ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.10
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/68
250
13690
35276
35268
2026-07-08T06:39:25Z
BalramBodhi
60
35276
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>مشہور قصّہ ہے۔ جب تک ہمام نے یہ جانا کہ شخصی سعدی ہے تب تک اُس سے
چہیڑ چھاڑ کرتا رہا۔ لیکن جب معلوم ہوا کہ یہ سعدی شیرازی ہے فوراً نہایت شرمندگی سے عزر معذرت کر کے اپنے مکان پر لے گیا اور جب تک شیخ تبریز مین رہا کمال تعضیم اور ادب سے اسکی مہمانداری کی۔
سر گوراوسلی نے کتاب مجالس العشاق سے ایک حکایت نقل کی ہے جسکا خلاصہ یہ ہے کہ حکیم نزاری قہتانی اجوک خراسان کا ایک مشہور شاعر اور حکیمانہ مزاج آدمی تہا اور اسمعیلی مذہب رکھتا تھا، شیراز کے حمام مین شیخ سے ایک آجنبی صورت مین ملا معلوم ہوا کہ یہ شخص خراسان کا رہنے والا ہے شیخ نے پوچھا کہ سعدی کو کوئی خراسان مین جانتا ہے؟ کہا اسکا کلام وہان اموما زبان زد خالق ہے۔ اور پہر شیخ کی درخواست سے اُسکے چند اشعار پڑہے جنکو سنکر شیخ \مختلوظ\ ہوا اور سمجہا کہ یہ شخس شعر کا عمدہ مذاق رکھتا ہے۔ آخر دونون پر ایک دوسرے کی حقیقت کہل گئی۔ شیخ نزاری کو اپنے مکان پر لے گیا۔ اور بہت دن تک اُسکو جانے نہ دیا اور بہت خوشی سے دل کہول کر اُسکی مہمانداری کی۔ حکیم نزاری نے وہان سے رخصت ہوتے وقت اپنے نوکر سے کہا کہ اگر ہمارا میزبان کبہی خراسان مین آیا تو ہم اُسکو دکہایئنگے کہ مہمانونکی تواضع اور مدارات کس طرح کیا کرتے ہین۔ یہ جملہ شیخ کے کان تک بہی پہنچ گیا۔ اُسکور کمال افسوس ہوا اور یہ سمجہا کہ حکیم نے ہماری مہمانداری مین شاید کوئی تصور دیکہا۔ حسن اتفاق سے شیخ کا گزر قہتانان مین ہوا اور حکیم نزاری سے ملاقات ہوئی۔ حکیم بہت عجت اور اخلاق سے<noinclude></noinclude>
tiha8gpqsi0bjb9o1tj2zwvrhab7ric
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/69
250
13812
35277
2026-07-08T06:46:57Z
BalramBodhi
60
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”41 پیش آیا مگر عورت میں کچھدی زیادہ تکلیف نہیں کیا ۔ پہلے روز جو مانا دستر خوان پرآیا در محض رسمی اور سید یا سادہ تھا ۔ دوسرے وقت ایک بجتے ہوئے تیتر کے سوا اور کچھیے تھا میرے وقت، ایک گوشت کا ابلا ہوا پا رہے اور نہ تھا۔ جلتے وقت لیکر نے پینے سے معا...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35277
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>41
پیش آیا مگر عورت میں کچھدی زیادہ تکلیف نہیں کیا ۔ پہلے روز جو مانا دستر خوان پرآیا در
محض رسمی اور سید یا سادہ تھا ۔ دوسرے وقت ایک بجتے ہوئے تیتر کے سوا اور کچھیے تھا
میرے وقت، ایک گوشت کا ابلا ہوا پا رہے اور نہ تھا۔ جلتے وقت لیکر نے پینے سے معافی
چا ہی اولیا کہ جس طرح آپ نے میری مندریافت میں تکلفات کیے تھے اس طرح سے مہمان تزرکو
