ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.10
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/298
250
13165
35288
32580
2026-07-08T14:26:25Z
Kaur.gurmel
74
35288
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بھی نہ پایا تھا ۔ یہ لو وہ مقام آگیا جہاں پاک سیرت جٹایو سے ہماری ملاقات ہوئی تھی ۔ وُہ اُس کی کٹّی ہے ۔ صرف دیواریں باقی رہ گئی ہیں ۔ جٹایو نے ہمیں تمہارا پتہ نہ بنایا ہوتا تو خبر نہیں کہاں کہاں بھٹکتے پھرتے ۔ وہ دیکھو پہنچوٹی کا مقام ہے ۔ وہ ہماری کٹّی
ہے ۔ جی بے اختیار چاہتا ہے کہ چل کر ایک بار
اس کٹّی کے درشن کر لوں ۔ سیتا جی اس کٹّی کو دیکھ کر رونے لگیں ۔ آہ ! یہیں سے انہیں راون
ہر لے گیا تھا ۔ وُہ دن ، وہ گھڑی کتنی منحوس تھی۔
کہ اتنے دنوں تک اُنہیں ایک ظالم کی قید میں
رہنا پڑا ۔ راون کی وہ فقیرانہ صورت اُن کی
نظروں میں پھر گئی ۔ آنسو کسی طرح نہ تھمتے تھے۔
بہ مشکل رامچندر نے اُنہیں سمجھا کر چُپ کیا ۔ بہان اور آگے بڑھا ۔ اگست منی کا آشرم نظر آیا۔ رامچندر نے اُن کے درشن کئے ۔ لیکن رکنے کا موقع نہ تھا ۔ اس لئے تھوری دیر<noinclude></noinclude>
3m1s4kfz91ihegdkd4m79f0kkp8pnoc
35290
35288
2026-07-08T14:42:41Z
Kaur.gurmel
74
35290
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بھی نہ پایا تھا ۔ یہ لو وہ مقام آگیا جہاں پاک سیرت جٹایو سے ہماری ملاقات ہوئی تھی ۔ وُہ اُس کی کُٹّی ہے ۔ صرف دیواریں باقی رہ گئی ہیں ۔ جٹایو نے ہمیں تمہارا پتہ نہ بنایا ہوتا تو خبر نہیں کہاں کہاں بھٹکتے پھرتے ۔ وہ دیکھو پہنچوٹی کا مقام ہے ۔ وہ ہماری کُٹّی
ہے ۔ جی بے اختیار چاہتا ہے کہ چل کر ایک بار
اس کُٹّی کے درشن کر لوں ۔ سیتا جی اس کُٹّی کو دیکھ کر رونے لگیں ۔ آہ ! یہیں سے انہیں راون
ہر لے گیا تھا ۔ وُہ دن ، وہ گھڑی کتنی منحوس تھی۔
کہ اتنے دنوں تک اُنہیں ایک ظالم کی قید میں
رہنا پڑا ۔ راون کی وہ فقیرانہ صورت اُن کی
نظروں میں پھر گئی ۔ آنسو کسی طرح نہ تھمتے تھے۔
بہ مشکل رامچندر نے اُنہیں سمجھا کر چُپ کیا ۔ بہان اور آگے بڑھا ۔ اگست منی کا آشرم نظر آیا۔ رامچندر نے اُن کے درشن کئے ۔ لیکن رکنے کا موقع نہ تھا ۔ اس لئے تھوری دیر<noinclude></noinclude>
oi5r9nis1g3ifj75nifknfraad2z2lp
35291
35290
2026-07-08T14:56:14Z
Kaur.gurmel
74
/* پروف خوانی شدہ */
35291
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>بھی نہ پایا تھا ۔ یہ لو وہ مقام آگیا جہاں پاک سیرت جٹایو سے ہماری ملاقات ہوئی تھی ۔ وُہ اُس کی کُٹّی ہے ۔ صرف دیواریں باقی رہ گئی ہیں ۔ جٹایو نے ہمیں تمہارا پتہ نہ بتایا ہوتا تو خبر نہیں کہاں کہاں بھٹکتے پھرتے ۔ وہ دیکھو پنچوٹی کا مقام ہے ۔ وہ ہماری کُٹّی
ہے ۔ جی بے اختیار چاہتا ہے کہ چل کر ایک بار
اس کُٹّی کے درشن کر لوں ۔ سیتا جی اس کُٹّی کو دیکھ کر رونے لگیں ۔ آہ ! یہیں سے اُنہیں راون
ہر لے گیا تھا ۔ وُہ دن ، وہ گھڑی کتنی منحوس تھی۔
کہ اتنے دنوں تک اُنہیں ایک ظالم کی قید میں
رہنا پڑا ۔ راون کی وہ فقیرانہ صورت اُن کی
