ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.4 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/15 250 12068 34722 34717 2026-05-29T14:06:22Z Charan Gill 46 34722 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 13</noinclude>بنگالہ کی اس بےانتظامی کی حالت کو جو ١٧٦٥ء میں بروقت تضویض ہونے دیوانی بنگلہ کمپنی انگریز بہادر اسی واقعیت کے سبب ہوئی تھی وصفیکہ جان کلارک مارشمن صاحب کی تاریخ اُسے یاد دلا رہی ہے اور کیا یاد نہ رہیگی ہم کو وہ خوبی جو بنگالہ میں لارڈ ہیسٹنگز صاحب بہادر کی زبان اور ملکی راہ و رسم کی واقفیت سے حاصل ہوئی تھی۔ بلاشبہ پارلیمنٹ میں ہندوستان کی رعایا کی مداخلت غیر ممکن اور بے فائدہ محض تھی۔ مگر لیجس لیٹف کونسل میں مداخلت نہ رکھنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ پس یہی ایک بات ہے جو جڑ ہے تمام ہندوستان کے فساد کی اور جتنی باتیںاور جمع ہوتی گئیں وہ سب اس کی شاخیہیں ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہماری گورنمنٹ نے ملکی حالات اور اطوار دریافت کرنے میں کوشش نہیں کی بلکہ ہم اس کے بدل مقر ہیں اور بعض قوانین گورنمنٹ اور ہدایات بورڈ اف ریونیو اور انریبل تامسن صاحب کے ہدایت نامہ مال کو اس کا گواہ سمجھتے ہیں۔ مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ رعایا کے حالات اور عادات اور خیالات اور اوضاع اور اطوار اور طبیعت اور طینت اور لیاقت کے دریافت کرنے میں توجہ نہیں کی بلاشبہ ہماری گورنمینٹ کو نہیں معلوم تھا کہ ہماری رعیّت پر دن کیسا گزرتا ہے اور رات کس مصیبت کی آتی ہے اور وہ دن بدن کس غم اور مُصیبت میں پڑتے جاتے ہیں اور کیا گیا رنج روز بروز اُن کے دل میں جم تے جاتے ہیں۔ جو رفتہ رفتہ بہت کثرت سے جمع ہو گئے تھے اور ایک ادنے تحریک سے دفعتاً یہ پڑے. لیجس لیٹف کونسل میں ہندوستان کے شریک نہ ہونے سے<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> c5nub3x8ohonvrdnjhur54esamxmdjs صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/16 250 12069 34721 34720 2026-05-29T12:55:39Z Charan Gill 46 34721 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 14</noinclude>صرف اتنا ہی نقصان نہیں ہوا کہ گورنمنٹ کو اصلی مضرت قوانین اور ضوابط کے جو جاری ہوۓ بخوبی معلوم نہیں ہو سکے اور اعتراض عام رعایا کو اُس مضرت کے رفع کرنے اوراپنے مطالب کے پیش کرنے کی فرصت اور قدرت نہیں ملی بلکہ بہت بڑا نقصان یہ ہوُا کہ رعایا کو منشا اور اصلی مطلب اور دلی ارادہ گورنمنٹ کا معلوم نہ ہوُا گورنمنٹ کی ہر تجویز پد رعایا کو غلط فہمی ہوئی جو تجویز گورنمنٹ کی ہوٹی تھی ۔ ہندوستانیوں کو یہ سبب اس کے کہ وہ لوگ اس میں شریک نہ تھے اور منشاء اور لم اُس تجویز سے واقف نہ تھے اس کی بنیاد معلوم نہ ہوئی اور بہتر یہی سمجھے کہ یہ بات میں ہمارے اور ہمارے ہموتنوں کے خراب اور برباد اور ذلیل اور بے دھرم کرنے کو ہے اور وہ بعضی باتیں جو در حقیقت گورنمنٹ سے برخلات رواج اور مخالف اور طینت ہندوستانیوں کے صادر ہوئی تھیں ۔ قطع نظر سے کہ وہ فی نفسہ اچھی تھیں یا بری زیادہ تر اُن کے غلط خیالات کو تقویت دیتی تھیں۔ رفته رفته به نوبت پہنچ گئی کہ رعایا ہندوستان کی ہماری گورنمنٹ کو میٹھی زبر اور شہد کی چھری اور ٹھنڈمی آنچ کی مثال دیا کرتی تھی اور پھر اس کو اپنے دل سچ سمجھتی تھی اور یہ جانتی تھی کہ اگر ہم آج گورنمنٹ کے ہاتھ سے بچے ہوئے ہیں تو کل نہیں اور کل ہیں تو پرسوں نہیں اور کوئی شخص ان کے حالات کا پونچنے والہ اور کوئی تدبیران کے اس غلط خیال کو دور کرنے والی تھی جبکہ رعایا کا گورنمنٹ کے ساتھ یہ حال ہو جو دلی دشمن کے ساتھ ہونا چاہئے تو کچھ کیا توقع ہو سکتی ہے وفاداری کی ایسی گورنمنٹ کو ایسی رعایا سے اور جب کہ ہماری گورنمنٹ در حقیقت ایسی نہ تھی تو ان غلطخیالات کا ہندوستانیوں کے دل میں جمنا اور جو رنج کہ انکے دل پر تھا اُس کا علاج نہ ہوتا صرف اسی سبب سے تھا کہ<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> 1fa1geoprgnr4ujp59buso5cu5mllb5 34723 34721 2026-05-30T00:19:28Z Charan Gill 46 34723 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 14</noinclude>صرف اتنا ہی نقصان نہیں ہوا کہ گورنمنٹ کو اصلی مضرت قوانین اور ضوابط کے جو جاری ہوۓ بخوبی معلوم نہیں ہو سکے اور اعتراض عام رعایا کو اُس مضرت کے رفع کرنے اوراپنے مطالب کے پیش کرنے کی فرصت اور قدرت نہیں ملی بلکہ بہت بڑا نقصان یہ ہوُا کہ رعایا کو منشا اور اصلی مطلب اور دلی ارادہ گورنمنٹ کا معلوم نہ ہوُا گورنمنٹ کی ہر تجویز پد رعایا کو غلط فہمی ہوئی جو تجویز گورنمنٹ کی ہوٹی تھی ۔ ہندوستانیوں کو یہ سبب اس کے کہ وہ لوگ اس میں شریک نہ تھے اور منشاء اور لم اُس تجویز سے واقف نہ تھے اس کی بنیاد معلوم نہ ہوئی اور بہتر یہی سمجھے کہ یہ بات میں ہمارے اور ہمارے ہموتنوں کے خراب اور برباد اور ذلیل اور بے دھرم کرنے کو ہے اور وہ بعضی باتیں جو در حقیقت گورنمنٹ سے برخلات رواج اور مخالف اور طینت ہندوستانیوں کے صادر ہوئی تھیں ۔ قطع نظر سے کہ وہ فی نفسہ اچھی تھیں یا بری زیادہ تر اُن کے غلط خیالات کو تقویت دیتی تھیں۔ رفته رفته به نوبت پہنچ گئی کہ رعایا ہندوستان کی ہماری گورنمنٹ کو میٹھی زہر اور شہد کی چھری اور ٹھنڈی آنچ کی مثال دیا کرتی تھی اور پھر اس کو اپنے دل سچ سمجھتی تھی اور یہ جانتی تھی کہ اگر ہم آج گورنمنٹ کے ہاتھ سے بچے ہوئے ہیں تو کل نہیں اور کل ہیں تو پرسوں نہیں اور کوئی شخص ان کے حالات کا پوچھنے والہ اور کوئی تدبیران کے اس غلط خیال کو دور کرنے والی نہ تھی جبکہ رعایا کا گورنمنٹ کے ساتھ یہ حال ہو جو دلی دشمن کے ساتھ ہونا چاہئے تو کچھ کیا توقع ہو سکتی ہے وفاداری کی ایسی گورنمنٹ کو ایسی رعایا سے اور جب کہ ہماری گورنمنٹ در حقیقت ایسی نہ تھی تو ان غلطخیالات کا ہندوستانیوں کے دل میں جمنا اور جو رنج کہ انکے دل پر تھا اُس کا علاج نہ ہوتا صرف اسی سبب سے تھا کہ<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> gjeop8wgrji1q3d96ettl3mmavu0pom صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/17 250 12070 34724 27337 2026-05-30T00:53:30Z Charan Gill 46 34724 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 15</noinclude>لیجس لیٹف کونسل میں ہندوستانی شریک نہ تھے اگر ہوتے تو یہ سب باتیں رفع ہوتی جائیں۔ اب اگر غور سے دیکھا جائے تو صرف یہی ایک بات ہے جس نے اپنی بہت سی شاخیں پیدا کر کر تمام ہندوستان میں بیجا فساد کر دیا. یہ مت کہو کہ ہماری گونمنٹ نے چھاپہ خانوں میں سواے گالی اور افترا اور جن باتوں سے فتنہ یا سرکشی وقوع میں آوے اور سب اُمورات کے چھاپنے کی اجازت دی تھی اور قانوب جاری ہونے سے پہلے مشورہ کیا جاتا تھا اور ہر شخص کو اس پر عذرات پیش کرنے کا اختیار تھا۔ کیونکہ یہ امور اِن بڑی عظیم الشان باتوں کے علاج کو جس کا ہم ذکر کرتے ہیں محض ناکافی بلکہ محض بیقیدہ تھی. اور ہم نہیں چاہتے کہ اس مقام پر ہم سے یہ فتنہ کی جائے کہ ہندوستانیوں کا جو نہایت مباہل ہیں اور بے تربیت میں شف ونسل میں شریک ہوتا کس طرح ہوتا اور با قاعدہ ہندوستا نیونگی شرکت کا نکالنا اور اگر مایا سے ہندوستان کو پارلیمنٹ کے لجبر لبنین کونسل میں مداخلت دی جاتی تو طریقہ ان کے انتخاب کیاہ اوراس میں بہت سی مشکلیں پیش نہیں کیونکہ اس مقام پر ہم کوسرت انتنا ثابت کرنا ہے کہ یہ بات گورنمنٹ کے لئے بہت انہیں اور فرد تھی اور اسی کے نہ ہونے کے سبسب فساد برپا ہوئے او طرفیہ مداخلت رعایا کی بابت ہماری یہ راے ہے اس کھنا چاہئے اور جو بہت ہو وہاں کرنی چا ہئے بے نقص جو ہماری گو ریسنٹ تھا اس نے تمام ہندوستانی حالات میں سرایت کی اور جبر قند راسباب کشی کے جمع ہو گئے گورکی کا پاپانی وہ اسی ایکس امر پر متنوع ہیں مگر غور کر کے سب کو احاطہ میں لایا ہے اصول پر تو ہے تو پانچ اصول مبنی ہوتے ہیں *<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> 3x8prlqg4syl26p50dbrjgd2wm0gp2e 34726 34724 2026-05-30T08:55:38Z Charan Gill 46 34726 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 15</noinclude>لیجس لیٹف کونسل میں ہندوستانی شریک نہ تھے اگر ہوتے تو یہ سب باتیں رفع ہوتی جائیں۔ اب اگر غور سے دیکھا جائے تو صرف یہی ایک بات ہے جس نے اپنی بہت سی شاخیں پیدا کر کر تمام ہندوستان میں بیجا فساد کر دیا. یہ مت کہو کہ ہماری گونمنٹ نے چھاپہ خانوں میں سواے گالی اور افترا اور جن باتوں سے فتنہ یا سرکشی وقوع میں آوے اور سب اُمورات کے چھاپنے کی اجازت دی تھی اور قانوب جاری ہونے سے پہلے مشورہ کیا جاتا تھا اور ہر شخص کو اس پر عذرات پیش کرنے کا اختیار تھا۔ کیونکہ یہ امور اِن بڑی عظیم الشان باتوں کے علاج کو جس کا ہم ذکر کرتے ہیں محض ناکافی بلکہ محض بیقیدہ تھی. اور ہم نہیں چاہتے کہ اس مقام پر ہم سے یہ گفتگو کی جائے کہ ہندوستانیوں کا جو نہایت جاہل ہیں اور بے تربیت لیجس لیٹف کونسل میں شریک ہونا کس طرح ہوتا اور با قاعدہ ہندوستانیونکی شرکت کا نکلتا اور اگر رعایا سے ہندوستان کو پارلیمنٹ کے لجبر لبنین کونسل میں مداخلت دی جاتی تو طریقہ ان کے انتخاب کیاہ اوراس میں بہت سی مشکلیں پیش نہیں کیونکہ اس مقام پر ہم کوسرت انتنا ثابت کرنا ہے کہ یہ بات گورنمنٹ کے لئے بہت انہیں اور فرد تھی اور اسی کے نہ ہونے کے سبسب فساد برپا ہوئے او طرفیہ مداخلت رعایا کی بابت ہماری یہ راے ہے اس کھنا چاہئے اور جو بہت ہو وہاں کرنی چا ہئے بے نقص جو ہماری گو ریسنٹ تھا اس نے تمام ہندوستانی حالات میں سرایت کی اور جبر قند راسباب کشی کے جمع ہو گئے گورکی کا پاپانی وہ اسی ایکس امر پر متنوع ہیں مگر غور کر کے سب کو احاطہ میں لایا ہے اصول پر تو ہے تو پانچ اصول مبنی ہوتے ہیں *<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> 7j4l1sfh0tkelamtvt8bbyz04flcoyz 34730 34726 2026-05-30T10:28:36Z BalramBodhi 60 34730 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 15</noinclude>لیجس لیٹف کونسل میں ہندوستانی شریک نہ تھے اگر ہوتے تو یہ سب باتیں رفع ہوتی جاتیں۔ اب اگر غور سے دیکھا جائے تو صرف یہی ایک بات ہے جس نے اپنی بہت سی شاخیں پیدا کر کر تمام ہندوستان میں بیجا فساد کر دیا. یہ مت کہو کہ ہماری گونمنٹ نے چھاپہ خانوں میں سواے گالی اور افترا اور جن باتوں سے فتنہ یا سرکشی وقوع میں آوے اور سب امورات کے چھاپنے کی اجازت دی تھی اور قانون جاری ہونے سے پہلے مشورہ کیا جاتا تھا اور ہر شخص کو اس پر عذرات پیش کرنے کا اختیار تھا۔ کیونکہ یہ امور اِن بڑی عظیم الشان باتوں کے علاج کو جس کا ہم ذکر کرتے ہیں محض ناکافی بلکہ محض بیقیدہ تھی. اور ہم نہیں چاہتے کہ اس مقام پر ہم سے یہ گفتگو کی جائے کہ ہندوستانیوں کا جو نہایت جاہل ہیں اور بے تربیت لیجس لیٹف کونسل میں شریک ہونا کس طرح ہوتا اور کیا قاعدہ ہندوستانیونکی شرکت کا نکلتا اور اگر رعایا سے ہندوستان کو مشل پارلیمنٹ کے لیجس لیٹف کونسل میں مداخلت دی جاتی تو طریقہ اُن کے انتخاب کیاہوتا اور اس