ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.4 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/18 250 12071 34736 27339 2026-05-31T05:18:50Z Charan Gill 46 34736 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر</noinclude><big>اول</big> غلط فهمی رعایا بینی برعکس سمینانجا و بزرگونت گاه</br> <big>دوم</big> ۔ جاری ہونا ایسے آئین اور ضوابط اور طریقہ حکومت کا جو ہندوستان کی حکومت اور ہندوستانیوں کی عادات سے مناسب تھے یا مضرت رسانی کرتے تھے ؟</br> <big>سوم</big> ۔ نا واقعہ رہنا گورنمنٹ کا رعایا کے اصلی حالات اور عادات اور ان مصائب سے جو ان پر گذرتی تھیں درج ہے رعایا کا دل گورنمنٹ پتا جاتا تھا .'''</br>''' <big>چہارم</big> ۔ ترک ہونا ان امور کا ہماری گورنمنٹ کی طرف سے جن کا سبجا لانا ہماری گورنمنٹ پر ہندوستان کی حکومت کو لئے واجب اور لازم تھا.</br> <big>پنجم</big> ۔ بد انتظامی اور بے اہتمامی فوج کی جے اب ہم ان پا بنچوں پہل کی تفصیل اور اس کی ہر ہر شاخ کو جدا جدا بیان کرتے ہیں وبالله التوفيق + . {{center|{{larger|'''اصل اول'''}}}} غلط فهمی رعا یا بینی بیکس جنانجا ویرگورنمنٹ کا ۔ اس مقام پربنی باتیں ہم بیان کرتے ہیں ان سے بات طلب نہیں ہے کہ درحقیقت ہماری ٹورینٹ میں یہ باتیں نہیں بیلب کہ لوگوں نے یوں غلط سمجھا اور سرکشی کا سبب ہو گیا اگر مندیتانی آدمی بھی نہیں ٹین کونسل میں مداخلت رکھتے تو پیغلط فہمی واقع نہ ہوتی . <big>مداخلت مذہبی</big> پیش نہیں کہ تمام لوگ جابل و قابل اوراعلے اور ا د نے یقین جانتے تھے کہ ہماری گونمنٹ کا ولی ارادہ کہ مذہب اور رسم و رواج میں مداخلت کرے اور سب کو کیا ہندو<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> 7dfxl11ri5jd6xicm5hrc8cn57adc9s 34737 34736 2026-05-31T05:34:48Z Charan Gill 46 34737 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر</noinclude><big>اوّل</big> غلط فهمی رعایا یعنی برعکس سمجھنا تجاویزر گورنمنٹ گا.</br> <big>دوم</big> ۔ جاری ہونا ایسے آئین اور ضوابط اور طریقہ حکومت کا جو ہندوستان کی حکومت اور ہندوستانیوں کی عادات سے مناسب نہ تھے یا مضرت رسانی کرتے تھے ؟</br> <big>سوم</big> ۔ نا واقف رہنا گورنمنٹ کا رعایا کے اصلی حالات اور عادات اور ان مصائب سے جو ان پر گذرتی تھیں درج ہے رعایا کا دل گورنمنٹ پتا جاتا تھا .'''</br>''' <big>چہارم</big> ۔ ترک ہونا ان امور کا ہماری گورنمنٹ کی طرف سے جن کا سبجا لانا ہماری گورنمنٹ پر ہندوستان کی حکومت کو لئے واجب اور لازم تھا.</br> <big>پنجم</big> ۔ بد انتظامی اور بے اہتمامی فوج کی جے اب ہم ان پا بنچوں پہل کی تفصیل اور اس کی ہر ہر شاخ کو جدا جدا بیان کرتے ہیں وبالله التوفيق + . {{center|{{larger|'''اصل اوّل'''}}}} غلط فهمی رعایا بینی بیکس جنانجا ویرگورنمنٹ کا ۔ اس مقام پربنی باتیں ہم بیان کرتے ہیں ان سے بات طلب نہیں ہے کہ درحقیقت ہماری ٹورینٹ میں یہ باتیں نہیں بیلب کہ لوگوں نے یوں غلط سمجھا اور سرکشی کا سبب ہو گیا اگر مندیتانی آدمی بھی نہیں ٹین کونسل میں مداخلت رکھتے تو پیغلط فہمی واقع نہ ہوتی . <big>مداخلت مذہبی</big> پیش نہیں کہ تمام لوگ جابل و قابل اوراعلے اور ا د نے یقین جانتے تھے کہ ہماری گونمنٹ کا ولی ارادہ کہ مذہب اور رسم و رواج میں مداخلت کرے اور سب کو کیا ہندو<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> 6izadqtg0dqtw4menkak3gmefss1j5z 34738 34737 2026-05-31T07:12:52Z Charan Gill 46 34738 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر</noinclude><big>اوّل</big> غلط فهمی رعایا یعنی برعکس سمجھنا تجاویز گورنمنٹ گا.