ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.2
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/59
250
12707
32618
32616
2026-05-16T12:52:42Z
Charan Gill
46
32618
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لوگ جو نہ کھیلین اور جواری کے جورو لڑکون کو گھر مین ہوتے بھی انھین گھر مین نہ جانیے کیونکہ نہ معالوم کسوقت وہ انھین ہار دے اور جو بیشیا کے چرترون پر موہت ہوتے ہین سو اپنے جی کو دکھ بساتے ہین اور جو کسی کے
بس مین ہو اپنا سر بس دے انت کو چوری کرتے ہین اور کہا ہے کہ جو ناری آدمی کے من کو ایک گھڑی مین موہ لے ایسی ناری سے گیانی دور رہتے ہین اور اگیانی اس سے پریت کر اپنا ست شیل جس اچار بچار نیم دھرم سب کھوتے ہین اور اسکو اپنے گرد کا اپدیش بھلا نہین لگتا اور ایسا کہا ہے کہ جس نے اپنی لاج کھوئی دوسرے کو وہ کب ہیحرمت کرنے سے ڈرتی ہے اور مشل ہے کہ جو بلاؤ اپنے بچے کو کھاتا ہے سو چوہے کو کب چھوڑیگا پھر اسنے لگا کہ جنھون نے بالک پن مین بدیا نہین پڑھی اور جوانی مین کام سے آتر ہو جوانی کے گھمنڈ مین رہے سو بڑھاپے مین پچھتا کے حرص کی آگ مین جلتے ہین یہ بات سُن اُن چارون نے آپس مین بچار کے کہا کہ بدیاہین پرش کے جینے سے مرنا بھلا ہے اس سے اتم یہ ہے کہ بدیس مین جا کر پر پھیے یہ بات آپسمین ٹھان وے
ایک اور نگر مین گئے اور کتنی ایک مدّت بعد پڑھ کے پنڈت ہو اپنے گھر کو چلے راہ مین دیکھتے کیا ہین کہ ایک کنجر ہوئے ہوئے شیر کی ہڑی اور چمڑی جدا کر گٹھڑی باندھ چاہے کہ لیجائے انھون نے آپسمین کہا کہ اپنی اپنی
بدیا آزماوین یہ ٹھہر ایک نے اسے بلا کر کچھ دیا اور وہ موٹ نے اسے بلا کیا راستے سے کنارے ہو اس کر موٹ کو کھول ایک نے ساری ہڈیان جابجا گا منتر پڑھ چھٹا مارا کہ وے باڑ لگ گئے دوسرے نے اسی طرح ان ہڈیون پر مانس جمایا تیسرے نے ایسی بھانت سے مانس پر چامٹھا دیا چوتھے نے اسی
ریت سے اسے جلا دیا پھر وہ اٹھتے ہی ان چارون کو کھا گیا اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ اِن چارون مین کون ادهک مورکھ تھا راجہ بکرم نے کہا جِس نے اسے جلا دیا وہی بڑا مورکھ تھا اورایسا کہا ہے کہ بدھ بنا بدیا کسی کام کی نہین بلکہ بدیا سے بدھ بڑکر ہے اور بدھ ہین اسیطرح مرتے ہین جیسے سنگھ کے جلانے والے ہوئے یہ بات سن بیتال اسی درخت مین جا لٹکا پھر راجہ اسی طرح باندھے کاندھے پر رکھ لیلا۔
{{center|'''بائیسوین کهانی'''}}
بیتال بولا اور راجہ بشبو پر نام نگر وہ ان کا بدھ نام راجہ اسکے نگر مین ناراین نام برہمن تھا وہ ایک دن اسی
اپنے من مین چنتا کرنے لگا کہ میراجسم بڑھا ہوا اور مین دوسرے کی کایا مین بیٹھنے کی تیا جانتا ہون اسے
بہتر یہ ہو اس پرانی دینہہ کو چھوڑا وار کیسی جو ان کے شریر مین جا کر بھوگ کردن جب وہ یہ اپنے جی
من بچار کر چکا اور ایک نو جو ان کے شریرمین میٹھنے لگاتو پہلے رویا اور چھے پہنا پھر مین بیٹھ کےاپنے گھر
مین آیا لیکن سارے گٹھ بجے لوگ اس کے کرتب سر واقف تھے پھر انکے آگے کہنے لگا کہ مین اب جوگی ہو اتنا
لہ کے پڑھنے لگا کہ جو آشا کے سرور کونیشیا کیے تیج سے سکھا اس مین مین کو کھاند ریون کو مشتعل کر موسوم<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
6q63uq3n2a5k2kui45x572a3glfd1cr
32625
32618
2026-05-17T02:37:14Z
Charan Gill
46
32625