میں بہت سی مشکلیں پیش آتیں کیونکہ اس مقام پر ہم کو سرف اتنا ثابت کرنا ہے کہ یہ بات گورنمنٹ کے لئے بہت اچہی اور پُر غرور تھی اور اسی کے نہ ہونے کے سبب فساد یہ برپا ہوئے اور طریقہ مداخلت رعایا کی بابت ہماری علحدہ راے ہے اُس دیکھنا چاہئے اور جو بہث حو وہاں کرنی چاہئے. یہ نقص جو ہماری گورنمنٹ تھا اس نے تمام ہندوستان کے حالات میں سرایت کی اور جس قدر اسباب سرکشی کے جمع ہو گئے گو وہ اسی ایک امر پر متفع ہیں مگر غور کر کے سب کو احاطہ میں لایا جاوے تو پانچ اصول مبنی ہوتے ہیں.{{nop}}<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> 1vrwd9ghbz8aqnhvvs4ks1y9a1pwm6w صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/9 250 12675 34725 31726 2026-05-30T03:52:59Z Taranpreet Goswami 90 34725 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /> {{rh||٨|بیتال پچیسی}}</noinclude>پھر اٹھا چھاتی سے لگا لیا اور سہیلیون کو ساتھہ لے سوار ہو اپنے مکان کو گئی اور یہ راج پتر نهایت ناامید ہو عشق مین ڈوبا ہوا دیوان کے لڑکے کے پاس آیا اور شرماتا ہوا اسکے آگے حقیقت کہنے لگا کہ اے دوست ایک ایسی حسین پدمنی دیکھی اب نہ اسکا نام جانتا ہون نہ ٹھاؤن جو وہ مجھے نہ ملیگی تو مین اپنی جان کھو دونگا یہ مین نے اپنے جی مین ٹھان لی ہے یہ احوال دیوان کا بیٹا سن اسے سوار کروا اپنے گھر کو تو لے آیا پر راجہ کا بیٹا درد عشق سے ایسا بیکل تھا کہ لکھنا پڑھنا کھانا پینا سونا راج کاج سب کچھہ تج بیٹھا نقشہ اسکی صورت کا لکھہ لکھہ دیکھتا اور روتا نہ اپنی کہتا نہ اور کی سنتا دیوان کے بیٹے نے جو اسکی یہ حالت دیکھی تو اس سے کہا کہ جس نے عشق کی راہ مین قدم رکھا ہے پھر وہ جیتا نہین اور جو جیا تو اسنے بہت دکھ پایا اسواستے گیانی لوگ اس راہ مین پانون نہین رکھتے پھر اسکی بات سُن راجکمار بولا مین نے تو اس راہ مین پانون دیا اسمین سُکھہ ہو یا دُکھہ جب ایسا مضبوط کلام اسکا سُنا تب وہ بولا کہ مہاراج چلتے وقت تم نے اس کو کچھہ کہا تھا پھر اس نے جواب دیا کہ مین نے کچھہ کہا نہ اس نے کچھہ سُنا تب دیوان کا بیٹا بولا اسکا ملنا بہت مشکل ہے اسنے کہا جو وہ ملی تو ہماری جان رہی نہین تو گئی پھراسنے پوچھا کہ کچھہ اشارہ کنایہ بھی کیا تھا کنور نے کہا جو اسنے حرکتین کی تھین سو یہ ہین کہ ایکا ایکی مجھہ کو دیکھہ سر پر سے کنول کا پھول اتار کان سے لگا دانت سے کتر پائون تلے دیکر چھاتی سے لگا لیا یہ شُن دیوان کے بیٹے نے کہا اِن اشاروں کو ہم سمجھتے ہین اور نام اور ٹھاوُن سب اسکا سمجھا وہ بولا جو سمجھے ہو بیان کرو یہ کہنے لگا سنو راجہ کنول کا پھول سر سے اتار کان سے لگایا تو گویا اسنے تم کو بتایا کہ مین کرناٹک کی رہنے والی ہون اور پانون سے جو دبایا سو کہا کہ پدماوتی میرا نام ہے اور دانت سے جو کترا سو بتایا کہ مین دنتبکر راجہ کی بیٹی ہون پھر اٹھا چھاتی سے لگایا سو کہا کہ تم میرے دل مین بسے ہو جب اتنی بات کنور نے سنی اس سے کہا کہ بہتر یہ ہے کہ مجھے اس کے شہر مین لیجاؤ یہ کہتے ہی کپڑے پہن ہتھیار باندھہ کچھہ جواہر لے گھوڑون پر سوار ہو دونون نے اس سِمت کی راہ لی کئی دن بعد کرناٹک مین پہونچ شہر کی سیر کرتے ہوئے راجہ کے محلونکے نیچے آئے دیکھتے کیا ہین کہ ایک بڑھیا اپنے دروازہ پر بیٹھی ہوئی چرخہ کاتتی ہے یہ دونون گھوڑون سے اتر اسکے پاس جا کہنے لگے مائی ہم مُشافر سوداگر ہین مال ہمارا پیچھے آتا ہے اور ہم جگہ ڈھونڈھنے کے واسطے آگے بڑھہ آئے ہین جو جگہ ہمین دے تو ہم رہین بڑھیا انکی صورتون کو دیکھ اور باتون کو شُن بولی یہ گھر تمھارا ہے جب تلک تمھارا جی چاہے رہو غرض یہ شن مکان مین اترے کتنی ایک دیر کے بعد بڑھیا مہربانی سے ان کے پاس آن بیٹھ کر باتین کرنے لگی اسمین دیوان کے بیٹے نے اس سے پوچھا تیری آل اولاد اور کنبے مین کون ہے اور کیونکر گذران ہوتی ہے بڑھیا نے کہا بیٹا میرا راجہ کی خدمت مین بہت اچھی طرح سے آسودہ ہے اور پدماوتی جو راجہ کی لڑکی ہے بندی اسکی دودھ پلائی ہے اس بڑھاپے کیوجہ سے گھر مین رہتی ہون پر راجہ میرے کھانے پینے کی خبر لیتا ہے مگراس لڑکی کے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> rr4f4gr60tr6xbd2bppanmmawpvxsz7 34731 34725 2026-05-30T11:31:12Z Jagdish Papra 66 34731 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /> {{rh||٨|بیتال پچیسی}}</noinclude>پھر اٹھا چھاتی سے لگا لیا اور سہیلیون کو ساتھ لے سوار ہو اپنے مکان کو گئی اور یہ راج پتر نهایت ناامید ہو عشق مین ڈوبا ہوا دیوان کے لڑکے کے پاس آیا اور شرماتا ہوا اسکے آگے حقیقت کہنے لگا کہ اے دوست ایک ایسی حسین پدمنی دیکھی اب نہ اسکا نام جانتا ہون نہ ٹھاؤن جو وہ مجھے نہ ملیگی تو مین اپنی جان کھو دونگا یہ مین نے اپنے جی مین ٹھان لی ہے یہ احوال دیوان کا بیٹا سن اسے سوار کروا اپنے گھر کو تو لے آیا پر راجہ کا بیٹا درد عشق سے ایسا بیکل تھا کہ لکھنا پڑھنا کھانا پینا سونا راج کاج سب کچھ تج بیٹھا نقش اسکی صورت کا لکھ لکھ دیکھتا اور روتا نہ اپنی کہتا نہ اور کی سنتا دیوان کے بیٹے نے جو اسکی یہ حالت دیکھی تو اس سے کہا کہ جس نے عشق کی راہ مین قدم رکھا ہے پھر وہ جیتا نہین اور جو جیا تو اسنے بہت دکھ پایا اسواسطے گیانی لوگ اس راہ مین پانون نہین رکھتے پھر اسکی بات سُن راجکمار بولا مین نے تو اس راہ مین پانون دیا اسمین سُکھ ہو یا دُکھ جب ایسا مضبوط کلام اسکا سُنا تب وہ بولا کہ مہاراج چلتے وقت تم نے اس کو کچھ کہا تھا پھر اس نے جواب دیا کہ مین نے کچھ کہا نہ اس نے