ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.4
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/13
250
12066
34708
27329
2026-05-28T12:34:36Z
Charan Gill
46
34708
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند<br>
از سر سید احمد خان<br>
صفحہ نمبر 11</noinclude>ہوا کہ جدید کارتوس کبھی استعمال میں نہلا دینگے اس وقت بھی کسی قسم کا ارادہ اور نیت دیتی بلکہ یکینی سمجھتے تھے کہ سرکاراس بات کو موقوف کر دیگی اگرچہ یہ موقوف ہوُا مگر دسویں مئی ١٨٥٧ء کے بعد موقوفی سے کچھ فائدہ اس فساد کے رفح ہونے میں جو ہو گیا تھا نہ تھا اور وہ آگ اس قابل تھی کہ ایسی تدبیروں سے بُجھ سکتی.
فوج باغی کا پہلے سے ولی کے مغول بادشاہ سے سازش کرنا محض بے اصل ہے دلی کے بادشاہ کو کوئی شخص کی اور مقدس نہیں بتاتا با
اس کے منہ پر اس کی لوگ خوشامد کرتے تھے اور پیٹھ پیچھے نیتے تھے
لوگ اس کے فرید ہوتے تھے کسی فائدہ کی نظر سے ندبطورا نقعاد کی
عجب نہیں کہ کسی بلیٹن کا کوئی نانگا یا صوبہ دار بھی مرید ہوا ہومگراں
بات کو سازش بغاوت سے کچھ بھی علاقہ نہیں ہے بلاشی نوج باغی
دلی پر جمع ہوگئی مگرحیب اس نے سرکار سے بگاڑ دی تھی تو دلی کے
بادشاہ کے سوا ایسا اور کون شخص نا کہ جس کی طرف خرج رجوع
کرتی اس میں کچھ پہلے سے سازش کی حاجت نرمتی بلاشبہ جونیت
بادشاہ ولی کی سرکار نے بنارکھی تھی وہ ہمیشہ نامناسب اور قابل
اعتراض کے بھی اور جناب لام ڈالن برا صاحب بہادر نے جو تجویز
کی تھی وہ بشیک لاین منظوری کے بھی بلکہ اس سے نہ یادگل آمد
کرنا واجب تھا بینک دلی کا بادشاہ بھوبل میں ایک چنگاری تھا۔
جس نے ہوا کے زور سے اڑ کر تمام ہندوستان کو ہلا دیا *
اصلی سبب اس فساد کا میں تو ایک ہی سمجھتا ہوں باقی شریت است
جر قد راسباب ہیں وہ سب اس کی شاخیں ہیں اور میری کایرین اس
بیچ
کچھ ہمی اور قیاسی ہی نہیں بلکہ اگلے زمانہ کے بہت سے نامند
کی پیلے کا اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے اور تمام صنفین پیل
آن گورنمنٹ کے اس باب میں میرے طرف ار میں ایام تاریخیں
میں الی سبنیادکا<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
awo0azxpvgv0s704edx6a0hz3402fn8
34709
34708
2026-05-28T13:36:41Z
Charan Gill
46
34709
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند<br>
از سر سید احمد خان<br>
صفحہ نمبر 11</noinclude>ہوا کہ جدید کارتوس کبھی استعمال میں نہلا دینگے اس وقت بھی کسی قسم کا ارادہ اور نیت دیتی بلکہ یکینی سمجھتے تھے کہ سرکار اس بات کو موقوف کر دیگی اگرچہ یہ موقوف ہوُا مگر دسویں مئی ١٨٥٧ء کے بعد موقوفی سے کچھ فائدہ اس فساد کے رفح ہونے میں جو ہو گیا تھا نہ تھا اور وہ آگ اس قابل تھی کہ ایسی تدبیروں سے بُجھ سکتی.
فوج باغی کا پہلے سے دلّی کے مغول بادشاہ سے سازش کرنا محض بے اصل ہے دلّی کے بادشاہ کو کوئی شخص ولی اور مقدس نہیں سمجھتا تھا اُس کے مُنہ پر اُس کی لوگ خوشامد کرتے تھے اور پیٹھ پیچھے ہنستے تھے لوگ اُس کے مرید ہوتے تھے کسی فائدہ کی نظر سے نہ بطور اعتقاد کُچھ عجب نہیں کہ کسی پلٹن کا کوئی تانگا یا صوبہ دار بھی مرید ہوا ہو مگر اس بات کو سازش بغاوت سے کچھ بھی علاقہ نہیں ہے بلاشبہ فوج باغی دلی پر جمع ہو گئی مگر جب اُس نے سرکار سے بگاڑ دی تھی تو دلی کے بادشاہ کے سوا ایسا اور کون شخص تھا کہ جس کی طرف خرج رجوع
کرتی اس میں کچھ پہلے سے سازش کی حاجت نرمتی بلاشبہ جونیت
بادشاہ ولی کی سرکار نے بنارکھی تھی وہ ہمیشہ نامناسب اور قابل
اعتراض کے بھی اور جناب لام ڈالن برا صاحب بہادر نے جو تجویز
کی تھی وہ بشیک لاین منظوری کے بھی بلکہ اس سے نہ یادگل آمد
کرنا واجب تھا بینک دلی کا بادشاہ بھوبل میں ایک چنگاری تھا۔
جس نے ہوا کے زور سے اڑ کر تمام ہندوستان کو ہلا دیا *
اصلی سبب اس فساد کا میں تو ایک ہی سمجھتا ہوں باقی شریت است
جر قد راسباب ہیں وہ سب اس کی شاخیں ہیں اور میری کایرین اس
بیچ
کچھ ہمی اور قیاسی ہی نہیں بلکہ اگلے زمانہ کے بہت سے نامند
کی پیلے کا اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے اور تمام صنفین پیل
آن گورنمنٹ کے اس باب میں میرے طرف ار میں ایام تاریخیں
میں الی سبنیادکا<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
6uihtchccz7gzd4xqfecj1ntr2ythhr
34710
34709
2026-05-28T15:51:01Z
BalramBodhi
60
34710
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند<br>
از سر سید احمد خان<br>
صفحہ نمبر 11</noinclude>ہوا کہ جدید کارتوس کبھی استعمال میں نہ لاوینگے اُس وقت بھی اور کسی قسم کا ارادہ اور نیت نہ تیی بلکہ یقینی سمجھتے تھے کہ سرکار اس بات کو موقوف کر دیگی اگرچہ یہ موقوف ہوُا مگر دسویں مئی ١٨٥٧ء کے بعد موقوفی سے کچھ فائدہ اُس فساد کے رفح ہونے میں جو ہو گیا تھا نہ تھا اور وہ آگ اس قابل نہ تھی کہ ایسی تدبیروں سے بُجھ سکتی.
فوج باغی کا پہلے سے دلّی کے مغول بادشاہ سے سازش کرنا محض بےاصل ہے دلّی کے بادشاہ کو کوئی شخص ولی اور مقدس نہیں سمجھتا تھا اُس کے مُنہ پر اُس کی لوگ خوشامد کرتے تھے اور پیٹھ پیچھے ہنستے تھے لوگ اُس کے مرید ہوتے تھے کسی فائدہ کی نظر سے نہ بطور اِعتقاد کُچھ عجب نہیں کہ کسی پلٹن کا کوئی تانگا یا صوبہ دار بھی مرید ہوا ہو مگر اس بات کو سازش بغاوت سے کچھ بھی علاقہ نہیں ہے بلاشبہ فوج باغی دلی پر جمع ہو گئی مگر جب اُس نے سرکار سے بگاڑ دی تھی تو دلّی کے بادشاہ کے سوا ایسا اور کون شخص تھا کہ جس کی طرف فوج رجوع کرتی اس میں کچھ پہلے سے سازش کی حاجت نہ تیی بلاشبہ جو ہثیت بادشاہ دلی کی سرکار نے بنا رکھی تھی وہ ہمیشہ نامناسب اور قابل اعتراض کے تھی اور جناب لارڈ الن برا صاحب بہادر نے جو تجویز کی تھی وہ بیشک لایق منظوری کے تھی بلکہ اس سے زیادہ عمل و آمد کرنا واجب تھا بیشک دلّی کا بادشاہ بھوبل میں ایک چنگاری تھ۔ جس نے ہوا کے زور سے اڑ کر تمام ہندوستان کو جلا دیا.
