ویکی اقتباس urwikiquote https://ur.wikiquote.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%81_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.6 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی اقتباس تبادلۂ خیال ویکی اقتباس فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk جلال الدین رومی 0 3271 14411 14309 2026-06-11T05:35:56Z چھبورہ 3032 14411 wikitext text/x-wiki '''[[w:جلال الدین رومی| جلال الدین رومی]]''' مشہور [[فارسی]] [[شاعر]] مثنوی مولانا روم کے لکھنے والے۔ آپ کی مثنوی کا ترجمہ دنیا کی کئی زبانوں میں کیا جا چکا ہے۔ آپ کے پیروکار خود کو مولویہ کہلواتے ہیں۔ آپ کی دیگر تصنیفات میں، فیہ ما فیہ اور دیوان شمس تبریز ہیں اس کے علاوہ کچھ مکتوبات بھی آپ سے منسوب ہیں۔ ==اقتباسات== [[File:A man can't fly, Stoke.jpg|thumb|تمہیں تو پروں کیساتھ پیدا کیا گیا ہے تم کیوں رینگنا چاہتے ہو۔]] [[ملف:Sunrise over the sea.jpg|220px|تصغیر|عورت خدا کی ایک کرن ہے۔ عورت کوئی زمینی محبوب نہیں ہے۔ تم کہہ سکتے ہو کہ وہ تخلیق کار ہے، تخلیق نہیں]] [[File:Byxor till dräkt, Kleinwerder - Livrustkammaren - 65258.tif|thumb|میں نے بہت سے انسان دیکھے ہیں جن کے بدن پر لباس نہیں ہوتا، اور بہت سے لباس دیکھے جن کے اندر انسان نہیں ہوتا]] *چھت پر کچھ لوگ کھڑے ہیں اور ان کا سایہ زمین پر پڑ رہا ہے<br>وہ لوگ جو چھت پر ہیں گویا فکر ہیں ہیں اور ان کا سایہ عمل *[[آفتاب]] کی [[روشنی]] کے سوا آفتاب کے وجود کی کوئی [[دلیل]] نہیں ہوسکتی۔<br>[[سایہ]] کی کیا ہستی ہے کہ آفتاب کی دلیل بن سکے اس کے لیے یہی بہت ہے کہ آفتاب کا محکوم ہے۔ **مثنوی * اس نے ناز سے کہا کہ دیکھو اب زیادہ نا ستاؤ اور چلتے بنو<br>اس کا یہی کہنا کہ '''زیادہ نا ستاؤ''' میری آرزو ہے۔ **دیوان شمس ===فیہ ما فیہ=== *آخر [[منصور حلاج|منصور]] کا [[انا الحق]] کہنا بھی یہی معنی رکھتا ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ انا الحق کہنا بہت بڑا دعوی{{ا}}ہے۔ بڑا دعوی{{ا}} تو انا العبد (میں بندہ ہوں) کہنا ہے۔ اناالحق بہت بڑی عاجزی ہے کیونکہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں خدا کا بندہ ہوں وہ دو ہستیوں کو ثابت کرتا ہے، ایک اپنے آپ کو اور دوسرا خدا کو، لیکن جو اناالحق کہتا ہے وہ اپنے آپ کو معدوم کرتا ہے، فنا کرتا ہے، وہ کہتا ہے اناالحق یعنی میں نہیں ہوں، سب وہی ہے۔ خدا کے سوا کوئی ہستی نہیں، میں کلی طور پر عدم محض ہوں اور کچھ بھی نہیں۔ اس میں بے حد عاجزی ہے مگر یہ بات لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی۔<ref>مولانا جلال الدین رومی، فیہ ما فیہ، (اردو ترجمہ ملفوظات رومی، مترجم، عبدالرشید تبسم) ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور، طبح چہارم 1991ء، صفحہ 80</ref> ==مولانا رومی کے متعلق اقوال== ===[[علامہ محمد اقبال]] کا فارسی میں خراجِ تحسین=== *پیر رومی مرشدِ روشن ضمیر<br>کارروانِ عشق و مستی را اَمیر<br>منزلش بر تر زِ ماہ و آفتاب<br>خیمہ را از کہکشاں سازد طناب<br>نورِ قرآں درمیانِ سینہ اَش<br>جامِ جم شرمندہ از آئینہ اش<br>از نئے آں نَے نوازِ پاک زاد<br>باز شورے در نہادِ من فتاد<br>گفت جانہا محرمِ اسرار شد<br>خاور از خوابِ گراں بیدار شد<br>جذبہ ہائے تازہ اُو را دادہ اند<br>بندیائے کہنہ را بکشادہ اند **[[پس چہ باید کرد اے اقوام شرق]]، صفحہ 803۔ *جز تو اے دانائے اسرارِ فرنگ<br>کس نکو نہ نشست در نارِ فرنگ<br>باش مانندِ خلیل اللہ مست<br>ہر کہن بت خانہ را باید شکست<br>اُمتاں را زِندگی جذبِ دروں<br>کم نظر ایں جذبِ را گوید جنوں<br>ہیچ قومے زیرِ چرخِ لاجورد<br>بے جنونِ ذو فنوں کارے نہ کرد<br>مومن از عزم و توکل قاہر است<br>گر نہ دارد ایں دو جوہر کافر است **[[پس چہ باید کرد اے اقوام شرق]]، صفحہ 804۔ *نکتہ ہا از پیر روم آموختم<br>خویش را در حرف او واسوختم<br>مال را گر بہر دیں باشی حمول<br>نِعْمَ مَالٌ صَالِحٌ گوید رسول<br>گر نداری اندر ایں حکمت نظر<br>تو غلام و خواجہ تو سیم و زَر **[[پس چہ باید کرد اے اقوام شرق]]، صفحہ 825۔ *ہم خوگرِ محسوس ہیں ساحل کے خریدار<br>اِک بحر پُر آشوب و پُر اسرار ہے رومی<br>تو بھی ہے اِسی قافلۂِ شوق میں اقبال ؔ<br>جس قافلۂِ شوق کا سالار ہے رومی<br>اِس عصر کو بھی اُس نے دیا ہے کوئی پیغام<br>کہتے ہیں چراغ رہِ اَحرار ہے رومی **[[بال جبریل]]، صفحہ 440۔ ==مزید دیکھیے== *[[مثنوی مولانا روم]] ==حوالہ جات== {{ویکیپیڈیا}} {{حوالہ جات}} [[زمرہ:فارسی شعراء]] [[زمرہ:شعرائے روحانیت]] 5b7296huhqaujnqmf52zem96d13v50l 14412 14411 2026-06-11T05:39:43Z چھبورہ 3032 14412 wikitext text/x-wiki '''[[w:جلال الدین رومی| جلال الدین رومی]]''' مشہور [[فارسی]] [[شاعر]] مثنوی مولانا روم کے لکھنے والے۔ آپ کی مثنوی کا ترجمہ دنیا کی کئی زبانوں میں کیا جا چکا ہے۔ آپ کے پیروکار خود کو مولویہ کہلواتے ہیں۔ آپ کی دیگر تصنیفات میں، فیہ ما فیہ اور دیوان شمس تبریز ہیں اس کے علاوہ کچھ مکتوبات بھی آپ سے منسوب ہیں۔ ==اقتباسات== [[File:A man can't fly, Stoke.jpg|thumb|تمہیں تو پروں کیساتھ پیدا کیا گیا ہے تم کیوں رینگنا چاہتے ہو۔]] [[ملف:Sunrise over the sea.jpg|220px|تصغیر|عورت خدا کی ایک کرن ہے۔ عورت کوئی زمینی محبوب نہیں ہے۔ تم کہہ سکتے ہو کہ وہ تخلیق کار ہے، تخلیق نہیں]] [[File:Byxor till dräkt, Kleinwerder - Livrustkammaren - 65258.tif|thumb|میں نے بہت سے انسان دیکھے ہیں جن کے بدن پر لباس نہیں ہوتا، اور بہت سے لباس دیکھے جن کے اندر انسان نہیں ہوتا]] *چھت پر کچھ لوگ کھڑے ہیں اور ان کا سایہ زمین پر پڑ رہا ہے<br>وہ لوگ جو چھت پر ہیں گویا فکر ہیں ہیں اور ان کا سایہ عمل *[[آفتاب]] کی [[روشنی]] کے سوا آفتاب کے وجود کی کوئی [[دلیل]] نہیں ہوسکتی۔<br>[[سایہ]] کی کیا ہستی ہے کہ آفتاب کی دلیل بن سکے اس کے لیے یہی بہت ہے کہ آفتاب کا محکوم ہے۔ **مثنوی * اس نے ناز سے کہا کہ دیکھو اب زیادہ نا ستاؤ اور چلتے بنو<br>اس کا یہی کہنا کہ '''زیادہ نا ستاؤ''' میری آرزو ہے۔ **دیوان شمس ===فیہ ما فیہ=== *آخر [[منصور حلاج|منصور]] کا [[انا الحق]] کہنا بھی یہی معنی رکھتا ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ انا الحق کہنا بہت بڑا دعوی{{ا}}ہے۔ بڑا دعوی{{ا}} تو انا العبد (میں بندہ ہوں) کہنا ہے۔ اناالحق بہت بڑی عاجزی ہے کیونکہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں خدا کا بندہ ہوں وہ دو ہستیوں کو ثابت کرتا ہے، ایک اپنے آپ کو اور دوسرا خدا کو، لیکن جو اناالحق کہتا ہے وہ اپنے آپ کو معدوم کرتا ہے، فنا کرتا ہے، وہ کہتا ہے اناالحق یعنی میں نہیں ہوں، سب وہی ہے۔ خدا کے سوا کوئی ہستی نہیں، میں کلی طور پر عدم محض ہوں اور کچھ بھی نہیں۔ اس میں بے حد عاجزی ہے مگر یہ بات لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی۔<ref>مولانا جلال الدین رومی، فیہ ما فیہ، (اردو ترجمہ ملفوظات رومی، مترجم، عبدالرشید تبسم) ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور، طبع چہارم 1991ء، صفحہ 80</ref> ==مولانا رومی کے متعلق اقوال== ===[[علامہ محمد اقبال]] کا فارسی میں خراجِ تحسین=== *پیر رومی مرشدِ روشن ضمیر<br>کارروانِ عشق و مستی را اَمیر<br>منزلش بر تر زِ ماہ و آفتاب<br>خیمہ را از کہکشاں سازد طناب<br>نورِ قرآں درمیانِ سینہ اَش<br>جامِ جم شرمندہ از آئینہ اش<br>از نئے آں نَے نوازِ پاک زاد<br>باز شورے در نہادِ من فتاد<br>گفت جانہا محرمِ اسرار شد<br>خاور از خوابِ گراں بیدار شد<br>جذبہ ہائے تازہ اُو را دادہ اند<br>بندیائے کہنہ را بکشادہ اند **[[پس چہ باید کرد اے اقوام شرق]]، صفحہ 803۔ *جز تو اے دانائے اسرارِ فرنگ<br>کس نکو نہ نشست در نارِ فرنگ<br>باش مانندِ خلیل اللہ مست<br>ہر کہن بت خانہ را باید شکست<br>اُمتاں را زِندگی جذبِ دروں<br>کم نظر ایں جذبِ را گوید جنوں<br>ہیچ قومے زیرِ چرخِ لاجورد<br>بے جنونِ ذو فنوں کارے نہ کرد<br>مومن از عزم و توکل قاہر است<br>گر نہ دارد ایں دو جوہر کافر است **[[پس چہ باید کرد اے اقوام شرق]]، صفحہ 804۔ *نکتہ ہا از پیر روم آموختم<br>خویش را در حرف او واسوختم<br>مال را گر بہر دیں باشی حمول<br>نِعْمَ مَالٌ صَالِحٌ گوید رسول<br>گر نداری اندر ایں حکمت نظر<br>تو غلام و خواجہ تو سیم و زَر **[[پس چہ باید کرد اے اقوام شرق]]، صفحہ 825۔ *ہم خوگرِ محسوس ہیں ساحل کے خریدار<br>اِک بحر پُر آشوب و پُر اسرار ہے رومی<br>تو بھی ہے اِسی قافلۂِ شوق میں اقبال ؔ<br>جس قافلۂِ شوق کا سالار ہے رومی<br>اِس عصر کو بھی اُس نے دیا ہے کوئی پیغام<br>کہتے ہیں چراغ رہِ اَحرار ہے رومی **[[بال جبریل]]، صفحہ 440۔ ==مزید دیکھیے== *[[مثنوی مولانا روم]] ==حوالہ جات== {{ویکیپیڈیا}} {{حوالہ جات}} [[زمرہ:فارسی شعراء]] [[زمرہ:شعرائے روحانیت]] jzz79iw66d8qnio96500t4v3snge3tx فیض احمد فیض 0 4801 14415 11634 2026-06-11T05:49:17Z چھبورہ 3032 /* غزل */ 14415 wikitext text/x-wiki '''[[w:فیض احمد فیض|فیض احمد فیض]]''' (پیدائش: 13 فروری 1911ء – وفات: 20 نومبر 1984ء) اُردو زبان کے نامور شہرت یافتہ شاعر، مارکس ازم کے حامی، اور ادیب تھے۔ اُنہیں [[پاکستان]] کے مشہور شعراء میں شمار کیا جاتا ہے جبکہ بھارت میں بھی اُن کی مقبولیت یکساں شمار کی جاتی ہے۔ ==شعر== ===نظم=== *مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ<br>میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات<br> تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے<br>تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات<br>تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے<br> تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے<br>یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے<br> اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا<br> راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا<br>ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم<br>ریشم و اطلس و کمخاب میں بنوائے ہوئے<br> جا بہ جا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم<br>خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے<br> جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے<br>پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے<br> لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے<br>اب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے<br>اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا<br>راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا<br>مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ **نسخہ ہائے وفا، صفحہ 61۔ ===غزل=== *کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہات میں تیرا ہاتھ نہیں<br>صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں<br>مشکل ہیں اگر حالات وہاں دل بیچ آئیں جاں دے آئیں <br>دل والو کوچۂ جاناں میں کیا ایسے بھی حالات نہیں <br>جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے<br>یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں<br>میدان وفا دربار نہیں یاں نام و نسب کی پوچھ کہاں<br>عاشق تو کسی کا نام نہیں کچھ عشق کسی کی ذات نہیں<br>گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا<br>گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں ۔ **نسخہ ہائے وفا، صفحہ 259۔ ===غزل=== *گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے<br>چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے<br>قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو<br>کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے<br>کبھی تو صبح ترے کنج لب سے ہو آغاز<br>کبھی تو شب سر کاکل سے مشکبار چلے<br>بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی<br>تمہارے نام پہ آئیں گے غم گسار چلے<br>جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراں<br>ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے<br>حضور یار ہوئی دفتر جنوں کی طلب<br>گرہ میں لے کے گریباں کا تار تار چلے<br>مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں<br>جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے۔ **نسخہ ہائے وفا، صفحہ 264۔ منٹگمری جیل (ساہیوال) میں 29 جنوری 1954ء کو لکھی گئی۔ ==اشعار== *دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے<br> لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے۔ **9 مارچ 1954ء کو منٹگمری جیل (ساہیوال) میں کہی گئی غزل کا ایک شعر، اقتباس از: نسخہ ہائے وفا، صفحہ 260۔ *تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں<br> کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں۔ **نسخہ ہائے وفا، صفحہ 133۔ *آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے<br> اس کے بعد آئے جو عذاب آئے۔ **نسخہ ہائے وفا، صفحہ 173۔ *رات یوں دِل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی<br>جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے<br>جیسے صحراؤں میں ہَولے سے چلے بادِ نسیم<br>جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے۔ ==فیض احمد فیض سے متعلق اقتباسات و آراء== ===[[مشتاق احمد یوسفی]]=== *[[اردو ادب]] کی تاریخ میں تین مرنجان اہلِ قلم ایسے گزرے ہیں جن کی ذاتی شرافت و شائستگی اور عظمت و برگذیدگی اُن کی تحریر سے بھی جھلکتی ہے۔ یہ تینوں اپنے مزاج و اقدار کی بلندی ، شیرینی اور شائستگی کو اپنے الفاظ میں سمو دیتے ہیں، اور اپنے لہجے میں اپنی طبیعت و کردار کا سارا حُسن لے آتے ہیں: یہ ہیں خواجہ الطاف حسین حالی،[[ رشید احمد صدیقی]] اور [[فیض احمد فیض]]۔ **شام شعر یاراں، صفحہ 58۔ ==مزید دیکھیں== {{wikipedia}} *مشتاق احمد یوسفی: '''شام شعر یاراں'''، مطبوعہ کراچی، 2014ء [[زمرہ:1911ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1984ء کی وفیات]] [[زمرہ:پاکستانی شخصیات]] [[زمرہ:پاکستانی مسلم شخصیات]] [[زمرہ:پاکستانی شعراء]] [[زمرہ:شعرائے اردو]] [[زمرہ:پاکستانی مصنفین]] [[زمرہ:اردو مصنفین]] [[زمرہ:لاہور کی شخصیات]] 3to4mx07untyp5ibqinjj7j29gxsrrj شاہ حسین 0 4810 14414 10783 2026-06-11T05:45:03Z چھبورہ 3032 14414 wikitext text/x-wiki شاہ حسین المعروف مادھو لال حسین (پیدائش: 1538ء — وفات: 1599ء) ایک صوفی اور پنجابی شاعر تھے جو فقیر لاہور سے معروف ہیں۔[[زمرہ:1538ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1599ء کی وفیات]] [[زمرہ:صوفی شعراء]] [[زمرہ:لاہور کی شخصیات]] [[زمرہ:فارسی زبان کے شعراء]] [[زمرہ:پاکستانی مسلم شخصیات]] [[زمرہ:پنجابی زبان]] [[زمرہ:پنجابی ادب]] [[زمرہ:پنجابی زبان کے شعراء]] ah4jmq96czdcsdxh7rquqgu180jiaie سلطان باہو 0 4828 14413 11075 2026-06-11T05:42:38Z چھبورہ 3032 /* شاعری سے اقتباسات */ 14413 wikitext text/x-wiki '''[[w:سلطان باہو|سلطان محمد باہو]]''' (پیدائش: 17 جنوری 1630ء – وفات: یکم مارچ 1691ء) صوفی [[شاعر]]، مصنف، محقق اور عالم تھے۔ [[شاعری]] میں [[تصوف]] کا رجحان بکثرت پایا جاتا ہے جو کہ پنجابی زبان میں پنجابی ادب کا شاہکار تصور کی جاتی ہے۔۔ یکم مارچ 1691ء کو شورکوٹ میں فوت ہوئے۔ ==اقتباسات== ===شاعری سے اقتباسات === *الف اللہ چنبے دی بُوٹی، مرشد من وِچ لائی ھو<br>نفی اَثبات دا پانی ملیس، ہر رَگے ہر جائی ھو<br>اَندر بُوٹی مُشک مچایا، جان پُھلن تے آئی ھو<br>جیوے مرشد کامل باہُو، جیں ایہہ بُوٹی لائی ھو۔ *'''ترجمہ''' *[[اللہ]] نام کا، چنبیلی کا پودا [[مرشد]] نے میرے دِل میں لگایا<br>اور نفی اَثبات کا [[پانی]] اُس کی رگ و پَے کو دِیا<br>جب اُس پودے پر [[پھول]] آئے تو اُن کی خوشبو سے میرا سارا باطن مہک اُٹھا<br>اے باہُو! میرا مرشد کامل ہمیشہ سلامت رہے جس نے یہ پودا لگایا۔ **پنجاب کا صوفی ورثہ، صفحہ 119۔ ==مزید دیکھیں== *اکرم شیخ: پنجاب کا صوفی ورثہ، مطبوعہ لاہور۔ {{Wikipedia}} [[زمرہ:1630ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1691ء کی وفیات]] [[زمرہ:مسلمان]] [[زمرہ:مذہبی قائدین]] [[زمرہ:صوفی شعراء]] [[زمرہ:شعرائے روحانیت]] [[زمرہ:فارسی ادب]] [[زمرہ:فارسی زبان کے شعراء]] [[زمرہ:پنجابی زبان]] [[زمرہ:پنجابی ادب]] [[زمرہ:پنجابی زبان کے شعراء]] [[زمرہ:روحانی شخصیات]] [[زمرہ:صوفی شخصیات]] dc1oerl6rh6icf9og7dm77jd0wrm4bn این فرینک 0 5658 14410 14407 2026-06-10T14:32:18Z Muntaqibah 2617 /* اقتباسات */ اقتباس 14410 wikitext text/x-wiki '''[[w: این فرینک| این فرینک]]''' (12 جون 1929 – فروری/مارچ 1945) ایک نوجوان جرمن نژاد یہودی ڈائری نویس اور ابھرتی ہوئی مصنفہ تھیں۔ وہ نازی دور کے مظالم کے دوران حراستی کیمپ میں ٹائیفَس کے مرض کے باعث وفات پا گئیں۔ ان کی ڈائری دنیا بھر میں ظلم، جنگ اور انسانی حوصلے کی ایک اہم گواہی کے طور پر جانی جاتی ہے- [[File:Anne Frank lacht naar de schoolfotograaf.jpg|thumb|It's a [[wonder]] I haven't abandoned all my [[ideals]], they [[seem]] so [[absurd]] and impractical. Yet I cling to them because I still [[believe]], in spite of everything, that [[people]] are [[truly]] [[good]] at [[heart]].| ایک حیرت کی بات ہے کہ میں نے اپنے تمام نظریات ترک نہیں کیے، حالانکہ وہ کتنے بے معنی اور ناقابلِ عمل محسوس ہوتے ہیں۔ پھر بھی میں اُن سے وابستہ ہوں، کیونکہ ہر چیز کے باوجود میرا اب بھی یہ یقین ہے کہ انسان فطرتاً دل کے اچھے ہوتے ہیں۔]] ==اقتباسات== * ایک حیرت کی بات ہے کہ میں نے اپنے تمام نظریات ترک نہیں کیے، حالانکہ وہ کتنے بے معنی اور ناقابلِ عمل محسوس ہوتے ہیں۔ پھر بھی میں اُن سے وابستہ ہوں، کیونکہ ہر چیز کے باوجود میرا اب بھی یہ یقین ہے کہ انسان فطرتاً دل کے اچھے ہوتے ہیں۔ *میں نے ایک بات سیکھی ہے: انسان کی اصل پہچان لڑائی کے بعد ہی ہوتی ہے۔ تبھی آپ اس کے اصل کردار کا اندازہ لگا سکتے ہیں! * صرف اچھی نصیحت کر سکتے ہیں یا سیدھے راستے پر ڈال سکتے ہیں، لیکن کسی انسان کے کردار کی حتمی تشکیل خود اس کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} slpadje0c11vg12wtju6wf9he2pdeqg صارف:چھبورہ 2 5660 14416 2026-06-11T05:53:21Z چھبورہ 3032 ”صارف اردو ویکیپیڈیا“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 14416 wikitext text/x-wiki صارف اردو ویکیپیڈیا imkncuacr29qhtmug7l3x7mqguw3ndy ویکی اقتباس:آج کا اقتباس/11 جون 2026 4 5661 14417 2026-06-11T06:29:21Z Aafi 2411 آج کا اقتباس 14417 wikitext text/x-wiki {{Wikiquote:Quote of the day/Template | image1 = Sidney Poitier (47327458201).jpg | image1px = 222px | image2 = Sidney Poitier PMF.jpg | image2px = 292px | quote = <!-- ⨀ <br /> -->امید نسلِ انسانی کی بقا کے سامان کا ابدی ہتھیار ہے۔ ہم تھوڑی سی خوش قسمتی کی امید کرتے ہیں، ہم ایک بہتر کل کی امید کرتے ہیں، ہم امید کرتے ہیں—اگرچہ یہ ایک ناممکن امید ہے—کہ کسی نہ کسی طرح اس دنیا سے زندہ سلامت نکل جائیں۔<br /> اور اگر ہم ایسا نہ کر سکیں اور نہ ہی کر پائیں، تو پھر ہمارے لیے یہی بہت ہے کہ ہم یہاں گزرے اپنے مختصر سے لمحوں پر شادماں ہوں اور یہ یاد رکھیں کہ ہمیں اس دنیا کا نظارہ کتنا عزیز تھا۔ | author = سڈنی پوٹیئر }} rv5cy5x7e65rmed4spdfd55s5z83wwp