ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.3 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/64 250 12712 32657 32656 2026-05-20T13:37:23Z Charan Gill 46 32657 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|۶۳}}</noinclude>کے سریر مین بیٹھون تو سُکھ سے جوگ کرون یہ سوچ کر اس لڑکے کے شریر مین آکر وٹ لے رام کرشن کہہ ایسا اُٹھ بیٹھا جسے کوئی سوتے سے اٹھ بیٹھے یہ دیکھ تمام لوگ اچنبھے مین ہو اپنے گر آئے اور اسکے باپ کو یہ اچرج دیکھ بیراگ ہوا تو پہلے ہنسا اور پچھے رویا یتنی کتھا کہہ بیتان بولا اے راجہ بکرم وہ کیون پہنتا اور کیون کیا تب راجہ نے کہا جوگی کو اسکے شریرمین جاتے دیکھ اور یہ بدّیا سیکھ کر ہنسا اور اپنے شریر کے چھوٹنے کی موہ سے روہا کہ ایک دن اسطرح مجھے بھی اپنا شریر چھوڑتا ہے یہ سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی پیچھے کاندھے پر رکھ لیچلا۔ {{center|'''پچّیسوین کراتی'''}} بیتال بولا اے راجہ دکشن دشا مین دھرم پور نگر ہے وہان کے راجہ کا نام مہابل تھا ایک سمے اس دیس کا دوسرا راچہ فوج لے چڑھ آیا اسکا نگر آن گھیرا کتنے ایک دنون لڑتا رہا جب سینا اسکی دشمنوں سے مل گئی اور کچھ کٹ گئی تب ناچار ہو رات کے وقت رانی کو بیٹی سمیت ساتھ لے جنگل مین نِکل گیا جب کئی ایک کوس بن مین پہونچا تو پربھات ہوا اور ایک گائون نظر آیا تب رانی اور راج کنیا کو ایک پیڑ تلے بیٹھلا آپ گانون کی طرف کھانے کا سامان لینے کو چلا تھا کہ اتنے مین بہیلیون نے آن گیھرا اور کہا ہتھیار ڈال دے یہ شنکر راجہ نے تیر مارنا شروع کیا اور ادھر سے انھون نے پہلاج ایک پر لڑائی رہی اور کتنے ایک لوک میلیون کے ہار گئے اپنے ین ایک تیر راجہ کے کیال مین ایسا نگا ہ تھا اریٹیریا اور ایک نے راجہ کا سر کاٹ لیا جب پرانی اور رانا نے راجہ کو ملا دیکھا اور ونی بینی الی بن کو چلین اس طرح سر کوس دو کوس چل باندی ہو کر ٹھین اور انیک انیک بھانت کی چنتا کرنے لگین اتنے مین چند سین نام راجا در اسکا بیٹا دونون شکار کھیلتے ہوئے جنگل مین آنکلے اور دونون کے پانون چندہ دیکھ راجہ نے اپنے پیر سے کہا کہ اس مہابن مین آدمی کے بانون کے نشان کہان سے آئے راج پیر نے کہا ماراج یہ چرن استری کے بین پرش کا پاکنون ایسا بھونین ہو تا راجہ نے کہا سچ ہوا ایسا کو مل چرن پرش کا نہین ہوتا پھر اج تیر نے کہا اسی سے گئی ہین راجہ نے کہا چلواس بن مین ڈھونڈھین جولین توجس کایہ بڑا پائون ہو سو مجھے دودن گا اور دوسری مین لون گا سیٹ نہین کچن بند ہو آگے جا دیکھین تو دونون بیٹھی ہوئی ہین انھین دیکھ خوش ہو موافق قرار کے اپنے اپنے گھر کے پانی کو راجکمارنے رکھا اور راج کیا کو راجہ نے اتنی کتھاکہ متال بولا او راجہ کوم ان دونون کے آئے میر ان دونون لڑکون کا آپس مین کیانا تا ہو گا ی سن را جل گیان ہوچپ ہورہاپھر خیال خوش ہو بولا اے راجہ بکر مین تیری بترا اور انہین دیکھات پرشن ہوا پر ایک بت مین مجھ سر کہتا ہون سو اوشن کہ جسکے شریر کے دو متمان انٹو کے اور نیند کا کھرسی اور نامرات نہین ہو تیری نگرمی آیا ہواور مجھ سے میرے لیے کوبھیجا اوراپ بیٹھا ر گھٹ مین بہت جگا رہاہواور تجھے پر چاہتا ہوا لے مین اتار دیتا ہون کہ نہ ہو ا کرنے کا تجھے کیا ا ایران<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 5h607meaafur7j5sk9a66ex7n8iqq4l 32658 32657 2026-05-20T14:58:54Z Charan Gill 46 32658 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|۶۳}}</noinclude>کے سریر مین بیٹھون تو سُکھ سے جوگ کرون یہ سوچ کر اس لڑکے کے شریر مین آکر وٹ لے رام کرشن کہہ ایسا اُٹھ بیٹھا جسے کوئی سوتے سے اٹھ بیٹھے یہ دیکھ تمام لوگ اچنبھے مین ہو اپنے گر آئے اور اسکے باپ کو یہ اچرج دیکھ بیراگ ہوا تو پہلے ہنسا اور پچھے رویا یتنی کتھا کہہ بیتان بولا اے راجہ بکرم وہ کیون پہنتا اور کیون کیا تب راجہ نے کہا جوگی کو اسکے شریرمین جاتے دیکھ اور یہ بدّیا سیکھ کر ہنسا اور اپنے شریر کے چھوٹنے کی موہ سے روہا کہ ایک دن اسطرح مجھے بھی اپنا شریر چھوڑتا ہے یہ سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی پیچھے کاندھے پر رکھ لیچلا۔ {{center|'''پچّیسوین کراتی'''}} بیتال بولا اے راجہ دکشن دشا مین دھرم پور نگر ہے وہان کے راجہ کا نام مہابل تھا ایک سمے اس دیس کا دوسرا راچہ فوج لے چڑھ آیا اسکا نگر آن گھیرا کتنے ایک دنون لڑتا رہا جب سینا اسکی دشمنوں سے مل گئی اور کچھ کٹ گئی تب ناچار ہو رات کے وقت رانی کو بیٹی سمیت ساتھ لے جنگل مین نِکل گیا جب کئی ایک کوس بن مین پہونچا تو پربھات ہوا اور ایک گائون نظر آیا تب رانی اور راج کنیا کو ایک پیڑ تلے بیٹھلا آپ گانون کی طرف کھانے کا سامان لینے کو چلا تھا کہ اتنے مین بہیلیون نے آن گیھرا اور کہا ہتھیار ڈال دے یہ شنکر راجہ نے تیر مارنا شروع کیا اور ادھر سے انھون نے اسطرح ایک پہر لڑائی رہی اور کتنے ایک لوک بہیلیون کے ہارے گئے اتنے مین ایک تیر راجہ کے کپال مین ایسا لگا کہ تھرا کر گر پڈا اور ایک نے راجہ کا سر کاٹ لیا جب رانی اور راج کنیا نے راجہ کو موا دیکھا اور روتی پیٹتی الٹی بن کو چلین اس طرح سے کوس دو کوس چل ماندی ہو کر بیٹھین اور انیک انیک بھانت کی چنتا کرنے لگین اتنے مین چندر سین نام راجا اور اسکا بیٹا دونون شکار کھیلتے ہوئے جنگل مین آنکلے اور دونون کے پانون چینھ دیکھ راجہ نے اپنے پتر سے کہا کہ اس مہابن مین آدمی کے پانون کے نشان کہان سے آئے راج پتر نے کہا مہاراج یہ چرن استری کے ہین پرش کا پانون ایسا بھو نہین ہوتا راجہ نے کہا سچ ہوا ایسا کومل چرن پرش کا نہین ہوتا پھر راج تتر نے کہا اسی سے گئی ہین راجہ نے کہا چلواس بن مین ڈھونڈھین جولین توجس کایہ بڑا پائون ہو سو مجھے دودن گا اور دوسری مین لون گا سیٹ نہین کچن بند ہو آگے جا دیکھین تو دونون بیٹھی ہوئی ہین انھین دیکھ خوش ہو موافق قرار کے اپنے اپنے گھر کے پانی کو راجکمارنے رکھا اور راج کیا کو راجہ نے اتنی کتھاکہ متال بولا او راجہ کوم ان دونون کے آئے میر ان دونون لڑکون کا آپس مین کیانا تا ہو گا ی سن را جل گیان ہوچپ ہورہاپھر خیال خوش ہو بولا اے راجہ بکر مین تیری بترا اور انہین دیکھات پرشن ہوا پر ایک بت مین مجھ سر کہتا ہون سو اوشن کہ جسکے شریر کے دو متمان انٹو کے اور نیند کا کھرسی