔
تبریز کے حمام مین جو شیخ اور مشہور شاعر حمام<ref>خواجہ حمام الدین باوجود نسبت باطنی اور کمالات علمی کے تبریز کے امرا مین سے تہا اور شاعری مین تمام معاحرین</ref> تیزی کی نوک جھوک ہوئی ہے وہ نہایت<noinclude></noinclude>
8hhbacrj2xsc3y55he0a17t4qh1hsb5
35266
35264
2026-07-07T08:06:27Z
Charan Gill
46
35266
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>اور شیخ کا وتن پوچہا۔ فرمایا خاک پک شیراز۔ اُس نے کہا کوچہ سعدی کا کلام یاد ہے؟۔ شیخ نے غراح اُسیوقت دو عربی شعر کہکر پڑہے۔اُس نے کسی قدر تامل کے بعد کہا سعدی کا زیادتو کلام فارسی ہے اگر کچہ اُس مین سے یاد ہو تو پڑئے۔ آپ نے ویسے ہی دو فارسی شعر پڑہے جن مین سے ایک یہ ہے شعر
{{Block center|<poem>اے دل عشاق بدام تو صید
ما بتو مشغول و تو با عمد و زید</poem>}}
صبح کو جب شیخ نے کاشغر سے چلنے کا ارادہ کیا کسی نے اس طالب علم سے کہدیا کہ سعدی یہی شخص ہے۔ وہ بہاگا ہوا شیخ کے پاس چلا آیا اور نہایت افسوس کیا کہ پہلے سے آپ نے اپنا نام نہ بنایا کہ مین آپ کی خدمت گزاری سے سعادت حاصل کرتا۔اگر اب بہی چند روز شہر مین چلکر قیام کیجئے تو ہم لوگ خدمتگزاری سے مستفید ہون اسکے جواب مین آپ نے یہ اشعار پڑہے۔
{{center|{{larger|'''اشعار'''}}}}
{{Block center|<poem>بزرگے دیدم اندر کو ہسیارے
قناعت کرده از دنیا بہ غارے
چرا گفتم به شہراندر نیائ
کہ بارے بنداز دل بر کشائی
بگفت آنجا پریرویانِ نَغْزند
چو گل بسیار شد پیلان بلغزند</poem>}}
اسی طرح ملتان سے جو کہ شیراز سے چودہ سو میل ہے دو بار خان شہید سلطان محمد قاآن نے شیخ کی شہرت سنکر اوسکو وطن سے بلایا مگر وہ بڑہاپے کے سبب نہ آسکا۔
تبریز کے حمام مین جو شیخ اور مشہور شاعر حمام<ref>خواجہ حمام الدین باوجود نسبت باطنی اور کمالات علمی کے تبریز کے امرا مین سے تہا اور شاعری مین تمام معاحرین اسکو مانتے تھے۔ محقق طوسی سے تحصیل علم کی تہی اور ٧١٣ ہجری مین وفات پائی۔ </ref> تیزی کی نوک جھوک ہوئی ہے وہ نہایت<noinclude></noinclude>
3jtg91v00o70yx22d6w9eqamlsyzpxb
35267
35266
2026-07-07T08:08:27Z
Charan Gill
46
35267
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>اور شیخ کا وتن پوچہا۔ فرمایا خاک پک شیراز۔ اُس نے کہا کوچہ سعدی کا کلام یاد ہے؟۔ شیخ نے غراح اُسیوقت دو عربی شعر کہکر پڑہے۔اُس نے کسی قدر تامل کے بعد کہا سعدی کا زیادتو کلام فارسی ہے اگر کچہ اُس مین سے یاد ہو تو پڑئے۔ آپ نے ویسے ہی دو فارسی شعر پڑہے جن مین سے ایک یہ ہے شعر
{{Block center|<poem>اے دل عشاق بدام تو صید
ما بتو مشغول و تو با عمد و زید</poem>}}
صبح کو جب شیخ نے کاشغر سے چلنے کا ارادہ کیا کسی نے اس طالب علم سے کہدیا کہ سعدی یہی شخص ہے۔ وہ بہاگا ہوا شیخ کے پاس چلا آیا اور نہایت افسوس کیا کہ پہلے سے آپ نے اپنا نام نہ بنایا کہ مین آپ کی خدمت گزاری سے سعادت حاصل کرتا۔اگر اب بہی چند روز شہر مین چلکر قیام کیجئے تو ہم لوگ خدمتگزاری سے مستفید ہون اسکے جواب مین آپ نے یہ اشعار پڑہے۔
