ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.3 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/3 250 12114 32678 27505 2026-05-22T10:09:09Z Taranpreet Goswami 90 /* پروف خوانی شدہ */ 32678 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /> {{rh||٢|بیتال پچیسی}}</noinclude>{{c|<big>'''بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ'''</big>}} دهارا نگر نام ایک شہر وہان کا راجہ گندھر سین اسکی چار رانیان تھین اُن سے چھ بیٹے تھے ایک سے ایک پنڈت اور زورآور تھا قضا کار بعد چند روز کے وہ راجہ مرگیا اور اس کی جگہ بڑا بیٹا متگ نام راجہ ہوا پھر کتنے دنون کے پیچھے اس کا چھوٹا بھائی بکرم بڑے بھائی کو مار کر آپ راجہ ہوا اور بخوبی راج کرنے لگا دِن بدن اُس کا راج ایسا بڑھا کہ تمام جمبودیب کا راجہ ہوا اور اچھی طرح راج کر کے دھاک باندھی کتنے دنون کے بعد راجہ نے یہ اپنے دل مین بیچارا کہ جن ملکون کا نام مین سنتا ہون انکی سیر کرنا چاہیے یہ اپنے دِل مین ٹھان کر را جگدّی اپنے چھوٹے بھائی بھرتری کو سونپ آپ جوگی بن ملک ملک اور بن بن کی سیر کرنے لگا ایک برہمین اُس شہر مین تپسیا کرتا تھا ایک دِن دیوتا نے اسے ایک سیب لا دیا تب اُس پھل کو اپنے گھر من لا کر برہمنی سے کہا کہ جو کوئی اسے کھاویگا سو زندہ جاوید ہوگا دیوتا نے پھل دیتے وقت یہ مجھ سے کہا ہے یہ شنکر پرمبنی بہت سا روئی اور کہنے لگی کہ یہ ہمین بڑا پاپ بھگتنا پڑا کیونکہ زندہ جاوید ہو کر کب تک بھیک مانگین گے بلکہ اس سے مرنا بہتر ہے جو مر جائے تو دنیا کے غم سے چھٹے تب برہمن بولا کہ لینے کو تو لے آیا پر تیری بات سنکر میری عقل کھو گئی اب جو تو بتاوے سو مین کرون پھر اُس برمنی نے کہا یہ پھل راجہ کو دو اور اسکے بدلے دولت لو جس سے دین اور دنیا کا کام ہو یہ بات سن کے برہمن راجہ کے پاس گیا اور دعا دی پھل کا احوال بیان کر کے کہا کہ مھراج یہ پھل آپ لیجئے اور مجھے کچھ دولت دیجئے آپ کے زندہ جاوید رہنے سے مجھے سکھ ہے راجہ نے برہمن کو لاکھ روپے دے محل مین آیا جس رانی کو بہت چاہتا تھا اسے وہ پھل<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 2ov99bv5kk7x714kpu4qqsrddpa913a صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/4 250 12115 32679 27510 2026-05-22T10:25:30Z Taranpreet Goswami 90 /* پروف خوانی شدہ */ 32679 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|٣|}}</noinclude>دے کر کہا اے رانی تو اسے کھا کہ زندہ جاوید ہو ویگی اور ہمیشہ جوان رہیگی رانی نے اس بات کو شُن راجہ سے پھل لے لیا راجہ دربار مین آیا اُس رانی کا آشنا ایک کوتوال تھا اس نے وہ پھل اسے دیا اتفاقاً ایک رنڈی کوتوال کی دوست تھی اس نے اسے وہ پھل دیکر اسکی خوبی بیان کی اس رنڈی نے اپنے من مین بچارا کہ یہ پھل راجہ کے دینے کے لائق ہے یہ بات اپنے دل مین ٹھرا کر وہ پھل راجہ کو جا کر دیا راجہ نے پھل لے لیا اور اسے بہت سا دہن دے رخصت کیا اور پھل کو دیکھ اپنے جی مین افسوس کر دنیا سے اُداس ہو کہنے لگا کہ اس دنیا کی دولت کِسی کام کی نہیں کیونکہ اس سے آخر دوزخ مین پڑنا ہوتا ہے اس سے بہتر یہ ہے کہ عبادت کیجئے اور خدا کی یاد مین رہیئے کہ جس سے آئندہ کو بھلا ہو وے یہ بات دِل مین ٹھان محل مین رانی سے پوچھا کہ تونے وہ پھل کیا کیا اُسنے کہا مین کھا گئی تب راجہ نے وہ پھل رانی کو دکھایا اور دیکھتے ہی بھوچک سی رہ گئی اور جواب بن نہ آیا پھر راجہ نے باہر آ اس پھل کو دھلا کر کھایا اور راج پاٹ چھوڑ جوگی بن اکیلا بِن کہے سُنے بَن کو سدھارا بکرم کا راج خالی رہا جب یہ خبر راجہ اندر کو پہونچی تو اُسنے ایک دیو دھارا نگر کی رکھوالی کو بھیجا وہ دن رات اس شہر کی چوکی دیا کرتا غرض اس بات کا شہرہ ملک بملک ہوا کہ راجہ بھرتری راج چھوڑ نِکل گیا یہ خبر راجہ بکرم بھی ترت سنتے ہی اپنے دیس مین آیا اُسوقت آدھی رات تھی اسوقت شہر مین جاتا تھا کہ وہ دیو پکارا تو کون ہے اور جاتا کھا ہے گھر اور اپنا نام بتا تب راجہ نے کہا مین ہون راجہ بکرم اپنے شہر کو جاتا ہون تو کون ہے جو مجھے روکتا ہے تب دیو بولا کہ مجھے دیوتاؤون نے اِس شہر کی رکھوالی کو بھیجا ہے جو تم سچ راجہ بکرم ہو تو پہلے مجھ سے لڑو پیچھے شہر کو جاؤ اِس بات کے سنتے ہی راجہ نے لنگوٹ کس کر دیو کو للکارا پھر وہ دیو بھی مقابل ہوا لڑائی ہونے لکی آخر راجہ دیو کو پچھاڑ اسکی چھاتی پر چڑھ بیٹھا تب اس نے کہا اے راجہ تو نے مجھے پچھاڑا مین تیری جان بخشی کرتا ہوں تب راجہ نے ہنسکر کہا تو دیو نہ ہوا ہے مین چاہون تو تجھے مار ڈالون تو کیا میری جان بخشی کرے گا تب وہ دیو بولا اے راجہ مین تجھے موت سے بچاتا ہون پہلے میری ایک بات سُن پھرنے سے تمام دنیا کا راج کر آخر راجہ نے اسے چھوڑ دیا اور اس کی بات دل دے کر سننے لگا پھر دیو نے یہ اُس سے کہا کہ اس شہر من چندر بھان نامہ راجہ بڑا سخی تھا اتفاقا ایک روز جنگ کو نکل گیا تو دیکھتا کیا ہے کہ ایک جوگی درخت مین الٹا لٹکا ہوا ہے اور دھوان پی پی کر رہتا ہے نہ کِسی سے کچھ کہتا ہے نہ بات کرتا ہے اسکا یہ حال دیکھ راجہ نے اپنے گھر آسبھا مین بیٹھ کر یہ کہا کہ جو کوئی اس تپسی جوگی کو لاوے وہ ایک لاکھ روپیہ پاوے اسبات کو سنکر ایک رنڈی نے راجہ کے پاس آ یہ عرض کی کہ اگر مہاراج کی اگیا پاون تو اسی سے ایک لڑکا جنوا کر اسی کے کاندھے پر چڑھا کے لے آؤن اسبات کے سننے سے راجہ کو اچنبھا ہوا اور اُس<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> oq9zxlu0il5ibpbp8fozmxadxanj88k صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/65 250 12713 32667 32666 2026-05-22T01:34:24Z Charan Gill 46 32667 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>راجہ چندر سین کام اپنے بیٹے کے جنگل مین اسے اک کا کانا اور ان اور ان کنیا کو جانا ساٹانگ ڈونڈوٹ کرتب تو کہیو کہ مین سب را جاؤنگا راجہ ہون اور سب راجہ کے مجھے ڈنڈوت کرتے ہین مین نے آجتک کسی کو ڈنڈوت نہین کی اور مین جانتا ہون آپ گرو ہین مجھے کرپا کر سکھا دیجئے تو مین گیرون جب وہ ڈنڈوت کر مر تب ایسا کھڑک ماریو کہ سر جدا ہو جائے تب تو اکھنڈا کرتا اور یہ جو نہ کریگا تھے اصل راج کر گیا این با راجہ کو تا بیتال کسی مردے کے قالینے تک چلا گیا اورکچھ رات ہر وہ مردہ لارا ہے جوگی سے آگے رکھ دیا جوگی اسکو دیکھ خوش مہاراجہ کی بہت سی بڑائی کی پھر سر پر اس مرد کو جگا ہوم کریل دیا اور دکشن کیطرف میٹر جتنا کچھ دوران سرانجام تیار کیا تھا سو اپنے دیوتا کوچڑھا دیا اور پان پھولنے جھوٹ پ نیومید وسے پوجا کر راجہ سے کہا تو ڈنڈوت کر تیرا پیج پر تاب بہت ہوگا اور اشسٹ شد میان تیرے گھرمن مہنگی یہ مشن راجہ نے بیتال کی بات یاد کر ہاتھ جوڑ نیٹ اوجینا سے کہا کہ مہاراج مین پرنام کرنا نہین جانتا پر آپ گرد ہین جو کریا کر کے سکھائے تو مین کردن پیشن جوگی نے جو مین ڈنڈوت کر تلے کو سر جھکایا تو ہی بلاجہ نے ایک کھڑگ مار کہ سر جدا ہوگیا اور میال نے ان پھولون کا مینہ برسایا ایسا کہا ہے کہ جواپنے تین مارا جاہ اس کے ایسے ا دھرم نہین اس سے اجرام من کی اندر سمت سے ہوتا اپنےاپنے باون پریڈ بانجو کا کرنے لگے اور جاندا پریشن ہو راجہ سر کریا جیت کر کہا کہ برانگ تاجہ نے ہاتھ جوڑ کر کہا مہاراج یہ تھا میری شفارمین برسید موند نے کہا ک جبتک چاند سورج پرتھوی کاش استحصر من تک یہ کتھا پرسیده میگی اور سرب بجوم کا راج ہو گا آتی که بابا ندی اپنے استھان کو گیا اور راجہ نےان دونون لوتھو کولے اس تیل کو کڑھاؤ مین ڈالدیات یہ دنون پر حاضر ہوئے اور کھنے لگے کہ مین کیا گیا ہی راجہ نے کہا جب مین یاد کرونگا تا تا سطرح اپنے بچن نے راجہ اپنے گھر مین راج کرنے لگا ایسا کہا ہو کہ پنڈت ہویا مورکھ لڑکا ہو ب جوان جو بدعمان ہوگا اسی کی جے ہو گی ۔ تمت ۱۹۵۳ء<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 8pm3dgxxo452sx7945fl2zfnf36a48q 32668 32667 2026-05-22T02:47:03Z Charan Gill 46 32668 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>'''راجہ چندر سین کا مح اپنے بیٹے کے جنگل مین واسطے شکار کے آنا اور رانی اور راج کنیا کو لیجانا''' ساشٹانگ ڈنڈوت کر تب تو کہیو کہ مین سب راجاؤن کا راجہ ہون اور سب راجہ آن کے مجھے ڈنڈوت کرتے ہین مین نے آجتک کسی کو ڈنڈوت نہین کی اور مین جانتا ہون آپ گرو ہین مجھے کرپا کر سکھا دیجئے تو مین کرون جب وہ ڈنڈوت کرے تب ایسا کھڑک ماریو کہ سر جدا ہو جائے تب تو اکھنڈ راج کرتگا اور یہ جو تو نہ کریگا تھے اصل راج کر گیا این با راجہ کو تا بیتال کسی مردے کے قالینے تک چلا گیا اورکچھ رات ہر وہ مردہ لارا ہے جوگی سے آگے رکھ دیا جوگی اسکو دیکھ خوش مہاراجہ کی بہت سی بڑائی کی پھر سر پر اس مرد کو جگا ہوم کریل دیا اور دکشن کیطرف میٹر جتنا کچھ دوران سرانجام تیار کیا تھا سو اپنے دیوتا کوچڑھا دیا اور پان پھولنے جھوٹ پ نیومید وسے پوجا کر راجہ سے کہا تو ڈنڈوت کر تیرا پیج پر تاب بہت ہوگا اور اشسٹ شد میان تیرے گھرمن مہنگی یہ مشن راجہ نے بیتال کی بات یاد کر ہاتھ جوڑ نیٹ اوجینا سے کہا کہ مہاراج مین پرنام کرنا نہین جانتا پر آپ گرد ہین جو کریا کر کے سکھائے تو مین کردن پیشن جوگی نے جو مین ڈنڈوت کر تلے کو سر جھکایا تو ہی بلاجہ نے ایک کھڑگ مار کہ سر جدا ہوگیا اور میال نے ان پھولون کا مینہ برسایا ایسا کہا ہے کہ جواپنے تین مارا جاہ اس کے ایسے ا دھرم نہین اس سے اجرام من کی اندر سمت سے ہوتا اپنےاپنے باون پریڈ بانجو کا کرنے لگے اور جاندا پریشن ہو راجہ سر کریا جیت کر کہا کہ برانگ تاجہ نے ہاتھ جوڑ کر کہا مہاراج یہ تھا میری شفارمین برسید موند نے کہا ک جبتک چاند سورج پرتھوی کاش استحصر من تک یہ کتھا پرسیده میگی اور سرب بجوم کا راج ہو گا آتی که بابا ندی اپنے استھان کو گیا اور راجہ نےان دونون لوتھو کولے اس تیل کو کڑھاؤ مین ڈالدیات یہ دنون پر حاضر ہوئے اور کھنے لگے کہ مین کیا گیا ہی راجہ نے کہا جب مین یاد کرونگا تا تا سطرح اپنے بچن نے راجہ اپنے گھر مین راج کرنے لگا ایسا کہا ہو کہ پنڈت ہویا مورکھ لڑکا ہو ب جوان جو بدعمان ہوگا اسی کی جے ہو گی ۔ تمت ۱۹۵۳ء<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> cwqdegqqxcj73o6om07sra3pq0s7m8q 32669 32668 2026-05-22T04:23:56Z BalramBodhi 60 32669 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>'''راجہ چندر سین کا مع اپنے بیٹے کے جنگل مین واسطے شکار کے آنا اور رانی اور راج کنیا کو لیجانا''' ساشٹانگ ڈنڈوت کر تب تو کہیو کہ مین سب راجاؤن کا راجہ ہون اور سب راجہ آنکے مجھے ڈنڈوت کرتے ہین مین نے آجتک کِسی کو ڈنڈوت نہین کی اور مین جانتا ہون آپ گرو ہین مجھے کرپا کر سِکھا دیجئے تو مین کرون جب وہ ڈنڈوت کرے تب ایسا کھڑک ماریو کہ سر جدا ہو جائے تب تو اکھنڈ راج کریگا اور یہ جو تو نہ کریگا تو وہ تجھے مار اچھل راج کریگا اتنی بات راجہ کو جتا بیتل اسی مردے کے قالب سے نِکلکر چلا گیا اور کچھ رات رہے وہ مردہ لا راجہ نے جوگی کے آگے رخ دیا جوگی اسکو دیکھ خش ہوا راجہ کی بہت سی بڑائ کی اصل راج کر گیا این با راجہ کو تا بیتال کسی مردے کے قالینے تک چلا گیا اورکچھ رات ہر وہ مردہ لارا ہے جوگی سے آگے رکھ دیا جوگی اسکو دیکھ خوش مہاراجہ کی بہت سی بڑائی کی پھر سر پر اس مرد کو جگا ہوم کریل دیا اور دکشن کیطرف میٹر جتنا کچھ دوران سرانجام تیار کیا تھا سو اپنے دیوتا کوچڑھا دیا اور پان پھولنے جھوٹ پ نیومید وسے پوجا کر راجہ سے کہا تو ڈنڈوت کر تیرا