ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.2 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/58 250 12706 32602 32601 2026-05-15T12:12:39Z Charan Gill 46 32602 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مجھے بش سا نظر آنا ہے سِکھی بولی کہ تو خاطر جمع رکھ مین تیرا دُکھ دور کرونگی اتنا کہہ سکھی اپنے گھر گئی اوراِن نے اپنے جی مین بچارا کہ اس زندگی کو اسکی خاطِر چھوڑ دون اور پھر کے جنم لے اس سے مل سکھ بھوگ کرون یہ ارادہ کرکے گلے مین پھانسی ڈال چاہے کہ اتنے مین سکھی آپہونچی اور اسنے جھٹ گلے سے رسی نکال کر کہا جینے سے سب کچھ ہے مرنے سے نہین وہ بولی ایسے دُکھ پانے سے مرنا بھلا ہے سکھی نے کہا کہ گھڑی بھر سستا کہ مین اسے جا کر لے آتی ہون اتنا کہہ وہان گئی جہان کملاگر تھا پھر اسے چھپ کے دیکھا تو وہ بھی جدائی سے بیاکل ہو رہا ہے اور اسکا متر گلاب کے پانی سے چندن گھس اسکے بدن مین لگاتا ہے اور کیلے کے کومل کومل پاتون سے بون کر رہا ہے اسپر بھی برہ کی آگ سے وہ گھبرا کر جلا ہی جلا پکارتا ہے اور متر سے کہتا ہے کہ زہر لاوے مین اپنے پران تیاگ کر اس کشت سے چھوٹون اسکی یہ دستھا دیکھ اسنے اپنے جی مین کہا کیسا ہی ساہسی پنڈت چیری کی دھر ہو کام دیو اسے ایک چھن مین بیکل کر دیتا ہے اتنا اپنے من مین بچار سیکھی نے اس سے کہا اے ملا کر تیرے تین انگ منجری نے کہا ہو کہ تو آگے مجھے جی دان دے ان نے کہا یہ توان نے مجھے جی دان دیا اتنا کہا اٹھ کھڑا ہوا اور بھی ہے اپنے ساتھ لیے ہوئے اسکے پاس گئی یہ وہان جا کے دیکھے تو وہ موٹی ہوئی پڑی ہو پھر ان کی بھی آہ کا نعرہ مارا کہ اسکے ساتھ اسکاد مرسل گیا اور جب صبح ہوئی اسکے گھر کے لوگ ان دو نو نگو مرگھٹ مین لے گئے اور جتنا چنکر اسمین آگ لگائی تھی کہ اتنے مین اسکا خاوند بھی پردیس سے کھٹ کی راہ آنے کاتب لوگون کے رونے کی آواز سنگریہ وہان گیا تو دیکھتا کیا ہے کہ اسکی استری کے ساتھ چلتی ہو یہ بھی برہ سے بیا کل مواسی آگ مین جلکم مر گیا یہ جبرگر کے لوگ ن کے اسمین کہنے لگے ایسا اچرج نہ آنکھون سے دیکھا نہ کانون سے سنا اتنا تھا کہ پتیال کولا کہ اسے راجہ این مینون مین کو نسا ادمیک کلامی ہو راجہ نے کہا اسکا خاوند ادھک کا مکی ہوا بیتال نے کہا کس کا رن راجہ نے کہا جن نے اپنی ناری کو اور کے ارتھ موٹی دیکھ کر کرد و تیاگ کر اسکے پر یم مین مگن ہوجی دیایہ ادھک کامی ہو یہ بات محن بال پھر ای و در حال کاراجہ بھی دین جا کر باندھ کا دھیر پر کھر نے چلا۔ اکیسوین کہانی 1 بیتال بولا اے را جہ سنیل نام کا ایک نگر ہر وہ ان کا برد همان نام راجہ تھا اسکے نگرمی بین سوامی نا ہے سر اشتی باز تیسرا تھیلا چوتھا ناستک ایک دن وہ بر می بینی بر همین اسکے چار بیٹے تھے ایک جواری اسکے گھر مین ہی نہین رہتی یہ سن ده جواری اپنے جی کو سمجھانے لگا کہ جو کوئی جوا کھیلتا لگا مین بہت دق ہوا اور کہا کہ راج نیت مین ایسا لکھا ہو کہ تواری کے ناک کان کاٹے مین سنی کا دھوکہ اور<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 8sc1q77yz4yw5efqagw2msvgxii7cry 32603 32602 2026-05-15T12:45:46Z Charan Gill 46 32603 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مجھے بش سا نظر آنا ہے سِکھی بولی کہ تو خاطر جمع رکھ مین تیرا دُکھ دور کرونگی اتنا کہہ سکھی اپنے گھر گئی اوراِن نے اپنے جی مین بچارا کہ اس زندگی کو اسکی خاطِر چھوڑ دون اور پھر کے جنم لے اس سے مل سکھ بھوگ کرون یہ ارادہ کرکے گلے مین پھانسی ڈال چاہے کہ اتنے مین سکھی آپہونچی اور اسنے جھٹ گلے سے رسی نکال کر کہا جینے سے سب کچھ ہے مرنے سے نہین وہ بولی ایسے دُکھ پانے سے مرنا بھلا ہے سکھی نے کہا کہ گھڑی بھر سستا کہ مین اسے جا کر لے آتی ہون اتنا کہہ وہان گئی جہان کملاگر تھا پھر اسے چھپ کے دیکھا تو وہ بھی جدائی سے بیاکل ہو رہا ہے اور اسکا متر گلاب کے پانی سے چندن گھس اسکے بدن مین لگاتا ہے اور کیلے کے کومل کومل پاتون سے بون کر رہا ہے اسپر بھی برہ کی آگ سے وہ گھبرا کر جلا ہی جلا پکارتا ہے اور متر سے کہتا ہے کہ زہر لاوے مین اپنے پران تیاگ کر اس کشت سے چھوٹون اسکی یہ دستھا دیکھ اسنے اپنے جی مین کہا کیسا ہی ساہسی پنڈت چیری کی دھیر ہو کام دیو اسے ایک چھن مین بیکل کر دیتا ہے اتنا اپنے من مین بچار سِکھی نے اس سے کہا اے کملا گر تیرے تین اننگ منجری نے کہا ہے کہ تو آگے مجھے جی دان دے ان نے کہا یہ توان نے مجھے جی دان دیا اتنا کہا اٹھ کھڑا ہوا اور بھی ہے اپنے ساتھ لیے ہوئے اسکے پاس گئی یہ وہان جا کے دیکھے تو وہ موئی ہوئی پڑی ہے پھر ان کی بھی آہ کا نعرہ مارا کہ اسکے ساتھ اسکاد مرسل گیا اور جب صبح ہوئی اسکے گھر کے لوگ ان دونونگو مرگھٹ مین لے گئے اور جتنا چنکر اسمین آگ لگائی تھی کہ اتنے مین اسکا خاوند بھی پردیس سے کھٹ کی راہ آنے کا تب لوگون کے رونے کی آواز سنکر یہ وہان گیا تو دیکھتا کیا ہے کہ اسکی استری کے ساتھ چلتی ہو یہ بھی برہ سے بیاکل ہواسی آگ مین جلکم مر گیا یہ جبرگر کے لوگ ن کے اسمین کہنے لگے ایسا اچرج نہ آنکھون سے دیکھا نہ کانون سے سنا اتنا تھا کہ پیتال بولا کہ اے راجہ این مینون مین کو نسا ادمیک کلامی ہو راجہ نے کہا اسکا خاوند ادھک کا مکی ہوا بیتال نے کہا کس کا رن راجہ نے کہا جن نے اپنی ناری کو اور کے ارتھ موئی دیکھ کر کرودھ تیاگ کر اسکے پریم مین مگن ہو جی دیا یہ ادھک کامی ہے یہ بات سُن بیتال پھراسی درخت پر جا لٹکا راجہ بھی وین جا کر اسے باندھ کاندھے پر رکھ لے چلا۔ {{center|'''اکیسوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ سنیل نام کا ایک نگر ہے وہ ان کا بردهمان نام راجہ تھا اسکے نگرمی بین سوامی نام ہے سر اشتی باز تیسرا تھیلا چوتھا ناستک ایک دن وہ بر می بینی بر همین اسکے چار بیٹے تھے ایک جواری اسکے گھر مین ہی نہین رہتی یہ سن وه جواری اپنے جی کو سمجھانے لگا کہ جو کوئی جوا کھیلتا لگا مین بہت دق ہوا اور کہا کہ راج نیت مین ایسا لکھا ہے کہ تواری کے ناک کان کاٹے مین سنی کا دھوکہ اور<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> ntvrfg2tygahjdkeyd4fxip7gqqhve8 32607 32603 2026-05-15T18:27:01Z Charan Gill 46 32607 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مجھے بش سا نظر آتا ہے سِکھی بولی کہ تو خاطِر جمع رکھ مین تیرا دُکھ دور کرونگی اتنا کہہ سکھی اپنے گھر گئی اوراِن نے اپنے جی مین بچارا کہ اس زندگی کو اسکی خاطِر چھوڑ دون اور پھر کے جنم لے اس سے مل سکھ بھوگ کرون یہ ارادہ کرکے گلے مین پھانسی ڈال چاہے کہ اتنے مین سکھی آپہونچی اور اسنے جھٹ گلے سے رسی نکال کر کہا جینے سے سب کچھ ہے مرنے سے نہین وہ بولی ایسے دُکھ پانے سے مرنا بھلا ہے سکھی نے کہا کہ گھڑی بھر سستا کہ مین اسے جا کر لے آتی ہون اتنا کہہ وہان گئی جہان کملاگر تھا پھر اسے چھپ کے دیکھا تو وہ بھی جدائی سے بیاکل ہو رہا ہے اور اسکا متر گلاب کے پانی سے چندن گھس اسکے بدن مین لگاتا ہے اور کیلے کے کومل کومل پاتون سے بون کر رہا ہے اسپر بھی برہ کی آگ سے وہ گھبرا کر جلا ہی جلا پکارتا ہے اور متر سے کہتا ہے کہ زہر لاوے مین اپنے پران تیاگ کر اس کشت سے چھوٹون اسکی یہ اوستھا دیکھ اسنے اپنے جی مین کہا کیسا ہی ساہسی پنڈت چتر بیکی دھیر منش ہو کام دیو اُسے ایک چھن مین بیکل کر دیتا ہے اتنا اپنے من مین بچار سِکھی نے اس سے کہا اے کملا گر تیرے تئین اننگ منجری نے کہا ہے کہ تو آکے مجھے جی دان دے ان نے کہا یہ توان نے مجھے جی دان دیا اتنا کہہ اٹھ کھڑا ہوا اور سکھی اسے اپنے ساتھ لیے ہوئے اسکے پاس گئی یہ وہان جا کے دیکھے تو وہ موئی ہوئی پڑی ہے پھر ان نے بھی آہ کا نعرہ مارا کہ اسکے ساتھ اسکا دم نکل گیا اور جب صبح ہوئی اسکے گھر کے لوگ ان دونونکو مرگھٹ مین لے گئے اور جتا چنکر اسمین آگ لگائی تھی کہ اتنے مین اسکا خاوند بھی پردیس سے مرگھٹ کی راہ آ نِکلا تب لوگون کے رونے کی آواز سنکر یہ وہان گیا تو دیکھتا کیا ہے کہ اسکی استری پرش کے ساتھ چلتی ہے یہ بھی برہ سے بیاکل ہواسی آگ مین جلکر مر گیا یہ خبر نگر کے لوگ سنکے اپسمین کہنے لگے ایسا اچرج نہ آنکھون سے دیکھا نہ کانون سے سنا اتنا کتھا کہہ پیتال بولا کہ اے راجہ این تینون مین کونسا ادھک کامی ہے راجہ نے کہا اسکا خاوند ادھک کامی ہوا بیتال نے کہا کس کا رن راجہ نے کہا جن نے اپنی ناری کو اور کے ارتھ موئی دیکھ کر کرودھ تیاگ کر اسکے پریم مین مگن ہو جی دیا یہ ادھک کامی ہے یہ بات سُن بیتال پھراسی درخت پر جا لٹکا راجہ بھی وین جا کر اسے باندھ کاندھے پر رکھ لے چلا۔ {{center|'''اکیسوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ سنیل نام کا ایک نگر ہے وہ ان کا بردهمان نام راجہ تھا اسکے نگرمی بین سوامی نام ہے سر اشتی باز تیسرا تھیلا چوتھا ناستک ایک دن وہ بر می بینی بر همین اسکے چار بیٹے تھے ایک جواری اسکے گھر مین ہی نہین رہتی یہ سن وه جواری اپنے جی کو سمجھانے لگا کہ جو کوئی جوا کھیلتا لگا مین بہت دق ہوا اور کہا کہ راج نیت مین ایسا لکھا ہے کہ تواری کے ناک کان کاٹے مین سنی کا دھوکہ اور<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> brv9f63g9yfdqz6k9b9b8ei7xisf77s 32608 32607 2026-05-15T18:44:24Z Charan Gill 46 32608 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مجھے بش سا نظر آتا ہے سِکھی بولی کہ تو خاطِر جمع رکھ مین تیرا دُکھ دور کرونگی اتنا کہہ سکھی اپنے گھر گئی اوراِن نے اپنے جی مین بچارا کہ اس زندگی کو اسکی خاطِر چھوڑ دون اور پھر کے جنم لے اس سے مل سکھ بھوگ کرون یہ ارادہ کرکے گلے مین پھانسی ڈال چاہے کہ اتنے مین سکھی آپہونچی اور اسنے جھٹ گلے سے رسی نکال کر کہا جینے سے سب کچھ ہے مرنے سے نہین وہ بولی ایسے دُکھ پانے سے مرنا بھلا ہے سکھی نے کہا کہ گھڑی بھر سستا کہ مین اسے جا کر لے آتی ہون اتنا کہہ وہان گئی جہان کملاگر تھا پھر اسے چھپ کے دیکھا تو وہ بھی جدائی سے بیاکل ہو رہا ہے اور اسکا متر گلاب کے پانی سے چندن گھس اسکے بدن مین لگاتا ہے اور کیلے کے کومل کومل پاتون سے بون کر رہا ہے اسپر بھی برہ کی آگ سے وہ گھبرا کر جلا ہی جلا پکارتا ہے اور متر سے کہتا ہے کہ زہر لاوے مین اپنے پران تیاگ کر اس کشت سے چھوٹون اسکی یہ اوستھا دیکھ اسنے اپنے جی مین کہا کیسا ہی ساہسی پنڈت چتر بیکی دھیر منش ہو کام دیو اُسے ایک چھن مین بیکل کر دیتا ہے اتنا اپنے من مین بچار سِکھی نے اس سے کہا اے کملا گر تیرے تئین اننگ منجری نے کہا ہے کہ تو آکے مجھے جی دان دے ان نے کہا یہ توان نے مجھے جی دان دیا اتنا کہہ اٹھ کھڑا ہوا اور سکھی اسے اپنے ساتھ لیے ہوئے اسکے پاس گئی یہ وہان جا کے دیکھے تو وہ موئی ہوئی پڑی ہے پھر ان نے بھی آہ کا نعرہ مارا کہ اسکے ساتھ اسکا دم نکل گیا اور