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لوگ جوا نہ کھیلین اور جواری کے جورو لڑکون کو گھر مین ہوتے بھی انھین گھر مین نہ جانیے کیونکہ نہ معالوم کسوقت وہ انھین ہار دے اور جو بیشیا کے چرترون پر موہت ہوتے ہین سو اپنے جی کو دکھ بساتے ہین اور جو کسی کے
بس مین ہو اپنا سر بس دے انت کو چوری کرتے ہین اور کہا ہے کہ جو ناری آدمی کے من کو ایک گھڑی مین موہ لے ایسی ناری سے گیانی دور رہتے ہین اور اگیانی اس سے پریت کر اپنا ست شیل جس اچار بچار نیم دھرم سب کھوتے ہین اور اسکو اپنے گرد کا اپدیش بھلا نہین لگتا اور ایسا کہا ہے کہ جس نے اپنی لاج کھوئی دوسرے کو وہ کب ہیحرمت کرنے سے ڈرتی ہے اور مشل ہے کہ جو بلاؤ اپنے بچے کو کھاتا ہے سو چوہے کو کب چھوڑیگا پھر اسنے لگا کہ جنھون نے بالک پن مین بدیا نہین پڑھی اور جوانی مین کام سے آتر ہو جوانی کے گھمنڈ مین رہے سو بڑھاپے مین پچھتا کے حرص کی آگ مین جلتے ہین یہ بات سُن اُن چارون نے آپس مین بچار کے کہا کہ بدیاہین پرش کے جینے سے مرنا بھلا ہے اس سے اتم یہ ہے کہ بدیس مین جا کر پر پھیے یہ بات آپسمین ٹھان وے
ایک اور نگر مین گئے اور کتنی ایک مدّت بعد پڑھ کے پنڈت ہو اپنے گھر کو چلے راہ مین دیکھتے کیا ہین کہ ایک کنجر ہوئے ہوئے شیر کی ہڑی اور چمڑی جدا کر گٹھڑی باندھ چاہے کہ لیجائے انھون نے آپسمین کہا کہ اپنی اپنی
بدیا آزماوین یہ ٹھہر ایک نے اسے بلا کر کچھ دیا اور وہ موٹ نے اسے بلا کیا راستے سے کنارے ہو اس کر موٹ کو کھول ایک نے ساری ہڈیان جابجا گا منتر پڑھ چھٹا مارا کہ وے باڑ لگ گئے دوسرے نے اسی طرح ان ہڈیون پر مانس جمایا تیسرے نے ایسی بھانت سے مانس پر چامٹھا دیا چوتھے نے اسی
ریت سے اسے جلا دیا پھر وہ اٹھتے ہی ان چارون کو کھا گیا اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ اِن چارون مین کون ادهک مورکھ تھا راجہ بکرم نے کہا جِس نے اسے جلا دیا وہی بڑا مورکھ تھا اورایسا کہا ہے کہ بدھ بنا بدیا کسی کام کی نہین بلکہ بدیا سے بدھ بڑکر ہے اور بدھ ہین اسیطرح مرتے ہین جیسے سنگھ کے جلانے والے ہوئے یہ بات سن بیتال اسی درخت مین جا لٹکا پھر راجہ اسی طرح باندھے کاندھے پر رکھ لیلا۔
{{center|'''بائیسوین کهانی'''}}
بیتال بولا اور راجہ بشبو پر نام نگر وہ ان کا بدھ نام راجہ اسکے نگر مین ناراین نام برہمن تھا وہ ایک دن اسی
اپنے من مین چنتا کرنے لگا کہ میراجسم بڑھا ہوا اور مین دوسرے کی کایا مین بیٹھنے کی تیا جانتا ہون اسے
بہتر یہ ہو اس پرانی دینہہ کو چھوڑا وار کیسی جو ان کے شریر مین جا کر بھوگ کردن جب وہ یہ اپنے جی
من بچار کر چکا اور ایک نو جو ان کے شریرمین میٹھنے لگاتو پہلے رویا اور چھے پہنا پھر مین بیٹھ کےاپنے گھر
مین آیا لیکن سارے گٹھ بجے لوگ اس کے کرتب سر واقف تھے پھر انکے آگے کہنے لگا کہ مین اب جوگی ہو اتنا
لہ کے پڑھنے لگا کہ جو آشا کے سرور کونیشیا کیے تیج سے سکھا اس مین مین کو کھاند ریون کو مشتعل کر موسوم<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
6c1zcl8htqenzx5uuym4ti1aru609qh
32626
32625
2026-05-17T03:00:17Z
Charan Gill
46
32626
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لوگ جوا نہ کھیلین اور جواری کے جورو لڑکون کو گھر مین ہوتے بھی انھین گھر مین نہ جانیے کیونکہ نہ معالوم کسوقت وہ انھین ہار دے اور جو بیشیا کے چرترون پر موہت ہوتے ہین سو اپنے جی کو دکھ بساتے ہین اور جو کسی کے
