ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.2
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/60
250
12708
32642
32634
2026-05-19T03:39:00Z
Taranpreet Goswami
90
/* پروف خوانی شدہ */
32642
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جوگی چتر کہاوے اور یہ گتِ سنسار کے لوگون کی ہے انگ گرے سِر ہلے دانت گرین بوڑھے ہوئے لاٹھی لے پھرین تو بھی ترشنا نہین مٹتی اور اِسی طرح سے کال چلا جاتا ہے کہ دِن ہوا رات ہوئی مہینا ہوا برس ہوا بالک ہوا بوڑھا ہوا اور کچھ نہین معلوم کہ مین کون ہون اور لوگ کون ہین اور کون کِس لئے کِسی کا سوگ کرتا ہے ایک آتا ہے ایک جاتا ہے اورانت کال سب جیو جانے والے ہین اِن مین سے ایک نہ رہےگا انیک انیک من ہین اور انیک انیک موہ ہین اور بھانت بھانت کے پاکھنڈ برھما نے رچے ہین پر بردھمان انسے بچے آشا اور ترشنا کو مار سر منڈوا ہاتھ مین ڈنڈ کمنڈل لے کام کرودھ کو مار جوگی ہو ننگے پائون تیرتھ تیرتھ ڈولتے پھرتے ہین سو موکش پدارتھ پاتے ہین اور یہ سنسار سپنے کی طرح ہے اسمین کِس کی خوشی کیجئے اور کِس کا غم اور کیلے کے گابھے کی طرح سنسار ہے اسمین سار کچھ نہین اور دھن جوبن بدّیا کا جو غرور کرتے ہین سو اگیان مین اور جو جوگی ہو کمنڈل ہاتھ مین لے در در بھیکھ مانگ دودھ گھی چینی سے اپنے شریر کو پشٹ کر کاماتر ہو استری سے بھوگ کرتے ہین سو اپنا جوگ کھوتے ہین اتنا پڑھ کر وہ بولا کہ اب مین تیرتھ جاترا کرونگا یہ بات سُن اسکے کٹمب کے لوگ بہت خوش ہوئے اتنی کتھا کہہ بیال بولا اے راجہ کس کارن وہ رویا اور کس کارن وہ ہنسا تب راجہ نے کہا کہ بالک پن کام کا پیار اور جوانی کا سُکھ یاد کر اور اتنے دنون اس دین ہہم
رہنے کے موہ سے تو وہ رویا اور اپنی بدّیا سِدّھ کر کے نئی کایا مین بیٹھنے کی خوشی سے وہ ہنسا یہ بات سُن بیتال پھر اسی پیڑ پر جا لٹکا پھر راجہ اسی طرح سے باندھ کاندھے پر رکھ لیچلا
{{center|'''تیئیسوین کہانی'''}}
بیتال بولا اے راجہ دھرم پر نام شهر بے وہان کا دھرم دھوج نامی ایک راجہ تھا اسکے شہر مین گوند نام برہمن چارون بید چھیئون شاستر کا جاننے والا تھا اور اپنے دھرم کرم سے ساودھان تھا اسکے ہردت سوم دت یگیہ دت برمھدت چار بیٹے تھے بڑے بڑے پنڈت بڑے بڑے چتر اور اپنے باپ کی آگیا مین سدا رہتے تھے کتنے ایک دن پیچھے بڑا مرگیا اور وہ بھی اسکے دُکھ سے مرنے لگا اس سمے وہان کے راجہ کا پروہت بشن شرمان آن کے اسے سمجھانے لگے کہ یہ منش جس سمے مان کے گربھ مین آتا ہے پہلے وہین دکھ پاتا ہے دوسری بال پین مین ایتک روگونسے ستایا جاتا ہے جوانی مین کام کے بس ہو پیتم کے بیوگ سے دکھ سہتا ہے چوتھے ٹھور ہو اپنے شریر کے نربل ہونیسے دکھ مین پڑتا ہے غرض سنسار مین جنم لینے سے دُکھ بہت ہوتا ہے اور سکھ تھوڑا کیونکہ یہ سنسار دکھ کا مول ہے اگر کوئی درخت کی پھُنگ پر جا چڑے یا پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھے یا پانی مین چھپ رہے یا لوہے کے پنجرے مین گھس رہے یا پاتال مین جا چھپے تو بھی نہین کال چھوڑتا ہے اور پنڈت مورکھ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
1vkvennf2dbuf0048anlgph5opl4zen
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/61
250
12709
32635
30821
2026-05-18T12:27:20Z
Charan Gill
46
32635
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اور دھنوان نردھن گیانی بلوان نِزیل کیسا ہی کوئی ہووے پر یہ سرب بھکشی کال کسی کو نہین چھوڑتا اور سو برس منش کی عمر ہوتی ہے اسمین سے آدھی تو رات مین جاتی ہے آدھی کی آدھی بال اور بردھ اوستھا مین شیش جو رھی سو یادھ ہیوگ سوگ مین گذرتی ہے اور جی جو ہے سو پانی کی ترنگ کی طرح چنچل ہے اس سے اس منش کو شُکھ کہان ہے اور اب کلجگ کے سمے ست بادی منش مِلنے دُرلبھ ہین اور دن بدن دیش اجڑتے ہین راجہ لوبھی ہوتے ہین پرتھوی مند پھل دیتی ہے چور بد کا پر تھومی مین زیادہ کرتے ہین اور دمحرم