{{center|{{larger|'''اشعار'''}}}}
{{Block center|<poem>بزرگے دیدم اندر کو ہسیارے
قناعت کرده از دنیا بہ غارے
چرا گفتم به شہراندر نیائ
کہ بارے بنداز دل بر کشائی
بگفت آنجا پریرویانِ نَغْزند
چو گل بسیار شد پیلان بلغزند</poem>}}
اسی طرح ملتان سے جو کہ شیراز سے چودہ سو میل ہے دو بار خان شہید سلطان محمد قاآن نے شیخ کی شہرت سنکر اوسکو وطن سے بلایا مگر وہ بڑہاپے کے سبب نہ آسکا۔
تبریز کے حمام مین جو شیخ اور مشہور شاعر حمام<ref>خواجہ حمام الدین باوجود نسبت باطنی اور کمالات علمی کے تبریز کے امرا مین سے تہا اور شاعری مین تمام معاحرین اسکو مانتے تھے۔ محقق طوسی سے تحصیل علم کی تہی اور ٧١٣ھ مین وفات پائی۔ </ref> تیزی کی نوک جھوک ہوئی ہے وہ نہایت<noinclude></noinclude>
s44co138jvszn2np10px89m5guarh9e
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/68
250
13690
35265
34758
2026-07-07T07:55:57Z
Charan Gill
46
35265
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>شہور قصہ ہے۔ جب تک ہمام نے یہ جانا کہ شخصی سعدی ہے تب تک اس سے
چیتر پارکرتا رہا۔ لیکن جب معلوم کہ پاس ہی شیرازی ہے اورا نہایت شرمندگی سے مدد
معذرت کر کے اپنے مکان رہے گی اور جب تک شی تر زمین، با کمال تعلیم اور است
اسکی مهمانداری کی۔
سرگورا وسلی نے کتاب مجالس العشاق سے ایک حکا بہت نقل کی ہے جسکا خلاصہ یہ
کیم نزاری استانی جا بخراسان کا یک مشهور شاعر و میکیان زمان آدمی تا ا اور
سمعیل ذب رکھتاتھا شیراز کے عالمین شیخ سے ایک معنی صورت میں ملا معلوم ہوا
کہ شخص خراسان کا رہنے والا ہے شیخ نے پوچھا کہ سندی کو کوئی خراسان میں جانتا ہے ؟ کہاں
اک کا اور ان مونا زبان زد خالق ہے اور پر شیخ کی درخواست ہے اسکے چند اشعار پر ہے
ی خطا ہو اور مجھا کہ شیخی شہر کی عمدہ مذاق رکھتا ہے ۔ آخر دونوں پر ایک دوستر
کی حقیقت کھل گئی۔ شیخ زواری کو اپنے مکان پر لے گیا۔ اور بہت دن تک اسکو جانے دیا۔
در بہت خوشی سے دل کویل کراسکی کمانداری کی حکم مزاری نے وہان سے رخصت ہوتے
وقت اپنے کام کو کیا ہے کہ ان کی
مواضع دور ارات کس طرح کیا کرتے ہیں یہ جلد شیخ کے کان تک بھی پہنچ گیا۔ اسکور سال
فسوس ہوا اور یہ تھاکہ حکیم نے ہماری مہمانداری بین شاید کوئی تصور دیکھا۔ حسن اتفاق سے
شیخ کا گورتا نان میں ہیں اوریکو نزاری سے ملاقات ہوئی میر بہت محبت اور اخلاق سے<noinclude></noinclude>
56bkndgt30ofxrh4xvlgi8gs0lb1a5z
35268
35265
2026-07-07T08:36:00Z
Charan Gill
46
35268
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>شہور قصّہ ہے۔ جب تک ہمام نے یہ جانا کہ شخصی سعدی ہے تب تک اس سے
