ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.12
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/25
250
12691
35400
31837
2026-07-21T08:58:39Z
Taranpreet Goswami
90
/* پروف خوانی شدہ */
35400
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||٢٤|بیتال پچیسی}}</noinclude>ہاتھ جوڑ کر کہا کلجگ موجود ہے کیونکہ دنیا مین جھوٹ بڑا ہے اور سچائی نہین رہی لوگ منھ پر بات میٹھی کہتے ہین اور دل مین کپٹ رکھتے ہین دھرم جاتا رہا گناہ بڑھ گئے درخت پھل کم دینے لگے راجہ ڈانڈ لینے لگے برہمن لالچی ہو گئے عورتون نے ہیا چھوڑ دی بیٹا باپ کا حکم نہین مانتا بھائی بھائی کا اعتبار نہین کرتا دوستون سے دوستی جاتی رہی خاوند سے وفا اٹھ گئی نوکرون نے خدمت چھوڑ دی اور جتنی خراب باتین تھین سب نظر آتی ہین جب راجہ سے یہ کہہ چکا تب راجہ اٹھکر محل گیا اور یہ اپنے مقام پر آ کر بیٹھا کہ اتنے مین برہمن اسکے پاس آ کہنے لگا کہ مین تجھ سے کچھ مانگنے آیا ہون یہ سنکراسنے کہا مانگ کیا مانگتا ہے اُس نے کہا کہ اپنی بیٹی مجھے دے ہرداس بولا کہ جس مین سب ہنر ہونگے مین اسکو دونگا یہ سنکر وہ بولا کہ مین سب بدیا جانتا ہون اس نے کہا کہ کچھ اپنا ہنر مجھے دکھلا تو مین جانون کہ تجھے علم آتا ہے تب سن برہمین نے کہا کہ مین نے ایک رتھ بنایا ہے اسمین یہ تاثیر اور طاقت ہے کہ جہان جانے کا ارادہ کرو تہان ایک پل مین لے پہونچا دے تب ہرداس نے کہا اس رتھ کو فجر کے وقت میرے پاس لے آئیو غرض وہ صبح کو رتھ لے ہرداس پاس آیا پھر یہ دونون رتھ پر سوار ہو اجین شہر مین آن پہونچے یہان اتفاقا اسکے آنے سے پہلے کسی اور برہمین کے لڑکے نے بڑے بیٹے سے آکر کہا تھا کہ تو اپنی بہن مجھے دے اور اس نے بھی کہا تھا کہ جو سب علم جانتا ہوگا اسے دونگا اور اس برہمن کے لڑکے نے بھی کہا کہ مین سب ہنر و علم جانتا ہون یہ سنکے اس نے کہا تھا کہ تجھے ہی دینگے ایک اور برہمن کے لڑکے نے اس لڑکی کی مان سے کہا تھا کہ اپنی بیٹی ہمین دے اس نے بھی اسے یھی جواب دیا تھا کہ جو سب ہنر جانتا ہوگا اسی کو مین اپنی لڑکی دون گی اس برہمن کے لڑکے نے بھی کہا تھا کہ مین تیراندازی مین کمال رکھتا ہون اور بغیر دیکھے آواز پر تیر لگاتا ہون یہ سنکے اسنے بھی کہا تھا کہ مین نے قبول کیا تجھے ہی دونگی غرض
'''آنا تینون برہمنون کا پاس ہرداس کے اور بیان کرنا ہنر اپنا اپنا'''<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
0gdac66ha1k0in6755rnq0nc6dk3n65
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/26
250
12692
35401
31847
2026-07-21T09:07:51Z
Taranpreet Goswami
90
/* پروف خوانی شدہ */
35401
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||۲۵|بیتال پچیسی}}</noinclude>اسی طرح سے تینون بر آن کے اکھٹے ہوئے ہرداس اپنے دل مین سوچنے لگا کہ ایک لڑکی اور تین بر کسے دون اِسی فکر مین تھا کہ رات کو ایک راکشس انکی کنیا کو اٹھا کے بندھیاچل پہاڑ کے اوپر لیگیا کہا ہے کہ زیادتی کِسی چیز کی اچھی نہین بہت زیادہ خوبصورت سیتا تھی راون نے ہری راجہ بل نے دان دیا سو دلدری ہوا راون نے بہت زیادہ غرور کر کے اپنے خاندان کو تباہ کیا غرض جب صبح ہوئی اور سب گھر کے لوگون نے لڑکی کو نہ دیکھا تب طرح طرح کی فکرین کرنے لگے یہ بات وہ تینون بر بھی سُنکر وہان آئے انمین ایک دانشمند تھا اس سے ہرداس نے پوچھا تو بتا کہ وہ کنیان کہان گئی اسنے گھڑی ایک مین بچار کرکے کہا تمھاری لڑکی راکشس نے پہاڑ مین لیجا کر رکھا ہے اسمین دوسرا بولا کہ راکشس کو مار کر مین اسے لے آؤنگا پھر تیسرا بولا ہمارے رتھ پر سوار ہو جاؤ اور اسے لے آؤ یہ سنتے ہی وہ جھٹ اسکی رتھ پر سوار ہو وہان پوہنچے اس دیو کو مار فوراً اسے لے آیا اور تینون آپسمین جھگڑنے لگے تب اس کے باپ نے دل مین سوچ کر کہا کہ سبھون نے احسان کیا ہے کسے دون اور کسے نہ دون اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ بکرم اُن تینون مین سے وہ کنیان کسکی استری ہوئی راجہ بولا وہ جورو اسکی ہوئی جو راکشس کو مار کے لایا بیتال نے کہا سب کا گن برابر ہے کس طرح سے وہ اسکی جورو ہوئی راجہ نے کہا ان دونون نے احسان کیااس سے انکو ثواب ہوا اور یہ لڑ کر اسے مار کر لایا ہے اس واسطے وہ اسکی جورو ہوئی یہ بات سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہین بیتال کو باندھ کاندھے پر رکھ اسی طرح سے لیچلا
{{rule}}
{{c|<big>چھٹی کہانی</big>}}
{{rule}}
بیتال بولا اے راجہ دھرم پور نام ایک شہر ہے وہان کا راجہ دھرم سیل اسکے دیوان کا نام اندھک تھا اسنے ایک دن راجہ سے کہا مہاراج ایک مندر بنا کر اسمین دیبی کو بٹھا کر ہمیشہ پوجا کیجئے کہ اس کا شاستر مین بڑا ثواب لِکھا ہے تب راجا ایک مندر بنوا دیبی کو پدھرا کر شاستر کی بدھ سے پوجا کرنے لگا اور بغیر پوجا کیئے جل بھی نہ پیتا تھا اِسی طرح سے جب کتنی ایک مدّت گذری تو ایک روز دیوان نے کہا مہاراج مشہور ہے کہ پنوتی کا گھر سونا مورکھ کا ہردے سونا اور دلدری کا سب کچھ سونا ہے یہ بات سُن راجہ دیبی کے مندر مین جا ہاتھ جوڑ استت کرنے لگا کہ اے دیبی تجھے برھما بشنو اور اندر آٹھ پہر پوجتے ہین اور تو نے مہکھا سر چنڈ منڈ وغیرہ دیتون کو تلوار سے مار پرتھوی کا بھار اتارا ہے اور جہان تیرے بھگتون پر بپت پڑی تہان تہان جا کر سہائے ہوئی اور یہی آس تک کر مین تیرے دوارے پر آیا ہون اب میرے بھی من کی اچھا پوری کر اتنی استت جب راجہ کر چکا تو دیبی کے مندر سے آواز آئی کہ راجہ مین تجھ سے خوش ہوئی بر مانگ جو تیرے جی مین ہے راجہ بولا اے ماتا جو تو مجھ سے خوش ہوئی تو مجھ کو لڑکا دے اور دیبی نے کہا راجہ میرے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
lt1u8vhbjapb6snof60yqlxkme6jux1
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/27
250
12693
35402
31858
2026-07-21T09:13:29Z
Taranpreet Goswami
90
35402
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>پتر ہوگا مہابلی اور بڑا پرتاپی تب تو راجہ نے چندن اچھت پھول دھوپ دیپ دیکر پوجا کی اور اسی طرح سے ہر روز پوجا کرتا تھا غرض کتنے دنون پیچھے راجہ کے ایک لڑکا پیدا ہوا راجہ نے باجے گاجے سے کٹمب سمیت جا کے دیبی کی پوجا کی اس عرصہ مین ایک دن کا اتفاق ہے کہ کسی گاؤن سے ایک دھوبی اپنے دوست کو ساتھ لیئے اس شہر کی طرف آتا تھا کہ دیبی کا مندر اسے نظر آیا اس نے ڈنڈوت کرنیکا ارادہ کیا اسمین ایک دھوبی کی لڑکی بڑی حسین سامنے سے آتی اسنے دیکھی اسے دیکھ فریفتہ ہوا اور دیبی کے درشن کو گیا ڈنڈوت کر ہاتھ جوڑ اسنے اپنے جی مین کہا اے دیبی جو اس حسینہ سے میرا بیاہ تیری مہربانی سے ہو تو مین اپنا سر تجھے چڑھاؤن یہ منت مان ڈنڈوت کر وہ سب کو ساتھ لے اپنے نگر کو گیا جب وہان پہونچا تو اسکے عشق نے ایسا ستایا کہ نیند بھوک پیاس اڑ گئی آٹھ پہر اسی کے دھیان مین رہنے لگا یہ بری حالت اسکے دوست نے دیکھ اسکے باپ سے جا سب حال کہا اس کا باپ بھی یہ سنکے بھوچکا ہوا اور اپنے جی مین اندیشہ کر کے کہنے لگا اسکی حالت دیکھ ایسا معلوم ہوتا ہے جو اُس کنیا سے اسکی شادی نہ ہوگی تو یہ اپنی جان دیدیگا اس سے بہتر یہ ہے کہ اس لڑکی سے اسکا بیاہ کر دیجئے کہ جس سے یہ بچے اتنا سوچ کر لڑکے کے دوست کو ساتھ لے اس گاؤن مین پہونچے اس گاؤن مین پہونچ لڑکی کے باپ سے جا کر کہا کہ مین تیرے پاس کچھ مانگنے آیا ہون جو تو دیوے تو مین کہون اُن نے کہا میرے پاس وہ چیز ہوگی تو مین دون گا یہ تو کہہ اس طرح سے قول لے کر کہا تو اپنی لڑکی میرے لڑکے کو دے یہ سنکر اسنے بھی اسکی بات مان کر برہمن کو بلوا دن لگن مہورت ٹھہرا کر کہا تم لڑکے کو لے آو مین بھی اپنی لڑکی کے ہاتھ پیلے کر دونگا یہ سنکر وہ وہان سے اٹھ اپنے گھر آ سب سامان شادی کا تیار کر بیاہنے کو گیا اور وہان جا بیاہ کر بیٹے ہہو کو اپنے گھر پر لے آیا اور دونون آپسمین آرام سے رہنے لگے پھر کتنے دنون کے بعد اس لڑکی کے باپ کے یہان کچھ خوشی کا جلسہ تھا وہان سے نیوتا یہان بھی آیا یہ مرد عورت بھی تیار ہو اپنے دوست کو ساتھ لے اس شہر کو چلے شہر کے نزدیک پہونچے تو دیبی کا مندر نظر آیا تو اسے یاد آئی تب ان نے جی مین یہ بات بچار کر کہا کہ مین بڑا جھوٹا اور گناہ گار ہون کہ دیبی سے بھی جھوٹ بولا اتنی بات اپنے دل مین کہہ اس دوست سے کہا کہ تم یہان کھڑے رہو مین دیبی کا درشن کر آؤن اور استری کو کہا تو بھی یہان ٹھہر یہ کہہ مندر کے پاس پہونچ تالاب مین اشنان کر دیبی کے سامنے جاکر ہاتھ جوڑ نمشکار کر کھرگ اٹھا کر جگاہ رہنے گردن پر مارا کہ سر تن سے جدا ہوا اور بھوم پر گرا غرض کتنی ایک دیر کے پچھے اسکے دوست نے خیال کیا کہ اسے گئے ہڑی دیر ہوئی اب تک پھرا نہین چل کر دیکھنا چاہیئے اور اسکی استری کو کہا تو یہان کھڑی رہ مین اسے شتابی سے ڈھونڈھ کر لے آتا ہون یہ کہہ کر دیبی کے مندر مین گیا دیکھتا کیا ہے کہ دھڑ سے اسکا سر جُدا پڑا ہے یہ حالت وہانکی دیکھ اپنے جی مین کہنے لگا کہ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
fpllzhd284n011651ps101gzhnb17g8
35407
35402
2026-07-22T06:59:05Z
Taranpreet Goswami
90
/* پروف خوانی شدہ */
35407