اور نامرات نہین ہو تیری نگرمی آیا ہواور مجھ سے میرے لیے کوبھیجا اوراپ بیٹھا ر گھٹ مین بہت جگا رہاہواور تجھے پر چاہتا ہوا لے مین اتار دیتا ہون کہ نہ ہو ا کرنے کا تجھے کیا ا ایران<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 1dymlh8p2pvgcn93kkzzjyg9qx24gnb 32663 32658 2026-05-21T01:09:40Z Charan Gill 46 32663 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|۶۳}}</noinclude>کے سریر مین بیٹھون تو سُکھ سے جوگ کرون یہ سوچ کر اس لڑکے کے شریر مین آکر وٹ لے رام کرشن کہہ ایسا اُٹھ بیٹھا جسے کوئی سوتے سے اٹھ بیٹھے یہ دیکھ تمام لوگ اچنبھے مین ہو اپنے گر آئے اور اسکے باپ کو یہ اچرج دیکھ بیراگ ہوا تو پہلے ہنسا اور پچھے رویا یتنی کتھا کہہ بیتان بولا اے راجہ بکرم وہ کیون پہنتا اور کیون کیا تب راجہ نے کہا جوگی کو اسکے شریرمین جاتے دیکھ اور یہ بدّیا سیکھ کر ہنسا اور اپنے شریر کے چھوٹنے کی موہ سے روہا کہ ایک دن اسطرح مجھے بھی اپنا شریر چھوڑتا ہے یہ سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی پیچھے کاندھے پر رکھ لیچلا۔ {{center|'''پچّیسوین کراتی'''}} بیتال بولا اے راجہ دکشن دشا مین دھرم پور نگر ہے وہان کے راجہ کا نام مہابل تھا ایک سمے اس دیس کا دوسرا راچہ فوج لے چڑھ آیا اسکا نگر آن گھیرا کتنے ایک دنون لڑتا رہا جب سینا اسکی دشمنوں سے مل گئی اور کچھ کٹ گئی تب ناچار ہو رات کے وقت رانی کو بیٹی سمیت ساتھ لے جنگل مین نِکل گیا جب کئی ایک کوس بن مین پہونچا تو پربھات ہوا اور ایک گائون نظر آیا تب رانی اور راج کنیا کو ایک پیڑ تلے بیٹھلا آپ گانون کی طرف کھانے کا سامان لینے کو چلا تھا کہ اتنے مین بہیلیون نے آن گیھرا اور کہا ہتھیار ڈال دے یہ شنکر راجہ نے تیر مارنا شروع کیا اور ادھر سے انھون نے اسطرح ایک پہر لڑائی رہی اور کتنے ایک لوک بہیلیون کے ہارے گئے اتنے مین ایک تیر راجہ کے کپال مین ایسا لگا کہ تھرا کر گر پڈا اور ایک نے راجہ کا سر کاٹ لیا جب رانی اور راج کنیا نے راجہ کو موا دیکھا اور روتی پیٹتی الٹی بن کو چلین اس طرح سے کوس دو کوس چل ماندی ہو کر بیٹھین اور انیک انیک بھانت کی چنتا کرنے لگین اتنے مین چندر سین نام راجا اور اسکا بیٹا دونون شکار کھیلتے ہوئے جنگل مین آنکلے اور دونون کے پانون چینھ دیکھ راجہ نے اپنے پتر سے کہا کہ اس مہابن مین آدمی کے پانون کے نشان کہان سے آئے راج پتر نے کہا مہاراج یہ چرن استری کے ہین پرش کا پانون ایسا بھو نہین ہوتا راجہ نے کہا سچ ہے ایسا کومل چرن پُرش کا نہین ہوتا پھر راج پتر نے کہا اسی سمے گئی ہین راجہ نے کہا چلواس بن مین ڈھونڈھین جو ملین تو جس کا یہ بڑا پائون ہے سو تجھے دودن گا اور دوسری مین لون گا اسیٹرح آپسمین بچن بند ہو آگے جا دیکھین تو دونون بیٹھی ہوئی ہین انھین دیکھ خوش ہو موافق قرار کے اپنے اپنے گھر آۓ رانی کو راجکمار نے رکھا اور راج کنیا کو راجہ نے اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ بکرم ان دونون کے لڑکون کا آپس مین کیا ناتا ہوگا یہ سن راجہ اگیان ہو چپ ہو رہا پھر بیتال خوش ہو بولا اے راجہ بکرم مین تیری بترتا اور ساہس