چہیڑ چھاڑ کرتا رہا۔ لیکن جب معلوم ہوا کہ یہ سعدی شیرازی ہے اورا نہایت شرمندگی سے مدد
معذرت کر کے اپنے مکان رہے گی اور جب تک شی تر زمین، با کمال تعلیم اور است
اسکی مهمانداری کی۔
سرگورا وسلی نے کتاب مجالس العشاق سے ایک حکا بہت نقل کی ہے جسکا خلاصہ یہ
کیم نزاری استانی جا بخراسان کا یک مشهور شاعر و میکیان زمان آدمی تا ا اور
سمعیل ذب رکھتاتھا شیراز کے عالمین شیخ سے ایک معنی صورت میں ملا معلوم ہوا
کہ شخص خراسان کا رہنے والا ہے شیخ نے پوچھا کہ سندی کو کوئی خراسان میں جانتا ہے ؟ کہاں
اک کا اور ان مونا زبان زد خالق ہے اور پر شیخ کی درخواست ہے اسکے چند اشعار پر ہے
ی خطا ہو اور مجھا کہ شیخی شہر کی عمدہ مذاق رکھتا ہے ۔ آخر دونوں پر ایک دوستر
کی حقیقت کھل گئی۔ شیخ زواری کو اپنے مکان پر لے گیا۔ اور بہت دن تک اسکو جانے دیا۔
در بہت خوشی سے دل کویل کراسکی کمانداری کی حکم مزاری نے وہان سے رخصت ہوتے
وقت اپنے کام کو کیا ہے کہ ان کی
مواضع دور ارات کس طرح کیا کرتے ہیں یہ جلد شیخ کے کان تک بھی پہنچ گیا۔ اسکور سال
فسوس ہوا اور یہ تھاکہ حکیم نے ہماری مہمانداری بین شاید کوئی تصور دیکھا۔ حسن اتفاق سے
شیخ کا گورتا نان میں ہیں اوریکو نزاری سے ملاقات ہوئی میر بہت محبت اور اخلاق سے<noinclude></noinclude>
lvd6lx0t8qove75lxftrq27r82fwhnn
اشاریہ:Alif Layla (1847).pdf
252
13796
35256
35223
2026-07-07T03:14:23Z
Kuldeepburjbhalaike
17
35256
proofread-index
text/x-wiki
{{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template
|Type=book
|Title=
|Language=ur
|Volume=
|Author=
|Translator=
|Editor=
|Illustrator=
|School=
|Publisher=
|Address=
|Year=
|Key=
|ISBN=
|OCLC=
|LCCN=
|BNF_ARK=
|ARC=
|DOI=
|Source=pdf
|Image=1
|Progress=X
|Transclusion=no
|Validation_date=
|Pages=<pagelist 14="2" />
|Volumes=
|Remarks=
|Width=
|Header={{rh||{{{pagenum}}}}}
|Footer=
|tmplver=
}}
mwzui7mqi1shlzvldtgz1bq75wxgcyv
اشاریہ:Guldasta - Anjuman by Wajid Ali Khan (1849).pdf
252
13797
35271
35204
2026-07-07T09:34:38Z
Kuldeepburjbhalaike
17
35271
proofread-index
text/x-wiki
{{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template
|Type=book
|Title=
|Language=ur
|Volume=
|Author=
|Translator=
|Editor=
|Illustrator=
|School=
|Publisher=
|Address=
|Year=
|Key=
|ISBN=
|OCLC=
|LCCN=
|BNF_ARK=
|ARC=
|DOI=
|Source=_empty_
|Image=1
|Progress=X
|Transclusion=no
|Validation_date=
|Pages=<pagelist 5="1" />
|Volumes=
|Remarks=
|Width=
|Header={{rh||{{{pagenum}}}}}
|Footer=
|tmplver=
}}
kxxgd7y1p1r9tlo9ygs8im88ihqirsu
35272
35271
2026-07-07T09:35:14Z
Kuldeepburjbhalaike
17
35272
proofread-index
text/x-wiki
