ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.10 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/232 250 12829 35311 31409 2026-07-10T10:15:50Z Jagdish Papra 66 35311 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" />{{c|۲۲۶}}</noinclude>درختوں کو اکھاڑنا شروع کیا ۔ تمہیں حیرت ہوگی کہ اُنہوں نے درخت کیسے اُکھاڑے ہونگے۔ ہم تو ایک پودھا بھی جڑ سے نہیں اُکھاڑ سکتے۔ مگر ہنومان جی اپنے زمانے کے نہایت طاقتور آدمی تھے ۔ جب اُنہوں نے ہندوستان سے لنکا یک سمندر کو تیر کر پار کیا تو چھوٹے موٹے درختوں کو صکھاڑنا کیا مشکل تھا۔ کئی درخت اکھاڑے، کچھ درختوں کی شاخیں توڑ ڈالیں اور پھلی تو اتنے توڑ کر گرا دئے کہ اُن کا فرش سا چھ گیا ۔ باغ کے محافظوں نے یہ حال دیکھا تو جمع ہو کر ہنومان کو روکنے آئے ۔ مگر یہ کس کی سُنتے تھے ۔ اُن سبھوں کو شاخوں سے مار مار کر بھگا دیا ۔ کئی آدمیوں کو جان سے مار ڈالا۔ نب باہر سے اور کتنے ہی سپاہی آکر ہنومان کو پکڑنے لگے ۔ مگر آپ نے انہیں بھی مار بھگایا۔ شده شده راجہ راون کے پاس خبر پہنچی کہ ایک آدمی نہ جانے کدھر سے اشوکوں کے باغ<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 0lb8trcv9kb1avgcmrzahcsetvfnvjb 35312 35311 2026-07-10T10:18:29Z Jagdish Papra 66 35312 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" />{{c|۲۲۶}}</noinclude>درختوں کو اکھاڑنا شروع کیا ۔ تمہیں حیرت ہوگی کہ اُنہوں نے درخت کیسے اُکھاڑے ہونگے۔ ہم تو ایک پودھا بھی جڑ سے نہیں اُکھاڑ سکتے۔ مگر ہنومان جی اپنے زمانے کے نہایت طاقتور آدمی تھے ۔ جب اُنہوں نے ہندوستان سے لنکا یک سمندر کو تیر کر پار کیا تو چھوٹے موٹے درختوں کو صکھاڑنا کیا مشکل تھا۔ کئی درخت اکھاڑے، کچھ درختوں کی شاخیں توڑ ڈالیں اور پھل تو اتنے توڑ کر گرا دئے کہ اُن کا فرش سا چھ گیا ۔ باغ کے محافظوں نے یہ حال دیکھا تو جمع ہو کر ہنومان کو روکنے آئے ۔ مگر یہ کس کی سُنتے تھے ۔ اُن سبھوں کو شاخوں سے مار مار کر بھگا دیا ۔ کئی آدمیوں کو جان سے مار ڈالا۔ نب باہر سے اور کتنے ہی سپاہی آکر ہنومان کو پکڑنے لگے ۔ مگر آپ نے انہیں بھی مار بھگایا۔ شده شده راجہ راون کے پاس خبر پہنچی کہ ایک آدمی نہ جانے کدھر سے اشوکوں کے باغ<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 8rffm2lanub29ke9q7rt9mk6oxkuw2x 35313 35312 2026-07-10T10:30:04Z Jagdish Papra 66 35313 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" />{{c|۲۲۶}}</noinclude>درختوں کو اکھاڑنا شروع کیا ۔ تمہیں حیرت ہوگی کہ اُنہوں نے درخت کیسے اُکھاڑے ہونگے۔ ہم تو ایک پودھا بھی جڑ سے نہیں اُکھاڑ سکتے۔ مگر ہنومان جی اپنے زمانے کے نہایت طاقتور آدمی تھے ۔ جب اُنہوں نے ہندوستان سے لنکا یک سمندر کو تیر کر پار کیا تو چھوٹے موٹے درختوں کو صکھاڑنا کیا مشکل تھا۔ کئی درخت اکھاڑے، کچھ درختوں کی شاخیں توڑ ڈالیں اور پھل تو اتنے توڑ کر گرا دئے کہ اُن کا فرش سا چھ گیا ۔ باغ کے محافظوں نے یہ حال دیکھا تو جمع ہو کر ہنومان کو روکنے آئے ۔ مگر یہ کس کی سُنتے تھے ۔ اُن سبھوں کو شاخوں سے مار مار کر بھگا دیا ۔ کئی آدمیوں کو جان سے مار ڈالا۔ تب باہر سے اور کتنے ہی سپاہی آکر ہنومان کو پکڑنے لگے ۔ مگر آپ نے انہیں بھی مار بھگایا۔ شده شده راجہ راون کے پاس خبر پہنچی کہ ایک آدمی نہ جانے کدھر سے اشوکوں کے باغ<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 29mk2sltaf96dieoej5hwumqnafwgq8 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/233 250 12833 35314 31435 2026-07-10T10:38:59Z Jagdish Papra 66 35314 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>گھُس آیا ہے اور باغ کا ستیا ناس کے ڈالتا ہے ۔ کئی مالیوں اور سپاہیوں کو مار بھگایا ہے۔ کسی طرح نہیں مانتا ہے راون نے غصہ سے دانت پیس کر کہا " تم لوگ اُسے پکڑ کر میرے سامنے لاؤ بے محافظ حضور وہ اتنا طاقتور ہے کہ کوئی اُس کے پاس جا ہی نہیں سکتا: راون ۔ چُپ رہو ۔ نالائقو - باہر کا ایک آدمی ہمارے باغ میں گھس کہ یہ طوفان مچا رہا ہے اور تم لوگ اُسے گرفتار نہیں کر سکتے بڑے شرم کی بات ہے : یہ کہ کر راون نے اپنے لڑکے اکشے کمار ہنومان کو گرفتار کر لانے کے لئے بھیجا ۔ اکشے کمار کئی سو بہادروں کی فوج لے کر ہنومان لڑنے چلا ۔ ہنومان نے انہیں آتے دیکھ ایک موٹا سا درخت اُٹھا لیا اور اُن آدمیوں پر ٹوٹ پڑے ۔ پہلے ہی حملے میں کئی آدمی:<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> tv5gk9ttvqwt78ijhjj3k1qbbk7g9q9 35348 35314 2026-07-10T10:50:14Z Jagdish Papra 66 35348 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>گھُس آیا ہے اور باغ کا ستیا ناس کے ڈالتا ہے ۔ کئی مالیوں اور سپاہیوں کو مار بھگایا ہے۔ کسی طرح نہیں مانتا ہے راون نے غصہ سے دانت پیس کر کہا " تم لوگ اُسے پکڑ کر میرے سامنے لاؤ محافظ - 'حضور وہ اتنا طاقتور ہے کہ کوئی اُس کے پاس جا ہی نہیں سکتا': راون ۔ چُپ رہو ۔ نالائقو - باہر کا ایک آدمی ہمارے باغ میں گھس کہ یہ طوفان مچا رہا ہے اور تم لوگ اُسے گرفتار نہیں کر سکتے بڑے شرم کی بات ہے : یہ کہ کر راون نے اپنے لڑکے اکشے کمار ہنومان کو گرفتار کر لانے کے لئے بھیجا ۔ اکشے کمار کئی سو بہادروں کی فوج لے کر ہنومان لڑنے چلا ۔ ہنومان نے انہیں آتے دیکھ ایک موٹا سا درخت اُٹھا لیا اور اُن آدمیوں پر ٹوٹ پڑے ۔ پہلے ہی حملے میں کئی آدمی:<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> ftddql6gd01vbolp8a5cj4m0zpz9hov 35349 35348 2026-07-10T10:52:58Z Jagdish Papra 66 35349 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>گھُس آیا ہے اور باغ کا ستیا ناس کے ڈالتا ہے ۔ کئی مالیوں اور سپاہیوں کو مار بھگایا ہے۔ کسی طرح نہیں مانتا ہے راون نے غصہ سے دانت پیس کر کہا " تم لوگ اُسے پکڑ کر میرے سامنے لاؤ محافظ - 'حضور وہ اتنا طاقتور ہے کہ کوئی اُس کے پاس جا ہی نہیں سکتا': راون ۔ 'چُپ رہو ۔ نالائقو - باہر کا ایک آدمی ہمارے باغ میں گھس کہ یہ طوفان مچا رہا ہے اور تم لوگ اُسے گرفتار نہیں کر سکتے بڑے شرم کی بات ہے' : یہ کہ کر راون نے اپنے لڑکے اکشے کمار ہنومان کو گرفتار کر لانے کے لئے بھیجا ۔ اکشے کمار کئی سو بہادروں کی فوج لے کر ہنومان لڑنے چلا ۔ ہنومان نے انہیں آتے دیکھ ایک موٹا سا درخت اُٹھا لیا اور اُن آدمیوں پر ٹوٹ پڑے ۔ پہلے ہی حملے میں کئی آدمی:<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 65ydjoknszfudoo23f34kvqe31dxik8 35350 35349 2026-07-10T11:00:21Z Jagdish Papra 66 35350 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>گھُس آیا ہے اور باغ کا ستیا ناس کے ڈالتا ہے ۔ کئی مالیوں اور سپاہیوں کو مار بھگایا ہے۔ کسی طرح نہیں مانتا ہے راون نے غصہ سے دانت پیس کر کہا " تم لوگ اُسے پکڑ کر میرے سامنے لاؤ محافظ - 'حضور وہ اتنا طاقتور ہے کہ کوئی اُس کے پاس جا ہی نہیں سکتا': راون ۔ 'چُپ رہو ۔ نالائقو - باہر کا ایک آدمی ہمارے باغ میں گھس کہ یہ طوفان مچا رہا ہے اور تم لوگ اُسے گرفتار نہیں کر سکتے بڑے شرم کی بات ہے' : یہ کہ کر راون نے اپنے لڑکے اکشے کمارکو ہنومان کو گرفتار کر لانے کے لئے بھیجا ۔ اکشے کمار کئی سو بہادروں کی فوج لے کر ہنومان سے لڑنے چلا ۔ ہنومان نے انہیں آتے دیکھ ایک موٹا سا درخت اُٹھا لیا اور اُن آدمیوں پر ٹوٹ پڑے ۔ پہلے ہی حملے میں کئی آدمی:<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 46kawxtws2vc3d83xok8xl3ancrfzuh صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/38 250 13142 35315 2026-02-17T08:28:08Z Charan Gill 46 /* Not proofread */ auto summary: New page created (no summary given) 35315 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>سلطان غیاث الدین بلبن کے بیٹے قاآن محمد سلطان ناظم ملتان نے جسکو خان شہید کہتے ہین شیخ سے دو بار درخواست کی کہ آپ شیراز سے یہان آگئے ۔ اور چنگا میرخسرو سوت محمد سلطان ملاحظہ لیے کے مصاحبون مین تھے اسلئے انکا کلام ربی شیخ کے مار حفظہ کے لیے بھیجا۔ شیخ اسوقت بہت ہی معمر ہوگیا تھا اس سبب سے خود نہ آسکا۔ لیکن دونون دفعہ اپنے دو لیوان اپنے ہاتہ کے لکھے ہوئے خان شہید کو بھیجے اور امیر سر کی نسبت یہ کہا کہ اس جو ہر قابل کی تربیت قدر افزائی کرنی چاہیئے ۔ اور شیح کا ہندوستان مین چار دفعہ آنا ہی ثابت نہین ہے۔ صرف بوستان سے اتنا معام ہوتا ہے کہ اس نے سومنات سے نکلا ایکبار مغربی ہندوستان کا دورہ کیا ہے اور وہان سے بحر ہند اور بر عرب کی راہ مین اور حجاز مین پہنچا ہے ۔ شیخ کے سفر حبق بر استان اور بوستان سے ثابت ہوتے ہین انکی تفصیل پر ستے کو شرق مین خراسان ترکستان اور انار تیک گیا ہے اور بلخ کاشغر غیر ومین فلیم رہا ہے جنوب مین سومنات تک آیا اور ایک مدت تک یہان میرا اور سومنات سے مغربی ہندوستان مین پر کر دریا کی راہ سے عرب کو چلا گیا۔ شمال و مطرب کی طرف عراق عجم - آذربیجان عراق عرب شام - فلسطین اور ایشیائے کوچک مین بار با اسکارگر ہوا ہے ۔ اصفهان - تبریز بصرہ کوفہ واسطہ بیت المقدس- ملابس الشرق - دمشق - دیاریکر۔ اور انہماسے روم کے شہرون اور قریون بین سایت در از تک اُسکی آمد ورفت رہی ہے۔ مغرب کی جانب عرب اور افریقہ بین اس کا بار بار انا اور بات میری معلوم ہوتا ہے ۔ ہندوستان سے مراجعت کے وقت مین مین<noinclude></noinclude> gatfgc8g8ylalepw2exsc9wr72jyfzo 35316 35315 2026-02-17T08:38:47Z Charan Gill 46 35316 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>سلطان غیاث الدین بلبن کے بیٹے قاآن محمد سلطان ناظم ملتان نے جسکو خان شہید کہتے ہین شیخ سے دو بار درخواست کی کہ آپ شیراز سے یہان آگئے ۔ اور چنگا میرخسرو سوت محمد سلطان ملاحظہ لیے کے مصاحبون مین تھے اسلئے انکا کلام ربی شیخ کے مار حفظہ کے لیے بھیجا۔ شیخ اسوقت بہت ہی معمر ہوگیا تھا اس سبب سے خود نہ آسکا۔ لیکن دونون دفعہ اپنے دو لیوان اپنے ہاتہ کے لکھے ہوئے خان شہید کو بھیجے اور امیر سر کی نسبت یہ کہا کہ اس جو ہر قابل کی تربیت قدر افزائی کرنی چاہیئے ۔ شیح کا ہندوستان مین چار دفعہ آنا ہی ثابت نہین ہے۔ صرف بوستان سے اتنا معام ہوتا ہے کہ اُس نے سومنات سے نکلکر ایکبار مغربی ہندوستان کا دورہ کیا ہے اور وہان سے بحر ہند اور بحر عرب کی راہ مین اور حجاز مین پہنچا ہے ۔ شیخ کے سفر حسقدر گلستان اور بوستان سے ثابت ہوتے ہین اُنکی تفصیل پر ستے کو شرق مین خراسان ترکستان اور انار تیک گیا ہے اور بلخ کاشغر غیر ومین فلیم رہا ہے جنوب مین سومنات تک آیا اور ایک مدت تک یہان میرا اور سومنات سے مغربی ہندوستان مین پر کر دریا کی راہ سے عرب کو چلا گیا۔ شمال و مطرب کی طرف عراق عجم - آذربیجان عراق عرب شام - فلسطین اور ایشیائے کوچک مین بار با اسکارگر ہوا ہے ۔ اصفهان - تبریز بصرہ کوفہ واسطہ بیت المقدس- ملابس الشرق - دمشق - دیاریکر۔ اور انہماسے روم کے شہرون اور قریون بین سایت در از تک اُسکی آمد ورفت رہی ہے۔ مغرب کی جانب عرب اور افریقہ بین اوس کا بار بار جانا اور وہان ٹہیرنا معلوم ہوتا ہے ۔ ہندوستان سے مراجعت کے وقت مین مین<noinclude></noinclude> sbo3gw7by11497jdkmqvdkdawo3wsm4 35317 35316 2026-02-17T10:52:48Z Charan Gill 46 35317 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>سلطان غیاث الدین بلبن کے بیٹے قاآن محمد سلطان ناظم ملتان نے جسکو خان شہید کہتے ہین شیخ سے دو بار درخواست کی کہ آپ شیراز سے یہان آئے ۔ اور چونکہ امیر خسرو اسوقت محمد سلطان کے مصاحبون میں تہے اسلئے انکا کلام بہی شیخ کے ملاحفظہ کے لیے بھیجا۔ شیخ اسوقت بہت معّمر ہو گیا تھا اس سبب سے خود نہ آسکا۔ لیکن دونون دفعہ اپنے دو دیوان اپنے ہاتہ کے لکہے ہوئے خان شہید کو بہیجے اور امیر خسرو کی نسبت یہ کہا کہ اِس جوہر قابل کی تربیت اور قدر افزائی کرنی چاہیئے ۔ شیح کا ہندوستان مین چار دفعہ آنا ہی ثابت نہین ہے۔ صرف بوستان سے اتنا معام ہوتا ہے کہ اُس نے سومنات سے نکلکر ایکبار مغربی ہندوستان کا دورہ کیا ہے اور وہان سے بحر ہند اور بحر عرب کی راہ مین اور حجاز مین پہنچا ہے ۔ شیخ کے سفر حسقدر گلستان اور بوستان سے ثابت ہوتے ہین اُنکی تفصیل پر ستے کو شرق مین خراسان ترکستان اور انار تیک گیا ہے اور بلخ کاشغر غیر ومین فلیم رہا ہے جنوب مین سومنات تک آیا اور ایک مدت تک یہان میرا اور سومنات سے مغربی ہندوستان مین پر کر دریا کی راہ سے عرب کو چلا گیا۔ شمال و مطرب کی طرف عراق عجم - آذربیجان عراق عرب شام - فلسطین اور ایشیائے کوچک مین بار با اسکارگر ہوا ہے ۔ اصفهان - تبریز بصرہ کوفہ واسطہ بیت المقدس- ملابس الشرق - دمشق - دیاریکر۔ اور انہماسے روم کے شہرون اور قریون بین سایت در از تک اُسکی آمد ورفت رہی ہے۔ مغرب کی جانب عرب اور افریقہ بین اوس کا بار بار جانا اور وہان ٹہیرنا معلوم ہوتا ہے ۔ ہندوستان سے مراجعت کے وقت مین مین<noinclude></noinclude> 92icyyzq7npf4jprlgirobft3jw3dw8 35318 35317 2026-02-17T10:54:49Z Charan Gill 46 35318 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>سلطان غیاث الدین بلبن کے بیٹے قاآن محمد سلطان ناظم ملتان نے جسکو خان شہید کہتے ہین شیخ سے دو بار درخواست کی کہ آپ شیراز سے یہان آئے ۔ اور چونکہ امیر خسرو اسوقت محمد سلطان کے مصاحبون میں تہے اسلئے انکا کلام بہی شیخ کے ملاحفظہ کے لیے بھیجا۔ شیخ اسوقت بہت معّمر ہو گیا تھا اس سبب سے خود نہ آسکا۔ لیکن دونون دفعہ اپنے دو دیوان اپنے ہاتہ کے لکہے ہوئے خان شہید کو بہیجے اور امیر خسرو کی نسبت یہ کہا کہ اِس جوہر قابل کی تربیت اور قدر افزائی کرنی چاہیئے ۔ شیح کا ہندوستان مین چار دفعہ آنا ہی ثابت نہین ہے۔ صرف بوستان سے اتنا معاوم ہوتا ہے کہ اُس نے سومنات سے نکلکر ایکبار مغربی ہندوستان کا دورہ کیا ہے اور وہان سے بحر ہند اور بحر عرب کی راہ مین اور حجاز مین پہنچا ہے ۔ شیخ کے سفر حسقدر گلستان اور بوستان سے ثابت ہوتے ہین اُنکی تفصیل پر ستے کو شرق مین خراسان ترکستان اور انار تیک گیا ہے اور بلخ کاشغر غیر ومین فلیم رہا ہے جنوب مین سومنات تک آیا اور ایک مدت تک یہان میرا اور سومنات سے مغربی ہندوستان مین پر کر دریا کی راہ سے عرب کو چلا گیا۔ شمال و مطرب کی طرف عراق عجم - آذربیجان عراق عرب شام - فلسطین اور ایشیائے کوچک مین بار با اسکارگر ہوا ہے ۔ اصفهان - تبریز بصرہ کوفہ واسطہ بیت المقدس- ملابس الشرق - دمشق - دیاریکر۔ اور انہماسے روم کے شہرون اور قریون بین سایت در از تک اُسکی آمد ورفت رہی ہے۔ مغرب کی جانب عرب اور افریقہ بین اوس کا بار بار جانا اور وہان ٹہیرنا معلوم ہوتا ہے ۔ ہندوستان سے مراجعت کے وقت مین مین<noinclude></noinclude> lubh48evb4y9m7i8gvyaubm6fub6pwh 35319 35318 2026-02-18T08:04:45Z BalramBodhi 60 35319 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>سلطان غیاث الدین بلبن کے بیٹے قاآن محمد سلطان ناظم ملتان نے جسکو خان شہید کہتے ہین شیخ سے دو بار درخواست کی کہ آپ شیراز سے یہان آئے ۔ اور چونکہ امیر خسرو اسوقت محمد سلطان کے مصاحبون میں تہے اسلئے انکا کلام بہی شیخ کے ملاحظہ کے لیے بھیجا۔ شیخ اسوقت بہت معّمر ہو گیا تھا اس سبب سے خود نہ آسکا۔ لیکن دونون دفعہ اپنے دو دیوان اپنے ہاتہہ کے لکہے ہوئے خان شہید کو بہیجے اور امیر خسرو کی نسبت یہ لکہا کہ اِس جوہر قابل کی تربیت اور قدر افزائی کرنی چاہیئے ۔ شیح کا ہندوستان مین چار دفعہ آنا ہی ثابت نہین ہے۔ صرف بوستان سے اتنا معاوم ہوتا ہے کہ اُس نے سومنات سے نکلکر ایکبار مغربی ہندوستان کا دورہ کیا ہے اور وہان سے بحر ہند اور بحر عرب کی راہ مین اور حجاز مین پہنچا ہے ۔ شیخ کے سفر جسقدر گلستان اور بوستان سے ثابت ہوتے ہین اُنکی تفصیل یہ ہے کہ مشرق مین خراسان ترکستان اور تاتار تک گیا ہے اور بلخ و کاشغر وغیر مین مفیم رہا ہے جنوب مین سومنات تک آیا اور ایک مدت تک یہان ٹھہرا اور سومنات سے مغربی ہندوستان مین پہر کر دریا کی راہ سے عرب کو چلا گیا۔ شمال و مغرب کی طرف عراق عجم۔ آذربیجان عراق عرب شام۔ فلسطین۔ اور ایشیائے کوچک مین بار ہا اُسکا گزر ہوا ہے ۔ اصفهان ۔ تبریز۔ بصرہ کوفہ واسطہ یہ بیت المقدس۔ ملابس الشرق۔ دمشق۔ دیاریکر۔ اور افصاے روم کے شہرون اور قریون مین بہت دراز تک اُسکی آمد ورفت رہی ہے۔ مغرب کی جانب عرب اور افریقہ مین اوس کا بار بار جانا اور وہان ٹہیرنا معلوم ہوتا ہے ۔ ہندوستان سے مراجعت کے وقتیمن مین<noinclude></noinclude> fy6sytvnpe3gp1iu2pamsouapyv08ep 35320 35319 2026-02-18T13:06:51Z BalramBodhi 60 35320 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>سلطان غیاث الدین بلبن کے بیٹے قاآن محمد سلطان ناظم ملتان نے جسکو خان شہید کہتے ہین شیخ سے دو بار درخواست کی کہ آپ شیراز سے یہان آئے ۔ اور چونکہ امیر خسرو اسوقت محمد سلطان کے مصاحبون میں تہے اسلئے انکا کلام بہی شیخ کے ملاحظہ کے لیے بھیجا۔ شیخ اسوقت بہت معّمر ہو گیا تھا اس سبب سے خود نہ آسکا۔ لیکن دونون دفعہ اپنے دو دیوان اپنے ہاتہہ کے لکہے ہوئے خان شہید کو بہیجے اور امیر خسرو کی نسبت یہ لکہا کہ اِس جوہر قابل کی تربیت اور قدر افزائی کرنی چاہیئے ۔ شیح کا ہندوستان مین چار دفعہ آنا ہی ثابت نہین ہے۔ صرف بوستان سے اتنا معاوم ہوتا ہے کہ اُس نے سومنات سے نکلکر ایکبار مغربی ہندوستان کا دورہ کیا ہے اور وہان سے بحر ہند اور بحر عرب کی راہ مین اور جحاز مین پہنچا ہے ۔ شیخ کے سفر جسقدر گلستان اور بوستان سے ثابت ہوتے ہین اُنکی تفصیل یہ ہے کہ مشرق مین خراسان ترکستان اور تاتار تک گیا ہے اور بلخ و کاشغر وغیر مین مفیم رہا ہے جنوب مین سومنات تک آیا اور ایک مدت تک یہان ٹھہرا اور سومنات سے مغربی ہندوستان مین پہر کر دریا کی راہ سے عرب کو چلا گیا۔ شمال و مغرب کی طرف عراق عجم۔ آذربیجان۔ عراق عرب شام۔ فلسطین۔ اور ایشیائے کوچک مین بار ہا اُسکا گزر ہوا ہے ۔ اصفهان ۔ تبریز۔ بصرہ کوفہ واسطہ بیت المقدس۔ ملابس الشرق۔ دمشق۔ دیاربکر۔ اور افصاے روم کے شہرون اور قریون مین بہت دراز تک اُسکی آمد ورفت رہی ہے۔ مغرب کی جانب عرب اور افریقہ مین اوس کا بار بار جانا اور وہان ٹہیرنا معلوم ہوتا ہے ۔ ہندوستان سے مراجعت کے وقت یمن مین<noinclude></noinclude> agfuc6oatbfs706ieyhqft8bbhf0rcz 35321 32499 2026-07-10T10:39:08Z Satdeep Gill 85 [[:mul:Page:Hayaat-e-Sheikh_Saadi.pdf/38]] سے 6 نسخے درآمد کیے گئے 32499 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Harry sidhuz" /></noinclude>سلطان غیاث الدین بلبن کے بیٹے قاآن محمد سلطان ناظر مان نے جبکو خان شہید کہتے ہیں شیخ سے دو بار درخواست کی کہ آپ شیراز سے یہاں آگئے اور چنگا میرخسرو اسوقت محمد سلطان کے معما جون مین تھے اسلئے انکا کلام ہی تین کے لحظہ کے لیے بھیجا۔ یا وقت بہت معمہ ہو گیا تھا اس سبب سے خود نہ آسکا۔ لیکن دونوں دفعہ اپنے دو دیوان اپنے ہاتہ کے لکھے ہوئے خان شہید کو بھیجے اور امیر سر کی نسبت یہ لکھا کہ اس جوہر قابل کی تربیت ! قدر افزائی کرنی چاہیئے ۔ اور شیخ کا ہندوستان مین چار دفعہ آنا ہی ثابت نہیں ہے ۔ صرف بوستان سے اتنا محارم ہوتا ہے کہ اس نے سومنات سے نکلا ایکبار مغربی ہندوستان کا دورہ کیا ہے اور وہاں سے بحر ہند اور بحر عرب کی راہ مین اور حجاز مین پہنچا ہے ۔ شیخ کے سفر جسقدر گلستان اور بوستان سے ثابت ہوتے ہیں انکی تفصیل یہ ہے کہ مشرق مین خراسان ترکستان اور تاتاری گیا ہے اربیل کاشغر غیرہ میں عظیم رہا ہے جنوب مین سومنات تک آیا اور ایک مدت تک یہان میرا اور سومنات سے مغربی ہندوستان ین پر گوری کی راہ سے عرب کو چلا گیا۔ شمال و مغرب کی طرف عراق عجم - آذر بیجان عراق عرب شام، فلسطین اور ایشیائے کوچک میں بارہا اسکا گزر ہوا ہے ۔ اصفهان تبریز - عنبر ور کوفر واسط بیت المقدس- ملابس الشرق - مشق- دیاریگر اور فقہائے روم کے شہرون اور تربیون بین سایت در از تک اسکی آمد ورفت رہی ہے۔ مغرب کی جانب عرب اور افریقہ بین بار جانا اور ان میرا معلوم ہوا ہے ۔ ہندوستان سے مراجعت کے وقت مین مین تا اس<noinclude></noinclude> jw9o797co4r9crzzuwedopem2u69u1e صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/302 250 13169 35301 35299 2026-07-10T02:59:33Z Kaur.gurmel 74 35301 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>میں کوئی جگہ اپنی اجودھیا سے زیادہ پیاری نہیں ۔ مجھے یہاں کے کانٹے بھی دوسری جگہ پھولوں سے زیادہ خوبصورت معلوم ہوتے ہیں ۔ وہ دیکھو سرجو ندی شہر کو اپنی گود میں لئے کیسا بچوں کی طرح کِھلا رہی ہے ۔ اگر فقیر بن کر بھی یہاں رہنا پڑے تو دوسری جگہ راج کرنے سے زیادہ خوش رہونگا۔ ابھی وہ یہی باتیں کر رہے تھے کہ نیچے ہاتھی گھوڑوں، رتھوں کا جلوس نظر آیا ۔ سب کے آگے بھرت گیروے رنگ کی چادر اوڑھے، جٹا بڑھائے ، ننگے پاؤں ایک ہاتھ میں رامچندر کی کھڑاؤں لئے چلے آ رہے تھے۔ اُن کے پیچھے شتروہن تھے ۔ پالکیوں میں کوسلیا - سمنترا - اور کیکئی تھیں ۔ جلوس کے پیچھے اجودھیا کے لاکھوں آدمی اچھے اچھے کپڑے پہنے چلے آرہے تھے ۔ جلوس کو دیکھتے ہی رامچندر نے بمان نیچے اُتارا - نیچے کے آدمیوں کو ایسا معلوم ہُوا<noinclude></noinclude> oi4cd0x16qhuccucpa6kegcxvnvc86r 35302 35301 2026-07-10T03:36:23Z Kaur.gurmel 74 /* پروف خوانی شدہ */ 35302 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>میں کوئی جگہ اپنی اجودھیا سے زیادہ پیاری نہیں ۔ مجھے یہاں کے کانٹے بھی دوسری جگہ کے پھولوں سے زیادہ خوبصورت معلوم ہوتے ہیں ۔ وہ دیکھو سرجو ندی شہر کو اپنی گود میں لئے کیسا بچّوں کی طرح کِھلا رہی ہے ۔ اگر فقیر بن کر بھی یہاں رہنا پڑے تو دوسری جگہ راج کرنے سے زیادہ خوش رہونگا۔ ابھی وہ یہی باتیں کر رہے تھے کہ نیچے ہاتھی گھوڑوں، رتھوں کا جلوس نظر آیا ۔ سب کے آگے بھرت گیروے رنگ کی چادر اوڑھے، جٹا بڑھائے ، ننگے پاؤں ایک ہاتھ میں رامچندر کی کھڑاؤں لئے چلے آ رہے تھے۔ اُن کے پیچھے شتروہن تھے ۔ پالکیوں میں کوسلیا - سمترا - اور کیکئی تھیں ۔ جلوس کے پیچھے اجودھیا کے لاکھوں آدمی اچھے اچھے کپڑے پہنے چلے آرہے تھے ۔ جلوس کو دیکھتے ہی رامچندر نے بمان نیچے اُتارا - نیچے کے آدمیوں کو ایسا معلوم ہُوا<noinclude></noinclude> rqpsyf80rpkm1qsfl0dsod5fbf88vvy صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/303 250 13170 35303 32619 2026-07-10T03:45:16Z Kaur.gurmel 74 35303 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کہ کوئی بڑا طائر پر جوڑے اُتر رہا ہے ۔ کبھی ایسا بمان اُن کی نظر سے نہ گُزرا تھا۔ مگر جب بمان نیچے اُتر آیا تو لوگوں نے بڑے تعجب سے دیکھا کہ اُس پر رامچندر، سیتا ، لکشمن اور اُن کے سردار بیٹھے ہوئے ہیں ۔ جے جے کے نعروں سے آسمان ہل اُٹھا. جونهی رامچندر بمان سے اُترے بھرت دوڑ کر اُن کے پیروں سے لپٹ گئے ۔ اُن کے مُنہ سے آواز نہ نکلتی تھی ۔ بس آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔ رامچندر اُنہیں اُٹھا کر چھاتی سے لگانا چاہتے تھے مگر بھرت اُن کے پیروں کو نہ چھوڑتے تھے۔ کتنا پاک نظارہ تھا۔ رامچندر نے تو باپ کے حکم کو مان کر بن باس لیا تھا۔ مگر بھرت نے راج ملنے پر بھی اُسے قبول نہ کیا ۔ اس لئے کہ وہ سمجھتے تھے کہ رامچندر کے رہنتے راج پر میرا کوئی حق نہیں ہے ۔ اُنہوں نے بادشاہت ہی نہیں چھوڑی،<noinclude></noinclude> 6yhwvfokjdf2irt62djmts3skfl34ez 35305 35303 2026-07-10T04:05:18Z Kaur.gurmel 74 /* پروف خوانی شدہ */ 35305 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کہ کوئی بڑا طائر پر جوڑے اُتر رہا ہے ۔ کبھی ایسا بمان اُن کی نظر سے نہ گُزرا تھا۔ مگر جب بمان نیچے اُتر آیا تو لوگوں نے بڑے تعجب سے دیکھا کہ اُس پر رامچندر، سیتا ، لکشمن اور اُن کے سردار بیٹھے ہُوئے ہیں ۔ جے جے کے نعروں سے آسمان ہل اُٹھا. جونہی رامچندر بمان سے اُترے بھرت دوڑ کر اُن کے پیروں سے لپٹ گئے ۔ اُن کے مُنہ سے آواز نہ نکلتی تھی ۔ بس آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔ رامچندر اُنہیں اُٹھا کر چھاتی سے لگانا چاہتے تھے مگر بھرت اُن کے پیروں کو نہ چھوڑتے تھے۔ کتنا پاک نظارہ تھا۔ رامچندر نے تو باپ کے حکم کو مان کر بن باس لیا تھا۔ مگر بھرت نے راج ملنے پر بھی اُسے قبول نہ کیا ۔ اس لئے کہ وہ سمجھتے تھے کہ رامچندر کے رہتے راج پر میرا کوئی حق نہیں ہے ۔ اُنہوں نے بادشاہت ہی نہیں چھوڑی،<noinclude></noinclude> plyz1qoipuo3kny42tov6oa5115o40y صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/304 250 13171 35304 32620 2026-07-10T03:50:30Z Kaur.gurmel 74 35304 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>فقیرانہ زندگی بسر کی ۔ کیونکہ کیکئی نے انہیں کے لئے رامچندر کو بن باس دیا تھا۔ وہ فقیروں کی طرح رہ کر اپنی ماں کی بے انصافی کا بدلہ چکانا چاہتے تھے ۔ رامچندر نے بڑی مشکل سے اُنہیں اُٹھایا اور اُنہیں چھاتی سے لگا لیا ۔ پھر لکشمن بھی بھرت سے گلے ملے ۔ اُدھر سیتا جی نے جا کر کوسلیا اور دوسری ماتاؤں کے قدموں پر سر جھکایا ۔ کیکئی رانی بھی وہاں موجود تھیں۔ تینوں ساسوں نے سیتا کو دعائیں دیں۔ کیکئی اب اپنے کئے پر نادم تھی ۔ اب اس کا دل رامچندر اور کوسلیا کی طرف سے صاف ہو گیا تھا ہے` (^) رام چندر کی راج گنی آج رام چندر کی تاج پوشی کا مبارک دن ہے ۔ بہر جو کے کھارے میدان میں ایک وسیع شامیانہ کھڑا ہے ۔ اُس کی چومیں چاندی<noinclude></noinclude> hcs4p1cv35h5vxhv1sayyp4famtfeds صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/67 250 13689 35322 2026-02-25T10:32:43Z Taranpreet Goswami 90 /* Not proofread */ auto summary: New page created (no summary given) 35322 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۵۹ اور شیخ کو دین پوچھا۔ فرمایا خاک پاک شیراز- اس نے کہا کہ مسعودی کا کر د یاد ہے ؟ شیخ نے بطریق فروح اُس وقت وہ عربی شعر کرتی ہے ۔ اُس نے کسی قدروں کے بعد کیا سواری کا زیادہ ترا کلام فارسی ہے اگر کچھ اس میں سے یاد ہوتو پر کیے ۔ آپ نے ویسے ہی دو فارسی شعر ہی ہے جن مین سے ایک یہ ہے شعر ے دل عشاق بدار تونسی ها بتو شغول و تو با عروزید صبح کو جب شیخ نے کا شعر سے چلنے کا مادہ کیا کسی نے اس صاحب کہا ہے کہ پاک سعدی یہی شخص ہے۔ رو بہاگا ہوا شیخ کے پاس میل آیا اور نہایت فسوس کیا کہ پہلے سے آپ نے اپنا مام بتایا مین آپ کی خدمت گزاری سے سعادت حاصل کرتا گراب بھی چند روز شرمین چک تیام کیجئے تو ہم رگ خدمت گزاری سے مستفید ہون کے جواب میں آپ نے یہ شعار پر ہے ۔ اشعار بزر کے دیدم اند رکو بهارستان افت کرده از دنیا به ما است بزرگ اندر قناعت دنیا چرا گفته : شهر اندر نیائی کہ بارے بنداز دل برکشائی گفت آنجا پر یریان نفرند چنگل بسیار شد پاران بلغزند سی طرح متان سے جوکہ شیراز سے چودہ سو میل ہے وہ بارخان شہید سلطان محمد قاآن نے شیخ کی شہرت سنگرا، سکو وطن سے بلایا مگروہ بڑہاپے کے سبب نہ آسکا۔ تین کے حمام میں جو شیخ اور شور شاعر تمام تیاری کی نوک جوک ہوئی ہے دور سایت کے خوابی تمام الدین بادام و نسبت افقی اور کمالات علمی کے جبر کے امر مین سے شا اور شاعری میں تمام معاصرین<noinclude></noinclude> q5mvz0ju0l5eyyfd8y4mn951dgwp1c1 35323 35267 2026-07-10T10:39:11Z Satdeep Gill 85 [[:mul:Page:Hayaat-e-Sheikh_Saadi.pdf/67]] سے 1 نسخہ درآمد کیا گیا 35267 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>اور شیخ کا وتن پوچہا۔ فرمایا خاک پک شیراز۔ اُس نے کہا کوچہ سعدی کا کلام یاد ہے؟۔ شیخ نے غراح اُسیوقت دو عربی شعر کہکر پڑہے۔اُس نے کسی قدر تامل کے بعد کہا سعدی کا زیادتو کلام فارسی ہے اگر کچہ اُس مین سے یاد ہو تو پڑئے۔ آپ نے ویسے ہی دو فارسی شعر پڑہے جن مین سے ایک یہ ہے شعر {{Block center|<poem>اے دل عشاق بدام تو صید ما بتو مشغول و تو با عمد و زید</poem>}} صبح کو جب شیخ نے کاشغر سے چلنے کا ارادہ کیا کسی نے اس طالب علم سے کہدیا کہ سعدی یہی شخص ہے۔ وہ بہاگا ہوا شیخ کے پاس چلا آیا اور نہایت افسوس کیا کہ پہلے سے آپ نے اپنا نام نہ بنایا کہ مین آپ کی خدمت گزاری سے سعادت حاصل کرتا۔اگر اب بہی چند روز شہر مین چلکر قیام کیجئے تو ہم لوگ خدمتگزاری سے مستفید ہون اسکے جواب مین آپ نے یہ اشعار پڑہے۔ {{center|{{larger|'''اشعار'''}}}} {{Block center|<poem>بزرگے دیدم اندر کو ہسیارے قناعت کرده از دنیا بہ غارے چرا گفتم به شہراندر نیائ کہ بارے بنداز دل بر کشائی بگفت آنجا پریرویانِ نَغْزند چو گل بسیار شد پیلان بلغزند</poem>}} اسی طرح ملتان سے جو کہ شیراز سے چودہ سو میل ہے دو بار خان شہید سلطان محمد قاآن نے شیخ کی شہرت سنکر اوسکو وطن سے بلایا مگر وہ بڑہاپے کے سبب نہ آسکا۔ تبریز کے حمام مین جو شیخ اور مشہور شاعر حمام<ref>خواجہ حمام الدین باوجود نسبت باطنی اور کمالات علمی کے تبریز کے امرا مین سے تہا اور شاعری مین تمام معاحرین اسکو مانتے تھے۔ محقق طوسی سے تحصیل علم کی تہی اور ٧١٣ھ مین وفات پائی۔ </ref> تیزی کی نوک جھوک ہوئی ہے وہ نہایت<noinclude></noinclude> s44co138jvszn2np10px89m5guarh9e صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/68 250 13690 35324 2026-02-25T10:32:58Z Taranpreet Goswami 90 /* Not proofread */ auto summary: New page created (no summary given) 35324 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مشہور تصہ ہے۔ جب تک ہمام نے یہ ناجانا کہ پیشخص سعدی ہے تب تک اس سے چیر پیار کرتا رہا۔ لیکن جب معلوم ہوا کہ ایس بی شیرازی ہے اورا نہایت شرمندگی سے عدی معذرت کر کے اپنے مکان پرے گی اور جب تک ی تر زمین با کمال تعظیم اور است اسکی مہمانداری کی۔ سرگورا و علی نے کتاب مجالس العشاق سے ایک حکایت نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہ کمیکیم نزاری استانی جا بخراسان کا یک مشہور شاعر او ایمان مزاج آدمی تھا اور سمعیلی مذہب رکھتا تھا شیراز کے مادین شیخ سے ایک بنی صورت میں ملا معلوم ہوا کہ شخص خراسان کا رہنے والا ہے شیخ نے پوچھا کہ سندی کو کوئی خراسان میں جانتا ہے ہو کہاں اسکا نا مرد با عموما زبان زد خالق ہے اور پر شیخ کی درخواست سے اسکے چند اشعار پر ہے۔ ی خوا ہو اور جا کہ یمنی شہری عمدہ مذاق رکھتا ہے ۔ آخر دونون پر ایک دوست کی حقیقت کھل گئی۔ شیخ نزاری کو اپنے مکان پر لے گیا۔ اور بہت دن تک اُسکو جانے نایا در بہت خوشی سے دل کهول کر سکی جهانداری کی ۔ حکیم نزاری نے وہان سے رخصت ہوتے وقت اپنے ناک کیا ان ایام کو یا اینک کے مانو کی تواضع اور مدارات کس طرح کیا کرتے ہیں یہ جملہ شیخ کے کان تک بھی پہنچ گیا۔ اسکو سال افسوس ہوا اور یہ سمجھا کہ حکیم نے ہماری مہمانداری بین شاید کوئی قصور دیکھا ۔ حسن اتفاق سے شیخ کا گورستان میں ہوں اور میک و تدار سے ملاقات ہوئی۔ حکیم بہت محبت اور اخلاق سے بقیہ عائشہ صفحہ ۵۹ - اسکہ جانتے تھے۔ محقق طوسی سے تحصیل علم کی ہی دور سے حسین وفات پائی۔<noinclude></noinclude> aetlfhuo45lnmh1ypar4ihwrefl5o5a 35325 35276 2026-07-10T10:39:15Z Satdeep Gill 85 [[:mul:Page:Hayaat-e-Sheikh_Saadi.pdf/68]] سے 1 نسخہ درآمد کیا گیا 35276 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>مشہور قصّہ ہے۔ جب تک ہمام نے یہ جانا کہ شخصی سعدی ہے تب تک اُس سے چہیڑ چھاڑ کرتا رہا۔ لیکن جب معلوم ہوا کہ یہ سعدی شیرازی ہے فوراً نہایت شرمندگی سے عزر معذرت کر کے اپنے مکان پر لے گیا اور جب تک شیخ تبریز مین رہا کمال تعضیم اور ادب سے اسکی مہمانداری کی۔ سر گوراوسلی نے کتاب مجالس العشاق سے ایک حکایت نقل کی ہے جسکا خلاصہ یہ ہے کہ حکیم نزاری قہتانی اجوک خراسان کا ایک مشہور شاعر اور حکیمانہ مزاج آدمی تہا اور اسمعیلی مذہب رکھتا تھا، شیراز کے حمام مین شیخ سے ایک آجنبی صورت مین ملا معلوم ہوا کہ یہ شخص خراسان کا رہنے والا ہے شیخ نے پوچھا کہ سعدی کو کوئی خراسان مین جانتا ہے؟ کہا اسکا کلام وہان اموما زبان زد خالق ہے۔ اور پہر شیخ کی درخواست سے اُسکے چند اشعار پڑہے جنکو سنکر شیخ \مختلوظ\ ہوا اور سمجہا کہ یہ شخس شعر کا عمدہ مذاق رکھتا ہے۔ آخر دونون پر ایک دوسرے کی حقیقت کہل گئی۔ شیخ نزاری کو اپنے مکان پر لے گیا۔ اور بہت دن تک اُسکو جانے نہ دیا اور بہت خوشی سے دل کہول کر اُسکی مہمانداری کی۔ حکیم نزاری نے وہان سے رخصت ہوتے وقت اپنے نوکر سے کہا کہ اگر ہمارا میزبان کبہی خراسان مین آیا تو ہم اُسکو دکہایئنگے کہ مہمانونکی تواضع اور مدارات کس طرح کیا کرتے ہین۔ یہ جملہ شیخ کے کان تک بہی پہنچ گیا۔ اُسکور کمال افسوس ہوا اور یہ سمجہا کہ حکیم نے ہماری مہمانداری مین شاید کوئی تصور دیکہا۔ حسن اتفاق سے شیخ کا گزر قہتانان مین ہوا اور حکیم نزاری سے ملاقات ہوئی۔ حکیم بہت عجت اور اخلاق سے<noinclude></noinclude> tiha8gpqsi0bjb9o1tj2zwvrhab7ric صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/69 250 13812 35326 2026-02-25T10:33:15Z Taranpreet Goswami 90 /* Not proofread */ auto summary: New page created (no summary given) 35326 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>پیش آیا نگر دعوت میں کچھ زیادہ تکلف نہیں کیا۔ پہلے رو جو کھانا دسترخوان پرآیا در محض رسمی اور سید یا سادہ تھا۔ دوسرے وقت ایک بہتے ہوئے تیر کے سوا اور کھایا تھا۔ میرے وقت ایک گوشت کا ابلا ہوا پارہ اور کہا تھا چلتے وقت حکم نے نیچے سے معافی چاہی دیکھا کہ میں علمی آپ نے میری بندیانت مین کا مفات کیے تھے اس طرح سے مہمان آخرکی بار خاطر موجاتے لیکن ہمارا طریقہ ایسا نہیں ہے شیر کو اس جملہ کا مطلب ہو ندارمی نے شیراز سے چلتے وقت، کہا تھا اب معلوم ہوا ۔ اس حکایت سے شیخ کی شہرت اور بلند و زندگی کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کردہ مذہبی تعصیات سے میرا تھا۔ فرقہ اسمعیلہ کے لوگ اس زمانہ میں عموما لی اور بدین سمجھے جاتے تھے اور کوئی فرقیمہ برانوں کے نزدیک ہتھیلیوں سے زیاد و مبغوض اور درود د تا پس شیخ کی کمال ہے تعصبی ہی کہ اس نے ہمارے عہد کے مولیون اور واعظون کے برخلاف ایک غریب اسمعیلی کی اپنے وطن میں اسقدر خاطر در مدارات کی اور خراسان میں خود اس سے جا کربلا اور اسکا مہمان رہا۔ الغرض یہ حال شیخ کی شہرت کا خودا سکے زمانہ مین ا اور اسکے رینکی بود اما تایا اسکے کام حاصل کی اس کے بیان کرنے کی کچھہ ضرورت نہیں۔ شیخ کے کلام پراورلوگوں کی رسائین اکثر جلیل القدر شعرا نے شیخ کی نسبت ایسے اشعار کے میں بہنے کی اصلی راستے تین کے کلام کی نسبت خظا ہر ہوتی ہے۔ مولانا عبد الرحمن جامی نے بہارستان میں کسی شان کا<noinclude></noinclude> 2i7b3h00bemxaqo7v2f97tw3rfrjnjo 35327 35279 2026-07-10T10:39:18Z Satdeep Gill 85 [[:mul:Page:Hayaat-e-Sheikh_Saadi.pdf/69]] سے 1 نسخہ درآمد کیا گیا 35279 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>پیش آیا مگر دعوت مین کچھ زیادہ تکلف نہین کیا۔ پہلے روز جو کہانا دسترخوان پر آیا وہ محض رسمی اور سیدہا سادہ تھا۔ دوسرے وقت ایک بُہنے ہوئے تیتر کے سوا اور کچہ نہ تہا تیسرے وقت ایک گوشت کا اُبلا ہوا پ رچہ اور خشکا تھا۔ چلتے وقت حکیم نے شیخ سے معافی چاہی اور کہا کہ جس طرح آپ نے میری خدمیافت مین تکلفات کیے تہے اُس طرح سے مہمان آخر کو بار خاطر ہو جاتا ہے لیکن ہمارا طریقہ ایسا نہین ہے شیخ کو اُس جملہ کا مطلب جو نزاری نے شیراز سے چلتے وقت کہا تہا اب معلوم ہوا۔ اِس حکایت سے شیخ کی شہرت اور بلند آوازگی کے علاوہ یہ بہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ مذہبی تعصیات سے مبرا تہا۔ فرقہ اسمعیلہ کے لوگ اُس زمانہ مین عموماً ملحد اور بدین سمجھے جاتے تہے اور کوئی فرقہ مسلمانونں کے نزدیک اسمعیلیون سے زیادہ مبغوض اور مردود نہ تہا پس شیخ کی کمال بے تعصبی تہی کہ اُس نے ہمارے عہد کے \مویون\ اور واعظون کے برخلاف ایک غریب اسمعیلی کی اپنے وتن مین اسقدر خاطر اور مدارات کی اور خراسان مین خود اُس سے جاکر ملا اور اسکا مہمان رہا۔ الغرض یہ حال شیخ کی شہرت کا خود اُسکے زمانہ مین تہا اور اُسکے فرنیکے بعد جو عام قبولیت اُسکے کلام نے حاصل کی اُسکے بیان کرنے کی کچھہ ضرورت نہیں۔ {{center|'''شیخ کے کلام پر اور لوگوں کی رائین'''}} اکثر جلیل القدر شعرانے شیخ کی نسبت ایسے اشعار کے ہین جنسے اونکی اصلی رائ شیخ کے کلام کی نسبت ظاہر ہوتی ہے۔ مولانا عبدالرحمن جامی نے بہارستان میں کسی شاعر کا<noinclude></noinclude> itaoul1t6lltkz616667nky7e7ezsnd صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/70 250 13813 35306 35293 2026-07-10T04:20:58Z Charan Gill 46 35306 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>قتعہ نقل کیا ہے جس مین فردوسی کو مشنوی کا۔ انوری کو قصیدہ کا اور سعادی کو غزل کا پیمبر قرار دیا ہے اور وہ قطع یہ ہے۔ {{center|{{larger|'''قطع'''}}}} {{Block center|<poem>در شعر سه کن پیمبرانند ہر چند که لانبی بعدی ابیات و قصیدۂ و غزل را فردوسی و انوری و سعدی</poem>}} نیز مولانا جامی نے نفحات الانس مین امیر خسرو دہلوی کی کثرت تصانیف اور جامعیت کے ذکر کے بعد شیخ کو باعتبار مقبولیت کلام کے امیر پر اِس پیرایہ مین ترجیح دی ہے کہ امیر نے بھی خضر کی ملاقات کے وقت یہ درخواست کی تھی کہ اپنا آب دہن اُسکے موہنہ مین ڈالے حضرت خضر نے فرمایا کہ یہ دولت سعدی کے نصیب کی تہی۔ حضرت امیر خسرو دہلوی نے جو شیخ سعدی اور ہمام تبریزی کو اپنی مشنوی نہ سپہر مین غزل کا اُستاد مانا ہے لیکن دیگر اصناف سخن مین کناتیاً اپنے کو ترجیح دی ہے۔ مگر ایک اور شعر مین مطلقاً شیخ کے ابتاع پر خود فخر کیا ہے چنانچہ فرماتے ہین '''شعر''' {{Block center|<poem>خسرو سرمست اندر ساغر معنی بیخت شیره از میخانہ مستی که در شیراز بود</poem>}} حضرت امیر حسن دہلوی نے بہی جنکو اُسکے زمانہ کے اہل مذاق سعدی ہندوستان کہتے تھے شیخ کے متتج پرافتحاز کیا ہے وہ کہتے ہین شعر {{Block center|<poem> حسن گلے ز گلستان سعدی آورده است که اهل معنی گلچین ازین گلستان اند</poem>}} خواجہ مجدالدین ہمگر جو کہ شیخ کا جلیل القدر معاصر ہے اُس سے چار نامی گرامی فاضلو ن<noinclude></noinclude> ebtsmbv3nhmvyx6141o165ggvvyr19u 35328 2026-02-25T10:33:55Z Taranpreet Goswami 90 /* Not proofread */ auto summary: New page created (no summary given) 35328 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>قطعہ نقل کیا ہے جس میں فردوسی کو مثنوی کا ۔ انوری کو قصیدہ کا اور سعدی کو غزال کا یمیر قرار دیا ہے اور وہ قطعہ یہ ہے۔ قطعہ در شعر سے کسی ہمیرا نند هر چند که لانبی بعدی سن ابیات و قصیده و غربی را فردوسی و انوری دوست ندی نیز مولانا جامی نے نفحات الانس میں امیر خسرو دہلوی کی کثرت تصانیف اور جامعیت کے ذکر کے بعد شیخ کو باعتبار مقبولیت کلام کے امیر پیاس پیر امین تری دی ہے کر امیر نے بھی خضر کی ملاقات کے وقت یہ درخواست کی تھی کہ اپنا آب راہن اُس کے سوہنہ میں ڈالے حضرت خضر نے فرمایا کہ یہ دوست سعدی کے نصیب کی تھی ۔ حضرت امیر شر دہلی نے بھی یہ سعید اور جام تبریزی کو اپنی شوی نه سرین غزوں کا استاد مانا ہے لیکن دیگر اصناف سخن میں کنائیگا، اپنے کو ترجیح دی ہے ۔ مگر ایک اور شعر مین مطلاقا شیخ کے ابتاع پر خود نخر کیا ہے چنانچہ فرماتے ہیں شعر خره درست اند رسا و معنی برخیت شیره از میخانه هستی که در شیراز بود حضرت امیر حسن دہلوی نے بھی جن کو ا سکے زمانہ کے اہل مذاق سعدی ہندوستان کتے تھے شیخ کے تیج پرافتخار کیا ہے وہ کہتے ہیں شعر حسن گئے زنگلستان سعدی آورده است که اهل معنی گلچین از ین گلستان اند خواهیم الدین جمرود که شیخ کا جلیل القدر معاصر ہے اس سے چار نامی گرامی فاضلون<noinclude></noinclude> qhbj0unwc0gbx6g9b0qa169limqqyi1 35329 35306 2026-07-10T10:39:22Z Satdeep Gill 85 [[:mul:Page:Hayaat-e-Sheikh_Saadi.pdf/70]] سے 1 نسخہ درآمد کیا گیا 35306 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>قتعہ نقل کیا ہے جس مین فردوسی کو مشنوی کا۔ انوری کو قصیدہ کا اور سعادی کو غزل کا پیمبر قرار دیا ہے اور وہ قطع یہ ہے۔ {{center|{{larger|'''قطع'''}}}} {{Block center|<poem>در شعر سه کن پیمبرانند ہر چند که لانبی بعدی ابیات و قصیدۂ و غزل را فردوسی و انوری و سعدی</poem>}} نیز مولانا جامی نے نفحات الانس مین امیر خسرو دہلوی کی کثرت تصانیف اور جامعیت کے ذکر کے بعد شیخ کو باعتبار مقبولیت کلام کے امیر پر اِس پیرایہ مین ترجیح دی ہے کہ امیر نے بھی خضر کی ملاقات کے وقت یہ درخواست کی تھی کہ اپنا آب دہن اُسکے موہنہ مین ڈالے حضرت خضر نے فرمایا کہ یہ دولت سعدی کے نصیب کی تہی۔ حضرت امیر خسرو دہلوی نے جو شیخ سعدی اور ہمام تبریزی کو اپنی مشنوی نہ سپہر مین غزل کا اُستاد مانا ہے لیکن دیگر اصناف سخن مین کناتیاً اپنے کو ترجیح دی ہے۔ مگر ایک اور شعر مین مطلقاً شیخ کے ابتاع پر خود فخر کیا ہے چنانچہ فرماتے ہین '''شعر''' {{Block center|<poem>خسرو سرمست اندر ساغر معنی بیخت شیره از میخانہ مستی که در شیراز بود</poem>}} حضرت امیر حسن دہلوی نے بہی جنکو اُسکے زمانہ کے اہل مذاق سعدی ہندوستان کہتے تھے شیخ کے متتج پرافتحاز کیا ہے وہ کہتے ہین شعر {{Block center|<poem> حسن گلے ز گلستان سعدی آورده است که اهل معنی گلچین ازین گلستان اند</poem>}} خواجہ مجدالدین ہمگر جو کہ شیخ کا جلیل القدر معاصر ہے اُس سے چار نامی گرامی فاضلو ن<noinclude></noinclude> ebtsmbv3nhmvyx6141o165ggvvyr19u صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/71 250 13814 35330 2026-02-25T10:34:27Z Taranpreet Goswami 90 /* Not proofread */ auto summary: New page created (no summary given) 35330 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۶۳ نے جن میں سے ، شخص علاوہ علم وفضل کے ان کو ان کے رکن سلطنت ہی نے لینی میں سے خواجہ شمس الدین صاحب دیوان امیریان این بهانه ای کرده ام افتخار الدین کمانی ور سانور الدین صدری نے باتفاق بمگر ایک قطعہ مرتب کرکے محمد بنگر کے پاس بہیجا تھا جسمین مامی مردی و سعدی شیرازی کے کلام میں کمی کی درخواست کی گئی تھی ا سکے جواب مین مجد ہنگر نے یہ رباعی لکھا بھی۔ ا گریه به خلق طلوعی خوش نفه رباعی در شیوه شاعری به اجماع احمر هرگز من مستعدی به امامی نه سیم اس رباعی میں اگرچہ نگر نے شیخ کو اپنے سے بہتر بتایا ہے گرما می کواپنے اور شیخ دانون پر ترجیح دی ہے۔ مایی اعطف علی خان آز نے مذکورہ باد حکایت پر کچھ لکھا ہے وہ حافظ کے قابل ہوں وہ لکھتا ہے کہ بعض مدعیان شعر نے میدالدین جگر سے رک جنایت آلمی پستی طلب میں آج آنکا کوئی نظیر نہیں ہے سعدی اور مالی کی باہت کا کوین پا تھا انہوں نے جو بس میں یہ رباعی تری فروانی مین نے اس برائی کو یہ کرنا افتعالی کا شکر ان کیا کہ ہمارے زمانہ میں ایسا استتها و کسی کو نین ہے ایسا کہ یا کہ چاہنے والوں کو تھا ، اس ذات جانتے ہیں کہ جگر کی تحقیق کیسی پسینڈی ہوا د شیخ نے بھی اس رباعی کو شکر ایک رباعی لکھی ہے جوا س کے کلیات میں موجود ہے یعنی وہ ہر کس کہ سیارگاه سامی رسد از بجنت سیاه و بدکامی ترسد به بنگر که هم خودت کرده است نماز به شک نیست که هرگز به امامی ترسد ) ۱۲۰<noinclude></noinclude> qix6zz7ottp7p5md167od0p0g5hqmun 35331 35294 2026-07-10T10:39:25Z Satdeep Gill 85 [[:mul:Page:Hayaat-e-Sheikh_Saadi.pdf/71]] سے 1 نسخہ درآمد کیا گیا 35294 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>نے جن مین سے دو شخص علاوہ علم و فضل کے بلاکو خان کے رکن سلطنت بہی تہے یعنی خواجہ شمس الدین صاحب دیوان۔ امیر معین الدین پدوانہ حاکم روم۔ ملک افتحاز الدین کرمانی اور ملا نور الدین صدری نے باتفاق ہمدگر ایک قطعہ مرتب کر کے مجد ہمگر کے پاس ہیجا تھا۔ جہین امامی ہروی اور سعدی شیرازی کے کلام پر محاکمہ کی درخواست کی گئی تھی۔ اُسکے جواب مین مجد ہمگر نے یہ رباعی لکہکر ہہیجی۔ {{center|'''رباعی'''}} {{Block center|<poem>ماگرجہ بہ تطق طوطی خوش نفیم بر شکر گفتہ ہائ سعدی میگیم در شیوۂ شاعری به اجماع اعم ہرگز من و سعدی به امامی نہ رسیم</poem>}} اِس رباعی مین اگرچہ ہمگر نے شیخ کو اپنے سے بہتر بتایا ہے مگر امامی کو اپنے اور شیخ دونون پر ترجیح دی ہے۔ حاجی لطف علی خان آوز نے مذکورہ بالا حکایت پر جو کچہ لکہا ہے وہ ملاحظہ کے قابل ہے وہ لکھتا ہے کہ بعض مدعیان سعد نے مجد الدین ہمگر سے کہ بعنایت آلمی پستی طبع مین آج اُنکا کوئی نظیر نہین ہے سعدی اور امامی کی بابت محاکمہ چاہا تہا اُنہون نے جواب مین یہ رباعی تحریر فرمائی مین نے اس رباعی کو پڑہ کر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ ہمارے زمانہ مین ایسا استباہ کسی کو نہین ہے (جیسا کہ محاکمہ چاہنے والون کو تہا) اہل مذاق جانتے ہین کہ ہمگر کی تحقیق کیسی پھینڑی ہے شیخ نے بھی اِس رباعی کو سنکر ایک رباعی لکہی ہے جو اس کے کلیات مین موجود ہے یعنی مہر کس کہ بارگاہ سامی نرسد از بخت سیاه و بدکلامی نرسد به ہمگر کہ بعمر خود نہ کرده است نماز - شک نیست کہ هرگز بہ امامی نرسد" ۱۴<noinclude></noinclude> me44iq1iusm7590axgjxkycjg71yhuc صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/72 250 13815 35307 35282 2026-07-10T04:29:27Z Charan Gill 46 35307 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>بان انہون نے اپنی نسبت بالکل صحیح فرمایا ہے کہ میں امامی کے درجہ کونہیں پہنچتا ۔ بشیک امی کا مرتبہ جناب صاحب رباعی سے بہت بالا تر ہے لیکن کسی طرح مسکو شیخ بزرگار سے نسبت نہیں ہے بلکہ تین شخصوں کے سوا اور کسی کی مجال نہین جو شیخ کی مساوات کا روم مار کے مینا کاری ہوا کرتاتھا جیسا ہمارازمان دانشمندون پر سخت گزرتا ہے ایسا زمانہ پہلے سخنوروں پر ہی گزرا ہے یا نہیں ۔ جب یہ حکایت میری نظر سے گری تو جا مبرا گیا حاجی موصوت نے اس مقام پرندہ جگر کی شان میں ایک قطعہ ہی لکھا ہے اور وہ یہ ہے ۔ {{center|'''قطعہ'''}} {{Block center|<poem>یکے گفت امامی، امام ہری را ز سعدی فزون یافته مجد ہمگر در این ماجرا چیست رأی تو؟ گفتم ستم‌گر بود مجد ہمگر، ستم‌گر</poem>}} ہمارے نزدیک اگر جد بمگر اس عصرین اس مین سعدی اور امامی گزرے ہین ہونا ملکی پچاس برس بعد پیدا ہوتا تو اسکو بھی شیخ اور امامی کے رتبہ مین ہرگز یہ اشتباہ ہوتا معاشی نے لوگوں کے حالات پر اکثر ایسے پر دے ڈالے بین گریبقی راون کا زماندگار تاگی اسی قدر وہ پر دے مرتفع ہوتے گیے اور رفتہ رفتہ وحق بات تھی دو ظا ہر ہوگئی۔ اصل یہ ہے ب ایک زمانہ مین و اہل کمال ہوتے ہیں تو ہر ایک کے ساتھ ایک ایک گروہ متعصبین کھڑا ہوجاتاہے کیونکہ شخص کے کچھ عزیز اور دوست اورکچھ ان دوستوں کے دوست اور اسی طرح کچہ منی لعت اور ان مخالفوں کے دوست اور لگاتے ضرور ہوتے ہیں اور اس طرح شاید تین شخصون سے مراد فردوسی - انوری اور نظامی ہین۔<noinclude></noinclude> iz0canm2wmnrzbl97k3uq8jl7bld573 35308 35307 2026-07-10T05:10:06Z Charan Gill 46 35308 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>ہان انہون نے اپنی نسبت بالکل صحیح فرمایا ہے کہ میں امامی کے درجہ کونہیں پہنچتا ۔ بشیک امی کا مرتبہ جناب صاحب رباعی سے بہت بالا تر ہے لیکن کسی طرح اسکو شیخ بزرگار سے نسبت نہیں ہے بلکہ تین شخصوں کے سوا اور کسی کی مجال نہین جو شیخ کی مساوات کا روم مار کے مینا کاری ہوا کرتاتھا جیسا ہمارازمان دانشمندون پر سخت گزرتا ہے ایسا زمانہ پہلے سخنوروں پر ہی گزرا ہے یا نہیں ۔ جب یہ حکایت میری نظر سے گری تو جا مبرا گیا حاجی موصوت نے اس مقام پرندہ جگر کی شان میں ایک قطعہ ہی لکھا ہے اور وہ یہ ہے ۔ {{center|'''قطعہ'''}} {{Block center|<poem>یکے گفت امامی، امام ہری را ز سعدی فزون یافته مجد ہمگر در این ماجرا چیست رأی تو؟ گفتم ستم‌گر بود مجد ہمگر، ستم‌گر</poem>}} ہمارے نزدیک اگر جد بمگر اس عصرین اس مین سعدی اور امامی گزرے ہین ہونا ملکی پچاس برس بعد پیدا ہوتا تو اسکو بھی شیخ اور امامی کے رتبہ مین ہرگز یہ اشتباہ ہوتا معاشی نے لوگوں کے حالات پر اکثر ایسے پر دے ڈالے بین گریبقی راون کا زماندگار تاگی اسی قدر وہ پر دے مرتفع ہوتے گیے اور رفتہ رفتہ وحق بات تھی دو ظا ہر ہوگئی۔ اصل یہ ہے ب ایک زمانہ مین و اہل کمال ہوتے ہیں تو ہر ایک کے ساتھ ایک ایک گروہ متعصبین کھڑا ہوجاتاہے کیونکہ شخص کے کچھ عزیز اور دوست اورکچھ ان دوستوں کے دوست اور اسی طرح کچہ منی لعت اور ان مخالفوں کے دوست اور لگاتے ضرور ہوتے ہیں اور اس طرح شاید تین شخصون سے مراد فردوسی - انوری اور نظامی ہین۔<noinclude></noinclude> jdypexge86a2p29qlakf62sthtw7rtd 35309 35308 2026-07-10T05:46:39Z BalramBodhi 60 35309 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>ہان انہون نے اپنی نسبت بالکل صحیح فرمایا ہے کہ مین امامی کے درجہ کو نہین پہنچتا۔ بشیک امامی کا مرتبہ جناب صاحب رباعی سے بہت بالا تر ہے لیکن کسی طرح اسکو شیخ بزرگوار سے نسبت نہین ہے بلکہ تین شخصون کے سوا اور کسی کی مجال نہین جو شیخ کی مساوات کا دم مار سکے مین اکسر یہ سوچا کرتا تھا کہ جیسا ہمارا زمانہ دانشمندون پر سخت گزرتا ہے ایسا زمانہ پہلے سخنورون پر بہی گزرا ہے یا نہین۔ جب یہ حکایت میری نظر سے گزری تو مجکو صبر آ گیا" حاجی موصوف نے اِس مقام پر مزد محگر کی شان مین ایک قطعہ بہی لکہا ہے اور وہ یہ ہے۔ {{center|'''قطعہ'''}} {{Block center|<poem>یکے گفت امامی امام ہری را ز سعدی فزون یافته مجد ہمگر در این ماجرا چیست رأے تو۔ گفتم ستم‌گر بود مجد ہمگر ستم‌گر</poem>}} ہمارے نزدیک اگر مجد بمگر اُس عصر مین جس مین سعدی اور امامی گزرے ہین نہوتا بلکہ سو پچاس برس بعد پیدا ہوتا تو اُسکو بہی شیخ اور امامی کے رتبہ مین ہرگز یہ اشتباہ نہوتا معاصرت نے لوگون کے حالات پر اکثر ایسے پردے ڈالے ہین مگر جسقدر اون کا زمانہ گزرتا گیا اُسی قدر وہ پردے مرتضع ہوتے گیے اور رفتہ رفتہ جو حق بات تہی وہ ظاہر ہوگئی۔ اصل یہ ہے کہ جب ایک زمانہ مین وہ اہل کمال ہوتے ہین تو ہر ایک کے ساتھ ایک ایک گروہ متعصبین کا کہڑا ہو جاتا ہے کیونکہ ہر شخص کے کچہ عزیز اور دوست اور کچہ اُن دوستون کے دوست اور اسی طرح کچہ مخالف اور اُن مخالفون کے دوست اور بگانے ضرور ہوتے ہین اور اس طرح شاید تین شخصون سے مراد فردوسی۔ انوری اور نظامی ہین۔