بار خاطر ہو جا است لیکن بالا طریقہ ایسا سین ہے شیخ کو اس جملہ کا مطلب پر مزاری نے
شیراز سے چلتے وقت کیا تھا اب معلوم ہوا۔
اس حکایت سے شیخ کی شہرت او بلند آوانگی کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوتاہے
کردہ مذہبی تعصیات سے سیر اتنا فرقہ اسمعیلہ کے لو اس زمانہ میں عموما ملی اور بدین
سمجھے جاتے تھے اور کوئی فرقہ مسلمانوں کے نزدیک ہمعیلیوں سے زیادہ مبغوض اور مردوو
د تا پس شیخ کی کمال بے تعصبی ہی کہ اس نے ہمارے عہد کے سولون اور واعظوں کے
برخلاف ایک غریب ہسمعیلی کی اپنے ویمن میں اسقدر خاطر اور مدارات کی اور خراسان میں
خود اس سے جاکر بلا اور اسکاموران رہا۔ الغرض یہ حال شیخ کی شہرت کا خودا سکے زمانہ میں
اور اسکے فرنیکے بعد عام ولایت اسکے کلام سے حاصل کیا اس کے بیان کرنے کی
کچھہ ضرورت نہیں۔
شیخ کے کلام پر اورلوگوں کی رائین
اکثر جلیل القدر شعر انے شیخ کی نسبت ایسے اشعار کے میں بہنے اونکی اصلی راستے
شیخ کے کلام کی نسبت ظاہر ہوتی ہے۔ مولانا عبد الرحمن جامی نے بہارستان میں کسی شاعر کا<noinclude></noinclude>
lqgyipz14cpy1yawlfuzn8qtdvfe2c3
35278
35277
2026-07-08T07:20:05Z
BalramBodhi
60
35278
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>پیش آیا مگر دعوت مین کچھ زیادہ تکلف نہین کیا۔ پہلے روز جو کہانا دسترخوان پر آیا وہ محض رسمی اور سیدہا سادہ تھا۔ دوسرے وقت ایک بُہنے ہوئے تیتر کے سوا اور کچہ نہ تہا تیسرے وقت ایک گوشت کا اُبلا ہوا پ رچہ اور خشکا تھا۔ چلتے وقت حکیم نے شیخ سے معافی چاہی اور کہا کہ جس طرح آپ نے میری خدمیافت مین تکلفات کیے تہے اُس طرح سے مہمان آخر کو بار خاطر ہو جاتا ہے لیکن ہمارا طریقہ ایسا نہین ہے شیخ کو اُس جملہ کا مطلب جو نزاری نے شیراز سے چلتے وقت کہا تہا اب معلوم ہوا۔
اِس حکایت سے شیخ کی شہرت اور بلند آوازگی کے علاوہ یہ بہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ مذہبی تعصیات سے مبرا تہا۔ فرقہ اسمعیلہ کے لوگ اُس زمانہ مین عموماً ملحد اور بدین سمجھے جاتے تہے اور کوئی فرقہ مسلمانونں کے نزدیک اسمعیلیون سے زیادہ مبغوض اور مردود نہ تہا پس شیخ کی کمال بے تعصبی تہی کہ اُس نے ہمارے عہد کے \مویون\ اور واعظون کے برخلاف ایک غریب اسمعیلی کی اپنے وتن مین اسقدر خاطر اور مدارات کی اور خراسان مین
خود اُس سے جاکر ملا اور اسکا مہمان رہا۔ الغرض یہ حال شیخ کی شہرت کا خود اُسکے زمانہ مین تہا اور اُسکے فرنیکے بعد جو عام قبولیت اُسکے کلام نے حاصل کی اُسکے بیان کرنے کی کچھہ ضرورت نہیں۔
{{center|شیخ کے کلام پر اور لوگوں کی رائین}}
اکثر جلیل القدر شعرانے شیخ کی نسبت ایسے اشعار کے ہین جنسے اونکی اصلی رائ شیخ کے کلام کی نسبت ظاہر ہوتی ہے۔ مولانا عبدالرحمن جامی نے بہارستان میں کسی شاعر کا<noinclude></noinclude>
dj0wsezpxv29wvcykzzm6lz2ol4357e
35279
35278
2026-07-08T07:21:21Z
BalramBodhi
60
35279