تب ست سفسار مین تھوڑا رہا ہے راجہ کو مل بر یمین لانچی لوگ نگائی کے بس ہوئے استری چنچل ہوئی
تای تند تر کرنے لگا اور تیرتا اور کیونکے ما اکشن اور تا ارجن مین امن کو بھی کال نے نہ چھوڑا
اور جس سے فش
کو مرے جاتے مین بنی اس کے گھر من رہتی ہے اور مان باپ جور واڑ کے بھائی
بندھ کوئی کام نہین آتا ہو بھلائی بائی پاپ پن ہی ساتھ جاتا ہے اور وہی کہنے کے لوگ اسے
مرگھٹ مین لے جا کر جلا دیتے ہین اور دیکھو ادھر رات گزرتی ہو دھر دن آتا ہو ادھر چاند است
ہوتا ہے ادھر سورج اودے ایسے ہی گائی جاتی ہو اور بڑھاتا ہے اسی طرح کال بیتا چلا جاتا ہے
پر یہ دیکھ کر بھی اس نقش کو گیان نہین ہوتا دیکھو ست جنگ مین مان دھا تا ساراجہ کو کہ جس نے
دھرم کے جس سے ساری پر تھومی کو چھا دیا تھا اور رتیا مین سری رامچند راجہ کہ جن نے سمندر
کا پل باندھ لنکا سا گڑھ توڑ راون کو مارا اور دوا پر من جد منسٹر نے ایسا راج کیا کہ جس کا جس ابتک
لوگ گاتے ہین پر کال نے انھون
کو بھی نہ چھوڑا اور آکا اس کے اڑنے والے بچھی اور سمندر کے رہنے
والے جیو ستے پائے وے بھی آفت مین پڑتے مین اس نفسا مین آکے دُکھ سے کوئی نہین چھو تو اسکا
مود کر نا بر تھا ہو اس سے تم یہ ہو کہ دھرم کا بیجنے اسطرح سے جب بین شرمانے سمجھایا تب اس بربین
کے جی مین آیا کہ اب پن کاج کیجئے یہ سن مین اسنے پوچ اپنے بیٹے سے کہا کہ مین جگ کرنے بیٹھتا ہون
سمندر سے جا کر کھولے آؤ اپنے پاپ کی آگیا پا ایک میم سے جاکر کہا کہ ایک روپیہ لے اور ایک چھپ
پکڑ دے اسے روسہ لیا اور پھیپ پکڑ دیا تب ان مین سوئٹر پر بھائی نے مجھے سر کہا تو اٹھالے اپنے چھوٹے
سے کہا بھائی تو اٹھالے اسنے کہا کہ مین نہ چھوڑنگا میرے ہاتھ مین در گندھ آدیگی چھوٹے نے کہاکہ من بجنون
کرنے مین چترمون منجھلا بولا کہ مین ناری رکھنے مین بڑے نے کہا کہ مین پیج پر سونے مین چتر مون انتطرح
تینون بواد کرنے لگے کچھوے کو وہین چھوڑ جھگڑتے ہوئے راجہ کے دوار پر جادو ار پال سو انھون نے کہا
کہ تین بر نمین فریادی آئے ہین یہ جا کر تورا جو سو که بیشن دربان نے راجہ کو خبر دی راجہ نے بلا کر پوچھا
تم کیس واسطے آپس مین جھگڑتے ہو تب ان مین سے چھوٹا بولا کہ مہاراج مین بھوجن کرنے مین چیتر مون<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
202lgl00f9vwl5yqxhjx3zmui210tkp
32637
32635
2026-05-18T16:17:40Z
Charan Gill
46
32637
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اور دھنوان نردھن گیانی بلوان نِزیل کیسا ہی کوئی ہووے پر یہ سرب بھکشی کال کسی کو نہین چھوڑتا اور سو برس منش کی عمر ہوتی ہے اسمین سے آدھی تو رات مین جاتی ہے آدھی کی آدھی بال اور بردھ اوستھا مین شیش جو رھی سو یادھ ہیوگ سوگ مین گذرتی ہے اور جی جو ہے سو پانی کی ترنگ کی طرح چنچل ہے اس سے اس منش کو شُکھ کہان ہے اور اب کلجگ کے سمے ست بادی منش مِلنے دُرلبھ ہین اور دن بدن دیش اجڑتے ہین راجہ لوبھی ہوتے ہین پرتھوی مند پھل دیتی ہے چور بدکار پرتھوی مین اپرادھ کرتے ہین اور دھرم تب ست سنسار مین تھوڑا رہا ہے راجہ کو ٹل برہمن لالچی لوگ لگائی کے بس ہوئے استری چنچل ہوئی تای تند تر کرنے لگا اور تیرتا اور کیونکے ما اکشن اور تا ارجن مین امن کو بھی کال نے نہ چھوڑا
اور جس سے فش
کو مرے جاتے مین بنی اس کے گھر من رہتی ہے اور مان باپ جور واڑ کے بھائی
بندھ کوئی کام نہین آتا ہو بھلائی بائی پاپ پن ہی ساتھ جاتا ہے اور وہی کہنے کے لوگ اسے
مرگھٹ مین لے جا کر جلا دیتے ہین اور دیکھو ادھر رات گزرتی ہو دھر دن آتا ہو ادھر چاند است
ہوتا ہے ادھر سورج اودے ایسے ہی گائی جاتی ہو اور بڑھاتا ہے اسی طرح کال بیتا چلا جاتا ہے
پر یہ دیکھ کر بھی اس نقش کو گیان نہین ہوتا دیکھو ست جنگ مین مان دھا تا ساراجہ کو کہ جس نے
دھرم کے جس سے ساری پر تھومی کو چھا دیا تھا اور رتیا مین سری رامچند راجہ کہ جن نے سمندر
کا پل باندھ لنکا سا گڑھ توڑ راون کو مارا اور دوا پر من جد منسٹر نے ایسا راج کیا کہ جس کا جس ابتک