<noinclude></noinclude> kdejwslpfsdx9u7sl7ud22jw41fhidm 35332 2026-02-25T10:34:38Z Taranpreet Goswami 90 /* Not proofread */ auto summary: New page created (no summary given) 35332 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>یان انہون نے اپنی نسبت بالکل صحیح فرمایا ہے کہ میں امامی کے درجہ کو نہیں پہنچیں ۔ بیشک لامی کا مرتبہ جناب صاحب رہائی سے بہت بالا تر ہے لیکن کسی ملی کسکو شیخ بزرگیار ہے نسبت نہیں ہے بلکہ تین شخصون کے سوا اور کسی کی مجال نہین جو شیخ کی سادات کا دم مین اکثر یہ سویا کرتا تا کی بیاہمارا زمانہ دانشمندون پخت گزرتا ہے ایسا مادہ پینے سخنوران پربھی گزرا ہے یا نہیں۔ جب یہ حکایت میری نظر سے گزاری توجہ صبر گیا حاجی موصوف نے اس مقام پنجہ نمر کی شان میں ایک نقطہ ہی کیا ہے اور وہ ہے ہے۔ قطعه یکے گفت امامی امام بری را از سعدی فرون یافته جب انگر وردین ماجرا پست با تو گفتم مگر بود به بنگر ستمگر ہمارے نزدیک اگر مجد بمگر اس عصر مین در بین سعدی اور نامی گزرے ہین ہوتا ملکه س پچاس برس بعد پیدا ہوتا تو اسکو ہی شیخ اور امامی کے رتبہ مین ہرگز یہ اشتباہ ہوتا معاشی نے لوگوں کے حالات پراکثرا ہے پر دے بارے میں گر مبتقدر راون کا زمانہ گزرتا گیا اسی قدر وہ پر دست مرتفع ہوتے گئے اور رفتہ رفتہ وحق بات تھی وفظا ہر ہوگئی۔ اصل یہ ہے کہ جب ایک زمانہ میں وہ اہل کمال ہوتے ہیں تو ہر ایک کے ساتھ ایک ایک گروہ متعصبین کھڑا ہو جاتاہے کیونکہ شخص کے کچھ عزیز اور دوست اور کچہ ان دوستوں کے دوست اور اسی طرح چھہ مخالف اور ان مخالفون کے دوست اور بیگانے ضرور ہوتے ہیں اور اس طرج ه شاید تین شخصمون سے مراد فردوسی - انوری اور نظامی ہیں۔<noinclude></noinclude> eqspdldk3ffgvxesbdx7u7cppqasudf 35333 35309 2026-07-10T10:39:29Z Satdeep Gill 85 [[:mul:Page:Hayaat-e-Sheikh_Saadi.pdf/72]] سے 1 نسخہ درآمد کیا گیا 35309 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>ہان انہون نے اپنی نسبت بالکل صحیح فرمایا ہے کہ مین امامی کے درجہ کو نہین پہنچتا۔ بشیک امامی کا مرتبہ جناب صاحب رباعی سے بہت بالا تر ہے لیکن کسی طرح اسکو شیخ بزرگوار سے نسبت نہین ہے بلکہ تین شخصون کے سوا اور کسی کی مجال نہین جو شیخ کی مساوات کا دم مار سکے مین اکسر یہ سوچا کرتا تھا کہ جیسا ہمارا زمانہ دانشمندون پر سخت گزرتا ہے ایسا زمانہ پہلے سخنورون پر بہی گزرا ہے یا نہین۔ جب یہ حکایت میری نظر سے گزری تو مجکو صبر آ گیا" حاجی موصوف نے اِس مقام پر مزد محگر کی شان مین ایک قطعہ بہی لکہا ہے اور وہ یہ ہے۔ {{center|'''قطعہ'''}} {{Block center|<poem>یکے گفت امامی امام ہری را ز سعدی فزون یافته مجد ہمگر در این ماجرا چیست رأے تو۔ گفتم ستم‌گر بود مجد ہمگر ستم‌گر</poem>}} ہمارے نزدیک اگر مجد بمگر اُس عصر مین جس مین سعدی اور امامی گزرے ہین نہوتا بلکہ سو پچاس برس بعد پیدا ہوتا تو اُسکو بہی شیخ اور امامی کے رتبہ مین ہرگز یہ اشتباہ نہوتا معاصرت نے لوگون کے حالات پر اکثر ایسے پردے ڈالے ہین مگر جسقدر اون کا زمانہ گزرتا گیا اُسی قدر وہ پردے مرتضع ہوتے گیے اور رفتہ رفتہ جو حق بات تہی وہ ظاہر ہوگئی۔ اصل یہ ہے کہ جب ایک زمانہ مین وہ اہل کمال ہوتے ہین تو ہر ایک کے ساتھ ایک ایک گروہ متعصبین کا کہڑا ہو جاتا ہے کیونکہ ہر شخص کے کچہ عزیز اور دوست اور کچہ اُن دوستون کے دوست اور اسی طرح کچہ مخالف اور اُن مخالفون کے دوست اور بگانے ضرور ہوتے ہین اور اس طرح شاید تین شخصون سے مراد فردوسی۔ انوری اور نظامی ہین۔<noinclude></noinclude> kdejwslpfsdx9u7sl7ud22jw41fhidm صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/73 250 13816 35310 35283 2026-07-10T06:40:26Z BalramBodhi 60 35310 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>بڑہتے بڑہتے دو بڑے گروہ پیدا ہو جاتے ہین۔ لیکن جب وہ طبقہ ختم ہو جاتا ہے اور اُنکے ساتھ کسی کو لاگ یا لگاو باقی نہین رہتا تو جو ٹہیک بات ہوتی ہے وہ بغیر بحث و حجت کے خود بخود دلون پر نقش ہو جاتی ہے شیخ اور امامی کے عہد مین یہ کسکو معلوم تھا کی عنقریب ایک کا کلام اطراف عالم مین پہیل جائیگا اور دوسرے کا نام صرف کتابون مین لکھا رہ جائیگا۔ہ کلام شیخ کی مقبولیت کے ظکر مین اکثر یہ حکایت بیان کی جاتی ہے کہ مشائخ وقت مین سے ایک بزرگ شیخ کے منکر تہے۔ ایک رات اُنہون نے خواب مین دیکھا کہ آسمان کے دروازے کہولے گئے ہین اور فرشتے نور کے طبق لیکر زمین پر نازل ہوئے ہین ۔ اُن بزرگ نے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ کہا سعدی شیرازی نے ایک بیت کہی ہے جو جناب آلمی مین مقبول ہوئی یہ اِس بیت کا صلہ ہے اور وہ بیت یہ ہے. {{Block center|<poem>برگ درختان سبز در نظرِ ہوشیار ہر فرقے و فتریت معرفتِ کردگار </poem>}} جب وہ بزرگ خواب سے بیدار ہوئے تو رات ہی کو شیخ کے عذلت خانہ پر یہ \مسودہ\ سنانیے کے لیے گیے۔ وہان جا کر شیخ کو دیکہا کہ چراغ روشن کیے ہوئے جہوم جہوم کر یہ شعر وپڑہ رہے ہین شاید اس حکایت کے مضمون بادی النظر مین مستہعده معلوم ہو۔ لیکن مجکو اسمین کوئی بات عقل یا نیچر کے خلاف نہیں معلوم ہوتی۔ خواب کا سچا ہونا اور اِن مین معمولی باتون کا غیر معمولی طور پر نظر آنا ایک ایسا مسلم امر ہے کہ آجکل کے فلسفی بہی اُس کا انکار نہین کر سکتے اسکے علاوہ ہم اِس حکایات سے ہر حال مین یہ نتیجہ ضرور نکال سکتے ہین کہ شیخ کے کلام کی مقبولیت اِس درجہ کو پہنچ گئی تہی کہ معمولی پیرایے اُسکے بیان کے لیے کافی نہ سمجہے جاتے تہے۔{{nop}}<noinclude></noinclude> pqux2taplmzc2qknehynjeu43obazv4 35334 2026-02-25T10:35:00Z Taranpreet Goswami 90 /* Not proofread */ auto summary: New page created (no summary given) 35334 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>ب سے بڑے بڑے گروہ پیداہوجاتے ہیںلیکن جب وہ یہ ختم ہوتا ہے اور انکے ساتھ کسی کولاگ باشگاه باقی نہیں رہتا تو جو ٹھیک بات ہوتی ہے وہ بغیر بحث محبت کے خود بود طور پر نقش ہوجاتی ہے شیخ اور امی کے دین ہی کو معلوم تا کی تقریب ایک کا کلام اطرات عالم میں جیل جائیگا اور دوسرے کا نام صرف کتابوں میں لکھ رہ جائے گا۔ کام شیخ کی مقبولیت کے زمین کثیر حکایت بیان کی جاتی ہے کہ شائی وقت میں سے ایک بزرگ شیخ کے منکر تھے۔ ایک راست انہوں نے خواب میں دیکھنا کہ آسمان کے دروازے کھولے گئے بین اور فرشتے نور کے طبق لیکر زمین پر نازل ہوئے ہیں ۔ اُن بزرگ نے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے ہے کہ سعدی شیرازی نے ایک بیت کہی ہے جو جناب آلسی میں مقبول ہوئی یہ اس بیت کا حملہ ہے اور وہ بہت یہ ہے رگ درختان سیب در نظر دو شیار براہ نے و فرا بی معرفت کو گید جب وہ بزرگ خواب سے بیدار ہوئے تو بات ہی کو شیخ کے عولت خان پر بھر وہ سنانے لیے گیے۔ ان جاکر شیخ کو دیکہا کہ چراغ روشن کیے ہوئے جوم جموم کر یہ عشرہ رہے ہیں شاید اس حکایت کا مضمون بادی النظر من سبعہ معلوم ہو ۔ لیکن کواسی کو کی بات عقل یا نیچر کے خلاف تین معلوم ہوتی۔ خوب کی سچا ہوتا اور ان میں معمولی با تون کا غیر معمولی طور پر نظر آنا ایک ایسا مسلم امر ہے کہ آجکل کے فلسفی ہی اُس کا انکار نہیں کر سکتے اسکے اور تم اس کام نے بحال این مانتی نہر نکال سکے ان کے فین کے کلام کی مقبولیت اس ابھی کیا پہنچ گئی تھی کہ معمولی پیر سیے اُسکے بیان کے لیے کافی نہ سمجھے جاتے تھے ۔<noinclude></noinclude> 1v5beggjqxb63o3rl69s7ms4z1kg0es 35335 35310 2026-07-10T10:39:36Z Satdeep Gill 85 [[:mul:Page:Hayaat-e-Sheikh_Saadi.pdf/73]] سے 1 نسخہ درآمد کیا گیا 35310 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>بڑہتے بڑہتے دو بڑے گروہ پیدا ہو جاتے ہین۔ لیکن جب وہ طبقہ ختم ہو جاتا ہے اور اُنکے ساتھ کسی کو لاگ یا لگاو باقی نہین رہتا تو جو ٹہیک بات ہوتی ہے وہ بغیر بحث و حجت کے خود بخود دلون پر نقش ہو جاتی ہے شیخ اور امامی کے عہد مین یہ کسکو معلوم تھا کی عنقریب ایک کا کلام اطراف عالم مین پہیل جائیگا اور دوسرے کا نام صرف کتابون مین لکھا رہ جائیگا۔ہ کلام شیخ کی مقبولیت کے ظکر مین اکثر یہ حکایت بیان کی جاتی ہے کہ مشائخ وقت مین سے ایک بزرگ شیخ کے منکر تہے۔ ایک رات اُنہون نے خواب مین دیکھا کہ آسمان کے دروازے کہولے گئے ہین اور فرشتے نور کے طبق لیکر زمین پر نازل ہوئے ہین ۔ اُن بزرگ نے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ کہا سعدی شیرازی نے ایک بیت کہی ہے جو جناب آلمی مین مقبول ہوئی یہ اِس بیت کا صلہ ہے اور وہ بیت یہ ہے. {{Block center|<poem>برگ درختان سبز در نظرِ ہوشیار ہر فرقے و فتریت معرفتِ کردگار </poem>}} جب وہ بزرگ خواب سے بیدار ہوئے تو رات ہی کو شیخ کے عذلت خانہ پر یہ \مسودہ\ سنانیے کے لیے گیے۔ وہان جا کر شیخ کو دیکہا کہ چراغ روشن کیے ہوئے جہوم جہوم کر یہ شعر وپڑہ رہے ہین شاید اس حکایت کے مضمون بادی النظر مین مستہعده معلوم ہو۔ لیکن مجکو اسمین کوئی بات عقل یا نیچر کے خلاف نہیں معلوم ہوتی۔ خواب کا سچا ہونا اور اِن مین معمولی باتون کا غیر معمولی طور پر نظر آنا ایک ایسا مسلم امر ہے کہ آجکل کے فلسفی بہی اُس کا انکار نہین کر سکتے اسکے علاوہ ہم اِس حکایات سے ہر حال مین یہ نتیجہ ضرور نکال سکتے ہین کہ شیخ کے کلام کی مقبولیت اِس درجہ کو پہنچ گئی تہی کہ معمولی پیرایے اُسکے بیان کے لیے کافی نہ سمجہے جاتے تہے۔{{nop}}<noinclude></noinclude> pqux2taplmzc2qknehynjeu43obazv4 صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/74 250 13817 35336 2026-02-25T10:36:22Z Taranpreet Goswami 90 /* Not proofread */ auto summary: New page created (no summary given) 35336 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اس حکایت کو اور زیادہ مہکانے کے لیے شیخ ابو عصری معنی گرمی انون نے ایک اور دلچسپ مضمون تراشا ہے ۔ یعنی یہ کہ فیٹی نے تندیسن کی توحید لکھتے وقت جب به شعر کا شعر اور بربن و کسی نمی گوش فواره فیض ادست در چه ش تو اس نے بھی ویسے ہی صلہ کی توقع میں جو شیخ سعدی کوملا تھا آسمان کی علت موند کیا اتفاقا ایک چیل نے دیر سے پینچال کی جو فیضی کے منہ پر کرتیری وہ بہت منبجمال یا اور کہنات شر عالم بالا عرفی عالم بالا معلوم شده می پر یہ مضمون عبد القادر بداونی کی جو کہ شیخ مبارک کے که ظا ہر کا خاندان کا سخت دشمن ہے یا اس کے کس منی کا گڑا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ میر انسائیکلو پیڈیا میں لکھاہے کہ مسعودی کے کلام کی لطافت اور بدا منجھی روما کے مشہور شاعر ہوریں کے کلام سے بہت ملتی ہے چونکی عمدی کو لاطینی زبان آی تی اس لیے تلن غالب ہے کہ وہ ہوریں کے کلام سے مستفید ہوا ہوگا، ہم نہیں کہ سکتے کہ یہ قیاس کہانتک صحیح رہے اور واقع میں شیخ کو لاطینی آتی تھی یا نہیں ۔ ظاہرا یہ ویسا ہی قیاس ہے جیسا کہ دہلی کی جامع مسجد اور آگرہ کے روضہ تاج گنج کی نسبت کہا جاتاہے کہ یہ دونوں عمارتین اٹلی کے کاریگروں نے بنائی ہی بات یہ ہے کہ جو قوم نہایت پتی کی حالت میں ہوتی ہے اگر وہ کسی امان میں کتنی ہی تقی کرچکی و بی سی اس قوم کی موجودہ ایس ایس ترقی یات قوموں کی نظرمین حقیر اور ذلیل اور پیسے پانچ معلوم ہوتی ہیں اسی طرح ان کے اسلامت کی عظمت اور برتری کا بھی بہت کم یقین آتا ہے ۔ اور اگر ان کی کوئی ایسی باتہ پیش کی<noinclude></noinclude> puiqbbed21fbf6bskleupzpdos0n97m 35337 35284 2026-07-10T10:39:39Z Satdeep Gill 85 [[:mul:Page:Hayaat-e-Sheikh_Saadi.pdf/74]] سے 1 نسخہ درآمد کیا گیا 35284 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>H اس حکایت کو اور زیادہ پکانے کے لیے شیخ ابو الفی فنی مینی ملعون نے ایک اور دلچسپ مضمون تراشا ہے ۔ یعنی یہ کہ فیضی نے تلدین کی توحید لکھتے وقت جب یہ شعر کا شعر ور ہر بن و کرے نبی گوشواره فیض است در چه ش تو اس نے بھی ویسے ہی صلہ کی توقع میں جو شیخ سعدی کو ماتھا آسمان کی طرف مونہ کیا اتفاقا ایک چیل نے اوپر سے پنجال کی جو فیضی کے منہ پر کرتی وہ بہت بن جایا اور کمات شرفی عالم بال معلوم شد، ظاہرا مضمون عبدالقادر دانی کا بکر شیخ مبارک کے خاندان کا سخت دشمن ہے یا اُس کے کسی منیع کا گڑا ہ معلوم ہوتا ہے۔ جیر انسائیکلوپیڈیا من لکھاہے کہ وسعدی کے کلام کی طاقت اور بد اینجی روما کے مشہور شاعر ہوریں کے کلام سے بہت ملتی ہے جو اک سعدی کو لاطینی زبان آتی تھی اس یے تلن غالب ہے کہ وہ ہوریں کے کام سے سیدہ ہوگا، ہم نہیں کرسکتے کہ یہ قیاس کمانتک صحیح ہے اور واقع مین پیج کو لاطینی آی تی یانی ظاہرا یہ دلیهای ایران ہے جیسا کہ دہلی کی جامع مسجد اور آگرہ ے روضہ تاج گنج کی نسبت کہا جاتاہے کہ یہ دونوں عمارتین الی کے کاریگر ین نے بنائی ہیں۔ بات یہ ہے کہ یہ قوم نہایت پستی کی حالت میں ہوتی ہے اگر کسی ماہ میں کتنی ہی ترقی کر چکی ہو جی سی اس قوم کی موجودہ انسای ترقی بایت قوموں کی نظرمین حقیر در اولین اویسی و پرتا معلوم ہوتی ہیں اسی علمی گن کے اسلامت کی مناست او برتری کا بھی بہت کم یقین آتا ہے ۔ اور اگر ان کی کوئی ایسی بات پشیر کی<noinclude></noinclude> oxtkvw2qtcmhm2kt9a0rczywioto8ym صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/75 250 13818 35338 2026-02-25T10:36:34Z Taranpreet Goswami 90 /* Not proofread */ auto summary: New page created (no summary given) 35338 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>42 جاتی ہے جس کا کسی بلی انکار نہیں ہوسکتا تو اسکو ھور کسی ایک طرف سب کرنا پڑتا ہے سیم جونس جو کہ مشرقی زبانوں کا منہ بہت مشہور عالم ہے اُس نے جو شیخ اور اس کے کلام کی نسبت لکھا ہے وہ گور ولی نے نقل کیا ہے وہ لکھنا ہے کہ سعدی نے کیرمون عادی مجری میں جبکہ ان مکان فارس ایوان کے اہل کمال کو تقویت دے رہے تھے اپنے جوہر دکھانے شروع کیے تھے۔ حالانکہ اس کی تقریبہ نام زندگی سفری گندی تھی باد جو اس کے کہ کسی ابے شخص نے بھی سب کو گر با اطمینان اور قسمت والحمل رہی ہو اپنی کس عقل اور محنت کا نتیجہ شیخ سے بہتر نہیں چھوڑا ہے۔ انگلستان کے بعض اور مصنفوں نے اس کو مشرقی شک پیر کیا ہے ۔ اگر چہ یہ تنبیہ اُن مشرقی شاعروں کی نظر میں جو شکسپیر کی شاعری سے واقف نہیں ہیں کچھ زیادہ سمجھتے ہی تو دیکھنا چاہئیے کہ لوگ۔ مودی کو مشرق کا شک پی سکتے ہیں انہوں نے اُس کو کس درجہ کا شاعر تسلیم کیا ہے۔ شکیر کی شاعری گرچه سعدی کی شاعری سے بالکل مخار ہے لیکن بعض حیثیات سے یک کو دوسرے سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ دونوں کے کلام میں عموما یہ بات پائی جاتی ہے که در عقل و عادت کی سرعیار سے تجاوز نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ نیچرل خاتون کی تصویر کھینچتے ہیں دونوں کے کلام میں کثر رات اور وانی کی چاشنی ہوتی ہے اور دونوں کا بیان ہمیشہ سادہ احات اور دل رد نشین ہوتا ہے ۔ اس کے سوا دونوں نے کر کام کی بنیاد نصیحت اور بند پر<noinclude></noinclude> rh1mryzzo9uxsqc2cyiywii2jl2q7et 35339 35285 2026-07-10T10:39:44Z Satdeep Gill 85 [[:mul:Page:Hayaat-e-Sheikh_Saadi.pdf/75]] سے 1 نسخہ درآمد کیا گیا 35285 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>ہاتی ہے میں کا کسی بین انکار میں ہوسکتا تو اسکو جو کسی او کی طرف منسوب کرنا پڑتا ہے سرایم جونس جوکہ مشرقی زبانوں کا نہایت مشہور عالم ہے اس نے جو شیخ اور اس کے کلام کی نسبت لکھتا ہے وہ گور اوسلی نے نقل کیا ہے وہ لکھتا ہے کہ سعادمی نے تیر بدین صدی ہجری میں جبکہ تاریکان فارس وہاں کے اہل کمال کو تقویت دے رہے تھے پنے جوہر دکھانے شروع کیے تھے۔ حالانکہ اس کی تقریبا نام زندگی سفرمیں گندی تھی باوجود اس کے کہ کسی ایسے شخص نے بھی تباد عمر براطمینان اور فرضت حاصل رہی ہو اپنی عقل اور محنت کا نتیجہ شیخ سے بہتر نہیں چھوڑا ۔ انگلستان کے بعض اور مصنفوں نے اس کو مشرقی شک پیر کیا ہے۔ اگر چہ یہ تشبیہ ان مشرقی شاعروں کی نظر میں جو شکسپیر کی شاعری سے واقف نہیں ہیں کچھ زیادہ راحت نہیں رکھتی۔ لیکن میکہ یہ المسلم ہے کہ اگرایش کس کا نام دنیا کے دانشورات بہتر سمجھتے ہیں تو دیکھنا چاہیےکہ جولوگ سو ہی کو مشرق کا شک پیر کتے ہیں انہوں نے اس کو اس درجہ کا شاعر تسلیم کیا ہے۔ شکسپیر کی شاعری اگرچه سعدی کی شاعری سے بالکل مخار ہے لیکن بعض میشیات سے یک کو دوسرے سے تشبیہ دی جاسکتی ہے ۔ دونوں کے کلام میں عموما یہ بات پائی جاتی ہے که در نقل و عادت کی سرعاسے باز نہیں کرتے بلکہ یہی چول خاتون کی تصویر کھینچتے ہیں دونوں کے کلام میں اگر ظرافت اور شوخی کی چاشنی ہوتی ہے اور دونوں کا بیان ہمیشہ سادہ صافت اور دلنشین ہوتا ہے ۔ اس کے سوا دونوں نے اکثر کار کی بنیاد نصیحت اور پند پر<noinclude></noinclude> h7uveav1ct4kxejro34u2ymafa71eqx صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/76 250 13819 35340 2026-02-25T10:36:45Z Taranpreet Goswami 90 /* Not proofread */ auto summary: New page created (no summary given) 35340 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>رکھی ہے صرف فرق است در کیشی تکلم کا نصیحت کرتاہے اور کشمیر کے لیے دینی مانگان سنگر کسی شخص کو یہ خیال بیان گر زنا کہ میرے منسون کے عیب بیان ہو رہے میں یا کسی کو نصیحت کی جاتی ہے گراں کا مان نادری اور ان کا کرتا ہے کہ یہ گیتی مستمر کیفیت وند سے زیادہ کارگر ہوتا ہے۔ نیزدونوں کا کلام مقبول اور دلنشین ہو نے میں ایک دوسر سے نہایت مشابہت رکھتا ہے۔ جس طرح شکسپیر کے عدد با اقوال انگریزی میں ضرب المثل ہو گئے ہیں اسی طرح شیخ کی جمتان اور بوستان کے صدر با فقرے اور شعر اور مصر کے نارسی اور اردو مین ضرب المثل ہیں۔ اور اس سے دونوں کے کلام کی کمال خوبی اور ٹن اور یہ بات کہ انہوں نے جمہور کے دلوں پر کس قدر سادہ کیا ہے اور ان کا کار و ستقدر انسان کی حالتوں اور ضرورتوں کے مطابق واقع ہوا ہے ثابت ہوتی ہے اگرچہ اس کا زیادہ تر سب یہ بھی کر لیا مین جستن استان و استان ایلام عالم کا رہا ہے یا کسی اور کتب کی نین ور اسی طرح یورپ میں بقدر شکیری کا دائر سائٹ ہے ایسا سی ار شاعر کا کام نہیں۔ پس ضرور ہے کہ دونوں کے اقوال سب سے زیادہ لوگوں کی زبان پی باری ہو لیکن ظاہر ہے کہ جب تک کوئی کلام فی نفسہ مقبول اور دنشین ہونے کے قابل بنیکس طرح مکن نہین کہ اس طرح تمام ملک میں بشه و راده ستداول ہو سکے۔ کلیات شیخ شیخ کا تمام کلام نظم - نشر فارسی اور عربی جو اسوقت متداول ہے اور جس کو شیخ علوین<noinclude></noinclude> p8hwsnknuulguq5qjs91ooblp7eq5cp 35341 35340 2026-07-10T10:39:47Z Satdeep Gill 85 [[:mul:Page:Hayaat-e-Sheikh_Saadi.pdf/76]] سے 1 نسخہ درآمد کیا گیا 35340 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>رکھی ہے صرف فرق است در کیشی تکلم کا نصیحت کرتاہے اور کشمیر کے لیے دینی مانگان سنگر کسی شخص کو یہ خیال بیان گر زنا کہ میرے منسون کے عیب بیان ہو رہے میں یا کسی کو نصیحت کی جاتی ہے گراں کا مان نادری اور ان کا کرتا ہے کہ یہ گیتی مستمر کیفیت وند سے زیادہ کارگر ہوتا ہے۔ نیزدونوں کا کلام مقبول اور دلنشین ہو نے میں ایک دوسر سے نہایت مشابہت رکھتا ہے۔ جس طرح شکسپیر کے عدد با اقوال انگریزی میں ضرب المثل ہو گئے ہیں اسی طرح شیخ کی جمتان اور بوستان کے صدر با فقرے اور شعر اور مصر کے نارسی اور اردو مین ضرب المثل ہیں۔ اور اس سے دونوں کے کلام کی کمال خوبی اور ٹن اور یہ بات کہ انہوں نے جمہور کے دلوں پر کس قدر سادہ کیا ہے اور ان کا کار و ستقدر انسان کی حالتوں اور ضرورتوں کے مطابق واقع ہوا ہے ثابت ہوتی ہے اگرچہ اس کا زیادہ تر سب یہ بھی کر لیا مین جستن استان و استان ایلام عالم کا رہا ہے یا کسی اور کتب کی نین ور اسی طرح یورپ میں بقدر شکیری کا دائر سائٹ ہے ایسا سی ار شاعر کا کام نہیں۔ پس ضرور ہے کہ دونوں کے اقوال سب سے زیادہ لوگوں کی زبان پی باری ہو لیکن ظاہر ہے کہ جب تک کوئی کلام فی نفسہ مقبول اور دنشین ہونے کے قابل بنیکس طرح مکن نہین کہ اس طرح تمام ملک میں بشه و راده ستداول ہو سکے۔ کلیات شیخ شیخ کا تمام کلام نظم - نشر فارسی اور عربی جو اسوقت متداول ہے اور جس کو شیخ علوین<noinclude></noinclude> p8hwsnknuulguq5qjs91ooblp7eq5cp صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/77 250 13820 35342 2026-02-28T03:36:53Z Taranpreet Goswami 90 /* Not proofread */ auto summary: New page created (no summary given) 35342 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>حمد بن ابی بکر نے شیخ کی وفات سے بیالیس برس بعد علی المنتسب جمع کیا ہے جب تفصیل ذیل ہے ۔ (1) نثرمین چند مختصر رسالے میں بین سلوک اور اف روف کے مضامین اور مشائخ ومروان کی حکایتین اور ملک و حکام کے لیے نصیتین یکمی بین (۳ انگلستان (۳) بوستان (۴) پند نامہ رجب کو عرف عام میں کر یا کتنے میں ( ۱۵ اقصہا کہ فارسی رحین میں عریشے ملمعات - مشاشات اور ترجیعات بھی شامل ہین) (4) فض الد عر بید (۷) غربیات کا پہلا دولیوان موسوم به طیبات (۸) دوسرا دیوان موسوم به بائع (۹) تفسیر ادیان موسوم به خوانیم 1) غزلیات قدیم جوغالباً عنفوان شباب کی لکھی ہوئی ہیں (۱) مجموعه موسوم به صاحبی حسین شیخ نے قطعات مثنویات - رباعیات اور سفر رات کو خواجہ شمس الدین صاحب ریوان کی فرمائشیں سے ایک جگہ جمع کر دیا ہے (۱۲ طائبات و سیزلیات ۔ ان نام کتابوں اور رسالون مین سے مثنوی بند ا مر یعنی کریا کو بعض اہل مات شیر کی کام نہیں بھتے کیونکہ دل تو کیات کے اثر ندیم نسخون من به شنوی منین دیکھی بھی دوست کے امام کا مین چونگی اورجہالت یا دلفریبی اور جادو پایا جاتا ہے اس سے یہ مثنوی معرا ہے مگر ہمارے نزدیک اس شنوی کو شیخ کی طرف نسبت کرنے میں کوئی استبعاد اور زرد کی یاست نہین ہے یہ پیج ہے کہ اوستا دارای یک عالم علم کے ما با این نایت کو دون معلم ہوتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ شاعر کا حال بالکل اس شعر کا مصداق ہے شعر پائے کے پل روم اصلی نشستیم گے بریشیست پا خوردن بینم است<noinclude></noinclude> 3566y77g3g4ac6xeabfx06481qpu71p 35343 35342 2026-07-10T10:39:53Z Satdeep Gill 85 [[:mul:Page:Hayaat-e-Sheikh_Saadi.pdf/77]] سے 1 نسخہ درآمد کیا گیا 35342 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>حمد بن ابی بکر نے شیخ کی وفات سے بیالیس برس بعد علی المنتسب جمع کیا ہے جب تفصیل ذیل ہے ۔ (1) نثرمین چند مختصر رسالے میں بین سلوک اور اف روف کے مضامین اور مشائخ ومروان کی حکایتین اور ملک و حکام کے لیے نصیتین یکمی بین (۳ انگلستان (۳) بوستان (۴) پند نامہ رجب کو عرف عام میں کر یا کتنے میں ( ۱۵ اقصہا کہ فارسی رحین میں عریشے ملمعات - مشاشات اور ترجیعات بھی شامل ہین) (4) فض الد عر بید (۷) غربیات کا پہلا دولیوان موسوم به طیبات (۸) دوسرا دیوان موسوم به بائع (۹) تفسیر ادیان موسوم به خوانیم 1) غزلیات قدیم جوغالباً عنفوان شباب کی لکھی ہوئی ہیں (۱) مجموعه موسوم به صاحبی حسین شیخ نے قطعات مثنویات - رباعیات اور سفر رات کو خواجہ شمس الدین صاحب ریوان کی فرمائشیں سے ایک جگہ جمع کر دیا ہے (۱۲ طائبات و سیزلیات ۔ ان نام کتابوں اور رسالون مین سے مثنوی بند ا مر یعنی کریا کو بعض اہل مات شیر کی کام نہیں بھتے کیونکہ دل تو کیات کے اثر ندیم نسخون من به شنوی منین دیکھی بھی دوست کے امام کا مین چونگی اورجہالت یا دلفریبی اور جادو پایا جاتا ہے اس سے یہ مثنوی معرا ہے مگر ہمارے نزدیک اس شنوی کو شیخ کی طرف نسبت کرنے میں کوئی استبعاد اور زرد کی یاست نہین ہے یہ پیج ہے کہ اوستا دارای یک عالم علم کے ما با این نایت کو دون معلم ہوتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ شاعر کا حال بالکل اس شعر کا مصداق ہے شعر پائے کے پل روم اصلی نشستیم گے بریشیست پا خوردن بینم است<noinclude></noinclude> 3566y77g3g4ac6xeabfx06481qpu71p صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/78 250 13821 35344 2026-03-02T06:53:56Z Charan Gill 46 /* Not proofread */ auto summary: New page created (no summary given) 35344 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>ایک ہی شاہ کا ایک کام جزو معلوم ہوتا ہے اوردوسرا جریان اور ہی درد خاصیت ہے تو خدا کے کلام کو شیر کے کلام سے جدا کرتی ہے كما قال الله تعالی توسكان مِنْ عِندِ غَيْرِ اللهِ تَوَجَدُوا فِيهِ اِخْتِلَافا كَثِيرًا کلابات کے بعض قاریو نسخوں میں اس مثنوی کا نہ پایا جانا ہی اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتی کہ وہ شیخ کا کلام نہین ہے ۔ ممکن ہے کہ علی بن احمد کے بعد کسی کو یہ شوی ملی ہو اور اس نے اسکو بھی کلیات میں داخل کر دیا ہو اور اس سبب سے کلیات کے نسخون بین اختارت واقع ہو گیا ہو۔ چنانچہ حضرت امیر خسرو کے کلیات میں اسی طرح نسخون کا اختلاف پایا جاتا ہے۔ بہر حال ہم مسطح اس مثنوی کے ثبوت کی کوئی معلمی دلیل نہین سمجھتے اسی طرح کی نفی کی بھی کوئی قوی وجہ نہیں پاتے ۔ اب ہم شیخ کی بعض تصمیات پروزیاد بشورین یا زیادہ حلال کے قابل میں متو یہ ہوتے ہیں - جہان تک ہماری محدود واقفیت اور نا چیز رائے مساعدمت کرے گی ہم ان کی حقیقت ظاہر کرنے میں کوشش کرینگے ناظرین با تم میں سے یہ درخواست سے کار گمین ہماری رائے کی غلطی ظا ہر ہو تو اس کو متعصبانہ افراط و تفریط پرمول نفرمائین بلکہ اسکو ایک مقتضائے بشریت سمجھکر اسی قدر مواد کے قابل ٹیرائین مبقدر کہ ایک غلط ( مگر سچی) رائے پر مواخذہ ہوسکتا ہے۔<noinclude></noinclude> ged0tqttxvnrbv1bd5i9hx90yt07cxn 35345 35344 2026-03-02T07:08:22Z Charan Gill 46 35345 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>ایک ہی شاعر کا ایک کام جزو معلوم ہوتا ہے اوردوسرا جریان اور ہی درد خاصیت ہے تو خدا کے کلام کو شیر کے کلام سے جدا کرتی ہے كما قال الله تعالی توسكان مِنْ عِندِ غَيْرِ اللهِ تَوَجَدُوا فِيهِ اِخْتِلَافا كَثِيرًا کلابات کے بعض قاریو نسخوں میں اس مثنوی کا نہ پایا جانا ہی اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتی کہ وہ شیخ کا کلام نہین ہے ۔ ممکن ہے کہ علی بن احمد کے بعد کسی کو یہ شوی ملی ہو اور اس نے اسکو بھی کلیات میں داخل کر دیا ہو اور اس سبب سے کلیات کے نسخون بین اختارت واقع ہو گیا ہو۔ چنانچہ حضرت امیر خسرو کے کلیات میں اسی طرح نسخون کا اختلاف پایا جاتا ہے۔ بہر حال ہم مسطح اس مثنوی کے ثبوت کی کوئی معلمی دلیل نہین سمجھتے اسی طرح کی نفی کی بھی کوئی قوی وجہ نہیں پاتے ۔ اب ہم شیخ کی بعض تصمیات پروزیاد بشورین یا زیادہ حلال کے قابل میں متو یہ ہوتے ہیں - جہان تک ہماری محدود واقفیت اور نا چیز رائے مساعدمت کرے گی ہم ان کی حقیقت ظاہر کرنے میں کوشش کرینگے ناظرین با تم میں سے یہ درخواست سے کار گمین ہماری رائے کی غلطی ظا ہر ہو تو اس کو متعصبانہ افراط و تفریط پرمول نفرمائین بلکہ اسکو ایک مقتضائے بشریت سمجھکر اسی قدر مواد کے قابل ٹیرائین مبقدر کہ ایک غلط ( مگر سچی) رائے پر مواخذہ ہوسکتا ہے۔<noinclude></noinclude> r8lwvq733k318ruw2hekixu8qs34xuw 35346 35345 2026-03-02T07:53:40Z Charan Gill 46 35346 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>ایک ہی شاعر کا ایک کلام مجخرہ معلوم ہوتا ہے اور دوسرا ابزیان اور یہی وہ خاصیت ہے جو خدا کے کلام کو شیر کے کلام سے جدا کرتی ہے كما قال الله تعالی توسكان مِنْ عِندِ غَيْرِ اللهِ تَوَجَدُوا فِيهِ اِخْتِلَافا كَثِيرًا کلابات کے بعض قاریو نسخوں میں اس مثنوی کا نہ پایا جانا ہی اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتی کہ وہ شیخ کا کلام نہین ہے ۔ ممکن ہے کہ علی بن احمد کے بعد کسی کو یہ شوی ملی ہو اور اس نے اسکو بھی کلیات میں داخل کر دیا ہو اور اس سبب سے کلیات کے نسخون بین اختارت واقع ہو گیا ہو۔ چنانچہ حضرت امیر خسرو کے کلیات میں اسی طرح نسخون کا اختلاف پایا جاتا ہے۔ بہر حال ہم مسطح اس مثنوی کے ثبوت کی کوئی معلمی دلیل نہین سمجھتے اسی طرح کی نفی کی بھی کوئی قوی وجہ نہیں پاتے ۔ اب ہم شیخ کی بعض تصنیفات پر جو زیادہ بشورین یا زیادہ حلال کے قابل میں متو یہ ہوتے ہیں - جہان تک ہماری محدود واقفیت اور نا چیز رائے مساعدمت کرے گی ہم ان کی حقیقت ظاہر کرنے میں کوشش کرینگے ناظرین با تم میں سے یہ درخواست سے کار گمین ہماری رائے کی غلطی ظا ہر ہو تو اس کو متعصبانہ افراط و تفریط پرمول نفرمائین بلکہ اسکو ایک مقتضائے بشریت سمجھکر اسی قدر مواد کے قابل ٹیرائین مبقدر کہ ایک غلط ( مگر سچی) رائے پر مواخذہ ہوسکتا ہے۔<noinclude></noinclude> 8t9pyqse2wrqgh4tdezlenv7laqtwyl 35347 35346 2026-07-10T10:39:55Z Satdeep Gill 85 [[:mul:Page:Hayaat-e-Sheikh_Saadi.pdf/78]] سے 3 نسخے درآمد کیے گئے 35346 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>ایک ہی شاعر کا ایک کلام مجخرہ معلوم ہوتا ہے اور دوسرا ابزیان اور یہی وہ خاصیت ہے جو خدا کے کلام کو شیر کے کلام سے جدا کرتی ہے كما قال الله تعالی توسكان مِنْ عِندِ غَيْرِ اللهِ تَوَجَدُوا فِيهِ اِخْتِلَافا كَثِيرًا کلابات کے بعض قاریو نسخوں میں اس مثنوی کا نہ پایا جانا ہی اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتی کہ وہ شیخ کا کلام نہین ہے ۔ ممکن ہے کہ علی بن احمد کے بعد کسی کو یہ شوی ملی ہو اور اس نے اسکو بھی کلیات میں داخل کر دیا ہو اور اس سبب سے کلیات کے نسخون بین اختارت واقع ہو گیا ہو۔ چنانچہ حضرت امیر خسرو کے کلیات میں اسی طرح نسخون کا اختلاف پایا جاتا ہے۔ بہر حال ہم مسطح اس مثنوی کے ثبوت کی کوئی معلمی دلیل نہین سمجھتے اسی طرح کی نفی کی بھی کوئی قوی وجہ نہیں پاتے ۔ اب ہم شیخ کی بعض تصنیفات پر جو زیادہ بشورین یا زیادہ حلال کے قابل میں متو یہ ہوتے ہیں - جہان تک ہماری محدود واقفیت اور نا چیز رائے مساعدمت کرے گی ہم ان کی حقیقت ظاہر کرنے میں کوشش کرینگے ناظرین با تم میں سے یہ درخواست سے کار گمین ہماری رائے کی غلطی ظا ہر ہو تو اس کو متعصبانہ افراط و تفریط پرمول نفرمائین بلکہ اسکو ایک مقتضائے بشریت سمجھکر اسی قدر مواد کے قابل ٹیرائین مبقدر کہ ایک غلط ( مگر سچی) رائے پر مواخذہ ہوسکتا ہے۔<noinclude></noinclude> 8t9pyqse2wrqgh4tdezlenv7laqtwyl