بس مین ہو اپنا سر بس دے انت کو چوری کرتے ہین اور کہا ہے کہ جو ناری آدمی کے من کو ایک گھڑی مین موہ لے ایسی ناری سے گیانی دور رہتے ہین اور اگیانی اس سے پریت کر اپنا ست شیل جس اچار بچار نیم دھرم سب کھوتے ہین اور اسکو اپنے گرد کا اپدیش بھلا نہین لگتا اور ایسا کہا ہے کہ جس نے اپنی لاج کھوئی دوسرے کو وہ کب بیحرمت کرنے سے ڈرتی ہے اور مشل ہے کہ جو بلاؤ اپنے بچے کو کھاتا ہے سو چوہے کو کب چھوڑیگا پھر اسنے لگا کہ جنھون نے بالک پن مین بدیا نہین پڑھی اور جوانی مین کام سے آتر ہو جوانی کے گھمنڈ مین رہے سو بڑھاپے مین پچھتا کے حرص کی آگ مین جلتے ہین یہ بات سُن اُن چارون نے آپس مین بچار کے کہا کہ بدیاہین پرش کے جینے سے مرنا بھلا ہے اس سے اتم یہ ہے کہ بدیس مین جا کر پر پھیے یہ بات آپسمین ٹھان وے
ایک اور نگر مین گئے اور کتنی ایک مدّت بعد پڑھ کے پنڈت ہو اپنے گھر کو چلے راہ مین دیکھتے کیا ہین کہ ایک کنجر ہوئے ہوئے شیر کی ہڑی اور چمڑی جدا کر گٹھڑی باندھ چاہے کہ لیجائے انھون نے آپسمین کہا کہ اپنی اپنی
بدیا آزماوین یہ ٹھہر ایک نے اسے بلا کر کچھ دیا اور وہ موٹ نے اسے بلا کیا راستے سے کنارے ہو اس کر موٹ کو کھول ایک نے ساری ہڈیان جابجا گا منتر پڑھ چھٹا مارا کہ وے باڑ لگ گئے دوسرے نے اسی طرح ان ہڈیون پر مانس جمایا تیسرے نے ایسی بھانت سے مانس پر چامٹھا دیا چوتھے نے اسی
ریت سے اسے جلا دیا پھر وہ اٹھتے ہی ان چارون کو کھا گیا اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ اِن چارون مین کون ادهک مورکھ تھا راجہ بکرم نے کہا جِس نے اسے جلا دیا وہی بڑا مورکھ تھا اورایسا کہا ہے کہ بدھ بنا بدیا کسی کام کی نہین بلکہ بدیا سے بدھ بڑکر ہے اور بدھ ہین اسیطرح مرتے ہین جیسے سنگھ کے جلانے والے ہوئے یہ بات سن بیتال اسی درخت مین جا لٹکا پھر راجہ اسی طرح باندھے کاندھے پر رکھ لیلا۔
{{center|'''بائیسوین کهانی'''}}
بیتال بولا اور راجہ بشبو پر نام نگر وہ ان کا بدھ نام راجہ اسکے نگر مین ناراین نام برہمن تھا وہ ایک دن اسی
اپنے من مین چنتا کرنے لگا کہ میراجسم بڑھا ہوا اور مین دوسرے کی کایا مین بیٹھنے کی تیا جانتا ہون اسے
بہتر یہ ہو اس پرانی دینہہ کو چھوڑا وار کیسی جو ان کے شریر مین جا کر بھوگ کردن جب وہ یہ اپنے جی
من بچار کر چکا اور ایک نو جو ان کے شریرمین میٹھنے لگاتو پہلے رویا اور چھے پہنا پھر مین بیٹھ کےاپنے گھر
مین آیا لیکن سارے گٹھ بجے لوگ اس کے کرتب سر واقف تھے پھر انکے آگے کہنے لگا کہ مین اب جوگی ہو اتنا
لہ کے پڑھنے لگا کہ جو آشا کے سرور کونیشیا کیے تیج سے سکھا اس مین مین کو کھاند ریون کو مشتعل کر موسوم<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
3dpopocag48p8anif8k6dct76babhxz
32627
32626
2026-05-17T05:51:29Z
Tamanpreet Kaur
81
32627
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لوگ جوا نہ کھیلین اور جواری کے جورو لڑکون کو گھر مین ہوتے بھی انھین گھر مین نہ جانیے کیونکہ نہ معالوم کسوقت وہ انھین ہار دے اور جو بیشیا کے چرترون پر موہت ہوتے ہین سو اپنے جی کو دکھ بساتے ہین اور جو کسی کے
بس مین ہو اپنا سربس دے انت کو چوری کرتے ہین اور کہا ہے کہ جو ناری آدمی کے من کو ایک گھڑی مین موہ لے ایسی ناری سے گیانی دور رہتے ہین اور اگیانی اس سے پریت کر اپنا ست شیل جس اچار بچار نیم دھرم سب کھوتے ہین اور اسکو اپنے گرد کا اپدیش بھلا نہین لگتا اور ایسا کہا ہے کہ جس نے اپنی لاج کھوئی دوسرے کو وہ کب بیحرمت کرنے سے ڈرتی ہے اور مشل ہے کہ جو بلاؤ اپنے بچے کو کھاتا ہے سو چوہے کو کب چھوڑیگا پھر اسنے لگا کہ جنھون نے بالک پن مین بدیا نہین پڑھی اور جوانی مین کام سے آتر ہو جوانی کے گھمنڈ مین رہے سو بڑھاپے مین پچھتا کے حرص کی آگ مین جلتے ہین یہ بات سُن اُن چارون نے آپس مین بچار کے کہا کہ بدیاہین پرش کے جینے سے مرنا بھلا ہے اس سے اتم یہ ہے کہ بدیس مین جا کر پر پھیے یہ بات آپسمین ٹھان وے