نظروں میں پھر گئی ۔ آنسو کسی طرح نہ تھمتے تھے۔
بہ مشکل رامچندر نے اُنہیں سمجھا کر چُپ کیا ۔ بہان اور آگے بڑھا ۔ اگست منی کا آشرم نظر آیا۔ رامچندر نے اُن کے درشن کئے ۔ لیکن رُکنے کا موقع نہ تھا ۔ اس لئے تھوری دیر<noinclude></noinclude>
m63obng1rwrd6cdyq7fhicpjvt4hiov
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/299
250
13166
35289
32581
2026-07-08T14:35:25Z
Kaur.gurmel
74
35289
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کے بعد پھر بمان روانہ ہوا ۔ چتر کوٹ نظر آیا۔ سیتا جی اپنی کٹّی دیکھ کر بہت خِوش ہوئیں کچھ دیر بعد۔ پر باگ دکھائی دیا۔ یہیں بھاردواج کا آشرم تھا ۔ امچندر نے بمان کو اتارنے کا حکم دیا اور منی جی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ منی جی اُن سے مل کر بہت خوش ہوئے ۔ بڑی دیر تک رامچندر اُنہیں اپنے حالات مناتے رہے ۔ پھر اور باتیں ہونے لگیں ۔ رامچندر نے کہا ۔ مہاراج! مجھے تو اُمید نہ تھی کہ پھر آپ کے درشن ہونگے ۔ مگر آپ کے آشیر باد سے آج پھر آپ کی قدمبوسی کا موقع مِل گیا.
بھاردواج بولے ۔ 'بیٹا! جب تم یہاں سے جا رہے تھے اُس وقت مجھے جتنا رنج ہوا تھا اُس سے کہیں زیادہ خوشی آج تمہاری واپسی پر ہو رہی ہے'.
رام ۔ 'آپ کو اجودھیا کے حالات تو ملتے ہونگے' ؟<noinclude></noinclude>
ekpq2mdkrwe4ay5bhga9490f6kru301
35292
35289
2026-07-08T15:13:55Z
Kaur.gurmel
74
/* پروف خوانی شدہ */
35292
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کے بعد پھر بمان روانہ ہُوا ۔ چتر کوٹ نظر آیا۔ سیتا جی اپنی کٹّی دیکھ کر بہت خِوش ہوئیں کچھ دیر بعد پریاگ دکھائی دیا۔ یہیں بھاردواج کا آشرم تھا ۔ رامچندر نے بمان کو اُتارنے کا حُکم دیا اور منی جی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ منی جی اُن سے مِل کر بہت خوش ہُوئے ۔ بڑی دیر تک رامچندر اُنہیں اپنے حالات سُناتے رہے ۔ پھر اور باتیں ہونے لگیں ۔ رامچندر نے کہا ۔' مہاراج! مجھے تو اُمید نہ تھی کہ پھر آپ کے درشن ہونگے ۔ مگر آپ کے آشیر باد سے آج پھر آپ کی قدمبوسی کا موقع مِل گیا.'
بھاردوّاج بولے ۔ 'بیٹا! جب تم یہاں سے جا رہے تھے اُس وقت مجھے جِتنا رنج ہُوا تھا اُس سے کہیں زیادہ خوشی آج تمہاری واپسی پر ہو رہی ہے'.
رام ۔ 'آپ کو اجودھیا کے حالات تو ملتے ہونگے' ؟<noinclude></noinclude>
kbq8aqou1b8hmda1a0wqv69yqzpdeiu
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/300
250
13167
35295
32582
2026-07-09T10:02:00Z
Kaur.gurmel
74
35295
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بھاردوّاج ۔ ہاں بیٹا وہاں کے حالات برابر ملتے رہتے ہیں ۔ بھرت تو اجودھیا سے دُور ایک گاؤں میں کٹی بنا کر رہتے ہیں۔ مگر شتر شتروہن کی مدد سے انہوں نے بہت اچھی طرح راج کا کام سنبھالا ہے ۔ رعایا خوش ہے۔ ظلم کا نام و نشان نہیں، مگر سب لوگ تُمہارے لئے بیقرار ہو رہے ہیں۔ بھرت تو اتنے بیقرار ہیں کہ اگر تُمہیں ایک دن کی بھی دیر ہو گئی تو شاید تم اُنہیں
زندہ نہ پاؤ'.