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>پیش آیا مگر دعوت مین کچھ زیادہ تکلف نہین کیا۔ پہلے روز جو کہانا دسترخوان پر آیا وہ محض رسمی اور سیدہا سادہ تھا۔ دوسرے وقت ایک بُہنے ہوئے تیتر کے سوا اور کچہ نہ تہا تیسرے وقت ایک گوشت کا اُبلا ہوا پ رچہ اور خشکا تھا۔ چلتے وقت حکیم نے شیخ سے معافی چاہی اور کہا کہ جس طرح آپ نے میری خدمیافت مین تکلفات کیے تہے اُس طرح سے مہمان آخر کو بار خاطر ہو جاتا ہے لیکن ہمارا طریقہ ایسا نہین ہے شیخ کو اُس جملہ کا مطلب جو نزاری نے شیراز سے چلتے وقت کہا تہا اب معلوم ہوا۔
اِس حکایت سے شیخ کی شہرت اور بلند آوازگی کے علاوہ یہ بہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ مذہبی تعصیات سے مبرا تہا۔ فرقہ اسمعیلہ کے لوگ اُس زمانہ مین عموماً ملحد اور بدین سمجھے جاتے تہے اور کوئی فرقہ مسلمانونں کے نزدیک اسمعیلیون سے زیادہ مبغوض اور مردود نہ تہا پس شیخ کی کمال بے تعصبی تہی کہ اُس نے ہمارے عہد کے \مویون\ اور واعظون کے برخلاف ایک غریب اسمعیلی کی اپنے وتن مین اسقدر خاطر اور مدارات کی اور خراسان مین
خود اُس سے جاکر ملا اور اسکا مہمان رہا۔ الغرض یہ حال شیخ کی شہرت کا خود اُسکے زمانہ مین تہا اور اُسکے فرنیکے بعد جو عام قبولیت اُسکے کلام نے حاصل کی اُسکے بیان کرنے کی کچھہ ضرورت نہیں۔
{{center|'''شیخ کے کلام پر اور لوگوں کی رائین'''}}
اکثر جلیل القدر شعرانے شیخ کی نسبت ایسے اشعار کے ہین جنسے اونکی اصلی رائ شیخ کے کلام کی نسبت ظاہر ہوتی ہے۔ مولانا عبدالرحمن جامی نے بہارستان میں کسی شاعر کا<noinclude></noinclude>
itaoul1t6lltkz616667nky7e7ezsnd
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/70
250
13813
35280
2026-07-08T07:22:15Z
BalramBodhi
60
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”قعہ نقل کیا ہے جس میں فردوسی کو منوی کا ۔ انوری کو قصیدہ کا اور سعادی کو غزل کا یمیر قرار دیا ہے اور وہ قطعت ہے ۔ قطع ور شعر کسی میراند هر چند که لانبی بعدی ابیات و قصیده و غزل را فردوسی و آنوری دستتندی نیز مولانا جامی نے نفحات الانس مین امیر خسرو...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35280
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>قعہ نقل کیا ہے جس میں فردوسی کو منوی کا ۔ انوری کو قصیدہ کا اور سعادی کو غزل کا
یمیر قرار دیا ہے اور وہ قطعت ہے ۔
قطع
ور شعر کسی میراند هر چند که لانبی بعدی
ابیات و قصیده و غزل را فردوسی و آنوری دستتندی
نیز مولانا جامی نے نفحات الانس مین امیر
خسرو دہلوی کی کثرت تصانیف اور جامعیت
کے ذکر کے بعد شیخ کو باعتبار مقبولیت کلام کے امیر پی اس پیرای من ترجیح دی ہے
کہ امیر نے بھی خضر کی ملاقات کے وقت یہ درخواست کی تھی کہ اپنا اب ہن اسکے موہنہ
میں ڈالے حضرت خضر نے فرمایا کہ یہ دوست سعدی کے نصیب کی تھی ۔
حضرت امیر خسرو دہلوی نے جی شیخ سعدی اور تمام بریزی کو اپنی شوی نه سرین