ایک اور نگر مین گئے اور کتنی ایک مدّت بعد پڑھ کے پنڈت ہو اپنے گھر کو چلے راہ مین دیکھتے کیا ہین کہ ایک کنجر ہوئے ہوئے شیر کی ہڑی اور چمڑی جدا کر گٹھڑی باندھ چاہے کہ لیجائے انھون نے آپسمین کہا کہ اپنی اپنی
بدیا آزماوین یہ ٹھہر ایک نے اسے بلا کر کچھ دیا اور وہ موٹ نے اسے بلا کیا راستے سے کنارے ہو اس کر موٹ کو کھول ایک نے ساری ہڈیان جابجا گا منتر پڑھ چھٹا مارا کہ وے باڑ لگ گئے دوسرے نے اسی طرح ان ہڈیون پر مانس جمایا تیسرے نے ایسی بھانت سے مانس پر چامٹھا دیا چوتھے نے اسی
ریت سے اسے جلا دیا پھر وہ اٹھتے ہی ان چارون کو کھا گیا اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ اِن چارون مین کون ادهک مورکھ تھا راجہ بکرم نے کہا جِس نے اسے جلا دیا وہی بڑا مورکھ تھا اورایسا کہا ہے کہ بدھ بنا بدیا کسی کام کی نہین بلکہ بدیا سے بدھ بڑکر ہے اور بدھ ہین اسیطرح مرتے ہین جیسے سنگھ کے جلانے والے ہوئے یہ بات سن بیتال اسی درخت مین جا لٹکا پھر راجہ اسی طرح باندھے کاندھے پر رکھ لیلا۔
{{center|'''بائیسوین کهانی'''}}
بیتال بولا اور راجہ بشبو پر نام نگر وہ ان کا بدھ نام راجہ اسکے نگر مین ناراین نام برہمن تھا وہ ایک دن اسی
اپنے من مین چنتا کرنے لگا کہ میراجسم بڑھا ہوا اور مین دوسرے کی کایا مین بیٹھنے کی تیا جانتا ہون اسے
بہتر یہ ہو اس پرانی دینہہ کو چھوڑا وار کیسی جو ان کے شریر مین جا کر بھوگ کردن جب وہ یہ اپنے جی
من بچار کر چکا اور ایک نو جو ان کے شریرمین میٹھنے لگاتو پہلے رویا اور چھے پہنا پھر مین بیٹھ کےاپنے گھر
مین آیا لیکن سارے گٹھ بجے لوگ اس کے کرتب سر واقف تھے پھر انکے آگے کہنے لگا کہ مین اب جوگی ہو اتنا
لہ کے پڑھنے لگا کہ جو آشا کے سرور کونیشیا کیے تیج سے سکھا اس مین مین کو کھاند ریون کو مشتعل کر موسوم<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
p8gewgn7dd4nvz6w95ixe4vwp4q78j2
32629
32627
2026-05-17T10:25:32Z
BalramBodhi
60
32629
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لوگ جوا نہ کھیلین اور جواری کے جورو لڑکون کو گھر مین ہوتے بھی انھین گھر مین نہ جانیے کیونکہ نہ معالوم کسوقت وہ انھین ہار دے اور جو بیشیا کے چرترون پر موہت ہوتے ہین سو اپنے جی کو دکھ بساتے ہین اور جو کسی کے بس مین ہو اپنا سربس دے انت کو چوری کرتے ہین اور کہا ہے کہ جو ناری آدمی کے من کو ایک گھڑی مین موہ لے ایسی ناری سے گیانی دور رہتے ہین اور اگیانی اس سے پریت کر اپنا ست شیل جس اچار بچار نیم دھرم سب کھوتے ہین اور اسکو اپنے گرد کا اپدیش بھلا نہین لگتا اور ایسا کہا ہے کہ جس نے اپنی لاج کھوئی دوسرے کو وہ کب بیحرمت کرنے سے ڈرتی ہے اور مشل ہے کہ جو بلاؤ اپنے بچے کو کھاتا ہے سو چوہے کو کب چھوڑیگا پھر کهنے لگا کہ جنھون نے بالک پن مین بدیا نہین پڑھی اور جوانی مین کام سے آتر ہو جوانی کے گھمنڈ مین رہے سو بڑھاپے مین پچھتا کے حرص کی آگ مین جلتے ہین یہ بات سُن اُن چارون نے آپس مین بچار کے کہا کہ بدیاہین پرش کے جینے سے مرنا بھلا