رامچندر نے اُسی وقت ہنومان کو بلا کر
کہا تم ابھی بھرت کے پاس جاؤ اور انہیں
میرے آنے کی خبر دو ۔ وہ بہت گھبرا رہے
ہونگے ۔ میں کل سویرے یہاں سے چلونگا ۔
یہ حکم پاتے ہی ہنومان اجودھیا کی طرف
روانہ ہوئے ۔ اور بھرت کا پتہ پوچھتے ہوئے
نندی گرام پہنچے۔ بھرت نے جونہی یہ خوشخبری<noinclude></noinclude>
6ekno2mnikzv131hleaj8wfe80wlrbn
35296
35295
2026-07-09T10:08:11Z
Kaur.gurmel
74
35296
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بھاردوّاج ۔ ہاں بیٹا وہاں کے حالات برابر ملتے رہتے ہیں ۔ بھرت تو اجودھیا سے دُور ایک گاؤں میں کٹی بنا کر رہتے ہیں۔ مگر شتر شتروہن کی مدد سے انہوں نے بہت اچھی طرح راج کا کام سنبھالا ہے ۔ رعایا خوش ہے۔ ظلم کا نام و نشان نہیں، مگر سب لوگ تُمہارے لئے بیقرار ہو رہے ہیں۔ بھرت تو اتنے بیقرار ہیں کہ اگر تُمہیں ایک دن کی بھی دیر ہو گئی تو شاید تم اُنہیں
زندہ نہ پاؤ'.
رامچندر نے اُسی وقت ہنومان کو بُلا کر کہا تم ابھی بھرت کے پاس جاؤ اور اُنہیں میرے آنے کی خبر دو ۔ وہ بہت گھبرا رہے ہونگے ۔ میں کل سویرے یہاں سے چلونگا ۔ یہ حکم پاتے ہی ہنومان اجودھیا کی طرف
روانہ ہوئے ۔ اور بھرت کا پتہ پوچھتے ہوئے نندی گرام پہنچے۔ بھرت نے جونہی یہ خوشخبری<noinclude></noinclude>
j8v8e28uzo7s5fvp3qr83i93lk13ltq
35297
35296
2026-07-09T10:25:53Z
Kaur.gurmel
74
/* پروف خوانی شدہ */
35297
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>بھاردوّاج ۔ ہاں بیٹا وہاں کے حالات برابر مِلتے رہتے ہیں ۔ بھرت تو اجودھیا سے دُور ایک گاؤں میں کٹی بنا کر رہتے ہیں۔ مگر شتروہن کی مدد سے انہوں نے بہت اچھی طرح راج کا کام سنبھالا ہے ۔ رعایا خوش ہے۔ ظلم کا نام و نشان نہیں، مگر سب لوگ تُمہارے لئے بیقرار ہو رہے ہیں۔ بھرت تو اتنے بیقرار ہیں کہ اگر تُمہیں ایک دن کی بھی دیر ہو گئی تو شاید تم اُنہیں
زندہ نہ پاؤ'.
رامچندر نے اُسی وقت ہنومان کو بُلا کر کہا تم ابھی بھرت کے پاس جاؤ اور اُنہیں میرے آنے کی خبر دو ۔ وہ بہت گھبرا رہے ہونگے ۔ میں کل سویرے یہاں سے چلونگا ۔ یہ حکم پاتے ہی ہنومان اجودھیا کی طرف
روانہ ہوئے ۔ اور بھرت کا پتہ پوچھتے ہوئے نندی گرام پہنچے۔ بھرت نے جونہی یہ خوشخبری<noinclude></noinclude>
hjhhgaon72gv3naf483s1dct7xnmjem
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/301
250
13168
35298
32583
2026-07-09T10:37:30Z
Kaur.gurmel
74
35298
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>شُنی اُنہیں مارے خوشی کے غش آ گیا ۔ اُسی وقت ایک آدمی کو بھیج کر شتر و ہن کو بُلوایا اور کہا۔ بھائی آج کا دن بڑا مبارک ہے کہ ہمارے بھائی صاحب چودہ برس کی جلاوطنی کے بعد اجودھیا آ رہے ہیں ۔ شہر میں ڈونڈی پٹوا دو کہ لوگ اپنے اپنے گھر چراغ جلائیں ۔
اور اُس خوشی میں جشن منائیں ۔ سویرے تم اُن کے جلوس کا انتظام کر کے یہاں آنا ۔ ہم سب لوگ بھائی صاحب کی پیشوائی کرنے چلینگے' ۔