لوگ گاتے ہین پر کال نے انھون
کو بھی نہ چھوڑا اور آکا اس کے اڑنے والے بچھی اور سمندر کے رہنے
والے جیو ستے پائے وے بھی آفت مین پڑتے مین اس نفسا مین آکے دُکھ سے کوئی نہین چھو تو اسکا
مود کر نا بر تھا ہو اس سے تم یہ ہو کہ دھرم کا بیجنے اسطرح سے جب بین شرمانے سمجھایا تب اس بربین
کے جی مین آیا کہ اب پن کاج کیجئے یہ سن مین اسنے پوچ اپنے بیٹے سے کہا کہ مین جگ کرنے بیٹھتا ہون
سمندر سے جا کر کھولے آؤ اپنے پاپ کی آگیا پا ایک میم سے جاکر کہا کہ ایک روپیہ لے اور ایک چھپ
پکڑ دے اسے روسہ لیا اور پھیپ پکڑ دیا تب ان مین سوئٹر پر بھائی نے مجھے سر کہا تو اٹھالے اپنے چھوٹے
سے کہا بھائی تو اٹھالے اسنے کہا کہ مین نہ چھوڑنگا میرے ہاتھ مین در گندھ آدیگی چھوٹے نے کہاکہ من بجنون
کرنے مین چترمون منجھلا بولا کہ مین ناری رکھنے مین بڑے نے کہا کہ مین پیج پر سونے مین چتر مون انتطرح
تینون بواد کرنے لگے کچھوے کو وہین چھوڑ جھگڑتے ہوئے راجہ کے دوار پر جادو ار پال سو انھون نے کہا
کہ تین بر نمین فریادی آئے ہین یہ جا کر تورا جو سو که بیشن دربان نے راجہ کو خبر دی راجہ نے بلا کر پوچھا
تم کیس واسطے آپس مین جھگڑتے ہو تب ان مین سے چھوٹا بولا کہ مہاراج مین بھوجن کرنے مین چیتر مون<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
t4ucjjb837lftfmrp5x7o3a1ljkmmym
32638
32637
2026-05-18T16:45:50Z
Charan Gill
46
32638
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اور دھنوان نردھن گیانی بلوان نِزیل کیسا ہی کوئی ہووے پر یہ سرب بھکشی کال کسی کو نہین چھوڑتا اور سو برس منش کی عمر ہوتی ہے اسمین سے آدھی تو رات مین جاتی ہے آدھی کی آدھی بال اور بردھ اوستھا مین شیش جو رھی سو یادھ ہیوگ سوگ مین گذرتی ہے اور جی جو ہے سو پانی کی ترنگ کی طرح چنچل ہے اس سے اس منش کو شُکھ کہان ہے اور اب کلجگ کے سمے ست بادی منش مِلنے دُرلبھ ہین اور دن بدن دیش اجڑتے ہین راجہ لوبھی ہوتے ہین پرتھوی مند پھل دیتی ہے چور بدکار پرتھوی مین اپرادھ کرتے ہین اور دھرم تب ست سنسار مین تھوڑا رہا ہے راجہ کو ٹل برہمن لالچی لوگ لگائی کے بس ہوئے استری چنچل ہوئی پتا کی تندا پتر کرنے لگا اور متر شترتا اور دیکھو جن کے ماما کرشن اور پتا ارجن تیس ابھمن کو بھی کال نے نہ چھوڑا اور جس سمے جم ننش
کو لے جاتے ہین لکشمی اس کے گھر مین رہتی ہے اور مان باپ جورو اڑ کے بھائی
بندھ کوئی کام نہین آتا ہو بھلائی بائی پاپ پن ہی ساتھ جاتا ہے اور وہی کہنے کے لوگ اسے
مرگھٹ مین لے جا کر جلا دیتے ہین اور دیکھو ادھر رات گزرتی ہو دھر دن آتا ہو ادھر چاند است
ہوتا ہے ادھر سورج اودے ایسے ہی گائی جاتی ہو اور بڑھاتا ہے اسی طرح کال بیتا چلا جاتا ہے
پر یہ دیکھ کر بھی اس نقش کو گیان نہین ہوتا دیکھو ست جنگ مین مان دھا تا ساراجہ کو کہ جس نے
دھرم کے جس سے ساری پر تھومی کو چھا دیا تھا اور رتیا مین سری رامچند راجہ کہ جن نے سمندر
کا پل باندھ لنکا سا گڑھ توڑ راون کو مارا اور دوا پر من جد منسٹر نے ایسا راج کیا کہ جس کا جس ابتک
لوگ گاتے ہین پر کال نے انھون
کو بھی نہ چھوڑا اور آکا اس کے اڑنے والے بچھی اور سمندر کے رہنے
والے جیو ستے پائے وے بھی آفت مین پڑتے مین اس نفسا مین آکے دُکھ سے کوئی نہین چھو تو اسکا
مود کر نا بر تھا ہو اس سے تم یہ ہو کہ دھرم کا بیجنے اسطرح سے جب بین شرمانے سمجھایا تب اس بربین
کے جی مین آیا کہ اب پن کاج کیجئے یہ سن مین اسنے پوچ اپنے بیٹے سے کہا کہ مین جگ کرنے بیٹھتا ہون
سمندر سے جا کر کھولے آؤ اپنے پاپ کی آگیا پا ایک میم سے جاکر کہا کہ ایک روپیہ لے اور ایک چھپ
پکڑ دے اسے روسہ لیا اور پھیپ پکڑ دیا تب ان مین سوئٹر پر بھائی نے مجھے سر کہا تو اٹھالے اپنے چھوٹے
سے کہا بھائی تو اٹھالے اسنے کہا کہ مین نہ چھوڑنگا میرے ہاتھ مین در گندھ آدیگی چھوٹے نے کہاکہ من بجنون
کرنے مین چترمون منجھلا بولا کہ مین ناری رکھنے مین بڑے نے کہا کہ مین پیج پر سونے مین چتر مون انتطرح