ہے اس سے اتم یہ ہے کہ بدیس مین جا کر پڑھیے یہ بات آپسمین ٹھان وے ایک اور نگر مین گئے اور کتنی ایک مدّت بعد پڑھ کے پنڈت ہو اپنے گھر کو چلے راہ مین دیکھتے کیا ہین کہ ایک کنجر ہوئے ہوئے شیر کی ہڑی اور چمڑا جدا کر گٹھری باندھ چاہے کہ لیجائے انھون نے آپسمین کہا کہ آؤ اپنی اپنی بدّیا آزماوین یہ ٹھہرا ایک نے اسے بلا کر کچھ دیا اور وہ موٹ لے اسے بدا کیا راستے سے کنارے ہو اس موٹ کو کھول ایک نے ساری ہڈیان جابجا لگا منتر پڑھ چھنٹا مارا کہ وے باڑ لگ گئے دوسرے نے اسی طرح ان ہڈیون پر مانس جمایا تیسرے نے اِسی بھانت سے مانس پر چام بٹھا دیا چوتھے نے اِسی ریت سے اسے جِلا دیا پھر وہ اٹھتے ہی اِن چارون کو کھا گیا اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ اِن چارون مین کون ادهک مورکھ تھا راجہ بکرم نے کہا جِس نے اسے جلا دیا وہی بڑا مورکھ تھا اور ایسا کہا ہے کہ بدھ بنا بدیا کسی کام کی نہین بلکہ بدّیا سے بدھ بڑکر ہے اور بدھ ہین اسیطرح مرتے ہین جیسے سِنگھ کے جلانے والے موئے یہ بات سُن بیتال اسی درخت مین جا لٹکا پھر راجہ اسی طرح باندھے کاندھے پر رکھ لیچلا۔
{{center|'''بائیسوین کهانی'''}}
بیتال بولا اے راجہ بشبو پر نام نگر وہان کا بدھ نام راجہ اسکے نگر مین ناراین نام برہمن تھا وہ ایک دِن اپنے من مین چنتا کرنے لگا کہ میرا جسم بڑھا ہوا اور مین دوسرے کی کایا مین بیٹھنے کی بدّیا جانتا ہون اس سے بہتر یہ ہے اِس پرانی دینہہ کو چھوڑ اور کِسی جوان کے شریر مین جا کر بھوگ کرون جب وہ یہ اپنے جی من بچار کر چکا اور ایک نوجوان کے شریر مین بیٹھنے لگا تو پہلے رویا اور پیچھے ہنسا پھر اس مین بیٹھ کےاپنے گھر مین آیا لیکن سارے کٹمب کے لوگ اس کے کرتب سے واقِف تھے پھر انکے آگے کہنے لگا کہ مین اب جوگی ہوا اتنا
کہہ کے پڑھنے لگا کہ جو آشا کے سرور کو تپشیا کے تیج سے سُکھا اس مین مین کو رکھ اندریون کو اشتھل کرے سو<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
ihukw1ymroeyg4v5b25b96aoux4j61b
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/303
250
13170
32619
2026-05-17T00:36:38Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «کہ کوئی بڑا طائر پر جوڑے اُتر رہا ہے ۔ کبھی ایسا بمان اُن کی نظر سے نہ گزرا تھا۔ مگر جب جمان نیچے اُتر آیا تو لوگوں نے بڑے تعجب سے دیکھا کہ اُس پر رامچندر، سینتا ، لکشمن اور اُن کے سردار بیٹھے ہوئے ہیں ۔ جے جے کے نعروں سے آسمان ہل اُٹھا : جونهی رامچ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32619
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کہ کوئی بڑا طائر پر جوڑے اُتر رہا ہے ۔
کبھی
ایسا بمان اُن کی نظر سے نہ گزرا تھا۔ مگر جب
جمان نیچے اُتر آیا تو لوگوں نے بڑے تعجب سے
دیکھا کہ اُس پر رامچندر، سینتا ، لکشمن اور اُن
کے سردار بیٹھے ہوئے ہیں ۔ جے جے کے نعروں
سے آسمان ہل اُٹھا :
جونهی رامچندر بمان سے اترے بھرت دوڑ
کہ اُن کے پیروں سے لپٹ گئے ۔ اُن کے
منہ سے آوازہ نہ نکلتی تھی ۔ بس آنکھوں سے
آنسو بہہ رہے تھے ۔ رامچندر اُنہیں اُٹھا کر
چھاتی سے لگانا چاہتے تھے مگر بھرت اُن کے
پیروں کو نہ چھوڑتے تھے کتنا پاک نظارہ تھا۔
رامچندر نے تو باپ کے حکم کو مان کرین باس
لیا تھا۔ مگر بھرت نے راج ملنے پر بھی اُسے
قبول نہ کیا ۔ اس لئے کہ وہ سمجھتے تھے کہ
رامچندر کے رہنتے راج پر میرا کوئی حق نہیں
