ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.11 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/76 250 13819 35362 35341 2026-07-15T06:24:32Z BalramBodhi 60 35362 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>رکھی ہے صرف فرق اسقدر ہے کہ شیخ کھلم کہلاا نصیحت کرتا ہے اور شکسپیر کے لیے (یعنی ناٹک) سنکر کسی شخص کو یہ خیال نہین گزرتا کہ یہ میرے ہمجنسون کے عیب بیان ہو رہے ہیں یا کسی کو نصیحت کی جاتی ہے مگراُس کا بیان اندر ہی اندر اپنا کام کرتا ہے بلکہ یہ گپتی متتر \کیفیت\ نصیحت و پند سے زیادہ کارگر ہوتا ہے۔ نیز دونوں کا کلام مقبول اور دلنشین ہونے میں ایک دوسرے سے نہایت مشابہت رکھتا ہے۔ جس طرح شکسپیر کے عدد با اقوال انگریزی میں ضرب المثل ہو گئے ہیں اسی طرح شیخ کی غلستان اور بوستان کے صدر با فقرے اور شعر اور مصرے فارسی اور اردو مین ضرب المثل ہیں۔ اور اس سے دونوں کے کلام کی کمال خوبی اور حُسن اور یہ بات کہ اُنہون نے جمہور کے دلون پر کس قدر تسلط کیا ہے اور اُن کا کلام کسقدر انسان کی حالتوں اور ضرورتوں کے مطابق واقع ہوا ہے ثابت ہوتی ہے اگرچہ اس کا زیادہ تر سبب یہ بہی ہے کہ ایشیا مین جسقدر غلستان اور بوستان کی تعلیم و تعلم کا چرچا ہے ایسا کسی اور کتاب کا نہین اور اسی طرح یورپ مین جسقدر شکسپیر کا کلام دائر و سائر ہے ایسا کسی اور شاعر کا کلام نہین۔ پس ضرور ہے کہ دونون کے اقوال سب سے زیادہ لوگون کی زبان و \پنر جاری\ ہون لیکن ظاہر ہے کہ جب تک کوئی کلام فی نفسہ مقبول اور دلنشین ہونے کے قابل نہو کسی طرح ممکن نہین کہ اس طرح تمام ملک مین مشہور اور متداول ہو سکے۔ <center>'''کلیاتِ شیخ'''</center> شیخ کا تمام کلام نظم۔ نثر۔ فارسی اور عربی جو اسوقت متداول ہے اور جس کو شیخ علی بن<noinclude></noinclude> bco71x0gq7aibnuaiuzdivtekygtgjl