غزل کا استاد مانا ہے لیکن دیگر اصناف سخن بین کنا یا اپنے کو ترجیح دی ہے ۔ مگر ایک
اور شرمین مطلقا شیخ کے ابتاع پر خود نخ کی ہے چنانچہ فرماتے ہیں شعر
خود درست اند ریسان معنی بیت شیره از مینیان هستی که در شیراز بود
حضرت امیرسن دہلوی نے بھی جن کو اسکے زمانہ کے اہل مذاق سعدی ہندوستان
کتنے تھے شیخ کے تیج پراختیا رکیا ہے وہ کتنے میں شعر
حسن گئے زنگلستان سعدی آورده است که اهل سنتی همچین ازین گلستان اند
اد الدین گرد کشی کا جلیل القدر معاصر ہے اس سے چار نامی گرامی فاضلات<noinclude></noinclude>
sn2higalxjgsavla5q0u087xdcsuf3w
35286
35280
2026-07-08T09:29:32Z
Charan Gill
46
35286
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>قتعہ نقل کیا ہے جس میں فردوسی کو مشنوی کا ۔ انوری کو قصیدہ کا اور سعادی کو غزل کا پیمبر قرار دیا ہے اور وہ قطعت ہے ۔
{{center|{{larger|'''قطع'''}}}}
{{Block center|<poem>در شعر سه کن پیمبرانند
ہر چند که لانبی بعدی
ابیات و قصیدۂ و غزل را
فردوسی وانوری و سعدی</poem>}}
نیز مولانا جامی نے نفحات الانس مین امیر
خسرو دہلوی کی کثرت تصانیف اور جامعیت
کے ذکر کے بعد شیخ کو باعتبار مقبولیت کلام کے امیر پی اس پیرای من ترجیح دی ہے
کہ امیر نے بھی خضر کی ملاقات کے وقت یہ درخواست کی تھی کہ اپنا اب ہن اسکے موہنہ
میں ڈالے حضرت خضر نے فرمایا کہ یہ دوست سعدی کے نصیب کی تھی ۔
حضرت امیر خسرو دہلوی نے جی شیخ سعدی اور تمام بریزی کو اپنی شوی نه سرین
غزل کا استاد مانا ہے لیکن دیگر اصناف سخن بین کنا یا اپنے کو ترجیح دی ہے ۔ مگر ایک
اور شرمین مطلقا شیخ کے ابتاع پر خود نخ کی ہے چنانچہ فرماتے ہیں شعر
خود درست اند ریسان معنی بیت شیره از مینیان هستی که در شیراز بود
حضرت امیرسن دہلوی نے بھی جن کو اسکے زمانہ کے اہل مذاق سعدی ہندوستان
کتنے تھے شیخ کے تیج پراختیا رکیا ہے وہ کتنے میں شعر
حسن گئے زنگلستان سعدی آورده است که اهل سنتی همچین ازین گلستان اند
اد الدین گرد کشی کا جلیل القدر معاصر ہے اس سے چار نامی گرامی فاضلات<noinclude></noinclude>
kcn4k7hjxuouwit62pqtw5sh25c97nq
35287
35286
2026-07-08T10:10:10Z
Charan Gill
46
35287
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>قتعہ نقل کیا ہے جس میں فردوسی کو مشنوی کا ۔ انوری کو قصیدہ کا اور سعادی کو غزل کا پیمبر قرار دیا ہے اور وہ قطعت ہے ۔
{{center|{{larger|'''قطع'''}}}}
{{Block center|<poem>در شعر سه کن پیمبرانند
ہر چند که لانبی بعدی
ابیات و قصیدۂ و غزل را
فردوسی وانوری و سعدی</poem>}}
نیز مولانا جامی نے نفحات الانس مین امیر خسرو دہلوی کی کثرت تصانیف اور جامعیت کے ذکر کے بعد شیخ کو باعتبار مقبولیت کلام کے امیر پی اس پیرای من ترجیح دی ہےکہ امیر نے بھی خضر کی ملاقات کے وقت یہ درخواست کی تھی کہ اپنا اب ہن اسکے موہنہ میں ڈالے حضرت خضر نے فرمایا کہ یہ دوست سعدی کے نصیب کی تھی ۔
