ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.4
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/9
250
12062
34696
34693
2026-05-27T00:42:09Z
Charan Gill
46
34696
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
رسالہ اسباب بغاوت ہند
از سر سید احمد خان
صفحہ نمبر 7</noinclude>ایسے فسادات کا قابو زیادہ تھا اُن محاربات کے وقت میں جو ۱۸۳۹ء میں شروع تھے جب کہ کسی طرح کی سرکشی ہندوستان میں نہیں ہوئی باوجود یکہ صدہا سال تک ہندوستان انہیں ملکوں کے بادشاہوں کے تحت حکومت تھا جن سے کہ محاربات در پیش تھے اور انہیں بادشاہوں کے سبب سے مسلمانوں کا وجود اور عروج ہندوستان میں ہوا تھا تو اب ہرگز خیال میں بھی نہیں آتا کہ اب کا فسا مسلمانوں نے اپنی حکومت اور سلطنت کے جاتے رہنے کے رنج سے کیا ہو.
دلّی کے مغول بادشاہ کے وقت دلی کے لوگوں اور ان سہروں م میں جو دلی کے قریب تھے کچھ نہ تھی مگر بیرو نجات میں
دلّی کے مغول شدہ بادشاہ کی سلطنت کا کوئی بھی آرزومند نہ تھا اِس خاندان کی لغد اور بیہودہ حسرت نے سب کی آنکھوں میں سے اُس کی قدر اور منجلت گرا دی تھے۔ ہاں بیرو سنجات کے لوگ جو بادشاہ کے حالات اور حرکات اور اقتدار اور اختیار سے واقف نہ تھے بلا شیہ بادشاہ کی بڑی قدر سمجھتے تھے اور اُس کو ہندوستان کا بادشاہ اور انربل ایسٹ انڈیا کمپنی کو منتظم ہندوستان جانتے تھے اِلّاخاص دلّی کے اور اُس کے قریب و جوار کے رہنے والے بادشاہ کی کچھ بھی وقت خیال میں لاتے تھے
باوجود ان سب باتوں کے ہندوستان کے سب آدمیوں کو بادشاہ کے معدوم ہونے سے کچھ بھی رنج نہ تھا یاد ہوگا کہ جب ١٨٢7ع میں لارڈ امهرسٹ صاحب بہادر نے علانیہ کہدیا تھا کہ ہماری گورنمنٹ اب کچھ تیموریہ خاندان کے تابع نہیں ہے بلکہ وہ خود ہندوستان کی بادشاہ ہے تو اُس وقت رعایا اور والیان ہندوستان کو کچھ بھی خیال نہیں ہوا تھا
گوخاص بادشاہی کو خاندان کو کُچھ رنج ہوا ہو.{{nop}}<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
r994gtk1kl4cq5jxqk7fn2l3oets6qi
34697
34696
2026-05-27T00:48:53Z
Charan Gill
46
34697
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
رسالہ اسباب بغاوت ہند
از سر سید احمد خان
صفحہ نمبر 7</noinclude>ایسے فسادات کا قابو زیادہ تھا اُن محاربات کے وقت میں جو ۱۸۳۹ء میں شروع تھے جب کہ کسی طرح کی سرکشی ہندوستان میں نہیں ہوئی باوجود یکہ صدہا سال تک ہندوستان انہیں ملکوں کے بادشاہوں کے تحت حکومت تھا جن سے کہ محاربات در پیش تھے اور انہیں بادشاہوں کے سبب سے مسلمانوں کا وجود اور عروج ہندوستان میں ہوا تھا تو اب ہرگز خیال میں بھی نہیں آتا کہ اب کا فسا مسلمانوں نے اپنی حکومت اور سلطنت کے جاتے رہنے کے رنج سے کیا ہو.