تینون بواد کرنے لگے کچھوے کو وہین چھوڑ جھگڑتے ہوئے راجہ کے دوار پر جادو ار پال سو انھون نے کہا
کہ تین بر نمین فریادی آئے ہین یہ جا کر تورا جو سو که بیشن دربان نے راجہ کو خبر دی راجہ نے بلا کر پوچھا
تم کیس واسطے آپس مین جھگڑتے ہو تب ان مین سے چھوٹا بولا کہ مہاراج مین بھوجن کرنے مین چیتر مون<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
9am65ovkhictke9txup49zjwn5giqnh
32639
32638
2026-05-18T16:57:10Z
Charan Gill
46
32639
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اور دھنوان نردھن گیانی بلوان نِزیل کیسا ہی کوئی ہووے پر یہ سرب بھکشی کال کسی کو نہین چھوڑتا اور سو برس منش کی عمر ہوتی ہے اسمین سے آدھی تو رات مین جاتی ہے آدھی کی آدھی بال اور بردھ اوستھا مین شیش جو رھی سو یادھ ہیوگ سوگ مین گذرتی ہے اور جی جو ہے سو پانی کی ترنگ کی طرح چنچل ہے اس سے اس منش کو شُکھ کہان ہے اور اب کلجگ کے سمے ست بادی منش مِلنے دُرلبھ ہین اور دن بدن دیش اجڑتے ہین راجہ لوبھی ہوتے ہین پرتھوی مند پھل دیتی ہے چور بدکار پرتھوی مین اپرادھ کرتے ہین اور دھرم تب ست سنسار مین تھوڑا رہا ہے راجہ کو ٹل برہمن لالچی لوگ لگائی کے بس ہوئے استری چنچل ہوئی پتا کی تندا پتر کرنے لگا اور متر شترتا اور دیکھو جن کے ماما کرشن اور پتا ارجن تیس ابھمن کو بھی کال نے نہ چھوڑا اور جس سمے جم ننش
کو لے جاتے ہین لکشمی اس کے گھر مین رہتی ہے اور مان باپ جورو لڑکے بھائی
بندھ کوئی کام نہین آتا ہے بھلائی برائی پاپ پن ہی ساتھ جاتا ہے اور وہی کنبے کے لوگ اسے مرگھٹ مین لے جا کر جلا دیتے ہین اور دیکھو ادھر رات گزرتی ہے ادھر دن آتا ہے ادھر چاند است ہوتا ہے ادھر سورج ادے ایسے ہی گائی جاتی ہے اور بڑھاپا اتا ہے اسی طرح کال بیتا چلا جاتا ہے
پر یہ دیکھ کر بھی اس منش کو گیان نہین ہوتا دیکھو ست جگ مین مان دھاتا سا راجہ کو کہ جس نے
دھرم کے جس سے ساری پرتھوی کو چھا دیا تھا اور رتیا مین سری رامچند راجہ کہ جن نے سمندر
کا پل باندھ لنکا سا گڑھ توڑ راون کو مارا اور دوا پر من جد منسٹر نے ایسا راج کیا کہ جس کا جس ابتک
لوگ گاتے ہین پر کال نے انھون
کو بھی نہ چھوڑا اور آکا اس کے اڑنے والے بچھی اور سمندر کے رہنے
والے جیو ستے پائے وے بھی آفت مین پڑتے مین اس نفسا مین آکے دُکھ سے کوئی نہین چھو تو اسکا
مود کر نا بر تھا ہو اس سے تم یہ ہو کہ دھرم کا بیجنے اسطرح سے جب بین شرمانے سمجھایا تب اس بربین
کے جی مین آیا کہ اب پن کاج کیجئے یہ سن مین اسنے پوچ اپنے بیٹے سے کہا کہ مین جگ کرنے بیٹھتا ہون
سمندر سے جا کر کھولے آؤ اپنے پاپ کی آگیا پا ایک میم سے جاکر کہا کہ ایک روپیہ لے اور ایک چھپ
پکڑ دے اسے روسہ لیا اور پھیپ پکڑ دیا تب ان مین سوئٹر پر بھائی نے مجھے سر کہا تو اٹھالے اپنے چھوٹے
سے کہا بھائی تو اٹھالے اسنے کہا کہ مین نہ چھوڑنگا میرے ہاتھ مین در گندھ آدیگی چھوٹے نے کہاکہ من بجنون
کرنے مین چترمون منجھلا بولا کہ مین ناری رکھنے مین بڑے نے کہا کہ مین پیج پر سونے مین چتر مون انتطرح
تینون بواد کرنے لگے کچھوے کو وہین چھوڑ جھگڑتے ہوئے راجہ کے دوار پر جادو ار پال سو انھون نے کہا
کہ تین بر نمین فریادی آئے ہین یہ جا کر تورا جو سو که بیشن دربان نے راجہ کو خبر دی راجہ نے بلا کر پوچھا
تم کیس واسطے آپس مین جھگڑتے ہو تب ان مین سے چھوٹا بولا کہ مہاراج مین بھوجن کرنے مین چیتر مون<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
t39cg8dob1bshjwco4rof4r9atfp3xd
32640
32639
2026-05-18T18:33:42Z
Charan Gill
46
32640
