ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.10 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/72 250 13815 35351 35333 2026-07-11T04:15:36Z Charan Gill 46 35351 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>ہان انہون نے اپنی نسبت بالکل صحیح فرمایا ہے کہ مین امامی کے درجہ کو نہین پہنچتا۔ بشیک امامی کا مرتبہ جناب صاحب رباعی سے بہت بالا تر ہے لیکن کسی طرح اسکو شیخ بزرگوار سے نسبت نہین ہے بلکہ تین شخصون<ref>شاید تین شخصون سے مراد فردوسی۔ انوری اور نظامی ہین۔</ref> کے سوا اور کسی کی مجال نہین جو شیخ کی مساوات کا دم مار سکے مین اکسر یہ سوچا کرتا تھا کہ جیسا ہمارا زمانہ دانشمندون پر سخت گزرتا ہے ایسا زمانہ پہلے سخنورون پر بہی گزرا ہے یا نہین۔ جب یہ حکایت میری نظر سے گزری تو مجکو صبر آ گیا" حاجی موصوف نے اِس مقام پر مزد محگر کی شان مین ایک قطعہ بہی لکہا ہے اور وہ یہ ہے۔ {{center|'''قطعہ'''}} {{Block center|<poem>یکے گفت امامی امام ہری را ز سعدی فزون یافته مجد ہمگر در این ماجرا چیست رأے تو۔ گفتم ستم‌گر بود مجد ہمگر ستم‌گر</poem>}} ہمارے نزدیک اگر مجد بمگر اُس عصر مین جس مین سعدی اور امامی گزرے ہین نہوتا بلکہ سو پچاس برس بعد پیدا ہوتا تو اُسکو بہی شیخ اور امامی کے رتبہ مین ہرگز یہ اشتباہ نہوتا معاصرت نے لوگون کے حالات پر اکثر ایسے پردے ڈالے ہین مگر جسقدر اون کا زمانہ گزرتا گیا اُسی قدر وہ پردے مرتضع ہوتے گیے اور رفتہ رفتہ جو حق بات تہی وہ ظاہر ہوگئی۔ اصل یہ ہے کہ جب ایک زمانہ مین وہ اہل کمال ہوتے ہین تو ہر ایک کے ساتھ ایک ایک گروہ متعصبین کا کہڑا ہو جاتا ہے کیونکہ ہر شخص کے کچہ عزیز اور دوست اور کچہ اُن دوستون کے دوست اور اسی طرح کچہ مخالف اور اُن مخالفون کے دوست اور بگانے ضرور ہوتے ہین اور اس طرح<noinclude></noinclude> bo6p8ab6axiv07vfjqcxrv35p7puqhx صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/73 250 13816 35352 35335 2026-07-11T04:21:13Z Charan Gill 46 35352 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>بڑہتے بڑہتے دو بڑے گروہ پیدا ہو جاتے ہین۔ لیکن جب وہ طبقہ ختم ہو جاتا ہے اور اُنکے ساتھ کسی کو لاگ یا لگاو باقی نہین رہتا تو جو ٹہیک بات ہوتی ہے وہ بغیر بحث و حجت کے خود بخود دلون پر نقش ہو جاتی ہے شیخ اور امامی کے عہد مین یہ کسکو معلوم تھا کی عنقریب ایک کا کلام اطراف عالم مین پہیل جائیگا اور دوسرے کا نام صرف کتابون مین لکھا رہ جائیگا۔ہ کلام شیخ کی مقبولیت کے ظکر مین اکثر یہ حکایت بیان کی جاتی ہے کہ مشائخ وقت مین سے ایک بزرگ شیخ کے منکر تہے۔ ایک رات اُنہون نے خواب مین دیکھا کہ آسمان کے دروازے کہولے گئے ہین اور فرشتے نور کے طبق لیکر زمین پر نازل ہوئے ہین ۔ اُن بزرگ نے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ کہا سعدی شیرازی نے ایک بیت کہی ہے جو جناب آلمی مین مقبول ہوئی یہ اِس بیت کا صلہ ہے اور وہ بیت یہ ہے. {{Block center|<poem>برگ درختان سبز در نظرِ ہوشیار ہر فرقے دفتریست معرفتِ کردگار </poem>}} جب وہ بزرگ خواب سے بیدار ہوئے تو رات ہی کو شیخ کے عذلت خانہ پر یہ \مسودہ\ سنانیے کے لیے گیے۔ وہان جا کر شیخ کو دیکہا کہ چراغ روشن کیے ہوئے جہوم جہوم کر یہ شعر وپڑہ رہے ہین شاید اس حکایت کے مضمون بادی النظر مین مستہعده معلوم ہو۔ لیکن مجکو اسمین کوئی بات عقل یا نیچر کے خلاف نہیں معلوم ہوتی۔ خواب کا سچا ہونا اور اِن مین معمولی باتون کا غیر معمولی طور پر نظر آنا ایک ایسا مسلم امر ہے کہ آجکل کے فلسفی بہی اُس کا انکار نہین کر سکتے اسکے علاوہ ہم اِس حکایات سے ہر حال مین یہ نتیجہ ضرور نکال سکتے ہین کہ شیخ کے کلام کی مقبولیت اِس درجہ کو پہنچ گئی تہی کہ معمولی پیرایے اُسکے بیان کے لیے کافی نہ سمجہے جاتے تہے۔