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>پتر ہوگا مہابلی اور بڑا پرتاپی تب تو راجہ نے چندن اچھت پھول دھوپ دیپ دیکر پوجا کی اور اسی طرح سے ہر روز پوجا کرتا تھا غرض کتنے دنون پیچھے راجہ کے ایک لڑکا پیدا ہوا راجہ نے باجے گاجے سے کٹمب سمیت جا کے دیبی کی پوجا کی اس عرصہ مین ایک دن کا اتفاق ہے کہ کسی گاؤن سے ایک دھوبی اپنے دوست کو ساتھ لیئے اس شہر کی طرف آتا تھا کہ دیبی کا مندر اسے نظر آیا اس نے ڈنڈوت کرنیکا ارادہ کیا اسمین ایک دھوبی کی لڑکی بڑی حسین سامنے سے آتی اسنے دیکھی اسے دیکھ فریفتہ ہوا اور دیبی کے درشن کو گیا ڈنڈوت کر ہاتھ جوڑ اسنے اپنے جی مین کہا اے دیبی جو اس حسینہ سے میرا بیاہ تیری مہربانی سے ہو تو مین اپنا سر تجھے چڑھاؤن یہ منت مان ڈنڈوت کر وہ سب کو ساتھ لے اپنے نگر کو گیا جب وہان پہونچا تو اسکے عشق نے ایسا ستایا کہ نیند بھوک پیاس اڑ گئی آٹھ پہر اسی کے دھیان مین رہنے لگا یہ بری حالت اسکے دوست نے دیکھ اسکے باپ سے جا سب حال کہا اس کا باپ بھی یہ سنکے بھوچکا ہوا اور اپنے جی مین اندیشہ کر کے کہنے لگا اسکی حالت دیکھ ایسا معلوم ہوتا ہے جو اُس کنیا سے اسکی شادی نہ ہوگی تو یہ اپنی جان دیدیگا اس سے بہتر یہ ہے کہ اس لڑکی سے اسکا بیاہ کر دیجئے کہ جس سے یہ بچے اتنا سوچ کر لڑکے کے دوست کو ساتھ لے اس گاؤن مین پہونچے اس گاؤن مین پہونچ لڑکی کے باپ سے جا کر کہا کہ مین تیرے پاس کچھ مانگنے آیا ہون جو تو دیوے تو مین کہون اُن نے کہا میرے پاس وہ چیز ہوگی تو مین دون گا یہ تو کہہ اس طرح سے قول لے کر کہا تو اپنی لڑکی میرے لڑکے کو دے یہ سنکر اسنے بھی اسکی بات مان کر برہمن کو بلوا دن لگن مہورت ٹھہرا کر کہا تم لڑکے کو لے آو مین بھی اپنی لڑکی کے ہاتھ پیلے کر دونگا یہ سنکر وہ وہان سے اٹھ اپنے گھر آ سب سامان شادی کا تیار کر بیاہنے کو گیا اور وہان جا بیاہ کر بیٹے بہو کو اپنے گھر پر لے آیا اور دونون آپسمین آرام سے رہنے لگے پھر کتنے دنون کے بعد اس لڑکی کے باپ کے یہان کچھ خوشی کا جلسہ تھا وہان سے نیوتا یہان بھی آیا یہ مرد عورت بھی تیار ہو اپنے دوست کو ساتھ لے اس شہر کو چلے شہر کے نزدیک پہونچے تو دیبی کا مندر نظر آیا تو اسے یاد آئی تب ان نے جی مین یہ بات بچار کر کہا کہ مین بڑا جھوٹا اور گناہ گار ہون کہ دیبی سے بھی جھوٹ بولا اتنی بات اپنے دل مین کہہ اس دوست سے کہا کہ تم یہان کھڑے رہو مین دیبی کا درشن کر آؤن اور استری کو کہا تو بھی یہان ٹھہر یہ کہہ مندر کے پاس پہونچ تالاب مین اشنان کر دیبی کے سامنے جاکر ہاتھ جوڑ نمشکار کر کھرگ اٹھا کر جگاہ رہنے گردن پر مارا کہ سر تن سے جدا ہوا اور بھوم پر گرا غرض کتنی ایک دیر کے پچھے اسکے دوست نے خیال کیا کہ اسے گئے ہڑی دیر ہوئی اب تک پھرا نہین چل کر دیکھنا چاہیئے اور اسکی استری کو کہا تو یہان کھڑی رہ مین اسے شتابی سے ڈھونڈھ کر لے آتا ہون یہ کہہ کر دیبی کے مندر مین گیا دیکھتا کیا ہے کہ دھڑ سے اسکا سر جُدا پڑا ہے یہ حالت وہانکی دیکھ اپنے جی مین کہنے لگا کہ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
bnvoqmu5gnii592zatti2paaq1usu2c
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/237
250
12840
35405
35040
2026-07-21T17:12:36Z
Jagdish Papra
66
35405
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>اُس کی تلوار میان سے نکل پڑی ۔ قریب تھا
کہ رسیوں میں جکڑے ہوئے ہنومان کی گردن
پر اس کی تلوار گرے کہ راون کے بھائی بھیجیشن
نے کھڑے ہو کر کہا۔ ' بھائی صاحب ! پہلے اس
سے پوچھے کہ یہ کون ہے اور یہاں کس لئے
آیا ہے ؟ ممکن ہے برا مھر ہو تو ہمیں برہم ہتیا
کا پاپ لگ جائے ۔
ہنومان نے کہا میں راجہ سگریو کا ایلچی
ہوں ۔ رامچندر جی نے مجھے سیتا جی کا پتہ
لگانے کے لئے بھیجا ہے ۔ مجھے یہاں سیتا جی
کے درشن ہو گئے ۔ تم نے بہت برا کیا کہ
اُنہیں یہاں اُٹھا لائے ۔ اب تمہاری خیریت
اسی میں ہے کہ سیتاجی کو رامچندر جی کے
پاس پہنچا دو۔ ورنہ تمہارے حق میں بُرا ہوگا۔
و تم نے راجہ بالی کا نام سُنا ہوگا ۔ اُس نے
تمہیں ایک بار نیچا بھی دکھایا تھا ۔ اُسی راجہ
بالی کو رامچندر نے ایک تیر سے ہلاک کر دیا۔<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
mg0y48ztlkhad9859uewas8yg9jcgxc
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/315
250
13736
35403
34985
2026-07-21T14:50:26Z
Kaur.gurmel
74
35403
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>دھوبی کو قتل کر دینے سے ہماری یہ
بدنامی دُور نہ ہوگی، بلکہ اور بھی پھیلیگی۔
بدنامی کو دُور کرنے کا صرف ایک علاج
ہے اور وہ یہ ہے کہ سیتا جی کو ترک کر دیا
جائے۔ میں جانتا ہوں کہ سیتا حیا اور
پاکیزگی کی دیوی ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے۔
کہ اُنہوں نے خواب میں بھی میرے سوائے
اور کسی کا خیال نہیں کیا۔ لیکن میرا یقین
جب رعایا کے دلوں میں یقین نہیں پیدا
کر سکتا تو اس سے فائدہ ہی کیا ۔ میں
اپنے خاندان میں کلنک لگتے نہیں دیکھ
سکتا۔ میرا دھرم ہے کہ رعایا کے سامنے
زندگی کا ایسا نمونہ پیش کروں جو سماج
کو اور بھی اُونچا اور پاک بنائے۔ اگر
میں ہی لوک نندا اور بدنامی سے نہ
ڈروںگا تو رعایا اس کی کب پرواہ کریگی۔
اور اس طرح عوام کو سیدھے اور سچے<noinclude></noinclude>
hxhxq7ze82phkl6umkv03jj8969m4rk
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/316
250
13737
35404
34986
2026-07-21T15:01:49Z
Kaur.gurmel
74
35404
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>سے ہٹ جانا آسان ہو جائیگا۔ بدنامی
سے بڑھ کر ہماری زندگی کو سدھارنے کی
کوئی دوسری طاقت نہیں ہے۔ میں نے
جو تدبیر بتلائی اس کے سوا اور کوئی دوسری
تدبیر نہیں ہے'.
تینوں بھائی رامچندر کی یہ گفتگو سن کر
گم سُم ہو گئے۔ کچھ جواب نہ دے سکے۔ ہاں
دل میں اُن کی قربانی کی تعریف کرنے لگے۔ وہ
یہ جانتے ہیں کہ سیتا جی بے قصور ہیں، پھر بھی
سماج کی بھلائی کے خیال سے اپنے دل پر
اتنا جبر کر رہے ہیں۔ فرض کے سامنے، رعایا
کی بھلائی کے مقابلہ میں اِنہیں اُس کی بھی
پرواہ نہیں ہے جو اِنہیں دُنیا میں سب سے
عزیز ہے ۔ شاید اپنی بُرائی سُن کر یہ اتنی ہی
مستعدی سے اپنی جان دے دیتے۔.
رامچندر نے ایک لمحہ کے بعد پھر کہا، ’ہاں
اس کے سوا اب کوئی دوسری تدبیر نہیں ہے۔<noinclude></noinclude>
hl7h9154a9i3jkl7yg1mgoomgk9mn0m
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/317
250
13738
35437
34987
2026-07-23T05:23:37Z
Kaur.gurmel
74
35437
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude> آج مجھے ایک دھوبی سے شرمندہ ہونا
پڑ رہا ہے ۔ میں اسے برداشت نہیں
کر سکتا ۔ بھیّا لکشمن، تُم نے بڑے نازک
موقعوں پر میری مدد کی ہے ۔ یہ کام بھی
تمہیں کو کرنا ہوگا۔ مجھ میں سیتا سے بات
کرنے کی ہمت نہیں ہے ۔ میں اُن کے
سامنے جانے کی جرات نہیں کر سکتا۔ اُن
کے سامنے جاکر میں اپنے قومی فرض سے
ہٹ جاؤنگا۔ اس لئے تم آج ہی سیتا جی
کو کسی بہانے سے لے کر چلے جاؤ میں جانتا
ہوں کہ یہ بےرحمی کرتے ہوئے تمہارا دل
تم کو کوسیگا، مگر یاد رکھو فرض کا راستہ کٹھن
ہے۔ جو آدمی تلوار کی دھار پر چل سکے وہی
فرض کے راستہ پر چل سکتا ہے ۔‘
یہ حکم دے کر رامچندر دربار میں چلے گئے۔
لکشمن جانتے تھے کہ اگر آج ہی رام چندر کے حکم
کی تعمیل نہ کی گئی تو وہ ضرور خودکشی کر لینگے،<noinclude></noinclude>
ho27ob7kobiaw1t9vsirqfjhc10zmfu
35438
35437
2026-07-23T05:54:03Z
Kaur.gurmel
74
35438
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude> آج مجھے ایک دھوبی سے شرمندہ ہونا
پڑ رہا ہے ۔ میں اسے برداشت نہیں
کر سکتا ۔ بھیّا لکشمن، تُم نے بڑے نازک
موقعوں پر میری مدد کی ہے ۔ یہ کام بھی
تمہیں کو کرنا ہوگا۔ مجھ میں سیتا سے بات
کرنے کی ہمت نہیں ہے ۔ میں اُن کے
سامنے جانے کی جُرات نہیں کر سکتا۔ اُن
کے سامنے جاکر میں اپنے قومی فرض سے
ہٹ جاؤُنگا۔ اس لئے تم آج ہی سیتا جی
کو کسی بہانے سے لے کر چلے جاؤ میں جانتا
ہوں کہ یہ بےرحمی کرتے ہوئے تمہارا دل
تم کو کوسیگا، مگر یاد رکھو فرض کا راستہ کٹھن
ہے۔ جو آدمی تلوار کی دھار پر چل سکے وہی
فرض کے راستہ پر چل سکتا ہے‘.
یہ حُکم دے کر رامچندر دربار میں چلے گئے۔
لکشمن جانتے تھے کہ اگر آج ہی رام چندر کے حُکم
کی تعمیل نہ کی گئی تو وہ ضرور خودکشی کر لینگے،<noinclude></noinclude>
8pny0xr0sezznej4vtdbhqck0jvtmd2
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/335
250
13760
35394
35013
2026-07-21T04:50:15Z
Charan Gill
46
35394
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کہ کئی سال گُزر گئے .
اُس زمانہ میں کئی طرح کے یگیہ ہوتے تھے۔
اُسی میں ایک اشو میدھ یگیہ بھی تھا ۔ اشو
گھوڑے کو کہتے ہیں ۔ جو راجہ یہ حوصلہ رکھنا
تھا کہ وہ سارے ملک کا مہاراجہ ہو جاے،
اور سبھی راجے اُس کے فرماتگزار بن جائیں ،
ہ ایک گھوڑے کو چھوڑ دیتا تھا ۔ گھوڑا چاروں
طرف گھومتا تھا ۔ اگر کوئی راجہ اُس گھوڑے کو
پکڑ لیتا تھا تو اس کے معنی یہ ہوتے تھے کہ
اُسے اُس راجہ کا تابعدار بننا منظور نہیں ۔ تب
لڑائی سے اس کا فیصلہ ہوتا تھا ۔ راجہ رامچندر
کی طاقت اور سلطنت اتنی بڑھ گئی کہ اُنہوں
نے اشو میدھ یگیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ دور دور
کے راجاؤں، رشیوں، عالموں کے پاس نوید
بھیجے گئے ۔ سگریو، بھھیشن ، انگر، سب اُس
میں شریک ہونے کے لئے آ پہنچے ۔ رشی
والمیک کو بھی نوید ملا ۔ وہ تو اور گمش<noinclude></noinclude>
5go66je49chmbb2th8u7z96dxeznr5h
35395
35394
2026-07-21T05:06:36Z
Tamanpreet Kaur
81
/* پروف خوانی شدہ */
35395
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>کہ کئی سال گُزر گئے .