دیکھ اتِ پرشن ہوا پر ایک بات مین تجھ سے کہتا ہون سو اوشن کہ جسکے شریر کے دو متمان انٹو کے اور نیند کا کھرسی اور نامرات نہین ہو تیری نگرمی آیا ہواور مجھ سے میرے لیے کوبھیجا اوراپ بیٹھا ر گھٹ مین بہت جگا رہاہواور تجھے پر چاہتا ہوا لے مین اتار دیتا ہون کہ نہ ہو ا کرنے کا تجھے کیا ا ایران<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> ggxzknew2xx1yfc8mx884s8gdgjasy5 32664 32663 2026-05-21T04:36:30Z BalramBodhi 60 32664 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|۶۳}}</noinclude>کے سریر مین بیٹھون تو سُکھ سے جوگ کرون یہ سوچ کر اس لڑکے کے شریر مین آکروٹ لے رام کرشن کہہ ایسا اُٹھ بیٹھا جسے کوئی سوتے سے اٹھ بیٹھے یہ دیکھ تمام لوگ اچنبھے مین ہو اپنے گھر آئے اور اسکے باپ کو یہ اچرج دیکھ بیراگ ہوا تو پہلے ہنسا اور پچھے رویا ایتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ بکرم وہ کیون ہنسا اور کیون رویا تب راجہ نے کہا جوگی کو اسکے شریر مین جاتے دیکھ اور یہ بدّیا سیکھ کر ہنسا اور اپنے شریر کے چھوٹنے کی موہ سے روہا کہ ایک دن اسطرح مجھے بھی اپنا شریر چھوڑتا ہے یہ سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی پیچھے کاندھے پر رکھ لیچلا۔ {{center|'''پچّیسوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ دکشن دشا مین دھرم پور نگر ہے وہان کے راجہ کا نام مہابل تھا ایک سمے اس دیس کا دوسرا راچہ فوج لے چڑھ آیا اور اسکا نگر آن گھیرا کتنے ایک دنون لڑتا رہا جب سینا اسکی دشمنون سے ملگئی اور کچھ کٹ گئی تب ناچار ہو رات کے وقت رانی کو بیٹی سمیت ساتھ لے جنگل مین نِکل گیا جب کئی ایک کوس بن مین پہونچا تو پربھات ہوا اور ایک گائون نظر آیا تب رانی اور راج کنیا کو ایک پیڑ تلے بیٹھلا آپ گانون کی طرف کھانے کا سامان لینے کو چلا تھا کہ اتنے مین بہیلیون نے آ گیھرا اور کہا ہتھیار ڈال دے یہ سنکر راجہ نے تیر مارنا شروع کیا اور ادھر سے انھون نے اسطرح ایک پہر لڑائی رہی اور کتنے ایک لوک بہیلیونکے مارے گئے اتنے مین ایک تیر راجہ کے کپال مین ایسا لگا کہ تھرا کر گر پڈا اور ایک نے راجہ کا سر کاٹ لیا جب رانی اور راج کنیا نے راجہ کو موا دیکھا اور روتی پیٹتی الٹی بن کو چلین اِس طرح سے کوس دو کوس چل ماندی ہو کر بیٹھین اور انیک انیک بھانت کی چنتا کرنے لگین اتنے مین چندر سین نام راجا اور اسکا بیٹا دونون شکار کھیلتے ہوئے جنگل مین آنکلے اور دونون کے پانون چینھ دیکھ راجہ نے اپنے پتر سے کہا کہ اس مہابن مین آدمی کے پانون کے نشان کہان سے آئے راج پتر نے کہا مہاراج یہ چرن استری کے ہین پرش کا پانون ایسا چھوٹا نہین ہوتا راجہ نے کہا سچ ہے ایسا کومل چرن پُرش کا نہین ہوتا پھر راج پتر نے کہا اسی سمے گئی ہین راجہ نے کہا چلو اس بن مین ڈھونڈھین جو ملین تو جس کا یہ بڑا پائون ہے سو تجھے دودن گا اور دوسری مین لون گا اسیترح آپسمین بچن بند ہو آگے جا دیکھین تو دونون بیٹھی ہوئی ہین انھین دیکھ خوش ہو موافق قرار کے اپنے اپنے گھر آۓ رانی کو راجکمار نے رکھا اور راج کنیا کو راجہ نے اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ بکرم ان دونون کے لڑکون کا آپس مین کیا ناتا ہوگا یہ سن راجہ اگیان ہو چپ ہو رہا پھر بیتال خوش ہو بولا اے راجہ بکرم مین تیری بیرتا اور ساہس دیکھ اتِ پرشن ہوا پر ایک بات مین تجھ سے کہتا ہون سو تو سُن کہ جسکے شریر کے روم سمان کنانٹونکے اور نیند کاٹھ سی اور نام شانت شیل ہے سو تیرے نگر مین آیا ہے اور تجھے اسنے میرے لینے کو بھیجا ہے اپ بیٹھا مرگھٹ مین منتر جگا رہا ہے اور تجھے مارا چاہتا ہے اسلئے مین جتائ دیتا ہون کہ جب وہ پوجا کر چکیگا تب تجھسے کہیگا کہ اے راجہ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> ar4ykcekzwpdrbx42euw1vc7szlx0n9 32665 32664 2026-05-21T06:15:22Z Taranpreet Goswami 90 /* پروف خوانی شدہ */ 32665 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{center|۶۳}}</noinclude>کے سریر مین بیٹھون تو سُکھ سے جوگ کرون یہ سوچ کر اس لڑکے کے شریر مین آکروٹ لے رام کرشن کہہ ایسا اُٹھ بیٹھا جسے کوئی سوتے سے اٹھ بیٹھے یہ دیکھ تمام لوگ اچنبھے مین ہو اپنے گھر آئے اور اسکے باپ کو یہ اچرج دیکھ بیراگ ہوا تو پہلے ہنسا اور پچھے رویا ایتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ بکرم وہ کیون ہنسا اور کیون رویا تب راجہ نے کہا جوگی کو اسکے شریر مین جاتے دیکھ اور یہ بدّیا سیکھ کر ہنسا اور اپنے شریر کے چھوٹنے کی موہ سے روہا کہ ایک دن اسطرح مجھے بھی اپنا شریر چھوڑنا ہے یہ سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی پیچھے کاندھے پر رکھ لیچلا۔ {{center|'''پچّیسوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ دکشن دشا مین دھرم پور نگر ہے وہان کے راجہ کا نام مہابل تھا ایک سمے اس دیس کا دوسرا راچہ فوج لے چڑھ آیا اور اسکا نگر آن گھیرا کتنے ایک دنون لڑتا رہا جب سینا اسکی دشمنون سے ملگئی اور کچھ کٹ گئی تب ناچار ہو رات کے وقت رانی کو بیٹی سمیت ساتھ لے جنگل مین نِکل گیا جب کئی ایک کوس بن مین پہونچا تو پربھات ہوا اور ایک گائون نظر آیا تب رانی اور راج کنیا کو ایک پیڑ تلے بیٹھلا آپ گانون کی طرف کھانے کا سامان لینے کو چلا تھا کہ اتنے مین بہیلیون نے آ گیھرا اور کہا ہتھیار ڈال دے یہ سنکر راجہ نے تیر مارنا شروع کیا اور ادھر سے انھون نے اسطرح ایک پہر لڑائی رہی اور کتنے ایک لوک بہیلیونکے مارے گئے اتنے مین ایک تیر راجہ کے کپال مین ایسا لگا کہ تھرا کر گر پڈا اور ایک نے راجہ کا سر کاٹ لیا جب رانی اور راج کنیا نے راجہ کو موا دیکھا اور روتی پیٹتی الٹی بن کو چلین اِس طرح سے کوس دو کوس چل ماندی ہو کر بیٹھین اور انیک انیک بھانت کی چنتا کرنے لگین اتنے مین چندر سین نام راجا اور اسکا بیٹا دونون شکار کھیلتے ہوئے جنگل مین آنکلے اور دونون کے پانون چینھ دیکھ راجہ نے اپنے پتر سے کہا کہ اس مہابن مین آدمی کے پانون کے نشان کہان سے آئے راج پتر نے کہا مہاراج یہ چرن استری کے ہین پرش کا پانون ایسا چھوٹا نہین ہوتا راجہ نے کہا سچ ہے ایسا کومل چرن پُرش کا نہین ہوتا پھر راج پتر نے کہا اسی سمے گئی ہین راجہ نے کہا چلو اس بن مین ڈھونڈھین جو ملین تو جس کا یہ بڑا پائون ہے سو