پیج پر تاب بہت ہوگا اور اشسٹ شد میان تیرے گھرمن مہنگی یہ مشن راجہ نے بیتال کی بات یاد کر ہاتھ جوڑ نیٹ اوجینا سے کہا کہ مہاراج مین پرنام کرنا نہین جانتا پر آپ گرد ہین جو کریا کر کے سکھائے تو مین کردن پیشن جوگی نے جو مین ڈنڈوت کر تلے کو سر جھکایا تو ہی بلاجہ نے ایک کھڑگ مار کہ سر جدا ہوگیا اور میال نے ان پھولون کا مینہ برسایا ایسا کہا ہے کہ جواپنے تین مارا جاہ اس کے ایسے ا دھرم نہین اس سے اجرام من کی اندر سمت سے ہوتا اپنےاپنے باون پریڈ بانجو کا کرنے لگے اور جاندا پریشن ہو راجہ سر کریا جیت کر کہا کہ برانگ تاجہ نے ہاتھ جوڑ کر کہا مہاراج یہ تھا میری شفارمین برسید موند نے کہا ک جبتک چاند سورج پرتھوی کاش استحصر من تک یہ کتھا پرسیده میگی اور سرب بجوم کا راج ہو گا آتی که بابا ندی اپنے استھان کو گیا اور راجہ نےان دونون لوتھو کولے اس تیل کو کڑھاؤ مین ڈالدیات یہ دنون پر حاضر ہوئے اور کھنے لگے کہ مین کیا گیا ہی راجہ نے کہا جب مین یاد کرونگا تا تا سطرح اپنے بچن نے راجہ اپنے گھر مین راج کرنے لگا ایسا کہا ہو کہ پنڈت ہویا مورکھ لڑکا ہو ب جوان جو بدعمان ہوگا اسی کی جے ہو گی ۔ تمت ۱۹۵۳ء<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> g6yqgkjpcrvy2uak5lz8jo27h5ceurw 32670 32669 2026-05-22T04:39:41Z BalramBodhi 60 32670 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>'''راجہ چندر سین کا مع اپنے بیٹے کے جنگل مین واسطے شکار کے آنا اور رانی اور راج کنیا کو لیجانا''' ساشٹانگ ڈنڈوت کر تب تو کہیو کہ مین سب راجاؤن کا راجہ ہون اور سب راجہ آنکے مجھے ڈنڈوت کرتے ہین مین نے آجتک کِسی کو ڈنڈوت نہین کی اور مین جانتا ہون آپ گرو ہین مجھے کرپا کر سِکھا دیجئے تو مین کرون جب وہ ڈنڈوت کرے تب ایسا کھڑک ماریو کہ سر جدا ہو جائے تب تو اکھنڈ راج کریگا اور یہ جو تو نہ کریگا تو وہ تجھے مار اچھل راج کریگا اتنی بات راجہ کو جتا بیتل اسی مردے کے قالب سے نِکلکر چلا گیا اور کچھ رات رہے وہ مردہ لا راجہ نے جوگی کے آگے رخ دیا جوگی اسکو دیکھ خش ہوا راجہ کی بہت سی بڑائ کی پھر منتر پڑھ اس مردیکو جگا ہوم کر میل دیا اصل راج کر گیا این با راجہ کو تا بیتال کسی مردے کے قالینے تک چلا گیا اورکچھ رات ہر وہ مردہ لارا ہے جوگی کے آگے رکھ دیا جوگی اسکو دیکھ خوش مہاراجہ کی بہت سی بڑائی کی پھر سر پر اس مرد کو جگا ہوم کریل دیا ا یہ مشن راجہ نے بیتال کی بات یاد کر ہاتھ جوڑ نیٹ اوجینا سے کہا کہ مہاراج مین پرنام کرنا نہین جانتا پر آپ گرد ہین جو کریا کر کے سکھائے تو مین کردن پیشن جوگی نے جو مین ڈنڈوت کر تلے کو سر جھکایا تو ہی بلاجہ نے ایک کھڑگ مار کہ سر جدا ہوگیا اور میال نے ان پھولون کا مینہ برسایا ایسا کہا ہے کہ جواپنے تین مارا جاہ اس کے ایسے ا دھرم نہین اس سے اجرام من کی اندر سمت سے ہوتا اپنےاپنے باون پریڈ بانجو کا کرنے لگے اور جاندا پریشن ہو راجہ سر کریا جیت کر کہا کہ برانگ تاجہ نے ہاتھ جوڑ کر کہا مہاراج یہ تھا میری شفارمین برسید موند نے کہا ک جبتک چاند سورج پرتھوی کاش استحصر من تک یہ کتھا پرسیده میگی اور سرب بجوم کا راج ہو گا آتی که بابا ندی اپنے استھان کو گیا اور راجہ نےان دونون لوتھو کولے اس تیل کو کڑھاؤ مین ڈالدیات یہ دنون پر حاضر ہوئے اور کھنے لگے کہ مین کیا گیا ہی راجہ نے کہا جب مین یاد کرونگا تا تا سطرح اپنے بچن نے راجہ اپنے گھر مین راج کرنے لگا ایسا کہا ہو کہ پنڈت ہویا مورکھ لڑکا ہو ب جوان جو بدعمان ہوگا اسی کی جے ہو گی ۔ تمت ۱۹۵۳ء<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 0oyti75re9pcxghwmiqhsoshf7ebymv 32671 32670 2026-05-22T05:10:33Z Charan Gill 46 [[Special:Contributions/BalramBodhi|BalramBodhi]] ([[User talk:BalramBodhi|تبادلۂ خیال]]) کی جانب سے کی گئی [[Special:Diff/32670|32670]]ویں ترمیم رد کر دی گئی ہے۔ 