اصلی سبب اس فساد کا میں تو ایک ہی سمجھتا ہوں باقی جس قدر اسباب ہیں وہ سب اِس کی شاخیں ہیں اور یہ سمجھ میری کچھ وہمی اور قیاسی ہی نہیں بلکہ اگلے زمانہ کے بہت سے عقلمندوں کی راے کا اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے اور تمام مصنفین پرنسپل آف گورنمنٹ کے اس باب میں میرے طرفدار میں اور تمام تاریخیں<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
ivcqp2zrng437hi7lzs3y9i3jqq2o96
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/14
250
12067
34711
27331
2026-05-29T00:36:22Z
Charan Gill
46
34711
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 12</noinclude>یورپ اور افریقہ کی میری راے کی صداقت پر یہت معتقد گواہ ہیں.
۔
سب لوگ تسلیم کرتے چلے آئے ہیں کہ واسطے اسلوبی اور خوبی اور پائداری گورنمنٹ کے مداخلت رعایا کی حکومت ملک میں واجبات سے ہے کام کی بھلائی یا برائی تدبیر کی صرف لوگوں سے
معلوم ہوتی ہے پیشتر اس سے کہ خرابیاں اس درجہ کو پہُنچین کہ پھر جن کا علاج ممکن نہ ہو*
{{Block center|<poem>سرِ چشمه شایَد گرفتن به بیل
چو پر شد نشاید گذشتن به پیل
</poem>}}
اور یہ بات نہیں حاصل ہوتی جب تک کہ مداخلت رعایا کی حکومت مالک میں نہ ہو ۔ علی الخصوص ہماری گورنمنٹ کو جو غیر ملک کے رہنے والے تھے اور مذہب اور رواج اور راہ و رسم اور طبیعت و عادت بھی اس ملک سے مختلف رکھتے تھے اس بات پر خیال رکھنا واجبات سے تھا گورنمنٹ کا انتظام اور اس کی خوبی اور اسلوبی اور پائداری ملکی اطوار اور عادات کی واقفیت اور پھر اس کی رعایت پر موقوف ہے کیونکہ اگلی تاریخوں کے دیکھنے سے حقیقت
ایک روزنامچہ ہے عادات اور خیالات او را طوا رخسانہ نوع انسات
کا معلوم ہوسکتا ہے کہ ان کی عادتیں اور خیالات اور اطوار موفق
کسی عقلی قا عدہ کے حاصل نہیں ہوئیں ہیں ۔ بلکہ ہر ایک ملک
اور قوم میں سب اتفاق ہوگئی میں بیس قوا عد گورنمنٹ ان مناع
اور اطوار پر موقومت میں نہ یہ کہ دہ اوضاع و اطوار اور عاداست
گورنمنٹ پراور اسی باست میں گورنمنٹ کی بانداری اور قیام ہے
کیونکہ جب تک دو عادتیں اور اخلاق رعایا کے دل میں تظلم اور
بنت الخامیت کمائی کی ہوئی ہل سنت کا ان کو بلانہ اور قلات کرنا ۔
می تمامی نانی کو پتلاف کرنا اور سب کو نجیدہ رکھتا تو کیا ہم جو لبادینگے<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
l0o3bitt8704msewoj8r1uqbrjarxci
34712
34711
2026-05-29T00:40:26Z
Charan Gill
46
34712
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 12</noinclude>یورپ اور افریقہ کی میری راے کی صداقت پر یہت معتقد گواہ ہیں.