دوسرے دن سویرے را مچندر جی بھاردواج مُنی کے آشرم سے روانہ ہوئے ۔ جس اجودھیا کی گود میں پلے اور کھیلے اُس اجودھیا کے آج پھر درشن ہوئے ۔ جب اجودھیا کے بڑے بڑے عالی شان محل نظر آنے لگے تو
رامچندر کا چہرہ مارے خوشی کے چمک اُٹھا۔ اُس کے ساتھ ہی آنکھوں سے آنسو بھی بہنے لگے ۔ ہنومان سے بولے ۔ 'دوست مُجھے دُنیا<noinclude></noinclude>
f801iwc6c2950mf6vkk1sp5uxsufd9f
35300
35298
2026-07-09T10:58:14Z
Kaur.gurmel
74
/* پروف خوانی شدہ */
35300
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>شُنی اُنہیں مارے خوشی کے غش آ گیا ۔اُسی وقت ایک آدمی کو بھیج کر شتر و ہن کو بُلوایا اور کہا۔' بھائی آج کا دن بڑا مبارک ہے کہ ہمارے بھائی صاحب چودہ برس کی جلاوطنی کے بعد اجودھیا آ رہے ہیں ۔ شہر میں ڈونڈی پٹوا دو کہ لوگ اپنے اپنے گھر چراغ جلائیں ۔
اور اُس خوشی میں جشن منائیں ۔ سویرے تم اُن کے جلوس کا انتظام کر کے یہاں آنا ۔ ہم سب لوگ بھائی صاحب کی پیشوائی کرنے چلینگے' ۔
دوسرے دن سویرے رامچندر جی بھاردواج مُنی کے آشرم سے روانہ ہوئے ۔ جس اجودھیا کی گود میں پلے اور کھیلے اُس اجودھیا کے آج پھر درشن ہوئے ۔ جب اجودھیا کے بڑے بڑے عالی شان محل نظر آنے لگے تو
رامچندر کا چہرہ مارے خوشی کے چمک اُٹھا۔ اُس کے ساتھ ہی آنکھوں سے آنسو بھی بہنے لگے ۔ ہنومان سے بولے ۔ 'دوست مُجھے دُنیا<noinclude></noinclude>
0trqov2sv1xdsd6yz1xw5l227isdgp1
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/302
250
13169
35299
32584
2026-07-09T10:41:23Z
Kaur.gurmel
74
35299
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>میں کوئی جگہ اپنی اجودھیا سے زیادہ پیاری نہیں ۔ مجھے یہاں کے کانٹے بھی دوسری جگہ پھولوں سے زیادہ خوبصورت معلوم ہوتے ہیں ۔ وہ دیکھو سرجو نڈی شہر کو اپنی گود میں لئے کیسا بچوں کی طرح کِھلا رہی ہے ۔ اگر فقیر بن کر بھی یہاں رہنا پڑے تو دوسری جگہ راج کرنے سے زیادہ خوش رہونگا۔ ابھی وہ یہی باتیں کر رہے تھے کہ نیچے ہاتھی گھوڑوں، رتھوں کا جلوس نظر آیا ۔ سب کے آگے بھرت گیروے رنگ کی چادر اوڑھے، جٹا بڑھائے ، ننگے پاؤں ایک ہاتھ میں رامچندر کی کھڑاؤں لئے چلے آ رہے تھے۔ اُن کے
پیچھے شتروہن تھے ۔ پالکیوں میں کوسلیا - سمنترا -
اور کیکئی تھیں ۔ جلوس کے پیچھے اجودھیا کے
لاکھوں آدمی اچھے اچھے کپڑے پہنے چلے آرہے
تھے ۔ جلوس کو دیکھتے ہی رامچندر نے بمان
نیچے اُتارا - نیچے کے آدمیوں کو ایسا معلوم ہوا<noinclude></noinclude>
nn5nwmqgu46qryen8kxdh77ac1xirt9
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/70
250
13813
35293
35287
2026-07-09T05:52:23Z
BalramBodhi
60
35293
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>قتعہ نقل کیا ہے جس مین فردوسی کو مشنوی کا۔ انوری کو قصیدہ کا اور سعادی کو غزل کا پیمبر قرار دیا ہے اور وہ قطع یہ ہے۔
{{center|{{larger|'''قطع'''}}}}
{{Block center|<poem>در شعر سه کن پیمبرانند
ہر چند که لانبی بعدی
ابیات و قصیدۂ و غزل را
فردوسی و انوری و سعدی</poem>}}
