ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.4 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/11 250 12064 34700 34699 2026-05-27T13:03:35Z Charan Gill 46 34700 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind رسالہ اسباب بغاوت ہند از سر سید احمد خان صفحہ نمبر 9</noinclude>یہ ہنگامہ غدر جہاد ہو سکتا تھا ہاں البتہ چند بدذاتوں نے دنیا کی طبع اور اپنی منفعت اور اپنے خیالات پورا کرنے کو اور جاہلوں کے بہکانے کو اور اپنے ساتھ جمعیت جمع کرنے کو جہاد کا نام لے دیا پھر یہ بات بھی مفسدوں کی حرامزدگیوں میں سے ایک حرامزدگی تھی نہ واقعے میں حہاد. '''دلّی میں جو جہاد کا فتوے جو باغیوں نے چھپا وہ دراصل جھوٹا تھا''' دلّی میں جو جہاد کا فتوے چھپا وہ ایک عمدہ دلیل جہاد کی سمجھی جاتی ہے مگر میں نے تحقیق سُنا ہے۔ اور اس کے اثباب پر بہت دلیلیں ہیں کہ وہ محض بے اصل ہے میں نے سنا ہے کہ جب فوج نمکھرام میرٹھ سے دلی میں گئی تو کسی شخص تے جہاد کے باب میں فتوے چاہا سب نے فتوے دیا کہ جہاد نہیں ہو سکتا اگرچہ اِس پہلے فتوے کی میں نے نقل دیکھی ہے مگر جب کہ وہ اصل فتوئے معدوم ہے تو میں اُس نقل کو نہیں کہہ سکتا کہ کہاں تک لایق اعتماد کے ہے۔ مگر حب بریلی کی فوج دلی میں پہنچی اور دوبارہ فتوے ہوا جو مشہور ہے اور جس میں میں جہاد کرنا واجب لکھا ہے بلاشیہ اصلی نہیں۔ چھاپنے والے اُس فتوے نے جو ایک مفسد اور نهایت قدیمی بدذات آدمی تھا جاہلوں کے بہکانے اور ورغلانے کو لوگوں کے نام لکھ کر اور چھاپ کر اُس کو رونق دیا تھا بلکہ ایک آدھ مہر ایسے شخص کی چھاپ دی تھی جو قبل غدر مر چکا تھا۔ مگر مشہور ہے کہ چند آدمیوں نے فوج باغی بریلی اور اُس کے مفسد ہمراہیوں کے جبر اور ظُلم سے مہریں بھی کی تھیں. دلّی میں ایک بہت بڑا گروہ مولویوں اور اُن کے تابعین کا ایسا تھا کہ وہ مذہب کی رُو سے معزول بادشاہ دلّی کو بہت بُرا اور بدغنی سمجھتے تھے اُن کا یہ عقیدہ تھا کہ دلّی کی جن مسجدوں میں<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> ngszeaf0h24bcuwck3r639tyv4ur3hk 34701 34700 2026-05-27T13:15:40Z Charan Gill 46 34701 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind رسالہ اسباب بغاوت ہند از سر سید احمد خان صفحہ نمبر 9</noinclude>یہ ہنگامہ غدر جہاد ہو سکتا تھا ہاں البتہ چند بدذاتوں نے دنیا کی طبع اور اپنی منفعت اور اپنے خیالات پورا کرنے کو اور جاہلوں کے بہکانے کو اور اپنے ساتھ جمعیت جمع کرنے کو جہاد کا نام لے دیا پھر یہ بات بھی مفسدوں کی حرامزدگیوں میں سے ایک حرامزدگی تھی نہ واقعے میں حہاد. '''دلّی میں جو جہاد کا فتوے جو باغیوں نے چھپا وہ دراصل جھوٹا تھا''' دلّی میں جو جہاد کا فتوے چھپا وہ ایک عمدہ دلیل جہاد کی سمجھی جاتی ہے مگر میں نے تحقیق سُنا ہے۔ اور اس کے اثباب پر بہت دلیلیں ہیں کہ وہ محض بے اصل ہے میں نے سنا ہے کہ جب فوج نمکھرام میرٹھ سے دلی میں گئی تو کسی شخص تے جہاد کے باب میں فتوے چاہا سب نے فتوے دیا کہ جہاد نہیں ہو سکتا اگرچہ اِس پہلے فتوے کی میں نے نقل دیکھی ہے مگر جب کہ وہ اصل فتوئے معدوم ہے تو میں اُس نقل کو نہیں کہہ سکتا کہ کہاں تک لایق اعتماد کے ہے۔ مگر حب بریلی کی فوج دلی میں پہنچی اور دوبارہ فتوے ہوا جو مشہور ہے اور جس میں میں جہاد کرنا واجب لکھا ہے بلاشیہ اصلی نہیں۔ چھاپنے والے اُس فتوے نے جو ایک مفسد اور نهایت قدیمی بدذات آدمی تھا جاہلوں کے بہکانے اور ورغلانے کو لوگوں کے نام لکھ کر اور چھاپ کر اُس کو رونق دیا تھا بلکہ ایک آدھ مہر ایسے شخص کی چھاپ دی تھی جو قبل غدر مر چکا تھا۔ مگر مشہور ہے کہ چند آدمیوں نے فوج باغی بریلی اور اُس کے مفسد ہمراہیوں کے جبر اور ظُلم سے مہریں بھی کی تھیں. '''دلّی میں مولویوں کا بڑا گروہ جو مغول بادشاه کو بدعتی سمجھتا تھا اور ان کی مکبوضہ مسجدوں میں نماج نہ پڑھتے تھے''' دلّی میں ایک بہت بڑا گروہ مولویوں اور اُن کے تابعین کا ایسا تھا کہ وہ مذہب کی رُو سے معزول بادشاہ دلّی کو بہت بُرا اور بدعتی سمجھتے تھے اُن کا یہ عقیدہ تھا کہ دلّی کی جن مسجدوں میں<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> qqbqf2g0y7ue30f7we5saaqnr34e8tw صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/12 250 12065 34702 27327 2026-05-27T13:40:37Z Charan Gill 46 34702 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind رسالہ اسباب بغاوت ہند از سر سید احمد خان صفحہ نمبر 10</noinclude>بادشاہ کا قبض دخل اور اہتمام ہے ان مسجدوں میں نماز درست نہیں چنانچہ وہ لوگ جامع مسجد میں بھی نماز نہیں پڑھتے تھے۔ اور مدرسے بہت قبل کے چھپے ہوئے فتوے اس معاملہ میں موجود ہیں ۔ پھر میں قبول کر سکتی ہے کہ ان لوگوں نے جہاد کے درست ہونے میں اور بادشاہ کو سردار بنانے میں فتوے جن کی میں نے دیا ہو۔ جن لوگوں کی مہراس نو اسے پر چھاپی گئی ہے ان میں ہے پر پانی اور بعضوں نے عیسائیوں کو پناہ دی اور ان کی جان او یو سنت کی حفا میں حضوں نے عیسائیوں کی کی ان میں سے کوئی شخص لڑائی پر نہیں چڑھا مقابلہ نہیں آیا جا دی + اور عزت کی پناہ اگر واقع میں وہ ایسا ہی سمجھنے میں مشہور ہے تو یہ باتیں کیوں کرتے ۔ خوشکہ میری را سے میں کبھی مسلمانوں سے سال میں بھی نہیں آیا کہ باہم متفق ہوکر غیر مذہب کے حاکموں پر جہاد کریں او جاہلوں اورمفسدوں کا فلند ڈال دیا کہ جہاد ہے جہاد ہے اور ایک نعرہ حیدری پکارتے بھرنا قابل اعتبار کے نہیں البتہ مسلمانوں کو میں قدر ناراضی باعتہا ر مند ہسیہ کے بھی اور جبر سب سے بھی دو ہم بیند و صاف بیان کرینگے ۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ہندؤں کی بنسبت مسلمانوں کو ہرا کی بات میں زیادہ تر ارانی تھی اور یہی سبب ہے کہ مسلمان بنسبت ہندؤں سکے بعض اضلاع میں زیادہ از مفسد ہوئے گوجری تلاع میرک بندر زناد کیا وہ بھی کچھ کم نہیں ہے * پہلے ہی کہا فوج میں ہرگز منشورہ اور پہلے سے صلاح دریا سے بغاوت کے جارت کو سلام تحقیق بات ہے کہ باغبان فوج نے بعد جارت بھی کبھی اس با ز تهیه کا آپس میں بھی ذکر نہیں کیا سماں بارک پور کے واقعہ کے اعداد و یا اس زمانہ میں جب کہ پنجاب میں قواعد عبد بدسکھانے کو متعدد مینوں کے آدمی جمع کئے گئے۔ آپس میں صلاح نھیری اور اس باتفاق ے<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> hilgtg8gddultp7e1f10hwgy012z6mv 34707 34702 2026-05-28T06:23:13Z BalramBodhi 60 34707 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind رسالہ اسباب بغاوت ہند از سر سید احمد خان صفحہ نمبر 10</noinclude>بادشاہ کا قبض و دخل اور اہتمام ہے اُن مسجدوں میں نماز درست نہیں چنانچہ وہ لوگ جامع مسجد میں بھی نماز نہیں پڑھتے تھے۔ اور مدرسے بہت قبل کے چھپے ہوئے فتوے اس معاملہ میں موجود ہیں ۔ پھر کبھی عقل قبول کر سکتی ہے کہ اُن لوگوں نے جہاد کے درست ہونے میں اور بادشاہ کو سردار بنانے میں فتواے دیا ہو۔ جن لوگوں کی مہر اُس فتواے پر چھاپی گئی ہے اُن میں سے بعضوں نے عیسائیوں کو پناہ دی اور ان کی جان اور عزت کی حفاظت کی اُن میں سے کوئی شخص لڑائی پر نہیں چڑھا مقابلہ پر نہیں آیا اگر واقع میں وہ ایسا ہی سمجھتے جیسا مشہور ہے تو یہ باتیں کیوں کرتے۔ غرضکہ میری راے میں کبھی مسلمانوں کے خیال میں بھی نہیں آیا کہ باہم متفق ہوکر غیر مذہب کے حاکموں پر جہاد کریں اور جاہلوں اور مفسدوں کا غلغلہ ذال دینا کہ جہاد ہے جہاد ہے اور ایک نعرہ حیدری پکارتے پھر ناقابل اعتبار کے نہیں ہاں البتہ مسلمانوں کو جس قدر ناراضی باعتبار مذہب کے تھی اور جس سبب سے تھی وہ ہم آیندہ صاف بیان کرینگے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ہندؤں کی بنسبت مسلمانوں کو ہرایک بات میں زیادہ تر نارانی تھی اور یہی سبب ہے کہ مسلمان بنسبت ہندؤں کے بعض اضلاع میں زیادہ تر مفسد ہوئے گو جن اضلاع مین کہ بندؤں نے فساد کیا وہ بھی کچھ کم نہیں ہے. فوج میں ہرگز مشورہ اور پہلے سے صلاح در باب بغاوت کے نہ تھے تحقیق بات ہے کہ باغبانِ فوج نے بعد بغاوت بھی کبھی اس بات کا آپس میں بھی ذکر نہیں کیا ہاں بارک پور کے واقعہ کے بعد اور خصوصاً اُس زمانہ میں جب کہ پنجاب میں قواعد جدید سکھانے کو متعدد پلٹنوں کے آدمی جمع کئے گئے۔ آپس میں یہ صلاح ٹھری اور اُس پر اتفاق<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> acdcr23dpnvn49ueonolo8xp1cdbqp6 صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/8 250 12674 34706 30685 2026-05-28T03:28:07Z Taranpreet Goswami 90 /* پروف خوانی شدہ */ 34706 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|٧|}}</noinclude>مین الٹا پھر آؤن گا راجہ نے اسکی شرط مانی اور لیچلا پھر بھوت بولا اے راجہ پنڈت چتر عقلمند لوگ جو ہین اُنکے دِن تو گیت اور شاستر کے آنند مین کٹتے ہین اور بیوکوفون کے دن کِل کِل اور نیند مین اس سے بہتر یہ ہے کہ اتنی راہ اچھی باتون کے چرچے مین کٹ جائے اے راجہ مین کہتا ہون اسے سُن {{rule}} {{center|<big>پہلی کہانی</big>}} <big>{{rule}}</big> ایک راجہ پرتاب مکٹ نام بنارس کا تھا اور اسکے بیٹے کا نام بجر مکٹ جسکی ناری کا نام مہادیبی ایک دِن کنور اپنے دیوان کے بیٹے کو ساتھہ لے شکار کو گیا اور بہت دور جنگل مین جا نکلا اور اسکے بیچ ایک خوبصورت تالاب دیکھا کہ اسکے کنارے ہنس چکوی چکوا بگلے مرغابیان سب کے سب کلول مین تھے چارونترف پختہ گھاٹ بنے ہوئے کنول تالاب مین پھولے ہوے کنارونپر طرح طرح کے درخت لگے ہوُئے کہ جنکی گھنی گھنی چھانہہ {{rule}} {{center|<big>راجہ کا دیوان کے بیٹے سمیت شیکار کو جانا اور ایک تالاب پر کسی راجہ کی<br> بیٹی کو دیکھہ کر عاشق ہونا</big>}} <big>{{rule}}</big> مین ٹھنڈی ہوا آتی تھی اور پنچھی پکھیرو درختون پر چہچہون مین تھے اور رنگ برنگ کے پھول بن مین پھول رہے تھے ان پر بھونرون کے جھنڈ کے جھنڈ گونج رہے تھے کہ اس تالاب کے کنارے پہونچے اور منھہ ہاتھہ دھو کر اوپر آئے وہان ایک مہادیو کا مندر تھا گھوڑون کو باندھہ مندر کے اندر جا مہادیو کا درشن کر باہر نکلے جتنی دیر انکو درشن مین لگی تھی اسی عرصہ مین کسی راجہ کی بیٹی سہیلیون کا جھنڈ ساتھہ لیے ہوے اسی تالاب کے دوسرے کنارے پر اشنان کرنے آئی سو اشنان دھیان پوجا کر سہیلیون کو ساتھہ لئے درختون کی چھانہ مین ٹہلنے لگی ادھر دیوان کا بیٹا بیٹھا اور راجہ کا بیٹا پھرتا تھا کہ اچانک اسکی اور راجہ کی بیٹی کی چار نظرین ہوئین اسکے روپ دیکھتے ہی راجہ کا بیٹا فریفتہ ہوا اور اس راج پتری نے اس کنور کو دیکھ سر مین جو کنول کا پھول پوجا کر کے رکھا تھا وہی پھول ہاتھہ مین لے کان سے لگا دانت سے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> l4btas45p784bccbeuntbrc81ifu349 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/267 250 13143 34704 32558 2026-05-28T00:48:26Z Kaur.gurmel 74 34704 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کیفیت بیان کر دی. {{center|'''(۲) میگھناو'''}} ۔ آخر دونو فوجوں میں جنگ چھڑ گئی ۔ دن بھر تلواریں چلتی رہیں ۔ رات کو بھی لڑنے والوں نے دم نہ لیا ۔ لاشوں کے انبار لگ گئے ۔ خون کی ندیاں بہ گئیں ۔ رام چندر کی فوج اتنی بہادری سے لڑی کہ راکشسوں کی ہمت ٹوٹ گئی۔ راون جس فوج کو بھیجنا وہی گھنٹہ دو گھنٹہ میں جان ہے کہ بھاگتی ۔ یہاں تک کہ اُس نے جھلا کر اپنے لڑکے میگھناد کو بھیجا ۔ سیگھناو بڑا بہادر تھا۔ اُسے اندرجیت کا لقب ملا ہوا تھا ۔ راکشسوں کو اُس پر نازہ تھا. میگھناد کے میدان میں آتے ہی لڑائی کا رنگ بدل گیا ۔ کہاں تو راکشس لوگ میدان سے بھاگ رہے تھے ۔ کہاں اب رامچندر کی فوج میں بھگدر پڑ گئی ۔ میگھنا د نے تیروں کی ایسی<noinclude></noinclude> 45wv2ow6p583xeveoufrd9q3kral9pl 34705 34704 2026-05-28T01:20:35Z Kaur.gurmel 74 /* پروف خوانی شدہ */ 34705 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کیفیت بیان کر دی. {{center|'''(۲) میگھناو'''}} ۔ آخر دونو فوجوں میں جنگ چھڑ گئی ۔ دِن بھر تلواریں چلتی رہیں ۔ رات کو بھی لڑنے والوں نے دم نہ لیا ۔ لاشوں کے انبار لگ گئے ۔ خون کی ندیاں بہ گئیں ۔ رام چندر کی فوج اتنی بہادری سے لڑی کہ راکشسوں کی ہمت ٹوٹ گئی۔ راون جس فوج کو بھیجتا وہی گھنٹہ دو گھنٹہ میں جان لے کر بھاگتی ۔ یہاں تک کہ اُس نے جھلّا کر اپنے لڑکے میگھناد کو بھیجا ۔ میگھناد بڑا بہادر تھا۔ اُسے اندرجیت کا لقب ملا ہوا تھا ۔ راکشسوں کو اُس پر ناز تھا. میگھناد کے میدان میں آتے ہی لڑائی کا رنگ بدل گیا ۔ کہاں تو راکشس لوگ میدان سے بھاگ رہے تھے ۔ کہاں اب رامچندر کی فوج میں بھگدر پڑ گئی ۔ میگھناد نے تیروں کی ایسی<noinclude></noinclude> ipccz5tve93bpakzglr4wz5c4nql1gg صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/266 250 13144 34703 32559 2026-05-27T14:18:37Z Kaur.gurmel 74 34703 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کہ پہاڑی چوہے کس غضب کے ہوتے ہیں۔ ہے اس دربار میں کوئی جودھا جو میرے پیر کو زمین سے ہٹا دے ۔ جسے دعوئے ہو نکل آئے '. انگد کی یہ للکار سُن کر کئی سورما اُٹھے اور انگد کا پیر اُٹھانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، مگر جو بھر بھی نہ ہٹا سکے۔ اپنا سا منہ لے کر اپنی اپنی جگہ پر جا بیٹھے۔ تب راون خود سنگھاسن سے اُٹھا اور انگد کے پیر پر جُھک کر اُٹھانا چاہتا تھا کہ انگد نے پیر کھینچ لیا اور بولے اگر پیروں پر سر جُھکانا ہے تو رامچندر کے پیروں پر سر جھُکاؤ میرے پیر چھونے سے تمہیں کچھ فائدہ نہ ہوگا' راون شرمندہ ہو کر اپنی جگہ پر جا بیٹھا. انگد اپنا پیغام سُنا ہی چُکے تھے ۔ جب انہیں معلوم ہو گیا کہ راون پر کسی کے سمجھانے کا اثر نہ ہوگا تو وہ رامچندر کے پاس لوٹ آئے اور ساری<noinclude></noinclude> 4gcz18tgrw3z8rhedezg6g174oejm53