{{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template
|Type=book
|Title=
|Language=ur
|Volume=
|Author=
|Translator=
|Editor=
|Illustrator=
|School=
|Publisher=
|Address=
|Year=
|Key=
|ISBN=
|OCLC=
|LCCN=
|BNF_ARK=
|ARC=
|DOI=
|Source=pdf
|Image=1
|Progress=X
|Transclusion=no
|Validation_date=
|Pages=<pagelist 5="1" />
|Volumes=
|Remarks=
|Width=
|Header={{rh||{{{pagenum}}}}}
|Footer=
|tmplver=
}}
i7lbu0dno2r0seojz0diuzv8km6j83r
اشاریہ:Tutinamah - Muhammad Qadir - Sayad Haider Bakhsh Haidri (1836).pdf
252
13798
35255
35224
2026-07-07T03:06:52Z
Kuldeepburjbhalaike
17
35255
proofread-index
text/x-wiki
{{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template
|Type=book
|Title=
|Language=ur
|Volume=
|Author=
|Translator=
|Editor=
|Illustrator=
|School=
|Publisher=
|Address=
|Year=
|Key=
|ISBN=
|OCLC=
|LCCN=
|BNF_ARK=
|ARC=
|DOI=
|Source=pdf
|Image=1
|Progress=X
|Transclusion=no
|Validation_date=
|Pages=<pagelist 6="2" />
|Volumes=
|Remarks=
|Width=
|Header={{rh||{{{pagenum}}}}}
|Footer=
|tmplver=
}}
ohnvwowxdlxtw120j6lkakxeorzywhm
اشاریہ:Qissa-e-Gul-o-Sanobar by Munshi Neem Chand Khatri.pdf
252
13800
35257
35221
2026-07-07T03:18:36Z
Kuldeepburjbhalaike
17
35257
proofread-index
text/x-wiki
{{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template
|Type=book
|Title=
|Language=ur
|Volume=
|Author=
|Translator=
|Editor=
|Illustrator=
|School=
|Publisher=
|Address=
|Year=
|Key=
|ISBN=
|OCLC=
|LCCN=
|BNF_ARK=
|ARC=
|DOI=
|Source=pdf
|Image=1
|Progress=X
|Transclusion=no
|Validation_date=
|Pages=<pagelist 9="2" />
|Volumes=
|Remarks=
|Width=
|Header={{rh||( {{{pagenum}}} )}}
|Footer=
|tmplver=
}}
lvb952udcht16nttd2thfa42twhvpxs
اشاریہ:Nishtar-e-Ishq.pdf
252
13801
35270
35219
2026-07-07T09:29:39Z
Kuldeepburjbhalaike
17
35270
proofread-index
text/x-wiki
{{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template
|Type=book
|Title=
|Language=ur
|Volume=
|Author=
|Translator=
|Editor=
|Illustrator=
|School=
|Publisher=
|Address=
|Year=
|Key=
|ISBN=
|OCLC=
|LCCN=
|BNF_ARK=
|ARC=
|DOI=
|Source=pdf
|Image=1
|Progress=X
|Transclusion=no
|Validation_date=
|Pages=<pagelist 12="2" />
|Volumes=
|Remarks=
|Width=
|Header={{rh||{{{pagenum}}}}}
|Footer=
|tmplver=
}}
ensmqroq8a7bp0eft2w7opniov9ema0
اشاریہ:Gulistan - Shaikh Sadii Shirazi (1848).pdf
252
13802
35269
35220
2026-07-07T09:26:01Z
Kuldeepburjbhalaike
17
35269
proofread-index
text/x-wiki