اُس زمانہ میں کئی طرح کے یگیہ ہوتے تھے۔
اُسی میں ایک اشو میدھ یگیہ بھی تھا ۔ اشو
گھوڑے کو کہتے ہیں ۔ جو راجہ یہ حوصلہ رکھتا
تھا کہ وہ سارے ملک کا مہاراجہ ہو جاے،
اور سبھی راجے اُس کے فرمانگُزار بن جائیں ،
وہ ایک گھوڑے کو چھوڑ دیتا تھا ۔ گھوڑا چاروں
طرف گھومتا تھا ۔ اگر کوئی راجہ اُس گھوڑے کو
پکڑ لیتا تھا تو اس کے معنی یہ ہوتے تھے کہ
اُسے اُس راجہ کا تابعدار بننا منظور نہیں ۔ تب
لڑائی سے اس کا فیصلہ ہوتا تھا ۔ راجہ رامچندر
کی طاقت اور سلطنت اتنی بڑھ گئی کہ اُنہوں
نے اشو میدھ یگیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ دور دور
کے راجاؤں، رشیوں، عالموں کے پاس نوید
بھیجے گئے ۔ سگریو، بھھیشن ، انگد، سب اُس یاگیا
میں شریک ہونے کے لئے آ پہنچے ۔ رشی
والمیک کو بھی نوید ملا ۔ وہ تو اور گمش<noinclude></noinclude>
n9294rshwvtjv931w8s1qqzrm9qh1cc
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/336
250
13761
35429
35014
2026-07-22T08:45:57Z
Tamanpreet Kaur
81
/* پروف خوانی شدہ */
35429
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>ساتھ آگئے ۔ یگیہ کی بڑی دھوم دھام سے
تیاریاں ہونے لگیں ۔ مہمانوں کی تفریح کے لئے
طرح طرح کے سامان کئے گئے تھے ۔ کہیں
پہلوانوں کے دنگل ھے ، کہیں راگ رنگ کی
مجلسیں ۔ مگر جو لطف لوگوں کو تو اور کش کے
منہ سے رام چندر کی چرچا سُننے میں آتا تھا
وہ اور کسی بات میں نہ آتا تھا ۔ دونو لڑکے
سر ملا کر اتنے پیارے انداز سے یہ نظم
گاتے تھے کہ سُننے والے محو ہو جاتے تھے ۔
چاروں طرف اُن کی واہ واہ بھی ہوئی تھی ۔
رفتہ رفتہ رانیوں کو بھی اُن کا گانا سُننے کا
شوق پیدا ہوا ۔ ایک آدمی دونو برہمچاریوں
کو رنو اس میں لے گیا ۔ وہاں تینوں بڑی را نیاں
اُن کی تینوں بہو میں ۔ اور بہت سی عورتیں
بیٹھی ہوئی تھیں ۔ رام چندر بھی موجود تھے۔
ان لڑکوں کی لمبی لمبی زلفیں، جنگل کی
صحت بخش ہوا سے نکھرا ہوا سرخ رنگ اور<noinclude></noinclude>
4019i2kxsklhmtkxb5oajg628xu5nl2
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/337
250
13762
35435
35015
2026-07-23T05:01:58Z
Tamanpreet Kaur
81
/* غیر پروف خوانی شدہ */
35435
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>خوبصورت چہرہ دیکھ کر سب کے سب دنگ ہو
گئے ۔ دونو کی صورت رامچندر سے بہت
مِلتی تھی۔ وہی اونچی پیشانی تھی، وہی لمبی
ناک، وہی چوڑا سینہ - جنگل میں ایسے لڑکے
کہاں سے آگئے ، سب کو یہی تعجُّب ہو رہا
تھا ۔ کوسلیا دل میں سوچ رہی تھیں رام چندر
کے لڑکے ہوتے تو وہ بھی ایسے ہی ہوتے۔
جب لڑکوں نے نظم گانا شروع کیا تو سب کی
آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ لڑکوں کا لہجہ
جتنا پیارا تھا اُتنی ہی پیاری اور دل کو ہِلا
دینے والی نظم تھی ۔ گانا سِننے کے بعد رامچندر
نے بہت چاہا کہ ان لڑکوں کو کچھ انعام دیں۔
مگر اُنہوں نے لینا قبول نہ کیا ۔ آخر انہوں نے
پوچھا تم دونو کو گانا کس نے سکھایا اور تم
کہاں رہتے ہو؟
لو نے کہا ۔ ہم لوگ رشی والمیک کے آشرم
میں رہتے ہیں ۔ اُنہیں نے ہمیں گانا سکھایا<noinclude></noinclude>
eh830n9ayodl445ek1rb0n2k23q59th
35436
35435
2026-07-23T05:08:47Z
Tamanpreet Kaur
81
/* پروف خوانی شدہ */
35436
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>خوبصورت چہرہ دیکھ کر سب کے سب دنگ ہو
گئے ۔ دونو کی صورت رامچندر سے بہت
مِلتی تھی۔ وہی اونچی پیشانی تھی، وہی لمبی
ناک، وہی چوڑا سینہ - جنگل میں ایسے لڑکے
کہاں سے آگئے ، سب کو یہی تعجُّب ہو رہا
تھا ۔ کوسلیا دل میں سوچ رہی تھیں رام چندر
کے لڑکے ہوتے تو وہ بھی ایسے ہی ہوتے۔
جب لڑکوں نے نظم گانا شروع کیا تو سب کی
آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ لڑکوں کا لہجہ
جتنا پیارا تھا اُتنی ہی پیاری اور دل کو ہِلا
دینے والی نظم تھی ۔ گانا سِننے کے بعد رامچندر
نے بہت چاہا کہ ان لڑکوں کو کچھ انعام دیں۔
مگر اُنہوں نے لینا قبول نہ کیا ۔ آخر اُنہوں نے
پُوچھا 'تم دونو کو گانا کِس نے سِکھایا اَور تم
کہاں رہتے ہو'؟
لو نے کہا ۔ 'ہم لوگ رشی والمیک کے آشرم
میں رہتے ہیں ۔ اُنہیں نے ہمیں گانا سِکھایا<noinclude></noinclude>
i0s5h79q1zi93u3jc04op1li13o69bg
اشاریہ:1901 Safarnama-Roam-O-Misr-O-Shaam urdu.pdf
252
13780
35414
35158
2026-07-22T07:06:27Z
Taranpreet Goswami
90
35414
proofread-index
text/x-wiki
{{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template
|Type=book
|Title=سفرنامہ روم ؤ میسر ؤ شام
|Language=ur
|Volume=
|Author=Muhammad Shibli Nomani
|Translator=
|Editor=
|Illustrator=
|School=
|Publisher=Qoumi Press
|Address=Delhi
|Year=1901
|Key=
|ISBN=
|OCLC=
|LCCN=
|BNF_ARK=
|ARC=
|DOI=
|Source=pdf
|Image=1
|Progress=C
|Transclusion=no
|Validation_date=
|Pages=<pagelist
1="Cover"
2to4="فہرست" />
|Volumes=
|Remarks=
|Width=
|Header={{rh||{{{pagenum}}}}}
|Footer=
|tmplver=
}}
p0d3u0pa87mc3uur6d4uas8rkvlrl89
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/82
250
13826
35396
2026-07-21T05:43:11Z
BalramBodhi
60
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”پرورش کنا طهمورت دیوبند کا دین کا قید کرنا حجامت شہید کے رشتے ۔ ستم کا اسیت زور سے تنگ آکر اسکو خدا کے پاس امانت رکھی انا اور پر شراب کی لڑائی میں واپس لے لیتا۔ اس کا سیکون دیدن کو مارنا دو مغلوب کرنا ۔ اس کے رخش کا شیرون کو بلاک کرنا دور ہونا طلس...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35396
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>پرورش کنا طهمورت دیوبند کا دین کا قید کرنا حجامت شہید کے رشتے ۔ ستم کا اسیت زور
سے تنگ آکر اسکو خدا کے پاس امانت رکھی انا اور پر شراب کی لڑائی میں واپس لے لیتا۔
اس کا سیکون دیدن کو مارنا دو مغلوب کرنا ۔ اس کے رخش کا شیرون کو بلاک
کرنا دور ہونا
طلسم ٹوٹا اور اس طرح کے ہزار دن انسان مثل قلعہ امیر مزہ اور بوستان خیال کے
امین درج سے جو تمام دنیا کے آدمیون کیمون اور ایشیا او وصی شما میشی ست مرغوب
کا طالعہ
رہے ہیں ان باتوں اور زیادہ مقبول اعلان کردیا تھا۔
مولانا روم کی شنی اس زمانہ می لکھی گئی تی جب کہ بارے ایچ بین الصوت اور معرفت
کا تسلا روز بیز بڑھتاجاتا تھا۔ فین محی الدین ابن العربی - شیخ حمد الدین، تونوی شیخ شهاب ادیان
سهروردی - شیخ عار الدول سمنانی وغیر م کی تصنیفات قریب اور شاعری میں تصاون
کی روح پھونک رہی تھیں شعر میں حقیقت اور معرفت کے مضامین تغزل کی نسبت
زیادہ جی لبھانے لگے تھے ۔ شیخ اکبر اور ابن فارض کے دیوانوں کے سامنے متبنی اور
با تمام کی تشہر مین سے مر معلوم ہونے لگی تھیں۔ حدیقہ اور منطق الطیر نے رد کی اور
عفری کا کام نظروں سے گرادیا تھا۔ ایسے وقت میں شادی معنوی کا جوکہ سراسر نقوف
اور حقائق و معارت سے بری ہوئی ہے مقبول ہونا ایسا ہی ضروری امر تھا جیسے غزنویہ
اور سلاجقہ کے عہد میں شاہنامہ کا اور معنویہ
کے عہدین جارحیدری کا۔ اس کے سوا نشنوی
امین بھی مس با جیب و غریب قصے اور فوق المادة نقلین، اور تمشیدن جوانسان
کو بالطبع
مرغوب بین درج متین اور امین شعری روایت کے اسرار بیان کیے گئے تھے ۔ پس منوری<noinclude></noinclude>
k0qldg0d5ibxj0611y7q3es5g32xnz2
35397
35396
2026-07-21T06:50:50Z
BalramBodhi
60
35397
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>پرورش کرنا۔ طہمورث دیوبند کا دیوان کا قید کرنا۔ جام جمشید کے کرشمے۔ رستم کا اپنے زور سے تنگ آ کر اُسکو خدا کے پاس امانت رکہوانا اور پہر سُہراب کی لڑائی مین واپس لے لینا۔اُس کا سینکڑون دیوؤن کو مارنا اور مغلوب کرنا۔ اس کے رخش کا شیرون کو بلاک کرنا دور ہونا طلسم ٹوٹا اور اس طرح کے ہزار دن انسان مثل قصہ امیر حمزہ اور بوستان خیال کے اُسمین درج تہے جو تمام دنیا کے آدمیون کو اموماً اور ایشیا والون کو خصوصاً ہمیشہ سے مرغوب رہی ہین۔ اِن باتون نے شاہنامہ کواور بہی زیادہ مقبول اور عام پسند کردیا تہا۔
مولانا روم کی مثنوی اُس زمانہ مین لکہی گئی تہی جبکہ ہمارے لیٹرچر مین تصوف اور معرفت کا تسلت روز بروز بڑھتا جاتا تھا۔ شیخ محی الدین ابن العربی۔ شیخ صدرالدین۔ قونوی۔ شیخ شہاب ادیان
سُہروردی۔ شیخ علاء الدولہ سمنانی وغیر حم کی تصنیفات مذہب اور شاعری مین تصوف کی روح پہونک رہی تہین شعر مین حقیقت اور معرفت کے مضامین تغزل کی نسبت زیادہ جی لبہانے لگے تہے۔ شیخ اکبر اور ابن فارض کے دیوانون کے سامنے متبنی اور ابو تمام کی تشبیہین بے مزا معلوم ہونے لگی تہیں۔ حدیقہ اور منطق الطیر نے ردوکی اور عنصری کا کلام نظرون سے گرا دیا تھا۔ ایسے وقت مین مسنوی معنوی کا جو کہ سراسر تصوف اور حقائق و معارف سے بری ہوئی ہے مقبول ہونا ایسا ہی ضروری امر تھا جیسے غزنویہ اور سلاجقہ کے عہد مین شاہنامہ کا اور صفویّہ کے عہد مین حملہ حیدری کا۔ اس کے سوا مثنوی مین بہی سدہا اجیب و غریب قصے اور فوق المادة نقلین اور تمشیلن جو انسان
کو بالطبع مرغوب ہین درج تہین اور اُنمین شریعت اور طریقت کے اسرار بیان کیے گئے تہے۔ پس مثنوی<noinclude></noinclude>
aahu408qiufijiu08p8drr4u0t2jdmw
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/83
250
13827
35398
2026-07-21T06:51:18Z
BalramBodhi
60
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”مین شعر اور تصوف کے علا راستہ کو دوا اور راہب کی عظمت ہی شامل تھی۔ یہی باعث ہے کہ سولی نا روم کے ان مین او نیست پیغمر سے وارد کتاب کا اور مشتری کے حق میں بو بہت قرآن در زبان پمپ لوی کا کہا گیا ہے۔ خواجہ ساخت کے دیوان بین عشق و جوانی اور رندی اور مش...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35398
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>مین شعر اور تصوف کے علا راستہ کو دوا اور راہب کی عظمت ہی شامل تھی۔ یہی باعث ہے
کہ سولی نا روم کے ان مین او نیست پیغمر سے وارد کتاب کا اور مشتری کے حق میں بو بہت
قرآن در زبان پمپ لوی کا کہا گیا ہے۔
خواجہ ساخت کے دیوان بین عشق و جوانی اور رندی اور مشاہدہ بازی کے مضامین کے سوال
جوکہ ہمیشہ سے دنیا میں مرغریب رہے ہیں اورانسان کے دل کویر در اپنی طرف کھینچتے ہیں اور
کوئی مضمون ہی رہتا ۔ اور اس خیال سے کہ اسمیں عشق حقیقی کی واردات اور کیفیات
کتابوں
کا اسقدر مقبول ہونا کچھہ زیادہ تعجب کی باستاد تھی۔
گلستان میں ان دیہ میں سے کوئی وجہ بنتی نہ اس مین رزم تو نہ عجیب و غریب
افسانے تھے ۔ فوق العادۃ سے ۔ حقائق ومعارفت - شریعیت کے اسرار طریقت
کے نکات تغزل عاشقانه - نقول عارفانه بلکه اسکی بنیا د اخلاق یابند و موت پر رکھی
گئی تھی جس سے زیادہ کوئی پیکا اور بے نمک مضمون خاصر ارسی را پیرین بینین پایا جاتا پند
و غفلت جبتک قصہ یا مالک کے پیرایہ مینہ اور کی جائے اکثر مخاطب کی دہشت اور تقریکی
