ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.3 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/62 250 12710 32646 30824 2026-05-19T12:40:19Z Charan Gill 46 32646 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{center|'''جانا تینون بھائیون کا واسطے انصاف کے راجہ کے پاس'''}} منجھلے نے کہا پرتھوی ناتھ مین ناری چتر ہون بڑے نے کہا دھرماوتار مین سیج چتر ہون یہ راجہ نے کہا اپنی اپنی پریکشا دو انھون نے کہا بہت اچھا راجہ نے اپنے رسوئیے کو بلا کر کہا کہ بھانت بھانت کے بھوجن اور پکوان بنا اس برہمن کو اچھی طرح بھوجن کراؤ یہ سُن رسوئیے نے جا رسوئی تیار کر اس بھوجن چتر کو لیجا تھال پر بٹھایا چاہے کہ وہ گراس اٹھا مکھ مین دے کہ اس مین درگندھ آئی اسے چھوڑ ہاتھ دھو راجہ کے پاس آیا راجہ نے پوچھا تو نے سکھ سے بھوجن کھیا تب اس نے کہا مہاراج ان مین درگندھ آئی مین نے بھوجن نہ کیا پھر راجہ نے کہا درگندہ کا کارن کہ اس نے کہا مہاراج مرگھٹ کے چاول تھے مردے کی بو اس مین سے آتی تھی اس کارن نہ کھایا یہ سنکر راجہ نے اپنے بھنڈاری کو بلا کر پوچھا اے کِس گاؤن کے چاول تھے اس نے کہا مہاراج شید پور کے راجہ نے کہا وہان کے کِسان کو بلاؤ تب بھنڈاری نے اس گاؤن کے زمیندار کو بلوایا راجہ نے پوچھا کس بھوم کے چاول ہین کہا کہ مہاراج سمشان کے ہین یہ سنکے راجہ نے اس برہمن سے کہا کہ تو سچ بھوجن چتر ہی پھر ناری چتر کو بلوا ایک اچھی استری کو بلوا اس کے پاس رکھوا دیا اور وے دونون آپس مین لپٹکر باتین کرنے لگے راجہ چھپ کے جھروکے سے دیکھنے لگا اور اس برہمن نے چاہا کہ اس کا بوسہ لے اس مین اسکے مکھ کی باس پا مکھ پھیر سو رہا راجہ نے یہ چرتر دیکھ اپنے مندر مین جا آرام کیا بھور کے سے اٹھ دربار مین آ اس برہمن کو بلا کر پوچھا کہ اے برہمن آج کی رات تو نے سکھ سے کاٹی اس نے کہا مہاراج سکھ نہ پایا راجہ نے کہا کِس کارن برہمن نے کہا اسکے منھ سے بکری کی گندھ آتی تھی اس سے میرا جی بہت بیچین رہا یہ سن راجہ نے دلّالہ کو بلا کر پوچھا کہ اسے تو کہان سے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 9x41vq8pchn9avsweef4wn8p7q79x9b 32650 32646 2026-05-20T05:18:18Z BalramBodhi 60 32650 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{center|'''جانا تینون بھائیون کا واسطے انصاف کے راجہ کے پاس'''}} منجھلے نے کہا پرتھوی ناتھ مین ناری چتر ہون بڑے نے کہا دھرماوتار مین سیج چتر ہون یہ سُن راجہ نے کہا اپنی اپنی پریکشا دو انھون نے کہا بہت اچھا راجہ نے اپنے رسوئیے کو بلا کر کہا کہ بھانت بھانت کے بھوجن اور پکوان بنا اس برہمن کو اچھی طرح بھوجن کراؤ یہ سُن رسوئیے نے جا رسوئی تیار کر اس بھوجن چتر کو لیجا تھال پر بٹھایا چاہے کہ وہ گراس اٹھا مکھ مین دے کہ اس مین درگندھ آئی اسے چھوڑ ہاتھ دھو راجہ کے پاس آیا راجہ نے پوچھا تو نے سکھ سے بھوجن کیا تب اس نے کہا مہاراج ان مین درگندھ آئی مین نے بھوجن نہ کیا پھر راجہ نے کہا درگندہ کا کارن کہہ اس نے کہا مہاراج مرگھٹ کے چاول تھے مردے کی بو اس مین سے آتی تھی اس کارن نہ کھایا یہ سنکر راجہ نے اپنے بھنڈاری کو بلا کر پوچھا اے کِس گاؤن کے چاول تھے اس نے کہا مہاراج شید پور کے راجہ نے کہا وہان کے کِسان کو بلاؤ تب