حضرت امیر خسرو دہلوی نے جی شیخ سعدی اور تمام بریزی کو اپنی مشنوی نہ سپہر مین غزل کا استاد مانا ہے لیکن دیگر اصناف سخن بین کنا یا اپنے کو ترجیح دی ہے ۔ مگر ایک اور شرمین مطلقا شیخ کے ابتاع پر خود نخ کی ہے چنانچہ فرماتے ہیں شعر
{{Block center|<poem>خود درست اند ریسان معنی بیت
شیره از مینیان هستی که در شیراز بود</poem>}}
حضرت امیر حسن دہلوی نے بھی جن کو اسکے زمانہ کے اہل مذاق سعدی ہندوستان کہتے تھے شیخ کے تیج پراختیا رکیا ہے وہ کتنے میں شعر
{{Block center|<poem>
حسن گلے ز گلستان سعدی آورده است
که اهل سنتی همچین ازین گلستان اند</poem>}}
خواجہ مجدالدین ہمگر جو کہ شیخ کا جلیل القدر معاصر ہے اُس سے چار نامی گرامی فاضلان<noinclude></noinclude>
mw8plwdhwm3u1a9jgd766j89udq59i3
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/71
250
13814
35281
2026-07-08T07:23:00Z
BalramBodhi
60
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۶۳ نے جن میں سے دو شخص علاوہ علم وفضل کے بال کو خان کے رکن سلطانت ہی تھے یعنی خواجہ شمس الدین صاب دیوان ایم این این پدران ما مردم ما افتخار الدین ربانی ار لا نور الدین صدری نے باتفاق بمگر ایک قطعہ مرتب کرکے محمد مہر کے پاس ہیجا تھا جین امامی هروی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35281
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>۶۳
نے جن میں سے دو شخص علاوہ علم وفضل کے بال کو خان کے رکن سلطانت ہی تھے یعنی
خواجہ شمس الدین صاب دیوان ایم این این پدران ما مردم ما افتخار الدین ربانی
ار لا نور الدین صدری نے باتفاق بمگر ایک قطعہ مرتب کرکے محمد مہر کے پاس ہیجا تھا جین
امامی هروی اور سعدی شیرازی کے کلام پر یا کمی کی درخواست کی گئی تھی ۔ اسکے جواب
مین مجد ہگر نے یہ رباعی کمار ہیں۔
رباعی
گرته اخت لوالی خوش نقسیم ار شا گفتہ ا کے بعدی میگیم
به نطق
شگفتہ ہائے حکیم
در شیوه شاعری به اجماع ام هرگز من سعدی به امامی نه رسیم
اس ریاحی بین اگرچہ ہمارے بچے کو اپنے سے مینہ بتایا ہے مگر ماہی کو اپنے اور پریخ دونوں
پر ترجیح دی ہے۔
حاجی لطف علی خان آور نے مذکورہ بالاحکایت پر کچھ دیکھاہے وہ ملاحظہ کے قابل ہوں
وہ لکھتا ہے کہ بعض ، عیان عرس نے بھی الدین برس کر بنات المی اپتیملی میں آج آنکا
کوئی نظیر نہیں ہے سعدی اور امامی کی بابت حاکمہ چاہا تھا انہوں نے جواب میں یہ رباعی تحریرفرمائی
مین نے اس رباعی کو پڑھ کر خداتعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ ہمارے زمانہ مین ایسا است تباہ کسی کو نین
ے بعدیا کہ یا کہ چاہے والوں کو تمام اہل ذات جانتے ہیں کہ جگرکی تحقیق کسی پینڈی ہو
د شیخ نے بھی اس رباعی کو سنکر ایک رباعی لکھی ہے جوا س کے کلیات میں موجود ہے یعنی مہر کس کہ بارگاہ سامی رسد
از بنت سیاه و بی گاهی زرد به گریه بر خودت کرده است نماز به شک نیست که هرگز به ماهی نرسد ۱۴<noinclude></noinclude>