باعث ہوتی ہے۔ کیا ک انسان کی طبیعت میں یہ بات ودیعت کی گئی ہے کہ کہا نصیحتون )
سے متنفراہم چین نصیحتوں سے متاثر ہوتا ہے۔ پس گلستان کا استقدر مقبول ہونا سوا
اس کے کہ اسکی مصاحت و یا هفت در این میان اور بلاف بیا کو نام فارسی انیچر مین مثلا امسال
لا جواب تسلیم کیا جائے اور کسی وجہ محمول نہیں ہو سکتا۔<noinclude></noinclude>
pq5solqgmmqr1hxfsjhzot430k31fjb
35399
35398
2026-07-21T07:03:40Z
BalramBodhi
60
35399
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>مین شعر اور تصوف کے علاوہ قصہ کا لطف اور مزہب کی عظمت بہی شامل تہی۔ یہی باعث ہے کہ مولانا روم کے حق مین " نیت پیغمبر ولے وار و کتاب" اور مثنوی کے حق مین " بت قرآن در زبان پہلوی" کہا گیا ہے۔
خواجہ ساخت کے دیوان بین عشق و جوانی اور رندی اور مشاہدہ بازی کے مضامین کے سوال
جوکہ ہمیشہ سے دنیا میں مرغریب رہے ہیں اورانسان کے دل کویر در اپنی طرف کھینچتے ہیں اور
کوئی مضمون ہی رہتا ۔ اور اس خیال سے کہ اسمیں عشق حقیقی کی واردات اور کیفیات
کتابوں
کا اسقدر مقبول ہونا کچھہ زیادہ تعجب کی باستاد تھی۔
گلستان میں ان دیہ میں سے کوئی وجہ بنتی نہ اس مین رزم تو نہ عجیب و غریب
افسانے تھے ۔ فوق العادۃ سے ۔ حقائق ومعارفت - شریعیت کے اسرار طریقت
کے نکات تغزل عاشقانه - نقول عارفانه بلکه اسکی بنیا د اخلاق یابند و موت پر رکھی
گئی تھی جس سے زیادہ کوئی پیکا اور بے نمک مضمون خاصر ارسی را پیرین بینین پایا جاتا پند
و غفلت جبتک قصہ یا مالک کے پیرایہ مینہ اور کی جائے اکثر مخاطب کی دہشت اور تقریکی
باعث ہوتی ہے۔ کیا ک انسان کی طبیعت میں یہ بات ودیعت کی گئی ہے کہ کہا نصیحتون )
سے متنفراہم چین نصیحتوں سے متاثر ہوتا ہے۔ پس گلستان کا استقدر مقبول ہونا سوا
اس کے کہ اسکی مصاحت و یا هفت در این میان اور بلاف بیا کو نام فارسی انیچر مین مثلا امسال
لا جواب تسلیم کیا جائے اور کسی وجہ محمول نہیں ہو سکتا۔<noinclude></noinclude>
hkytajd1vaca2bnqdr6nr67vbys0g4i
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/84
250
13828
35406
2026-07-22T06:48:02Z
Charan Gill
46
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”گلستان کی عظمت و بزرگی زیادہ تر اس بات معلوم ہوتی ہے کہ بندر غیر زبانون کا لباس اس کتاب کو پہنایا گیا ہے ایسا فارسی زبان کی کسی کتاب کو نصیب نہیں ہوا ۔ خو و شیخ ہی کے زمانہ میں گھستان کے اکثر قطاعات و ابیات ہند مقبول اور زبانوں پر جاری ہو گئے تے ک...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35406
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>گلستان کی عظمت و بزرگی زیادہ تر اس بات معلوم ہوتی ہے کہ بندر غیر زبانون کا لباس اس کتاب کو پہنایا گیا ہے ایسا فارسی زبان کی کسی کتاب کو نصیب نہیں ہوا ۔ خو و شیخ ہی کے زمانہ میں گھستان کے اکثر قطاعات و ابیات ہند مقبول اور زبانوں پر جاری ہو گئے تے کا اس زائد کے فضل اور اور اسکے کر شاعری نظمیں ترجمہ کرکے اپنا دوران اور قدرت نظم دکھاتے تھے ۔ چنانچہ ادیب نامدار فضل الله بن عبد اللہ شیرازی نے نہیں جو کہ شیخ کے اخیر مان مین تاینی مشهور تاریخ وصاف بین گلستان کے دو قطعون کا ترجمہ عربی میں نظر کیا ہے تو کہ مع اصل قطعات کے ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔
{{center|'''قطعه سعدی'''}}
گلی خوشبوی در حمام روزی
رسید از دست محبوبی به دستم
بدو گفتم که مُشکی یا عَبیری
كه از بوی دل آویز تو مستم
بگفتا من گِلی ناچیز بودم
ولیكن مدتی با گُل نشستم
کمال همنشین در من اثر کرد
وگرنه من همان خاکم که هستم
گئے خوشبو کے دور حام روزی رسید از دست محبوبے بدستم بعد گفتم که مشکی با میری کیا ہوئے دل ویز از مستم بگفتا من گلے ناچیز بودم ولیکن دستی با گل نشستم جمال بنشین در من شکار اگر من بهسان خاکر که هستی ترجمه عربیه إذا هو في الحمام طين مكتب توصل من ايدى كرير الى يدى
فقلت له هل انت متاك وعنابر فاترين ريان سكران معتاب احجاب بانى كنت طيبا مذ لا مجالسب للودد المجنى بمعهد فاش في خلقي كم المجالي و الا انها التراب الذي كنت في بد<noinclude></noinclude>
gnwi6mnrc70gv5b24i37vgkou4zc03r
35430
35406
2026-07-22T12:25:38Z
BalramBodhi
60
35430
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>گلستان کی عظمت اور بزرگی زیادہ تر اس بات سے معلوم ہوتی ہے کہ جسقدر غیر زبانون کا لباس اس کتاب کو پہنایا گیا ہے ایسا فارسی زبان کی کسی کتاب کو نصیب نہین ہوا۔ خود شیخ ہی کے زمانہ مین گلستان کے اکثر قطاعات و ابیات اسقدر مقبول اور زبانوں پر جاری ہو گئے تہے کہ اُس زمانہ کے فضلا اور ادوا اُسکے اکسر اشعار عربی نظم مین ترجمہ کرکے اپنا زورطبع اور قدرت نظم دکہاتے تہے۔ چنانچہ ادیب نامدار فضل الله بن عبداللہ شیرازی نے بہی جو کہ شیخ کے اخیر زمانہ مین تہا اینی مشهور تاریخ وصاف مین گلستان کے دو قطعون کا ترجمہ عربی مین نظم کیا ہے جو کہ مع اصل قطعات کے ذیل مین درج کیا جاتا ہے۔
{{center|'''قطعه سعدی'''}}
گِلے خوشبوے در حمام روزے
رسید از دست محبوبے بدستم
بدے گفتم کہ مُشکے یا عبیرے
كہ از بوئ دل آویز تو مستم
بگفتا من گلے ناچیز بودم
ولیكن مدتے با گُل نشستم
جمال ہمنشین در من اثر کرد
وگرنہ من ہمان خاکم کہ ہستم
گئے خوشبو کے دور حام روزی رسید از دست محبوبے بدستم بعد گفتم که مشکی با میری کیا ہوئے دل ویز از مستم بگفتا من گلے ناچیز بودم ولیکن دستی با گل نشستم جمال بنشین در من شکار اگر من بهسان خاکر که هستی ترجمه عربیه إذا هو في الحمام طين مكتب توصل من ايدى كرير الى يدى
فقلت له هل انت متاك وعنابر فاترين ريان سكران معتاب احجاب بانى كنت طيبا مذ لا مجالسب للودد المجنى بمعهد فاش في خلقي كم المجالي و الا انها التراب الذي كنت في بد<noinclude></noinclude>
ouzn9vwocsbxa6l78nxox3x04gkgm8f
35433
35430
2026-07-22T12:33:04Z
BalramBodhi
60
35433
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>گلستان کی عظمت اور بزرگی زیادہ تر اس بات سے معلوم ہوتی ہے کہ جسقدر غیر زبانون کا لباس اس کتاب کو پہنایا گیا ہے ایسا فارسی زبان کی کسی کتاب کو نصیب نہین ہوا۔ خود شیخ ہی کے زمانہ مین گلستان کے اکثر قطاعات و ابیات اسقدر مقبول اور زبانوں پر جاری ہو گئے تہے کہ اُس زمانہ کے فضلا اور ادوا اُسکے اکسر اشعار عربی نظم مین ترجمہ کرکے اپنا زورطبع اور قدرت نظم دکہاتے تہے۔ چنانچہ ادیب نامدار فضل الله بن عبداللہ شیرازی نے بہی جو کہ شیخ کے اخیر زمانہ مین تہا اینی مشهور تاریخ وصاف مین گلستان کے دو قطعون کا ترجمہ عربی مین نظم کیا ہے جو کہ مع اصل قطعات کے ذیل مین درج کیا جاتا ہے۔
{{center|'''قطعه سعدی'''}}
{{Block center|<poem>گِلے خوشبوے در حمام روزے
رسید از دست محبوبے بدستم
بدے گفتم کہ مُشکے یا عبیرے
كہ از بوئ دل آویز تو مستم
بگفتا من گلے ناچیز بودم
ولیكن مدتے با گُل نشستم
جمال ہمنشین در من اثر کرد
وگرنہ من ہمان خاکم کہ ہستم</poem>}}
ترجمه عربیه
{{center|<poem>'''إذا هو في الحمام طين مكتب توصل من ايدى كرير الى يدى
فقلت له هل انت متاك وعنابر فاترين ريان سكران معتاب احجاب بانى كنت طيبا مذ لا مجالسب للودد المجنى بمعهد فاش في خلقي كم المجالي و الا انها التراب الذي كنت في بد'''
</poem>}}<noinclude></noinclude>
6rr1phygsa2lqv14klzalpypimmp99y
صفحہ:1901 Safarnama-Roam-O-Misr-O-Shaam urdu.pdf/9
250
13829
35408
2026-07-22T07:01:38Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”سفر نامه روم و مصر و شام نے کہا کہ عیہ مائیوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ اگرچہ واقعہ محض غلط ہے میں خود جامع ازہرمیں ایک مہینے زیادہ مقیم رہا او میرے عیسائی انباہتے نکالت مسجدی میں مجھ سے ملنے آتے تھے لیکن چونکہ یورپ میں مسلمانوں کا تعصب او...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35408
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|(5)}}</noinclude>سفر نامه روم و مصر و شام
نے کہا کہ عیہ مائیوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ اگرچہ واقعہ محض غلط ہے
میں خود جامع ازہرمیں ایک مہینے زیادہ مقیم رہا او میرے عیسائی انباہتے نکالت
مسجدی میں مجھ سے ملنے آتے تھے لیکن چونکہ یورپ میں مسلمانوں کا تعصب او
تنگ خیالی علوم متعارفہ کے قری سے ۔ اُن صاحب
کو اپنے رہنما کی بات کے یقین کرنے
میں کیو کر تامل ہو سکتا تھا ؟
طرہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے عام شاہراہ سے الگ ہو کر کچھ کہا یا لکھا تو یور کے
نقار خانے میں اس کی آواز طوطی کی آواز بھی جاتی ہے ۔ ایک انگلش شہزادی نے بند ہولہ
بریک قسطنطنی میں رها کرد و از دو ساله حکومت عید بھید ثانی کے نام سے جو کتاب لکھتی ہے
اگر چہ اس کے اعتبار کے لئے مصنفہ کی علمی قابلیت پندرہ سو برس
کا تجربہ دریافت
حالات کے صحیح و سال به تمام قرائن موجود تھے لیکن چونکہ وہ ترکوں کی عیب گوئی ہیں
یورپ کی ہم زبان نہ تھی اس
کو استناد اور اعتماد کا درجہ نہ حاصل ہوسکا۔ ہم نے تعلیم یا فتنہ
اشخاص کو اس کی نسبت یہ کہتے سنا ہے کہ عجیب نہیں یہ کتاب فرضی مصنف کے نام سے
خود ترکوں نے لکھی ہو یا اس انگلش شہزادی کو سلطانی الغابات نے ایسی کتاب
لکھنے پر
مجبور کیا ہو لیکن ہیں کتاب اگر یزرگوں کے معاہ میں ہوتی تو ان اشخاص کے نزدیک )
اُس
کا ہر حرف قطعی ویقینی ہوتا پر و فیسر و میری نے اپنے محققانہ تجربے سے ترکوں کی
تہذیب شایستگی پرجو مضامین لکھے وہ بھی ایسی وجہ سے بے اثر رہے
کہ پروفیسر مذکور
نے ترکوں کی موجودہ علمی ترقی کا اعتراف کیا تھا
ترکوں کی نسبت اگر چہ یو بچے عاملہ کو کی یہ حالت ہے لیکن ہم کو موقع کے لگا
سے ترکی کے ناموں کا اور پر زور کرنا چاہئے یہ کیوں کی تاریخی فین است سرمایہ بھی بہت کچھ نہیں سفر
تاریخی سال بھی ایک پر ہے لیکن یہ مقدر پہلے ہی تو غلطیوں کے احتمالات سے مملو ہے ۔
ایک بڑی غلطی جو عمو کا سفر نامہ لکھنے والوں کو واقع ہوتی ہے جزئیات کلیات<noinclude></noinclude>
ir21zgn380xojbpg9lu4o7x17ucxfsd
صفحہ:1901 Safarnama-Roam-O-Misr-O-Shaam urdu.pdf/10
250
13830
35409
2026-07-22T07:01:54Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”سفرنامه روم و مصر و شام " کا قائم کرنا ہے ۔ فرمیں انسان کو چین اشخاص سے سابقہ پڑتاہت وہ اُن کے اخلاق عادات - خیالات سے تمام قوم کی نسبت عام رائے قائم کر لیتا ہے۔ حالانکہ مکن ہے کہ وہ امورا انہیں چند اشخاص کے ساتھ مخصوص ہوں۔ اسی طرح ہر واقعہ سے وہ ا...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35409
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|(5)}}</noinclude>سفرنامه روم و مصر و شام
"
کا قائم کرنا ہے ۔ فرمیں انسان کو چین اشخاص سے سابقہ پڑتاہت وہ اُن کے اخلاق