دلّی کے مغول بادشاہ کے وقت دلی کے لوگوں اور ان سہروں م میں جو دلی کے قریب تھے کچھ نہ تھی مگر بیرو نجات میں
دلّی کے مغول شدہ بادشاہ کی سلطنت کا کوئی بھی آرزومند نہ تھا اِس خاندان کی لغو اور بیہودہ حرکات نے سب کی آنکھوں میں سے اُس کی قدر اور منجلت گرا دی تھے۔ ہاں بیرو سنجات کے لوگ جو بادشاہ کے حالات اور حرکات اور اقتدار اور اختیار سے واقف نہ تھے بلا شیہ بادشاہ کی بڑی قدر سمجھتے تھے اور اُس کو ہندوستان کا بادشاہ اور انربل ایسٹ انڈیا کمپنی کو منتظم ہندوستان جانتے تھے اِلّاخاص دلّی کے اور اُس کے قریب و جوار کے رہنے والے بادشاہ کی کچھ بھی وقت خیال میں لاتے تھے باوجود ان سب باتوں کے ہندوستان کے سب آدمیوں کو بادشاہ کے معدوم ہونے سے کچھ بھی رنج نہ تھا یاد ہوگا کہ جب ١٨٢7ع میں لارڈ امهرسٹ صاحب بہادر نے علانیہ کہدیا تھا کہ ہماری گورنمنٹ اب کچھ تیموریہ خاندان کے تابع نہیں ہے بلکہ وہ خود ہندوستان کی بادشاہ ہے تو اُس وقت رعایا اور والیان ہندوستان کو کچھ بھی خیال نہیں ہوا تھا
گوخاص بادشاہی کو خاندان کو کُچھ رنج ہوا ہو.{{nop}}<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
2z4kv1ee30xtjtxeodxax8hg9h08axv
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/10
250
12063
34698
27323
2026-05-27T11:00:32Z
BalramBodhi
60
34698
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
رسالہ اسباب بغاوت ہند
از سر سید احمد خان
صفحہ نمبر 8</noinclude>مسلمانوں کا بہت زوروں سے آپس میں سازش اور مشورہ کرنا اِس ارادہ سے کہ ہم باہم متفق ہو کر غیر مذھب کے لوگوں پر جہاد کریں اور اُن کی حکومت سے آزاد ہو جاویں نہایت بے بنیاد بات ہے جب کہ مسلمان ہماری گورنمنٹ کے مستامن تھے۔ کسی طرح گورنمنٹ کی عملداری میں جہاد نہیں کر سکتے تھے پینتیس ٣٥ برس پیشتر ایک بہت بڑے مولوی محمد اسمعیل نے ہندوستان مین جہاد کا وعظ کہا اور سب آدمیوں کو جہاد کی ترغب دی اُس وقت اُس نے صاف بیان کیا کہ ہندوستان کے رہنے والے جو سرکار انگریزی کے امن میں رہتے ہیں ہندوستان میں جہاد
نہیں کر سکتے اس لئے ہزاروں آدمی جہادی ہر ایک ضلع ہندوستان میں جمع ہوئے اور سرکار کی عملداری میں کسی طرح کا فساد نہیں کیا اور غربی سرحد پنجاب پر جا کر لڑائی کی اور یہ جو ہر ضلے میں پاجی اور جاہلوں کی طرف سے جہاد کا نام ہوا اگر اس کو ہم جہاد ہی فرض کریں تو بھی اُس کی سازش اور صلاح قبل دسویں مئی ١٨٥٧ء مطابق نہ تھے٠
غور کرنا چاہئے کہ اِس زمانہ میں جن لوگوں نے جہاد کا جھنڈا بلند کیا ایسے خراب اور بدرویہ اور بداطوار آدمی تھے کہ بجز شراب خواری اور تماش بینی اور ناچ اور رنگ دیکھنے کے اور کچھ وظیفہ اُن کا نہ تھا بھلا یہ کیونکر پیشوا اور مقتدا جہاد کے گنے جا سکتے تھے اس ہنگامہ میں کوئی بات بھی مذہب کے مطابق نہیں ہوئی سب جانتے ہیں کہ سرکاری خزانہ اور اسباب جو امانت تھا اُس میں خیانت کرنا ملازمین کو نمک ہرامی کرنی مذہب کے رو سے درست نہ تھی صریع ظاہر ہے کہ بیگناہوں کا قتل علے الخصوص عورتوں اور بچّوں اور بڑھوں کا مذہب کے موجب گناہ عظیم تھا پھر کیونکر<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
g38oecfdl2kl9or314i7q1uyyiaedvd
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/11
250
12064
34699
27325
2026-05-27T11:32:05Z
BalramBodhi
60
34699
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
رسالہ اسباب بغاوت ہند
از سر سید احمد خان
صفحہ نمبر 9</noinclude>یہ ہنگامہ غدر جہاد ہو سکتا تھا ہاں البتہ چند بدذاتوں نے
دنیا کی طبع اور اپنی منفعت اور اپنے خیالات پورا کرنے کو اور
جاہلوں کے بہکانے کو اور اپنے ساتھ جمعیت جمع کرنے کو جہاد کا نام لے دیا پھر یہ بات بھی مفسدوں کی حرامزدگیوں میں سے ایک حرامزدگی تھی نہ واقعے میں حہاد.