سب لوگ تسلیم کرتے چلے آئے ہیں کہ واسطے اسلوبی اور خوبی اور پائداری گورنمنٹ کے مداخلت رعایا کی حکومت ملک میں واجبات سے ہے کام کی بھلائی یا برائی تدبیر کی صرف لوگوں سے
معلوم ہوتی ہے پیشتر اس سے کہ خرابیاں اس درجہ کو پہُنچین کہ پھر جن کا علاج ممکن نہ ہو*
{{Block center|<poem>سرِ چشمه شایَد گرفتن به بیل
چو پر شد نشاید گذشتن به پیل
</poem>}}
اور یہ بات نہیں حاصل ہوتی جب تک کہ مداخلت رعایا کی حکومت مالک میں نہ ہو ۔ علی الخصوص ہماری گورنمنٹ کو جو غیر ملک کے رہنے والے تھے اور مذہب اور رواج اور راہ و رسم اور طبیعت و عادت بھی اس ملک سے مختلف رکھتے تھے اس بات پر خیال رکھنا واجبات سے تھا گورنمنٹ کا انتظام اور اس کی خوبی اور اسلوبی اور پائداری ملکی اطوار اور عادات کی واقفیت اور پھر اس کی رعایت پر موقوف ہے کیونکہ اگلی تاریخوں کے دیکھنے سے حقیقت
ایک روزنامچہ ہے عادات اور خیالات او را طوا رخسانہ نوع انسات
کا معلوم ہوسکتا ہے کہ ان کی عادتیں اور خیالات اور اطوار موفق
کسی عقلی قا عدہ کے حاصل نہیں ہوئیں ہیں ۔ بلکہ ہر ایک ملک
اور قوم میں سب اتفاق ہوگئی میں بیس قوا عد گورنمنٹ ان مناع
اور اطوار پر موقومت میں نہ یہ کہ دہ اوضاع و اطوار اور عاداست
گورنمنٹ پراور اسی باست میں گورنمنٹ کی بانداری اور قیام ہے
کیونکہ جب تک دو عادتیں اور اخلاق رعایا کے دل میں تظلم اور
بنت الخامیت کمائی کی ہوئی ہل سنت کا ان کو بلانہ اور قلات کرنا ۔
می تمامی نانی کو پتلاف کرنا اور سب کو نجیدہ رکھتا تو کیا ہم جو لبادینگے<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
kilofjwgwmi67xbrmoksb0sfs86w8c4
34714
34712
2026-05-29T07:26:45Z
BalramBodhi
60
34714
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 12</noinclude>یورپ اور افریقہ کی میری راے کی صداقت پر بہت معتمد گواہ ہیں.
سب لوگ تسلیم کرتے چلے آئے ہیں کہ واسطے اسلوبی اور خوبی اور پائداری گورنمنٹ کے مداخلت رعایا کی حکومت ملک میں واجبات سے ہے کام کی بھلائی یا برائی تدبیر کی صرف لوگوں سے معلوم ہوتی ہے پیشتر اس سے کہ خرابیاں اس درجہ کو پہُنچین کہ پھر جن کا علاج ممکن نہ ہو.
{{Block center|<poem>سرِ چشمه شایَد گرفتن به مسیل
چو پر شد نشاید گذشتن به پیل
</poem>}}
اور یہ بات نہیں حاصل ہوتی جب تک کہ مداخلت رعایا کی حکومت ملک میں نہ ہو۔ علی الخصوص ہماری گورنمنٹ کو جو غیر ملک کے رہنے والے تھے اور مذہب اور رواج اور راہ و رسم اور طبیعت و عادت بھی اس ملک سے مختلف رکھتے تھے اس بات پر خیال رکھنا واجبات سے تھا گورنمنٹ کا انتظام اور اس کی خوبی اور اسلوبی اور پائداری ملکی اطوار اور عادات کی واقفیت اور پھر اس کی رعایت پر موقوف ہے کیونکہ اگلی تاریخوں کے دیکھنے سے در حقیقت ایک روزنامچہ ہے عادات اور خیالات اور اطوار مختلفہ نوع انسان کا معلوم ہو سکتا ہے کہ اُن کی عادتیں اور خیالات اور اطوار موفق کسی عقلی قاعدہ کے حاصل نہیں ہوئیں ہیں۔ بلکہ ہر ایک ملک اور قوم میں جب اتفاق ہوگئی ہیں پس قواعد گورنمنٹ اُن اوضاع اور اطوار پر موقوف ہیں نہ یہ کہ وہ اوضاع اور اطوار اور عادات قواعد گورنمنٹ پر اور اسی باست میں گورنمنٹ کی پائداری اور قیام ہے کیونکہ جب تک وہ عادتیں اور اخلاق رعایا کے دل میں مسطحکمم اور بمنزلہ خاصیت انسانی کے نہ ہو گئے ہوں اس وقت تک اُن کے برخلاف کرنا۔ صریح خاصیت انسانی کے بربرخلف کرنا اور سب کو رنجیدہ رکھنا جسے کیا ہم بھول جاوینگے<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
5ulyu9v706i80j57k2u474r2egzdqtv
34715
34714
2026-05-29T07:29:01Z
BalramBodhi
60
34715
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 12</noinclude>یورپ اور افریقہ کی میری راے کی صداقت پر بہت معتمد گواہ ہیں.
سب لوگ تسلیم کرتے چلے آئے ہیں کہ واسطے اسلوبی اور خوبی اور پائداری گورنمنٹ کے مداخلت رعایا کی حکومت ملک میں واجبات سے ہے کام کی بھلائی یا برائی تدبیر کی صرف لوگوں سے معلوم ہوتی ہے پیشتر اس سے کہ خرابیاں اس درجہ کو پہُنچین کہ پھر جن کا علاج ممکن نہ ہو.