عادات - خیالات سے تمام قوم کی نسبت عام رائے قائم کر لیتا ہے۔ حالانکہ مکن ہے کہ
وہ امورا انہیں چند اشخاص کے ساتھ مخصوص ہوں۔ اسی طرح ہر واقعہ سے وہ ایک عام
نتیجہ نکالنا چاہتا ہے اور واقعہ کے خاص اسباب
کی جستجو میں نہ وہ اپنا وقت صرف کرنا چاہتا
ہے نہ اس کو اس قدر فرصت مل سکتی ہے ۔
تعالی کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ہ شخص کئی ملک کا سفر کرتا ہے آپکی نسبت پہلے
سے اس کے خیالات
دوستانہ یا مخالفانہ ہوتے ہیں۔ وہاں پہونچر اول اول جو کچھ وہ کھیتیاں
او گنتا ہے وہ محض سرسری ہوتا ہے۔ اور چونکہ ایسی جمالی واقفیت استنباط نتائج کے لیئے
کافی نہیں ہوتی اور وہ نتجہ کے قائم کرنے میں دیر تک انتظار نہیں کرسکتا۔ اس لئے وہ
ہر واقعہ کے ساتھ قیاسات
کو دخل دیتا جاتا ہے۔ ابن قیاسات کے وقت دو گن طن
یا شو نظن جو پہلے سے اُسکے دل میں وجود تھا چپکے چپکے اپنا کام کرتا ہے اور اس کو خیر
ایک نہیں ہوتی۔ اس قسم کی غلطی کا احتمال اگر چہ دنیا کی تمام قوموں سے متعلق ہے لیکن ہو تا
والوں
کو اس میں ایک خاص ترجیح حاصل ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ استنباط نتائجے میں
یورپ والوں کو جو بے مہری ہے۔ اور کسی قوم کو نہیں ہے۔ اس کا اثر ہے کہ دور کا ایک
عام سیاح یا لپیٹیشین اتفاق سے ہندوستان میں آنکلتا ہے، تو صرف ہفتہ دو ہفتہ کے تربیت
کی بنا پر اور پکنے انتہاروں اور میگنر بنوں میں اس حوالے کے ساتھ بڑے بڑے ارمکل شائع
کرتا ہے کہ گویا مہندوستان کی معاشرت و تمدن کے تمام راز اس پر کھل گئے ہیں ؟
ایک اور بڑا سبب یہ ہے کہ تیات کو چونکہ حالات کے دریافت کا نہایت شوق ہوتا ہے
اس لئے وہ ہرشخص سے جواس
کو نجاتا ہے کچھ نہ کچھ معلومات کا میرا یہ بیل کرنا چاہتا ہے
اس تقسیم میں جو ان تحقیقات
کی کہ و شخص ثقہ ہے یا عمر نفقہ، روشن ضمیر سے یا متعمد تقیق
نظر ہے یا ظاہر میں کچھ پرواہ نہیں
کرتا اور کتا بھی چاہیے تو کامیابی نہیں ہو سکتی۔ پورا ہے<noinclude></noinclude>
50257edllrznts9ssf5unwitrhgdhs7
صفحہ:1901 Safarnama-Roam-O-Misr-O-Shaam urdu.pdf/11
250
13831
35410
2026-07-22T07:02:07Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”الروم مصر والشام اس باب میں اور ہی سے انتنیاں ہیں۔ اکثر یو میں ستیاں توقفت امید کا سفر کرتے ہیں انا بو علی اور غلطہ سے ہوا لموں میں ان کی امیر نے کا اتفاق ہوتا ہے وہ یہاں کہاں تباہی چاہتے ہیں ایک گیا یا در پنہاں اوہ کے ساتھ ہوتا ہے جو نہ صریت ان ک...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35410
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|(5)}}</noinclude>الروم مصر والشام
اس باب میں اور ہی سے انتنیاں ہیں۔ اکثر یو میں ستیاں توقفت امید کا سفر کرتے ہیں انا
بو علی اور غلطہ سے ہوا لموں میں ان کی امیر نے کا اتفاق ہوتا ہے وہ یہاں کہاں تباہی
چاہتے ہیں ایک گیا یا در پنہاں اوہ کے ساتھ ہوتا ہے جو نہ صریت ان
کو عمارات اور مقامات
کی سیر کراتا ہے۔ بلکہ ان کے تمام سوالات کا جو موقع موقع وہ پوچھتے جاتے ہیں جواب تیا
جاتا ہے یہ گانڈ ھوگا عیسائی ہوتے ہیں اور : پی۔ دو روپیہ روزانہ اُن کی اجرت ہوتی ہے ان
گانڈوں
کی معلوات میں قسم کی ہو سکتی ہیں نہ شخص خود اس کا اندازہ کر سکتا ہے ؟
فاطمہ خانم نے پنی کتا ہے دیا چہ میں لکھا ہے کہ یورپ
کی منز خانو نیں بہت سے
مجھ کو ملنے کا اتفاق ہوا۔ جب ترکی خاتونوں کے متعلق واقعات کے طور پر کچھ بیان
کرتی تھیں تو مجھ کو گمان ہوتا تھا کہ سیکسی اور قوم کا تذکرہ ہے۔ یا ناول کے طور کے تھے
ہیں۔ فاطمہ خانم نے اس پر رائے دی ہے کہ ان بے چاروں کا کچھ قصور نہیں گائی جو
کچھ سیاحوں سے کم دیتے ہیں اُن کو یقین کرنا پڑا تا ہے یا ہمارے دوست جو جارج از مربی
سیر سے محروم رہ گئے تھے ان
کو بھی گائیڈ ہی نے دھوگا دیا بجھتا ہے
فرض یورپ کی تحریروں اور سفر ناموں سے میرے سفر نامہ کا معاف ہوتا نارمی
بات تھی ۔ اگر چہ اس اختلات کے اسباسکے بیان کرتے ہیں اس قدر اطناب کہ سجائے
خود ایک مستقل مضمون پنجائے موزون نہ تھا بے
ترکی سفر سے جو اثر میرے دل پر ہوا۔ اس کا یہاں ظاہر کرنا چنداں ضرور نہیں
اس سفر نامہ کے بڑھنے سے خود اس کا پتہ لگ سکتا ہے۔ البتہ اس قدر کہنا ضروری ہے کہ
ی تعلیم ان خاتون ہے وائی فائی ترکی کے مادر و سی ای نان بر این است مامانی سے رو
ریکی اور کی نیت تقسیم کی نا معلومات اہل ہیں۔ انکی اصلی کے لئے اس نے ناول کے طور پر ایک کتاب لکھی ہے
این کتاب عرب میں جمی ہوئی ہے اورامریکہ کی خارش میں پیش ہو رہاں کے اہتمام سے اگریزی میں<noinclude></noinclude>
45au4u9096plhjwcm9zkr3o34wm8t8r
صفحہ:1901 Safarnama-Roam-O-Misr-O-Shaam urdu.pdf/12
250
13832
35411
2026-07-22T07:04:29Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”سلطنت کی نہیں سے اگر قطع نظر کی جانے کو سینوں کی حالت ہاں بھی کچھ زیاد و مسرت اور اطمینان کے قابل نہیں ہے۔ بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ بہت سی باتوں میں ہندوستان کے مسلمانوں کے قریب قری سے جنت سے اُن کو کچھ واسطہ نہیں رستجامت میں ان کا بہت کم ریقہ ہے مع...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35411
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|(5)}}</noinclude>سلطنت کی نہیں سے اگر قطع نظر کی جانے کو سینوں کی حالت ہاں بھی کچھ زیاد و مسرت اور
اطمینان کے قابل نہیں ہے۔ بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ بہت سی باتوں میں ہندوستان کے
مسلمانوں کے قریب قری سے جنت سے اُن کو کچھ واسطہ نہیں رستجامت میں ان کا بہت کم
ریقہ ہے معمولی وکاندار کے یہودی یا عیسائی ہیں۔ پرانی تعلیم نہایت بہتر ہے اور ہوتی
جاتی ہے تبھی تعلیم کے متعلق جوشکایت یہاں ہے وہاں بھی ہے۔ پرانی تہذیب
اور نئی تنہ ہیں میں ابھی تک رقابت ہے اور دونوں سے بلہ کوئی شرکت مزاج پیدا
نہیں ہوا ہے۔ پرانے خیال دانے ابھی تک زمانہ کی رفتار سے بے خبر ہیں۔ نئے مذاق
کے لوگ میں قدر کہتے ہیں کرتے نہیں بہت غیرت جوش - تحزم استغلال کے
بجا ہے کل قام پر من حیث الاغلب افسردگی سی چھائی ہوئی ہے۔ جو شہ ہر حال
ہیں ہے اسی پر قانع ہے۔ موجودہ حالت تو یہ ہے ۔ ولعل الله يحدث بعد فوالله مراد<noinclude></noinclude>
28jedg5v4x0vmpgs3zaods0mvtf8y2n
صفحہ:1901 Safarnama-Roam-O-Misr-O-Shaam urdu.pdf/13
250
13833
35412
2026-07-22T07:04:42Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”سفر کے ارادہ کا سبب سفر کا ارادہ اور آغاز سفر نامه روم و مصر و شام . چن ماہ میں مجھ کو پیروز آن اسلام کا خیال پیدا ہوا اسی وقت پہ خیال بھی آیا۔ کہ ہمارے ملک میں جس قدر تاریخی سرمایہ موجود ہے وہ اس مقصد کے لئے کسی طرح کافی نہیں ہوسکتا یہی خیال تھا ج...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35412
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|(5)}}</noinclude>سفر کے ارادہ کا سبب
سفر کا ارادہ اور آغاز
سفر نامه روم و مصر و شام .
چن ماہ میں مجھ کو پیروز آن اسلام کا خیال پیدا ہوا اسی وقت پہ خیال بھی آیا۔
کہ ہمارے ملک میں جس قدر تاریخی سرمایہ موجود ہے وہ اس مقصد کے لئے کسی طرح کافی نہیں
ہوسکتا یہی خیال تھا جس نے اول اول اس سفر کی تحریک میں پیدا کی کیونکہ یقین تھا کہ
مصر روم میں سلامی تصنیفات
کا جولقی رہ گیا ہے ان سے ایک سیاسیاب تالیف ضرور یار ہوتا ہے۔
اگر چه به عزم مستقل ہو چکا تھا لیکن چند در چند سا ہے دیر ہوتی گئی۔ یہانتک کہ بظاہر اسباب
نا امیدی سی پیدا ہوگئی۔ اور وہ غروم ) ضعیف ساخیال رہ گیا۔ گذشتہ سال میں مجیب اتفاقی
طور پر اس ارادہ کو تحریک اور سترہ کے ساتھ تکمیل ہوئی پچھلے سال میں اکثر بیمار رہا۔ یہانتک
کہ علاج سے تنگ آکر تبدیل آب ہوا کا ارادہ کیا۔ چنانچہ مکان وغیرہ کے بندوبست کے
لئے الموڑہ اور کشمیر میں دوستوں کو متعدد خط لکھے اسی اثناء میں معلوم ہواکہ سر آرنلڈ۔ جو
مدرستہ العلوم کے پروفیسر فلاسفی اور میرے استاد ہیں میں نے ان سے فریج زبان سیکھی ہے)
آج ہی کل لایت جانے والے ہیں وقتا خیال آیا کہ مصر روم کا سفر آب ہوا کی تبدیں ۔
مسٹر آرنلڈ کا ساتھ ۔ اتفاق سے یہ سامان جمع ہو گئے ہیں۔ اس موقع کو ہرگز ہاتھ سے نہیں نیا
چاہئے۔ چنانچہ اسی وقت صاحب موصوف کے پاس گیا ک میں بھی آپکے ساتھ چلتا ہوں انہوں نے
نہایت خوشی ظاہر کی اورنتا یا کہ جھاتی ممکن ہے سفر کے ضروری کا مونہیں تم کو کافی درد و نگاه
اس وقت جہاز کی روانگی کوکل تین چار و باقی تھے لیا ادارہ نے نا تو نہیں ہوئے اور کروں
نے سمجھایاکہ اس جلدی اور نے مر سامانی کے ساتد تا با لباس کونی انشمندی کی بات ہے میں نے کہا ہے
هر چه باداباد من کشتی در آب اند انتم
کالج میں گرمیوں کی تعطیل معمل تین مہینے کی ہوا کرتی ہے مت ملازمت کے لحاظ سے
جمہ کو تین مہینے کی پریولی شخصیت کا حق حاصل تھا۔ اس طرح دونوں کو ملا کر چھ مہینے کی خصت<noinclude></noinclude>
o11hk3fove65vulzg7f8v35o692m47q
صفحہ:1901 Safarnama-Roam-O-Misr-O-Shaam urdu.pdf/14
250
13834
35413
2026-07-22T07:04:53Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”سفر ناله روم و مصر و شام مل گئی اور ۲ اپریل تہرارے کو میں علی گڑھ سے چل کھڑا ہوا۔ مسٹر آر نما اپنے ایک دوست سے ملنے کے لئے ایک دو دن پہلے جھانسی روانہ ہو گئے تھے۔ بھانسی کے اسٹیشن سے ان کا ساتھ ہوا۔ اور تمام راہ برے نشفت و مستمرت سے کئی مستہ آ ٹاٹا...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35413
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|(5)}}</noinclude>سفر ناله روم و مصر و شام
مل گئی اور ۲ اپریل تہرارے کو میں علی گڑھ سے چل کھڑا ہوا۔ مسٹر آر نما اپنے ایک دوست
سے ملنے کے لئے ایک دو دن پہلے جھانسی روانہ ہو گئے تھے۔ بھانسی کے اسٹیشن سے
ان کا ساتھ ہوا۔ اور تمام راہ برے نشفت و مستمرت سے کئی مستہ آ ٹاٹا نے حاجی رحمت
اللہ
بن داؤد کو جو بیٹی کے ایک معزز اور روشن تعمیر تاجر ہیں خدا
کے ذریعے سے اپنے آنے
کی اطلاع دیدی تھی جس میں میری محبت کا بھی ذکر تھا جو کہ اینا ہا ہا سے پہلے انتظام
میں کسی قدرتیلی ہوگئی ہم لوگ تاریخ معینہ کے دوران بی بیبینی پوچھے مٹر آرنلڈ میر اور
اپنا اسباب لیکر دستٹن ہوٹل کو گئے ہیں بازار میں پھر رہا تھا کہ ایک لڑکے سے ملاقات
ہوئی۔ میں نے اس سے پوچھا کتم حاجی راست افتد کو جانتے ہو ۔ بولا کہ آپ مولودی مشعلی
تو ہیں ہیں میں اُسکے اس تنفس پر جوش سے کم نہ تھا حیرت زدہ ہو گیا۔ اس نے کہاکہ ہم
دو دن سے آپکے لئے حیران ہوتے ہیں پچھلے ! حاجی صاحب آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔
حاجی صاحب نے مسٹر آرنلڈ کو بھی ہوٹل سے بلالیا اور ہم دونوں اُن کے باغ میں ٹھیرے ۔
جس روز ہم بمبئی پہونچے اس کے دور سے روان ہمارا جہاز روانہ ہونے کو تھا اس لئے ہم نے
اناتان وقت سفر کے ضروری کاموں میں صرف کیا اور بیٹی میں اسلامی مدرسے اور جنہیں ہیں موت کی