بھنڈاری نے اس گاؤن کے زمیندار کو بلوایا راجہ نے پوچھا یہ کس بھوم کے چاول ہین کہا کہ مہاراج سمشان کے ہین یہ سنکے راجہ نے اس برہمن سے کہا کہ تو سچ بھوجن چتر ہی پھر ناری چتر کو بلوا ایک اچھی استری کو بلوا اس کے پاس رکھوا دیا اور وے دونون آپس مین لپٹکر باتین کرنے لگے راجہ چھپ کے جھروکے سے دیکھنے لگا اور اس برہمن نے چاہا کہ اس کا بوسہ لے اس مین اسکے مکھ کی باس پا مکھ پھیر سو رہا راجہ نے یہ چرتر دیکھ اپنے مندر مین جا آرام کیا بھور کے سمے اٹھ دربار مین آ اس برہمن کو بلا کر پوچھا کہ اے برہمن آج کی رات تو نے سکھ سے کاٹی اس نے کہا مہاراج سکھ نہ پایا راجہ نے کہا کِس کارن برہمن نے کہا اسکے منھ سے بکری کی گندھ آتی تھی اِس سے میرا جی بہت بیچین رہا یہ سن راجہ نے دلّالہ کو بلا کر پوچھا کہ اسے تو کہان سے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 9g71arlsavfz9ltf50rlyv7woe4lrpn 32653 32650 2026-05-20T06:30:14Z Taranpreet Goswami 90 /* پروف خوانی شدہ */ 32653 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{center|'''جانا تینون بھائیون کا واسطے انصاف کے راجہ کے پاس'''}} منجھلے نے کہا پرتھوی ناتھ مین ناری چتر ہون بڑے نے کہا دھرماوتار مین سیج چتر ہون یہ سُن راجہ نے کہا اپنی اپنی پریکشا دو انھون نے کہا بہت اچھا راجہ نے اپنے رسوئیے کو بلا کر کہا کہ بھانت بھانت کے بھوجن اور پکوان بنا اس برہمن کو اچھی طرح بھوجن کراؤ یہ سُن رسوئیے نے جا رسوئی تیار کر اس بھوجن چتر کو لیجا تھال پر بٹھایا چاہے کہ وہ گراس اٹھا مکھ مین دے کہ اس مین درگندھ آئی اسے چھوڑ ہاتھ دھو راجہ کے پاس آیا راجہ نے پوچھا تو نے سکھ سے بھوجن کیا تب اس نے کہا مہاراج ان مین درگندھ آئی مین نے بھوجن نہ کیا پھر راجہ نے کہا درگندہ کا کارن کہہ اس نے کہا مہاراج مرگھٹ کے چاول تھے مردے کی بو اس مین سے آتی تھی اس کارن نہ کھایا یہ سنکر راجہ نے اپنے بھنڈاری کو بلا کر پوچھا اے کِس گاؤن کے چاول تھے اس نے کہا مہاراج شید پور کے راجہ نے کہا وہان کے کِسان کو بلاؤ تب بھنڈاری نے اس گاؤن کے زمیندار کو بلوایا راجہ نے پوچھا یہ کس بھوم کے چاول ہین کہا کہ مہاراج سمشان کے ہین یہ سنکے راجہ نے اس برہمن سے کہا کہ تو سچ بھوجن چتر ہی پھر ناری چتر کو بلوا ایک اچھی استری کو بلوا اس کے پاس رکھوا دیا اور وے دونون آپس مین لپٹکر باتین کرنے لگے راجہ چھپ کے جھروکے سے دیکھنے لگا اور اس برہمن نے چاہا کہ اس کا بوسہ لے اس مین اسکے مکھ کی باس پا مکھ پھیر سو رہا راجہ نے یہ چرتر دیکھ اپنے مندر مین جا آرام کیا بھور کے سمے اٹھ دربار مین آ اس برہمن کو بلا کر پوچھا کہ اے برہمن آج کی رات تو نے سکھ سے کاٹی اس نے کہا مہاراج سکھ نہ پایا راجہ نے کہا کِس کارن برہمن نے کہا اسکے منھ سے بکری کی گندھ آتی تھی اِس سے میرا جی بہت بیچین رہا یہ سن راجہ نے دلّالہ کو بلا کر پوچھا کہ اسے تو کہان سے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> dv40nr0eju7wd80j0tb7p7us849sd0t صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/63 250 12711 32647 30827 2026-05-19T18:12:22Z Charan Gill 46 32647 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لائی تھی اور یہ کون ہے اسنے کہا یہ میری بہن کی بیٹی