h4w5i85lgwezwrwlspmdkfuf4erleh7
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/72
250
13815
35282
2026-07-08T07:23:23Z
BalramBodhi
60
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”بان انہون نے اپنی نسبت بالکل صحیح فرمایا ہے کہ میں امامی کے درجہ کونہیں پہنچتا ۔ بشیک امی کا مرتبہ جناب صاحب رباعی سے بہت بالا تر ہے لیکن کسی طرح مسکو شیخ بزرگار سے نسبت نہیں ہے بلکہ تین شخصوں کے سوا اور کسی کی مجال نہین جو شیخ کی مساوات کا روم م...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35282
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>بان انہون نے اپنی نسبت بالکل صحیح فرمایا ہے کہ میں امامی کے درجہ کونہیں پہنچتا ۔ بشیک
امی کا مرتبہ جناب صاحب رباعی سے بہت بالا تر ہے لیکن کسی طرح مسکو شیخ بزرگار سے
نسبت نہیں ہے بلکہ تین شخصوں کے سوا اور کسی کی مجال نہین جو شیخ کی مساوات کا روم
مار کے مینا کاری ہوا کرتاتھا جیسا ہمارازمان دانشمندون پر سخت گزرتا ہے ایسا زمانہ پہلے
سخنوروں پر ہی گزرا ہے یا نہیں ۔ جب یہ حکایت میری نظر سے گری تو جا مبرا گیا حاجی
موصوت نے اس مقام پرندہ جگر کی شان میں ایک قطعہ ہی لکھا ہے اور وہ ہے ہے ۔
یکے گفت - امامی امام بری را
قطعہ
ز سعدی فرون یافته م، همگر
ین ماجرا بیت اے آدم گفتم مگر بو جه بار ستمگر
ہمارے نزدیک اگر جد بمگر اس عصرین اس مین سعدی اور امامی گزرے ہین ہونا ملکی
پچاس برس بعد پیدا ہوتا تو اسکو بھی شیخ اور امامی کے رتبہ مین ہرگز یہ اشتباہ ہوتا معاشی
نے لوگوں کے حالات پر اکثر ایسے پر دے ڈالے بین گریبقی راون کا زماندگار تاگی
اسی قدر وہ پر دے مرتفع ہوتے گیے اور رفتہ رفتہ وحق بات تھی دو ظا ہر ہوگئی۔ اصل یہ ہے
ب ایک زمانہ مین و اہل کمال ہوتے ہیں تو ہر ایک کے ساتھ ایک ایک گروہ متعصبین
کھڑا ہوجاتاہے کیونکہ شخص کے کچھ عزیز اور دوست اورکچھ ان دوستوں کے دوست اور اسی
طرح کچہ منی لعت اور ان مخالفوں کے دوست اور لگاتے ضرور ہوتے ہیں اور اس طرح
ه شاید تین شخصون سے مراد فردوسی - انوری اور نظامی ہیں۔<noinclude></noinclude>
1hzz7u8z40hiss75my9jneypuspph26
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/73
250
13816
35283
2026-07-08T07:23:49Z
BalramBodhi
60
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”رتے پڑتے دوبڑے گروہ پیدا ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب وہ طبقہ ختم ہو جاتا ہے اور نکلے ساتھ کسی کو لاگ انگار باقی مین بہت تو جو نیک بات ہوتی ہے وہ بغیر بحث و حجت کے خود بود ون پر نقش ہو جاتی ہے شیخ اور امی کے مدین میں کومعلوم تھا کی تقریب ایک کا کلام اطرات...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35283
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>رتے پڑتے دوبڑے گروہ پیدا ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب وہ طبقہ ختم ہو جاتا ہے اور نکلے