سیر کر سکے بیجک کمپنی کی معرفت جہاز کا ٹکٹ لیا میں جہاز پر ہم جانے والے تھے اُس کا
کر یہ پورٹ سعید تک سیکنڈ کلاس کا انہ تھا میں نے ریجنت غلطی کی کہ ایران ٹکٹ نہیں
لیا جس کا نتیجہ ہوا کہ واپسی کے وقت پورٹ سعید سے بیٹی تک کے اخلہ پر نڈ یعنی
ساخ یکے دینے پڑے۔ پہلی مٹی کی صبح کو ای نتیجے ہم جہاز پر سوار ہوئے ۔ قریباً بارہ بجے جہاز
نے لنگر اٹھایا۔ اور ہم نے بسم الله مجربها و مرسها - پڑھ کرمند دوستان کو خدا حافظ
کہا سیکنڈ کلاس میں صرف پانچ مسافر تھے اور یہ عجیب اتفاق کہ سب کے سب مختلف قوم ان مختلف
نس سے تھے یعنی ایک مسلمان ایک انگریز ایک پاری ایک اسپنیز ایک سیاسی *
جہاد کی حرکت اول اول تو چنداں ناگوار نہیں معلوم ہوئی۔ لیکن شام کے قریبے بیت<noinclude></noinclude>
1t65bcpf2diynamwjmiy43u4vsxttl9
صفحہ:1901 Safarnama-Roam-O-Misr-O-Shaam urdu.pdf/15
250
13835
35415
2026-07-22T07:06:48Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”سفرنامه روم و مصر و شام متغیر ہونی شروع ہوئی رات کا کھانا کھا کر سور ہے ۔ صبح کو آنکھ کھلی تو عجیب کیفیت تھی۔ دوران سرا درستگی کی ایسی سخت تکلیف تھی جوکسی طرح بیان میں نہیں آسکتی۔ دو وں بخشی کی سی حالت یہی جہاز کا ملازم کبھی کبھی نارنگیاں لاتا ت...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35415
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||15}}</noinclude>سفرنامه روم و مصر و شام
متغیر ہونی شروع ہوئی رات
کا کھانا کھا کر سور ہے ۔ صبح کو آنکھ کھلی تو عجیب کیفیت
تھی۔ دوران سرا درستگی کی ایسی سخت تکلیف تھی جوکسی طرح بیان میں نہیں آسکتی۔ دو
وں بخشی کی سی حالت یہی جہاز کا ملازم کبھی کبھی نارنگیاں لاتا تھا۔
کہ کچھ کھا لی لیکن ان چیزوں کے دیکھنے سے آپکائی آتی تھی مسٹر آر اڑ جائے پی لیا کرتے
تھے۔ اگر چہ ہم نہیں ہوتی تھی لیکن تھے کرنے سے طبیعت ہلکی ہو جاتی تھی۔ ان کے
اصرار سے میں نے بھی دو ایک بار چائے پی کرتے کی اور فائدہ محسوس ہوا تیرے
دن ہم سب اٹھ بیٹھے ہم منا کر تے تھے کہ سمندر کی ہو تن درستی کے لئے نہایت
مفید ہے ۔ در حقیقت جہاز کا سفر سو علاجوں کا ایک علاج ہے۔ میں جہاز پر سوار
ہونے کے وقت پر ضعیف اور مشتعل تھا لیکن روز بروز چاق و چست ہوتا گیا ۔
طبیعت کو ہر وقت انشا رہتا تھا اور بھوک خوب لگتی تھی ہم لوگوں
کو پانچ وقت
لکھا ناملتا تھا یعنے صبح کو آٹھ بجے جائے ۔ دو وجہ بسکٹ گیارہ بیچنے سمولی کھانا ۔
جس میں معد و قیم کے سالن ہوتے تھے۔ ایک بجے ٹھن۔ پانچ بجے ڈنر جس میں
معمولی گوشت
کے علاوہ مرغ - بط- کبوتر ہر قسم کی پڈنگ تراور خشک میوے ہوتے
تھے کبھی کبھی برف کی تفلیاں بھی ہوتی تھیں۔ رات کو نو بجے چائے دیکھن ، فروت
کا کھانا پیٹ بھر کر کھاتے تھے اور سب ہضم ہو جاتا تھا ہے
میں تمام دن دریا کے سیر و تماشے میں مشغول رہتا تھا میسر آرنلڈ نے عربی اپنی ایک میدانی بپھر
عربی زبان کی
شروع کر دی تھی۔ ہمارے ساتھ جو ہین کا عیسائی تھا مسٹر آرنلڈ کے عربی پڑھنے سے )
سانة تعصب
بہت جلتا تھا۔ اکثر ان کے پاس آتا اور تحقیر کے ساتھ عربی حرفوں کو نہایت ہے
لحجہ سے ادا کرتا اور کہتا کہ یہ زبان اونٹوں کی زبان ہے ۔ اگر چہ مجھ کو اس کی ان
حرکتوں سے رنج ہوتا تھا۔ لیکن جو قوم ایک مدت تک شرکت کے ساتھ عرب کے زیر دست
رہ پیکی منتی عرب اور عربی زبان کے ساتھ اس کا یہ سلوک بیجا نہ تھا :<noinclude></noinclude>
9ma3xj1hbwukzgje40pyzcth7erauxh
صفحہ:Alif Layla (1847).pdf/9
250
13836
35416
2026-07-22T07:11:11Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”Sep. 28. Mong 1550“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35416
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||9}}</noinclude>Sep. 28. Mong 1550<noinclude></noinclude>
2k7h02r1zlurm1ckln897bc0wrrw3t0
صفحہ:Alif Layla (1847).pdf/10
250
13837
35417
2026-07-22T07:11:26Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”16 ت قصه های بهار جلد الف لیله فہرست جلد ی کی آغاز داستان شهر بارا اور شاہزمان کے حال مین حکایت گر ہے اور پہل اور اونگے رکھوالے کی ۲۴ قصہ سوداگر اور جن کا ۳۰ حکایت پہلے بڑ ہے کی کہ اوس کے ساتہ پرانی نہیں ۲۵ قصہ دوسرے بڑہے کا کہ اوس کے ساتھ دو کتنے ت...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35417
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||10}}</noinclude>16
ت قصه های بهار جلد الف لیله
فہرست جلد ی کی
آغاز داستان شهر بارا اور شاہزمان کے حال مین
حکایت گر ہے اور پہل اور اونگے رکھوالے کی
۲۴ قصہ سوداگر اور جن کا
۳۰ حکایت پہلے بڑ ہے کی کہ اوس کے ساتہ پرانی نہیں
۲۵
قصہ دوسرے بڑہے کا کہ اوس کے ساتھ دو کتنے تھے
۹ صد میرے بڑہے گا کہ اسکے ساتہ بھر رہا
ام قصہ ماہی گیر کا
۴۶
قصہ بادشاہ گر یک اور طبیب دوبان کا
۴۹ قصہ نیک مرد اور قونے کا
۵۱
۶۴
44
41
"
٠١
قصہ وزیر کا کا سبب غفلت کے مارا گیا
قصہ پانی اوس جو ان کے جو جزیہ کا سیاہ کا بادشاہ تیا۔
قصد تین شہزادے قلندر صورت اور پا چی میبیون کا
قصہ مزدور کا کہ او سنے بر سبیل اختصار بیان کیا
قصہ پہلے قلندر کا
قصہ دوسرے قلندر کا
قصہ حاسد اور محسود کا
۱۲۵
۱۵۱
146
۱۷۲
حصہ میرے قلندر کا
قصہ زمین کا
قصہ امینہ کا
خصه سند با حجازی
۱۷۵ بیان سند باد جہازی کے پہلے سفر کا<noinclude></noinclude>
jxykm2mkh0ugwwnbsmtqmvgwp2eco6c
صفحہ:Alif Layla (1847).pdf/11
250
13838
35418
2026-07-22T07:11:39Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”+ بیان سند باد جہازی کے دو سرے سفر کا بیان سند باد جہازی کے تیسرے سفر کا بیان سند باد جہازی کے جو نئے سفر کا بیان سند باد جہازی کے پانچویں سفر کا بیان سند باد جہازی کے چنے سفر کا JAI JAG ۱۹۵ MA ۲۲۵ rrg بیان سند باد جہازی اس کے ساتو مین سفر کا قصد فین سیب...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35418
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||11}}</noinclude>+
بیان سند باد جہازی کے دو سرے سفر کا
بیان سند باد جہازی کے تیسرے سفر
کا
بیان سند باد جہازی کے جو نئے سفر کا
بیان سند باد جہازی کے پانچویں سفر کا
بیان سند باد جہازی کے چنے سفر کا
JAI
JAG
۱۹۵
MA
۲۲۵
rrg
بیان سند باد جہازی اس کے ساتو مین سفر کا
قصد فین سیب اور مارے جانے ایک بی بی کا ہو کے مین
قصد اور مقتول بی بی اور اوس جوان کا کہ اوسکا شوہر تہا
۳۳۴ قصہ نور الدین علی اور بدر الدین حسین کا
فہرست جلد دوسری فی
4
۱۹
۳۲
۴۵
قصہ درزی کا شعری اور کپڑے کا جو لازم بادشاہی نہا
قصد زبانی سود اگر فرنگی کے جو بادشاہ کا سفر کے حضو مین کیا گیا
قصد زبانی سودی بادشاہ کے
قصد جوان نرا انگشت برین کا
قصہ حکیم ہیوی کی زبان سے بادشاہ کا شعر کے حضومین
قصه مرزی کی زبانی روبرو بادشاہ کا شعر کے
۴۰ قصہ جوان لنگ کا زبانی درزی کے
قصہ حجام کا رو برو در زی اور جماعت کے جو مہمان سوداگر کے ہتھے
۶۲
۹۴ قصہ حجام کے پہلے بہانی کا جو کپڑا تہا
۶۸ قصہ حجام کے دوسرے بہائی کا جسکا نام بک بارہ تہا
قصد حجام کے تیرے بہائی کا جسکا نام بو با راندہ تنہا
قصہ تھام کے جوتے بہائی کا جو کانا تھا اور نام اوسکا الکوثر
قصہ حجام کے پانچویں بہائی کا جسکا نام النور تھا
قصہ حجام کے چنے بہائی کا جس کا نام شاہ ایک نہا۔
۸۰
AN
۹۴<noinclude></noinclude>
syzuhzf8q34470lpzir63bqzufkli28
صفحہ:Alif Layla (1847).pdf/12
250
13839
35419
2026-07-22T07:12:07Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۴ داستان ابو الحسن بین به کار شهزاده ایران اور شمس النها معشوف خليف بالانا رشید کی قصه تعشق شہزاد سے قمر الزمان ابن شانه رمان بادشاه جزیر چیلید زن خاندان نگاه سانه بدور ا نامی بیٹی گور کے کہ بادشاہ چین کا تھا قصد نور الدین بن خاقان میں عظیم عال...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35419
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||12}}</noinclude>۴
داستان ابو الحسن بین به کار شهزاده ایران اور شمس النها معشوف خليف بالانا رشید کی
قصه تعشق شہزاد سے قمر الزمان ابن شانه رمان بادشاه جزیر چیلید زن خاندان نگاه
سانه بدور ا نامی بیٹی گور کے کہ بادشاہ چین کا تھا
قصد نور الدین بن خاقان میں عظیم عالم شہر افسر اور کنیز پارس کا
۲۲۷ قصه در پادشاه ایران اور جواہر شہزاد می مملکت ممندال کا
فہرست جلد میر کی کی
قصہ غانم اور فتنہ کا
۲۷
خط خلیفه بارون رشید کا محمد زبینی حاکم سراہ کے نام
۲۴ قصہ شہزاد و زین العلم اور بادشاہ حسین کا
قصر شہزادے خدا داد اور شہزادی دریا بار کا
4
۷۸
۲۷
2
Y
10
قصه شهزادی دریا بار کا
نصہ ہوتے جا گئے اور خلیفہ ہارون رشید کا
قصہ الہ دین اور عجیب و غریب چراغ کا
فہرست جلد جونہی کی |
قصہ خلیفہ ہارون رشید اور بابا عبداللہ کا
قصہ بابا عبد اللہ نا بنا کا
محمد سیدی نعمان اور اوسکی ٹھوڑی کا
۱۲۵ قصہ خواجہ حسن این فروش کا
۷۴
AY
۲۷
تصہ علی بابا اور چالیس شیکون کا ایک سبب ایک لونڈی کے وہ سب مارے گئے
فصہ علی خواجہ اور سود اگر شہر بغداد کا
تحہ کل کے گھوڑے کا
تحہ شہزادہ احمد اور پری با فوکا
۱۵۱ قصہ دو بہنوں کے حد اور عداوت خیسری بہن سے<noinclude></noinclude>
erk4clnrmq7737m3xonj2zzs4miw1c3
صفحہ:Alif Layla (1847).pdf/13
250
13840
35420
2026-07-22T07:12:20Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35420
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||13}}</noinclude><noinclude></noinclude>
d9om55ab8a3ncaxlvd9e8bjv459bezy
صفحہ:Alif Layla (1847).pdf/14
250
13841
35421
2026-07-22T07:13:31Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”بسم العدالرحمن الرحيم بعد مدرب العالمین اور نعت سید المرسلین کے محنتی و پوشیدہ نہی ہے کہ جسطح مطالعہ کتب تواریخ سے عجائب غرائب ودار دانت اور حال سلاطین ماضی دانشمند و نکو موجب بصیرت کا ہر ایک امرمین ہوتا ہی اسطرح کشت قصص اور حکایات سے کہ عافل...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35421
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||2}}</noinclude>بسم العدالرحمن الرحيم
بعد مدرب العالمین اور نعت سید المرسلین کے محنتی و پوشیدہ نہی ہے کہ جسطح مطالعہ
کتب تواریخ سے عجائب غرائب ودار دانت اور حال سلاطین ماضی دانشمند و نکو موجب
بصیرت کا ہر ایک امرمین ہوتا ہی اسطرح کشت قصص اور حکایات سے کہ عافلون نے
ہر ایک زبان میں اسکے گرنے اور فریج خاص و نام کے تالیف کی میں ہم آپ کو
خوانہ کثیر حاصل ہوتے ہیں خصوصاً بتہ یونکو که قصد زبان دانی کار کہتے ہیں اسی نانو
سے صارت
رت لکھنے پڑ نے بول چال کی ہوجاتی ہیں اور را فرا تم کو کہ عمرو بنشی
عبد الکریم کی ابتدا شعور سے کمال شوق دینے کتابوں حصے کہانی کا تہا اورب
قصون من منا الف لیلہ کی زیادہ رہتی ہیں اور وہ عربی می الف لیلہ کو سیاہ لکھنے