ہے جب تین مہینے کی تھی تب اسکی مان مر گئی مین نے اسے بکری کا دودھ پلا کر پالا ہے یہ سُن راجہ نے کہا سچ تو ناری چتر ہے پھر سیج چتر کو اچھے اچھے بچھونے کروا پلنگ پر سلوایا پر بھات ہوئے اُسے راجہ نے بلا کر پوچھا تو رات بھر سکھ سے سویا اسنے کہا مہاراج رات بھر نیند نہ آئی راجہ نے کہا کس کارن اسنے کہا مہاراج اس سیج کی ساتوین تہ مین دیکھا ایک بال ہے وہ میری پیٹھ مین چبھتا تھا اس سے نیند نہ آئی راجہ نے اس بچھونے کی ساتوین تہ مین دیکھا وہان ایک بال نِکلا تب اس سے کہا کہ سچ تو سیج پتر ہے اتنی بات کہہ بیتال بولان اِن تینون مین کون اتِ چتر ہے راجہ بکرم نے کہا جو سیج چتر ہے یہ سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ بھی وہین جا اسے باندہ کندھے پر رکھ لیچلا۔ {{Block center|'''چوبیسوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ کھنگ دیس مین ایک جگسرا نام بربین نیکی استری کا نام سوم دتا تھا اک روپے دتی تھی وہ بر من جگ کرنے لگا اتنے مین اس استری کے ایک لڑکا ہوا جب وہ پانچ برس کا جواب باپ اس کا شاستر پڑھانے لگا بارہ برس کی عمرمین وہ سب سر رہ کر یا پنڈت ہوا ادر سلا اپنے باپ کی سیوا مین رہنے لگا کتنے ایک دنون بیتے وہ لڑکاھو گیا اسکے سوگ سے اتا پتا چلا چلا رونے لگے مرجانا جگر بابر میمن کے لڑکے کا اور اسکا منع کہنے کے جلا نیکو سجانا اور دریا کنارے جوگی کا نیشا کرتے لینا یہ خبر پا سارے کٹب کے لوگ دھائے اس لڑکے کوار تھی بین باند مشان مین لیگئے اور وہان جا دیکھا آپس مین کہنے لگے کہ دیکھو موٹے پر بھی سند لگتا ہو اسی طرح سے باتین کرتے تھے اور چیتا چنتے تھے کہ ہان ایک جوگی بھی پیش کر رہا تھا یہ بات شن وہ اپنے جی بین بچار نے لگا کہ میرا شریات بردھ ہو جو اس لڑکے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> t9cyr3joctxiqesk43at9htu7lywqss 32648 32647 2026-05-20T04:33:03Z Taranpreet Goswami 90 32648 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لائی تھی اور یہ کون ہے اسنے کہا یہ میری بہن کی بیٹی ہے جب تین مہینے کی تھی تب اسکی مان مر گئی مین نے اسے بکری کا دودھ پلا کر پالا ہے یہ سُن راجہ نے کہا سچ تو ناری چتر ہے پھر سیج چتر کو اچھے اچھے بچھونے کروا پلنگ پر سلوایا پر بھات ہوئے اُسے راجہ نے بلا کر پوچھا تو رات بھر سکھ سے سویا اسنے کہا مہاراج رات بھر نیند نہ آئی راجہ نے کہا کس کارن اسنے کہا مہاراج اس سیج کی ساتوین تہ مین دیکھا ایک بال ہے وہ میری پیٹھ مین چبھتا تھا اس سے نیند نہ آئی راجہ نے اس بچھونے کی ساتوین تہ مین دیکھا وہان ایک بال نِکلا تب اس سے کہا کہ سچ تو سیج پتر ہے اتنی بات کہہ بیتال بولان اِن تینون مین کون اتِ چتر ہے راجہ بکرم نے کہا جو سیج چتر ہے یہ سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ بھی وہین جا اسے باندہ کندھے پر رکھ لیچلا۔ {{Block center|'''چوبیسوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ کلنگ دیس مین ایک جگسرما نام برہمن تِسکی استری کا نام سوم دتا تھا اتِ روپ وتی تھی وہ برہمن جگ کرنے لگا اتنے مین اس استری کے ایک لڑکا ہوا جب وہ پانچ برس کا ہوا تب باپ اس کا شاستر پڑھانے لگا بارہ برس کی عمر مین وہ سب شاستر پڑھ کر بڑا پنڈت ہوا اور سدا اپنے باپ کی سیوا مین رہنے لگا کتنے ایک دنون بیتے وہ لڑکا مر گیا اسکے سوگ سے ماتا پتا چلّا چلا رونے لگے {{Block center|'''مرجانا جگسرما برہمن کے لڑکے کا اور اسکا میع کنبے کے جلانیکو لیجانا اور دریا کنارے'''</br> '''جوگی کا تپشیا کرتے مِلنا'''}} یہ خبر پا سارے کٹمب کے لوگ دھائے اس لڑکے کو ارتھی بین باندھ سمشان مین لیگئے اور وہان جا دیکھ آپس مین کہنے لگے کہ دیکہو موۓ پر بھی سندر لگتا ہے اسی طرح سے باتین کرتے تھے اور چتا چنتے تھے کہ وہان ایک جوگی بھی تپشیا کر رہا تھا یہ بات سُن وہ اپنے جی مین بچارنے لگا کہ میرا شریر اتِ بردھ ہوا جو اس لڑکے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> cc5tazrlski2lnhm81dy62mopkpgqg2 32649 32648 2026-05-20T04:33:56Z Taranpreet Goswami 90 32649 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لائی تھی اور یہ کون ہے اسنے کہا یہ میری بہن کی بیٹی ہے جب تین مہینے کی تھی تب اسکی مان مر گئی مین نے اسے بکری کا دودھ پلا کر پالا ہے یہ سُن راجہ نے کہا سچ تو ناری چتر ہے پھر سیج چتر کو اچھے اچھے بچھونے کروا پلنگ پر سلوایا پر بھات ہوئے اُسے راجہ نے بلا کر پوچھا تو رات بھر سکھ سے سویا اسنے کہا مہاراج رات بھر نیند نہ آئی راجہ نے کہا کس کارن اسنے کہا مہاراج اس سیج کی ساتوین تہ مین دیکھا ایک بال ہے وہ میری پیٹھ مین چبھتا تھا اس سے نیند نہ آئی راجہ نے اس بچھونے کی ساتوین تہ مین دیکھا وہان ایک بال نِکلا تب اس سے کہا کہ سچ تو سیج پتر ہے اتنی بات کہہ بیتال بولان اِن تینون مین کون اتِ چتر ہے راجہ بکرم نے کہا جو سیج چتر ہے یہ سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ بھی وہین جا اسے باندہ کندھے پر رکھ لیچلا۔ {{Block center|'''چوبیسوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ کلنگ دیس مین ایک جگسرما نام برہمن تِسکی استری کا نام سوم دتا تھا اتِ روپ وتی تھی وہ برہمن جگ کرنے لگا اتنے مین اس استری کے ایک لڑکا ہوا جب وہ پانچ برس کا ہوا تب باپ اس کا شاستر پڑھانے لگا بارہ برس کی عمر مین وہ سب شاستر پڑھ کر بڑا پنڈت ہوا اور سدا اپنے باپ کی سیوا مین رہنے لگا کتنے ایک دنون بیتے وہ لڑکا مر گیا اسکے سوگ سے ماتا پتا چلّا چلا رونے لگے {{center|'''مرجانا جگسرما برہمن کے لڑکے کا اور اسکا میع کنبے کے جلانیکو لیجانا اور دریا کنارے'''</br> '''جوگی کا تپشیا کرتے مِلنا'''}} یہ خبر پا سارے کٹمب کے لوگ دھائے اس لڑکے کو ارتھی بین باندھ سمشان مین لیگئے اور وہان جا دیکھ آپس مین کہنے لگے کہ دیکہو موۓ پر بھی سندر لگتا ہے اسی طرح سے باتین کرتے تھے اور چتا چنتے تھے کہ وہان ایک جوگی بھی تپشیا کر رہا تھا یہ بات سُن وہ اپنے جی مین بچارنے لگا کہ میرا شریر اتِ بردھ ہوا جو اس لڑکے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 0t5omk6bapjt3ecgpkhk99mvifz8s7z 32651 32649 2026-05-20T05:38:26Z BalramBodhi 60 32651 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لائی تھی اور یہ کون ہے اسنے کہا یہ میری بہن کی بیٹی ہے جب تین مہینے کی تھی تب اسکی مان مر گئی مین نے اسے بکری کا دودھ پلا کر پالا ہے یہ سُن راجہ نے کہا سچ تو ناری چتر ہے پھر سیج چتر کو اچھے اچھے بچھونے کروا پلنگ پر سلوایا پربھات