{{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template
|Type=book
|Title=
|Language=ur
|Volume=
|Author=
|Translator=
|Editor=
|Illustrator=
|School=
|Publisher=
|Address=
|Year=
|Key=
|ISBN=
|OCLC=
|LCCN=
|BNF_ARK=
|ARC=
|DOI=
|Source=pdf
|Image=1
|Progress=X
|Transclusion=no
|Validation_date=
|Pages=<pagelist 10="2" />
|Volumes=
|Remarks=
|Width=
|Header={{rh||{{{pagenum}}}}}
|Footer=
|tmplver=
}}
oi5kh00298z95qm616u401pqxqboq5s
صفحہ:Alif Layla (1847).pdf/7
250
13807
35258
2026-07-07T04:54:39Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”قطعه تاریخ وطن رای خالی کرد کارت کرد کر است که ابزارش ای رکین جمالی است فر مرادی ستاخ قلم چنین شهرداد کرو جلی کسی شاہ کی اوس کو کفر و وسمین نیکی کی اس کو . زندہ ایسی پاکی حس آر بولی کہ یہ چور ہی همیارا قابل ہی سبلانی کی یہ فاست روح استدرا کا ہوا ہی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35258
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||7}}</noinclude>قطعه تاریخ وطن
رای خالی کرد کارت کرد
کر است که ابزارش ای
رکین جمالی است فر مرادی
ستاخ قلم چنین شهرداد کرو
جلی کسی شاہ کی اوس کو کفر و وسمین نیکی کی اس کو .
زندہ ایسی پاکی حس آر بولی کہ یہ چور ہی همیارا
قابل ہی سبلانی کی یہ فاست روح استدرا کا ہوا ہی عاشق
بولی وہ بکاؤنی که فر ان یہ کون سی فیلم می بچے جان
میری کام اپنی پوری پایا کیون رستم و سپی و گوارا
حسن
آبدانی کہنا بجا ہے
کیا کہتی وہ دم بخود سے سوچی سمجی مامند کے
مرسوم بہتی جنسیس طرح کی بندان شاد بکا خوشی خوشی کیا سات
د و ساز درب ملی خونتان کم دورات ادب کہلی نصب ننگ
شادی جو ہوئی تو نیم مواد فرد دوست سے کمر کو آئی وہ خورا
گلزار جو اسرین مبین اگر یه ابا دیوی دوو یاسمن
حاصل ہوئی اون
کلون
کو بی سی شب زلف و صبح رخساریا
مطرح و بین بیم ملایا
بچھڑی ہوئی سب مالی جب دیا
تاریخ اختتام تصنیف از مصنف
این نامه و خامه
کرد بنیاد گلزار نسیم نام نیاد
بشنید و نوید اتنے دادا تا توضیح نسبتول روز پیش باد
کل گفت که
انی سے شام خلد الله
حين
چون مطبع اوست خوردی
در مطب تو
بیناشید و استو
خوب
چون زیر طبیع نیک کنید
۴۵
قلت سیخ طبع النتائج
طبع مواد کی بہت علی شیخ
پرشتاقان من
شربت چنان بسیار با خلق
ر با كمال عبيد
محمد و ثانی محمد احمد مصوری
حمد حلمات شرف استبادر سیاه
ظهور آوردي وانا تشيف
البنان ما باشا تقسیم
بوقلمون از مبرده دو کلو گام
ا انواع علومه است این فنون کی
متر است که مصور کو ناکون اشباح<noinclude></noinclude>
al6eu692062cdvt5v2m7fzps6klhhoz
صفحہ:Alif Layla (1847).pdf/8
250
13808
35259
