ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.3 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/3 250 12029 32689 27136 2026-05-23T05:14:06Z BalramBodhi 60 32689 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 1</noinclude> '''بسم اللہ الرحمن الرحيم''' <br><br> ازبندہ خضوع و التجا سید - بخشایش بندہ از خدا میز سید<br> گر من کنم آنکہ آن مرا نازیبات - تو کن ہمہ آنکہ آن ترا میز سید<br> سرکشی ہندوستان کے جواب مضمون میں جو میں نے اصلی اسباب بغاوت ہندوستان کے بیان کئے تھے اگر چہ دل چاہتا تھا کہ اُب ان کو صفحہ روزگار پر سے مٹا دوں بلکہ اپنے دل سے بھی بھلا دوں کیونکہ جو اشتہار جناب ملکہ معظمہ کوئین وکٹوریا دام سلطنتہا نے جاری کیا ہے حقیقت وہ بغاوت کے ہر ایک اصلی سبب کا پورا علاج ہے حق یہ ہے کہ اشتہار کا مضمون دیکھ کر بغاوت کے سبب لکھنے والوں کے ہاتھ سے قلم گر پڑے کسی کو ضرورت نہ رہی کہ اب ان کی تشخیص کریں اسلئے کہ اب ان کا علاج پورا ہو گیا۔ <br> مگران فساد کے اصلی سببوں پر غور کرنا اور اپنی صداقت سے سچے سچے سببوں کا بیان کرنا میں ایک عمدہ خیر خواہی اپنی گورنمنٹ کی سمجھتا ہوں ، اس لئے مجھ پر واجب ہے کہ گو ان کا علاج بہ خوبی ہوگیا پھر بھی جو سبب میرے دل میں ہیں ان کو بھی ظاہر کردوں ۔<br> سچ ہے کہ بہت بڑے بڑے دانا اور تجربہ کار لوگوں نے اس بغاوت کے سبب لکھے ہیں مگر امید ہے کہ شاید کسی ہندوستانی<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> ep9eq7csop0c9v7zrpu6ammmczrnrvg 32690 32689 2026-05-23T05:25:15Z BalramBodhi 60 32690 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 1</noinclude> '''بسم اللہ الرحمن الرحيم''' <br><br> ازبندہ خضوع و التجا سید - بخشایش بندہ از خدا میز سید<br> گر من کنم آنکہ آن مرا نازیبات - تو کن ہمہ آنکہ آن ترا میز سید<br> سرکشی ہندوستان کے جواب مضمون میں جو میں نے اصلی اسباب بغاوت ہندوستان کے بیان کئے تھے اگر چہ دل چاہتا تھا کہ اب اُن کو صفحہ روزگار پر سے مٹا دوں بلکہ اپنے دل سے بھی بھلا دوں کیونکہ جو اشتہار جناب ملکہ معظمہ کوئین وکٹوریا دام سلطنتہا نے جاری کیا ہے در حقیقت وہ بغاوت کے ہر ایک اصلی سبب کا پوُرا علاج ہے حق یہ ہے کہ اشتہار کا مضمون دیکھ کر بغاوت کے سبب لکھنے والوں کے ہاتھ سے قلم گر پڑے کسی کو ضرورت نہ رہی کہ اب اُن کی تشخیص کریں اسلئے کہ اب اُن کا علاج پوُرا ہو گیا. مگر ان فساد کے اصلی سببوں پر غور کرنا اور اپنی صداقت سے سچے سچے سببوں کا بیان کرنا میں ایک عمدہ خیر خواہی اپنی گورنمنٹ کی سمجھتا ہوں اس لئے مجھ پر واجب ہے کہ گو اُن کا علاج بہ خوبی ہوگیا پھر بھی جو سبب میرے دل میں ہیں اُن کو بھی ظاہر کردوں ۔ سچ ہے کہ بہت بڑے بڑے دانا اور تجربہ کار لوگوں نے اِس بغاوت کے سبب لکھے ہیں مگر امید ہے کہ شاید کسی ہندوستانی<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> 7nharz4ozatfrmwo43nyitgj8jyrth7 صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/4 250 12030 32691 27144 2026-05-23T05:40:29Z BalramBodhi 60 32691 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 4</noinclude> آدمی نے اس میں کوئی بات نہ لکھی ہو۔ بہتر ہے کہ ایسے شخص کی بھی ایک رائے رہے . {{center|مضمون}} کیا سبب ہوا ہندوستان کی سرکشی کا :۔ {{center|جواب}} اس کا جواب دینے سے پہلے ہم کو بتانا چاہئے کہ سرکشی کے کیا معنی ہیں۔ جان لو کہ اپنی گورنمنٹ کا مقابلہ کرنا یا مخالفوں کے شریک ہونا یا مخالفانہ ارادے سے حکم نہ ماننا اور نہ بجا لانا یا نڈر ہوکر گورنمنٹ کے حقوق اور حدود کو توڑنا سرکشنی ہے مثلا:۔ 1 - نوکر کا یا رعیت کا اپنی گورنمنٹ سے لڑنا اور مقابلہ کرنا. 2 - یا مخالفانہ ارادے سے حکم کا نا ماننا اور نہ بجا لانا. 3 - یا مخالفوں کی مدد کرنا اور اُن کے شریک ہونا. 4 - یا رعیت کا نڈر ہوکر آپس میں لڑنا اور حد معینہ گورنمنٹ سے تجاوز کرنا. 5 - با اپنی گورنمنٹ کی محبت اور خیر خواہی دل میں نہ رکھنا اور مصیبت کے وقت طرف داری نہ کرنا. اس نازک وقت میں جو سنہ 1857ء میں گذرا اِن اقسام کی سرگوشیوں میں سے کوئی قسم کی بھی سرکشی ایسی نہیں ہے جو نہ ہوئی ہو۔ بلکہ بہت تھوڑے دانا آدمی ایسے نکلینگے جو پچھلی بات سے خالی ہوں۔ حالانکہ یہ پچھلی بات جیسی ظاہر میں کم ہے ویسی ہی قدر میں بہت زیادہ ہے. سرکشی کا ارادہ جو دل میں پیدا ہوتا ہے اُس کا سبب<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> sac0qatpww105h5ziynwo4dabgzntkt صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/262 250 13148 32681 32680 2026-05-22T11:59:25Z Kaur.gurmel 74 /* پروف خوانی شدہ */ 32681 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>مرنے لگے. راون نے سوچا اب تو رامچندر کی فوج لنکا پر چڑھ آئی ، معلوم نہیں لڑائی کا انجام کیا ہو ۔ ایک بار سیتا کو راضی کرنے کی آخری کوشش کر لینی چاہئے ۔ ابکی اُس نے دھمکی کے بجاے فریب سے کام لینے کا فیصلہ کیا۔ ایک ہوشیار کا ریگر سے رامچندر کی شبیہ سے ملتا جلتا ایک سر بنوایا ۔ ویسے ہی تیر اور کمان بنوائے اور ان چیزوں کو سیتا جی کے سامنے لے جا کر بولا ۔ ' یہ لو تمہارے اُس سر ہے جس پر تم جان دیتی تھیں۔ میری فوج کے ایک آدمی نے انہیں لڑائی میں مار ڈالا ہے اور اُن کا سرکاٹ لایا ہے۔ راون کی طاقت کا اندازہ تم اسی سے کر سکتی ہو ۔ اب میرا کہنا مانو ، میری رانی بن جاؤ'. سیاہ دھوکے میں آگئیں ۔ سر پیٹ پیٹ کر رونے لگیں ۔ دُنیا اُن کی آنکھوں میں تاریک ہو گئی۔<noinclude></noinclude> pyigh7o4rv82xa45qkvbz3i348lg1pp صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/269 250 13177 32682 2026-05-22T12:00:43Z Kaur.gurmel 74 /* غیر پروف خوانی شدہ */ «چاہتا تھا کہ ذرا دم لینے کی مہلت ہے تو دوسرا رتھ لاؤں مگر لکشمن اتنی تیزی سے تیر چلاتے تھے کہ اُسے ہلتے کی بھی مہلت ملتی تھی۔ آخر اُس نے غضبناک ہو کر شکتی بان چلا دیا ۔ یہ بان اتنا قاتل تھا کہ اس کا زخمی آناً فاناً مر جاتا تھا ۔ یہ تیر لگتے ہی لکشمن...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32682 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>چاہتا تھا کہ ذرا دم لینے کی مہلت ہے تو دوسرا رتھ لاؤں مگر لکشمن اتنی تیزی سے تیر چلاتے تھے کہ اُسے ہلتے کی بھی مہلت ملتی تھی۔ آخر اُس نے غضبناک ہو کر شکتی بان چلا دیا ۔ یہ بان اتنا قاتل تھا کہ اس کا زخمی آناً فاناً مر جاتا تھا ۔ یہ تیر لگتے ہی لکشمن بے ہوش ہو کہ زمین پر گر پڑے۔ میگھنا د خوشی سے متوالا ہو گیا ۔ اُسی وقت بھاگا ہوا کراون کے پاس گیا اور بولا - - دو بھائیوں میں سے ایک کو تو میں نے آج ٹھنڈا کر دیا ۔ ایسا شکستی بان مارا ہے کہ بیچ نہیں سکتا ۔ کل دوسرے بھائی کو مار لونگا۔ بس لڑائی کا خاتمہ ہو جائیگا ۔ راون نے بیٹے کو چھاتی سے لگا لیا،. ادھر رامچندر کی فوج میں کہرام مچ گیا۔ ہنومان نے بیہوش لکشمن کو گود میں اٹھایا اور رامچندر کے پاس لائے ۔ رام نے لکشمن<noinclude></noinclude> 5n8gw20w9sw3gcmbgkumzah0wc8fh0j صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/270 250 13178 32683 2026-05-22T12:02:15Z Kaur.gurmel 74 /* غیر پروف خوانی شدہ */ «کی یہ کیفیت دیکھی تو بے اختیار آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ رو رو کر کہنے لگے ۔ 'ہائے لکشمن ! تم مجھے چھوڑ کر کہاں چلے گئے ۔ ہائے! مجھے کیا معلوم تھا کہ تم یوں میرا ساتھ چھوڑ دو گے نہیں تو میں پتا کے حکم کو رد کر دیتا، کبھی بن کی طرف قدم نہ اٹھاتا ۔ اب...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32683 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کی یہ کیفیت دیکھی تو بے اختیار آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ رو رو کر کہنے لگے ۔ 'ہائے لکشمن ! تم مجھے چھوڑ کر کہاں چلے گئے ۔ ہائے! مجھے کیا معلوم تھا کہ تم یوں میرا ساتھ چھوڑ دو گے نہیں تو میں پتا کے حکم کو رد کر دیتا، کبھی بن کی طرف قدم نہ اٹھاتا ۔ اب میں کون منہ لے کہ اجودھیا جاؤنگا ۔ عورت کے پیچھے بھائی کی جان گنوا کر کس کو منہ دکھاؤنگا ۔ عورت تو پھر بھی مل سکتی ہے پر بھائی کہاں ملیگا ۔ ہاے ! میں نے ہمیشہ کے لئے اپنے ماتھے پر کلنک لگا لیا ۔ جامونت ابھی تک کہیں لڑ رہا تھا۔ رام کا ولاپ سُن کر دوڑا ہوا آیا ۔ اور لکشمن کو غور سے دیکھنے لگا ۔ بوڑھا ، تجربہ کار آدمی تھا ۔ کتنی ہی لڑائیاں دیکھ چکا تھا۔ بولا مہاراج! آپ اتنے نہ اس کیوں ہوتے ہیں ۔ لکشمن جی ابھی زندہ ہیں۔ صرف بیہوش ہو گئے ہیں ۔ زہر سارے بدن میں دوڑ گیا ہے ۔ اگر<noinclude></noinclude> n3kbz63r2zc2lr3xkr9rdwb5zv1d740 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/271 250 13179 32684 2026-05-22T12:03:26Z Kaur.gurmel 74 /* غیر پروف خوانی شدہ */ «کوئی ہوشیار وید مل جائے تو ابھی زہر اُتر جائے۔ اور یہ اُٹھ بیٹھیں ۔ وید کی تلاش کرنی چاہئے ۔ بھھیشن نے کہا شہر میں سکھین نام کا ایک دید رہتا ہے ۔ زہر کا علاج کرنے میں وہ بہت ماہر ہے ۔ اُسے کسی طرح بلانا چاہئے ۔ ہنومان نے کہا میں جاتا ہوں اُسے لئے آ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32684 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کوئی ہوشیار وید مل جائے تو ابھی زہر اُتر جائے۔ اور یہ اُٹھ بیٹھیں ۔ وید کی تلاش کرنی چاہئے ۔ بھھیشن نے کہا شہر میں سکھین نام کا ایک دید رہتا ہے ۔ زہر کا علاج کرنے میں وہ بہت ماہر ہے ۔ اُسے کسی طرح بلانا چاہئے ۔ ہنومان نے کہا میں جاتا ہوں اُسے لئے آتا ہوں بھیجیشن سے سکھین کے مکان کا پتہ پوچھ کر وہ بھیس بدل کر شہر میں جا پہنچے اور سکھین سے یہ حال کہا ۔ سکھین نے کہا ۔ بھائی میں وید ہوں ۔ راون کے دربار سے میری پرورش ہوتی ہے۔ اُسے معلوم ہو جائیگا کہ میں نے لکشمن کا علاج کیا ہے تو مجھے زندہ نہ چھوڑیگا'. ہنومان نے کہا۔ آپ کو ایشور نے جو کمال بخشا ہے اُس سے ہر ایک شخص کو فائدہ پہنچانا آپ کا فرض ہے ۔ خون کے باعث فرض سے منہ موڑنا آپ جیسے بزرگ کے لئے شایاں نہیں'.{{nop}}<noinclude></noinclude> 3n8bebo9bcrwbujeq8vp2ljawh1u6pp صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/272 250 13180 32685 2026-05-22T12:05:14Z Kaur.gurmel 74 /* غیر پروف خوانی شدہ */ «سکھین لاجواب ہو گیا ۔ اُسی وقت ہنومان کے ساتھ چل کھڑا ہوا۔ بڑھاپے کے باعث دُہ تیز نہ چل سکتا تھا۔ اس لئے ہنومان نے اُسے گود میں اٹھا لیا اور بھاگے ہوئے اپنی فوج میں آ پہنچے ۔ سکھین نے لکشمن کی نبض دیکھی، جسم دیکھا اور بولا ۔ ابھی بچنے کی اُمید ہے۔...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32685 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>سکھین لاجواب ہو گیا ۔ اُسی وقت ہنومان کے ساتھ چل کھڑا ہوا۔ بڑھاپے کے باعث دُہ تیز نہ چل سکتا تھا۔ اس لئے ہنومان نے اُسے گود میں اٹھا لیا اور بھاگے ہوئے اپنی فوج میں آ پہنچے ۔ سکھین نے لکشمن کی نبض دیکھی، جسم دیکھا اور بولا ۔ ابھی بچنے کی اُمید ہے۔ سنجیونی بوٹی مل جائے تو بچ سکتے ہیں ۔ مگر سورج نکلنے کے پہلے ہوئی یہاں آجانی چاہئے۔ ورنہ جان نہ بچیگی'. جامونت نے پوچھا ۔ سنجیونی بوٹی ملیگی کہاں ؟ کھیں بولا - انتر کی طرف ایک پہاڑ ہے ۔ وہیں یہ بوٹی ملنگی'. بارہ گھنٹے کے اندر وہاں جانا اور بوٹی تلاش کر کے لانا آسان کام نہ تھا ۔ سب ایک دوسرے کا منہ تا کتے تھے ۔ کسی کی ہمت نہ پڑتی تھی کہ جانے کو تیار ہو ۔ آخر را مچندر نے ہنومان سے کہا ۔ دوست ! یہ مشکل تمہیں آسان کر سکتے<noinclude></noinclude> eziccxekgql9vdda0snf9d377uar6dt صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/273 250 13181 32686 2026-05-22T12:05:55Z Kaur.gurmel 74 /* غیر پروف خوانی شدہ */ «ہو۔ تمہارے سوا مجھے دوسرا کوئی نظر نہیں آتا ۔ ہنومان کو حکم ملنے کی دیر تھی ۔ سکھین سے بوٹی کا پتہ پوچھا اور آندھی کی طرح دوڑے کئی گھنٹوں میں وہ اُس پہاڑ پر جا پہنچے مگر رات کے وقت بوٹی کی پہچان نہ ہو سکی ۔ بہت سی گھاس بات بھی ہوئی تھی ۔ ہنومان نے ا...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32686 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>ہو۔ تمہارے سوا مجھے دوسرا کوئی نظر نہیں آتا ۔ ہنومان کو حکم ملنے کی دیر تھی ۔ سکھین سے بوٹی کا پتہ پوچھا اور آندھی کی طرح دوڑے کئی گھنٹوں میں وہ اُس پہاڑ پر جا پہنچے مگر رات کے وقت بوٹی کی پہچان نہ ہو سکی ۔ بہت سی گھاس بات بھی ہوئی تھی ۔ ہنومان نے اُن سبھوں کو اُکھاڑ لیا اور اُلٹے قدم لوٹے ہے ادھر سب لوگ بیٹھے ہنومان کا انتظار کر تھے ۔ ایک ایک پل کا شمار کیا جا رہا تھا۔ اب ہنومان فلاں مقام پر پہنچے ہونگے۔ رہے. اب وہاں سے چلے ہونگے ۔ اب پہاڑ پر ہونگے ۔ اس طرح اندازہ کرتے کرتے تڑکا ہوگیا۔ پر ہنومان کا کہیں پتہ نہیں۔ رامچندر گھرانے لگے ۔ ایک گھنٹہ میں ہنومان نہ آگئے تو غضب ہو جائیگا ۔ کئی آدمی اُنہیں دیکھنے کے لئے چھوٹے ۔ کئی آدمی درختوں پر چڑھ کر انہ کی طرف نظریں دوڑانے لگے ۔ پہ ہنومان کا کہیں نشان نہیں!<noinclude></noinclude> dinvopsoxcr8hxzaktmie43cfrtz3t8 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/274 250 13182 32687 2026-05-22T12:06:48Z Kaur.gurmel 74 /* غیر پروف خوانی شدہ */ «اب صرف آدھ گھنٹہ کی اور میعاد ہے۔ ادھر لکشمن کی حالت پل پل پر خراب ہوتی جاتی تھی ۔ رامچندر مایوس ہو کر پھر رونے لگے کہ یکا یک انگہ نے آکر کہا ' مہاراج ! ہنومان دوڑا چلا آ رہا ہے ۔ بس آیا ہی چاہتا ہے۔ رامچندر کا چهره چمک اُٹھا ۔ وہ بیقرار ہو کر خود ہن...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32687 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>اب صرف آدھ گھنٹہ کی اور میعاد ہے۔ ادھر لکشمن کی حالت پل پل پر خراب ہوتی جاتی تھی ۔ رامچندر مایوس ہو کر پھر رونے لگے کہ یکا یک انگہ نے آکر کہا ' مہاراج ! ہنومان دوڑا چلا آ رہا ہے ۔ بس آیا ہی چاہتا ہے۔ رامچندر کا چهره چمک اُٹھا ۔ وہ بیقرار ہو کر خود ہنومان کی طرف دوڑے اور اُسے چھاتی سے لگا لیا ۔ ہنومان نے گھاس پات کا ایک ڈھیر سکھین کے سامنے رکھ دیا سکھیں نے اس میں سے سنجیونی بوٹی نکالی اور فوراً لکشمن کے زخم پر اُس کا لیپ کیا۔ بوٹی نے اکسیر کا کام کیا ۔ دیکھتے دیکھتے زخم بھرنے لگا ۔ لکشمن کی آنکھیں کھل گئیں ۔ ایک ۔ ایک گھنٹہ میں وُہ اُٹھ بیٹھے اور دو پہر تک تو باتیں کرنے لگے ۔ فوج میں خوشی کے نعرے بلند ہوئے. -<noinclude></noinclude> plaqheqeef4xrswzg2m6qwnx7h0fndp صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/257 250 13183 32688 2026-05-22T14:58:22Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ «آزد بخت بادشاہ کی سرگذشت ( ٢٥٥ ) سوجھی ہی ۔ خدا چا ہے تو سواے اِس فکر کے دوسري کوئی طرح مخلصی کی نظر نہیں آتی • مین نے کہا فرماؤ تو ۔ وہ کون سی تدبیر ہی ؟ کہنے لگی اگر تو سعی اور محنت کرے تو ہو سکے ماین نے کہا ماین فرما نامبر دار ہوں۔ اگر حکم کرد تو ج...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32688 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>آزد بخت بادشاہ کی سرگذشت ( ٢٥٥ ) سوجھی ہی ۔ خدا چا ہے تو سواے اِس فکر کے دوسري کوئی طرح مخلصی کی نظر نہیں آتی • مین نے کہا فرماؤ تو ۔ وہ کون سی تدبیر ہی ؟ کہنے لگی اگر تو سعی اور محنت کرے تو ہو سکے ماین نے کہا ماین فرما نامبر دار ہوں۔ اگر حکم کرد تو جلتی آگ میں کو دپردن - اور سیر ہی پاؤن تو تمھاری خاطر آسمان پر پالا جاؤں ۔ جو کچھ فرماؤ سو بجالاؤن ، ملکہ نے کہا ۔ تو برے بت کے بتہ نجانے میں جا اور جس اور جس جگہہ جو تیتان انار نے ہیں ۔ وہان ایک سیاہ عات پر ارہتا ہی * اِس ملک کی رسم نہی کہ جو کوئی مخلص اور محتاج ہو جاتا ہی۔ اُس جگہہ وہ ثاث او ژھہ کر باتھتا ہی ۔ یہان کے لوگ جو زیارت کو جاتے ہیں موافق اپنے اپنے مقدور کے اُسے دیتے ہیں . جب دو چار دن میں مال جمع ہونا ہی ۔ بندے ایک خلوت بڑے بت کی سرکار سے دے کر اُسے رخصت کرتے ہیں ۔ وہ تو نگر ہو کر چلا جاتا ہی۔ کوئی نہیں معلوم کرتا کہ یہ کون تھا ہ تو بھی جا کر اُس پلاس کے نیچے بیٹھ ۔ اور ہاتھ منہ اپنا خوب طرح چھپالے اور کسو<noinclude></noinclude> ex5yk7q1sk2qlr3f60evlb5nvka2x38