ہوئے اُسے راجہ نے بلا کر پوچھا تو رات بھر سکھ سے سویا اسنے کہا مہاراج رات بھر نیند نہ آئی راجہ نے کہا کس کارن اسنے کہا مہاراج اس سیج کی ساتوین تہ مین دیکھ ایک بال ہے وہ میری پیٹھ مین چبھتا تھا اس سے نیند نہ آئی راجہ نے اس بچھونے کی ساتوین تہ مین دیکھا وہان ایک بال نِکلا تب اس سے کہا کہ سچ تو سیج چتُر ہے اتنی بات کہہ بیتال بولان اِن تینون مین کون اتِ چتُر ہے راجہ بکرم نے کہا جو سیج چتر ہے یہ سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ بھی وہین جا اسے باندہ کندھے پر رکھ لیچلا۔ {{Block center|'''چوبیسوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ کلنگ دیس مین ایک جگسرما نام برہمن تِسکی استری کا نام سوم دتا تھا اتِ روپ وتی تھی وہ برہمن جگ کرنے لگا اتنے مین اس اِستری کے ایک لڑکا ہوا جب وہ پانچ برس کا ہوا تب باپ اس کا شاستر پڑھانے لگا بارہ برس کی عمر مین وہ سب شاستر پڑھ کر بڑا پنڈت ہوا اور سدا اپنے باپ کی سیوا مین رہنے لگا کتنے ایک دنون بیتے وہ لڑکا مر گیا اسکے سوگ سے ماتا پتا چلّا چلا رونے لگے {{center|'''مرجانا جگسرما برہمن کے لڑکے کا اور اسکا میع کنبے کے جلانیکو لیجانا اور دریا کنارے'''</br> '''جوگی کا تپشیا کرتے مِلنا'''}} یہ خبر پا سارے کٹمب کے لوگ دھائے اس لڑکے کو ارتھی مین باندھ سمشان مین لیگئے اور وہان جا دیکھ آپس مین کہنے لگے کہ دیکہو موۓ پر بھی سندر لگتا ہے اسی طرح سے باتین کرتے تھے اور چتا چنتے تھے کہ وہان ایک جوگی بھی تپشیا کر رہا تھا یہ بات سُن وہ اپنے جی مین بچارنے لگا کہ میرا شریر اتِ بردھ ہوا جو اس لڑکے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 4llljvf7n9yf7pdgi2xnpumschzrwjl 32654 32651 2026-05-20T06:37:11Z Taranpreet Goswami 90 /* پروف خوانی شدہ */ 32654 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لائی تھی اور یہ کون ہے اسنے کہا یہ میری بہن کی بیٹی ہے جب تین مہینے کی تھی تب اسکی مان مر گئی مین نے اسے بکری کا دودھ پلا کر پالا ہے یہ سُن راجہ نے کہا سچ تو ناری چتر ہے پھر سیج چتر کو اچھے اچھے بچھونے کروا پلنگ پر سلوایا پربھات ہوئے اُسے راجہ نے بلا کر پوچھا تو رات بھر سکھ سے سویا اسنے کہا مہاراج رات بھر نیند نہ آئی راجہ نے کہا کس کارن اسنے کہا مہاراج اس سیج کی ساتوین تہ مین دیکھ ایک بال ہے وہ میری پیٹھ مین چبھتا تھا اس سے نیند نہ آئی راجہ نے اس بچھونے کی ساتوین تہ مین دیکھا وہان ایک بال نِکلا تب اس سے کہا کہ سچ تو سیج چتُر ہے اتنی بات کہہ بیتال بولان اِن تینون مین کون اتِ چتُر ہے راجہ بکرم نے کہا جو سیج چتر ہے یہ سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ بھی وہین جا اسے باندہ کندھے پر رکھ لیچلا۔ {{Block center|'''چوبیسوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ کلنگ دیس مین ایک جگسرما نام برہمن تِسکی استری کا نام سوم دتا تھا اتِ روپ وتی تھی وہ برہمن جگ کرنے لگا اتنے مین اس اِستری کے ایک لڑکا ہوا جب وہ پانچ برس کا ہوا تب باپ اس کا شاستر پڑھانے لگا بارہ برس کی عمر مین وہ سب شاستر پڑھ کر بڑا پنڈت ہوا اور سدا اپنے باپ کی سیوا مین رہنے لگا کتنے ایک دنون بیتے وہ لڑکا مر گیا اسکے سوگ سے ماتا پتا چلّا چلا رونے لگے {{center|'''مرجانا