2026-07-07T04:54:57Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”د در دو ناحیه دو سر در بی است که با یادت بره ای با این براز داشت و به بیانی کوکسی بدانیت و ارشاد برافروخت امید برجا ئرت الفتین سخن مخفی منتخب میاد که در مولا سندات و دیگر تخلی نسیم که در فن شاعری کمالی هم رسانیده اند یکی از ت گردان خوابه صاحب وحی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35259
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||8}}</noinclude>د در دو ناحیه دو سر در بی است که با یادت بره ای با این
براز داشت و به بیانی کوکسی بدانیت و ارشاد برافروخت امید
برجا ئرت الفتین سخن مخفی منتخب میاد که در مولا سندات و دیگر
تخلی نسیم که در فن شاعری کمالی هم رسانیده اند یکی از
ت گردان خوابه صاحب وحید عصر و یکتای زنان خواجه چند سال
متخاص ا ا ا ا الملوک و برای ما از نشر به نظم توده
به گلزار نسیم موسوم ساخته بودند با حسن اوقات وسعد
زمان دربیت السلطنت لبو محمد محمود کا متصل که می دانی
در مطبع مصطفائی فدوی خاندان مصطفوی مهر صطفی مهان
ولد حاجی محمد روشن خان خاله دنونها به صحیح و مقابله
1344
۴۶<noinclude></noinclude>
fdmklqc1z6yuv37753yysgnytpacctj
صفحہ:1901 Safarnama-Roam-O-Misr-O-Shaam urdu.pdf/6
250
13809
35260
2026-07-07T04:56:17Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”مصور رنا مه ردوم و شام ۶۱۸۹۳ بسم الله ارحمن الرحيم حاميد او مصيدا در موسه گل گیر به گلستان نرسید یمر از دست ندادیم تماشائے خزان را ریضان المبارک میں میں نے قسطنطنیہ وغیرہ کا جو سفر یا وہ محض ایک الالعلمانہ سفر تھا۔ اور چونکہ یہ کوئی خیر تولی ام...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35260
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|(5)}}</noinclude>مصور رنا مه ردوم و شام
۶۱۸۹۳
بسم الله ارحمن الرحيم
حاميد او مصيدا
در موسه گل گیر به گلستان نرسید یمر از دست ندادیم تماشائے خزان را
ریضان المبارک میں میں نے قسطنطنیہ وغیرہ کا جو سفر یا وہ محض ایک الالعلمانہ
سفر تھا۔ اور چونکہ یہ کوئی خیر تولی امر تھا۔ نہ واقعات سفر میں چنداں ندرست تھی ۔
سفر نامہ لکھنے کا میرا ارادہ نہ تھا۔ لیکن وہاں سے واپس آکر چین بزرگوں اور دوستوں
سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ سب سفرنامہ کے متقاضی تھے۔ میں نے خیال کیا کہ چونکہ
ایک مدت سے ہماری جماعت میں سیر و سیاحت کا طریقہ مند ہے اور اس وجہ
سے اسلامی ممالک کے صحیح حالات سے بالکل اطلاع نہیں میں ہوتی ۔ لوگوں کا
یہ تقاضا کچھ بیجا نہیں۔ مسجد کو خداپنی حالت یاد آئی کہ سفر سے پہلے قسطنطنیہ بنو ہے کوئی
سیار ملاتا۔ تو میں گھنٹوں وہاں کے حالات پوچھا کرتا ہے
یہ اب اس کے جنہوں نے مجھے کوان اوراق پریشان کی ترتیب پر آمادہ کیا ورنہ ایسے
عاجلانہ اور معمولی سفر کے حالات قلمبند کرنے اور ان کو سفر نامہ یا کتاب الترجلت کا لقب دینا
یک طرف سے خالی نہ تھا۔ سفرنامہ میںجس قسم کی اطلاعیں لازمی اور ضروری ہیں یعنی ملک کی مالی