32671 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>'''راجہ چندر سین کا مع اپنے بیٹے کے جنگل مین واسطے شکار کے آنا اور رانی اور راج کنیا کو لیجانا''' ساشٹانگ ڈنڈوت کر تب تو کہیو کہ مین سب راجاؤن کا راجہ ہون اور سب راجہ آنکے مجھے ڈنڈوت کرتے ہین مین نے آجتک کِسی کو ڈنڈوت نہین کی اور مین جانتا ہون آپ گرو ہین مجھے کرپا کر سِکھا دیجئے تو مین کرون جب وہ ڈنڈوت کرے تب ایسا کھڑک ماریو کہ سر جدا ہو جائے تب تو اکھنڈ راج کریگا اور یہ جو تو نہ کریگا تو وہ تجھے مار اچھل راج کریگا اتنی بات راجہ کو جتا بیتل اسی مردے کے قالب سے نِکلکر چلا گیا اور کچھ رات رہے وہ مردہ لا راجہ نے جوگی کے آگے رخ دیا جوگی اسکو دیکھ خش ہوا راجہ کی بہت سی بڑائ کی اصل راج کر گیا این با راجہ کو تا بیتال کسی مردے کے قالینے تک چلا گیا اورکچھ رات ہر وہ مردہ لارا ہے جوگی سے آگے رکھ دیا جوگی اسکو دیکھ خوش مہاراجہ کی بہت سی بڑائی کی پھر سر پر اس مرد کو جگا ہوم کریل دیا اور دکشن کیطرف میٹر جتنا کچھ دوران سرانجام تیار کیا تھا سو اپنے دیوتا کوچڑھا دیا اور پان پھولنے جھوٹ پ نیومید وسے پوجا کر راجہ سے کہا تو ڈنڈوت کر تیرا پیج پر تاب بہت ہوگا اور اشسٹ شد میان تیرے گھرمن مہنگی یہ مشن راجہ نے بیتال کی بات یاد کر ہاتھ جوڑ نیٹ اوجینا سے کہا کہ مہاراج مین پرنام کرنا نہین جانتا پر آپ گرد ہین جو کریا کر کے سکھائے تو مین کردن پیشن جوگی نے جو مین ڈنڈوت کر تلے کو سر جھکایا تو ہی بلاجہ نے ایک کھڑگ مار کہ سر جدا ہوگیا اور میال نے ان پھولون کا مینہ برسایا ایسا کہا ہے کہ جواپنے تین مارا جاہ اس کے ایسے ا دھرم نہین اس سے اجرام من کی اندر سمت سے ہوتا اپنےاپنے باون پریڈ بانجو کا کرنے لگے اور جاندا پریشن ہو راجہ سر کریا جیت کر کہا کہ برانگ تاجہ نے ہاتھ جوڑ کر کہا مہاراج یہ تھا میری شفارمین برسید موند نے کہا ک جبتک چاند سورج پرتھوی کاش استحصر من تک یہ کتھا پرسیده میگی اور سرب بجوم کا راج ہو گا آتی که بابا ندی اپنے استھان کو گیا اور راجہ نےان دونون لوتھو کولے اس تیل کو کڑھاؤ مین ڈالدیات یہ دنون پر حاضر ہوئے اور کھنے لگے کہ مین کیا گیا ہی راجہ نے کہا جب مین یاد کرونگا تا تا سطرح اپنے بچن نے راجہ اپنے گھر مین راج کرنے لگا ایسا کہا ہو کہ پنڈت ہویا مورکھ لڑکا ہو ب جوان جو بدعمان ہوگا اسی کی جے ہو گی ۔ تمت ۱۹۵۳ء<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> g6yqgkjpcrvy2uak5lz8jo27h5ceurw 32672 32671 2026-05-22T05:22:05Z Charan Gill 46 32672 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>'''راجہ چندر سین کا مع اپنے بیٹے کے جنگل مین واسطے شکار کے آنا اور رانی اور راج کنیا کو لیجانا''' ساشٹانگ ڈنڈوت کر تب تو کہیو کہ مین سب راجاؤن کا راجہ ہون اور سب راجہ آنکے مجھے ڈنڈوت کرتے ہین مین نے آجتک کِسی کو ڈنڈوت نہین کی اور مین جانتا ہون آپ گرو ہین مجھے کرپا کر سِکھا دیجئے تو مین کرون جب وہ ڈنڈوت کرے تب ایسا کھڑک ماریو کہ سر جدا ہو جائے تب تو اکھنڈ راج کریگا اور یہ جو تو نہ کریگا تو وہ تجھے مار اچھل راج کریگا اتنی بات راجہ کو جتا بیتل اسی مردے کے قالب سے نِکلکر چلا گیا اور کچھ رات رہے وہ مردہ لا راجہ نے جوگی کے آگے رکھ دیا جوگی اسکو دیکھ خوش ہوا راجہ کی بہت سی بڑائ کی پھر منتر پڑھ اس مردیکو جگا ہوم کر میل دیا اور دکشن کیطرف بیٹر جتنا کچھ وہان سرانجام تیار کیا تھا سو اپنے دیوتا کو چڑھا دیا اور پان پھول دھوٹ دیپ نیوید دے پوجا کر راجہ سے کہا تو ڈنڈوت کر تیرا تیج پرتاب بہت ہوگا اور اشٹ شدھیان تیرے گھر مین رہینگی یہ شُن راجہ نے بیتال کی بات یاد کر ہاتھ جوڑ نپٹ ادھینٹا سے کہا کہ مہاراج مین پرنام کرنا نہین انتا پر آپ گرد ہین جو کریا کر کے