جب صبح ہوئی اسکے گھر کے لوگ ان دونونکو مرگھٹ مین لے گئے اور چتا چنکر اسمین آگ لگائی تھی کہ اتنے مین اسکا خاوند بھی پردیس سے مرگھٹ کی راہ آ نِکلا تب لوگون کے رونے کی آواز سنکر یہ وہان گیا تو دیکھتا کیا ہے کہ اسکی استری پرش کے ساتھ چلتی ہے یہ بھی برہ سے بیاکل ہواسی آگ مین جلکر مر گیا یہ خبر نگر کے لوگ سنکے اپسمین کہنے لگے ایسا اچرج نہ آنکھون سے دیکھا نہ کانون سے سنااتنا کتھا کہہ پیتال بولا کہ اے راجہ این تینون مین کونسا ادھک کامی ہے راجہ نے کہا اسکا خاوند ادھِک کامی ہوا بیتال نے کہا کِس کارن راجہ نے کہا جن نے اپنی ناری کو اور کے ارتھ موئی دیکھ کر کرودھ تیاگ کر اسکے پریم مین مگن ہو جی دیا یہ ادھک کامی ہے یہ بات سُن بیتال پھراسی درخت پر جا لٹکا راجہ بھی وین جا کر اسے باندھ کاندھے پر رکھ لے چلا۔ {{center|'''اکیسوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ سنیل نام کا ایک نگر ہے وہ ان کا بردهمان نام راجہ تھا اسکے نگرمی بین سوامی نام ہے سر اشتی باز تیسرا تھیلا چوتھا ناستک ایک دن وہ بر می بینی بر همین اسکے چار بیٹے تھے ایک جواری اسکے گھر مین ہی نہین رہتی یہ سن وه جواری اپنے جی کو سمجھانے لگا کہ جو کوئی جوا کھیلتا لگا مین بہت دق ہوا اور کہا کہ راج نیت مین ایسا لکھا ہے کہ تواری کے ناک کان کاٹے مین سنی کا دھوکہ اور<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> q6aj157ootw6ovr6ywqpjqwqfgaouc3 32609 32608 2026-05-15T18:55:50Z Charan Gill 46 32609 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مجھے بش سا نظر آتا ہے سِکھی بولی کہ تو خاطِر جمع رکھ مین تیرا دُکھ دور کرونگی اتنا کہہ سکھی اپنے گھر گئی اوراِن نے اپنے جی مین بچارا کہ اس زندگی کو اسکی خاطِر چھوڑ دون اور پھر کے جنم لے اس سے مل سکھ بھوگ کرون یہ ارادہ کرکے گلے مین پھانسی ڈال چاہے کہ اتنے مین سکھی آپہونچی اور اسنے جھٹ گلے سے رسی نکال کر کہا جینے سے سب کچھ ہے مرنے سے نہین وہ بولی ایسے دُکھ پانے سے مرنا بھلا ہے سکھی نے کہا کہ گھڑی بھر سستا کہ مین اسے جا کر لے آتی ہون اتنا کہہ وہان گئی جہان کملاگر تھا پھر اسے چھپ کے دیکھا تو وہ بھی جدائی سے بیاکل ہو رہا ہے اور اسکا متر گلاب کے پانی سے چندن گھس اسکے بدن مین لگاتا ہے اور کیلے کے کومل کومل پاتون سے بون کر رہا ہے اسپر بھی برہ کی آگ سے وہ گھبرا کر جلا ہی جلا پکارتا ہے اور متر سے کہتا ہے کہ زہر لاوے مین اپنے پران تیاگ کر اس کشت سے چھوٹون اسکی یہ اوستھا دیکھ اسنے اپنے جی مین کہا کیسا ہی ساہسی پنڈت چتر بیکی دھیر منش ہو کام دیو اُسے ایک چھن مین بیکل کر دیتا ہے اتنا اپنے من مین بچار سِکھی نے اس سے کہا اے کملا گر تیرے تئین اننگ منجری نے کہا ہے کہ تو آکے مجھے جی دان دے ان نے کہا یہ توان نے مجھے جی دان دیا اتنا کہہ اٹھ کھڑا ہوا اور سکھی اسے اپنے ساتھ لیے ہوئے اسکے پاس گئی یہ وہان جا کے دیکھے تو وہ موئی ہوئی پڑی ہے پھر ان نے بھی آہ کا نعرہ مارا کہ اسکے ساتھ اسکا دم نکل گیا اور جب صبح ہوئی اسکے گھر کے لوگ ان دونونکو مرگھٹ مین لے گئے اور چتا چنکر اسمین آگ لگائی تھی کہ اتنے مین اسکا خاوند بھی پردیس سے مرگھٹ کی راہ آ نِکلا تب لوگون کے رونے کی آواز سنکر یہ وہان گیا تو دیکھتا کیا ہے کہ اسکی استری پرش کے ساتھ چلتی ہے یہ بھی برہ سے بیاکل ہواسی آگ مین جلکر مر گیا یہ خبر نگر کے لوگ سنکے اپسمین کہنے لگے ایسا اچرج نہ آنکھون سے دیکھا نہ کانون سے سنااتنا کتھا کہہ پیتال بولا کہ اے راجہ این تینون مین کونسا ادھک کامی ہے راجہ نے کہا اسکا خاوند ادھِک کامی ہوا بیتال نے کہا کِس کارن راجہ نے کہا جن نے اپنی ناری کو اور کے ارتھ موئی دیکھ کر کرودھ تیاگ کر اسکے پریم مین مگن ہو جی دیا یہ ادھک کامی ہے یہ بات سُن بیتال پھراسی درخت پر جا لٹکا راجہ بھی وین جا کر اسے باندھ کاندھے پر رکھ لے چلا۔ {{center|'''اکیسوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ چیتل نام کا ایک نگر ہے وہان کا بردهمان نام راجہ تھا اسکے نگر مین بشن سوامی نامے برہمن اشتی باز تیسرا تھیلا چوتھا ناستک ایک دن وہ بر می بینی بر همین اسکے چار بیٹے تھے ایک جواری اسکے گھر مین ہی نہین رہتی یہ سن وه جواری اپنے جی کو سمجھانے لگا کہ جو کوئی جوا کھیلتا لگا مین بہت دق ہوا اور کہا کہ راج نیت مین ایسا لکھا ہے کہ تواری کے ناک کان کاٹے مین سنی کا دھوکہ اور<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> gsmasnmpls6sigzgb10mkvvwaofkla5 32610 32609 2026-05-15T19:31:29Z Charan Gill 46 32610 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مجھے بش سا نظر آتا ہے سِکھی بولی کہ تو خاطِر جمع رکھ مین تیرا دُکھ دور کرونگی اتنا کہہ سکھی اپنے گھر گئی اور اِن نے اپنے جی مین بچارا کہ اس زندگی کو اسکی خاطِر چھوڑ دون اور پھر کے جنم لے اس سے مل سکھ بھوگ کرون یہ ارادہ کرکے گلے مین پھانسی ڈال چاہے کہ اتنے مین سکھی آپہونچی اور اسنے جھٹ گلے سے رسی نکال کر کہا جینے سے سب کچھ ہے مرنے سے نہین وہ بولی ایسے دُکھ پانے سے مرنا بھلا ہے سکھی نے کہا کہ گھڑی بھر سستا کہ مین اسے جا کر لے آتی ہون اتنا کہہ وہان گئی جہان کملاگر تھا پھر اسے چھپ کے دیکھا تو وہ بھی جدائی سے بیاکل ہو رہا ہے اور اسکا متر گلاب کے پانی سے چندن گھس اسکے بدن مین لگاتا ہے اور کیلے کے کومل