دلّی میں جو جہاد کا فتوے چھپا وہ ایک عمدہ دلیل جہاد کی سمجھی جاتی ہے مگر میں نے تحقیق سُنا ہے۔ اور اس کے اثباب پر بہت دلیلیں ہیں کہ وہ محض بے اصل ہے میں نے سنا ہے کہ جب فوج نمکھرام میرٹھ سے دلی میں گئی تو کسی شخص تے جہاد کے باب میں فتوے چاہا سب نے فتوے دیا کہ جہاد نہیں ہو سکتا اگرچہ اِس پہلے فتوے کی میں نے نقل دیکھی ہے مگر جب کہ وہ اصل فتوئے معدوم ہے تو میں اُس نقل کو نہیں کہہ سکتا کہ کہاں تک لایق اعتماد کے ہے۔ مگر حب بریلی کی فوج دلی میں پہنچی اور دوبارہ فتوے ہوا جو مشہور ہے اور جس میں میں جہاد کرنا واجب لکھا ہے بلاشیہ اصلی نہیں۔ چھاپنے والے اُس فتوے نے جو ایک مفسد اور نهایت قدیمی بدذات آدمی تھا جاہلوں کے بہکانے اور ورغلانے کو لوگوں کے نام لکھ کر اور چھاپ کر اُس کو رونق دیا تھا بلکہ ایک آدھ مہر ایسے شخص کی چھاپ دی تھی جو قبل غدر مر چکا تھا۔ مگر مشہور ہے کہ چند آدمیوں نے فوج باغی بریلی اور اُس کے مفسد ہمراہیوں کے جبر اور ظُلم سے مہریں بھی کی تھیں.
دلّی میں ایک بہت بڑا گروہ مولویوں اور اُن کے تابعین کا ایسا تھا کہ وہ مذہب کی رُو سے معزول بادشاہ دلّی کو بہت بُرا اور بدغنی سمجھتے تھے اُن کا یہ عقیدہ تھا کہ دلّی کی جن مسجدوں میں<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
a3awwceu0qu3ds1dmvympj33b8s4zlk
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/265
250
13145
34695
34694
2026-05-26T15:53:05Z
Kaur.gurmel
74
34695
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>لڑنے کو تیار بیٹھا ہوُأ ہے ۔ سیتا اب یہاں
سے نہیں جا سکتی ۔ اُس کا خیال چھوڑ دیں۔
ورنہ اُن کے حق میں اچھا نہ ہوگا۔ راکشسوں
کی فوج جس وقت میدان میں آئیگی
سگریو اور ہنومان دُم دبا کر بھاگتے نظر آئینگے ۔
راکشسوں سے ابھی رامچندر کو سابقہ نہیں
پڑا ہے ۔ ہم نے اندر تک سے اپنا لوہا
منوا لیا ہے ۔ یہ پہاڑی چوہے کس شمار
و قطار میں ہیں،.
انگد ۔ 'جن لوگوں کو تم پہاڑی چوہے
کہتے ہو۔ وہ تمہاری ایک ایک فوج کے لئے اکیلے
کافی ہیں ۔ اگر اُن کی طاقت کا امتحان لینا
چاہتے ہو تو انہیں پہاڑی چوہوں میں سے
ایک ادنے چوہا تمہارے دربار میں کھڑا
ہے اُس کا امتحان کر لو ۔ افسوس ہے کہ
اس وقت قاصد ہوں اور قاصد ہتھیار سے
کام نہیں لے سکتا ورنہ اسی وقت دکھا دیتا<noinclude></noinclude>
fn0qdb7llgmyidzc26m7m7gvg71t5io