جگسرما برہمن کے لڑکے کا اور اسکا میع کنبے کے جلانیکو لیجانا اور دریا کنارے'''</br> '''جوگی کا تپشیا کرتے مِلنا'''}} یہ خبر پا سارے کٹمب کے لوگ دھائے اس لڑکے کو ارتھی مین باندھ سمشان مین لیگئے اور وہان جا دیکھ آپس مین کہنے لگے کہ دیکہو موۓ پر بھی سندر لگتا ہے اسی طرح سے باتین کرتے تھے اور چتا چنتے تھے کہ وہان ایک جوگی بھی تپشیا کر رہا تھا یہ بات سُن وہ اپنے جی مین بچارنے لگا کہ میرا شریر اتِ بردھ ہوا جو اس لڑکے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> bcmuy9ghvgnocxga262keg69xbighpu صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/64 250 12712 32652 32492 2026-05-20T06:05:23Z Taranpreet Goswami 90 32652 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|۶۳}}</noinclude>کے سریر مین بیٹھوں تو سُکھ سے جوگ کرون یہ سوچ کر اس لڑکے کے شریر مین آکر وٹ لے رام کرشن کہہ ایسا اُٹھ بیٹھا جسے کوئی سوتے سے اٹھ بیٹھے یہ دیکھ تمام لوگ اچنبھے میں ہو اپنے گر آئے اور اسکے باپ کو یہ اچرج دیکھ بیراگ ہوا تو پہلے ہنسا اور پچھے رویانی کتھا کہ میاں ہوا اور راجہ گرم در کیوں پہنتا اور کیوں کیا تب راجہ نے کہا جوگی کو اسکے شریرمیں جاتے دیکھا دریہ بریا سیلک کر نا اور اپنے شہر کے چھوٹنے کی ہو ہو رہا کہ ایک بیٹی مجھے بھی اپنا ر ر چھوتا ہر بین بال پھر سی درخت پر انکا اور راجہ بھی پینے کا دھی پر کہ سیچلا۔ انچوین کراتی ] بیتال بولا اے راجہ کشن و شامین دھرم پور نگر ہو وہ ان کے راجہ کا نام بابل تھا ایک سے اس دیس کا دوسرا سمعنا ناچار ہمورات کے وقت رانی کو بیٹی سمیت ساتھ سے جنگل میں پھیل گیا جب کئی ایک کوس بن میں پہونچا تو پر بھات ہوا اور ایک گائوں نظر آیات رانی اور راج کنیا کو ایک پیڑ تلے سیٹھلا آپ کانون کی طرف کھانے کا سامان لینے کوچلا تھاکہ اتنے میں پہیلیوں نے گھر اور کہا ہتھیار ڈال دی یہ شکر راجہ نے تیر مارنا شروع کیا اور ادھر سے انھوں نے پہلاج ایک پر لڑائی رہی اور کتنے ایک لوک میلیون کے ہار گئے اپنے ین ایک تیر راجہ کے کیال میں ایسا نگا ہ تھا اریٹیریا اور ایک نے راجہ کا سر کاٹ لیا جب پرانی اور رانا نے راجہ کو ملا دیکھا اور ونی بینی الی بن کو چلین اس طرح سر کوس دو کوس چل باندی ہو کر ٹھین اور انیک انیک بھانت کی چنتا کرنے لگیں اتنے میں چند سین نام راجا در اسکا بیٹا دونوں شکار کھیلتے ہوئے جنگل مین آنکلے اور دونون کے پانوں چندہ دیکھ راجہ نے اپنے پیر سے کہا کہ اس مہابن میں آدمی کے بانون کے نشان کہان سے آئے راج پیر نے کہا ماراج یہ چرن استری کے بین پرش کا پاکنون ایسا بھونین ہو تا راجہ نے کہا سچ ہوا ایسا کو مل چرن پرش کا نہیں ہوتا پھر اج تیر نے کہا اسی سے گئی ہیں راجہ نے کہا چلواس بن مین ڈھونڈھین جولین توجس کایہ بڑا پائون ہو سو مجھے دودن گا اور دوسری میں لوں گا سیٹ نہیں کچن بند ہو آگے جا دیکھیں تو دونوں بیٹھی ہوئی ہیں انھیں دیکھ خوش ہو موافق قرار کے اپنے اپنے گھر کے پانی کو راجکمارنے رکھا اور راج کیا کو راجہ نے اتنی کتھاکہ متال بولا او راجہ کوم ان دونوں کے آئے میر ان دونوں لڑکوں کا آپس مین کیانا تا ہو گا ی سن را جل گیان ہوچپ ہورہاپھر خیال خوش ہو بولا اے راجہ بکر میں تیری بترا اور انہیں دیکھات پرشن ہوا