{{Block center|<poem>سرِ چشمه شایَد گرفتن به مسیل
چو پر شد نشاید گذشتن به پیل
</poem>}}
اور یہ بات نہیں حاصل ہوتی جب تک کہ مداخلت رعایا کی حکومت ملک میں نہ ہو۔ علی الخصوص ہماری گورنمنٹ کو جو غیر ملک کے رہنے والے تھے اور مذہب اور رواج اور راہ و رسم اور طبیعت و عادت بھی اس ملک سے مختلف رکھتے تھے اس بات پر خیال رکھنا واجبات سے تھا گورنمنٹ کا انتظام اور اس کی خوبی اور اسلوبی اور پائداری ملکی اطوار اور عادات کی واقفیت اور پھر اس کی رعایت پر موقوف ہے کیونکہ اگلی تاریخوں کے دیکھنے سے در حقیقت ایک روزنامچہ ہے عادات اور خیالات اور اطوار مختلفہ نوع انسان کا معلوم ہو سکتا ہے کہ اُن کی عادتیں اور خیالات اور اطوار موفق کسی عقلی قاعدہ کے حاصل نہیں ہوئیں ہیں۔ بلکہ ہر ایک ملک اور قوم میں جب اتفاق ہوگئی ہیں پس قواعد گورنمنٹ اُن اوضاع اور اطوار پر موقوف ہیں نہ یہ کہ وہ اوضاع اور اطوار اور عادات قواعد گورنمنٹ پر اور اسی باست میں گورنمنٹ کی پائداری اور قیام ہے کیونکہ جب تک وہ عادتیں اور اخلاق رعایا کے دل میں مسطحکمم اور بمنزلہ خاصیت انسانی کے نہ ہو گئے ہوں اس وقت تک اُن کے برخلاف کرنا۔ صریح خاصیت انسانی کے بربرخلف کرنا اور سب کو رنجیدہ رکھنا ہے۔ کیا ہم بھول جاوینگے<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
lza752kwf16bmy5vd8wtxhdggllnid9
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/15
250
12068
34716
27333
2026-05-29T08:14:40Z
BalramBodhi
60
34716
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 13</noinclude>بنگالہ کی اس بےانتظامی کی حالت کو جو ١٧٦٥ء میں بروقت تضویض ہونے دیوانی بنگلہ کمپنی انگریز بہادر اسی واقعیت کے سبب ہوئی تھی وصفیکہ جان کلارک مارشمن صاحب کی تاریخ اُسے یاد دلا رہی ہے اور کیا یاد نہ رہیگی ہم کو وہ خوبی جو بنگالہ میں لارڈ ہیسٹنگز صاحب بہادر کی زبان اور ملکی راہ و رسم کی واقفیت سے حاصل ہوئی تھی۔
بلاشبہ پارلیمنٹ میں ہندوستان کی رعایا کی مداخلت غیر ممکن اور بے فائدہ محض تھی۔ مگر لیجس لیٹف کونسل میں مداخلت نہ رکھنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ پس یہی ایک بات ہے جو جڑ ہے تمام ہندوستان کے فساد کی اور جتنی باتیںاور جمع ہوتی گئیں وہ سب اس کی شاخیہیں ۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ ہماری گورنمنٹ نے ملکی حالات اور اطوار دریافت کرنے میں کوشش نہیں کی بلکہ ہم اس کے بدل مقر ہیں اور بعض قوانین گورنمنٹ اور ہدایات بورڈ اف ریونیو اور انریبل تامسن صاحب کے ہدایت نامہ مال کو اس کا گواہ سمجھتے ہیں۔ مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ رعایا کے حالات اور عادات اور خیالات اور اوضلاع اور اطوار اور طبیعت اور طبیت اور طینت اور لیاقت کے دریافت کرنے میں توجہ نہیں کی بلاشبہ ہماری گورنمینٹ کو نہیں معلوم تھا کہ ہماری رعیّت پر دن کیسا گزرتا ہے اور رات کس مصیبت کی آتی ہے اور وہ دن بدن کس غم اور مُصیبت میں طرپتے جاتے ہیں اور کیا گیا رنج روز بروز اُن کے دل میں جم تے جاتے ہیں۔ جو رفتہ رفتہ بہت کثرت سے جمع ہو گئے تھے اور ایک نئے ایک سے دفعتاً یہ پڑے.