ایک ہزار ایک رات بھی موقت را تخریج دارالامارہ کلکتہ کے عہدہ جلیلہ میری کری افتر
فارسی نواب
گورنر جنرل بہادر سے سر فراز تیارہ کتاب سوا دو سورات کے کے سیکو
شیخ احمد عوت میں شروانی نے واسطے پڑہانے صاحبان عالیشان
کا لا کھلکہ کے
مال تلاش عرب سے منگوا کر جیب این مین میری آئی آخر کا رب را فرمایشات امارات
کے بعد تقر بنش بیت السلات انم که مولا برای این و این تمام و کمال گرایان<noinclude></noinclude>
5pnr00d8zytgyt3l63dsb1vrx2x0ksn
صفحہ:Alif Layla (1847).pdf/15
250
13842
35422
2026-07-22T07:18:10Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”1263 7847 انگریزی زبان مین مع تصویرات بہم پہنچا را ھر نے اوسکر اول سے اخترک سب ہستعداد ] مجھے زبان انگریزی کے دیکھا از تبار محتے جب بہنے دوسری تکاور کا ترجمہ کرتا ا درست زیاره توانشان بیری مین نام کی شر من شهره با اکثرلوگوں نے منگوا کر نقل ہوسکی کی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35422
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||3}}</noinclude>1263
7847
انگریزی زبان مین مع تصویرات بہم پہنچا را ھر نے اوسکر اول سے اخترک سب ہستعداد ]
مجھے زبان انگریزی کے دیکھا از تبار محتے جب بہنے دوسری تکاور کا ترجمہ کرتا
ا درست زیاره توانشان بیری مین نام کی شر من شهره با اکثرلوگوں نے منگوا کر
نقل ہوسکی کی کمر سود و راقم کے گہر است پوست پر کیا چنانچہ پانچ سات جز تلف ہو
ام کا کے سینے میں دوبارہ تکلیف کرنا پڑا اورطلب کرنے ایسا ہے نہایت تنگ آیا جس کو ند یارو
خفا ہوتا اور دینے میں اپنی کتاب سے یا ہتہ ہو تا آخر کو خیال ہوا کہ یہ کتاب آپ
جائے تاب کے بانہانے اور ا تم ہی ایک ایک سند اس کا عزیز وں اور دوست کو
ہائے لفظ اسی واسطے راقم نے جس طرح ہو سکا ہے عہد معدن جهد باد شاہ جو جاد
خاقان زمان ابو الظفر مصلح الدین محمد جب علی شاه بادشاه غازی ملک او و خانه ای کالا
اور وزارت وزیر اعظم اوراب من الدوله عاد الملك امامین جان بیا در دو الفا رنگ
ام اقبال کے چیوایا اور نہ بھری ملیح اس کتاب کے بارہ سوتر متنبہ اور میری
انبار و نوسیت میں ہی ابرائم امیدواری کرا کر بشریت سے کسی جار بود تھے بالفظ
غیر مانوس میں غلطی ہو ناظرین والاهم معاف فرمائین اور شگو و عدم عبارت آرائی کا زبان
نالانین را تم نے صاف صفت ریایی این گیت اور اشعار کو ال مرا نہیں پائی جاتی
ملک کا انگریزی تعداد شبو کی رہتی و سطح ہمیں ہی عدا انارکی کا سال تھے کا نیٹو کے
ا با قفل که نام قرار سرکار دولت در این انگریز ها در اماله من اردو را می از این انیس
رجمہ کیا تا بنوع طبع صاحبان عالیشان
کا ہو اور مدرسون مکتبون سرکار مدوح میں رواج پیام
آغاز داستان شهریار اور شاہرزمان کے حال میں
اگلے زمانے میں سلطنت ملک پارس کی بڑی مثل سند دوستان اور چین کے بہتی اورست
جزیرے وہ دوست اوس حکومت کے تابع ہے وہا کا ایک بادشاہ بہت بڑا انت<noinclude></noinclude>
pkymahvp7a1ag07eujpl8x4uivqb9rs
صفحہ:Alif Layla (1847).pdf/16
250
13843
35423
2026-07-22T07:18:29Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۴ نامور تا سبب عدل و انصاف کے رجینا و سے بہت دوست رکھتی ہیں او سکا جا میا ں ہے اور خرانه و شکر شمار تها اوس بادشاہ کے رونے بنے بڑے کا ہم شہر یار چوستے کا شاه زمان در نوشا برا دے مثل پر بزرگوار کے منصف تجمیع صفات حمیدہ اور اخلاق بر گزیدہ کے ہے جب کہ...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35423
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||4}}</noinclude>۴
نامور تا سبب عدل و انصاف کے رجینا و سے بہت دوست رکھتی ہیں او سکا جا میا ں ہے
اور خرانه و شکر شمار تها اوس بادشاہ کے رونے بنے بڑے کا ہم شہر یار چوستے
کا شاه زمان در نوشا برا دے مثل پر بزرگوار کے منصف تجمیع صفات حمیدہ اور
اخلاق بر گزیدہ کے ہے جب کہ وہ بادشاہ جان کی تسلیم و شہر یار بنا دیا
سری آرا بجای اور سکے ہو کر اپنے بھائی شاہ بائی کہ بہت دوست اور عزیز رکہتا ہتا
حکومت ملک نانا کی دیہی اور خزانہ وافر اور فوج بہت ہو سکے ہمراہ کی شاہرزمان نے
بڑے بہائی کا شکر و سپاس کیا لا کے رخصت ہوا اور وہ اسکے نظم و نسق اپنے
ملک کے شہر سمرقند کو کہ خوا د سوفت میں سب شهرون سے برا تنها دار الملک در راسانی
اوسین رسنے لگا جب او تنکی مفارقت کو عرصہ دس برس کا گذرا شہر یار کو کال شاشات
بہائی کے دیکھنے کا ہوا اور ضد کی کہ کی سفیر کو بیچ کر اس کو اپنے پاس ہوئے
لہندا واسطے اس کام کے اپنے وزیر اعظ کو مقر کی چنانچہ وزیر اعظم موجب حلیم
بادشاہ کے بڑے بجل اور شان و شوکت سے روانہ ہوا جب کہ وہ قریب سمرقند
س کے پہنچا شاہزمان یہ خبر نگرد اسطے استقبال کے ساتہ لاو لشکر اور بڑے جلوہ
اور ترکی کے اپنی دار الحکو م ہے روانہ ہوا دو تین کوس پر پہنچ کر وہ پریس سے ملاقات
کی اور اوسکے دیکھنے سے کمال خوش میوا بعد اسکے اپنے بڑے بہائی سلطان
شہر یار کی خیر و عافیت پوچھی وزیر نے بعد بجا لانے آداب تشہیر کے پیغام شہریار کا
پر نچایا شاہان نے کراپنے بھائی کا نہایت مطیع اور فرمان بر وارتا اور کہا
اسکے کال محبت اوس کے ساتہ کہتا تھا وزیر سے کیا بہانی شہری نے کہ تکویر
لینے کے واسطے پہنچا اسے ملکو عمال مخوشی حاصل ہوئی اور موجب شرف اور اعزاز
کا ہوا اور کار ستاد بر سر آنکھوں انشاء اللہ تعالی اس ان کے عرصے نہ یہ تیاری
اسباب سفر کے اور مغر کرنے کی کو اپنی جگہ پر اتارے سے سا بند روان او مطرف ہوتا اس دمی<noinclude></noinclude>
erf09tlb9ojhcmbed55xetuu2uyyfpv
صفحہ:Alif Layla (1847).pdf/17
250
13844
35424
2026-07-22T07:18:46Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۵ ور ان کے واسطے ضرور نہین کرت کی شہر میں جانے کی کرو اس جاہر مقیم ہونے جہاند ار خاص مہارے اور بہار نے لشکر کے واسطے مقرر کئے ہیں چنانچہ فی تصور اسباب ضیافت وزیر اور اد سکے لشکر کا میا اور مادہ ہو گیا اس عرصے میں شاہد زبان انان جویده که در کار با...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35424
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||5}}</noinclude>۵
ور ان کے واسطے ضرور نہین کرت کی شہر میں جانے کی کرو اس جاہر مقیم ہونے
جہاند ار خاص مہارے اور بہار نے لشکر کے واسطے مقرر کئے ہیں چنانچہ فی تصور
اسباب ضیافت وزیر اور اد سکے لشکر کا میا اور مادہ ہو گیا اس عرصے میں شاہد زبان
انان جویده که در کار با خرید را کے ایک سردار معدہ و جانشین اینا کیا اورشام کو سون
روز ملکہ سے کہ مجھے بہت چاہتا ہتا کال سوز و گداز کے رخصت ہو اور اپنے نوکر ہے۔
اہ مصاحبون خاص کو ساہنہ نے سمر قند سے چلا اور اپنے تھے مین جونز دیک)
نے وزیر کے سادہ بنا پہنچ کر ساتہ وزیر کے گفت و گو کرنے لگا یہا تک کر دیا
رات گذر گئی او سوقت اوس کے خیال مین گذر یکہ ایک بار پر اپنی ملکہ سے ملاقات
کر آؤں چنانچہ بن شہا وہ ان سے محل میں بھی گیا ملک نے کہ او سکو پر اپنے بادشاہ کا
سے بھی
ہرگز خیال تھا ایک رزیل اور سینے نو کرون محل سے بلوا کر اوس کے سانہ ہم خوش
سوری بتی شانزمان با تواس خیالمیں بنا کہ نکہ میری اس طافات غیرمترقبہ کو نیمت جانور
در مسرور ہوگی یا دفعہ مرد چینیکو او س کے ساتھہ سوتے یا کہ نہایت محیر ہوا ایک امیری
تک حالت سکتے میں رہا پھر افاقے میں آسکے خیال کیا کہ واقع میں ایسا امر ہو کا شاہی نظر
تیری غلطی کی میر خوب اچھی طرح سے دیکھ کر دو سے بھی اور ولی افسوس کرنے لگا
که وای فضیحتی در سوانی هنوز مین شهربنا و سمرقند سے با ہر نہین نکلا کہ اتنی بڑی جرات یہ
لوگ کرنے لگے اور مرتکب انے اورتیج سکے ہوئے نہایت مضب میں اگر سوچا
که ایسا گناه علیمران سیا خون کا ہرگز قابل عفو کے نہیں خصوصا وہ اس سے بادشاہ
عظیم الشان کے نسبت ایسا بڑا جرم کرین آخر کو شاہزمان نے روسی حالت عصب
میں تلوار کھینچ اور خو بجا و مکہ کے نزدیک یا ایسا ایک بات نہ مارا کہ دو نو کے سرقہ ہے
جدا ہو کر سکے پلنک کے گرپڑے بعد اسکے اون و دفون کی لاشوں کو کڑکی کے
راہ سے خندق میں محل کے نیک یا ہر وہ ان سے بعد قتل کرنے وان د وروستی ہے<noinclude></noinclude>
6lxvbuyez538t00zgabmfs2lf1k7cvr
صفحہ:Alif Layla (1847).pdf/18
250
13845
35425
2026-07-22T07:19:22Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”ان با تسکین باربارا در سفر و از است چند گاہ کو ہوا کسی اورسے یہ امر رات کو گذرا تا کہا دوسرے دن فجر کو دبان سے آگے جانے کا ارادہ کیا پھر دوست کے حکم کے سب لوگ تیار ہو کر آنے کو روانہ ہو نے اس سفر سے لشکر کے سب لوگ تو نہایت قوت بنتے گر شاہزمان ہر وقت...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35425
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||6}}</noinclude>ان با تسکین باربارا در سفر و از است چند گاہ کو ہوا کسی اورسے یہ امر رات کو گذرا تا
کہا دوسرے دن فجر کو دبان سے آگے جانے کا ارادہ کیا پھر دوست کے حکم کے
سب لوگ تیار ہو کر آنے کو روانہ ہو نے اس سفر سے لشکر کے سب لوگ تو نہایت قوت
بنتے گر شاہزمان ہر وقت ہو خائی اور ملکاری مکر کی یاد کر کے غم و غصہ کہا کہ اس کے
خون کرتا تھا اور روز بروز چپرهار وانی اوسکا اس اند و دست زعفرانی و تا فرض تام
اروسکی خیر نز دیک پہنچنے کی شکر مع ارکان دولت واسطے استقبال کے گیا جبکہ سواری
دونو کی قریب پہنچی وہ دو نو بادشاہ گھوڑوں سے او تر سیمین بغل گیر ہوئے اور ایک
ور مرنے کے دستکھنے سے کمال خوش ہو کر دی تک خیرو عافیت پوست بہتے رہے ہو
مان سے سوار ہو کر قدم او حشم کثیر کے سابقہ روانہ ہوئے سلطان شہر یار
نے
اپنے بھائی کو اوس مکان میں سب کو تو میں او سی کے واسطے آسے گے ستے بنوا اور تجوا کیا۔
انتہا اور وہان سے پائین باغ بادشاہی نظر آتا تها لیجا کر اتارا اور وہ مکان نواحداث
ایسا وسیع اور عالیشان بتاکر گنجایش جهانداری اور ضیافت شایانہ کی رکہتا تھا پر میری
شاہ زمان
کو وہ کے حام اور تبدیل گوشاک کے دیا یاد
کی شان زبان نئے فراغت حام
سے پانی وہ دونوں بھائی بر آمدے مین اوس مکان کے بیہو کے رہینگ پائین بیارد
الفت
کی کرتے رہے اور اہل دربار دونوں پادشاہوں کے صف باندہ کے
فرت ہے اور اپنے اپنے رہتے سے کپڑے ہوئے بعد اسکے اون دو نون
بادشاہ نے خاصہ تبسم کا باہم تناول فرمایا بعد نوش جان کر نے خاصے کے پرستا
چیت میں مشغول ہوئے جبکہ شہریار نے دیکھا کہ رات بہت آئی بہائی کو واسطے آرام
کرنے کے تنہا چھوڑ کر رخصت ہوا شاہزمان محال غم والم کے ساتہ لنگ پر ونابول
حیائیٹ ریار و بر و شہر یار کے اپنے کو ضبط کئے ہوئے تھا اور سکے اور بہنے کے بعبد<noinclude></noinclude>
eky9g7hxbo57ebdxr8yvaclg9tvd1o0
35426
35425
2026-07-22T07:30:30Z
Taranpreet Goswami
90
35426
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||6}}</noinclude>ان با تسکین باربارا در سفر و از است چند گاہ کو ہوا کسی اور سے یہ امر رات کو گذرا تا