نیز مولانا جامی نے نفحات الانس مین امیر خسرو دہلوی کی کثرت تصانیف اور جامعیت کے ذکر کے بعد شیخ کو باعتبار مقبولیت کلام کے امیر پر اِس پیرایہ مین ترجیح دی ہے کہ امیر نے بھی خضر کی ملاقات کے وقت یہ درخواست کی تھی کہ اپنا آب دہن اُسکے موہنہ مین ڈالے حضرت خضر نے فرمایا کہ یہ دولت سعدی کے نصیب کی تہی۔
حضرت امیر خسرو دہلوی نے جو شیخ سعدی اور ہمام تبریزی کو اپنی مشنوی نہ سپہر مین غزل کا اُستاد مانا ہے لیکن دیگر اصناف سخن مین کناتیاً اپنے کو ترجیح دی ہے۔ مگر ایک اور شعر مین مطلقاً شیخ کے ابتاع پر خود فخر کیا ہے چنانچہ فرماتے ہین شعر
'''{{Block center|<poem>خسرو سرمست اندر ساغر معنی بیخت
شیره از میخانہ مستی که در شیراز بود</poem>}}'''
حضرت امیر حسن دہلوی نے بہی جنکو اُسکے زمانہ کے اہل مذاق سعدی ہندوستان کہتے تھے شیخ کے متتج پرافتحاز کیا ہے وہ کہتے ہین شعر
{{Block center|<poem>
'''حسن گلے ز گلستان سعدی آورده است
که اهل معنی گلچین ازین گلستان اند</poem>}}'''
خواجہ مجدالدین ہمگر جو کہ شیخ کا جلیل القدر معاصر ہے اُس سے چار نامی گرامی فاضلو ن<noinclude></noinclude>
5qke06ouralag4kp1hekfwd1rt7voeq
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/71
250
13814
35294
35281
2026-07-09T06:58:37Z
BalramBodhi
60
35294
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>نے جن مین سے دو شخص علاوہ علم و فضل کے بلاکو خان کے رکن سلطنت بہی تہے یعنی خواجہ شمس الدین صاحب دیوان۔ امیر معین الدین پدوانہ حاکم روم۔ ملک افتحاز الدین کرمانی اور ملا نور الدین صدری نے باتفاق ہمدگر ایک قطعہ مرتب کر کے مجد ہمگر کے پاس ہیجا تھا۔ جہین
امامی ہروی اور سعدی شیرازی کے کلام پر محاکمہ کی درخواست کی گئی تھی۔ اُسکے جواب مین مجد ہمگر نے یہ رباعی لکہکر ہہیجی۔
{{center|'''رباعی'''}}
{{Block center|<poem>ماگرجہ بہ تطق طوطی خوش نفیم
بر شکر گفتہ ہائ سعدی میگیم
در شیوۂ شاعری به اجماع اعم
ہرگز من و سعدی به امامی نہ رسیم</poem>}}
اِس رباعی مین اگرچہ ہمگر نے شیخ کو اپنے سے بہتر بتایا ہے مگر امامی کو اپنے اور شیخ دونون پر ترجیح دی ہے۔
حاجی لطف علی خان آوز نے مذکورہ بالا حکایت پر جو کچہ لکہا ہے وہ ملاحظہ کے قابل ہے وہ لکھتا ہے کہ بعض مدعیان سعد نے مجد الدین ہمگر سے کہ بعنایت آلمی پستی طبع مین آج اُنکا کوئی نظیر نہین ہے سعدی اور امامی کی بابت محاکمہ چاہا تہا اُنہون نے جواب مین یہ رباعی تحریر فرمائی مین نے اس رباعی کو پڑہ کر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ ہمارے زمانہ مین ایسا استباہ کسی کو نہین ہے (جیسا کہ محاکمہ چاہنے والون کو تہا) اہل مذاق جانتے ہین کہ ہمگر کی تحقیق کیسی پھینڑی ہے
شیخ نے بھی اِس رباعی کو سنکر ایک رباعی لکہی ہے جو اس کے کلیات مین موجود ہے یعنی مہر کس کہ بارگاہ سامی نرسد
از بخت سیاه و بدکلامی نرسد به ہمگر کہ بعمر خود نہ کرده است نماز - شک نیست کہ هرگز بہ امامی نرسد" ۱۴<noinclude></noinclude>
me44iq1iusm7590axgjxkycjg71yhuc