ہے ۔ انہوں نے بادشاہت ہی نہیں چھوڑی،<noinclude></noinclude>
svpk863052pb1cxnggbfrsh5dco2q46
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/304
250
13171
32620
2026-05-17T00:46:14Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «فقیرانہ زندگی بسر کی ۔ کیونکہ کیکئی نے انہیں کے لئے رامچندر کو بن باس دیا تھا۔ وہ فقیروں کی طرح رہ کر اپنی ماں کی بے انصافی کا بدلہ چکانا چاہتے تھے ۔ رامچندر نے بڑی مشکل سے اُنہیں اُٹھایا اور اُنہیں چھاتی سے لگا لیا ۔ پھر لکشمن بھی بھرت سے گلے مل...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32620
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>فقیرانہ زندگی بسر کی ۔ کیونکہ کیکئی نے انہیں
کے لئے رامچندر کو بن باس دیا تھا۔ وہ فقیروں
کی طرح رہ کر اپنی ماں کی بے انصافی کا بدلہ
چکانا چاہتے تھے ۔ رامچندر نے بڑی مشکل سے
اُنہیں اُٹھایا اور اُنہیں چھاتی سے لگا لیا ۔ پھر
لکشمن بھی بھرت سے گلے ملے ۔ اُدھر سیتا جی
نے جا کر کوسلیا اور دوسری ماتاؤں کے قدموں
پر سر جھکایا ۔ کیکئی رانی بھی وہاں موجود تھیں۔
تینوں ساسوں نے سیتا کو دعائیں دیں۔ کیکئی
اب اپنے کئے پر نادم تھی ۔ اب اس کا دل
رامچندر اور کوسلیا کی طرف سے صاف ہو گیا
تھا ہے
(^)
رام چندر کی راج گنی
آج رام چندر کی تاج پوشی کا مبارک دن
ہے ۔ بہر جو کے کھارے میدان میں ایک
وسیع شامیانہ کھڑا ہے ۔ اُس کی چومیں چاندی<noinclude></noinclude>
oysjzha1deblkmpo3mky24hsbe844ji
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/305
250
13172
32621
2026-05-17T00:46:30Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «A B - کی ہیں اور رتیاں ریشم کی قیمتی خالچے پیچھے ہوئے ہیں ۔ شامیانہ کے باہر خوشنما گلے ہوئے ہیں ۔ شامیانہ کی چھت شیشہ کے بیش قیمت سامانوں سے سجی ہوئی ہے ۔ دُور دُور سے رشی منی بلائے گئے ہیں۔ دربار کے امرا اور باجگذار راجے ادب سے بیٹھے ہیں۔ سامنے ای...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32621
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>A B
-
کی ہیں اور رتیاں ریشم کی قیمتی خالچے پیچھے
ہوئے ہیں ۔ شامیانہ کے باہر خوشنما گلے
ہوئے ہیں ۔ شامیانہ کی چھت شیشہ کے
بیش قیمت سامانوں سے سجی ہوئی ہے ۔
دُور دُور سے رشی منی بلائے گئے ہیں۔ دربار
کے امرا اور باجگذار راجے ادب سے بیٹھے ہیں۔
سامنے ایک سونے کا جڑاؤ سنگھاسن رکھا
ہوا ہے :
یکایک تو ہیں درغیں ۔ سب لوگ سنبھل
گئے ۔ معلوم ہو گیا کہ سری رامچندر رام بھون
سے روانہ ہو گئے ۔ ان کے سامنے گھنٹہ اور
سنکھ بچایا جا رہا تھا ۔ لکشمن ، بھرت ، شروین،
ہنومان، سگریو وغیرہ پیچھے پیچھے چلے آرہے
تھے ۔ رامچندر نے آج شاہانہ لباس پہنا ہے۔
اور سیتا جی کے بناؤ اور سنگار کی تو تعریف
ہی نہیں ہو سکتی ہے
جونہی یہ لوگ شامیانہ میں پہنچے گروپشٹ<noinclude></noinclude>
6w04nkvgyp6ivyhq9b7j762gwoy7pfv
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/306
250
13173
32622
2026-05-17T00:46:46Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «۳۰۰ نے اُنہیں کون گنڈ کے سامنے بٹھایا۔ براہمنوں نے وید منتر پڑھنا شروع کر دیا ۔ ہون ہونے لگا ۔ اُدھر راج محل میں مبارکباد کے گیت گائے جانے لگے ۔ ہون ختم ہونے پر گرو وشمسٹ نے رامچندر کے ماتھے پر کیسر کا تیلک لگا دیا ۔ اسی وقت تو پوں نے سلامیاں دائی...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32622