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اور دھنوان نردھن گیانی بلوان نِزیل کیسا ہی کوئی ہووے پر یہ سرب بھکشی کال کسی کو نہین چھوڑتا اور سو برس منش کی عمر ہوتی ہے اسمین سے آدھی تو رات مین جاتی ہے آدھی کی آدھی بال اور بردھ اوستھا مین شیش جو رھی سو یادھ ہیوگ سوگ مین گذرتی ہے اور جی جو ہے سو پانی کی ترنگ کی طرح چنچل ہے اس سے اس منش کو شُکھ کہان ہے اور اب کلجگ کے سمے ست بادی منش مِلنے دُرلبھ ہین اور دن بدن دیش اجڑتے ہین راجہ لوبھی ہوتے ہین پرتھوی مند پھل دیتی ہے چور بدکار پرتھوی مین اپرادھ کرتے ہین اور دھرم تب ست سنسار مین تھوڑا رہا ہے راجہ کو ٹل برہمن لالچی لوگ لگائی کے بس ہوئے استری چنچل ہوئی پتا کی تندا پتر کرنے لگا اور متر شترتا اور دیکھو جن کے ماما کرشن اور پتا ارجن تیس ابھمن کو بھی کال نے نہ چھوڑا اور جس سمے جم ننش
کو لے جاتے ہین لکشمی اس کے گھر مین رہتی ہے اور مان باپ جورو لڑکے بھائی
بندھ کوئی کام نہین آتا ہے بھلائی برائی پاپ پن ہی ساتھ جاتا ہے اور وہی کنبے کے لوگ اسے مرگھٹ مین لے جا کر جلا دیتے ہین اور دیکھو ادھر رات گزرتی ہے ادھر دن آتا ہے ادھر چاند است ہوتا ہے ادھر سورج ادے ایسے ہی جوانی جاتی ہے اور بڑھاپا اتا ہے اسی طرح کال بیتا چلا جاتا ہے
پر یہ دیکھ کر بھی اس منش کو گیان نہین ہوتا دیکھو ست جگ مین ماندھاتا سا راجہ کو کہ جس نے دھرم کے جس سے ساری پرتھوی کو چھادیا تھا اور ترتیا مین سری رامچندر راجہ کہ جن نے سمندر کا پل باندھ لنکا سا گڑھ توڑ راون کو مارا اور دواپر مین جدھسٹر نے ایسا راج کیا کہ جس کا جس ابتک لوگ گاتے ہین پر کال نے انھون کو بھی نہ چھوڑا اور آکاس کے اڑنے والے پخچھی اور سمندر کے رہنے والے جیو سمے پائے وے بھی آفت مین پڑتے ہین اس سنسار مین آکے دُکھ سے کوئی نہین چھوٹتا اسکا موہ کرنا برتھا ہے اس سے تم یہ ہو کہ دھرم کا بیجنے اسطرح سے جب بین شرمانے سمجھایا تب اس بربین
کے جی مین آیا کہ اب پن کاج کیجئے یہ سن مین اسنے پوچ اپنے بیٹے سے کہا کہ مین جگ کرنے بیٹھتا ہون
سمندر سے جا کر کھولے آؤ اپنے پاپ کی آگیا پا ایک میم سے جاکر کہا کہ ایک روپیہ لے اور ایک چھپ
پکڑ دے اسے روسہ لیا اور پھیپ پکڑ دیا تب ان مین سوئٹر پر بھائی نے مجھے سر کہا تو اٹھالے اپنے چھوٹے
سے کہا بھائی تو اٹھالے اسنے کہا کہ مین نہ چھوڑنگا میرے ہاتھ مین در گندھ آدیگی چھوٹے نے کہاکہ من بجنون
کرنے مین چترمون منجھلا بولا کہ مین ناری رکھنے مین بڑے نے کہا کہ مین پیج پر سونے مین چتر مون انتطرح
تینون بواد کرنے لگے کچھوے کو وہین چھوڑ جھگڑتے ہوئے راجہ کے دوار پر جادو ار پال سو انھون نے کہا
کہ تین بر نمین فریادی آئے ہین یہ جا کر تورا جو سو که بیشن دربان نے راجہ کو خبر دی راجہ نے بلا کر پوچھا
تم کیس واسطے آپس مین جھگڑتے ہو تب ان مین سے چھوٹا بولا کہ مہاراج مین بھوجن کرنے مین چیتر مون<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
0ocxu6b82552gf7r11ksfav48xunjzr
32641
32640
2026-05-19T01:25:04Z
Charan Gill
46
32641
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اور دھنوان نردھن گیانی بلوان نِزیل کیسا ہی کوئی ہووے پر یہ سرب بھکشی کال کسی کو نہین چھوڑتا اور سو برس منش کی عمر ہوتی ہے اسمین سے آدھی تو رات مین جاتی ہے آدھی کی آدھی بال اور بردھ اوستھا مین شیش جو رھی سو یادھ ہیوگ سوگ مین گذرتی ہے اور جی جو ہے سو پانی کی ترنگ کی طرح چنچل ہے اس سے اس منش کو شُکھ کہان ہے اور اب کلجگ کے سمے ست بادی منش مِلنے دُرلبھ ہین اور دن بدن دیش اجڑتے ہین راجہ لوبھی ہوتے ہین پرتھوی مند پھل دیتی ہے چور بدکار پرتھوی مین اپرادھ کرتے ہین اور دھرم تب ست سنسار مین تھوڑا رہا ہے راجہ کو ٹل برہمن لالچی لوگ لگائی کے بس ہوئے استری چنچل ہوئی پتا کی تندا پتر کرنے لگا اور متر شترتا اور دیکھو جن کے ماما کرشن اور پتا ارجن تیس ابھمن کو بھی کال نے نہ چھوڑا اور جس سمے جم ننش
کو لے جاتے ہین لکشمی اس کے گھر مین رہتی ہے اور مان باپ جورو لڑکے بھائی
بندھ کوئی کام نہین آتا ہے بھلائی برائی پاپ پن ہی ساتھ جاتا ہے اور وہی کنبے کے لوگ اسے مرگھٹ مین لے جا کر جلا دیتے ہین اور دیکھو ادھر رات گزرتی ہے ادھر دن آتا ہے ادھر چاند است ہوتا ہے ادھر سورج ادے ایسے ہی جوانی جاتی ہے اور بڑھاپا اتا ہے اسی طرح کال بیتا چلا جاتا ہے