کومل پاتون سے بون کر رہا ہے اسپر بھی برہ کی آگ سے وہ گھبرا کر جلا ہی جلا پکارتا ہے اور متر سے کہتا ہے کہ زہر لاوے مین اپنے پران تیاگ کر اس کشت سے چھوٹون اسکی یہ اوستھا دیکھ اسنے اپنے جی مین کہا کیسا ہی ساہسی پنڈت چتر بیکی دھیر منش ہو کام دیو اُسے ایک چھن مین بیکل کر دیتا ہے اتنا اپنے من مین بچار سِکھی نے اس سے کہا اے کملا گر تیرے تئین اننگ منجری نے کہا ہے کہ تو آکے مجھے جی دان دے ان نے کہا یہ توان نے مجھے جی دان دیا اتنا کہہ اٹھ کھڑا ہوا اور سکھی اسے اپنے ساتھ لیے ہوئے اسکے پاس گئی یہ وہان جا کے دیکھے تو وہ موئی ہوئی پڑی ہے پھر ان نے بھی آہ کا نعرہ مارا کہ اسکے ساتھ اسکا دم نکل گیا اور جب صبح ہوئی اسکے گھر کے لوگ ان دونونکو مرگھٹ مین لے گئے اور چتا چنکر اسمین آگ لگائی تھی کہ اتنے مین اسکا خاوند بھی پردیس سے مرگھٹ کی راہ آ نِکلا تب لوگون کے رونے کی آواز سنکر یہ وہان گیا تو دیکھتا کیا ہے کہ اسکی استری پرش کے ساتھ چلتی ہے یہ بھی برہ سے بیاکل ہواسی آگ مین جلکر مر گیا یہ خبر نگر کے لوگ سنکے اپسمین کہنے لگے ایسا اچرج نہ آنکھون سے دیکھا نہ کانون سے سنااتنا کتھا کہہ پیتال بولا کہ اے راجہ این تینون مین کونسا ادھک کامی ہے راجہ نے کہا اسکا خاوند ادھِک کامی ہوا بیتال نے کہا کِس کارن راجہ نے کہا جن نے اپنی ناری کو اور کے ارتھ موئی دیکھ کر کرودھ تیاگ کر اسکے پریم مین مگن ہو جی دیا یہ ادھک کامی ہے یہ بات سُن بیتال پھراسی درخت پر جا لٹکا راجہ بھی وین جا کر اسے باندھ کاندھے پر رکھ لے چلا۔ {{center|'''اکیسوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ چیتل نام کا ایک نگر ہے وہان کا بردهمان نام راجہ تھا اسکے نگر مین بشن سوامی نامے برہمن اشکی چار بیٹے تھے ایک جواری دوسرا کشتی باز تیسرا چھنلا چوتھا ناستک ایک دن وہ برہمن اپنے بیٹون کو سمجھانے لگا کہ جو کوئی جوا کھیلتا ہے اسکے گھر مین لکشمی نہین رہتی یہ سن وه جواری اپنے جی مین بہت دق ہوا اور کہا کہ راج نیت مین ایسا لِکھا ہے کہ جواری کے ناک کان کاٹے مین سنی کا دھوکہ اور<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> gwp72kn3iqrpqtgk8hk5bgjfqnh79c0 32611 32610 2026-05-15T19:40:51Z Charan Gill 46 32611 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مجھے بش سا نظر آتا ہے سِکھی بولی کہ تو خاطِر جمع رکھ مین تیرا دُکھ دور کرونگی اتنا کہہ سکھی اپنے گھر گئی اور اِن نے اپنے جی مین بچارا کہ اس زندگی کو اسکی خاطِر چھوڑ دون اور پھر کے جنم لے اس سے مل سکھ بھوگ کرون یہ ارادہ کرکے گلے مین پھانسی ڈال چاہے کہ اتنے مین سکھی آپہونچی اور اسنے جھٹ گلے سے رسی نکال کر کہا جینے سے سب کچھ ہے مرنے سے نہین وہ بولی ایسے دُکھ پانے سے مرنا بھلا ہے سکھی نے کہا کہ گھڑی بھر سستا کہ مین اسے جا کر لے آتی ہون اتنا کہہ وہان گئی جہان کملاگر تھا پھر اسے چھپ کے دیکھا تو وہ بھی جدائی سے بیاکل ہو رہا ہے اور اسکا متر گلاب کے پانی سے چندن گھس اسکے بدن مین لگاتا ہے اور کیلے کے کومل کومل پاتون سے بون کر رہا ہے اسپر بھی برہ کی آگ سے وہ گھبرا کر جلا ہی جلا پکارتا ہے اور متر سے کہتا ہے کہ زہر لاوے مین اپنے پران تیاگ کر اس کشت سے چھوٹون اسکی یہ اوستھا دیکھ اسنے اپنے جی مین کہا کیسا ہی ساہسی پنڈت چتر بیکی دھیر منش ہو کام دیو اُسے ایک چھن مین بیکل کر دیتا ہے اتنا اپنے من مین بچار سِکھی نے اس سے کہا اے کملا گر تیرے تئین اننگ منجری نے کہا ہے کہ تو آکے مجھے جی دان دے ان نے کہا یہ توان نے مجھے جی دان دیا اتنا کہہ اٹھ کھڑا ہوا اور سکھی اسے اپنے ساتھ لیے ہوئے اسکے پاس گئی یہ وہان جا کے دیکھے تو وہ موئی ہوئی پڑی ہے پھر ان نے بھی آہ کا نعرہ مارا کہ اسکے ساتھ اسکا دم نکل گیا اور جب صبح ہوئی اسکے گھر کے لوگ ان دونونکو مرگھٹ مین لے گئے اور چتا چنکر اسمین آگ لگائی تھی کہ اتنے مین اسکا خاوند بھی پردیس سے مرگھٹ کی راہ آ نِکلا تب لوگون کے رونے کی آواز سنکر یہ وہان گیا تو دیکھتا کیا ہے کہ اسکی استری پرش کے ساتھ چلتی ہے یہ بھی برہ سے بیاکل ہواسی آگ مین جلکر مر گیا یہ خبر نگر کے لوگ سنکے اپسمین کہنے لگے ایسا اچرج نہ آنکھون سے دیکھا نہ کانون سے سنااتنا کتھا کہہ پیتال بولا کہ اے راجہ این تینون مین کونسا ادھک کامی ہے راجہ نے کہا اسکا خاوند ادھِک کامی ہوا بیتال نے کہا کِس کارن راجہ نے کہا جن نے اپنی ناری کو اور کے ارتھ موئی دیکھ کر کرودھ تیاگ کر اسکے پریم مین مگن ہو جی دیا یہ ادھک کامی ہے یہ بات سُن بیتال پھراسی درخت پر جا لٹکا راجہ بھی وین جا کر اسے باندھ کاندھے پر رکھ لے چلا۔ {{center|'''اکیسوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ چیتل نام کا ایک نگر ہے وہان کا بردهمان نام راجہ تھا اسکے نگر مین بشن سوامی نامے برہمن اشکی چار بیٹے تھے ایک جواری دوسرا کشتی باز تیسرا چھنلا چوتھا ناستک ایک دن وہ برہمن اپنے بیٹون کو سمجھانے لگا کہ جو کوئی جوا کھیلتا ہے اسکے گھر مین لکشمی نہین رہتی یہ سن وه جواری اپنے جی مین بہت دق ہوا اور کہا کہ راج نیت مین ایسا لِکھا ہے کہ جواری کے ناک کان کاٹ دیس سے نکالدے کہ اور<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 6r8elimxb4u5nalothmu0nihedpp9qe 32617 32611 2026-05-16T07:20:25Z BalramBodhi 60 32617 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مجھے بش سا نظر آتا ہے سِکھی بولی کہ تو خاطِر جمع رکھ مین تیرا دُکھ دور کرونگی اتنا کہہ سکھی اپنے گھر گئی اور اِن نے اپنے جی مین بچارا کہ اس زندگی کو اسکی خاطِر چھوڑ دون اور پھر کے جنم لے اس سے مل سکھ بھوگ کرون یہ ارادہ کرکے گلے مین پھانسی ڈال چاہے کہ کھینچے اتنے مین سکھی آپہونچی اور اسنے جھٹ گلے سے رسی نکال کر کہا جینے سے سب کچھ ہے مرنے سے نہین وہ بولی ایسے دُکھ پانے سے مرنا بھلا ہے سِکھی نے کہا کہ گھڑی بھر سستا کہ مین اسے جا کر لے آتی ہون اتنا کہہ وہان گئی جہان کملاگر تھا پھر اسے چھپ کے دیکھا تو وہ بھی جدائی سے بیاکل ہو رہا ہے اور اسکا متر گلاب کے پانی سے چندن گھس اسکے بدن مین لگاتا ہے اور کیلے کے کومل کومل پاتون سے پون کر رہا ہے تِسپر بھی برہ کی آگ سے وہ گھبرا کر جلا ہی جلا پکارتا ہے اور متر سے کہتا ہے کہ زہر لاوے مین اپنے پران تیاگ کر اس کشت سے چھوٹون اسکی یہ اوستھا دیکھ اسنے اپنے جی مین کہا کیسا ہی ساہسی پنڈت چتر بیکی دھیر منش ہو کام دیو اُسے ایک چھن مین بیکل کر دیتا ہے اتنا اپنے من مین بچار سِکھی نے اس سے کہا اے کملاگر تیرے تئین اننگ منجری نے کہا ہے کہ تو آکے مجھے جی دان دے ان نے کہا یہ تو ان نے مجھے جی دان دیا اتنا کہہ اٹھ کھڑا ہوا اور سکھی اسے اپنے ساتھ لیے ہوئے اسکے پاس گئی یہ وہان جا کے دیکھے تو وہ موئی ہوئی پڑی ہے پھر ان نے بھی ایک آہ کا نعرہ مارا کہ اسکے ساتھ اسکا دم نکل گیا اور جب صبح ہوئی اسکے گھر کے لوگ ان دونونکو مرگھٹ مین لے گئے اور چتا چنکر اسمین آگ لگائی تھی کہ اتنے مین اسکا خاوند بھی پردیس سے مرگھٹ کی راہ آ نِکلا تب لوگون کے رونے کی آواز سنکر یہ وہان گیا تو دیکھتا کیا ہے کہ اسکی استری پرش کے ساتھ جلتی ہے یہ بھی برہ سے بیاکل ہو اسی آگ مین جلکر مر گیا یہ خبر نگر کے لوگ سنکے اپسمین کہنے لگے ایسا اچرج نہ آنکھون سے دیکھا نہ کانون سے سنااتنا کتھا کہہ بیتال بولا کہ اے راجہ این تینون مین کونسا ادھک کامی ہوا راجہ نے کہا اسکا خاوند ادھِک کامی ہوا بیتال نے کہا کِس کارن راجہ نے کہا جن نے اپنی ناری کو اور کے ارتھ موئی دیکھ کر کرودھ تیاگ کر اسکے پریم مین مگن ہو جی دیا یہ ادھک کامی ہوا یہ بات سُن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ بھی وہین جا کر اسے باندھ کاندھے پر رکھ لے چلا۔ {{center|'''اکیسوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ چیتل نام کا ایک نگر ہے وہان کا بردهمان نام راجہ تھا اسکے نگر مین بشن سوامی نامے برہمن اسکے چار بیٹے تھے ایک جواری دوسرا کشتی باز تیسرا چھنلا چوتھا ناستک ایک دن وہ برہمن اپنے بیٹون کو سمجھانے لگا کہ جو کوئی جوا کھیلتا ہے اسکے گھر مین لکشمی نہین رہتی یہ سن وه جواری اپنے جی مین بہت دق ہوا اور کہا کہ راج نیت مین ایسا لِکھا ہے کہ جواری کے ناک کان کاٹ دیس سے نکالدے کہ اور<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> h5h3cm4ov710cx806xxaj3zm5nr2639 صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/59 250 12707 32612 30815 2026-05-16T00:27:00Z Charan Gill 46 32612 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لوگ جو نہ کھیلین اور جواری کے جو رو لڑکوں کو گھر مین ہوتے بھی نہین گھر میں نہ جانیے کیونکہ نہ معالوم کسوقت وہ انھین ہار دے اور جو بیشیا کے چرترون پر موہت ہوتے ہیں سو اپنے جی کو دکھ بساتے ہیں اور جو کسی کے بس مین ہو اپنا سر بس دے انت کو چوری کرتے ہین اور کہا ہے کہ جو ناری آدمی کے من کو ایک گھڑی میں موہ لے ایسی ناری سے گیانی دور رہتے ہیں اور اگیانی اس سے پریت کر اپنا ست شیل جس اچار بچار نیم دھرم سب کھوتے ہیں اور اسکو اپنے گرد کا اپدیش بھلا نہیں لگتا اور ایسا کہا ہے کہ جس نے اپنی لاج کھوئی دوسرے کو وہ کب ہیحرمت کرنے سے ڈرتی ہے اور مشل ہے کہ جو بلاؤ اپنے بچے کو کھاتا ہے سو چوہے کو کب چھوڑیگا پھر سنے لگاکہ جنھوں نے بالک پن این بدیا نہیں پڑھی اور جوانی میں کام سر اتر موجوانی کے گھمنڈ مین رہے سو بڑھاپے میں پچھتا کے حرص کی آگ میں جلتے ہیں یہ بات سن ان چار دن نے آپس میں بچار کے کہا کہ بریا اہین پرش کے بیٹے سے مزا بھلا ہو اس سو تم یہ ہو کہ بدیس میں جا کر پر پھیے یہ بات آپ مین ٹھان دے ایک اور نگر میں گئے اور کتنی ایک قدت بعد پڑھ کے پنڈت ہو اپنے گھر کو چلے راہ میں دیکھتے کیا ہیں کہ ایک کنجر ہوئے ہوئے شیر کی بڑی اور چھرا جداگر گٹھڑی باندھ چاہو کہ لیجائے انھوں نے اسمیں کہا کہ اپنی اپنی بدیا آزمادین یہ ٹھہر ایک نے اسے بلا کر کچھ دیا اور وہ موٹ نے اسے بلا کیا راستے سے کنارے ہو اس کر موٹ کو کھول ایک نے ساری ہڈیان جابجا گامنتر پڑھ چھٹا مارا کہ وے باڑ لگ گئے دوسرے نے اسی طرح ان ہڈیوں پر مانس جمایا تیسرے نے ایسی بھانت سے مانس پر چام بٹھا دیا چوتھے نے اسی ریت سے اسے جلا دیا پھر وہ اٹھتے ہی ان چاروں کو کھا گیا اتنی کتھا کہ میتال بولا اے راجہ ان چارون مین کون راد هنگ مور کو تھا راجہ بکرم نے کہا جس نے اسے جلا دیا وہی برا مورکھ تھا اورایسا کا ہو کہ بدھ بنا بد یا کسی کام کی نہیں بلکہ بیا سر دھو ڑ کر ہو اور درد این طرح مرتے ہیں جیسے سینگھے کے جلانے والے ہوئے یہ بات من بقتال اسی درخت میں جال کا پھر اجرای طرح باندھے کاندھے پر رکھ پھیلا۔ بائیسوین کهانی بیتال بولا اور راجہ بشبو پر نام مگر وہ ان کا بدھ نام راجہ اسکے نگرمین ناراین نام بر مین تھا وہ ایک دن اسی اپنے من مین چنتا کرنے لگا کہ میراجسم بڑھا ہوا اور میں دوسرے کی کایا میں بیٹھنے کی تیا جانتا ہوں اسے بہتر یہ ہو اس پرانی دینہہ کو چھوڑا وار کیسی جو ان کے شریر میں جا کر بھوگ کردن جب وہ یہ اپنے جی من بچار کر چکا اور ایک نو جو ان کے شریرمین میٹھنے لگاتو پہلے رویا اور چھے پہنا پھر میں بیٹھ کےاپنے گھر میں آیا لیکن سارے گٹھ بجے لوگ اس کے کرتب سر واقف تھے پھر انکے آگے کہنے لگا کہ میں اب جوگی ہو اتنا لہ کے پڑھنے لگا کہ جو آشا کے سرور کونیشیا کیے تیج سے سکھا اس میں مین کو کھاند ریون کو مشتعل کر موسوم<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> t3kdtcmsfuet29z3ic8vke3jzpkzua6 32613 32612 2026-05-16T05:58:36Z Charan Gill 46 32613 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لوگ جو نہ کھیلین اور جواری کے جو رو لڑکون کو گھر مین ہوتے بھی نہین گھر مین نہ جانیے کیونکہ نہ معالوم کسوقت وہ انھین ہار دے اور جو بیشیا کے چرترون پر موہت ہوتے ہین سو اپنے جی کو دکھ بساتے ہین اور جو کسی کے بس مین ہو اپنا سر بس دے انت کو چوری کرتے ہین اور کہا ہے کہ جو ناری آدمی کے من کو ایک گھڑی مین موہ لے ایسی ناری سے گیانی دور رہتے ہین اور اگیانی اس سے پریت کر اپنا ست شیل جس اچار بچار نیم دھرم سب کھوتے ہین اور اسکو اپنے گرد کا اپدیش بھلا نہین لگتا اور ایسا کہا ہے کہ جس نے اپنی لاج کھوئی دوسرے کو وہ کب ہیحرمت کرنے سے ڈرتی ہے اور مشل ہے کہ جو بلاؤ اپنے بچے کو کھاتا ہے سو چوہے کو کب چھوڑیگا پھر اسنے لگا کہ جنھون نے بالک پن مین بدیا نہین پڑھی اور جوانی مین کام سے آتر ہو جوانی کے گھمنڈ مین رہے سو بڑھاپے مین پچھتا کے حرص کی آگ مین جلتے ہین یہ بات سُن اُن چارون نے آپس مین بچار کے کہا کہ بدیاہین پرش کے جینے سے مرنا بھلا ہے اس سے اتم یہ ہے کہ بدیس مین جا کر پر پھیے یہ بات آپسمین ٹھان وے ایک اور نگر مین گئے اور کتنی ایک مدّت بعد پڑھ کے پنڈت ہو اپنے گھر کو چلے راہ مین دیکھتے کیا ہین کہ ایک کنجر ہوئے ہوئے شیر کی ہڑی اور چھرا جداگر گٹھڑی باندھ چاہe کہ لیجائے انھون نے آپسمین کہا کہ اپنی اپنی بدیا آزمادین یہ ٹھہر ایک نے اسے بلا کر کچھ دیا اور وہ موٹ نے اسے بلا کیا راستے سے کنارے ہو اس کر موٹ کو کھول ایک نے ساری ہڈیان جابجا گامنتر پڑھ چھٹا مارا کہ وے باڑ لگ گئے دوسرے نے اسی طرح ان ہڈیون پر مانس جمایا تیسرے نے ایسی بھانت سے مانس پر چام بٹھا دیا چوتھے نے اسی ریت سے اسے جلا دیا پھر وہ اٹھتے ہی ان چارون کو کھا گیا اتنی کتھا کہ میتال بولا اے راجہ ان چارون مین کون راد هنگ مور کو تھا راجہ بکرم نے کہا جس نے اسے جلا دیا وہی برا مورکھ تھا اورایسا کا ہو کہ بدھ بنا بد یا کسی کام کی نہین بلکہ بیا سر دھو ڑ کر ہو اور درد این طرح مرتے ہین جیسے سینگھے کے جلانے والے ہوئے یہ بات من بقتال اسی درخت مین جال کا پھر اجرای طرح باندھے کاندھے پر رکھ پھیلا۔ بائیسوین کهانی بیتال بولا اور راجہ بشبو پر نام مگر وہ ان کا بدھ نام راجہ اسکے نگرمین ناراین نام بر مین تھا وہ ایک دن اسی اپنے من مین چنتا کرنے لگا کہ میراجسم بڑھا ہوا اور مین دوسرے کی کایا مین بیٹھنے کی تیا جانتا ہون اسے بہتر یہ ہو اس پرانی دینہہ کو چھوڑا وار کیسی جو ان کے شریر مین جا کر بھوگ کردن جب وہ یہ اپنے جی من بچار کر چکا اور ایک نو جو ان کے شریرمین میٹھنے لگاتو پہلے رویا اور چھے پہنا پھر مین بیٹھ کےاپنے گھر مین آیا لیکن سارے گٹھ بجے لوگ اس کے کرتب سر واقف تھے پھر انکے آگے کہنے لگا کہ مین اب جوگی ہو اتنا لہ کے پڑھنے لگا کہ جو آشا کے سرور کونیشیا کیے تیج سے سکھا اس مین مین کو کھاند ریون کو مشتعل کر موسوم<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 4hteokix53c97jo5yp8a48zarnsu84z 32614 32613 2026-05-16T06:01:16Z Charan Gill 46 32614 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لوگ جو نہ کھیلین اور جواری کے جو رو لڑکون کو گھر مین ہوتے بھی نہین گھر مین نہ جانیے کیونکہ نہ معالوم کسوقت وہ انھین ہار دے اور جو بیشیا کے چرترون پر موہت ہوتے ہین سو اپنے جی کو دکھ بساتے ہین اور جو کسی کے بس مین ہو اپنا سر بس دے انت کو چوری کرتے ہین اور کہا ہے کہ جو ناری آدمی کے من کو ایک گھڑی مین موہ لے ایسی ناری سے گیانی دور رہتے ہین اور اگیانی اس سے پریت کر اپنا ست شیل جس اچار بچار نیم دھرم سب کھوتے ہین اور اسکو اپنے گرد کا اپدیش بھلا نہین لگتا اور ایسا کہا ہے کہ جس نے اپنی لاج کھوئی دوسرے کو وہ کب ہیحرمت کرنے سے ڈرتی ہے اور مشل ہے کہ جو بلاؤ اپنے بچے کو کھاتا ہے سو چوہے کو کب چھوڑیگا پھر اسنے لگا کہ جنھون نے بالک پن مین بدیا نہین پڑھی اور جوانی مین کام سے آتر ہو جوانی کے گھمنڈ مین رہے سو بڑھاپے مین پچھتا کے حرص کی آگ مین جلتے ہین یہ بات سُن اُن چارون نے آپس مین بچار کے کہا کہ بدیاہین پرش کے جینے سے مرنا بھلا ہے اس سے اتم یہ ہے کہ بدیس مین جا کر پر پھیے یہ بات آپسمین ٹھان وے ایک اور نگر مین گئے اور کتنی ایک مدّت بعد پڑھ کے پنڈت ہو اپنے گھر کو چلے راہ مین دیکھتے کیا ہین کہ ایک کنجر ہوئے ہوئے شیر کی ہڑی اور چھرا جداگر گٹھڑی باندھ چاہe کہ لیجائے انھون نے آپسمین کہا کہ اپنی اپنی بدیا آزمادین یہ ٹھہر ایک نے اسے بلا کر کچھ دیا اور وہ موٹ نے اسے بلا کیا راستے سے کنارے ہو اس کر موٹ کو کھول ایک نے ساری ہڈیان جابجا گامنتر پڑھ چھٹا مارا کہ وے باڑ لگ گئے دوسرے نے اسی طرح ان ہڈیون پر مانس جمایا تیسرے نے ایسی بھانت سے مانس پر چام بٹھا دیا چوتھے نے اسی ریت سے اسے جلا دیا پھر وہ اٹھتے ہی ان چارون کو کھا گیا اتنی کتھا کہ میتال بولا اے راجہ ان چارون مین کون راد هنگ مور کو تھا راجہ بکرم نے کہا جس نے اسے جلا دیا وہی برا مورکھ تھا اورایسا کا ہو کہ بدھ بنا بد یا کسی کام کی نہین بلکہ بیا سر دھو ڑ کر ہو اور درد این طرح مرتے ہین جیسے سینگھے کے جلانے والے ہوئے یہ بات من بقتال اسی درخت مین جال کا پھر اجرای طرح باندھے کاندھے پر رکھ پھیلا۔ {{center|'''بائیسوین کهانی'''}} بیتال بولا اور راجہ بشبو پر نام نگر وہ ان کا بدھ نام راجہ اسکے نگر مین ناراین نام برہمن تھا وہ ایک دن اسی اپنے من مین چنتا کرنے لگا کہ میراجسم بڑھا ہوا اور مین دوسرے کی کایا مین بیٹھنے کی تیا جانتا ہون اسے بہتر یہ ہو اس پرانی دینہہ کو چھوڑا وار کیسی جو ان کے شریر مین جا کر بھوگ کردن جب وہ یہ اپنے جی من بچار کر چکا اور ایک نو جو ان کے شریرمین میٹھنے لگاتو پہلے رویا اور چھے پہنا پھر مین بیٹھ کےاپنے گھر مین آیا لیکن سارے گٹھ بجے لوگ اس کے کرتب سر واقف تھے پھر انکے آگے کہنے لگا کہ مین اب جوگی ہو اتنا لہ کے پڑھنے لگا کہ جو آشا کے سرور کونیشیا کیے تیج سے سکھا اس مین مین کو کھاند ریون کو مشتعل کر موسوم<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> d0znvtfm9684w4vo772dse5w0mesxvk 32615 32614 2026-05-16T06:09:03Z Charan Gill 46 32615 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لوگ جو نہ کھیلین اور جواری کے جو رو لڑکون کو گھر مین ہوتے بھی نہین گھر مین نہ جانیے کیونکہ نہ معالوم کسوقت وہ انھین ہار دے اور جو بیشیا کے چرترون پر موہت ہوتے ہین سو اپنے جی کو دکھ بساتے ہین اور جو کسی کے بس مین ہو اپنا سر بس دے انت کو چوری کرتے ہین اور کہا ہے کہ جو ناری آدمی کے من کو ایک گھڑی مین موہ لے ایسی ناری سے گیانی دور رہتے ہین اور اگیانی اس سے پریت کر اپنا ست شیل جس اچار بچار نیم دھرم سب کھوتے ہین اور اسکو اپنے گرد کا اپدیش بھلا نہین لگتا اور ایسا کہا ہے کہ جس نے اپنی لاج کھوئی دوسرے کو وہ کب ہیحرمت کرنے سے ڈرتی ہے اور مشل ہے کہ جو بلاؤ اپنے بچے کو کھاتا ہے سو چوہے کو کب چھوڑیگا پھر اسنے لگا کہ جنھون نے بالک پن مین بدیا نہین پڑھی اور جوانی مین کام سے آتر ہو جوانی کے گھمنڈ مین رہے سو بڑھاپے مین پچھتا کے حرص کی آگ مین جلتے ہین یہ بات سُن اُن چارون نے آپس مین بچار کے کہا کہ بدیاہین پرش کے جینے سے مرنا بھلا ہے اس سے اتم یہ ہے کہ بدیس مین جا کر پر پھیے یہ بات آپسمین ٹھان وے ایک اور نگر مین گئے اور کتنی ایک مدّت بعد پڑھ کے پنڈت ہو اپنے گھر کو چلے راہ مین دیکھتے کیا ہین کہ ایک کنجر ہوئے ہوئے شیر کی ہڑی اور چھرا جداگر گٹھڑی باندھ چاہe کہ لیجائے انھون نے آپسمین کہا کہ اپنی اپنی بدیا آزمادین یہ ٹھہر ایک نے اسے بلا کر کچھ دیا اور وہ موٹ نے اسے بلا کیا راستے سے کنارے ہو اس کر موٹ کو کھول ایک نے ساری ہڈیان جابجا گامنتر پڑھ چھٹا مارا کہ وے باڑ لگ گئے دوسرے نے اسی طرح ان ہڈیون پر مانس جمایا تیسرے نے ایسی بھانت سے مانس پر چام بٹھا دیا چوتھے نے اسی ریت سے اسے جلا دیا پھر وہ اٹھتے ہی ان چارون کو کھا گیا اتنی کتھا کہ بیتال بولا اے راجہ ان چارون مین کون ادهک مورکھ تھا راجہ بکرم نے کہا جس نے اسے جلا دیا وہی بڑا مورکھ تھا اورایسا کہا ہے کہ بدھ بنا بدیا کسی کام کی نہین بلکہ بیا سر دھو ڑ کر ہو اور درد این طرح مرتے ہین جیسے سینگھے کے جلانے والے ہوئے یہ بات من بقتال اسی درخت مین جا لٹکا پھر راجہ ای طرح باندھے کاندھے پر رکھ لیلا۔ {{center|'''بائیسوین کهانی'''}} بیتال بولا اور راجہ بشبو پر نام نگر وہ ان کا بدھ نام راجہ اسکے نگر مین ناراین نام برہمن تھا وہ ایک دن اسی اپنے من مین چنتا کرنے لگا کہ میراجسم بڑھا ہوا اور مین دوسرے کی کایا مین بیٹھنے کی تیا جانتا ہون اسے بہتر یہ ہو اس پرانی دینہہ کو چھوڑا وار کیسی جو ان کے شریر مین جا کر بھوگ کردن جب وہ یہ اپنے جی من بچار کر چکا اور ایک نو جو ان کے شریرمین میٹھنے لگاتو پہلے رویا اور چھے پہنا پھر مین بیٹھ کےاپنے گھر مین آیا لیکن سارے گٹھ بجے لوگ اس کے کرتب سر واقف تھے پھر انکے آگے کہنے لگا کہ مین اب جوگی ہو اتنا لہ کے پڑھنے لگا کہ جو آشا کے سرور کونیشیا کیے تیج سے سکھا اس مین مین کو کھاند ریون کو مشتعل کر موسوم<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> dqtdre68kbmpkqastjcpo1zjuhgl22l 32616 32615 2026-05-16T06:29:29Z Charan Gill 46 32616 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لوگ جو نہ کھیلین اور جواری کے جو رو لڑکون کو گھر مین ہوتے بھی نہین گھر مین نہ جانیے کیونکہ نہ معالوم کسوقت وہ انھین ہار دے اور جو بیشیا کے چرترون پر موہت ہوتے ہین سو اپنے جی کو دکھ بساتے ہین اور جو کسی کے بس مین ہو اپنا سر بس دے انت کو چوری کرتے ہین اور کہا ہے کہ جو ناری آدمی کے من کو ایک گھڑی مین موہ لے ایسی ناری سے گیانی دور رہتے ہین اور اگیانی اس سے پریت کر اپنا ست شیل جس اچار بچار نیم دھرم سب کھوتے ہین اور اسکو اپنے گرد کا اپدیش بھلا نہین لگتا اور ایسا کہا ہے