کہا دوسرے دن فجر کو وہان سے آگے جانے کا ارادہ کیا پھر دوست کے حکم کے
سب لوگ تیار ہو کر آنے کو روانہ ہو نے اس سفر سے لشکر کے سب لوگ تو نہایت قوت
بنتے گر شاہزمان ہر وقت ہو خائی اور بدکاری مکر کی یاد کر کے غم و غصہ کہا کہ اس کے
خون کرتا تھا اور روز بروز چپرهار وانی اوسکا اس اند و دست زعفرانی و تا فرض تام
اروسکی خیر نز دیک پہنچنے کی شکر مع ارکان دولت واسطے استقبال کے گیا جبکہ سواری
دونو کی قریب پہنچی وہ دو نو بادشاہ گھوڑوں سے او تر سیمین بغل گیر ہوئے اور ایک
ور مرنے کے دستکھنے سے کمال خوش ہو کر دی تک خیرو عافیت پوست بہتے رہے ہو
مان سے سوار ہو کر قدم او حشم کثیر کے سابقہ روانہ ہوئے سلطان شہر یار
نے
اپنے بھائی کو اوس مکان میں سب کو تو میں او سی کے واسطے آسے گے ستے بنوا اور تجوا کیا۔
انتہا اور وہان سے پائین باغ بادشاہی نظر آتا تها لیجا کر اتارا اور وہ مکان نواحداث
ایسا وسیع اور عالیشان بتاکر گنجایش جهانداری اور ضیافت شایانہ کی رکہتا تھا پر میری
شاہ زمان
کو وہ کے حام اور تبدیل گوشاک کے دیا یاد
کی شان زبان نئے فراغت حام
سے پانی وہ دونوں بھائی بر آمدے مین اوس مکان کے بیہو کے رہینگ پائین بیارد
الفت
کی کرتے رہے اور اہل دربار دونوں پادشاہوں کے صف باندہ کے
فرت ہے اور اپنے اپنے رہتے سے کپڑے ہوئے بعد اسکے اون دو نون
بادشاہ نے خاصہ تبسم کا باہم تناول فرمایا بعد نوش جان کر نے خاصے کے پرستا
چیت میں مشغول ہوئے جبکہ شہریار نے دیکھا کہ رات بہت آئی بہائی کو واسطے آرام
کرنے کے تنہا چھوڑ کر رخصت ہوا شاہزمان محال غم والم کے ساتہ لنگ پر ونابول
حیائیٹ ریار و بر و شہر یار کے اپنے کو ضبط کئے ہوئے تھا اور سکے اور بہنے کے بعبد<noinclude></noinclude>
cqts8ojbbuwjaky1hb5pfk8gj1q9o4y
اشاریہ:Yaadgar-e-Ghalib - Hali.pdf
252
13846
35427
2026-07-22T07:54:38Z
Taranpreet Goswami
90
”“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35427
proofread-index
text/x-wiki
{{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template
|Type=book
|Title=
|Language=en
|Volume=
|Author=
|Translator=
|Editor=
|Illustrator=
|School=
|Publisher=
|Address=
|Year=
|Key=
|ISBN=
|OCLC=
|LCCN=
|BNF_ARK=
|ARC=
|DOI=
|Source=pdf
|Image=1
|Progress=X
|Transclusion=no
|Validation_date=
|Pages=<pagelist />
|Volumes=
|Remarks=
|Width=
|Header=
|Footer=
|tmplver=
}}
afusak2ezww6dk7yirrtfx1f8o1879g
35428
35427
2026-07-22T08:27:40Z
Kuldeepburjbhalaike
17
35428
proofread-index
text/x-wiki
{{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template
|Type=book
|Title=
|Language=ur
|Volume=
|Author=
|Translator=
|Editor=
|Illustrator=
|School=
|Publisher=
|Address=
|Year=
|Key=
|ISBN=
|OCLC=
|LCCN=
|BNF_ARK=
|ARC=
|DOI=
|Source=pdf
|Image=1
|Progress=X
|Transclusion=no
|Validation_date=
|Pages=<pagelist />
|Volumes=
|Remarks=
|Width=
|Header={{rh||{{{pagenum}}}}}
|Footer=
|tmplver=
}}
2nv3zv53to041b2c4kdg3gllw4oi98l
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/85
250
13847
35431
2026-07-22T12:26:09Z
BalramBodhi
60
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”66 قطعه سعدی گر خردمند نابلات جفائے بیند اول خدایش بیازارد و در می شود نگ بنگ بارگاه زرین شکست قیمت سنگ منی راید وزن کم شود ترجمه عربیه ان نال يد من الاند ان مقولة حاشى ل أن يذيب النفر بالصحي نايت و من تجر إنما منكسا قالبتونير وما يز حاد في الحجر...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35431
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>66
قطعه سعدی
گر خردمند نابلات جفائے بیند اول خدایش بیازارد و در می شود
نگ بنگ بارگاه زرین شکست قیمت سنگ منی راید وزن کم شود
ترجمه عربیه
ان نال يد من الاند ان مقولة حاشى ل أن يذيب النفر
بالصحي
نايت و من تجر إنما منكسا قالبتونير وما يز حاد في الحجر
پر ایک مدت کے بعد تمام گلستان کا ترمہ یا کم ہورہے نوبی زبان میں ہوا جوگی سدرلیوان
تک عرب - شام - روم در مصری متداول را در حال مین مصر کے ایک ادینے جس کا نام
جبریل ہے۔ اُس کا ایک اور ان میتا نعیم عربی ترجمہ کا نظم کاظمین اور شر کانتر میں چھپوایا ہے
اس کے سوا استنبول کی ترکی میں بھی اس کے متعدد ترجمے کئے گئے ہیں۔ جن مین سے
اخیر ترجمہ سلطان عبدالحمید خان کے بہائی اور ولیعہد رشاد پاشا نے حال ہی مین کیا ہے
یوروپ میں گلستان اور بوستان کے جسقدر ترجمے ہوئے ہیں انکی ٹھیک ٹھیک اعتداد معلوم
ہوئی مشکل ہے۔ گر انگلش سائیکلو پیڈیا میں کسی قدر ترجموں اور اڈیشنوں کا ذکر کیاگیا ہے
جو ش و تک چھپے اور شائع ہوئے اس کا خلاصہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔
گلستان کے ترجمے بوستان کی نسبت بہت زیادہ ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے جنس
نے اصل گلتان مع الاطینی ترجمہ اور کسی در حواشی کے اسٹور میں چودائی پر دور المرنے
جو کہ فرانس کی طرف سے اسکندرید من کانال تاریخ میں اسکا ترجمہ کیا جو کشتند من بنغام<noinclude></noinclude>
tp8ph3v2i3q5kpfpasv3p32ujfpzki1
35432
35431
2026-07-22T12:27:49Z
BalramBodhi
60
35432
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>{{center|'''قطعه سعدی'''}}
گر خردمند نابلات جفائے بیند اول خدایش بیازارد و در می شود
نگ بنگ بارگاه زرین شکست قیمت سنگ منی راید وزن کم شود
ترجمه عربیه
ان نال يد من الاند ان مقولة حاشى ل أن يذيب النفر
بالصحي
نايت و من تجر إنما منكسا قالبتونير وما يز حاد في الحجر
پر ایک مدت کے بعد تمام گلستان کا ترمہ یا کم ہورہے نوبی زبان میں ہوا جوگی سدرلیوان
تک عرب - شام - روم در مصری متداول را در حال مین مصر کے ایک ادینے جس کا نام
جبریل ہے۔ اُس کا ایک اور ان میتا نعیم عربی ترجمہ کا نظم کاظمین اور شر کانتر میں چھپوایا ہے
اس کے سوا استنبول کی ترکی میں بھی اس کے متعدد ترجمے کئے گئے ہیں۔ جن مین سے
اخیر ترجمہ سلطان عبدالحمید خان کے بہائی اور ولیعہد رشاد پاشا نے حال ہی مین کیا ہے
یوروپ میں گلستان اور بوستان کے جسقدر ترجمے ہوئے ہیں انکی ٹھیک ٹھیک اعتداد معلوم
ہوئی مشکل ہے۔ گر انگلش سائیکلو پیڈیا میں کسی قدر ترجموں اور اڈیشنوں کا ذکر کیاگیا ہے
جو ش و تک چھپے اور شائع ہوئے اس کا خلاصہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔
گلستان کے ترجمے بوستان کی نسبت بہت زیادہ ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے جنس
نے اصل گلتان مع الاطینی ترجمہ اور کسی در حواشی کے اسٹور میں چودائی پر دور المرنے
جو کہ فرانس کی طرف سے اسکندرید من کانال تاریخ میں اسکا ترجمہ کیا جو کشتند من بنغام<noinclude></noinclude>
e82pdc6o0k7um7binhyp3lnk1st1qim
35434
35432
2026-07-22T13:09:01Z
BalramBodhi
60
35434
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>{{center|'''قطعه سعدی'''}}
{{Block center|<poem>گر خردمند ز اوباش جفائ بیند
تا دل خویش نیاز ارد و درہم نشود
سنگ بدگوہر اگر کاسهٔ زرین بشکست
قیمت سنگ نیفزاید و زر کم نشود</poem>}}
{{center|'''ترجمه عربیه'''}}
ان نال يد من الاند ان مقولة حاشى ل أن يذيب النفر
بالصحي
نايت و من تجر إنما منكسا قالبتونير وما يز حاد في الحجر
پہر ایک مدت کے بعد تمام گلستان کا ترجمہ جیسا کہ مشہور ہے عربی زبان مین ہوا جو کئ سدیون تک عرب۔شام۔ روم اور مصر مین متداول رہا اور حال مین مصر کے ایک ادیب نے جسکا نام جبریل ہے۔ اُس کا ایک اور نہایت نصیع عربی ترجمہ کا نظم کا نظم مین اور نثر کا نثر مین چہپوایا ہے اسکے سوا استنبول کی ترکی مین بہی اُس کے متعدد ترجمے سُنے گئے ہین۔ جن مین سب سے اخیر ترجمہ سلطان عبدالحمید خان کے بہائی اور ولیعہد رشاد پاشا نے حال ہی مین کیا ہے یوروپ مین گلستان اور بوستان کے جسقدر ترجمے ہوئے ہین اُنکی ٹہیک ٹہیک اعتداد معلوم ہونی مشکل ہے۔ مگر انگلش سائیکلوپیڈیا مین کسی قدر ترجمون اور اڈیشنون کا ذکر کیا گیا ہے جو ١٨٥٢ ء تک چہپے اور شائع ہوئے اُس کا خلاصہ ذیل مین درج کیا جاتا ہے۔
گلستان کے ترجمے بوستان کی نسبت بہت زیادہ ہوئے ہین۔ سب سے پہلے جنٹس نے اصل گلتان مع لاطینی ترجمہ اور کسی قدر حواشی کے امسٹرڈم مین چہپوائی پہر ڈوراءر نے جو کہ فرانس کی طرف سے اسکندریہ مین کانسال تہا فرنچ مین اسکا ترجمہ کیا جو کہ \\ مین بنمقام<noinclude></noinclude>
gzz8izj6ts27eyizjnjn8g5tf9oi2nx
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/86
250
13848
35439
2026-07-23T11:51:30Z
BalramBodhi
60
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”ہیں کہا۔ اس کے بعد اصل کتاب سے گارڈین نے شمال میں اور سمالیت نے ؟ مین ترجمہ کیا۔ یہ دونوں ترجمے بھی فریج میں ہوئے تھے۔ جرمن زبان مین اولی ایرئیس کا ترجمہ زیادہ مشہور ہے وہ اس کے دیباچہ میں لکھتا ہے کہ اس ترجمہ میں ایران کے ایک فاضل سے الی گئی ہے...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35439
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>ہیں کہا۔ اس کے بعد اصل کتاب سے گارڈین نے شمال میں اور سمالیت نے ؟
مین ترجمہ کیا۔ یہ دونوں
ترجمے بھی فریج میں ہوئے تھے۔ جرمن زبان مین اولی ایرئیس کا ترجمہ
زیادہ مشہور ہے وہ اس کے دیباچہ میں لکھتا ہے کہ اس ترجمہ میں ایران کے ایک فاضل سے
الی گئی ہے اور یہی کہتا ہے کہ میرے ترمیہ سے پہلے ٹور کر کے فرینچ ترجمہ سے ایک
ور جمجمه جون مین ہو چکا تها اول اریس کا ترجمہ نایت، ذی وقعت سب سے اور اس مین جو
تصویری چه پی سی میں دو ہی بہت عمدہ ہیں۔ یہ ترجمہ اول شادی میں بمقام سیل بزرگ چھپاتا
اور اسی سال جرمن سے اور زبان میں ترتبہ بکرا مشروم میں جہا۔ اولی دیر میں نے بوستان
کا بھی ترجمہ حرمون مین کیا ہے۔ حال میں گلستان کا ایک اور ترجمہ کے۔ ایچ گرانٹ نے
جرمن بین کیا ہے یومین به قام لیبرگ چھپا ہے ۔ اسی مترجم نے بوستان کا بھی
۔اس ہوں
ترجمہ کیا ہے جس کا نام است ، گارٹن ہے اور جانش زمین دو جلدوں میں چھپا ہے
L
نگریزی میں گلستان کا رتبہ ایک تو کھیڈ ون نے کیا ہے جو مقام لندن نشده بین چسپا
اور سر تر جمہ اس مصاحب کا سہے ہیں ایشیاٹک سوسائٹی کے لیے کیا گیا تھا۔ ایک اور ترمب
میٹرک نے انگریزی میں کیا بے نظم کا نظم مینار نظر نظر من چیست اما این مقام برت نوٹ
چھپا تھا ۔ یہ ترجمہ نہایت عمدہ ہے ۔ سعدی کی کلیات فارسی و عربی چھوٹی تقطیع کے کاغذ
پر سیر نگٹن نے سا لیے میں چھپوائی تھی ۔ اور گلیڈون نے صرف گلستان نگارمین جی پائی
جود دوبارہ شنت از توربین بمقام لندن مطبوع ہوئی ۔ پر نہ ہو میں جس ویولن نے گلستان
اپنے ترجمہ کے کلکتہ بین چھپائی جو کہ اسوقت سے ایک کی با پتر آپ اپنی پر پروین شاکر<noinclude></noinclude>
264xbvf33095i3krmkz7606qx9s0h2n