ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.11
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/24
250
12690
35389
35240
2026-07-20T07:05:39Z
Charan Gill
46
35389
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|٢٣|}}</noinclude>پیادے آ پہونچے اور اسے باندھ کر کوتوال کے پاس لائے کوتوال نے راجہ کو خبر دی راجہ نے اس سے یہ احوال بلوا کر پوچھا کہا مین کچھ نہین جانتا اور سیٹھ کی لڑکی سے جو بلا کر پوچھا تو اسنے کہا ہاراج عیان دیکھ کے مجھ سے کیا پوچھتے ہو پھر راجہ نے اس سے کہا تجھے کیا سزا دین یہ سنکے بولا آپ کے انصاف مین جو ٹھہرے سو کیجئے راجہ نے کہا اسے لیجا کر سولی دو لوگ راجہ کا حکم پا کے اسے سولی دینے لے چلے یہ سنجوگ دیکھ کر چور بھی وہان کھڑا تماشہ دیکھتا تھا تب اس نے دہائی دی راجہ نے اسے بلوا کر پوچھا تو کون ہے کہا مہاراج مین چور ہون اور یہ بے گناہ ہے ناحق اس کا خون ہوتا ہے آپ نے کچھ انصاف نکیا تب راجہ نے اسے بھی بلوایا اور چور سے پوچھا اپنے دھرم سے سچ کہہ یہ مقدمہ کس طرح سے ہے چور نے مفصل احوال کہا تو راجہ نے اچھی طرح سمجھا آخر ہرکارے بھیج اس عورت کا یار جو موا ہوا پڑا تھا اس کے منھ مین سے ناک منگوا کے دیکھی تب جانا کہ بے تقصیر ہے اور چور سچا ہے پھر چور بولا مہاراج نیکون کا پالنا اور بدون کو سزا دنیا راجاؤن کا برابر دھرم چلا آتا ہے اتنی بات کہہ کر چورامن طوطا بولا مہاراج ایسی گن کی پوری ناریان ہوتی ہین راجہ نے اس ناری کا منھ کالا کروا سر منڈوا کر گدہے پر چڑھا نگری کے پھیرے دلوا چڑھوا دیا اس چور اور ساہوکار بچے کو پیڑے دے رخصت کیا اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ ان دونون مین سے کسے زیادہ پاپ ہوا راجہ بیر بکرما جیت بولا استری کو بیتال بولا کہ کس طرح یہ سنکے راجہ نے کہا مرد کیسا ہی بدکار کیون نہ ہو پر اسے دھرم ادھرم کا بچار رہتا ہے اس سے ناری کو بہت سا پاپ ہوا یہ بات سن کے پھر بیتال چلا گیا اسی درخت پر جا لٹکا پھر راجہ جا اسکو پیڑ سے اتار گٹھری باندھے کاندھے پر رکھ لیچلا
پانچوین کہانی
بیتال بولا اے راجہ اجین نام ایک شہر ہے وہان کا راجہ مہابل اور اسکے ہرداس نام ایک ہرکارا تھا اس ہرکارے کی بیٹی کا نام مہادیوی وہ بہت خوبصورت تھی جب وہ شادی کی قابل ہوئی تو اس کے باپ کو فکر ہوئی کہ اسکا بیاہ کر دینا چاہیے غرضکہ ایک دن اس لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ پتا جی جو سب ہنر جانتا ہو مجھے اسے دیجیو تب اسنے کہا کہ جو سب علم سے واقِف ہوگا تیری شادی مین اسکے ساتھ کر دونگا پھر ایک دن اس راجہ نے ہرداس کو بلاکر پوچھا ملک دکن مین ہر چند نامہ راجہ ہے اسکی تم جا کر میری طرف سے خیر و عافیت پوچھو انکی خیریت مراج لے آؤ ہرداس یہ راجہ کا حکم پاکر رخصت ہوا اور اس راجہ کے پاس کتنے ایک دنون مین جا پہونچا اور اس سے اپنے راجہ کا سب پیغام کہا اور ہمیشہ اس راجہ کے پاس رہنے لگا غرض ایک دن کی بات ہے کہ اس راجا نے اس سے پوچھا کہ اے ہرداس ابھی کلجگ شُروع ہویا یا نہین تب اسے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