پر یہ دیکھ کر بھی اس منش کو گیان نہین ہوتا دیکھو ست جگ مین ماندھاتا سا راجہ کو کہ جس نے دھرم کے جس سے ساری پرتھوی کو چھادیا تھا اور ترتیا مین سری رامچندر راجہ کہ جن نے سمندر کا پل باندھ لنکا سا گڑھ توڑ راون کو مارا اور دواپر مین جدھسٹر نے ایسا راج کیا کہ جس کا جس ابتک لوگ گاتے ہین پر کال نے انھون کو بھی نہ چھوڑا اور آکاس کے اڑنے والے پخچھی اور سمندر کے رہنے والے جیو سمے پائے وے بھی آفت مین پڑتے ہین اس سنسار مین آکے دُکھ سے کوئی نہین چھوٹتا اسکا موہ کرنا برتھا ہے اس سے تم یہ ہو کہ دھرم کا بیجنے اسطرح سے جب بین شرمانے سمجھایا تب اس بربین
کے جی مین آیا کہ اب پن کاج کیجئے یہ سن مین اسنے پوچ اپنے بیٹے سے کہا کہ مین جگ کرنے بیٹھتا ہون سمندر سے جا کر کھولے آؤ اپنے پاپ کی آگیا پا ایک میم سے جاکر کہا کہ ایک روپیہ لے اور ایک چھپ پکڑ دے اسنے روپیہ لیا اور چھیپ پکڑ دیا تب ان مین سوئٹر پر بھائی نے مجھ سے کہا تو اٹھالے اپنے چھوٹے سے کہا بھائی تو اٹھالے اسنے کہا کہ مین نہ چھوڑنگا میرے ہاتھ مین درگندھ آویگی چھوٹے نے کہا کہ مین بجنون کرنے مین چتر ہون منجھلا بولا کہ مین ناری رکھنے مین بڑے نے کہا کہ مین پیج پر سونے مین چتر ہون اس طرح تینون بواد کرنے لگے کچھوے کو وہین چھوڑ جھگڑتے ہوئے راجہ کے دروار پر جا دوارپال سے انھون نے کہا کہ تین بر نمین فریادی آئے ہین یہ جا کر تو راجو سے که بیشن دربان نے راجہ کو خبر دی راجہ نے بلا کر پوچھا
تم کیس واسطے آپس مین جھگڑتے ہو تب ان مین سے چھوٹا بولا کہ مہاراج مین بھوجن کرنے مین چتر ہون<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
r5dqcbd3tb5stq20vnpphwkxwbi09p8
32643
32641
2026-05-19T04:31:24Z
Taranpreet Goswami
90
32643
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اور دھنوان نردھن گیانی بلوان نِربل کیسا ہی کوئی ہووے پر یہ سرب بھکشی کال کسی کو نہین چھوڑتا اور سو برس منش کی عمر ہوتی ہے اسمین سے آدھی تو رات مین جاتی ہے آدھی کی آدھی بال اور بردھ اوستھا مین شیش جو رھی سو بیادھ ہیوگ سوگ مین گذرتی ہے اور جی جو ہے سو پانی کی ترنگ کی طرح چنچل ہے اس سے اس منش کو شُکھ کہان ہے اور اب کلجگ کے سمے ست بادی منش مِلنے دُرلبھ ہین اور دن بدن دیش اجڑتے ہین راجہ لوبھی ہوتے ہین پرتھوی مند پھل دیتی ہے چور بدکار پرتھوی مین اپرادھ کرتے ہین اور دھرم تپ ست سنسار مین تھوڑا رہا ہے راجہ کو ٹل برہمن لالچی لوگ لگائی کے بس ہوئے استری چنچل ہوئی پتا کی نندا پتر کرنے لگا اور متر شترتا اور دیکھو جن کے ماما کرشن اور پتا ارجن تس ابھمن کو بھی کال نے نہ چھوڑا اور جس سمے جم منش
کو لے جاتے ہین لکشمی اس کے گھر مین رہتی ہے اور مان باپ جورو لڑکے بھائی بندھ کوئی کام نہین آتا ہے بھلائی برائی پاپ پن ہی ساتھ جاتا ہے اور وہی کنبے کے لوگ اسے مرگھٹ مین لے جا کر جلا دیتے ہین اور دیکھو ادھر رات گزرتی ہے ادھر دن آتا ہے ادھر چاند است ہوتا ہے ادھر سورج ادے ایسے ہی جوانی جاتی ہے اور بڑھاپا اتا ہے اسی طرح کال بیتا چلا جاتا ہے
پر یہ دیکھ کر بھی اس منش کو گیان نہین ہوتا دیکھو ست جگ مین ماندھاتا سا راجہ کو کہ جس نے دھرم کے جس سے ساری پرتھوی کو چھادیا تھا اور ترتیا مین سری رامچندر راجہ کہ جن نے سمندر کا پل باندھ لنکا سا گڑھ توڑ راون کو مارا اور دواپر مین جدھسٹر نے ایسا راج کیا کہ جس کا جس ابتک لوگ گاتے ہین پر کال نے انھون کو بھی نہ چھوڑا اور آکاس کے اڑنے والے پخچھی اور سمندر کے رہنے والے جیو سمے پائے وے بھی آفت مین پڑتے ہین اس سنسار مین آکے دُکھ سے کوئی نہین چھوٹتا اسکا موہ کرنا برتھا ہے اس سے اتم یہ ہے کہ دھرم کاج کیجۓ اسطرح سے جب بشن شرما نے سمجھایا تب اس برہمن کے جی مین آیا کہ اب پن کاج کیجئے یہ من مین اسنے سوچ اپنے بیٹے سے کہا کہ مین جگ کرنے بیٹھتا ہون سمندر سے جا کر کچھوا لے آؤ اپنے باپ کی آگیا پا ایک دھیمر سے جاکر کہا کہ ایک روپیہ لے اور ایک کچھپ پکڑ دے اسنے روپیہ لیا اور کچھّپ پکڑ دیا تب ان مین سے بڑے بھائی نے مجھ سے کہا تو اٹھا لے اسنے چھوٹے سے کہا بھائی تو اٹھا لے اسنے کہا کہ مین نہ چھوڑنگا میرے ہاتھ مین درگندھ آویگی چھوٹے نے کہا کہ مین بجنون کرنے مین چتر ہون منجھلا بولا کہ مین ناری رکھنے مین بڑے نے کہا کہ مین سیج پر سونے مین چتر ہون اس طرح تینون بواد کرنے لگے کچھوے کو وہین چھوڑ جھگڑتے ہوئے راجہ کے دوار پر جا دوارپال سے انھون نے کہا کہ تین برہمن فریادی آئے ہین یہ جا کر تو راجہ سے کہہ یہ شن دربان نے راجہ کو خبر دی راجہ نے بلا کر پوچھا تم کیس واسطے آپس مین جھگڑتے ہو تب ان مین سے چھوٹا بولا کہ مہاراج مین بھوجن کرنے مین چتر ہون<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
bxtathamkopqwgfnnadtqcr6tz5hr5j
32644
32643
2026-05-19T04:46:31Z
Taranpreet Goswami
90
/* پروف خوانی شدہ */
32644
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اور دھنوان نردھن گیانی بلوان نِربل کیسا ہی کوئی ہووے پر یہ سرب بھکشی کال کسی کو نہین چھوڑتا اور سو برس منش کی عمر ہوتی ہے اسمین سے آدھی تو رات مین جاتی ہے آدھی کی آدھی بال اور بردھ اوستھا مین شیش جو رھی سو بیادھ ہیوگ سوگ مین گذرتی ہے اور جی جو ہے سو پانی کی ترنگ کی طرح چنچل ہے اس سے اس منش کو شُکھ کہان ہے اور اب کلجگ کے سمے ست بادی منش مِلنے دُرلبھ ہین اور دن بدن دیش اجڑتے ہین راجہ لوبھی ہوتے ہین پرتھوی مند پھل دیتی ہے چور بدکار پرتھوی مین اپرادھ کرتے ہین اور دھرم تپ ست سنسار مین تھوڑا رہا ہے راجہ کو ٹل برہمن لالچی لوگ لگائی کے بس ہوئے استری چنچل ہوئی پتا کی نندا پتر کرنے لگا اور متر شترتا اور دیکھو جن کے ماما کرشن اور پتا ارجن تس ابھمن کو بھی کال نے نہ چھوڑا اور جس سمے جم منش
کو لے جاتے ہین لکشمی اس کے گھر مین رہتی ہے اور مان باپ جورو لڑکے بھائی بندھ کوئی کام نہین آتا ہے بھلائی برائی پاپ پن ہی ساتھ جاتا ہے اور وہی کنبے کے لوگ اسے مرگھٹ مین لے جا کر جلا دیتے ہین اور دیکھو ادھر رات گزرتی ہے ادھر دن آتا ہے ادھر چاند است ہوتا ہے ادھر سورج ادے ایسے ہی جوانی جاتی ہے اور بڑھاپا اتا ہے اسی طرح کال بیتا چلا جاتا ہے
پر یہ دیکھ کر بھی اس منش کو گیان نہین ہوتا دیکھو ست جگ مین ماندھاتا سا راجہ کو کہ جس نے دھرم کے جس سے ساری پرتھوی کو چھادیا تھا اور ترتیا مین سری رامچندر راجہ کہ جن نے سمندر کا پل باندھ لنکا سا گڑھ توڑ راون کو مارا اور دواپر مین جدھسٹر نے ایسا راج کیا کہ جس کا جس ابتک لوگ گاتے ہین پر کال نے انھون کو بھی نہ چھوڑا اور آکاس کے اڑنے والے پخچھی اور سمندر کے رہنے والے جیو سمے پائے وے بھی آفت مین پڑتے ہین اس سنسار مین آکے دُکھ سے کوئی نہین چھوٹتا اسکا موہ کرنا برتھا ہے اس سے اتم یہ ہے کہ دھرم کاج کیجۓ اسطرح سے جب بشن شرما نے سمجھایا تب اس برہمن کے جی مین آیا کہ اب پن کاج کیجئے یہ من مین اسنے سوچ اپنے بیٹے سے کہا کہ مین جگ کرنے بیٹھتا ہون سمندر سے جا کر کچھوا لے آؤ اپنے باپ کی آگیا پا ایک دھیمر سے جاکر کہا کہ ایک روپیہ لے اور ایک کچھپ پکڑ دے اسنے روپیہ لیا اور کچھّپ پکڑ دیا تب ان مین سے بڑے بھائی نے مجھ سے کہا تو اٹھا لے اسنے چھوٹے سے کہا بھائی تو اٹھا لے اسنے کہا کہ مین نہ چھوڑنگا میرے ہاتھ مین درگندھ آویگی چھوٹے نے کہا کہ مین بجنون کرنے مین چتر ہون منجھلا بولا کہ مین ناری رکھنے مین بڑے نے کہا کہ مین سیج پر سونے مین چتر ہون اس طرح تینون بواد کرنے لگے کچھوے کو وہین چھوڑ جھگڑتے ہوئے راجہ کے دوار پر جا دوارپال سے انھون نے کہا کہ تین برہمن فریادی آئے ہین یہ جا کر تو راجہ سے کہہ یہ شن دربان نے راجہ کو خبر دی راجہ نے بلا کر پوچھا تم کیس واسطے آپس مین جھگڑتے ہو تب ان مین سے چھوٹا بولا کہ مہاراج مین بھوجن کرنے مین چتر ہون<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
7gj73arejclhue86se0nklkgnqswzjh
32645
32644
2026-05-19T06:04:28Z
BalramBodhi
60
32645
