ویکی اقتباس
urwikiquote
https://ur.wikiquote.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%81_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.15
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی اقتباس
تبادلۂ خیال ویکی اقتباس
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
سانچہ:New pages
10
2677
15087
15077
2026-08-14T00:00:56Z
Aafis Bot
2972
تجدید فہرست (روبہ)
15087
wikitext
text/x-wiki
<div style="background-color: #faf9b2;color:var(--color-base-fixed,#202122); border: 2px solid #faf9b2; border-bottom: none; padding-top: 0.3em; padding-bottom: 0.3em; font-size: large; text-align:center;">
'''[[Special:NewPages|نئے صفحات]]'''
</div>
<!-- Image start -->
[[File:Hamza Andreas Tzortzis (2017).jpg|thumb|ویکی اقتباس میں نیا: [[حمزہ اینڈریس زورتزش]]]]
<!-- Image end -->
<div style="background: #ffffec; color:var(--color-base-fixed,#202122); border: 2px solid #faf9b2; border-top: none; padding: 0.6em; padding-top: none;">
<!-- NOTE BEFORE ADDING: Total of fourteen (15) only, in chronological order: add to top, remove from bottom -->
<!-- List Top -->
:[[اصغر گونڈوی]]
:[[قاسم نانوتوی]]
:[[حمزہ اینڈریس زورتزش]]
:[[حکمت]]
:[[دنیا]]
:[[آریہ بھٹ]]
<!-- List Bottom -->
{{break}}
<div style="text-align:center;" class="plainlinks">چند نئے صفحات کی ایک جزوی فہرست ([[Special:NewPages|نئے صفحات]] [http://ur.wikiquote.org/w/index.php?title=سانچہ:New_pages&action=edit شامل کریں])</div></div><noinclude>[[Category:Main Page templates|{{PAGENAME}}]]</noinclude>
o08b93m8dbru3v403ugvs9o66rmh72j
اشرف علی تھانوی
0
5141
15086
12324
2026-08-13T13:17:01Z
میاں عابد
3057
/* اقوال */ اضافہ
15086
wikitext
text/x-wiki
'''[[w:اشرف_علی_تھانوی|اشرف علی تھانوی]]''' (1863ء - 1943ء) ایک ہندوستانی دیوبندی حنفی عالم، صوفی، چشتی مرشد اور بیان القرآن اور بہشتی زیور جیسی کئی کتابوں کے مصنف تھے۔
== اقوال ==
*معمولات کا جاری رہنا یہ خود ایسا حال رفیع ہے کہ جس کے ہوتے ہوئے کسی امر جدید کا نہ ہونا مضر نہیں کیونکہ اس جاری رہنے کو استقامت کہا جاتا ہے جو بتصریح اکا بر فوق الکرامہ ہے۔
** آداب شیخ و مرید ، صفحه 334
*شریعت میں ( صدمہ و غم میں ) مطلق رونے کو منع نہیں کیا، نوحہ کرنے کی ممانعت کی ہے بلکہ اگر کوئی رویا اور جزع فزع نہ کیا تو اس نے دونوں حق ادا کئے ، خدا کا بھی میت کا بھی ، یہ جامعیت ہے۔
