ویکی اقتباس urwikiquote https://ur.wikiquote.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%81_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.7 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی اقتباس تبادلۂ خیال ویکی اقتباس فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk سانچہ:New pages 10 2677 14665 14614 2026-06-22T00:00:19Z Aafis Bot 2972 تجدید فہرست (روبہ) 14665 wikitext text/x-wiki <div style="background-color: #faf9b2;color:var(--color-base-fixed,#202122); border: 2px solid #faf9b2; border-bottom: none; padding-top: 0.3em; padding-bottom: 0.3em; font-size: large; text-align:center;"> '''[[Special:NewPages|نئے صفحات]]''' </div> <!-- Image start --> [[File:Rev. Reinhold Niebuhr 1927 Edit.jpg|thumb|ویکی اقتباس میں نیا: [[رائن ہولڈ نیبر]]]] <!-- Image end --> <div style="background: #ffffec; color:var(--color-base-fixed,#202122); border: 2px solid #faf9b2; border-top: none; padding: 0.6em; padding-top: none;"> <!-- NOTE BEFORE ADDING: Total of fourteen (15) only, in chronological order: add to top, remove from bottom --> <!-- List Top --> :[[رائن ہولڈ نیبر]] :[[وارث علوی]] :[[محی الدین قادری زور]] :[[امتیاز علی عرشی]] :[[محمد حسن عسکری]] :[[محمود حسن عسکری]] :[[وزیر آغا]] :[[قمر رئیس]] :[[ف س اعجاز]] :[[جمیل جالبی]] :[[اسلوب احمد انصاری]] :[[گوپی چند نارنگ]] :[[ازہر شاہ قیصر]] :[[ابو الکلام قاسمی]] :[[نیاز فتح پوری]] <!-- List Bottom --> {{break}} <div style="text-align:center;" class="plainlinks">چند نئے صفحات کی ایک جزوی فہرست ([[Special:NewPages|نئے صفحات]] [http://ur.wikiquote.org/w/index.php?title=سانچہ:New_pages&action=edit شامل کریں])</div></div><noinclude>[[Category:Main Page templates|{{PAGENAME}}]]</noinclude> 0pzcov8031d6vg7n0ytt9b4esqndf0o صارف:Khajb/فہرست برائے ایکسپلورنگ اردو مسابقہ 2 5666 14650 14618 2026-06-21T13:37:57Z Khajb 3035 14650 wikitext text/x-wiki #[[شبلی نعمانی]] #[[مولوی عبدالحق]] #[[محمد مجیب]] #[[مختار احمد انصاری]] #[[رشید احمد صدیقی]] #[[محمود الحسن]] #[[خواجہ غلام السیدین]] #[[سید احمد دہلوی]] #[[حافظ محمود شیرانی]] #[[ذکاء اللہ دہلوی]] #[[قرۃ العین حیدر]] #[[آل احمد سرور]] #[[محمد حسین آزاد]] #[[سید احتشام حسین]] #[[کلیم الدین احمد]] #[[مسعود حسین خان]] #[[فرمان فتح پوری]] #[[عبادت بریلوی]] #[[وقار عظیم]] #[[مجنوں گورکھپوری]] #[[شمیم حنفی]] #[[نیاز فتح پوری]] #[[اسلوب احمد انصاری]] #[[جمیل جالبی]] #[[وزیر آغا]] 6z6dl0adidfreapybubmf7kpindhq8m 14652 14650 2026-06-21T15:29:08Z Khajb 3035 14652 wikitext text/x-wiki #[[شبلی نعمانی]] #[[مولوی عبدالحق]] #[[محمد مجیب]] #[[مختار احمد انصاری]] #[[رشید احمد صدیقی]] #[[محمود الحسن]] #[[خواجہ غلام السیدین]] #[[سید احمد دہلوی]] #[[حافظ محمود شیرانی]] #[[ذکاء اللہ دہلوی]] #[[قرۃ العین حیدر]] #[[آل احمد سرور]] #[[محمد حسین آزاد]] #[[سید احتشام حسین]] #[[کلیم الدین احمد]] #[[مسعود حسین خان]] #[[فرمان فتح پوری]] #[[عبادت بریلوی]] #[[وقار عظیم]] #[[مجنوں گورکھپوری]] #[[شمیم حنفی]] #[[نیاز فتح پوری]] #[[اسلوب احمد انصاری]] #[[جمیل جالبی]] #[[وزیر آغا]] #[[محمد حسن عسکری]] dmltydbdf38tfgotrrmu1t7czg4gish 14655 14652 2026-06-21T16:40:18Z Khajb 3035 14655 wikitext text/x-wiki #[[شبلی نعمانی]] #[[مولوی عبدالحق]] #[[محمد مجیب]] #[[مختار احمد انصاری]] #[[رشید احمد صدیقی]] #[[محمود الحسن]] #[[خواجہ غلام السیدین]] #[[سید احمد دہلوی]] #[[حافظ محمود شیرانی]] #[[ذکاء اللہ دہلوی]] #[[قرۃ العین حیدر]] #[[آل احمد سرور]] #[[محمد حسین آزاد]] #[[سید احتشام حسین]] #[[کلیم الدین احمد]] #[[مسعود حسین خان]] #[[فرمان فتح پوری]] #[[عبادت بریلوی]] #[[وقار عظیم]] #[[مجنوں گورکھپوری]] #[[شمیم حنفی]] #[[نیاز فتح پوری]] #[[اسلوب احمد انصاری]] #[[جمیل جالبی]] #[[وزیر آغا]] #[[محمد حسن عسکری]] #[[امتیاز علی عرشی]] ozooj011blno3i92c8t1ccq0jlzgr1k 14657 14655 2026-06-21T19:26:16Z Khajb 3035 14657 wikitext text/x-wiki #[[شبلی نعمانی]] #[[مولوی عبدالحق]] #[[محمد مجیب]] #[[مختار احمد انصاری]] #[[رشید احمد صدیقی]] #[[محمود الحسن]] #[[خواجہ غلام السیدین]] #[[سید احمد دہلوی]] #[[حافظ محمود شیرانی]] #[[ذکاء اللہ دہلوی]] #[[قرۃ العین حیدر]] #[[آل احمد سرور]] #[[محمد حسین آزاد]] #[[سید احتشام حسین]] #[[کلیم الدین احمد]] #[[مسعود حسین خان]] #[[فرمان فتح پوری]] #[[عبادت بریلوی]] #[[وقار عظیم]] #[[مجنوں گورکھپوری]] #[[شمیم حنفی]] #[[نیاز فتح پوری]] #[[اسلوب احمد انصاری]] #[[جمیل جالبی]] #[[وزیر آغا]] #[[محمد حسن عسکری]] #[[امتیاز علی عرشی]] #[[محی الدین قادری زور]] ffghukicb0y6u8undrw9wcmhpfi2m9r 14659 14657 2026-06-21T20:19:19Z Khajb 3035 14659 wikitext text/x-wiki #[[شبلی نعمانی]] #[[مولوی عبدالحق]] #[[محمد مجیب]] #[[مختار احمد انصاری]] #[[رشید احمد صدیقی]] #[[محمود الحسن]] #[[خواجہ غلام السیدین]] #[[سید احمد دہلوی]] #[[حافظ محمود شیرانی]] #[[ذکاء اللہ دہلوی]] #[[قرۃ العین حیدر]] #[[آل احمد سرور]] #[[محمد حسین آزاد]] #[[سید احتشام حسین]] #[[کلیم الدین احمد]] #[[مسعود حسین خان]] #[[فرمان فتح پوری]] #[[عبادت بریلوی]] #[[وقار عظیم]] #[[مجنوں گورکھپوری]] #[[شمیم حنفی]] #[[نیاز فتح پوری]] #[[اسلوب احمد انصاری]] #[[جمیل جالبی]] #[[وزیر آغا]] #[[محمد حسن عسکری]] #[[امتیاز علی عرشی]] #[[محی الدین قادری زور]] #[[وارث علوی]] col3dsfk8l926oicficgu93y414uf8t 14668 14659 2026-06-22T09:40:05Z Khajb 3035 14668 wikitext text/x-wiki #[[شبلی نعمانی]] #[[مولوی عبدالحق]] #[[محمد مجیب]] #[[مختار احمد انصاری]] #[[رشید احمد صدیقی]] #[[محمود الحسن]] #[[خواجہ غلام السیدین]] #[[سید احمد دہلوی]] #[[حافظ محمود شیرانی]] #[[ذکاء اللہ دہلوی]] #[[قرۃ العین حیدر]] #[[آل احمد سرور]] #[[محمد حسین آزاد]] #[[سید احتشام حسین]] #[[کلیم الدین احمد]] #[[مسعود حسین خان]] #[[فرمان فتح پوری]] #[[عبادت بریلوی]] #[[وقار عظیم]] #[[مجنوں گورکھپوری]] #[[شمیم حنفی]] #[[نیاز فتح پوری]] #[[اسلوب احمد انصاری]] #[[جمیل جالبی]] #[[وزیر آغا]] #[[محمد حسن عسکری]] #[[امتیاز علی عرشی]] #[[محی الدین قادری زور]] #[[وارث علوی]] #[[نثار احمد فاروقی]] poxhftoj3gtgj5mshbv8sbw8zijb9nb ذکاء اللہ دہلوی 0 5692 14636 14530 2026-06-21T12:29:16Z Khajb 3035 14636 wikitext text/x-wiki '''[[w:ذکاء اللہ دہلوی|ذکاء اللہ دہلوی]]''' (1832ء – 1910ء) انیسویں صدی کے ایک ممتاز ہندوستانی مؤرخ، ماہرِ تعلیم، اور مترجم تھے۔ وہ سر سید کی علی گڑھ تحریک کے اہم رکن تھے اور انہوں نے تاریخ، ریاضی اور اخلاقیات پر متعدد کتابیں لکھ کر اردو نثر کے علمی دامن کو بے حد وسیع کیا۔ == اقوال == * تعلیم کا مقصد محض روزی کمانا اور نوکری حاصل کرنا نہیں، بلکہ انسان کی ذہنی اور اخلاقی نشوونما ہے۔ ** مولوی ذکاء اللہ، ''تہذیبِ اخلاق'' (مقالات)، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، 1990ء، ص 34۔ * تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ عروج و زوال کسی قوم کی اندھی تقدیر نہیں، بلکہ اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ** مولوی ذکاء اللہ، ''تاریخِ ہندوستان'' (جلد اول)، مطبع انسٹی ٹیوٹ، علی گڑھ، 1875ء، دیباچہ، ص 12۔ * علم ایک ایسی لازوال روشنی ہے جو انسان کو جہالت کے اندھیروں اور ذہنی تعصب کی قید سے ہمیشہ کے لیے آزاد کر دیتی ہے۔ ** مولوی ذکاء اللہ، ''محاسنِ الاخلاق''، مطبع انوارِ احمدی، الہ آباد، 1892ء، ص 56۔ * سچی اور دیانتدارانہ محنت کے بغیر دنیا کی کوئی بھی قوم معاشی یا تہذیبی ترقی کے زینے پر قدم نہیں رکھ سکتی۔ ** مولوی ذکاء اللہ، ''محاسنِ الاخلاق''، مطبع انوارِ احمدی، الہ آباد، 1892ء، ص 88۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} mgu8buu0tk4v3xvdhaxwb8mbpwbc5i5 قرۃ العین حیدر 0 5693 14637 14526 2026-06-21T12:48:51Z Khajb 3035 14637 wikitext text/x-wiki '''[[w:قرۃ العین حیدر|قرۃ العین حیدر]]''' (1927ء – 2007ء) ہندوستان کی ایک عظیم ناول نگار، افسانہ نگار، صحافی اور نامور دانشور تھیں۔ انہیں اردو ادب میں تاریخ، تہذیب اور وقت کے فلسفیانہ شعور کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ان کا شاہکار ناول "آگ کا دریا" اردو نثر کا ایک بے مثال اور تاریخی سرمایہ ہے۔ == اقوال == * وقت ایک بے رحم مگر خاموش دریا ہے، جس کی لہروں میں انسان، اس کی تہذیب اور اس کے دکھ درد پانی کے بلبلوں کی طرح ابھرتے اور مٹتے رہتے ہیں۔ ** قرۃ العین حیدر، ''آگ کا دریا''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2002ء، ص 15۔ * انسان اپنی یادداشتیں تو شاید کھو سکتا ہے، لیکن اپنی مٹی، اپنی تہذیب اور اپنی تاریخ کی جڑوں سے کبھی مکمل طور پر کٹ کر زندہ نہیں رہ سکتا۔ ** قرۃ العین حیدر، ''کارِ جہاں دراز ہے'' (جلد اول)، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، 2003ء، ص 45۔ * سیاسی سرحدیں محض زمین کو تقسیم کر سکتی ہیں، لیکن وہ صدیوں پر محیط مشترک انسانی ثقافت اور جذباتی رشتوں کو کبھی نہیں بانٹ سکتیں۔ ** قرۃ العین حیدر، ''آخری شب کے ہم سفر''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2010ء، ص 78۔ * تاریخ کا سب سے بڑا اور بھیانک المیہ یہ ہے کہ انسان اس سے کبھی کوئی سبق نہیں سیکھتا، اور ہر نئی نسل وہی پرانی غلطیاں نئے ناموں سے دہراتی ہے۔ ** قرۃ العین حیدر، ''سفینۂ غمِ دل''، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، 2002ء، ص 112۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} 4slxt9yckkwh75ml0tqw9891hgeyq58 آل احمد سرور 0 5700 14638 14565 2026-06-21T12:53:36Z Khajb 3035 14638 wikitext text/x-wiki '''[[w:آل احمد سرور|آل احمد سرور]]''' (1911ء – 2002ء) اردو کے ایک مایہ ناز نقاد، دانشور اور ممتاز ماہرِ تعلیم تھے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر اور کشمیر یونیورسٹی میں اقبال چیئر کے پروفیسر رہے۔ اردو تنقید کو واضح کرنے میں ان کا کردار انتہائی معتبر مانا جاتا ہے۔ == اقوال == * ادب ہمیں مسرت سے بصیرت تک لے جاتا ہے، یہ صرف عارضی خوشی کا ذریعہ نہیں بلکہ زندگی کو گہرائی سے سمجھنے کا ایک بڑا وسیلہ ہے۔ ** آل احمد سرور، ''مسرت سے بصیرت تک''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 1995ء، ص 11۔ * تنقید کا اصل کام صرف عیب نکالنا یا اندھی تعریف کرنا نہیں ہے، بلکہ ادب پاروں کو صحیح معنوں میں سمجھنا اور ان کی حقیقی قدر و قیمت کا تعین کرنا ہے۔ ** آل احمد سرور، ''تنقید کیا ہے''، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، 2004ء، ص 25۔ * کوئی بھی بڑا ادب اپنے دور کی معاشرتی اور تہذیبی سچائیوں سے مکمل طور پر کٹ کر زیادہ عرصے تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ ** آل احمد سرور، ''ادب اور نظریہ''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 1989ء، ص 48۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} lnqxxzdn7h5rqc2kbwgkmlt3tgixqgg محمد حسین آزاد 0 5701 14634 14567 2026-06-21T12:16:14Z Khajb 3035 14634 wikitext text/x-wiki '''[[w:محمد حسین آزاد|محمد حسین آزاد]]''' (1830ء – 1910ء) اردو کے ایک عظیم الشان انشا پرداز، مؤرخ، نقاد اور پروفیسر تھے۔ ان کی معرکہ آرا تصنیف 'آبِ حیات' اردو شعراء کی تاریخ اور تذکرہ نویسی میں ایک سنگِ میل کا درجہ رکھتی ہے۔ == اقوال == * زبان ہمیشہ عوام کی بول چال، ضرورتوں اور معاشرتی ملاپ کے ساتھ بدلتی اور ترقی کرتی رہتی ہے، اسے کسی ایک جگہ قید نہیں کیا جا سکتا۔ ** محمد حسین آزاد، ''آبِ حیات''، اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ، 1982ء، ص 9۔ * انشا پردازی (شاندار نثر) کا اصل کمال یہ ہے کہ معمولی اور سادہ بات کو بھی اس طرح خوبصورت لفظوں کا لباس پہنایا جائے کہ وہ پڑھنے والے کے دل پر اثر کر جائے۔ ** محمد حسین آزاد، ''نیرنگِ خیال''، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، 2005ء، ص 5۔ * ادب کی تاریخ محض کتابوں اور مصنفین کا تذکرہ نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے دور کے معاشرے، تہذیب اور انسانی جذبات کے بدلتے ہوئے رنگوں کا ایک شفاف آئینہ ہے۔ ** محمد حسین آزاد، ''آبِ حیات''، اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ، 1982ء، ص 2۔ ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} kwng274lt6rkihvtquu5if38ikv978z سید احتشام حسین 0 5705 14639 14582 2026-06-21T12:56:21Z Khajb 3035 14639 wikitext text/x-wiki '''[[w:سید احتشام حسین|سید احتشام حسین]]''' (1912ء – 1972ء) اردو کے ایک ممتاز ترقی پسند نقاد، محقق، اور ماہرِ تعلیم تھے۔ انہوں نے اردو تنقید کو ایک واضح سماجی اور فکری زاویہ عطا کیا۔ ان کی تصانیف اردو ادب کے طلبہ کے لیے بنیادی درسی کتب کا درجہ رکھتی ہیں۔ == اقوال == * ادب زندگی کا محض ایک بے جان عکس ہی نہیں ہے، بلکہ یہ زندگی کو بدلنے، اسے سنوارنے اور معاشرے کو ایک نئی سمت دینے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ ** سید احتشام حسین، ''تنقیدی زاویے''، ادارۂ فروغِ اردو، لکھنؤ، 1950ء، ص 25۔ * سچی تنقید کا اصل فرض یہ ہے کہ وہ کسی بھی تخلیق کو صرف اس کے ظاہری الفاظ کی بنیاد پر نہ پرکھے، بلکہ ادیب کے سماجی شعور اور اس کے داخلی مقصد کا بھی گہرا جائزہ لے۔ ** سید احتشام حسین، ''تنقیدی نظریات''، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، 2002ء، ص 40۔ * اردو زبان کی تاریخ دراصل ہندوستان کے عوام کے باہمی اتحاد، رواداری، اور ایک خوبصورت مشترک گنگا جمنی تہذیب کے ارتقاء کی تاریخ ہے۔ ** سید احتشام حسین، ''اردو ادب کی تنقیدی تاریخ''، قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (NCPUL)، نئی دہلی، 2004ء، ص 15۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} bp747m4l09vsrd656bbksl5lpxk5yvu کلیم الدین احمد 0 5706 14640 14584 2026-06-21T12:58:14Z Khajb 3035 14640 wikitext text/x-wiki '''[[w:کلیم الدین احمد|کلیم الدین احمد]]''' (1908ء – 1983ء) اردو ادب کے ایک انتہائی اہم، بے باک اور معرکہ آرا نقاد اور پروفیسر تھے۔ انہوں نے روایتی تنقید کے بجائے مغربی اصولِ تنقید کی روشنی میں اردو ادب کا علمی جائزہ لیا۔ ان کے نظریات نے اردو ادبی دنیا میں ایک نیا فکری انقلاب پیدا کیا۔ == اقوال == * اردو تنقید معشوق کی موہوم کمر ہے، جس کا وجود تو ہے ہی نہیں اور اگر ہے بھی تو وہ صرف شاعر کی خیالات میں پایا جاتا ہے۔ ** کلیم الدین احمد، ''اردو تنقید پر ایک نظر''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 1997ء، ص 10۔ * غزل ایک نیم وحشی صنفِ سخن ہے، کیونکہ اس میں خیالات کا تسلسل اور نظم و ضبط نہیں ہوتا، بلکہ ہر شعر اپنی جگہ ایک الگ اور بکھری ہوئی کائنات ہوتا ہے۔ ** کلیم الدین احمد، ''اردو شاعری پر ایک نظر''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2002ء، ص 24۔ * سچی اور جاندار تنقید کے لیے ضروری ہے کہ نقاد کسی ذاتی ہمدردی، مروت یا عقیدت کے بغیر، صرف علمی اور سخت گیر اصولوں پر متن کا فیصلہ کرے۔ ** کلیم الدین احمد، ''تنقید کے اصول''، کتاب منزل، پٹنہ، 1993ء، ص 45۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} obpnqgr7hk74cf21bkp307yzjhcitcj مسعود حسین خان 0 5707 14641 14586 2026-06-21T13:00:05Z Khajb 3035 14641 wikitext text/x-wiki '''[[w:مسعود حسین خان|مسعود حسین خان]]''' (1919ء – 2010ء) اردو کے ایک ممتاز ماہرِ لسانیات، محقق، نقاد اور ماہرِ تعلیم تھے۔ انہوں نے اردو زبان کے آغاز و ارتقاء کے متعلق سائنسی اور لسانی اصولوں پر مبنی نظریات پیش کیے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پروفیسر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شیخ الجامعہ (وائس چانسلر) بھی رہے۔ == اقوال == * نواحِ دہلی کی بولیاں اردو کا اصل سرچشمہ ہیں اور اسی سرزمین پر دہلی کے مسلم فاتحین کے ہیلو ہانے اور میل جول سے اس زبان کی لسانی تشکیل عمل میں آئی۔ ** مسعود حسین خان، ''مقدمۂ تاریخِ زبانِ اردو''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2003ء، ص 72۔ * لسانیات کا مطالعہ صرف الفاظ کی بناوٹ یا گرامر تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ کسی بھی معاشرے کے ذہنی، تہذیبی اور ثقافتی ارتقاء کا ایک سائنسی آئینہ ہوتا ہے۔ ** مسعود حسین خان، ''لسانی مقالات''، قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (NCPUL)، نئی دہلی، 1998ء، ص 45۔ * شاعری میں اسلوب کی انفرادیت صرف بڑے لفظوں کے استعمال سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ الفاظ کے صوتیاتی آہنگ اور ان کی صحیح ترتیب سے وجود میں آتی ہے۔ ** مسعود حسین خان، ''اردو زبان اور ادب''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، علی گڑھ، 1990ء، ص 110۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} 9tgaa8jwcv29iw7gkt3ytuw90hxfm56 فرمان فتح پوری 0 5708 14642 14589 2026-06-21T13:02:18Z Khajb 3035 14642 wikitext text/x-wiki '''[[w:فرمان فتح پوری|فرمان فتح پوری]]''' (1926ء – 2013ء) اردو کے ایک ممتاز محقق، نقاد، لغت نویس اور پروفیسر تھے۔ انہوں نے اردو تنقید کی تاریخ اور لسانیات پر گراں قدر خدمات انجام دیں اور طویل عرصے تک اردو ڈکشنری بورڈ کے سربراہ رہے۔ ان کی علمی تصانیف اردو ادب کے ارتقاء کو سمجھنے کے لیے بنیادی ماخذ مانی جاتی ہیں۔ == اقوال == * تنقید کا اصل مقصد تخلیق کے محاسن اور معائب کو اس طرح واضح کرنا ہے کہ عام قاری کے لیے فن پارہ کی تفہیم، اس کی روح اور اس کا مقصد پوری طرح آسان ہو جائے۔ ** فرمان فتح پوری، ''اردو تنقید کا ارتقا''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 1996ء، ص 38۔ * تحقیق اور تنقید ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں؛ تحقیق اگر تاریخی حقائق کو بے نقاب کرتی ہے تو تنقید ان حقائق کی ادبی اور فکری قدر و قیمت متعین کرتی ہے۔ ** فرمان فتح پوری، ''تحقیق اور تنقید''، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، 1988ء، ص 15۔ * کلاسیکی ادب کا مطالعہ ہمیں صرف ماضی کی یادوں سے نہیں جوڑتا، بلکہ وہ ہماری موجودہ تہذیبی زندگی اور آنے والے کل کے شعور کو بھی جلا بخشتا ہے۔ ** فرمان فتح پوری، ''غالب: شاعرِ امروز و فردا''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2005ء، ص 62۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} bbfxfte946agpga2i4jhqv4i15op5ef عبادت بریلوی 0 5710 14643 14593 2026-06-21T13:06:25Z Khajb 3035 14643 wikitext text/x-wiki '''[[w:عبادت بریلوی|عبادت بریلوی]]''' (1920ء – 1998ء) اردو کے ایک ممتاز نقاد، محقق، اور پروفیسر تھے۔ انہوں نے اردو تنقید کی تاریخ اور خاص طور پر غزل کی صنف پر گراں قدر کام کیا۔ ان کی تصانیف اردو ادب کے اعلیٰ نصاب اور تحقیقی مطالعے کا ایک اہم اور معتبر حصہ مانی جاتی ہیں۔ == اقوال == * غزل اردو شاعری کی روح ہے، کیونکہ یہ انسان کے داخلی جذبات، دل کی دھڑکنوں اور کائناتی سچائیوں کو صرف دو مصرعوں کے اختصار میں سمیٹنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتی ہے۔ ** عبادت بریلوی، ''غزل کا فن''، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، 1992ء، ص 14۔ * تنقید کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ قاری اور تخلیق کے درمیان حائل فکری دوریوں کو مٹائے، اور فن پارے کے اندر چھپے ہوئے حسن اور مقصد کو پوری دیانتداری سے آشکار کرے۔ ** عبادت بریلوی، ''اردو تنقید کا ارتقا''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 1998ء، ص 53۔ * جدید تنقید صرف پرانے اصولوں کی دہرائی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ بدلتے ہوئے زمانے کے تحت پیدا ہونے والے نئے فکری اور سماجی رویوں کو پرکھنے کا ایک زندہ عمل ہے۔ ** عبادت بریلوی، ''جدید اردو تنقید''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2004ء، ص 29۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} bgdpsvdvhy26hiyulkd5fzgl5pr07p5 وقار عظیم 0 5711 14644 14595 2026-06-21T13:09:16Z Khajb 3035 14644 wikitext text/x-wiki '''[[w:وقار عظیم|وقار عظیم]]''' (1910ء – 1976ء) اردو کے ایک ممتاز نقاد، محقق، اور پروفیسر تھے۔ انہوں نے اردو داستان، ڈراما اور افسانوی ادب کی تنقید اور تاریخ پر گراں قدر کام کیا۔ ان کی تصانیف اردو فکشن کے ارتقاء کو سمجھنے کے لیے بنیادی ماخذ کا درجہ رکھتی ہیں۔ == اقوال == * داستان صرف مافوق الفطرت اور خیالی عناصر کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے دور کے معاشرے، تہذیب اور انسانی خوابوں کی ایک خوبصورت علامتی عکاسی ہے۔ ** وقار عظیم، ''داستان سے افسانے تک''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 1990ء، ص 32۔ * اردو ڈراما اپنے آغاز میں محض عوامی تفریح کا ذریعہ تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس نے معاشرتی اصلاح اور انسانی نفسیات کے گہرے مطالعے کا روپ دھار لیا۔ ** وقار عظیم، ''اردو ڈراما: فن اور روایت''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2004ء، ص 18۔ * افسانے کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے کسی ایک اہم موڑ یا نفسیاتی سچائی کو اتنی شدت اور اختصار کے ساتھ پیش کرے کہ وہ قاری کے ذہن پر گہرا نقش چھوڑ جائے۔ ** وقار عظیم، ''نیا افسانہ''، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، 1985ء، ص 45۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} dhv25ifgn62s7f6z5ind1tvfvr1vqfj مجنوں گورکھپوری 0 5712 14645 14597 2026-06-21T13:12:22Z Khajb 3035 14645 wikitext text/x-wiki '''[[w:مجنوں گورکھپوری|مجنوں گورکھپوری]]''' (1904ء – 1988ء) اردو کے ایک ممتاز نقاد، مترجم، افسانہ نگار اور پروفیسر تھے۔ انہوں نے ترقی پسند تحریک کے زیر اثر اردو تنقید کو ایک مضبوط سماجی اور فکری بنیاد عطا کی۔ ان کے تنقیدی مقالات اردو ادب کے طلبہ کے لیے اعلیٰ نصاب کا ایک معتبر حصہ ہیں۔ == اقوال == * ادب اور زندگی کا رشتہ اٹوٹ ہے، ادب زندگی کا محض ترجمان ہی نہیں بلکہ اسے سنوارنے، بدلنے اور آگے بڑھانے کا ایک فعال محرک بھی ہے۔ ** مجنوں گورکھپوری، ''ادب اور زندگی''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2004ء، ص 18۔ * سچی تنقید کا کام یہ ہے کہ وہ فن پارے کے جمالیاتی حسن کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے سماجی پس منظر اور فکری مقصد کا بھی دیانتداری سے جائزہ لے۔ ** مجنوں گورکھپوری، ''تنقیدی حاشیے''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 1986ء، ص 42۔ * غزل کی صنف میں جو رمزیت اور اشاریت پائی جاتی ہے، وہ انسان کے پیچیدہ داخلی جذبات اور عصری سچائیوں کو خوبصورتی سے بیان کرنے کے لیے بے حد موزوں ہے۔ ** مجنوں گورکھپوری، ''غزل سرائی''، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، 1995ء، ص 55۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} lymzmwwbpnf6uy6ch80nq97lj600xbm شمیم حنفی 0 5713 14635 14599 2026-06-21T12:27:43Z Khajb 3035 14635 wikitext text/x-wiki '''[[w:شمیم حنفی|شمیم حنفی]]''' (1938ء – 2021ء) اردو کے ایک ممتاز نقاد، ڈراما نگار، اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ایمریٹس تھے۔ انہوں نے جدید اردو ادب، بالخصوص جدیدیت (modernism) اور معاصر شعری و افسانوی رجحانات کی تفہیم میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی تحریریں گہرے فکری شعور اور جمالیاتی حس کی آئینہ دار ہیں۔ == اقوال == * جدیدیت ماضی سے مکمل انحراف یا روایت دشمنی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے عہد کی بدلتی ہوئی سچائیوں کو ایک نئے اور زندہ تخلیقی شعور کے ساتھ قبول کرنے کا عمل ہے۔ ** شمیم حنفی، ''جدیدیت کی فلسفیانہ اساس''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 1987ء، ص 42۔ * غزل کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ بدلتے ہوئے زمانے کے نئے احساسات، تنہائی اور فکری پیچیدگیوں کو اپنے صوتی اور علامتی نظام میں خوبصورتی سے سمو لیتی ہے۔ ** شمیم حنفی، ''غزل کا نیا پیرہن''، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، 2008ء، ص 18۔ * تخلیقی عمل محض خوبصورت الفاظ کی آرائش کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ فنکار کے باطن اور اس کے خارجی عہد کے درمیان جاری ایک گہرا اور مسلسل فکری مکالمہ ہے۔ ** شمیم حنفی، ''خیال کی مسافت''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی، 2011ء، ص 55۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} oaj5wefo7gefxppwrg26nj6m532dc68 نیاز فتح پوری 0 5714 14646 14601 2026-06-21T13:14:04Z Khajb 3035 14646 wikitext text/x-wiki '''[[w:نیاز فتح پوری|نیاز فتح پوری]]''' (1884ء – 1966ء) اردو کے ایک مایہ ناز ادیب، نقاد، اور انشا پرداز تھے۔ انہوں نے اپنے مشہور ادبی جریدے "نگار" کے ذریعے اردو ادب میں ریسرچ، تنقید اور لغت نویسی کے اعلیٰ معیار قائم کیے۔ ان کی تحریریں جمالیاتی تنقید اور شاندار نثری اسلوب کا بہترین نمونہ مانی جاتی ہیں۔ == اقوال == * تنقید کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ فن پارے کے اندر چھپے ہوئے جمالیاتی حسن کو دریافت کرے اور قاری کو اس سچے حسن اور تخلیقی لطافت سے لطف اندوز ہونے کا طریقہ سکھائے۔ ** نیاز فتح پوری، ''انتقادیات''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 1988ء، ص 24۔ * کوئی بھی ادب اس وقت تک لازوال اور آفاقی نہیں ہو سکتا جب تک وہ انسانی جذبات کی سچی ترجمانی اور زبان کے حسن و چاشنی کا بہترین امتزاج نہ ہو۔ ** نیاز فتح پوری، ''نظریاتِ نیاز''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2005ء، ص 16۔ * انشا پردازی (شاندار نثر) صرف مشکل اور ثقیل الفاظ کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ گہرے اور اچھوتے خیالات کو نہایت رواں، شیریں اور دلکش اسلوب میں پیش کرنے کا نام ہے۔ ** نیاز فتح پوری، ''مکتوباتِ نیاز''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2001ء، ص 48۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} jxlqgalqj59an0eb0rnrywy1uj1mczw اسلوب احمد انصاری 0 5718 14647 14615 2026-06-21T13:16:01Z Khajb 3035 14647 wikitext text/x-wiki '''[[w:اسلوب احمد انصاری|اسلوب احمد انصاری]]''' (1925ء – 2016ء) اردو کے ایک ممتاز نقاد، مایہ ناز اسکالر اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر تھے۔ انہوں نے انگریزی اور اردو دونوں ادب پر یکساں مہارت کے ساتھ کام کیا اور اردو میں عملی تنقید (practical criticism) اور اقبالیات کو نئے فکری زاویے دیے۔ انہیں ان کی ادبی خدمات کے لیے ساہتیہ اکادمی اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ == اقوال == * اقبال کی شاعری محض فلسفے کا بیان نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی خودی، عزم اور کائناتی شعور کو ایک لازوال اور متحرک صوتی آہنگ میں ڈھالنے کا فن ہے۔ ** اسلوب احمد انصاری، ''اقبال کی طرزِ فکر''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2002ء، ص 45۔ * سچی ادبی تنقید کا معیار یہ ہے کہ وہ فن پارے کی داخلی ساخت، اس کے استعاروں اور لفظوں کے علامتی نظام کا گہرا اور باریک بینی سے مطالعہ کرے۔ ** اسلوب احمد انصاری، ''ادبی تنقید کے مسلمہ اصول''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 1994ء، ص 12۔ * غالب کا ذہنی ارتقا روایتی غزل گوئی سے فلسفیانہ گہرائی کی طرف ایک ایسا سفر ہے جہاں ہر شعر کائنات اور انسانی وجود کا ایک نیا سوال بن جاتا ہے۔ ** اسلوب احمد انصاری، ''غالب کا ذہنی ارتقا''، غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی، 1998ء، ص 88۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} clh1wulfmal29boavuayurtys4liwz2 جمیل جالبی 0 5719 14648 14617 2026-06-21T13:19:18Z Khajb 3035 14648 wikitext text/x-wiki '''[[w:جمیل جالبی|جمیل جالبی]]''' (1929ء – 2019ء) اردو کے ایک مایہ ناز مؤرخ، نقاد، محقق اور کراچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر تھے۔ انہوں نے اردو زبان و ادب کی چار جلدوں پر مشتمل جامع 'تاریخِ ادبِ اردو' لکھ کر ایک لازوال کارنامہ انجام دیا۔ ان کی تصانیف اردو تحقیق اور تنقید کا اعلیٰ ترین معیار مانی جاتی ہیں۔ == اقوال == * ادبی تاریخ صرف مصنفین کے ناموں یا کتابوں کی فہرست نہیں ہوتی، بلکہ یہ کسی قوم کے اجتماعی شعور، تہذیبی ارتقاء اور لسانی سفر کا ایک مربوط اور زندہ آئینہ ہوتی ہے۔ ** جمیل جالبی، ''تاریخِ ادبِ اردو'' (جلد اول)، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، 1984ء، ص 22۔ * تنقید کا کام محض غیر ملکی نظریات کی اندھی تقلید کرنا نہیں، بلکہ مغربی اصولِ تنقید کو اپنے مشرقی مزاج اور تہذیبی پس منظر کی روشنی میں پرکھ کر اپنانا ہے۔ ** جمیل جالبی، ''تنقید اور تجربہ''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 1999ء، ص 14۔ * ثقافت کسی بھی زندہ قوم کا وہ باطنی اور فکری ضابطہ ہے جو اس کی زبان، اخلاق، ادب اور روزمرہ کے طرزِ زندگی سے عیاں ہوتا ہے۔ ** جمیل جالبی، ''پاکستانی کلچر: قومی تشخص کی تلاش''، نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد، 1982ء، ص 35۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} g710t4z8ulynjtpp1zzsvc5qf1bjj19 وزیر آغا 0 5724 14649 2026-06-21T13:37:30Z Khajb 3035 ”'''[[w:وزیر آغا|ڈاکٹر وزیر آغا]]''' (1922ء – 2010ء) اردو کے ایک ممتاز نقاد، شاعر، انشائیہ نگار اور دانشور تھے۔ انہوں نے اردو تنقید کو نفسیاتی اور اسلوبیاتی بنیادیں فراہم کیں، اور خاص طور پر "تخلیقی عمل" اور "اردو شاعری کا مزاج" جیسی معرکہ آرا کتابیں لکھ...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 14649 wikitext text/x-wiki '''[[w:وزیر آغا|ڈاکٹر وزیر آغا]]''' (1922ء – 2010ء) اردو کے ایک ممتاز نقاد، شاعر، انشائیہ نگار اور دانشور تھے۔ انہوں نے اردو تنقید کو نفسیاتی اور اسلوبیاتی بنیادیں فراہم کیں، اور خاص طور پر "تخلیقی عمل" اور "اردو شاعری کا مزاج" جیسی معرکہ آرا کتابیں لکھ کر اردو ادب میں ایک نئے مکتبۂ فکر کی بنیاد رکھی۔ == اقوال == * اردو شاعری کا مزاج یہاں کی دھرتی، اس کے موسموں، اور مشترکہ ثقافتی رشتوں کی گہری گود میں پروان چڑھا ہے، اسے محض بیرونی اثرات کا نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ ** وزیر آغا، ''اردو شاعری کا مزاج''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 1994ء، ص 42۔ * تخلیقی عمل انسان کے لاشعور کی اتھاہ گہرائیوں اور شعوری بیداری کے درمیان ایک ایسا پل ہے جہاں سے گزر کر عام الفاظ بھی لازوال فن پارے بن جاتے ہیں۔ ** وزیر آغا، ''تخلیقی عمل''، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ, نئی دہلی، 1982ء، ص 15۔ * انشائیہ محض ہلکی پھلکی تحریر یا مزاح کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ زندگی کے عام اور روزمرہ کے مظاہر کو ایک بالکل اچھوتے، اَن دیکھے اور فکر انگیز زاویے سے دیکھنے کا نام ہے۔ ** وزیر آغا، ''اردو انشائیہ کے خدوخال''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2002ء، ص 58۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} eou7d9aiw7i1n6cwgmuk57s204v2pxj محمود حسن عسکری 0 5725 14651 2026-06-21T15:28:33Z Khajb 3035 ”'''[[w:محمد حسن عسکری|محمد حسن عسکری]]''' (1919ء – 1978ء) اردو کے ایک عہد ساز نقاد، مترجم، افسانہ نگار اور ممتاز دانشور تھے۔ انہوں نے روایتی اقدار اور مغربی ادب کے گہرے مطالعے کی روشنی میں اردو تنقید کو ایک بالکل نیا فکری و فلسفیانہ رخ دیا۔ ان کے تنقیدی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 14651 wikitext text/x-wiki '''[[w:محمد حسن عسکری|محمد حسن عسکری]]''' (1919ء – 1978ء) اردو کے ایک عہد ساز نقاد، مترجم، افسانہ نگار اور ممتاز دانشور تھے۔ انہوں نے روایتی اقدار اور مغربی ادب کے گہرے مطالعے کی روشنی میں اردو تنقید کو ایک بالکل نیا فکری و فلسفیانہ رخ دیا۔ ان کے تنقیدی مقالات، بالخصوص "انسان اور آدمی" اور "ستارہ یا بادبان"، اردو ادبی دنیا میں بحث و تمحیص کا ایک بڑا ذریعہ مانے جاتے ہیں۔ == اقوال == * ادب کا کام صرف خارجی حالات کی عکاسی کرنا نہیں ہے، بلکہ انسان کے باطنی جوہر، اس کی روحانی اقدار اور روایتی شعور کو بیدار رکھنا ہے۔ ** محمد حسن عسکری، ''انسان اور آدمی''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 1998ء، ص 34۔ * مغربی نظریات کی اندھی تقلید نے ہمارے اپنے ثقافتی اور روایتی شعور کو مفلوج کر دیا ہے؛ جب تک ہم اپنی جڑوں کی طرف نہیں لوٹیں گے، ہمارا ادب آفاقی نہیں ہو سکتا۔ ** محمد حسن عسکری، ''وقت کی رگ''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2002ء، ص 15۔ * تخلیق کار کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے عہد کے ہجوم میں گم ہونے کے بجائے، اپنے باطن کی تنہائی میں کائناتی سچائیوں کا سراغ لگائے۔ ** محمد حسن عسکری، ''ستارہ یا بادبان''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 1995ء، ص 52۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} 998rgzjoodq091bn5zmgnkspl4l8zwx محمد حسن عسکری 0 5726 14653 2026-06-21T15:29:23Z Khajb 3035 ”'''[[w:محمد حسن عسکری|محمد حسن عسکری]]''' (1919ء – 1978ء) اردو کے ایک عہد ساز نقاد، مترجم، افسانہ نگار اور ممتاز دانشور تھے۔ انہوں نے روایتی اقدار اور مغربی ادب کے گہرے مطالعے کی روشنی میں اردو تنقید کو ایک بالکل نیا فکری و فلسفیانہ رخ دیا۔ ان کے تنقیدی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 14653 wikitext text/x-wiki '''[[w:محمد حسن عسکری|محمد حسن عسکری]]''' (1919ء – 1978ء) اردو کے ایک عہد ساز نقاد، مترجم، افسانہ نگار اور ممتاز دانشور تھے۔ انہوں نے روایتی اقدار اور مغربی ادب کے گہرے مطالعے کی روشنی میں اردو تنقید کو ایک بالکل نیا فکری و فلسفیانہ رخ دیا۔ ان کے تنقیدی مقالات، بالخصوص "انسان اور آدمی" اور "ستارہ یا بادبان"، اردو ادبی دنیا میں بحث و تمحیص کا ایک بڑا ذریعہ مانے جاتے ہیں۔ == اقوال == * ادب کا کام صرف خارجی حالات کی عکاسی کرنا نہیں ہے، بلکہ انسان کے باطنی جوہر، اس کی روحانی اقدار اور روایتی شعور کو بیدار رکھنا ہے۔ ** محمد حسن عسکری، ''انسان اور آدمی''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 1998ء، ص 34۔ * مغربی نظریات کی اندھی تقلید نے ہمارے اپنے ثقافتی اور روایتی شعور کو مفلوج کر دیا ہے؛ جب تک ہم اپنی جڑوں کی طرف نہیں لوٹیں گے، ہمارا ادب آفاقی نہیں ہو سکتا۔ ** محمد حسن عسکری، ''وقت کی رگ''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2002ء، ص 15۔ * تخلیق کار کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے عہد کے ہجوم میں گم ہونے کے بجائے، اپنے باطن کی تنہائی میں کائناتی سچائیوں کا سراغ لگائے۔ ** محمد حسن عسکری، ''ستارہ یا بادبان''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 1995ء، ص 52۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} 998rgzjoodq091bn5zmgnkspl4l8zwx امتیاز علی عرشی 0 5727 14654 2026-06-21T16:39:45Z Khajb 3035 ”'''[[w:امتیاز علی عرشی|امتیاز علی عرشی]]''' (1904ء – 1981ء) اردو کے ایک مایہ ناز محقق، تدوین کار (editor) اور رامپور رضا لائبریری کے سابق ناظم تھے۔ انہوں نے کلاسیکی متون، بالخصوص دیوانِ غالب کی سائنسی اور تحقیقی بنیادوں پر ایسی تدوین کی جو اردو ریسرچ میں ا...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 14654 wikitext text/x-wiki '''[[w:امتیاز علی عرشی|امتیاز علی عرشی]]''' (1904ء – 1981ء) اردو کے ایک مایہ ناز محقق، تدوین کار (editor) اور رامپور رضا لائبریری کے سابق ناظم تھے۔ انہوں نے کلاسیکی متون، بالخصوص دیوانِ غالب کی سائنسی اور تحقیقی بنیادوں پر ایسی تدوین کی جو اردو ریسرچ میں ایک اعلیٰ ترین معیار مانی جاتی ہے۔ ان کی علمی و تحقیقی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1965ء میں ساہتیہ اکادمی اعزاز سے نوازا گیا۔ == اقوال == * تحقیق اور تدوینِ متن کا کام محض اندازوں پر نہیں چل سکتا، اس کے لیے ایک ایک لفظ کی قدامت، املا کی تبدیلیوں اور قلمی نسخوں کا سائنسی مطالعہ لازمی ہے۔ ** امتیاز علی عرشی، ''مقالاتِ عرشی''، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، 1970ء، ص 34۔ * غالب کے کلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے روایتی مضامین کو بھی اپنے اچھوتے اسلوب اور فلسفیانہ اندازِ بیان سے بالکل نیا اور زندہ جاوید بنا دیا۔ ** امتیاز علی عرشی، ''شرحِ دیوانِ غالب''، انجمن ترقی اردو (ہند)، نئی دہلی، 1982ء، ص 18۔ * پرانی لائبریریاں اور نایاب قلمی نسخے کسی بھی قوم کا تاریخی اور فکری سرمایہ ہوتے ہیں، اور انہیں محفوظ کرنا آنے والی نسلوں کے شعور کو بچانے کے مترادف ہے۔ ** امتیاز علی عرشی، ''تذکرہ کاملانِ رامپور''، رامپور رضا لائبریری، رامپور، 2002ء، ص 50۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} epj3cl86tmboheyirrb9x1tbesps8q7 محی الدین قادری زور 0 5728 14656 2026-06-21T19:25:23Z Khajb 3035 ”'''[[w:محی الدین قادری زور|ڈاکٹر محی الدین قادری زور]]''' (1905ء – 1962ء) اردو کے ایک عظیم الشان محقق، نقاد، ماہرِ لسانیات اور دانشور تھے۔ انہوں نے اردو زبان کے لسانی ارتقاء اور دکنی ادب کو منظرِ عام پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی قائم کردہ تنظی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 14656 wikitext text/x-wiki '''[[w:محی الدین قادری زور|ڈاکٹر محی الدین قادری زور]]''' (1905ء – 1962ء) اردو کے ایک عظیم الشان محقق، نقاد، ماہرِ لسانیات اور دانشور تھے۔ انہوں نے اردو زبان کے لسانی ارتقاء اور دکنی ادب کو منظرِ عام پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی قائم کردہ تنظیم "ادارۂ ادبیاتِ اردو" (حیدرآباد) علمی و تحقیقی سرگرمیوں کا ایک بڑا مرکز ہے۔ ان کی تصانیف اردو لسانیات اور تنقید میں بنیادی ماخذ مانی جاتی ہیں۔ == اقوال == * لسانیات کا علم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زبانیں کسی بند کمرے میں نہیں بنتیں، بلکہ یہ مختلف تہذیبوں کے باہمی ملاپ، عوامی ضرورتوں اور صدیوں کے لسانی ارتقاء کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ** محی الدین قادری زور، ''ہندوستانی لسانیات''، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، 1982ء، ص 30۔ * دکن کا قدیم ادبی سرمایہ اردو زبان کا وہ بنیادی سنگِ بنیاد ہے جس کو سمجھے بغیر ہم جدید اردو کے مزاج، اس کی لچک اور اس کی شعری روایات کی اصل روح تک نہیں پہنچ سکتے۔ ** محی الدین قادری زور، ''اردو شاہپارے''، ادارۂ ادبیاتِ اردو، حیدرآباد، 1929ء، ص 14۔ * سچی تنقید کا مقصد صرف ادبی خامیاں گنانا یا لفظی گرفت کرنا نہیں ہے، بلکہ فن پارے کے اس تہذیبی پس منظر اور فکری مقتضا کو سمجھنا ہے جس کے تحت وہ تخلیق ہوا ہے۔ ** محی الدین قادری زور، ''تنقیدی مقالات''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 1990ء، ص 45۔ 26ndrs833q4qqbioup67ciow1b5yz6s وارث علوی 0 5729 14658 2026-06-21T20:18:38Z Khajb 3035 ”'''[[w:وارث علوی|وارث علوی]]''' (1928ء – 2013ء) اردو کے ایک ممتاز، بے باک اور منفرد نقاد تھے۔ انہوں نے خاص طور پر اردو فکشن (افسانہ اور ناول) کی تنقید کو ایک نیا رخ دیا اور روایتی نعرہ بازی سے ہٹ کر خالص ادبی و جمالیاتی اقدار پر زور دیا۔ ان کا تنقیدی اسلوب...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 14658 wikitext text/x-wiki '''[[w:وارث علوی|وارث علوی]]''' (1928ء – 2013ء) اردو کے ایک ممتاز، بے باک اور منفرد نقاد تھے۔ انہوں نے خاص طور پر اردو فکشن (افسانہ اور ناول) کی تنقید کو ایک نیا رخ دیا اور روایتی نعرہ بازی سے ہٹ کر خالص ادبی و جمالیاتی اقدار پر زور دیا۔ ان کا تنقیدی اسلوب اپنی شگفتگی، طنز و مزاح اور کاٹ دار بیانیے کی وجہ سے ادبی دنیا میں ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔ == اقوال == * فکشن کی تنقید محض کہانی کا خلاصہ بیان کرنا نہیں ہے، بلکہ ان کرداروں کے نفسیاتی پس منظر اور سماجی رشتوں کے تانے بانے کو سمجھنا ہے جو مصنف نے تخلیق کیے ہیں۔ ** وارث علوی، ''فکشن کی تنقید''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2000ء، ص 18۔ * سچا نقاد وہ ہے جو کسی مروجہ ادبی گروہ بندی کا شکار ہوئے بغیر فن پارے کو خالص جمالیاتی معیار پر پرکھے، چاہے اس کے لیے اسے قائم شدہ نظریات سے ٹکرانا پڑے۔ ** وارث علوی، ''حالی کے بعد''، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، 1995ء، ص 42۔ * غالب کی شاعری میں عشق کا تصور روایتی عاجزی یا محض صوفیانہ راز نہیں ہے، بلکہ یہ ایک شدید انسانی اور وجودی تجربہ ہے جو زندگی کی تلخ سچائیوں کا احاطہ کرتا ہے۔ ** وارث علوی، ''غالب کا تصورِ عشق''، کتاب گھر، احمد آباد، 1988ء، ص 24۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} 9sszvuxygg6cr2qhsxm2065fpqdysf5 رائن ہولڈ نیبر 0 5730 14660 2026-06-21T20:27:27Z Muntaqibah 2617 صفحہ تخلیق کیا 14660 wikitext text/x-wiki '''[[w: رائن ہولڈ نیبر|رائن ہولڈ نیبر]]''' ==اقتباسات== ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} nhgrdeltpy4ezr15kfcgnzqd69dx3g6 14661 14660 2026-06-21T20:29:37Z Muntaqibah 2617 /* */ اضافہ 14661 wikitext text/x-wiki '''[[w: رائن ہولڈ نیبر|رائن ہولڈ نیبر]]''' رائن ہولڈ نیبوہر (21 جون 1892ء – 1 جون 1971ء) ایک امریکی پروٹسٹنٹ ماہرِ الٰہیات (تھیولوجین) تھے، جو مسیحی عقیدے کو سیاست اور سفارت کاری کی عملی حقیقتوں سے جوڑنے کی اپنی کوششوں کے باعث سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ وہ اس جدید فکری روایت کے اہم ترین مفکرین میں شمار ہوتے ہیں جس نے “منصفانہ جنگ” (Just War) کے نظریے کی تشکیل اور تفہیم میں نمایاں کردار ادا کیا ==اقتباسات== ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} ac8e4xxohgrjz8qzc252k02xajh3y7d 14662 14661 2026-06-21T20:30:42Z Muntaqibah 2617 /* */ تصویر شامل کی 14662 wikitext text/x-wiki '''[[w: رائن ہولڈ نیبر|رائن ہولڈ نیبر]]''' رائن ہولڈ نیبوہر (21 جون 1892ء – 1 جون 1971ء) ایک امریکی پروٹسٹنٹ ماہرِ الٰہیات (تھیولوجین) تھے، جو مسیحی عقیدے کو سیاست اور سفارت کاری کی عملی حقیقتوں سے جوڑنے کی اپنی کوششوں کے باعث سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ وہ اس جدید فکری روایت کے اہم ترین مفکرین میں شمار ہوتے ہیں جس نے “منصفانہ جنگ” (Just War) کے نظریے کی تشکیل اور تفہیم میں نمایاں کردار ادا کیا- [[File:Rev. Reinhold Niebuhr 1927 Edit.jpg|thumb|[[Man]]'s capacity for [[justice]] makes [[democracy]] possible, but man's inclination to [[Evil|injustice]] makes democracy [[Necessity|necessary]].