حالت انتظام کا طریقہ عدالت کے حصول متجارت کی کیفیت۔ عمارتوں کے تھے۔ ان میں
سے ایک چیز بھی اس سفرنامہ میں نہیں البتہ معاشرت او علمی حالت کے متعلق معتد بہ واقعات
ہیں۔ اگر چہ وہ بھی اس تفصیل کے ساتھ نہیں ہیں میں قدر ہونی چاہئیں۔ فرض جو شخص
سفر نامہ کو سفرنامہ کی حیثیت سے دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ اس کتاب سے بو الطعن
نہیں اٹھا سکتا۔ البتہ جن لوگوں کو اسلامی ممالک کے معمولی واقعات میں بھی منہ<noinclude></noinclude>
3a6lfk5c54ve1eq53bzogonr0fuivnk
صفحہ:1901 Safarnama-Roam-O-Misr-O-Shaam urdu.pdf/7
250
13810
35261
2026-07-07T04:56:34Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”سفرنامه میصر روم و شمام آتا ہے اُن کی دعوت میں یہ ماحضر پیش کیا جاسکتا ہے کہ مالا يدرك كله لا يترك كله . + میں نے اگر چہ اس کتاب میں ترکوں کی تمدنی یا لکی حالت سے کچھ بحث نہیں کی ہے۔ اور نہ ہی قسم کی بحث میرے منصب حالت کے لحاظ سے مناسب بھی یہ ہم میں...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35261
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|(5)}}</noinclude>سفرنامه میصر روم و شمام
آتا ہے اُن کی دعوت میں یہ ماحضر پیش کیا جاسکتا ہے کہ مالا يدرك كله لا
يترك كله .
+
میں نے اگر چہ اس کتاب میں ترکوں
کی تمدنی یا لکی حالت سے کچھ بحث نہیں کی ہے۔
اور نہ ہی قسم کی بحث میرے منصب حالت کے لحاظ سے مناسب بھی یہ ہم میں کتاب کو
شتہ کر ناظرین کے دل میں ترکوں کی تندی شائستگی کاجو دور بہ قائم ہوگا وہ اس سے
مختلف ہو گا جو یورپ کے عام لٹریچر سے ظاہر ہوتا ہے یہ
یورپ
نے کسی زمانہ میں مسلمانوں کے خلاف جو خیالات قائم کر لئے تھے ۔ ایک
مدت تک وہ علانیہ اس طریقہ سے ظاہر کئے جاتے تھے کہ مذہبی تعصب کا رنگ صراف
نظر آتا تھا۔ اور اس وقت قبول عام کا ہی براشدہ ذریعہ تھا لیکن جب یورپ میں مہب کا
زور گھٹ گیا۔ اور مذہبی تڑا نے بالکل بے اثر ہو گئے۔ تو اس پالیسی نے دوسرا پہلو بدلا۔ اب
یہ طریقہ چنداں مفید نہیں سمجھا جاتا ۔
کہ مسلمانوں کی نسبت صاف صاف متعصبانہ الفاظ
لکھے جائیں۔ بلکہ بجانے اس کے یہ دانشمندانہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ اسامی حکومتوں
اسلامی قوموں ۔ اسلامی معاشرت کے عیوب تاریخی پیرایہ میں ظاہر کئے جاتے ہیں۔
عام تصنیفات قضوں ناولوں ضرب المثلوں کے ذریعہ سے وہ لٹریچر میں اس ٹوی
جذب ہو جاتے ہیں کہ تحلیل کمیاری سے بھی برا نہیں ہو سکتے ۔
اگرچه به طریقیه کل اسلامی قوموں سے برتا جاتا ہے۔ لیکن اس داشتہ ہم کو
خاص ترکوں سے بحث ہے ۔ یو مین ٹریچر پڑھ کر ترکوں کی نسبت مستقیہ کے خیالات
نہ پیدا ہونے بعینہ ایسا ہے جیسا خواب آور در لکھا کر نعتیہ کا نہ آنا ہے
یورپ میں مصنفین کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ اور اس وجہ سے ان میں انتخاب نیک