لیجس لیٹف کونسل میں ہندوستان کے شریک نہ ہونے سے<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
3e6cmd86b07ph771z0iqta051k7rv7g
34717
34716
2026-05-29T08:21:19Z
BalramBodhi
60
34717
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 13</noinclude>بنگالہ کی اس بےانتظامی کی حالت کو جو ١٧٦٥ء میں بروقت تضویض ہونے دیوانی بنگلہ کمپنی انگریز بہادر اسی واقعیت کے سبب ہوئی تھی وصفیکہ جان کلارک مارشمن صاحب کی تاریخ اُسے یاد دلا رہی ہے اور کیا یاد نہ رہیگی ہم کو وہ خوبی جو بنگالہ میں لارڈ ہیسٹنگز صاحب بہادر کی زبان اور ملکی راہ و رسم کی واقفیت سے حاصل ہوئی تھی۔
بلاشبہ پارلیمنٹ میں ہندوستان کی رعایا کی مداخلت غیر ممکن اور بے فائدہ محض تھی۔ مگر لیجس لیٹف کونسل میں مداخلت نہ رکھنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ پس یہی ایک بات ہے جو جڑ ہے تمام ہندوستان کے فساد کی اور جتنی باتیںاور جمع ہوتی گئیں وہ سب اس کی شاخیہیں ۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ ہماری گورنمنٹ نے ملکی حالات اور اطوار دریافت کرنے میں کوشش نہیں کی بلکہ ہم اس کے بدل مقر ہیں اور بعض قوانین گورنمنٹ اور ہدایات بورڈ اف ریونیو اور انریبل تامسن صاحب کے ہدایت نامہ مال کو اس کا گواہ سمجھتے ہیں۔ مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ رعایا کے حالات اور عادات اور خیالات اور اوضلاع اور اطوار اور طبیعت اور طبیت اور طینت اور لیاقت کے دریافت کرنے میں توجہ نہیں کی بلاشبہ ہماری گورنمینٹ کو نہیں معلوم تھا کہ ہماری رعیّت پر دن کیسا گزرتا ہے اور رات کس مصیبت کی آتی ہے اور وہ دن بدن کس غم اور مُصیبت میں طرپتے جاتے ہیں اور کیا گیا رنج روز بروز اُن کے دل میں جم تے جاتے ہیں۔ جو رفتہ رفتہ بہت کثرت سے جمع ہو گئے تھے اور ایک ادنے تحریک سے دفعتاً یہ پڑے.
لیجس لیٹف کونسل میں ہندوستان کے شریک نہ ہونے سے<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
7hrnnqnfq2muao5ikrq2yiglt1kyr1d
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/16
250
12069
34718
27335
2026-05-29T08:58:59Z
Charan Gill
46
34718
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 14</noinclude>صرف اتنا ہی نقصان نہیں ہوا کہ گورنمنٹ کو اصلی مضرت قوانین اور ضوابط کے جو جاری ہوۓ
بخوبی معلوم نہیں ہو سکے اور اعتراض عام رعایا کو اُس مضرت کے رفع کرنے اوراپنے مطالب کے پیش کرنے کی فرصت اور قدرت نہیں ملی بلکہ بہت بڑا نقصان یہ ہوُا کہ رعایا کو منشا اور اصلی مطلب اور دلی ارادہ گورنمنٹ کا معلوم نہ ہوُا گورنمنٹ
کی ہر تجو میر برد عایا کو غلط فہمی ہوئی جو تجویز گورنمنٹ کی ہوئی تھی ۔
ہندوستانیوں کو یہ سب اس کے کہ وہ لوگ اس میں شریک
تھے اور منشاء اور لے اس تجویز سے واقف نہ تھے اس کی بنیا معلوم
نہ ہوئی اور بہتر یہی سمجھے کہ یہ بات میں ہمارے اور ہمار سے ہوں
کے خراب اور برباد اور لسبیل اور بے دھرم کرنے کو ہے اور وہ
بعضی باتیں ہو حقیقت کو منٹ سے بلات رواج اور مخالف