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۳۰۰
نے اُنہیں کون گنڈ کے سامنے بٹھایا۔ براہمنوں
نے وید منتر پڑھنا شروع کر دیا ۔ ہون ہونے لگا ۔
اُدھر راج محل میں مبارکباد کے گیت گائے جانے
لگے ۔ ہون ختم ہونے پر گرو وشمسٹ نے رامچندر
کے ماتھے پر کیسر کا تیلک لگا دیا ۔ اسی وقت
تو پوں نے سلامیاں دائیں، امرا منذریں پیش
کرنے لگے ۔ کبیشروں نے کہت پڑھنا شروع کر دیا۔
رامچندرجی اور سینتا جی
سنگھاسن پر رونق افروز
ہو گئے ۔ بھھیشن مورچھل جھلنے لگا ۔ سگریو نے
چو ہداروں کا عصا سنبھال لیا ۔ اور ہنومان نیا
جھلنے لگا ۔ وفادار ہنومان کی خوشی کی تھاہ نہ تھی۔
جس راجکمار کو بہت دن پہلے اُس نے دشموک
پہاڑ پر اِدھر اُدھر سینا کو تلاش کرتے پایا تھا"
آج اُسی کو سیتاجی کے ساتھ سنگھاسن پر بیٹھے
دیکھ رہا تھا ۔ انہیں اس منزل مقصود تک پہنچانے
میں اُس نے کتنا حصہ لیا تھا ۔ غرور آمیز مسترت
سے وہ پھولا نہ سماتا تھا :
نکھا<noinclude></noinclude>
59tx80nb9lnw55dmpni6u7gr0xc5l6a
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/307
250
13174
32623
2026-05-17T00:51:03Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «بھرت بڑے بڑے تھالوں میں میوئے غلے، بھرے ہوئے بیٹھے تھے ۔ روپیوں کا انبار اُن کے سامنے لگا ہوا تھا ۔ جونہی رامچندر اور سیتا سنگھاسن پر بیٹھے بھرت نے دان دینا شروع کر دیا ۔ ان چودہ سالوں میں اُنہوں نے کفایت کر کے شاہی خزانہ میں جو کچھ جمع کیا تھا و...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32623
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بھرت بڑے بڑے تھالوں میں میوئے غلے،
بھرے ہوئے بیٹھے تھے ۔ روپیوں کا انبار اُن کے
سامنے لگا ہوا تھا ۔ جونہی رامچندر اور سیتا سنگھاسن
پر بیٹھے بھرت نے دان دینا شروع کر دیا ۔ ان
چودہ سالوں میں اُنہوں نے کفایت کر کے شاہی خزانہ
میں جو کچھ جمع کیا تھا وہ سب کسی کیسی صورت میں
پھر رعایا کے پاس پہنچ گیا۔ غریبوں کو بھی اشرفیوں کی
صورت نظر آگئی ۔ ننگوں کو شال دو شالے میسر ہو
گئے۔ اور بھوکوں کو میوے اور مٹھائی سے میری ہوگئی ۔
چاروں طرف بھرت کی فیاضی کی دُھوم مچ گئی ۔ سارے
راج میں کوئی غریب نہ رہ گیا ۔ کاشتکاروں کے ساتھ
خاص رعایت کی گئی ۔ ایک سال کا لگان معاف کر دیا
گیا۔ جابجا کنوئیں کھدوا دئے گئے ۔ قیدیوں کو رہا
کر دیا گیا ۔ صرف وہی آزاد نہ کئے گئے جو دعا
اور فریب کے مجرم تھے ۔ رئیسوں اور امیروں
کو خطابات دئے گئے ۔ اور خلعتیں تقسیم ہو میں :<noinclude></noinclude>
22xfcrgr6ogdetszw0uwhcx8gwa3uhr
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/308
250
13175
32624
2026-05-17T00:51:18Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «٣٠٢ اُتر کانڈ (1) رام کا راج تاجپوشی کا جشن ختم ہونے کے بعد سگریو بھیشن، انگر، وغیرہ تو رخصت ہوئے مگر ہنومان کو رامچندر سے اتنی محبت ہو گئی تھی کہ وہ انہیں چھوڑ کر جانے پر راضی نہ ہوئے۔ لکشمن بھرت وغیرہ نے اُنہیں بہت سمجھایا، مگر وہ اجودھیا سے نہ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32624
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>٣٠٢
اُتر کانڈ
(1) رام کا راج
تاجپوشی کا جشن ختم ہونے کے بعد سگریو
بھیشن، انگر، وغیرہ تو رخصت ہوئے مگر
ہنومان کو رامچندر سے اتنی محبت ہو گئی تھی