کچھ سُنا تب دیوان کا بیٹا بولا اسکا ملنا بہت مشکل ہے اسنے کہا جو وہ ملی تو ہماری جان رہی نہین تو گئی پھراسنے پوچھا کہ کچھ اشارہ کنایہ بھی کیا تھا کنور نے کہا جو اسنے حرکتین کی تھین سو یہ ہین کہ ایکا ایکی مجھ کو دیکھ سر پر سے کنول کا پھول اتار کان سے لگا دانت سے کتر پائون تلے دیکر چھاتی سے لگا لیا یہ سُن دیوان کے بیٹے نے کہا اِن اشاروں کو ہم سمجھتے ہین اور نام اور ٹھاوُن سب اسکا سمجھا وہ بولا جو سمجھے ہو بیان کرو یہ کہنے لگا سنو راجہ کنول کا پھول سر سے اتار کان سے لگایا تو گویا اسنے تم کو بتایا کہ مین کرناٹک کی رہنے والی ہون اور پانون سے جو دبایا سو کہا کہ پدماوتی میرا نام ہے اور دانت سے جو کترا سو بتایا کہ مین دنتبکر راجہ کی بیٹی ہون پھر اٹھا چھاتی سے لگایا سو کہا کہ تم میرے دل مین بسے ہو جب اتنی بات کنور نے سنی اس سے کہا کہ بہتر یہ ہے کہ مجھے اس کے شہر مین لیجاؤ یہ کہتے ہی کپڑے پہن ہتھیار باندھ کچھ جواہر لے گھوڑون پر سوار ہو دونون نے اس سِمت کی راہ لی کئی دن بعد کرناٹک مین پہونچ شہر کی سیر کرتے ہوئے راجہ کے محلونکے نیچے آئے دیکھتے کیا ہین کہ ایک بڑھیا اپنے دروازہ پر بیٹھی ہوئی چرخہ کاتتی ہے یہ دونون گھوڑون سے اتر اسکے پاس جا کہنے لگے مائی ہم مُسافِر سوداگر ہین مال ہمارا پیچھے آتا ہے اور ہم جگہ ڈھونڈھنے کے واسطے آگے بڑھ آئے ہین جو جگہ ہمین دے تو ہم رہین بڑھیا انکی صورتون کو دیکھ اور باتون کو سُن بولی یہ گھر تمھارا ہے جب تلک تمھارا جی چاہے رہو غرض یہ شن مکان مین اترے کتنی ایک دیر کے بعد بڑھیا مہربانی سے ان کے پاس آن بیٹھ کر باتین کرنے لگی اسمین دیوان کے بیٹے نے اس سے پوچھا تیری آل اولاد اور کنبے مین کون ہے اور کیونکر گذران ہوتی ہے بڑھیا نے کہا بیٹا میرا راجہ کی خدمت مین بہت اچھی طرح سے آسودہ ہے اور پدماوتی جو راجہ کی لڑکی ہے بندی اسکی دودھ پلائی ہے اس بڑھاپے کیوجہ سے گھر مین رہتی ہون پر راجہ میرے کھانے پینے کی خبر لیتا ہے مگراس لڑکی کے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> n0xzeidrqmpbu326e517j8yjqnx3jda صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/222 250 13133 34727 33168 2026-05-30T09:14:26Z Jagdish Papra 66 /* پروف خوانی شدہ */ 34727 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Jagdish Papra" /></noinclude>دیکھا نہیں ۔ مگر صُبح کو اُن کا لباس اور زنگ روپ دیکھ کر یقیناً لوگ بھڑکتے اور انہیں پکڑ لیتے ۔ اس لئے ہنومان کسی ایسی جگہ کی تلاش کرنے لگے جہاں وہ چھپ کر بیٹھ سکیں ۔ کل سے کچھ کھایا نہ تھا ۔ بھوک بھی لگی ہوئی تھی ۔ باغ کے سوا اور مفت کے پھل کہاں ملتے ۔ یہی سوچتے چلے جاتے تھے کہ کچھ ڈور پر ایک گھنا باغ دکھائی دیا ۔ اشوک کے بڑے بڑے درخت مری ہری خوبصورت پتیوں سے لدے ہوئے کھڑے تھے ۔ ہنومان نے اُسی باغ میں بُھوک مٹانے اور دن کاٹنے کا فیصلہ کیا ۔ باغ میں پہنچتے ہی ایک درخت پر چڑھ کر پھل کھانے لگے ہے یکا یک کئی عورتوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں ۔ ہنوماں نے اُدھر نگاہ دوڑائی تو دیکھا کہ ایک نہایت حسین عورت قبیلے کچیلے کپڑے پہنے، سر کے بال کھولے اُداس بیٹھی زمین کی طرف تاک رہی ہے اور کئی راکشس عوز نہیں اس کے<noinclude></noinclude> 4hluew8f6b4i8q1p1zdsz96d0d66zmg 34728 34727 2026-05-30T09:26:01Z Jagdish Papra 66 34728 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Jagdish Papra" /></noinclude>دیکھا نہیں ۔ مگر صُبح کو اُن کا لباس اور رنگ روپ دیکھ کر یقیناً لوگ بھڑکتے اور انہیں پکڑ لیتے ۔ اس لئے ہنومان کسی ایسی جگہ کی تلاش کرنے لگے جہاں وہ چھپ کر بیٹھ سکیں ۔ کل سے کچھ کھایا نہ تھا ۔ بھوک بھی لگی ہوئی تھی ۔ باغ کے سوا اور مفت کے پھل کہاں ملتے ۔ یہی سوچتے چلے جاتے تھے کہ کچھ ڈور پر ایک گھنا باغ دکھائی دیا ۔ اشوک کے بڑے بڑے درخت مری ہری خوبصورت پتیوں سے لدے ہوئے کھڑے تھے ۔ ہنومان نے اُسی باغ میں بُھوک مٹانے اور دن کاٹنے کا فیصلہ کیا ۔ باغ میں پہنچتے ہی ایک درخت پر چڑھ کر پھل کھانے لگے ہے یکا یک کئی عورتوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں ۔ ہنوماں نے اُدھر نگاہ دوڑائی تو دیکھا کہ ایک نہایت حسین عورت قبیلے کچیلے کپڑے پہنے، سر کے بال کھولے اُداس بیٹھی زمین کی طرف تاک رہی ہے اور کئی راکشس عوز نہیں اس کے<noinclude></noinclude> cxyjlmtnpzb5y5pcgn2a8gmqbm12d92 34729 34728 2026-05-30T10:03:43Z Jagdish Papra 66 34729 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Jagdish Papra" /></noinclude>دیکھا نہیں ۔ مگر صُبح کو اُن کا لباس اور رنگ روپ دیکھ کر یقیناً لوگ بھڑکتے اور انہیں پکڑ لیتے ۔ اس لئے ہنومان کسی ایسی جگہ کی تلاش کرنے لگے جہاں وہ چھُپ کر بیٹھ سکیں ۔ کل سے کُچھ کھایا نہ تھا ۔ بھوک بھی لگی ہوئی تھی ۔ باغ کے سوا اَور مفت کے پھل کہاں مِلتے ۔ یِہی سوچتے چلے جاتے تھے کہ کُچھ دُور پر ایک گھنا باغ دکھائی دیا ۔ اشوک کے بڑے بڑے درخت ہری ہری خوبصورت پتیوں سے لدے ہوئے کھڑے تھے ۔ ہنومان نے اُسی باغ میں بُھوک مٹانے اور دن کاٹنے کا فَ-یصلہ کیا ۔ باغ میں پہنچتے ہی ایک درخت پر چڑھ کر پھل کھانے لگے. یکا یک کئی عورتوں کی آوازیں سُنائی دینے لگیں ۔ ہنوماں نے اُدھر نگاہ دوڑائی تو دیکھا کہ ایک نہایت حِسین عورت میلے کُچیلے کپڑے پہنے، سر کے بال کھولے اُداس بیٹھی زمین کی طرف تاک رہی ہے اُور کئی راکشس عوز نہیں اس کے<noinclude></noinclude> qfxzvcuc7q0c3sjvp3givobvec55qum