o8g7wivkozjbsuj3gwp9ll78hkhhswk
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/306
250
13173
35392
35376
2026-07-20T09:52:16Z
Kaur.gurmel
74
35392
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|۳۰۰}}</noinclude>نے اُنہیں ہون کُنڈ کے سامنے بٹھایا۔ براہمنوں
نے وید منتر پڑھنا شروع کر دیا ۔ ہون ہونے لگا ۔
اُدھر راج محل میں مبارکباد کے گیت گائے جانے
لگے ۔ ہون ختم ہونے پر گرو وشمسٹ نے رامچندر
کے ماتھے پر کیسر کا تیلک لگا دیا ۔ اسی وقت
تو پوں نے سلامیاں دائیں، امرا منذریں پیش
کرنے لگے ۔ کبیشروں نے کہت پڑھنا شروع کر دیا۔
رامچندرجی اور سینتا جی
سنگھاسن پر رونق افروز
ہو گئے ۔ بھھیشن مورچھل جھلنے لگا ۔ سگریو نے
چو ہداروں کا عصا سنبھال لیا ۔ اور ہنومان نیا
جھلنے لگا ۔ وفادار ہنومان کی خوشی کی تھاہ نہ تھی۔
جس راجکمار کو بہت دن پہلے اُس نے دشموک
پہاڑ پر اِدھر اُدھر سینا کو تلاش کرتے پایا تھا"
آج اُسی کو سیتاجی کے ساتھ سنگھاسن پر بیٹھے
دیکھ رہا تھا ۔ انہیں اس منزل مقصود تک پہنچانے
میں اُس نے کتنا حصہ لیا تھا ۔ غرور آمیز مسترت
سے وہ پھولا نہ سماتا تھا۔{{nop}}<noinclude></noinclude>
jx01d4z9xszudln14tkxgeyakx4lmn1
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/314
250
13735
35393
34984
2026-07-20T10:25:56Z
Kaur.gurmel
74
35393
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>ایسی بُرائی کرنے کا حوصلہ نہ ہو'.
شتروہن نے کہا۔ ’اُسے راج سے نکال دیا
جائے۔ اُس کی بد زبانی کی یہی سزا ہے۔‘
بھرت بولے۔ ’بکنے دیجئے۔ ان کمینے آدمیوں
کے کہنے سے ہوتا ہی کیا ہے۔ سیتا جی سے
زیادہ پاکیزہ دیوی دُنیا میں تو کیا دیولوک
میں بھی نہ ہوگی'.
لکشمن نے جوش سے کہا۔ ’آپ کیا کہتے ہیں
بھائی صاحب، ان ٹکے کے آدمیوں کی اتنی
جرات کہ سیتا جی کے بارے میں ایسی
بدگمانیاں کریں۔ ایسے آدمی کو ضرور پھانسی
دینی چاہئے۔ سیتا جی نے اپنی پاکیزگی کا
ثبوت اُسی وقت دے دیا جب وہ چتا میں
کودنے کو تیار ہو گ گئیں'.
رامچندر نے دیر تک خیال میں ڈوبے رہنے
کے بعد سر اُٹھایا اور بولے۔ ’آپ لوگوں نے
سوچ کر صلاح نہیں دی، غصّہ میں آ گئے۔<noinclude></noinclude>
kz8quad5wpm55zwxtri1rggnapxlw9d
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/333
250
13758
35384
35011
2026-07-20T04:55:13Z
Tamanpreet Kaur
81
/* پروف خوانی شدہ */
35384
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>ساتھ جنگل میں لے جاتے اور طرح طرح کے
پھل پھول دکھاتے ۔ بچپن ہی سے سچ سے
محبت اور جھوٹ سے نفرت کرنا سکھایا۔ لڑائی
کے فن بھی خوب دل لگا کر سکھائے ۔ دونو
اتنے بہادر تھے کہ بڑے بڑے خوفناک جانوروں
کو بھی مار گراتے تھے ۔ اُن کا گلا بہت اچھا تھا۔
اُن کا گانا سُن کر ریشی لوگ بھی مست ہو جاتے
تھے ۔ والمیک نے رامچندر کی زندگی کے حالات
نظم میں لکھ کر دونو را چکمہاروں کو یاد کرا دیا تھا۔
جب دونو اس نظم کو گا گا کر سناتے تو سیتا