سکھائے تو مین کردن پیشن جوگی نے جو مین ڈنڈوت کر تلے کو سر جھکایا تو ہی بلاجہ نے ایک کھڑگ مار کہ سر جدا ہوگیا اور میال نے ان پھولون کا مینہ برسایا ایسا کہا ہے کہ جواپنے تین مارا جاہ اس کے ایسے ا دھرم نہین اس سے اجرام من کی اندر سمت سے ہوتا اپنےاپنے باون پریڈ بانجو کا کرنے لگے اور جاندا پریشن ہو راجہ سر کریا جیت کر کہا کہ برانگ تاجہ نے ہاتھ جوڑ کر کہا مہاراج یہ تھا میری شفارمین برسید موند نے کہا ک جبتک چاند سورج پرتھوی کاش استحصر من تک یہ کتھا پرسیده میگی اور سرب بجوم کا راج ہو گا آتی که بابا ندی اپنے استھان کو گیا اور راجہ نےان دونون لوتھو کولے اس تیل کو کڑھاؤ مین ڈالدیات یہ دنون پر حاضر ہوئے اور کھنے لگے کہ مین کیا گیا ہی راجہ نے کہا جب مین یاد کرونگا تا تا سطرح اپنے بچن نے راجہ اپنے گھر مین راج کرنے لگا ایسا کہا ہو کہ پنڈت ہویا مورکھ لڑکا ہو ب جوان جو بدعمان ہوگا اسی کی جے ہو گی ۔ تمت ۱۹۵۳ء<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 60t397l6vlap7k33esh3va98s3ptyx5 32673 32672 2026-05-22T05:30:16Z Charan Gill 46 32673 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>'''راجہ چندر سین کا مع اپنے بیٹے کے جنگل مین واسطے شکار کے آنا اور رانی اور راج کنیا کو لیجانا''' ساشٹانگ ڈنڈوت کر تب تو کہیو کہ مین سب راجاؤن کا راجہ ہون اور سب راجہ آنکے مجھے ڈنڈوت کرتے ہین مین نے آجتک کِسی کو ڈنڈوت نہین کی اور مین جانتا ہون آپ گرو ہین مجھے کرپا کر سِکھا دیجئے تو مین کرون جب وہ ڈنڈوت کرے تب ایسا کھڑک ماریو کہ سر جدا ہو جائے تب تو اکھنڈ راج کریگا اور یہ جو تو نہ کریگا تو وہ تجھے مار اچھل راج کریگا اتنی بات راجہ کو جتا بیتل اسی مردے کے قالب سے نِکلکر چلا گیا اور کچھ رات رہے وہ مردہ لا راجہ نے جوگی کے آگے رکھ دیا جوگی اسکو دیکھ خوش ہوا راجہ کی بہت سی بڑائ کی پھر منتر پڑھ اس مردیکو جگا ہوم کر میل دیا اور دکشن کیطرف بیٹر جتنا کچھ وہان سرانجام تیار کیا تھا سو اپنے دیوتا کو چڑھا دیا اور پان پھول دھوٹ دیپ نیوید دے پوجا کر راجہ سے کہا تو ڈنڈوت کر تیرا تیج پرتاب بہت ہوگا اور اشٹ شدھیان تیرے گھر مین رہینگی یہ شُن راجہ نے بیتال کی بات یاد کر ہاتھ جوڑ نپٹ ادھینٹا سے کہا کہ مہاراج مین پرنام کرنا نہین انتا پر آپ گرو ہین جو کرپا کر کے سکھائے تو مین کرون یہ شُن جوگی نے جی مین ڈنڈوت کر تلے کو سر جھکایا تیون ہی راجہ نے ایک کھڑگ مار کہ سر جدا ہوگیا اور میال نے ان پھولون کا مینہ برسایا ایسا کہا ہے کہ جواپنے تین مارا جاہ اس کے ایسے ا دھرم نہین اس سے اجرام من کی اندر سمت سے ہوتا اپنےاپنے باون پریڈ بانجو کا کرنے لگے اور جاندا پریشن ہو راجہ سر کریا جیت کر کہا کہ برانگ تاجہ نے ہاتھ جوڑ کر کہا مہاراج یہ تھا میری شفارمین برسید موند نے کہا ک جبتک چاند سورج پرتھوی کاش استحصر من تک یہ کتھا پرسیده میگی اور سرب بجوم کا راج ہو گا آتی که بابا ندی اپنے استھان کو گیا اور راجہ نےان دونون لوتھو کولے اس تیل کو کڑھاؤ مین ڈالدیات یہ دنون پر حاضر ہوئے اور کھنے لگے کہ مین کیا گیا ہی راجہ نے کہا جب مین یاد کرونگا تا تا سطرح اپنے بچن نے راجہ اپنے گھر مین راج کرنے لگا ایسا کہا ہو کہ پنڈت ہویا مورکھ لڑکا ہو ب جوان جو بدعمان ہوگا اسی کی جے ہو گی ۔ تمت ۱۹۵۳ء<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> chgplk5w0g32qgkw7igu8qrjg16a3fn 32675 32673 2026-05-22T06:39:49Z Charan Gill 46 32675 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>'''راجہ چندر سین کا مع اپنے بیٹے کے جنگل مین واسطے شکار کے آنا اور رانی اور راج کنیا کو لیجانا''' ساشٹانگ ڈنڈوت کر تب تو کہیو کہ مین سب راجاؤن کا راجہ ہون اور سب راجہ آنکے مجھے ڈنڈوت کرتے ہین مین نے آجتک کِسی کو ڈنڈوت نہین کی اور مین جانتا ہون آپ گرو ہین مجھے کرپا کر سِکھا دیجئے تو مین کرون جب وہ ڈنڈوت کرے تب ایسا کھڑک ماریو کہ سر جدا ہو جائے تب تو اکھنڈ راج کریگا اور یہ جو تو نہ کریگا تو وہ تجھے مار اچھل راج کریگا اتنی بات راجہ کو جتا بیتل اسی مردے کے قالب سے نِکلکر چلا گیا اور کچھ رات رہے وہ مردہ لا راجہ نے جوگی کے آگے رکھ دیا جوگی اسکو دیکھ خوش ہوا راجہ کی بہت سی بڑائ کی پھر منتر پڑھ اس مردیکو جگا ہوم کر میل دیا اور دکشن کیطرف بیٹر جتنا کچھ وہان سرانجام تیار کیا تھا سو اپنے دیوتا کو چڑھا دیا اور پان پھول دھوٹ دیپ نیوید دے پوجا کر راجہ سے کہا تو ڈنڈوت کر تیرا تیج پرتاب بہت ہوگا اور اشٹ شدھیان تیرے گھر مین رہینگی یہ شُن راجہ نے بیتال کی بات یاد کر ہاتھ جوڑ نپٹ ادھینٹا سے کہا کہ مہاراج مین پرنام کرنا نہین انتا پر آپ گرو ہین جو کرپا کر کے سکھائے تو مین کرون یہ شُن جوگی نے جی مین ڈنڈوت کر تلے کو سر جھکایا تیون ہی راجہ نے ایک کھڑگ مار کہ سر جدا ہو گیا اور بیتال نے ان پھولون کا مینھ برسایا ایسا کہا ہے کہ جواپنے تئین مارا جاہے اسکے مارنے سے ادھرم نہین اس سمے راجہ کا ساحص دیکھ اندر سمیت سب دیوتا اپنےاپنے بمانون پر بیڈھ وہان جے جے کار کرنے لگے اور راجہ اندر نے پریشن ہو راجہ بیر بکریا جیت سے کہا کہ بر مانگ تب راجہ نے ہاتھ جوڑ کر کہا مہاراج یہ کتھا میری شنسار مین پرسیدھ ہو اندر نے کہا کہ جبتک چاند سورج پرتھوی آکاش استھِر ہین تب تک یہ کتھا پرسیدھ رہیگی اور سرب بھوم کا راجہ ہوگا آتنی کہہ راجہ اندر اپنے استھان کو گیا اور راجہ نے ان دونون لوتھونکو لے اس تیل کو کڑھاؤ مین ڈالدیا تب یہ دونون بیر آ حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمین کیا آگیا ہے راجہ نے کہا جب مین یاد کرونگا تب آنا اسطرح انسے بچن لے راجہ اپنے گھر مین راج کرنے لگا ایسا کہا ہے کہ پنڈت ہویا مورکھ لڑکا ہوا جوان جو بدھمان ہوگا اسی کی جے ہوگی ۔ تمت<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 2mdy958ggzer8wzbxdfre9ovd6kni9g 32676 32675 2026-05-22T06:42:04Z Charan Gill 46 32676 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>'''راجہ چندر سین کا مع اپنے بیٹے کے جنگل مین واسطے شکار کے آنا اور رانی اور راج کنیا کو لیجانا''' ساشٹانگ ڈنڈوت کر تب تو کہیو کہ مین سب راجاؤن کا راجہ ہون اور سب راجہ آنکے مجھے ڈنڈوت کرتے ہین مین نے آجتک کِسی کو ڈنڈوت نہین کی اور مین جانتا ہون آپ گرو ہین مجھے کرپا کر سِکھا دیجئے تو مین کرون جب وہ ڈنڈوت کرے تب ایسا کھڑک ماریو کہ سر جدا ہو جائے تب تو اکھنڈ راج کریگا اور یہ جو تو نہ کریگا تو وہ تجھے مار اچھل راج کریگا اتنی بات راجہ کو جتا بیتل اسی مردے کے قالب سے نِکلکر چلا گیا اور کچھ رات رہے وہ مردہ لا راجہ نے جوگی کے آگے رکھ دیا جوگی اسکو دیکھ خوش ہوا راجہ کی بہت سی بڑائ کی پھر منتر پڑھ اس مردیکو جگا ہوم کر میل دیا اور دکشن کیطرف بیٹر جتنا کچھ وہان سرانجام تیار کیا تھا سو اپنے دیوتا کو چڑھا دیا اور پان پھول دھوٹ دیپ نیوید دے پوجا کر راجہ سے کہا تو ڈنڈوت کر تیرا تیج پرتاب بہت ہوگا اور اشٹ شدھیان تیرے گھر مین رہینگی یہ شُن راجہ نے بیتال کی بات یاد کر ہاتھ جوڑ نپٹ ادھینٹا سے کہا کہ مہاراج مین پرنام کرنا نہین انتا پر آپ گرو ہین جو کرپا کر کے سکھائے تو مین کرون یہ شُن جوگی نے جی مین ڈنڈوت کر تلے کو سر جھکایا تیون ہی راجہ نے ایک کھڑگ مار کہ سر جدا ہو گیا اور بیتال نے ان پھولون کا مینھ برسایا ایسا کہا ہے کہ جواپنے تئین مارا جاہے اسکے مارنے سے ادھرم نہین اس سمے راجہ کا ساحص دیکھ اندر سمیت سب دیوتا اپنےاپنے بمانون پر بیڈھ وہان جے جے کار کرنے لگے اور راجہ اندر نے پریشن ہو راجہ بیر بکریا جیت سے کہا کہ بر مانگ تب راجہ نے ہاتھ جوڑ کر کہا مہاراج یہ کتھا