طبیعیت اولیت ہند وستانیوں کے صادر ہوئی تھیں قطع نظر
سے کر دہ فی نفسہا بھی تھیں یا بری زیادہ تر ان کے غلط خیالات کو
تقویت دیتی تھیں۔ رفته رفته به نوبت پہنچ گئی کہ رعایا سند دوستان
کی ہماری گورنمنٹ کو میٹھی زبرا دری شہید کی بھری اور ٹھنڈمی آنچ کی
مثال دیا کرتی تھی اور پھر اس کو اپنے دل سمجھتی تھی اور بی جانتی
تھی کہ اگر ہم آج گورنمنٹ کے ہاتھ سے بچے ہوئے ہیں تو کل نہیں
اور کل ہیں تو پرسوں نہیں اور کوئی شخص ان کے حالات کا پونچنے
والہ اور کوئی تدبیران کے اس غلط خیال کو دور کرنے والی تھی جبکہ
رعایا کا گورنمنٹ کے ساتھ یہ حال ہوجو دلی دشمن کے ساتھ ہونا
چاہئے تو کچھ کیا توقع ہوسکتی ہے وفاداری کی ایسی گورنمنٹ کو
الیسی رعایا سے اور جب کہ ہماری گونیست در حقیقت ایسی نرنتی
تو ان خیالات کا ہندوستانیوں کے دل میں بنا اور جو بیچ کرانی
دل پر تھا اس کا علاج نہ ہوتا صرف اسی سبب سے تا کہ<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
sonf5yq2ly75j77723uyawrn9ncepxj
34719
34718
2026-05-29T10:25:36Z
Charan Gill
46
34719
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 14</noinclude>صرف اتنا ہی نقصان نہیں ہوا کہ گورنمنٹ کو اصلی مضرت قوانین اور ضوابط کے جو جاری ہوۓ
بخوبی معلوم نہیں ہو سکے اور اعتراض عام رعایا کو اُس مضرت کے رفع کرنے اوراپنے مطالب کے پیش کرنے کی فرصت اور قدرت نہیں ملی بلکہ بہت بڑا نقصان یہ ہوُا کہ رعایا کو منشا اور اصلی مطلب اور دلی ارادہ گورنمنٹ کا معلوم نہ ہوُا گورنمنٹ کی ہر تجویز پد رعایا کو غلط فہمی ہوئی جو تجویز گورنمنٹ کی ہوٹی تھی ۔ ہندوستانیوں کو یہ سبب اس کے کہ وہ لوگ اس میں شریک نہ تھے اور منشاء اور اُس تجویز سے واقف نہ تھے اس کی بنیاد معلوم نہ ہوئی اور بہتر یہی سمجھے کہ یہ بات میں ہمارے اور ہمارے ہموتنوں کے خراب اور برباد اور لسبیل اور بے دھرم کرنے کو ہے اور وہ
بعضی باتیں ہو حقیقت کو منٹ سے بلات رواج اور مخالف
طبیعیت اولیت ہند وستانیوں کے صادر ہوئی تھیں قطع نظر
سے کر دہ فی نفسہا بھی تھیں یا بری زیادہ تر ان کے غلط خیالات کو
تقویت دیتی تھیں۔ رفته رفته به نوبت پہنچ گئی کہ رعایا سند دوستان
کی ہماری گورنمنٹ کو میٹھی زبرا دری شہید کی بھری اور ٹھنڈمی آنچ کی
مثال دیا کرتی تھی اور پھر اس کو اپنے دل سمجھتی تھی اور بی جانتی
تھی کہ اگر ہم آج گورنمنٹ کے ہاتھ سے بچے ہوئے ہیں تو کل نہیں
اور کل ہیں تو پرسوں نہیں اور کوئی شخص ان کے حالات کا پونچنے
والہ اور کوئی تدبیران کے اس غلط خیال کو دور کرنے والی تھی جبکہ
رعایا کا گورنمنٹ کے ساتھ یہ حال ہوجو دلی دشمن کے ساتھ ہونا
چاہئے تو کچھ کیا توقع ہوسکتی ہے وفاداری کی ایسی گورنمنٹ کو
الیسی رعایا سے اور جب کہ ہماری گونیست در حقیقت ایسی نرنتی
تو ان خیالات کا ہندوستانیوں کے دل میں بنا اور جو بیچ کرانی
دل پر تھا اس کا علاج نہ ہوتا صرف اسی سبب سے تا کہ<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
3eyuex6ft9ht5osz86ecyiycl8p3m0i
34720
34719
2026-05-29T10:33:27Z
Charan Gill
46
34720