کہ وہ انہیں چھوڑ کر جانے پر راضی نہ ہوئے۔
لکشمن بھرت وغیرہ نے اُنہیں بہت سمجھایا، مگر
وہ اجودھیا سے نہ گئے ۔ اُن کی ساری زندگی
رامچندر کے ساتھ ہی ختم ہوئی ۔ وہ ہمیشہ رامچندر
مدد کرنے کو تیار رہتے تھے ۔ بڑے سے بڑا
مشکل کام دیکھ کر بھی اُن کا حوصلہ پست نہ
ہوتا تھا ہے
رام چندر کے زمانہ میں اجودھیا کے راج کو<noinclude></noinclude>
a0nt9eqgteb0mt4iiau11j6i6eis917
میڈیاویکی:Recentchangestext
8
13176
32628
2026-05-17T09:56:50Z
VIGNERON
109
+ interwiki linnks
32628
wikitext
text/x-wiki
[[ar:Special:Recentchanges]]
[[as:Special:Recentchanges]]
[[az:Special:Recentchanges]]
[[ban:Special:Recentchanges]]
[[bcl:Special:Recentchanges]]
[[be:Special:Recentchanges]]
[[bg:Special:Recentchanges]]
[[bn:Special:Recentchanges]]
[[br:Special:Recentchanges]]
[[bs:Special:Recentchanges]]
[[ca:Special:Recentchanges]]
[[cs:Special:Recentchanges]]
[[cy:Special:Recentchanges]]
[[da:Special:Recentchanges]]
[[de:Special:Recentchanges]]
[[el:Special:Recentchanges]]
[[en:Special:Recentchanges]]
[[eo:Special:Recentchanges]]
[[es:Special:Recentchanges]]
[[et:Special:Recentchanges]]
[[eu:Special:Recentchanges]]
[[fa:Special:Recentchanges]]
[[fi:Special:Recentchanges]]
[[fo:Special:Recentchanges]]
[[fr:Special:Recentchanges]]
[[gl:Special:Recentchanges]]
[[gu:Special:Recentchanges]]
[[he:Special:Recentchanges]]
[[hi:Special:Recentchanges]]
[[hr:Special:Recentchanges]]
[[hu:Special:Recentchanges]]
[[hy:Special:Recentchanges]]
[[id:Special:Recentchanges]]
[[is:Special:Recentchanges]]
[[it:Special:Recentchanges]]
[[ja:Special:Recentchanges]]
[[jv:Special:Recentchanges]]
[[ka:Special:Recentchanges]]
[[kn:Special:Recentchanges]]
[[ko:Special:Recentchanges]]
[[la:Special:Recentchanges]]
[[li:Special:Recentchanges]]
[[lij:Special:Recentchanges]]
[[lt:Special:Recentchanges]]
[[mad:Special:Recentchanges]]
[[min:Special:Recentchanges]]
[[mk:Special:Recentchanges]]
[[ml:Special:Recentchanges]]
[[mr:Special:Recentchanges]]
[[ms:Special:Recentchanges]]
[[my:Special:Recentchanges]]
[[nap:Special:Recentchanges]]
[[nl:Special:Recentchanges]]
[[no:Special:Recentchanges]]
[[or:Special:Recentchanges]]
[[pa:Special:Recentchanges]]
[[pl:Special:Recentchanges]]
[[pms:Special:Recentchanges]]
[[pt:Special:Recentchanges]]
[[ro:Special:Recentchanges]]
[[ru:Special:Recentchanges]]
[[sa:Special:Recentchanges]]
[[sah:Special:Recentchanges]]
[[sk:Special:Recentchanges]]
[[sl:Special:Recentchanges]]
[[sr:Special:Recentchanges]]
[[su:Special:Recentchanges]]
[[sv:Special:Recentchanges]]
[[ta:Special:Recentchanges]]
[[tcy:Special:Recentchanges]]
[[te:Special:Recentchanges]]
[[th:Special:Recentchanges]]
[[tl:Special:Recentchanges]]
[[tr:Special:Recentchanges]]
[[uk:Special:Recentchanges]]
[[vec:Special:Recentchanges]]
[[vi:Special:Recentchanges]]
[[wa:Special:Recentchanges]]
[[yi:Special:Recentchanges]]
[[zh:Special:Recentchanges]]
[[zh-min-nan:Special:Recentchanges]]
3szf95jenk721sjwhdpeftt3n79qkmm