**فیضانِ مجدد، صفحه 676
*یہ مرض عام ہو گیا ہے چاہتے یہ ہیں کہ سہولت پہلے ہو اس کے بعد کام شروع کریں۔ شرائع کی خاصیت یہ ہے کہ پہلے کام شروع کریں اس کے بعد سہولت ہوگی لوگوں نے اس کا عکس کر رکھا ہے بڑی چیز اس طریق میں شیخ پر اعتماد ہے بدوں اس کے کام چل نہیں سکتا پھر سہولت کا انتظار کیسا۔
**ملفوظات حکیم الامت، جلد1 ص184
*جس کو نصیحت کرنا ہو اس کا طریقہ بزرگوں سے سیکھ لے ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ نصیحت نہ کرے بلکہ طریقے سیکھے نصیحت سب کو کرو مگر بزرگوں سے سیکھ کر ۔ہر چیز حاصل کرنے سے حاصل ہوتی ہے ۔کوئی چیز یوں ہی نہیں آیا کرتی ۔اور حاصل کرنے کی صورت یہ ہے کہ ان کے پاس رہو ان سے پوچھتے رہو۔وہ بتلادیں گے۔
**الاتمام لنعمۃ الاسلام:ص111.ج1
*تم کہنے کے طریقے سے (یعنی نرمی سے )کہو ہرگز کوئی برا نہ مانے گا اس طرح کیوں کہتے ہو جس سے دوسرا بھڑک اٹھے تم تو طعن وتشنیع سے کہتے ہو اس سے بے نمازی تو کیا جو نمازی ہے وہ بھی برا مانے گا۔
**ص109 کتاب:دعوت وتبلیغ کے اُصول واحکام
*منجملہ آداب کے ایک ضروری ادب یہ ہے کہ مستحبات میں مطلقاً نرمی کرے ۔اور واجبات میں اولاً نرمی اور نہ ماننے پر سختی کرے۔
**بیان القرآن :ص65؍ج2، آل عمران
*سختی صرف وہی کرسکتا ہے جس کو سختی سے تبلیغ کرنے کا حق ہے۔
**کتاب:دعوت وتبلیغ کے اُصول واحکام
*اصل میں سختی مقصود بالذات نہیں ۔مقصود اصلاح ہے ،جب معلوم ہوجائے کہ سختی سے نفع نہیں ہوتا تونرمی سے اصلاح کرتا رہے ،مگر اس میں ضبط( برداشت کرنے )کی ضرورت ہے جو مشکل ہے
**دعوات عبدیت:ص 57؍ج19
*یہ تو آسان ہے کہ بالکل نہ بولے ۔اور یہ مشکل ہے کہ ناگواری میں نرمی سے بولے ۔خاص کر جب دوسرا ٹیڑھا (نافرمان )ہوتا چلا جائے ۔اور گھروالوں کا حال خود ہی ہرشخص جانتا ہے کہ نرمی سے اصلاح ہوگی ۔یا سختی سے ۔محض سختی سے کچھ نہیں ہوتا ۔ میں جو لوگوں کے ساتھ ان کی اصلاح کے لئے سختی کرتا ہوں ۔اب چھوڑ دوں گا ۔کیونکہ کچھ نفع نہیں ہوتا۔
**دعوات عبدیت:ص 57؍ج19
*کسی طاعت کا حکم دینے (یعنی دعوت وتبلیغ امر بالمعروف ونہی عن المنکر ) کرنے سے ناگواری اسی وقت ہوتی ہے جبکہ سخت لہجہ سے کہا جائے ورنہ اگر مناسب طریقہ سے کہا جائے تو ناگواری نہیں ہوتی۔ واعظین (اورمبلغین) کو ہمیشہ اس کا خیال رکھنا چاہئے۔
**وعظ الکاف ملحقہ مفاسد گناہ :ص 165
*ناگواری اسی وقت ہوتی ہے جب بے طریقہ سے گفتگو ہو سخت بات میں خاصیت ہی یہ ہے کہ وہ کسی کو گوارہ نہیں ۔خواہ وہ نیک کام کے لئے ہو ۔
**وعظ الکاف ملحقہ مفاسد گناہ :ص
* لوگ حد سے زیادہ خوابوں میں مبتلا ہیں۔ ان کی ان چیزوں کی فکر جن کا وہ خواب دیکھتے ہیں ان چیزوں کی فکر سے زیادہ ہے جو بیداری کی حالت میں ان پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ وہ کتنے الجھے ہوئے ہیں!