میری شنسار مین پرسیدھ ہو اندر نے کہا کہ جبتک چاند سورج پرتھوی آکاش استھِر ہین تب تک یہ کتھا پرسیدھ رہیگی اور سرب بھوم کا راجہ ہوگا آتنی کہہ راجہ اندر اپنے استھان کو گیا اور راجہ نے ان دونون لوتھونکو لے اس تیل کو کڑھاؤ مین ڈالدیا تب یہ دونون بیر آ حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمین کیا آگیا ہے راجہ نے کہا جب مین یاد کرونگا تب آنا اسطرح انسے بچن لے راجہ اپنے گھر مین راج کرنے لگا ایسا کہا ہے کہ پنڈت ہویا مورکھ لڑکا ہوا جوان جو بدھمان ہوگا اسی کی جے ہوگی ۔ تمت {{center|۱۹۵۳ء}}<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> musbigdpb20s4lcgei5pziih2f2ux9t صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/217 250 13128 32674 32464 2026-05-22T06:34:49Z Keshuseeker 83 /* Proofread */ 32674 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>ہنومان نے کہا۔ "میں لنکا تک تیر کر جا سکتا‎ ہُوں ۔ تُم لوگ یہیں بیٹھے ہوئے میرا اِنتِظار کرتے رہنا - 8. جامونت نے ہنس کر کہا " اتنی ہمت ہونے پر بھی تم اب تک خاموش کیوں بیٹھے تھے؟ ہنومان نے جواب دیا " صرف اسی لئے کہ ئیں اوروں کو اپنا درجہ اور مرتبہ بڑھانے کا موقع دینا چاہتا تھا ۔ میں پہلے بول اُٹھتا تو شاید آوروں کو یہ افسوس ہوتا کہ ہنومان نہ ہوتے تو میں اِس کام کو پورا کر کے راجہ سگریو اور راجہ رام چندر دو نو کا پیارا بن جاتا ۔ جب کوئی تیار نہ ہوا تو مجبورہ ہو کہ مجھے اس کام کا بیڑا اُٹھانا پڑا ۔ آپ لوگ بے فکر ہو جائیں ۔ مجھے یقین ہے کہ میں ۔ بہت جلد کامیاب ہو کر واپس آؤنگا " : یہ کہ کر ہنومان جی سمندر کی طرف مردانہ قدیم اُٹھاتے ہوئے چلے . +<noinclude></noinclude> nerl8y33cmyr0v81irz7budwswfa867 32677 32674 2026-05-22T06:42:09Z Keshuseeker 83 32677 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>ہنومان نے کہا۔ "میں لنکا تک تیر کر جا سکتا‎ ہُوں ۔ تُم لوگ یہیں بیٹھے ہوئے میرا اِنتِظار کرتے رہنا - جامُونت نے ہنس کر کہا "اِتنی ہمّت ہونے پر بھی تُم اب تک خاموش کیوں بیٹھے تھے"؟ ہنومان نے جواب دیا - "صرف اِسی لئے کہ میں اوروں کو اپنا درجہ اور رُتبہ بڑھانے کا موقع دینا چاہتا تھا ۔ میں پہلے بول اُٹھتا تو شاید آوروں کو یہ افسوس ہوتا کہ ہنومان نہ ہوتے تو میں اِس کام کو پورا کر کے راجہ سگریو اور راجہ رام چندر دونو کا پیارا بن جاتا ۔ جب کوئی تیّار نہ ہواتو مجبورہ ہو کہ مجھے اس کام کا بِیڑا اُٹھانا پڑا ۔ آپ لوگ بے فکر ہو جائیں ۔ مجھے یقین ہے کہ میں بہت جلد کامیاب ہو کر واپس آؤنگا" - یہ کہ کر ہنومان جی سمندر کی طرف مردانہ قدم اُٹھاتے ہوئے چلے -<noinclude></noinclude> ejxatvt638z0bt6aw48wirldpbt2h5w صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/262 250 13148 32680 32563 2026-05-22T11:54:01Z Kaur.gurmel 74 32680 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>مرنے لگے : راون نے سوچا اب تو رامچندر کی فوج لنکا پر چڑھ آئی ، معلوم نہیں لڑائی کا انجام کیا ہو ۔ ایک بار سیتا کو راضی کرنے کی آخری کوشش کر لینی چاہئے ۔ ابکی اُس نے دھمکی کے بجاے فریب سے کام لینے کا فیصلہ کیا۔ ایک ہوشیار کا ریگر سے رامچندر کی شبیہ سے ملتا جلتا ایک سر بنوایا ۔ ویسے ہی تیر اور کمان بنوائے اور ان چیزوں کو سیتا جی کے سامنے لے جا کر بولا ۔ ' یہ لو تمہارے اُس سر ہے جس پر تم جان دیتی تھیں۔ میری فوج کے ایک آدمی نے انہیں لڑائی میں مار ڈالا ہے اور اُن کا سرکاٹ لایا ہے۔ راون کی طاقت کا اندازہ تم اسی سے کر سکتی ہو ۔ اب میرا کہنا مانو ، میری رانی بن جاؤ سیاہ دھوکے میں آگئیں ۔ سر پیٹ پیٹ کر رونے لگیں ۔ دنیا اُن کی آنکھوں میں تاریک ہو گئی۔<noinclude></noinclude> l00xuysccxjvqoeg8sokkw9hexwbxqg