| رائن ہولڈ نیبر]] ==اقتباسات== ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} egnp5to91a1vdn52itlwluz831ll4vr 14663 14662 2026-06-21T20:31:40Z Muntaqibah 2617 /* اقتباسات */ اقتباس 14663 wikitext text/x-wiki '''[[w: رائن ہولڈ نیبر|رائن ہولڈ نیبر]]''' رائن ہولڈ نیبوہر (21 جون 1892ء – 1 جون 1971ء) ایک امریکی پروٹسٹنٹ ماہرِ الٰہیات (تھیولوجین) تھے، جو مسیحی عقیدے کو سیاست اور سفارت کاری کی عملی حقیقتوں سے جوڑنے کی اپنی کوششوں کے باعث سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ وہ اس جدید فکری روایت کے اہم ترین مفکرین میں شمار ہوتے ہیں جس نے “منصفانہ جنگ” (Just War) کے نظریے کی تشکیل اور تفہیم میں نمایاں کردار ادا کیا- [[File:Rev. Reinhold Niebuhr 1927 Edit.jpg|thumb|[[Man]]'s capacity for [[justice]] makes [[democracy]] possible, but man's inclination to [[Evil|injustice]] makes democracy [[Necessity|necessary]].| رائن ہولڈ نیبر]] ==اقتباسات== * انسان کی انصاف کرنے کی صلاحیت جمہوریت کو ممکن بناتی ہے، لیکن انسان کا ناانصافی کی طرف رجحان جمہوریت کو ضروری بنا دیتا ہے۔ ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} da5ssyxvqglw2sg9faxme2wh3d7h5y8 14664 14663 2026-06-21T20:32:12Z Muntaqibah 2617 /* اقتباسات */ + 14664 wikitext text/x-wiki '''[[w: رائن ہولڈ نیبر|رائن ہولڈ نیبر]]''' رائن ہولڈ نیبوہر (21 جون 1892ء – 1 جون 1971ء) ایک امریکی پروٹسٹنٹ ماہرِ الٰہیات (تھیولوجین) تھے، جو مسیحی عقیدے کو سیاست اور سفارت کاری کی عملی حقیقتوں سے جوڑنے کی اپنی کوششوں کے باعث سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ وہ اس جدید فکری روایت کے اہم ترین مفکرین میں شمار ہوتے ہیں جس نے “منصفانہ جنگ” (Just War) کے نظریے کی تشکیل اور تفہیم میں نمایاں کردار ادا کیا- [[File:Rev. Reinhold Niebuhr 1927 Edit.jpg|thumb|[[Man]]'s capacity for [[justice]] makes [[democracy]] possible, but man's inclination to [[Evil|injustice]] makes democracy [[Necessity|necessary]].| رائن ہولڈ نیبر]] ==اقتباسات== * انسان کی انصاف کرنے کی صلاحیت جمہوریت کو ممکن بناتی ہے، لیکن انسان کا ناانصافی کی طرف رجحان جمہوریت کو ضروری بنا دیتا ہے۔ * دنیا کی صورتحال جتنی زیادہ پیچیدہ ہوتی جائے گی، آپ کو اتنے ہی زیادہ سائنسی اور عقلی تجزیے کی ضرورت ہوگی، اور محض اچھے جذبات اور حسنِ ظن سے کام چلانا اتنا ہی ناممکن ہوتا جائے گا۔ ==بیرونی روابط== {{ویکیپیڈیا}} gjsrffiq5221l91g6l7q7tbge429md7 ویکی اقتباس:آج کا اقتباس/22 جون 2026 4 5731 14666 2026-06-22T05:57:43Z Aafi 2411 آج کا اقتباس 14666 wikitext text/x-wiki {{Wikiquote:Quote of the day/Template | image1 = NYPL TH-20868 Gilbert Highet cropped.jpg | image1px = 292px | image2 = 1984-Big-Brother.jpg | image2px = 238px | quote = <!-- ⨀ <br /> -->سوچ پر پہرہ بٹھانے والوں کا مقصد ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے۔ وہ کائنات کی کوئی ایک واحد تشریح، یا فکر و عمل کا کوئی ایسا نظام ڈھونڈ نکالتے ہیں جو (ان کے خیال میں) ہر چیز کا احاطہ کرتا ہو؛ اور پھر وہ اسے تمام صاحبِ فکر لوگوں پر مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ | author = گلبرٹ ہائیٹ }} k981k9cal3vtx6wo6fnp2bghysgce6c نثار احمد فاروقی 0 5732 14667 2026-06-22T09:39:29Z Khajb 3035 ”'''[[w:نثار احمد فاروقی|نثار احمد فاروقی]]''' (1934ء – 2004ء) اردو کے ایک ممتاز محقق، نقاد اور دہلی یونیورسٹی کے سابق صدرِ شعبۂ اردو تھے۔ انہوں نے کلاسیکی متون کی تحقیق، تصوف اور بالخصوص غالب شناسی پر معرکہ آرا کام کیا۔ ان کا اندازِ تحقیق سائنسی، دستا...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 14667 wikitext text/x-wiki '''[[w:نثار احمد فاروقی|نثار احمد فاروقی]]''' (1934ء – 2004ء) اردو کے ایک ممتاز محقق، نقاد اور دہلی یونیورسٹی کے سابق صدرِ شعبۂ اردو تھے۔ انہوں نے کلاسیکی متون کی تحقیق، تصوف اور بالخصوص غالب شناسی پر معرکہ آرا کام کیا۔ ان کا اندازِ تحقیق سائنسی، دستاویزی اور تاریخی شواہد پر مبنی ہے، اور ان کی تحریریں فکری گہرائی کا نمونہ ہیں۔ == اقوال == * تحقیق کا بنیادی اصول یہ ہے کہ محقق اپنی ذاتی پسند و ناپسند اور تعصبات سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف عینی شاہدین، معاصر دستاویزی شواہد اور تاریخی حقائق کی پیروی کرے۔ ** نثار احمد فاروقی، ''دید و دریافت''، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، 1980ء، ص 25۔ * غالب کے خطوط صرف نجی مراسلت یا خط و کتابت نہیں ہیں، بلکہ یہ ان کے عہد کی دلی کی تباہی، تہذیبی زوال اور جدید اردو نثر کے ارتقاء کا سب سے سچا اور زندہ تاریخی دستاویز ہیں۔ ** نثار احمد فاروقی، ''تلاشِ غالب''، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 1995ء، ص 42۔ * تصوف نے اردو شاعری کو وہ آفاقی، اخلاقی اور انسانی پس منظر عطا کیا جس نے اسے تنگ مذہبی اور جغرافیائی حدود سے آزاد کر کے ہر انسان کے دل کی آواز بنا دیا۔ ** نثار احمد فاروقی، ''اردو ادب اور تصوف''، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، 1989ء، ص 14۔ == بیرونی روابط == {{ویکیپیڈیا}} 3qsj5vws04az5nh24ckuqrey1w1iyr8