ساتھ کسی کو لاگ انگار باقی مین بہت تو جو نیک بات ہوتی ہے وہ بغیر بحث و حجت کے خود بود
ون پر نقش ہو جاتی ہے شیخ اور امی کے مدین میں کومعلوم تھا کی تقریب ایک کا کلام
اطرات عالم مین ہی جائیگا اور دوسرے کا نام صرف کتابوں میں لکھا رہ جائیگا۔
کلام شیخ کی مقبولیت کے فارمین اکثر یہ حکایت بیان کی جاتی ہے کہ شائخ وقت میں
سے ایک بزرگ شفیع کے منکر تھے ۔ ایک رات انہوں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان کے
دروازے کھولے گئے ہیں اور فرشتے نور کے طبق لیکر زمین پر نازل ہوئے ہیں ۔ ان بزرگ
نے پوچھا کہ یہ کیا ماجراہے ؟ے کہا سعدی شیرازی نے ایک بیت کہی ہے جو جناب آلکسی میں
مقبول ہوئی یہ اس بیت کا عملہ ہے اور وہ بہت یہ ہے
برگ درختان سبز در نظر دشتیاری برزور تے دفترمیست معرفت کردگار
جب وہ بزرگ خواب سے بیدار ہوئے تو رات ہی کو شیخ کے حرمت خانہ پریعہ وہ سنائیے
یے گیے۔ ان مارک شیخ کو دیک اگر چراغ روشن کیے ہوئے جو یورو کی شہرتہ ہے میں
شاید اس حکایت کے مضمون بادی النظرمین مستبعده علوم و تیکن تیکو سین کوئی بات
عقل یا نیچر کے خلاف نہیں معلوم ہو تی۔ خوب کا سچا ہوتا اوران میں معمولی با تون کا خیر
معمولی طور پرنظرتنا ایک ایسا سلام ہے کہ آجکل کے خلفی ہیں اُس کا انکار نہیں کرسکتے اسکے
اور ہم اس حکایات ہرحال ین مینیجر نکال کے مین کرین کے کلام کی مقبولیت اس وجہ کی
پہنچ گئی تھی کہ معمول پیا ہے اُسکے بیان کے لیے کافی د سمجھے جاتے تھے ۔<noinclude></noinclude>
m64tta61j84jvfle5vw7sp7k4iszunq
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/74
250
13817
35284
2026-07-08T07:24:05Z
BalramBodhi
60
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”H اس حکایت کو اور زیادہ پکانے کے لیے شیخ ابو الفی فنی مینی ملعون نے ایک اور دلچسپ مضمون تراشا ہے ۔ یعنی یہ کہ فیضی نے تلدین کی توحید لکھتے وقت جب یہ شعر کا شعر ور ہر بن و کرے نبی گوشواره فیض است در چه ش تو اس نے بھی ویسے ہی صلہ کی توقع میں جو شیخ سعد...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35284
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>H
اس حکایت کو اور زیادہ پکانے کے لیے شیخ ابو الفی فنی مینی ملعون نے ایک
اور دلچسپ مضمون
تراشا ہے ۔ یعنی یہ کہ فیضی نے تلدین کی توحید لکھتے وقت جب
یہ شعر کا شعر
ور ہر بن و کرے نبی گوشواره فیض است در چه ش
تو اس نے بھی ویسے ہی صلہ کی توقع میں جو شیخ سعدی کو ماتھا آسمان کی طرف مونہ کیا
اتفاقا ایک چیل نے اوپر سے پنجال کی جو فیضی کے منہ پر کرتی وہ بہت بن جایا اور کمات
شرفی عالم بال معلوم شد، ظاہرا مضمون عبدالقادر دانی کا بکر شیخ مبارک کے
خاندان کا سخت دشمن ہے یا اُس کے کسی منیع کا گڑا ہ معلوم ہوتا ہے۔
جیر انسائیکلوپیڈیا من لکھاہے کہ وسعدی کے کلام کی طاقت اور بد اینجی روما
کے مشہور شاعر ہوریں کے کلام سے بہت ملتی ہے جو اک سعدی کو لاطینی زبان آتی تھی اس