تجھے دودن گا اور دوسری مین لون گا اسیترح آپسمین بچن بند ہو آگے جا دیکھین تو دونون بیٹھی ہوئی ہین انھین دیکھ خوش ہو موافق قرار کے اپنے اپنے گھر آۓ رانی کو راجکمار نے رکھا اور راج کنیا کو راجہ نے اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ بکرم ان دونون کے لڑکون کا آپس مین کیا ناتا ہوگا یہ سن راجہ اگیان ہو چپ ہو رہا پھر بیتال خوش ہو بولا اے راجہ بکرم مین تیری بیرتا اور ساہس دیکھ اتِ پرشن ہوا پر ایک بات مین تجھ سے کہتا ہون سو تو سُن کہ جسکے شریر کے روم سمان کنانٹونکے اور نیند کاٹھ سی اور نام شانت شیل ہے سو تیرے نگر مین آیا ہے اور تجھے اسنے میرے لینے کو بھیجا ہے اپ بیٹھا مرگھٹ مین منتر جگا رہا ہے اور تجھے مارا چاہتا ہے اسلئے مین جتائ دیتا ہون کہ جب وہ پوجا کر چکیگا تب تجھسے کہیگا کہ اے راجہ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 1revflbgl0cqecp1xc0148m0rjkcfte صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/65 250 12713 32666 30833 2026-05-21T06:16:41Z Taranpreet Goswami 90 32666 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بیتان کیپسی ۶۴ راجہ چند سین کام اپنے بیٹے کے جنگل میں اسے اک کا کانا اور ان اور ان کنیا کو جانا ساٹانگ ڈونڈوٹ کرتب تو کہیو کہ مین سب را جاؤن کا راجہ ہوں اور سب راجہ کے مجھے ڈنڈوت کرتے ہیں میں نے آجتک کسی کو ڈنڈوت نہیں کی اور مین جانتا ہوں آپ گرو ہیں مجھے کریا کر سکھا دیجئے تو مین گیرون جب وہ ڈنڈوت کر مر تب ایسا کھڑک ماریو کہ سر جدا ہو جائےتب تو اکھنڈا کرتا اور یہ جو نہ کریگا تھے اصل راج کر گیا این با راجہ کو تا بیتال کسی مردے کے قالینے تک چلا گیا اورکچھ رات ہر وہ مردہ لارا ہے جوگی سے آگے رکھ دیا جوگی اسکو دیکھ خوش مہاراجہ کی بہت سی بڑائی کی پھر سر پر اس مرد کو جگا ہوم کریل دیا اور دکشن کیطرف میٹر جتنا کچھ دوران سرانجام تیار کیا تھا سو اپنے دیوتا کوچڑھا دیا اور پان پھولنے جھوٹ پ نیومید وسے پوجا کر راجہ سے کہا تو ونڈوت کر تیرا پیج پر تاب بہت ہوگا اور اشسٹ شد میان تیرے گھرمن مہنگی یہ مشن راجہ نے بیتال کی بات یاد کر ہا تھ جوڑ نیٹ اوجینا سے کہا کہ مہاراج میں پرنام کرنانہیں جانتا پر آپ گرد ہیں جو کریا کر کے سکھائے تو مین کردن پیشن جوگی نے جو مین ڈنڈوت کر تلے کو سر جھکایا تو ہی بلاجہ نے ایک کھڑگ مار کہ سر جدا ہوگیا اور میال نے ان پھولوں کا مینہ برسایا ایسا کہا ہے کہ جواپنے تین مارا جاہ اس کے ایسے ا دھرم نہیں اس سے اجرام من کی اندر سمت سے ہوتا اپنےاپنے باون پریڈ بانجو کا کرنے لگے اور جاندا پریشن ہو راجہ سر کریا جیت کر کہا کہ برانگ تاجہ نے ہاتھ جوڑ کر کہا مہاراج یہ تھا میری شفارمین برسید موند نے کہا ک جبتک چاند سورج پرتھوی کاش استحصر من تک یہ کتھا پرسیده میگی اور سرب بجوم کا راج ہو گا آتی که بابا ندی اپنے استھان کو گیا اور راجہ نےان دونوں لوتھو کولے اس تیل کو کڑھاؤ میں ڈالدیات یہ دنوں پر حاضر ہوئے اور کھنے لگے کہ میں کیا گیا ہی راجہ نے کہا جب میں یاد کرونگا تا تا سطرح اپنے بچن نے راجہ اپنے گھر مین راج کرنے لگا ایسا کہا ہو کہ پنڈت ہویا مورکھ لڑکا ہو ب جوان جو بدعمان ہوگا اسی کی جے ہو گی ۔ تمت ۱۹۵۳ء<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> muyrvvvukoab2prvovamymalsx7noxc صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/261 250 13149 32660 32564 2026-05-20T15:34:44Z Kaur.gurmel 74 32660 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>لنکا کانڈ (۱) راون کے دربار میں انگد رام چندر نے سمندر کو پار کر کے لنکا کا محاصرہ کر لیا ۔ قلعہ کے چاروں دروازوں پر چار بڑے بڑے سرداروں کو کھڑا کیا ۔ سگریو کو ساری فوج کا سپہ سالار بنایا ۔ آپ اور لکشمن سگریو کے ساتھ ہو گئے ۔ تیز دوڑنے والوں کو چُُن چن کر خبریں لانے اور لے جانے کے لئے مقرر کیا ۔ جس سردار کو کوئی حکم انہیں آدمیوں کی معرفت کہلا بھیجتے تھے ۔ شہر کے چاروں دروازے بند ہو گئے۔ راکشسوں کو باہر نکلنا محال ہو گیا ۔ رسد کا باہر کے دیہاتوں سے آنا بند ہو گیا ۔ لوگ اندر بھوکوں<noinclude></noinclude> tejtdectpehtkixe4lnzycbuyc635v9 32661 32660 2026-05-20T15:43:18Z Kaur.gurmel 74 32661 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>{{center|{{x-larger|'''لنکا کانڈ'''}}}} {{larger|'''(۱) راون کے دربار میں انگد'''}} رام چندر نے سمندر کو پار کر کے لنکا کا محاصرہ کر لیا ۔ قلعہ کے چاروں دروازوں پر چار بڑے بڑے سرداروں کو کھڑا کیا ۔ سگریو کو ساری فوج کا سپہ سالار بنایا ۔ آپ اور لکشمن سگریو کے ساتھ ہو گئے ۔ تیز دوڑنے والوں کو چُن چن کر خبریں لانے اور لے جانے کے لئے مقرر کیا ۔ جس سردار کو کوئی حکم دینا ہوتا انہیں آدمیوں کی معرفت کہلا بھیجتے تھے ۔ شہر کے چاروں دروازے بند ہو گئے۔ راکشسوں کو باہر نکلنا محال ہو گیا ۔ رسد کا باہر کے دیہاتوں سے آنا بند ہو گیا ۔ لوگ اندر بھوکوں<noinclude></noinclude> 1vxfxp80853mf250wf8i1l40qu50zr8 32662 32661 2026-05-20T15:43:47Z Kaur.gurmel 74 32662 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>{{center|{{x-larger|'''لنکا کانڈ'''}}}} {{center|{{larger|'''(۱) راون کے دربار میں انگد'''}}}} رام چندر نے سمندر کو پار کر کے لنکا کا محاصرہ کر لیا ۔ قلعہ کے چاروں دروازوں پر چار بڑے بڑے سرداروں کو کھڑا کیا ۔ سگریو کو ساری فوج کا سپہ سالار بنایا ۔ آپ اور لکشمن سگریو کے ساتھ ہو گئے ۔ تیز دوڑنے والوں کو چُن چن کر خبریں لانے اور لے جانے کے لئے مقرر کیا ۔ جس سردار کو کوئی حکم دینا ہوتا انہیں آدمیوں کی معرفت کہلا بھیجتے تھے ۔ شہر کے چاروں دروازے بند ہو گئے۔ راکشسوں کو باہر نکلنا محال ہو گیا ۔ رسد کا باہر کے دیہاتوں سے آنا بند ہو گیا ۔ لوگ اندر بھوکوں<noinclude></noinclude> 6bq0aiy5ruiyhge9gf72x82f5k9c3ko صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/260 250 13150 32659 32565 2026-05-20T15:20:10Z Kaur.gurmel 74 32659 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude> پر پ باندھ لیا تو اُس کا نشہ ہرن ہو گیا۔ اُس دن اُسے ساری رات نیند نہیں آئی.<noinclude></noinclude> 46r64e6kgq8caksmz6ibushz5q1lfwb