** حیات المسلمین، آدم پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز، ص۔ 220
*علم حق کے ادراک کی وجہ سے گمراہ ہونے سے روکتا ہے۔ یہ اپنے آپ میں ایک بہت بڑا خزانہ ہے۔
**اشرف علی تھانوی، حیات المسلمین ص. 4
*اپنے آپ کو پست کرنا، جسے تواضع کہا جاتا ہے، ایک عظیم اور قیمتی اثاثہ ہے۔ اس خوبی کو حاصل کرنے کے لیے اللہ کے بہت سے بندوں نے اپنی سلطنت و سلطنت کو خیرباد کہہ دیا۔ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی کہ لوگ ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ یقیناً، عاجزی ایک بہت قیمتی خوبی ہونی چاہیے تاکہ لوگ اسے پوری دنیا پر ترجیح دیں۔
**حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی گفتگو، فروغ اسلامی، ص 9
* اگر کسی قسم کی تقویٰ پر عمل کرنے سے کسی کا دل ٹوٹ جائے تو فتویٰ (علماء کا فیصلہ) پر عمل کریں۔ ایسے موقعوں پر تقویٰ کی حفاظت جائز نہیں۔ اگر کوئی تحفہ قبول کرنے میں تیرے لیے ذلت اور تیرے بھائی کی عزت ہے تو اس کی عزت کو اپنی عزت پر ترجیح دیں۔
**اشرف علی تھانوی، کمالات اشرفیہ ص 93
*رمضان میں توبہ اور اعمال صالحہ کرنا موجب مغفرت ہیں اور ان کے ترک پر ملامت اور اس کا بیان*
کہ مغفرت کا حاصل کرنا ہر شخص کے اختیار میں ہے۔ وہ شخص کہ رمضان شریف آئے بھی اور گزر بھی جائے اور اس نے اپنی مغفرت نہ کرائی۔ یعنی ایسے عمل اور توبہ نہ کرلی، جس سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ ایک دوسری حدیث میں بھی مغفرت سے رمضان کے تعلق کی نسبت ارشاد ہوتا ہے۔
ھو شھر اولہ رحمۃ واوسطہ مغفرۃ وآخرہ عتق من النیران وہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا شروع رحمت درمیان بخشش اور آخر دوزخ سے آزادی ہے )
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رمضان کا مہینہ سراپا رحمت و مغفرت ہے۔ پس اس میں انسان اپنی مغفرت کا سامان کرے اور مغفرت حاصل کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ نیک عمل کرے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مغفرت کی تحصیل امر اختیاری ہی ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وسارعوا الیٰ مغفرۃ من ربکم وجنۃ عرضھا السموٰۃ والارض اعدت للمتقین الذٰن ینفقون*
جس کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا کی مغفرت اور اس کی جنت کی طرف دوڑو جس کو متقی لوگوں کے واسطے تیار کیا گیا ہے۔ تو جو شخص اس راستہ چلے اور اس مقرر شدہ قانون پر عمل کرے گا وہ مغفرت کو حاصل کرے گا۔ جو شخص ایسا نہ کرے گا محروم رہے گا- پس معلوم ہوا کہ مغفرت کا حاصل کرنا خود ہمارے اختیار میں ہے۔اگر ہم چاہیں اس کو خود حاصل کرسکتے ہیں کہ متقی بن جاویں
**ملفوظات حکیم الامت جلد 27،28 ص 399
== بیرونی روابط ==
{{Wikipedia}}
{{معلومات کتب خانہ}}
h92hs3y2j03nqcemileay3r74856seo
اصغر گونڈوی
0
5857
15084
2026-08-13T12:08:41Z
میاں عابد
3057
ایک نیا صفحہ تخلیق کیا
15084
wikitext
text/x-wiki
ا'''صغر گونڈوی''' گونڈہ کے معروف شاعر ہیں ۔
==اقتباسات==
*رند جو ظرف اٹھا لیں وہی ساغر بن جائے
جس جگہ بیٹھ کے پی لیں وہی مے خانہ بنے
Guldasta Dar Guldasta(volume-4) (Pg. 27)
c5kwgxsmor4yieygv4bneptfo98jjpd
15085
15084
2026-08-13T12:28:19Z
میاں عابد
3057
/* اقتباسات */ درست کیا ہے
15085
wikitext
text/x-wiki
ا'''صغر گونڈوی''' گونڈہ کے معروف شاعر ہیں ۔
==اقتباسات==
*رند جو ظرف اٹھا لیں وہی ساغر بن جائے
جس جگہ بیٹھ کے پی لیں وہی مے خانہ بنے
**گلدستہ در گلدستہ صفحہ نمبر 27
6u1b3a6w3p3veevoy5hdvjnj1nwsbmo
ویکی اقتباس:آج کا اقتباس/14 اگست 2026
4
5858
15088
2026-08-14T04:46:05Z
Aafi
2411
آج کا اقتباس
15088
wikitext
text/x-wiki
{{Wikiquote:Quote of the day/Template
| image1 = John Galsworthy 2.jpg
| image1px = 292px
| image2 = William-Adolphe Bouguereau (1825-1905) - The Flagellation of Our Lord Jesus Christ (1880).jpg
| image2px = 282px
| quote = <!-- ⨀ <br /> -->کسی جذبے کی قدر و قیمت صرف اس قربانی سے طے ہوتی ہے جو آپ اس کی خاطر دینے کو تیار ہوں۔
| author = جان گالزوردی
}}
2gdcl60fsf9x9rq4oqnfyd349t01v5l