ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.2
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/60
250
12708
32630
30818
2026-05-17T12:01:18Z
Taranpreet Goswami
90
32630
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جوگی چتر کہاوے اور یہ گیت سنسار کے لوگون کی ہے انگ گرے سِر ہلے دانت گرین بوڑھے ہوئے لاٹھی لے پھر ین تو بھی ترشنا نہین مٹتی اور اِسی طرح سے کال چلا جاتا ہے کہ دِن ہوا رات ہوئی مہینا ہوا برس ہوا بالک ہوا بوڑھا ہوا اور کچھ نہین معلوم کہ مین کون ہون اور لوگ کون ہین اور کون کِس لئے کِسی کا سوگ کرتا ہے ایک آتا ہے ایک جاتا ہے اورانت کال سب جیو جانے والے ہین اِن مین سے ایک نہ رہےگا
انیک انیک من ہین اور انیک انیک موہ بین اور بھانت بھانت کے پاکھنڈ پر ھمانے رچی ہی پر برطان
انسے بچے آنا اور ترشا کو اس منڈا ہاتھ مین ڈونڈ کنڈل نے
کام کر دہ کو ارجوگی ہونگے پائون تیرہ تیر ھے
ڈولتے پھرتے مین سو موکش پدارتھ پاتے ہین اور پیغا ر سینے کی طرح ہر اسمین کس کی خوشی کیجئے اور کاعمر
اور کیلے کے گابھے کی طرح سنسار ہوا نین سارکچھ نہین اور دھن جوبن بد یا کار غرور کرنے مین سو گیا ہین
اور جو جوگی ہو کنڈل ہا تھرین کے در در بھیک مانگ دودھ بھی چینی سے اپنے شریر کو پیشٹ کر کا ما ترمو
استری سے بھوگ کرتے ہین سو اپنا جوگ کھوتے ہین اتنا پڑھ کر وہ بولا کہ اب مین تیرتھ جا ترا کرونگانیت
شن اسکے کٹب کے لوگ بہت خوش ہوئے اتنی کتھا کہہ بیان بولا اے راجہ کیس کارن وہ رویا اور کس
کارن وہ منساب راجہ نے کہا کہ بالک پن کام کا سارا در جای کار سکھ یاد کر اور اتنے دنون اس دین متین
رہنے کے موہ سے تو وہ رویا اور اپنی بریاست نہ کر کے نئی کا یا مین بیٹھنے کی خوشی سے وہ ہنسا یہ بات سُن
بیتال پھر اسی پیڑ پر جانے کا پھر راجہ اسی طرح سے باندھ کا دم پر رکھ لیلا
تیئیسوین کہانی
جیتال بولا اے راجہ دھرم پر نام شهر بود بان کا دھرم دھوج نامی ایک راجہ تھا اسکے شہرمین گونید
نام
نام برہمن چارون بید بچیون نشاستہ کا جانے والا تھا اور اپنے دھرم کرم کر ساوردھان تھا اسکے ہردت
سوم دت یکیہ وت بر مھدت چار بیٹے تھے بڑے بڑے پنڈت بڑے بڑے چتر اور اپنے باپ کی آگیا مین سکتا
رہتے تھے کتنے ایک دن چھے بڑا یا مرگیا اور وہ بھی اسکے دُکھ سے مرنے لگا اس سے وہان کے راجہ کا
پروہت بشن شرمان آن کے اسے سمجھانے لگے کہ بینش جس سے ان کے گر بھر مین آتا ہی پہلے وہین دیکھ پاتا ہے۔
دوسری بال پین مین ایک روگو نے ستایا جاتا ہی جانی مین کام کو بس ہو تیم کے بور ہو کر کہتا ہی و تو را
ہو اپنے شریر کے زیل ہو بیٹے کو مین پڑتا ہو غرض فسا مین جنم لینے سود کو بہت ہوتا ہو اور سکھ تھوڑا کیونکہ
یہ فساد کو کامون پر اگر کوئی درخت کی پھنگ پر اچڑ سے یاپہاڑ کی چوٹی پر مجھے یاپانی مین چھپ رہے۔
یا لوہے کے پنجرے مین گھس رہے یاپاتال مین جا چھپے تو بھی نہین کال چھوڑتا ہو اور پنڈت مورکھا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
0y01sk1qnf9m4uloafeypfbtcl0bu8s
32631
32630
2026-05-17T21:40:22Z
Charan Gill
46
32631