ول ظاہر ہیں۔ دقیق النظر یہ درجہ اور ہر طبقے کے لوگ ہیں۔ لیکن ترکوں کے ذکریں
اختلاف مروج بالکل زائل ہو جاتا ہے اور ہر مانت وہی ایک محمد نیکتی ہے میاں<noinclude></noinclude>
79vhl4blcymsqhv5xsq7uzngybn58bb
صفحہ:1901 Safarnama-Roam-O-Misr-O-Shaam urdu.pdf/8
250
13811
35262
2026-07-07T04:56:51Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”سفر نامه روم و شام مثلاً آج کل کے بچے سے سچے اور من مصنف کی راست بیائی ہے کہ وہ ترکی حکومت کے ذکر میں مقرضہ کی گرانباری صنائع و فنون کا بقدر کافی موجود نہ ہونا اضلاع میں تعلیم کی عدم وسعت - آلات و اسلم میں یورپ کی ہنسیان - ان تمام امور کو پاکر است ر...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35262
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|(5)}}</noinclude>سفر نامه روم و شام
مثلاً آج کل کے بچے سے سچے اور من مصنف کی راست بیائی ہے کہ وہ ترکی
حکومت کے ذکر میں مقرضہ کی گرانباری صنائع و فنون کا بقدر کافی موجود نہ ہونا اضلاع
میں تعلیم کی عدم وسعت - آلات و اسلم میں یورپ
کی ہنسیان - ان تمام امور کو پاکر است
راست لکھتا ہے لیکن جہلا میں حال میں ہوئی ہیں ان کے ذکر سے اس طرح دامن بچا جاتا
ہے کہ گویا صلاح کا سرے سے وجوہی نہیں روانہ کا انتظام تمام اضلاع میں زراعتی نوین
کا قائم ہوتا اور مدارس برش دیہ کی تعداد کا 94 سے ۴۰۵ تک ترقی کر جانا بڑے بڑے
کالجوں کا جاری ہونا۔ ریلوے کی رحت ادائے قرضہ کے انتظامات فوجی قوت کی
ترقی ۔ ان واقعات کو بھول کر نہیں لکھتا :
کسی قوم یاکسی شخص کے قابل طرح یا دم ثابت کرنے کا یہ نہایت آسان طریقہ ہے۔
کہ اس کے حالات اور واقعات کی یک تی تصویر پینی جائے اور انصاف یہ ہے کہ یورپ
نے اس فریب آمیز طریقے کودنیا کی تمام قوموں سے زیادہ برتا ہے *
بے شبہ یورپ میں ایسے فیاض دل بھی ہیں جن کو مقصد ہے کچھ واسطہ نہیں ۔ لیکن
بچپن سے میں قسم کے خیالات میں انہوں نے پرورش پائی ہے۔ اُن کے گردوپیش معلومات
کا جو سرمایہ ہے۔ جو آوازیں ہر طرف سے اُن کے کانوں میں آتی ہیں۔ ان چیزوں کے
مقابلے میں اُن کی بے حقیقی بھی کچھ کام نہیں دیتی ۔ ایک صاحب جو نہایت بے صب
اور عام شخص ہیں اور مجھ کو ان کی خدمت میں نیاز حاصل ہے۔ قسطنطنیہ و مصر وغیرہ کا سفر
کر کے واپس آتے تو میں نے اُن سے برسبیل تذکرہ پوچھا کہ آپ نے قاہرہ میں جامع
ازہر کی سیر بھی کی ؟ بولے تجھے کراس کی سیر کا بہت شوق تھا لیکن میرے رہنما
ے سلطان عالی کے عہد میں جو علی اور عملی ترقیاں ہوئی ہیں۔ اس کی تفصیل میں ایک مستقل کتاب
یکھی گئی ہے جو ہ ماہ طبیہ میں شائع ہوئی ہے۔ اور خاص بجری ترقیوں کے ذکر میں رہم ایک ندی
کا رسالہ خان میں شائع ہوا ہے جس کا نام دور ترقی ہے۔<noinclude></noinclude>
40tdo3jwwp232oflgji4bvcyfyqeghl