پر ایک بت میں مجھ سر کہتا ہوں سو اوشن کہ جسکے شریر کے دو متمان انٹو کے اور نیند کا کھرسی اور نامرات نہیں ہو تیری نگرمی آیا ہواور مجھ سے میرے لیے کوبھیجا اوراپ بیٹھا ر گھٹ میں بہت جگا رہاہواور تجھے پر چاہتا ہوا لے میں اتار دیتا ہوں کہ نہ ہو ا کرنے کا تجھے کیا ا ایران<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> do55xudt05r8zggmdq38q94xyd1vnw0 32655 32652 2026-05-20T08:08:34Z Kaur.gurmel 74 32655 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|۶۳}}</noinclude>کے سریر مین بیٹھوں تو سُکھ سے جوگ کرون یہ سوچ کر اس لڑکے کے شریر مین آکر وٹ لے رام کرشن کہہ ایسا اُٹھ بیٹھا جسے کوئی سوتے سے اٹھ بیٹھے یہ دیکھ تمام لوگ اچنبھے میں ہو اپنے گر آئے اور اسکے باپ کو یہ اچرج دیکھ بیراگ ہوا تو پہلے ہنسا اور پچھے رویا یتنی کتھا کہہ بیتاں بولا اے راجہ بکرم وہ کیوں پہنتا اور کیوں کیا تب راجہ نے کہا جوگی کو اسکے شریرمیں جاتے دیکھ اور یہ بدّیا سیکھ کر ہنسا اور اپنے شریر کے چھوٹنے کی موہ سے روہا کہ ایک دن اسطرح مجھے بھی اپنا شریر چھوڑتا ہے یہ سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی پیچھے کاندھے پر رکھ لیچلا۔ {{center|'''پچّیسوین کراتی'''}} بیتال بولا اے راجہ کشن و شامین دھرم پور نگر ہو وہ ان کے راجہ کا نام بابل تھا ایک سے اس دیس کا دوسرا سمعنا ناچار ہمورات کے وقت رانی کو بیٹی سمیت ساتھ سے جنگل میں پھیل گیا جب کئی ایک کوس بن میں پہونچا تو پر بھات ہوا اور ایک گائوں نظر آیات رانی اور راج کنیا کو ایک پیڑ تلے سیٹھلا آپ کانون کی طرف کھانے کا سامان لینے کوچلا تھاکہ اتنے میں پہیلیوں نے گھر اور کہا ہتھیار ڈال دی یہ شکر راجہ نے تیر مارنا شروع کیا اور ادھر سے انھوں نے پہلاج ایک پر لڑائی رہی اور کتنے ایک لوک میلیون کے ہار گئے اپنے ین ایک تیر راجہ کے کیال میں ایسا نگا ہ تھا اریٹیریا اور ایک نے راجہ کا سر کاٹ لیا جب پرانی اور رانا نے راجہ کو ملا دیکھا اور ونی بینی الی بن کو چلین اس طرح سر کوس دو کوس چل باندی ہو کر ٹھین اور انیک انیک بھانت کی چنتا کرنے لگیں اتنے میں چند سین نام راجا در اسکا بیٹا دونوں شکار کھیلتے ہوئے جنگل مین آنکلے اور دونون کے پانوں چندہ دیکھ راجہ نے اپنے پیر سے کہا کہ اس مہابن میں آدمی کے بانون کے نشان کہان سے آئے راج پیر نے کہا ماراج یہ چرن استری کے بین پرش کا پاکنون ایسا بھونین ہو تا راجہ نے کہا سچ ہوا ایسا کو مل چرن پرش کا نہیں ہوتا پھر اج تیر نے کہا اسی سے گئی ہیں راجہ نے کہا چلواس بن مین ڈھونڈھین جولین توجس کایہ بڑا پائون ہو سو مجھے دودن گا اور دوسری میں لوں گا سیٹ نہیں کچن بند ہو آگے جا دیکھیں تو دونوں بیٹھی ہوئی ہیں انھیں دیکھ خوش ہو موافق قرار کے اپنے اپنے گھر کے پانی کو راجکمارنے رکھا اور راج کیا کو راجہ نے اتنی کتھاکہ متال بولا او راجہ کوم ان دونوں کے آئے میر ان دونوں لڑکوں کا آپس مین کیانا تا ہو گا ی سن را جل گیان ہوچپ ہورہاپھر خیال خوش ہو بولا اے راجہ بکر میں تیری بترا اور انہیں دیکھات پرشن ہوا پر ایک بت میں مجھ سر کہتا ہوں سو اوشن کہ جسکے شریر کے دو متمان انٹو کے اور نیند کا کھرسی اور نامرات نہیں ہو تیری نگرمی آیا ہواور مجھ سے میرے لیے کوبھیجا اوراپ بیٹھا ر گھٹ میں