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جوگی چتر کہاوے اور یہ گیت سنسار کے لوگون کی ہے انگ گرے سِر ہلے دانت گرین بوڑھے ہوئے لاٹھی لے پھر ین تو بھی ترشنا نہین مٹتی اور اِسی طرح سے کال چلا جاتا ہے کہ دِن ہوا رات ہوئی مہینا ہوا برس ہوا بالک ہوا بوڑھا ہوا اور کچھ نہین معلوم کہ مین کون ہون اور لوگ کون ہین اور کون کِس لئے کِسی کا سوگ کرتا ہے ایک آتا ہے ایک جاتا ہے اورانت کال سب جیو جانے والے ہین اِن مین سے ایک نہ رہےگا انیک انیک من ہین اور انیک انیک موہ ہین اور بھانت بھانت کے پاکھنڈ برھما نے رچی ہین پر بردھمان انسے بچے آشا اور ترشنا مار سر منڈوا ہاتھ مین ڈونڈ کمنڈل لے کام کرودھ کو مار جوگی ہو ننگے پائون تیرتھ تیرتھ ڈو لیے پھرتے ہین سو موکش پدارتھ پاتے ہین اور یہ سنسار سپنے کی طرح ہے اسمین کِس کی خوشی کیجئے اور کِس کا غم اور کیلے کے گابھے کی طرح سنسار ہے اسمین سار کچھ نہین اور دھن جوبن بدّیا کا جو غرور کرتے ہین سو اگیان مین اور جو جوگی ہو کمنڈل ہاتھ مین لے در در بھیکھ مانگ دودھ گھی چینی سے اپنے شریر کو پشٹ کر کاماتر ہو استری سے بھوگ کرتے ہین سو اپنا جوگ کھوتے ہین اتنا پڑھ کر وہ بولا کہ اب مین تیرتھ جاترا کرونگا یہ بات شن اسکے کٹمب کے لوگ بہت خوش ہوئے اتنی کتھا کہہ بیان بولا اے راجہ کس کارن وہ رویا اور کس کارن وہ ہنسا تب راجہ نے کہا کہ بالک پن کام کا سارا در جای کار سکھ یاد کر اور اتنے دنون اس دین متین
رہنے کے موہ سے تو وہ رویا اور اپنی بریاست نہ کر کے نئی کا یا مین بیٹھنے کی خوشی سے وہ ہنسا یہ بات سُن
بیتال پھر اسی پیڑ پر جانے کا پھر راجہ اسی طرح سے باندھ کا دم پر رکھ لیلا
تیئیسوین کہانی
جیتال بولا اے راجہ دھرم پر نام شهر بود بان کا دھرم دھوج نامی ایک راجہ تھا اسکے شہرمین گونید
نام
نام برہمن چارون بید بچیون نشاستہ کا جانے والا تھا اور اپنے دھرم کرم کر ساوردھان تھا اسکے ہردت
سوم دت یکیہ وت بر مھدت چار بیٹے تھے بڑے بڑے پنڈت بڑے بڑے چتر اور اپنے باپ کی آگیا مین سکتا
رہتے تھے کتنے ایک دن چھے بڑا یا مرگیا اور وہ بھی اسکے دُکھ سے مرنے لگا اس سے وہان کے راجہ کا
پروہت بشن شرمان آن کے اسے سمجھانے لگے کہ بینش جس سے ان کے گر بھر مین آتا ہی پہلے وہین دیکھ پاتا ہے۔
دوسری بال پین مین ایک روگو نے ستایا جاتا ہی جانی مین کام کو بس ہو تیم کے بور ہو کر کہتا ہی و تو را
ہو اپنے شریر کے زیل ہو بیٹے کو مین پڑتا ہو غرض فسا مین جنم لینے سود کو بہت ہوتا ہو اور سکھ تھوڑا کیونکہ
یہ فساد کو کامون پر اگر کوئی درخت کی پھنگ پر اچڑ سے یاپہاڑ کی چوٹی پر مجھے یاپانی مین چھپ رہے۔
یا لوہے کے پنجرے مین گھس رہے یاپاتال مین جا چھپے تو بھی نہین کال چھوڑتا ہو اور پنڈت مورکھا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
pnqs8uc7wizqlc2o7b4lua5awsaka8h
32633
32631
2026-05-18T09:39:40Z
BalramBodhi
60
32633