کہ جس نے اپنی لاج کھوئی دوسرے کو وہ کب ہیحرمت کرنے سے ڈرتی ہے اور مشل ہے کہ جو بلاؤ اپنے بچے کو کھاتا ہے سو چوہے کو کب چھوڑیگا پھر اسنے لگا کہ جنھون نے بالک پن مین بدیا نہین پڑھی اور جوانی مین کام سے آتر ہو جوانی کے گھمنڈ مین رہے سو بڑھاپے مین پچھتا کے حرص کی آگ مین جلتے ہین یہ بات سُن اُن چارون نے آپس مین بچار کے کہا کہ بدیاہین پرش کے جینے سے مرنا بھلا ہے اس سے اتم یہ ہے کہ بدیس مین جا کر پر پھیے یہ بات آپسمین ٹھان وے ایک اور نگر مین گئے اور کتنی ایک مدّت بعد پڑھ کے پنڈت ہو اپنے گھر کو چلے راہ مین دیکھتے کیا ہین کہ ایک کنجر ہوئے ہوئے شیر کی ہڑی اور چمڑی جدا کر گٹھڑی باندھ چاہے کہ لیجائے انھون نے آپسمین کہا کہ اپنی اپنی بدیا آزماوین یہ ٹھہر ایک نے اسے بلا کر کچھ دیا اور وہ موٹ نے اسے بلا کیا راستے سے کنارے ہو اس کر موٹ کو کھول ایک نے ساری ہڈیان جابجا گا منتر پڑھ چھٹا مارا کہ وے باڑ لگ گئے دوسرے نے اسی طرح ان ہڈیون پر مانس جمایا تیسرے نے ایسی بھانت سے مانس پر چامٹھا دیا چوتھے نے اسی ریت سے اسے جلا دیا پھر وہ اٹھتے ہی ان چارون کو کھا گیا اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ اِن چارون مین کون ادهک مورکھ تھا راجہ بکرم نے کہا جِس نے اسے جلا دیا وہی بڑا مورکھ تھا اورایسا کہا ہے کہ بدھ بنا بدیا کسی کام کی نہین بلکہ بدیا سے بدھ بڑکر ہے اور بدھ ہین اسیطرح مرتے ہین جیسے سنگھ کے جلانے والے ہوئے یہ بات سن بیتال اسی درخت مین جا لٹکا پھر راجہ اسی طرح باندھے کاندھے پر رکھ لیلا۔ {{center|'''بائیسوین کهانی'''}} بیتال بولا اور راجہ بشبو پر نام نگر وہ ان کا بدھ نام راجہ اسکے نگر مین ناراین نام برہمن تھا وہ ایک دن اسی اپنے من مین چنتا کرنے لگا کہ میراجسم بڑھا ہوا اور مین دوسرے کی کایا مین بیٹھنے کی تیا جانتا ہون اسے بہتر یہ ہو اس پرانی دینہہ کو چھوڑا وار کیسی جو ان کے شریر مین جا کر بھوگ کردن جب وہ یہ اپنے جی من بچار کر چکا اور ایک نو جو ان کے شریرمین میٹھنے لگاتو پہلے رویا اور چھے پہنا پھر مین بیٹھ کےاپنے گھر مین آیا لیکن سارے گٹھ بجے لوگ اس کے کرتب سر واقف تھے پھر انکے آگے کہنے لگا کہ مین اب جوگی ہو اتنا لہ کے پڑھنے لگا کہ جو آشا کے سرور کونیشیا کیے تیج سے سکھا اس مین مین کو کھاند ریون کو مشتعل کر موسوم<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> se39j1d3xik3rg352e7l7s7dfp5j102 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/257 250 13153 32604 32568 2026-05-15T15:36:15Z Kaur.gurmel 74 32604 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کو بھی نہیں نکالتا۔ سگے بھائی کو کیسے نکا لیگا. بھیجیش - مهاراج! میرا قصور صرف یہی تھا کہ میں نے راون سے وہ بات کہی جو اُسے پسند نہ تھی ۔ میں نے اُسے سمجھایا تھا کہ سیتا جی کو رامچندر کے پاس پہنچا دو ۔ یہ بات اُسے تیر کی طرح لگ گئی ۔ جو آدمی نفس کا غلام ہو جانا ہے اُسے نیک اور بد کی تمیز نہیں رہتی ۔ وہ اپنے بارے میں سچی بات سننا کبھی پسند نہیں کرتا ہے رامچندر نے بھیجھیشن کو بہت تشقی دی اور وعدہ کیا کہ راون کو مار کر لنکا کا راج تمہیں دونگا ۔ اسی وقت بھھیشن کو راج تیلک بھی دیدیا ۔ بھیشن نے بھی ہر حالت میں رامچندر کی مدد کرنے کا پکا وعدہ کیا : دوسرے دن سے لنکا پر چڑھائی کرنے کی تیاریاں شروع ہو گئیں ۔ اور فوج سمندر کے<noinclude></noinclude> a73daerm3503sdhunsrbapqtahmmk6c 32605 32604 2026-05-15T15:39:02Z Kaur.gurmel 74 32605 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کو بھی نہیں نکالتا۔ سگے بھائی کو کیسے نکا لیگا. بھبھیشن - مہاراج! میرا قصور صرف یہی تھا کہ میں نے راون سے وہ بات کہی جو اُسے پسند نہ تھی ۔ میں نے اُسے سمجھایا تھا کہ سیتا جی کو رامچندر کے پاس پہنچا دو ۔ یہ بات اُسے تیر کی طرح لگ گئی ۔ جو آدمی نفس کا غلام ہو جانا ہے اُسے نیک اور بد کی تمیز نہیں رہتی ۔ وہ اپنے بارے میں سچی بات سننا کبھی پسند نہیں کرتا ہے رامچندر نے بھیجھیشن کو بہت تشقی دی اور وعدہ کیا کہ راون کو مار کر لنکا کا راج تمہیں دونگا ۔ اسی وقت بھھیشن کو راج تیلک بھی دیدیا ۔ بھیشن نے بھی ہر حالت میں رامچندر کی مدد کرنے کا پکا وعدہ کیا : دوسرے دن سے لنکا پر چڑھائی کرنے کی تیاریاں شروع ہو گئیں ۔ اور فوج سمندر کے<noinclude></noinclude> eyl3g5j0thjan4wrnw53nlfyzfzbw6n 32606 32605 2026-05-15T16:11:16Z Kaur.gurmel 74 32606 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کو بھی نہیں نکالتا۔ سگے بھائی کو کیسے نکا لیگا. بھبھیشن - مہاراج! میرا قصور صرف یہی تھا کہ میں نے راون سے وہ بات کہی جو اُسے پسند نہ تھی ۔ میں نے اُسے سمجھایا تھا کہ سیتا جی کو رامچندر کے پاس پہنچا دو ۔ یہ بات اُسے تیر کی طرح لگ گئی ۔ جو آدمی نفس کا غلام ہو جانا ہے اُسے نیک اور بد کی تمیز نہیں رہتی ۔ وہ اپنے بارے میں سچی بات سُننا کبھی پسند نہیں کرتا . رامچندر نے بھبھیشن کو بہت تشفّی دی اور وعدہ کیا کہ راون کو مار کر لنکا کا راج تُمہیں دونگا ۔ اسی وقت بھبھیشن کو راج تیلک بھی دیدیا ۔ بھبھیشن نے بھی ہر حالت میں رامچندر کی مدد کرنے کا پکّا وعدہ کیا . دوسرے دن سے لنکا پر چڑھائی کرنے کی تیاریاں شروع ہو گئیں ۔ اور فوج سمندر کے<noinclude></noinclude> e8i35wz2z12ibnjr45fmmgowpeiqoxf