جی غرور اور مسرت کی بہروں میں بہنے لگتی
تھیں{{center|
<big>(۴) '''اشو میدھ مگر'''</big>}}
سننا کو تیاگ دینے کے بع۔ رامچندر بہت
رنجیدہ اور غمگین رہنے لگے ۔ سیتا کی یاد نہیں
ہمیشہ سناتی رہتی تھی ۔ سوچتے بچاری نہ جانے<noinclude></noinclude>
3omtcdqjykxyc3rjn37p7dww70ladt0
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/334
250
13759
35390
35012
2026-07-20T09:26:03Z
Tamanpreet Kaur
81
/* پروف خوانی شدہ */
35390
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>کہاں ہوگی ۔ نہ ہوگی ۔ نہ جانے اُس پر کیا گزر رہی
ہوگی ۔ اُس زمانہ کو یاد کر کے جو اُنہوں نے
سیتاجی کے ساتھ بسر کیا تھا وہ اکثر رونے
لگتے تھے ۔ گھر کی ہر ایک چیز انہیں سیتا
کی یاد دلا دیتی تھی ۔ اُن کے کمرے کی تصویریں
سیتاجی ہی کی بنائی ہوئی تھیں ۔ باغ کے
کتنے ہی پورے سیتا جی کے ہاتھوں کے لگائے
ہوئے تھے ۔ کبھی سیتا کے سوئمبر کے زمانے
کی یاد کرتے، کبھی سیتا کے ساتھ جنگلوں کی
زندگی کا خیال کرتے ۔ اُن باتوں کو یاد کر کے
وہ تڑپنے لگتے تھے۔ خوشی کے جلسوں میں
شریک ہونا اُنہوں نے بالکل چھوڑ دیا ۔ بالکل
تپسیوں کی طرح زندگی بسر کرنے لگے۔ دربار
کے امیروں اور وزیروں نے سمجھایا کہ آپ
دوسری شادی کر لیں، کسی طرح نام تو چلے۔
کب تک۔ اس طرح تپسیا کیجئے گا ۔ مگر رامچندر
شادی کرنے پر راضی نہ ہوئے ۔ یہاں تک<noinclude></noinclude>
mcui7zl70jq4yif57gl9nr4tntfiptn
35391
35390
2026-07-20T09:27:39Z
Tamanpreet Kaur
81
35391
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>کہاں ہوگی ۔ نہ ہوگی ۔ نہ جانے اُس پر کیا گزر رہی
ہوگی ۔ اُس زمانہ کو یاد کر کے جو اُنہوں نے
سیتاجی کے ساتھ بسر کیا تھا وہ اکثر رونے
لگتے تھے ۔ گھر کی ہر ایک چیز اُنہیں سیتا
کی یاد دلا دیتی تھی ۔ اُن کے کمرے کی تصویریں
سیتاجی ہی کی بنائی ہوئی تھیں ۔ باغ کے
کتنے ہی پورے سیتا جی کے ہاتھوں کے لگائے
ہوئے تھے ۔ کبھی سیتا کے سوئمبر کے زمانے
کی یاد کرتے، کبھی سیتا کے ساتھ جنگلوں کی
زندگی کا خیال کرتے ۔ اُن باتوں کو یاد کر کے
وہ تڑپنے لگتے تھے۔ خوشی کے جلسوں میں
شریک ہونا اُنہوں نے بالکل چھوڑ دیا ۔ بالکل
تپسیوں کی طرح زندگی بسر کرنے لگے۔ دربار
کے امیروں اور وزیروں نے سمجھایا کہ آپ
دوسری شادی کر لیں، کسی طرح نام تو چلے۔
کب تک۔ اس طرح تپسیا کیجئے گا ۔ مگر رامچندر
شادی کرنے پر راضی نہ ہوئے ۔ یہاں تک<noinclude></noinclude>
qqyqh4r0scgthvx2ba0fnjgqdldr6lb
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/79
250
13823
35383
35378
2026-07-20T00:15:27Z
Charan Gill
46
35383
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>{{center|'''گلستان اور بوستان'''}}
اگرچہ ہر تصنیف و تالیف کی ما ہیت اور اُن کے عیب و خو بیان بیان کرنی عمومً مشکل ہین لیکن جو کلام سب کے نزدیک مقبول ہو اور جسپر کسی نے خردہگیری نہ کی ہو اسپر رویو لکھنا اور اُس کی خوبی یا عیب بیان کرنا حد سے زیادہ مشکل ہے۔ جس طرح یدییات پر استدلال کرنا نہایت دشوار ہے۔ اِسی طرح ایسے مقبول اور مسلم کتابون کے محاسن