بہت جگا رہاہواور تجھے پر چاہتا ہوا لے میں اتار دیتا ہوں کہ نہ ہو ا کرنے کا تجھے کیا ا ایران<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> qp4ttr49eb97c3yqt8nz9fi3buity38 32656 32655 2026-05-20T08:52:40Z Charan Gill 46 32656 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|۶۳}}</noinclude>کے سریر مین بیٹھوں تو سُکھ سے جوگ کرون یہ سوچ کر اس لڑکے کے شریر مین آکر وٹ لے رام کرشن کہہ ایسا اُٹھ بیٹھا جسے کوئی سوتے سے اٹھ بیٹھے یہ دیکھ تمام لوگ اچنبھے میں ہو اپنے گر آئے اور اسکے باپ کو یہ اچرج دیکھ بیراگ ہوا تو پہلے ہنسا اور پچھے رویا یتنی کتھا کہہ بیتاں بولا اے راجہ بکرم وہ کیوں پہنتا اور کیوں کیا تب راجہ نے کہا جوگی کو اسکے شریرمیں جاتے دیکھ اور یہ بدّیا سیکھ کر ہنسا اور اپنے شریر کے چھوٹنے کی موہ سے روہا کہ ایک دن اسطرح مجھے بھی اپنا شریر چھوڑتا ہے یہ سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی پیچھے کاندھے پر رکھ لیچلا۔ {{center|'''پچّیسوین کراتی'''}} بیتال بولا اے راجہ دکشن دشا مین دھرم پور نگر ہے وہان کے راجہ کا نام مہابل تھا ایک سمے اس دیس کا دوسرا راچا ر ہمورات کے وقت رانی کو بیٹی سمیت ساتھ سے جنگل میں پھیل گیا جب کئی ایک کوس بن میں پہونچا تو پر بھات ہوا اور ایک گائوں نظر آیات رانی اور راج کنیا کو ایک پیڑ تلے سیٹھلا آپ کانون کی طرف کھانے کا سامان لینے کوچلا تھاکہ اتنے میں پہیلیوں نے گھر اور کہا ہتھیار ڈال دی یہ شکر راجہ نے تیر مارنا شروع کیا اور ادھر سے انھوں نے پہلاج ایک پر لڑائی رہی اور کتنے ایک لوک میلیون کے ہار گئے اپنے ین ایک تیر راجہ کے کیال میں ایسا نگا ہ تھا اریٹیریا اور ایک نے راجہ کا سر کاٹ لیا جب پرانی اور رانا نے راجہ کو ملا دیکھا اور ونی بینی الی بن کو چلین اس طرح سر کوس دو کوس چل باندی ہو کر ٹھین اور انیک انیک بھانت کی چنتا کرنے لگیں اتنے میں چند سین نام راجا در اسکا بیٹا دونوں شکار کھیلتے ہوئے جنگل مین آنکلے اور دونون کے پانوں چندہ دیکھ راجہ نے اپنے پیر سے کہا کہ اس مہابن میں آدمی کے بانون کے نشان کہان سے آئے راج پیر نے کہا ماراج یہ چرن استری کے بین پرش کا پاکنون ایسا بھونین ہو تا راجہ نے کہا سچ ہوا ایسا کو مل چرن پرش کا نہیں ہوتا پھر اج تیر نے کہا اسی سے گئی ہیں راجہ نے کہا چلواس بن مین ڈھونڈھین جولین توجس کایہ بڑا پائون ہو سو مجھے دودن گا اور دوسری میں لوں گا سیٹ نہیں کچن بند ہو آگے جا دیکھیں تو دونوں بیٹھی ہوئی ہیں انھیں دیکھ خوش ہو موافق قرار کے اپنے اپنے گھر کے پانی کو راجکمارنے رکھا اور راج کیا کو راجہ نے اتنی کتھاکہ متال بولا او راجہ کوم ان دونوں کے آئے میر ان دونوں لڑکوں کا آپس مین کیانا تا ہو گا ی سن را جل گیان ہوچپ ہورہاپھر خیال خوش ہو بولا اے راجہ بکر میں تیری بترا اور انہیں دیکھات پرشن ہوا پر ایک بت میں مجھ سر کہتا ہوں سو اوشن کہ جسکے شریر کے دو متمان انٹو کے اور نیند کا کھرسی اور نامرات نہیں ہو تیری نگرمی آیا ہواور مجھ سے میرے لیے کوبھیجا اوراپ بیٹھا ر گھٹ میں بہت جگا رہاہواور تجھے پر چاہتا ہوا لے میں اتار دیتا ہوں کہ نہ ہو ا کرنے کا تجھے کیا ا ایران<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 7iz7ci9dv3hgxnsv1r0q1zrzu1zzl6l