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جوگی چتر کہاوے اور یہ گتِ سنسار کے لوگون کی ہے انگ گرے سِر ہلے دانت گرین بوڑھے ہوئے لاٹھی لے پھرین تو بھی ترشنا نہین مٹتی اور اِسی طرح سے کال چلا جاتا ہے کہ دِن ہوا رات ہوئی مہینا ہوا برس ہوا بالک ہوا بوڑھا ہوا اور کچھ نہین معلوم کہ مین کون ہون اور لوگ کون ہین اور کون کِس لئے کِسی کا سوگ کرتا ہے ایک آتا ہے ایک جاتا ہے اورانت کال سب جیو جانے والے ہین اِن مین سے ایک نہ رہےگا انیک انیک من ہین اور انیک انیک موہ ہین اور بھانت بھانت کے پاکھنڈ برھما نے رچے ہین پر بردھمان انسے بچے آشا اور ترشنا کو مار سر منڈوا ہاتھ مین ڈنڈ کمنڈل لے کام کرودھ کو مار جوگی ہو ننگے پائون تیرتھ تیرتھ ڈولتے پھرتے ہین سو موکش پدارتھ پاتے ہین اور یہ سنسار سپنے کی طرح ہے اسمین کِس کی خوشی کیجئے اور کِس کا غم اور کیلے کے گابھے کی طرح سنسار ہے اسمین سار کچھ نہین اور دھن جوبن بدّیا کا جو غرور کرتے ہین سو اگیان مین اور جو جوگی ہو کمنڈل ہاتھ مین لے در در بھیکھ مانگ دودھ گھی چینی سے اپنے شریر کو پشٹ کر کاماتر ہو استری سے بھوگ کرتے ہین سو اپنا جوگ کھوتے ہین اتنا پڑھ کر وہ بولا کہ اب مین تیرتھ جاترا کرونگا یہ بات سُن اسکے کٹمب کے لوگ بہت خوش ہوئے اتنی کتھا کہہ بیال بولا اے راجہ کس کارن وہ رویا اور کس کارن وہ ہنسا تب راجہ نے کہا کہ بالک پن کام کا پیار اور جوانی کا سُکھ یاد کر اور اتنے دنون اس دین ہہم
رہنے کے موہ سے تو وہ رویا اور اپنی بدّیا سِدّھ کر کے نئی کایا مین بیٹھنے کی خوشی سے وہ ہنسا یہ بات سُن بیتال پھر اسی پیڑ پر جا لٹکا پھر راجہ اسی طرح سے باندھ کاندھے پر رکھ لیچلا
{{center|}}تیئیسوین کہانی
بیتال بولا اے راجہ دھرم پر نام شهر بے وہان کا دھرم دھوج نامی ایک راجہ تھا اسکے شہر مین گوند نام برہمن چارون بید چھیئون شاستر کا جاننے والا تھا اور اپنے دھرم کرم سے ساودھان تھا اسکے ہردت سوم دت یگیہ دت برمھدت چار بیٹے تھے بڑے بڑے پنڈت بڑے بڑے چتر اور اپنے باپ کی آگیا مین سدا رہتے تھے کتنے ایک دن پیچھے بڑا مرگیا اور وہ بھی اسکے دُکھ سے مرنے لگا اس سمے وہان کے راجہ کا پروہت بشن شرمان آن کے اسے سمجھانے لگے کہ یہ منش جس سمے مان کے گربھ مین آتا ہے پہلے وہین دکھ پاتا ہے دوسری بال پین مین ایتک روگونسے ستایا جاتا ہے جوانی مین کام کے بس ہو پیتم کے بیوگ سے دکھ سہتا ہے چوتھے ٹھور ہو اپنے شریر کے نربل ہونیسے دکھ مین پڑتا ہے غرض سنسار مین جنم لینے سے دُکھ بہت ہوتا ہے اور سکھ تھوڑا کیونکہ یہ سنسار دکھ کا مول ہے اگر کوئی درخت کی پھُنگ پر جا چڑے یا پہاڑ کی چوٹی پر میٹھے یا پانی مین چھپ رہے یا لوہے کے پنجرے مین گھس رہے یا پاتال مین جا چھپے تو بھی نہین کال چھوڑتا ہوے اور پنڈت مورکھ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
hmlicsel5m0l0z8wl03l1nu6v6ssvc3
32634
32633
2026-05-18T11:04:41Z
Charan Gill
46
32634
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جوگی چتر کہاوے اور یہ گتِ سنسار کے لوگون کی ہے انگ گرے سِر ہلے دانت گرین بوڑھے ہوئے لاٹھی لے پھرین تو بھی ترشنا نہین مٹتی اور اِسی طرح سے کال چلا جاتا ہے کہ دِن ہوا رات ہوئی مہینا ہوا برس ہوا بالک ہوا بوڑھا ہوا اور کچھ نہین معلوم کہ مین کون ہون اور لوگ کون ہین اور کون کِس لئے کِسی کا سوگ کرتا ہے ایک آتا ہے ایک جاتا ہے اورانت کال سب جیو جانے والے ہین اِن مین سے ایک نہ رہےگا انیک انیک من ہین اور انیک انیک موہ ہین اور بھانت بھانت کے پاکھنڈ برھما نے رچے ہین پر بردھمان انسے بچے آشا اور ترشنا کو مار سر منڈوا ہاتھ مین ڈنڈ کمنڈل لے کام کرودھ کو مار جوگی ہو ننگے پائون تیرتھ تیرتھ ڈولتے پھرتے ہین سو موکش پدارتھ پاتے ہین اور یہ سنسار سپنے کی طرح ہے اسمین کِس کی خوشی کیجئے اور کِس کا غم اور کیلے کے گابھے کی طرح سنسار ہے اسمین سار کچھ نہین اور دھن جوبن بدّیا کا جو غرور کرتے ہین سو اگیان مین اور جو جوگی ہو کمنڈل ہاتھ مین لے در در بھیکھ مانگ دودھ گھی چینی سے اپنے شریر کو پشٹ کر کاماتر ہو استری سے بھوگ کرتے ہین سو اپنا جوگ کھوتے ہین اتنا پڑھ کر وہ بولا کہ اب مین تیرتھ جاترا کرونگا یہ بات سُن اسکے کٹمب کے لوگ بہت خوش ہوئے اتنی کتھا کہہ بیال بولا اے راجہ کس کارن وہ رویا اور کس کارن وہ ہنسا تب راجہ نے کہا کہ بالک پن کام کا پیار اور جوانی کا سُکھ یاد کر اور اتنے دنون اس دین ہہم
رہنے کے موہ سے تو وہ رویا اور اپنی بدّیا سِدّھ کر کے نئی کایا مین بیٹھنے کی خوشی سے وہ ہنسا یہ بات سُن بیتال پھر اسی پیڑ پر جا لٹکا پھر راجہ اسی طرح سے باندھ کاندھے پر رکھ لیچلا
{{center|'''تیئیسوین کہانی'''}}
بیتال بولا اے راجہ دھرم پر نام شهر بے وہان کا دھرم دھوج نامی ایک راجہ تھا اسکے شہر مین گوند نام برہمن چارون بید چھیئون شاستر کا جاننے والا تھا اور اپنے دھرم کرم سے ساودھان تھا اسکے ہردت سوم دت یگیہ دت برمھدت چار بیٹے تھے بڑے بڑے پنڈت بڑے بڑے چتر اور اپنے باپ کی آگیا مین سدا رہتے تھے کتنے ایک دن پیچھے بڑا مرگیا اور وہ بھی اسکے دُکھ سے مرنے لگا اس سمے وہان کے راجہ کا پروہت بشن شرمان آن کے اسے سمجھانے لگے کہ یہ منش جس سمے مان کے گربھ مین آتا ہے پہلے وہین دکھ پاتا ہے دوسری بال پین مین ایتک روگونسے ستایا جاتا ہے جوانی مین کام کے بس ہو پیتم کے بیوگ سے دکھ سہتا ہے چوتھے ٹھور ہو اپنے شریر کے نربل ہونیسے دکھ مین پڑتا ہے غرض سنسار مین جنم لینے سے دُکھ بہت ہوتا ہے اور سکھ تھوڑا کیونکہ یہ سنسار دکھ کا مول ہے اگر کوئی درخت کی پھُنگ پر جا چڑے یا پہاڑ کی چوٹی پر میٹھے یا پانی مین چھپ رہے یا لوہے کے پنجرے مین گھس رہے یا پاتال مین جا چھپے تو بھی نہین کال چھوڑتا ہوے اور پنڈت مورکھ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
kzxz9t3n8fdqetdz9m65h1nj346bqp1
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/258
250
13152
32632
32567
2026-05-18T01:36:48Z
Kaur.gurmel
74
32632
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کنارے آ کر سمندر کو عبور کرنے کی تدبیر سوچنے
لگی ۔ آخر یہ فیصلہ ہوا کہ ایک پل تعمیر کیا
جائے ۔ نل اور نیل بڑے ہوشیار انجنیئر تھے۔
اُنہوں نے پل بنانا شروع کیا .
اُدھر راون کو جب خبر مِلی کہ بھبھیشن رامچندر
سے جا مِلا تو اس نے دو جاسوسوں کو سگریو کی
فوج کا حال چال دریافت کرنے کے لئے
بھیجا ۔ ایک کا نام تھا' شک ، دوسرے کا سارن
دونو بھیس بدل کر سگریو کی فوج میں آئے
اور ہر ایک بات کی چھان بین کرنے لگے ۔
اتفاق سے اُن پر بھبھیشن کی نظر پڑ گئی۔
فوراً پہچان گئے ۔ اُنہیں پکڑ کر رامچندر کے
سامنے پیش کر دیا ۔ دونو جاسوس مارے خوف
کے کانپنے لگے ۔ کیونکہ دستور کے موافق انہیں
موت کی سزا ملنی یقینی تھی ۔ پر رام چندر کو
اُن پر رحم آ گیا ۔ انہیں بلا کر کہا تم لوگ
ڈرو مت، ہم تمہیں کوئی سزا نہ دینگے ۔ تُم<noinclude></noinclude>
ogyicji11wz9w5gteggev0f3qmmhqi5