بیان کرنے مشکل مین اور اسی طرح ان پر نکتہ چینی کرنی اور بھی زیادہ مشکل ہے۔ ہم پہلا آسان سلام کام کسی قدر اپنے ذمہ لیتے ہین اور دوسرے مشکل کام کو اپنے سے زیادہ \دقیقہ\ شناس اور باریک بین لوگون پر چھوڑتے ہین۔
اِن دونون کتابون کو شیخ کے کلام کا خلاصہ اور لب لباب سمجھنا چاہیئے۔ ظاہرا فاسی زبان مین کوئی کتاب اِن سے زیادہ مقبول اور مطبوع خاص و عام نہین ہوئی۔ ایران ترکستان۔ تاتار۔افغانستان اور ہندوستان مین اِن دونون کتابون کی تعلیم ساڑئ چھ سو برس سے برابر جاری ہے۔ بچپن مین اِن کی تعلیم شروع ہوتی ہے۔ اور بڑھاپے تک مطالعہ کا شوق رہتا ہے لاکھون استادون نے اِنھین پڑھایا۔ اور کروڈون شاگردون نے انھین پڑھا اِنکے بیشمار نسخے خوشنویون کے قلم سے لکھے گئے۔ اور بے انتہا اڈیشن لوہے اور پتھر پر چھاپے گئے۔ مشرق اور مغرب کی اکثر زبانون مین اِنکے ترجمے ہوئے۔ مشائخ اور علما نے انکی عزت کی۔ بادشاہون نے اںکو سلطنت کا دستور العمل بنایا۔ منشیون اور شاعرون<noinclude></noinclude>
qr98qlrmjsq1e8vixs2m0hnchrbq14j
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/80
250
13824
35385
2026-07-20T05:21:59Z
Charan Gill
46
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”نے انکی فصاحت اور بلاغت کے آگے سر جُہکایا اوراُن کے متتبع سے عاجز رہنے کا اقرار کیا ان کا نام جس طرح ایشیا میں شعور ہے اسی طرح یورپ مین بھی عزت سے لیا جاتا ہے۔ اگرچه به درون کتا بین حسن قبول - فصاحت - بلاغت - تهذیب اخلاق پند و نصیحت اور اکثر خوبیوں...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35385
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>نے انکی فصاحت اور بلاغت کے آگے سر جُہکایا اوراُن کے متتبع سے عاجز رہنے کا اقرار کیا ان کا نام جس طرح ایشیا میں شعور ہے اسی طرح یورپ مین بھی عزت سے لیا جاتا ہے۔ اگرچه به درون کتا بین حسن قبول - فصاحت - بلاغت - تهذیب اخلاق پند و نصیحت اور اکثر خوبیوں کے لحاظ سے با ہماگر ایسی مشابہت رکھتی ہیں کہ ایک دوسری پر ترجیح دینی
مشکل ہے بلکہ ان پرعربی کا یہ مقبول صادق آتا ہے احدهما افضل من الأخر لیکن ار بعض وجہ سے گلتان کو بوستان پر ترجیح دی جائے توکچھ ہیجانین ہے۔
فارسی نظم مین بوستان کے سوا اور بہی ایسی کتابین موجود ہین جو بوستان سے کم مقبول نہین سمجھی گئین بلکه مشنوی معنوی اور شاہنامہ نے شاید اس سے بھی بڑھ کر مقبولیت حاصل کی ہے۔ لیکن فارسی نثر مین ظاہر کوئی کتاب شیخ سے پہلے اور اُس کے بعد ایسی نہیں لکھی گئی جو
گلستان کے برابر مقبول ہوئی ہو۔ سر گوراوسلی نے اپنے ہا ر میں لکھا ہے کہ سعدی
کی گلستان کا ترجمہ جوک مشهور اصل جنگیں نے لاطینی میں کیا نمائش نے مدتون یوروپ کے
اہل علم وادب کو شیخ کے خیالات پر فریفتہ کہا ہے ۔
در مجمع الفصح جوکها بهی ایران بین تالیف ہوا ہے اُس میں یا کسی اور نذرکیس مین
لکھا ہے کہ اسی نظم ونترین بقدر چار کتا بین ایرا میں مقبول ہوئی ہیں ایسی اورکوئی کتاب