یے تلن غالب ہے کہ وہ ہوریں کے کام سے سیدہ ہوگا، ہم نہیں کرسکتے کہ یہ
قیاس
کمانتک صحیح ہے اور واقع مین پیج کو لاطینی آی تی یانی ظاہرا یہ دلیهای ایران
ہے جیسا کہ دہلی کی جامع مسجد اور آگرہ ے روضہ تاج گنج کی نسبت کہا جاتاہے کہ یہ دونوں عمارتین
الی کے کاریگر ین نے بنائی ہیں۔ بات یہ ہے کہ یہ قوم نہایت پستی کی حالت میں ہوتی ہے
اگر کسی ماہ میں کتنی ہی ترقی کر چکی ہو جی سی اس قوم کی موجودہ انسای ترقی بایت
قوموں کی نظرمین حقیر در اولین اویسی و پرتا معلوم ہوتی ہیں اسی علمی گن کے اسلامت
کی مناست او برتری کا بھی بہت کم یقین آتا ہے ۔ اور اگر ان کی کوئی ایسی بات پشیر کی<noinclude></noinclude>
oxtkvw2qtcmhm2kt9a0rczywioto8ym
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/75
250
13818
35285
2026-07-08T07:24:21Z
BalramBodhi
60
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”ہاتی ہے میں کا کسی بین انکار میں ہوسکتا تو اسکو جو کسی او کی طرف منسوب کرنا پڑتا ہے سرایم جونس جوکہ مشرقی زبانوں کا نہایت مشہور عالم ہے اس نے جو شیخ اور اس کے کلام کی نسبت لکھتا ہے وہ گور اوسلی نے نقل کیا ہے وہ لکھتا ہے کہ سعادمی نے تیر بدین صدی ہ...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35285
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>ہاتی ہے میں کا کسی بین انکار میں ہوسکتا تو اسکو جو کسی او کی طرف منسوب کرنا پڑتا ہے
سرایم جونس جوکہ مشرقی زبانوں کا نہایت مشہور عالم ہے اس نے جو شیخ اور اس کے
کلام کی نسبت لکھتا ہے وہ گور اوسلی نے نقل کیا ہے وہ لکھتا ہے کہ سعادمی نے
تیر بدین صدی ہجری میں جبکہ تاریکان فارس وہاں کے اہل کمال کو تقویت دے رہے تھے
پنے جوہر دکھانے شروع کیے تھے۔ حالانکہ اس کی تقریبا نام زندگی سفرمیں گندی تھی
باوجود اس کے کہ کسی ایسے شخص نے بھی تباد عمر براطمینان اور فرضت حاصل رہی ہو اپنی
عقل اور محنت کا نتیجہ شیخ سے بہتر نہیں چھوڑا ۔
انگلستان کے بعض اور مصنفوں نے اس
کو مشرقی شک پیر کیا ہے۔ اگر چہ یہ
تشبیہ ان مشرقی شاعروں کی نظر میں جو شکسپیر کی شاعری سے واقف نہیں ہیں کچھ زیادہ
راحت نہیں رکھتی۔ لیکن میکہ یہ المسلم ہے کہ اگرایش کس کا نام دنیا کے دانشورات
بہتر سمجھتے ہیں تو دیکھنا چاہیےکہ جولوگ سو ہی کو مشرق کا شک پیر کتے ہیں انہوں نے
اس
کو اس درجہ کا شاعر تسلیم کیا ہے۔
شکسپیر کی شاعری اگرچه سعدی کی شاعری سے بالکل مخار ہے لیکن بعض میشیات سے
یک کو دوسرے سے تشبیہ دی جاسکتی ہے ۔ دونوں کے کلام میں عموما یہ بات پائی جاتی ہے
که در نقل و عادت کی سرعاسے باز نہیں کرتے بلکہ یہی چول خاتون کی تصویر کھینچتے ہیں
دونوں کے کلام میں اگر ظرافت اور شوخی کی چاشنی ہوتی ہے اور دونوں کا بیان ہمیشہ سادہ
صافت اور دلنشین ہوتا ہے ۔ اس
کے سوا دونوں نے اکثر کار کی بنیاد نصیحت اور پند پر<noinclude></noinclude>
h7uveav1ct4kxejro34u2ymafa71eqx