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اور دھنوان نردھن گیانی بلوان نِربل کیسا ہی کوئی ہووے پر یہ سرب بھکشی کال کسی کو نہین چھوڑتا اور سو برس منش کی عمر ہوتی ہے تسمین سے آدھی تو رات مین جاتی ہے آدھی کی آدھی بال اور بردھ اوستھا مین شیش جو رھی سو بیادھ ہیوگ سوگ مین گذرتی ہے اور جی جو ہے سو پانی کی ترنگ کی طرح چنچل ہے اس سے اس منش کو سُکھ کہان ہے اور اب کلجگ کے سمے ست بادی منش مِلنے دُرلبھ ہین اور دن بدن دیش اجڑتے ہین راجہ لوبھی ہوتے ہین پرتھوی مند پھل دیتی ہے چور بدکار پرتھوی مین اپادھ کرتے ہین اور دھرم تپ ست سنسار مین تھوڑا رہا ہے راجہ کوٹل برہمن لالچی لوگ لگائی کے بس ہوئے استری چنچل ہوئی پتا کی نندا پتر کرنے لگا اور متر شترتا اور دیکھو جن کے ماما کرشن اور پتا ارجن تس ابھمن کو بھی کال نے نہ چھوڑا اور جس سمے منش کو جم لے جاتے ہین لکشمی اس کے گھر مین رہتی ہے اور مان باپ جورو لڑکے بھائی بندھ کوئی کام نہین آتا ہے بھلائی برائی پاپ پن ہی ساتھ جاتا ہے اور وہی کنبے کے لوگ اسے مرگھٹ مین لے جا کر جلا دیتے ہین اور دیکھو ادھر رات گزرتی ہے ادھر دن آتا ہے ادھر چاند است ہوتا ہے ادھر سورج ادے ایسے ہی جوانی جاتی ہے اور بڑھاپا اتا ہے اسی طرح کال بیتا چلا جاتا ہے پر یہ دیکھ کر بھی اس منش کو گیان نہین ہوتا دیکھو ست جگ مین ماندھاتا سا راجہ کو کہ جس نے دھرم کے جس سے ساری پرتھوی کو چھادیا تھا اور ترتیا مین سری رامچندر راجہ کہ جن نے سمندر کا پل باندھ لنکا سا گڑھ توڑ راون کو مارا اور دواپر مین جدھسٹر نے ایسا راج کیا کہ جس کا جس ابتک لوگ گاتے ہین پر کال نے انھون کو بھی نہ چھوڑا اور آکاس کے اڑنے والے پخچھی اور سمندر کے رہنے والے جیو سمے پائے وے بھی آفت مین آ پڑتے ہین اس سنسار مین آکے دُکھ سے کوئی نہین چھوٹتا اسکا موہ کرنا برتھا ہے اس سے اتم یہ ہے کہ دھرم کاج کیجۓ اسطرح سے جب بشن شرما نے سمجھایا تب اس برہمن کے جی مین آیا کہ اب پن کاج کیجئے یہ من مین اسنے سوچ اپنے بیٹے سے کہا کہ مین جگ کرنے بیٹھتا ہون تم سمندر سے جا کر کچھوا لے آؤ اسنے باپ کی آگیا پا ایک دھیمر سے جاکر کہا کہ ایک روپیہ لے اور ایک کچھپ پکڑ دے اسنے روپیہ لیا اور کچھّپ پکڑ دیا تب ان مین سے بڑے بھائی نے منجھلے سے کہا تو اٹھا لے اسنے چھوٹے سے کہا بھائی تو اٹھا لے اسنے کہا کہ مین نہ چھوؤنگا میرے ہاتھ مین درگندھ آویگی چھوٹے نے کہا کہ مین بہوجن کرنے مین چتر ہون منجھلا بولا کہ مین ناری رکھنے مین بڑے نے کہا کہ مین سیج پر سونے مین چتر ہون اس طرح تینون بواد کرنے لگے کچھوے کو وہین چھوڑ جھگڑتے ہوئے راجہ کے دوار پر جا دوارپال سے انھون نے کہا کہ تین برہمن فریادی آئے ہین یہ جا کر تو راجہ سے کہہ یہ سُن دربان نے راجہ کو خبر دی راجہ نے بلا کر پوچھا تم کِس واسطے آپس مین جھگڑتے ہو تب ان مین سے چھوٹا بولا کہ مہاراج مین بھوجن کرنے مین چتر ہون<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
qma0nn8gpnflafw0k6o4m0pekpzydy6
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/221
250
13132
32636
32557
2026-05-18T14:22:26Z
Harry sidhuz
157
32636
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>عطر اور جواہِر سے لدی ہوئی بھلا میٹھی نِیند
کے مزے لے سکتی ہیں ۔ ایسا مُمکن نہیں ۔ یِہ
سیتا نہیں ہو سکتیں۔ ہر ایک محل میں انہوں
نے حِسین رانیوں کو مزے سے سوتے پایا۔
کوئی گوشہ ایسا نہ بچا جسے انہوں نے نہ
دیکھا ہو ۔ پر سیتا جی کا کہیں نشان نہیں۔
وہ رنج و غم سے گُھلی ہوئی سیتا کہیں نظر
نہ آئیں ۔ ہنومان کو شُبہہ ہُوا کہیں راون
نے سیتا جی کو مار تو نہیں ڈالا ۔ زندہ ہوئیں
تو کہاں جاتیں -
ہنومان ساری رات اسی حیص حیص بیص میں
پڑے رہے ۔ جب سویرا ہونے لگا اور کوّے
بولنے لگے تو وہ اُسی درخت کی شاخ سے
باہر نکل آئے ۔ مگر اب انہیں کسی ایسی
جگہ کی ضرورت تھی جہاں وُہ دِن بھر چُھپ
سکیں ۔ کل جب وہ یہاں آئے تھے، تو شام
ہو گئی تھی ۔ اندھیرے میں کسی نے انہیں<noinclude></noinclude>
4phpboeb6ym95aqg3syfd2ys6zil3ta