نہیں ہوئی ۔ شاہنامہ ۔ مثنوی معنوی - گلستان اور دیوان حافظ -
ہندوستان
میں ہی یہ چارون
کتابین ایسی ہی مقبول ہوتی ہیں جیسی ایران مین
گر سب کی شہرت در قبولیت کے وجود اختلاف ہیں ۔ گرمی ایک خوبی بینی بیان کی سادگی<noinclude></noinclude>
bizv7rj7jvdnduow8qx12myk86qcqnh
35386
35385
2026-07-20T06:09:40Z
BalramBodhi
60
35386
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>نے انکی فصاحت اور بلاغت کے آگے سر جُہکایا اور اُن کے متتبع سے عاجز رہنے کا اقرار کیا اِن کا نام جس طرح ایشیا مین مشہور ہے اسی طرح یورپ مین بھی عزت سے لیا جاتا ہے۔
اگرچه بہ درون کتابین حسن قبول۔فصاحت۔ بلاغت۔ تہذیب اخلاق پند و نصیحت اور اکثر خوبیون کے لحاظ سے با ہمدگر ایسی مشابہت رکہتی ہین کہ ایک کو دوسری پر ترجیح دینی مشکل ہے بلکہ اِن پر عربی کا یہ مقولہ صادق آتا ہے احدها افضل من الأخر لیکن اگر بعض وجہ سے گلستان کو بوستان پر ترجیح دی جائے تو کچہہ ہیجا نہین ہے۔
فارسی نظم مین بوستان کے سوا اور بہی ایسی کتابین موجود ہین جو بوستان سے کم مقبول نہین سمجہی گئین بلکہ مشنوی معنوی اور شاہنامہ نے شاید اُس سے بہی بڑہ کر قبولیت حاصل کی ہے۔ لیکن فارسی نثر مین ظاہرا کوئی کتاب شیخ سے پہلے اور اُس کے بعد ایسی نہین لکہی گئی جو
گلستان کے برابر مقبول ہوئی ہو۔ سر گوراوسلی نے اپنے تزکرہ مین لکہا ہے کہ سعدی کی گلستان کا ترجمہ جو کہ مشہور فاضل \جنٹین\ نے لاطینی مین کیا تہا اُس نے مدتون یوروپ کے اہل علم و ادب کو شیخ کے خیالات پر فریفتہ رکہا ہے۔
تزکرہ محمبع الفصح جو کہ ابہی ایران مین تالیف ہوا ہے اُس مین یا کسی اور تزکرے مین لکہا ہے کہ فارسی نظم و نثر مین جسقدر چار کتابین ایران مین مقبول ہوئی ہین ایسی اور کوئی کتاب نہین ہوئی۔ شاہنامہ۔ مثنوی معنوی۔ گلستان اور دیوان حافظ۔
ہندوستان مین بہی یہ چارون کتابین ایسی ہی مقبول ہوتی ہین جیسی ایران مین مگر سب کی شہرت اور قبولیت کے وجوہ مختلف ہین۔ اگرچہ ایک خوبی یعنی بیان کی سادگی<noinclude></noinclude>
r3mljh7gsm70ehpqqoul5p32mkfai53
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/81
250
13825
35387
2026-07-20T06:13:28Z
BalramBodhi
60
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”اور ار میباختگی میں چاروں کتا بین کم و بیش مشترک بین اور یہ وہ خوبی ہے جسکے بغیر کوئی کتاب مقبول نہین ہو سکتی۔ لیکن صرف اسقدر خوبی سے کوئی کتاب ایسی شہرت قبولیت کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتی جب تک اس کے ساتھ کوئی اور اکش اور دلفریب چیز مو کم که نظم و...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35387
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>اور
ار میباختگی میں چاروں
کتا بین کم و بیش مشترک بین اور یہ وہ خوبی ہے جسکے بغیر کوئی
کتاب مقبول نہین ہو سکتی۔ لیکن صرف اسقدر خوبی سے کوئی کتاب ایسی شہرت
قبولیت کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتی جب تک اس کے ساتھ کوئی اور اکش اور دلفریب