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 14</noinclude>صرف اتنا ہی نقصان نہیں ہوا کہ گورنمنٹ کو اصلی مضرت قوانین اور ضوابط کے جو جاری ہوۓ
بخوبی معلوم نہیں ہو سکے اور اعتراض عام رعایا کو اُس مضرت کے رفع کرنے اوراپنے مطالب کے پیش کرنے کی فرصت اور قدرت نہیں ملی بلکہ بہت بڑا نقصان یہ ہوُا کہ رعایا کو منشا اور اصلی مطلب اور دلی ارادہ گورنمنٹ کا معلوم نہ ہوُا گورنمنٹ کی ہر تجویز پد رعایا کو غلط فہمی ہوئی جو تجویز گورنمنٹ کی ہوٹی تھی ۔ ہندوستانیوں کو یہ سبب اس کے کہ وہ لوگ اس میں شریک نہ تھے اور منشاء اور لم اُس تجویز سے واقف نہ تھے اس کی بنیاد معلوم نہ ہوئی اور بہتر یہی سمجھے کہ یہ بات میں ہمارے اور ہمارے ہموتنوں کے خراب اور برباد اور ذلیل اور بے دھرم کرنے کو ہے اور وہ بعضی باتیں ہو حقیقت کو منٹ سے بلات رواج اور مخالف
طبیعیت اولیت ہند وستانیوں کے صادر ہوئی تھیں قطع نظر
سے کر دہ فی نفسہا بھی تھیں یا بری زیادہ تر ان کے غلط خیالات کو
تقویت دیتی تھیں۔ رفته رفته به نوبت پہنچ گئی کہ رعایا سند دوستان
کی ہماری گورنمنٹ کو میٹھی زبرا دری شہید کی بھری اور ٹھنڈمی آنچ کی
مثال دیا کرتی تھی اور پھر اس کو اپنے دل سمجھتی تھی اور بی جانتی
تھی کہ اگر ہم آج گورنمنٹ کے ہاتھ سے بچے ہوئے ہیں تو کل نہیں
اور کل ہیں تو پرسوں نہیں اور کوئی شخص ان کے حالات کا پونچنے
والہ اور کوئی تدبیران کے اس غلط خیال کو دور کرنے والی تھی جبکہ
رعایا کا گورنمنٹ کے ساتھ یہ حال ہوجو دلی دشمن کے ساتھ ہونا
چاہئے تو کچھ کیا توقع ہوسکتی ہے وفاداری کی ایسی گورنمنٹ کو
الیسی رعایا سے اور جب کہ ہماری گونیست در حقیقت ایسی نرنتی
تو ان خیالات کا ہندوستانیوں کے دل میں بنا اور جو بیچ کرانی
دل پر تھا اس کا علاج نہ ہوتا صرف اسی سبب سے تا کہ<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
5n5qmq3qu9zdajvylsworwvl3ao2xxu
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/268
250
13141
34713
32481
2026-05-29T01:21:10Z
Kaur.gurmel
74
34713
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> بارش کی کہ آسمان سیاہ ہو گیا ۔ لکشمن نے اپنی
فوج کو دبتے دیکھا تو تیر و کمان لے کر میدان
میں نکل آئے۔ میگھناد لکشمن کو دیکھ کر اور بھی
جوش سے لڑنے لگا ۔ اور للکار کر بولا ۔ آج
تمہاری موت میرے ہاتھوں لکھی ہے ۔ تم سے
لڑنے کا بہت دن سے ارمان تھا ۔ آج وہ پورا
ہو گیا۔ لکشمن نے جواب دیا ۔ ہار اور جیت ایشور
کے ہاتھ ہے ۔ ڈینگ مارنا جوانمردوں کا کام نہیں ۔
مگر شاید تم بھی زندہ گھر نہ لوٹوگے ، میگھناد نے
طیش میں آکر طرح طرح کے حربے کام میں لانے
شروع کئے ۔ کبھی کوئی زہرملا تیر چلا دیتا، کبھی
گدا لے کر چل پڑتا ۔ مگر لکشمن بھی کچھ کم بہادر
نہ تھے ۔ وہ اُس کے سارے حملوں کو اپنے
تیروں سے روک دیتے تھے ۔ یہاں تک کہ اُنہوں
نے اُس کے رتھ - رتھ بان، گھوڑے، سب کو
تیروں سے چھید ڈالا ۔ میگھناد پیدل لڑنے
لگا ۔ اب اُسے اپنی جان بچانی مُشکل ہو گئی -<noinclude></noinclude>
ndqavpx9jizslq2mk046965wiuuujpj