{{nop}}<noinclude></noinclude> lp1z7vh9tggjmoebbje43x8imlpdyf3 صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/74 250 13817 35353 35337 2026-07-11T06:24:50Z BalramBodhi 60 35353 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>H اس حکایت کو اور زیادہ چمکانے کے لیے شیخ ابو الفیض فنی کے مخالفون نے ایک اور دلچسپ مضمون تراشا ہے۔ یعنی یہ کہ فیضی نے تلدمن کی توحید لکہتے وقت جب یہ شعر کہا '''شعر''' {{Block center|<poem>ور ہر بن مو کہ نہی گوش واره فیض است در جش</poem>}} تو اُس نے بہی ویسے ہی صلہ کی توقع مین جو شیخ سعدی کو ملا تھا آسمان کی طرف مونہ کیا اتفاقاً ایک چیل نے اوپر سے پنجال کی جو فیضی کے منہ پر آ کر پڑی وہ بہت جہنجھلایا اور کہا "شعر فہمی عالم بالا معلوم شد" ظاہرا یہ مضمون عبدالقادر بداونی کا جو کہ شیخ مبارک کے خاندان کا سخت دشمن ہے یا اُس کے کسی متیبع کا گہڑاہوا معلوم ہوتا ہے۔ چیمبرز انسائیکلوپیڈیا مین لکھا ہے کہ "سعدی کے کلام کی لطافت اور بزلہ بخی روما کے مشہور شاعر ہوریش کے کلام سے بہت ملتی ہے چونکہ سعدی کو لاطینی زبان آتی تھی اس لیے ظن غالب ہے کہ وہ ہوریس کے کام سے مستفید ہوا ہوگا" ہم نہین کہہ سکتے کہ یہ قیاس کہانتک صحیح ہے اور واقع مین شیخ کو لاطینی آتی تہی یا نہین۔ ظاہرا یہ دلیا ہی قیاس ہے جیسا کہ دہلی کی جامع مسجد اور آگرہ کے روضہ تاج گنج کی نسبت کہا جاتا ہے کہ یہ دونون عمارتین اٹلی کے کاریگرون نے بنائی ہین۔ بات یہ ہے کہ جو قوم نہایت پستی کی حالت مین ہوتی ہے اگرچہ وہ کسی زمانہ مین کتنی ہی ترقی کر چکی ہو جس طرح اوس قوم کی موجودہ نسلیں ترقی یافتہ قومون کی نظر مین حقیر اور زلیل اور \یسی و پرتا\ معلوم ہوتی ہین اسی طرح اُنکے اسلاف کی عظمت اور برتری کا بھی بہت کم یقین آتا ہے۔ اور اگر اُن کی کوئی ایسی بات پیش کی<noinclude></noinclude> mqadvy9m2pk349l7r9bwgxa49v30fnq صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/75 250 13818 35354 35339 2026-07-11T07:04:43Z BalramBodhi 60 35354 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>جاتی ہے جس کا کسی طرح انکار نہین ہو سکتا تو اُسکو مجبور کسی اور کی طرف نسوب کرنا پڑتا ہے سرولیم جونس جوکہ مشرقی زبانوں کا نہایت مشہور عالم ہے اُس نے جو شیخ اور اُس کے کلام کی نسبت لکھا ہے وہ سر گور اوسلی نے نقل کیا ہے وہ لکھتا ہے کہ سعادی نے تیرہوین صدی ہجری مین جبکہ اتابکان فارس وہاں کے اہل کمال کو تقویت دے رہے تہے اپنے جوہر دکھانے شروع کیے تھے۔ حالانکہ اُس کی تقریباً تنام زندگی سفر میں گزری تہی باوجود اِس کے کہ کسی ایسے شخص نے بھی جسکو عمر بہر اطمینان اور فرصت حاصل رہی ہو اپنی عقل اور محنت کا نتیجہ شیخ سے بہتر نہیں چھوڑا"۔ انگلستان کے بعض اور مصنفوں نے اس کو مشرقی شک پیر کیا ہے۔ اگرچہ یہ تشبیہ ان مشرقی شاعروں کی نظر میں جو شکسپیر کی شاعری سے واقف نہیں ہیں کچھ زیادہ وقعت نہیں رکہتی۔ لیکن جبکہ یہ بات مسلم ہے کہ انگریز شکسپیر کو تمام دنیا کے شاعروں سے بہتر سمجھتے ہیں تو دیکھنا چاہیے کہ جو لوگ سعدی کو مشرق کا شکسپیر کہتے ہین انہون نے اُس کو کس درجہ کا شاعر تسلیم کیا ہے۔ شکسپیر کی شاعری اگرچه سعدی کی شاعری سے بالکل مخار ہے لیکن بجض ہیثیات سے ایک کو دوسرے سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ دونوں کے کلام میں عموماً یہ بات پائی جاتی ہے کہ وہ عقل و عادت کی سرحد سے تجاوج نہین کرتے بلکہ ہمیشہ نچرل حالتون کی تصویر کھینچتے ہین دونوں کے کلام میں اکثر ظرافت اور شوخی کی چاشنی ہوتی ہے اور دونوں کا بیان ہمیشہ سادہ صاف اور دلنشین ہوتا ہے۔ اِس کے سوا دونوں نے اکثر کلام کی بنیاد نصیحت اور پند پر<noinclude></noinclude> ng9zkqgrcrkn61v5ux3qgutx409ybxq