چیز مو کم که نظم ونشرکی میدون کابین تو تکلف اور تصنع سے بالکل پاک میں ایسی بھی ہیں
بہ کا کوئی نام بھی نین جاتا۔
ہماری رائے میں گھستان کے سواباقی تینوں کتابین زیادہ تر اس سبب سے مقبول
ہوئی ہیں کہ وہ اپنی سادگی اور نصاحت و بلاغت کے علاوہ زمانہ کے مذاق اور طبائع کے
ساتھ بہت مناسبت رکھتی تین ۔ سب سے اول شاہنامہ پرغور کرو۔ قطع نظر اس سے
ک قدیم زمانہ کے حالات اور گیتہ قوموں اور بادشاہوں کے محاربات انسان
کو ہمیش بالطبع
سر غوب ہوتے ہیں ۔ جس زمانہ میں کہ شاہنامہ لکھا گیا سوقت وسط ایشیا کے مسلمانوں کو
فتوحات اور لشکر کشی دوکشور کشائی کا شوق حد سے زیادہ بڑہا ہو تھا۔ اور شجاعت و بہادری
کے مضمون
اُن کو دل سے پسند آتے تھے ۔ پس ایک رزمیہ نظم کا معین رزم اور باری
کے سوا اور مضمون بہت کم ہیں اسے وقت میں کہا جاتا کی حالت کے نہایت مناسب
تھا۔ یہی سب بتا کہ شاہنام ختم ہونے پہلے ہی اسکی صدا داستانین کم ہی لوگوں کی
زبانوں پر جاری ہوگئی تین اور آخر کو انسکا بیان تک رواج ہو گیا تھا کہ بادشاہوں کے بان
شاہنامہ خوان نوکر کے جاتے تھے ۔ اور قہوہ خانون مین جابجا گرمی صحبت کے لیے
شاہنامہ پڑھانا آنا ۔ اس کے سوا ہرا دون عجیب و غریب قصے جیسے سیرت کا زال کو<noinclude></noinclude>
o6ch85f6ecqzplxkxg4t56qa8eyw9oc
35388
35387
2026-07-20T06:48:48Z
BalramBodhi
60
35388
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>اور بسیاختگی مین چارون کتابین کم و بیش مشترک بین اور یہ وہ خوبی ہے جسکے بغیر کوئی کتاب مقبول نہین ہو سکتی۔ لیکن صرف اسقدر خوبی سے کوئی کتاب ایسی شہرت اور قبولیت کے درجہ کو نہین پہنچ سکتی جب تک اُس کے ساتھ کوئی اور دلکش اور دلفریب چیز نہو کیون کہ نظم و نشر کی بیسیون کتابین جو تکلف اور تصنع سے بالکل پاک ہین ایسی بہی ہین جنکا کوئی نام بہی نہین جانتا۔
ہماری رائے مین گلستان کے سوا باقی تینون کتابین زیادہ تر اِس سبب سے مقبول ہوئی ہین کہ وہ اپنی سادگی اور فصاحت و بلاغت کے علاوہ زمانہ کے مذاق اور طبائع کے ساتہہ بہت مناسبت رکہتی تہین۔ سب سے اول شاہنامہ پر غور کرو۔ قطع نظر اس سے کہ قدیم زمانہ کے حالات اور گزشتہ قومون اور بادشاہون کے محاربات انسان کو ہمیشہ بالطبع مرغوب ہوتے ہین۔ جس زمانہ مین کہ شاہنامہ لکہا گیا اُسوقت وسط ایشیا کے مسلمانون کو فتوحات اور لشکرکشی و کشور کشائی کا شوق حد سے زیادہ بڑہا ہوا تھا۔ اور شجاعت و بہادری کے مضمون اُن کو دل سے پسند آتے تہے۔ پس ایک رزمیہ نظم کا جسمین رزم اور بحادری کے سوا اور مضمون بہت کم ہین ایسے وقت مین لکہا جاتا اُںکی حالت کے نہایت مناسب تہا۔ یہی سبب تہا کہ شاہنامہ ختم ہونیسے پہلے ہی اُسکی صدہ داستانین کم و بیش لوگون کی زبانون پر جاری ہوگئی تہین۔ اور آخر کو اُسکا یہانتک رواج ہو گیا تھا کہ بادشاہون کے بان شاہنامہ خوان نوکر رکہے جاتے تہے۔ اور قہوہ خانون مین جابجا گرمی صحبت کے لیے
شاہنامہ پڑہا جاتا تہا۔ اس کے سوا ہزارون عجیب و غریب قصے جیسے سیمرغ کا زال کو<noinclude></noinclude>
eufl30f9hngr5ae2u8bqjtv1fq3mg36