</br> <big>دوم</big> ۔ جاری ہونا ایسے آئین اور ضوابط اور طریقہ حکومت کا جو ہندوستان کی حکومت اور ہندوستانیوں کی عادات سے مناسب نہ تھے یا مضرت رسانی کرتے تھے ؟</br> <big>سوم</big> ۔ نا واقف رہنا گورنمنٹ کا رعایا کے اصلی حالات اور عادات اور اُن مصائب سے جو اُن پر گذرتی تھیں درج ہے رعایا کا دل گورنمنٹ پتا جاتا تھا .'''</br>''' <big>چہارم</big> ۔ ترک ہونا اُن امور کا ہماری گورنمنٹ کی طرف سے جن کا سبجا لانا ہماری گورنمنٹ پر ہندوستان کی حکومت کو لئے واجب اور لازم تھا.</br> <big>پنجم</big> ۔ بد انتظامی اور بے اہتمامی فوج کی جے اب ہم ان پا بنچوں پہل کی تفصیل اور اس کی ہر ہر شاخ کو جدا جدا بیان کرتے ہیں وبالله التوفيق + . {{center|{{larger|'''اصل اوّل'''}}}} غلط فهمی رعایا یعنی برعکس سمجھنا تجاویز گورنمنٹ گا۔ اس مقام پر جتنی باتیں ہم بیان کرتے ہیں ان سے ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ درحقیقت ہماری گورنمنٹ میں یہ باتیں تھیں بلکہ یہ متلب کہ لوگوں نے یوں غلط سمجھا اور سرکشی کا سبب ہو گیا اگر ہندوستانی آدمی بھی لیجس لیٹف کونسل میں مداخلت رکھتے تو یہ غلط فہمی واقع نہ ہوتی . <big>مداخلت مذہبی</big> پیش نہیں کہ تمام لوگ جابل و قابل اوراعلے اور ا د نے یقین جانتے تھے کہ ہماری گورنمنٹ کا ولی ارادہ کہ مذہب اور رسم و رواج میں مداخلت کرے اور سب کو کیا ہندو<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> he9fe2th3g6qv1c9ogf1ccpz2vxezrp 34739 34738 2026-05-31T08:14:54Z BalramBodhi 60 34739 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر</noinclude><big>اوّل</big> غلط فهمی رعایا یعنی برعکس سمجھنا تجاویز گورنمنٹ کا.</br> <big>دوم</big>۔ جاری ہونا ایسے آئین اور ضوابط اور طریقہ حکومت کا جو ہندوستان کی حکومت اور ہندوستانیوں کی عادات سے مناسب نہ تھے یا مضرت رسانی کرتے تھے. </br> <big>سوم</big>۔ ناواقف رہنا گورنمنٹ کا رعایا کے اصلی حالات اور اطوار اور اُن مصائب سے جو اُن پر گذرتی تھیں اور جن سے رعایا کا دل گورنمنٹ پھتا جاتا تھا.'''</br>''' <big>چہارم</big>۔ ترک ہونا اُن امور کا ہماری گورنمنٹ کی طرف سے جن کا بجا لانا ہماری گورنمنٹ پر ہندوستان کی حکومت کے لئے واجب اور لازم تھا.</br> <big>پنجم</big>۔ بد انتظامی اور بے اہتمامی فوج کی. اب ہم اِن پانچوں اسل کی تفصیل اور اُس کی ہر ہر شاخ کو جدا جدا بیان کرتے ہیں وبالله التوفيق. . {{center|{{larger|'''اصل اوّل'''}}}} غلط فهمی رعایا یعنی برعکس سمجھنا تجاویز گورنمنٹ گا۔ اس مقام پر جتنی باتیں ہم بیان کرتے ہیں اُن سے ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ درحقیقت ہماری گورنمنٹ میں یہ باتیں تھیں بلکہ یہ متلب کہ لوگوں نے یوں غلط سمجھا اور سرکشی کا سبب ہو گیا اگر ہندوستانی آدمی بھی لیجس لیٹف کونسل میں مداخلت رکھتے تو یہ غلط فہمی واقع نہ ہوتی. <big>مداخلت مذہبی</big>کچھ شبہ نہیں کہ تمام لوگ جاہل اور قابل اور اعلے اور ادنے یقین جانتے تھے کہ ہماری گورنمنٹ کا ولی ارادہ ہے کہ مذہب اور رسم و رواج میں مداخلت کرے اور سب کو کیا ہندو<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> cm4c7hm06cp0vnv2d5km9nhwzbz07at صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/19 250 12072 34740 27341 2026-05-31T08:52:26Z BalramBodhi 60 34740 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 17</noinclude>اور کیا مسلمان عیسائی مذہب اور اپنے ملک کی رسم رواج پر ڈالے اور سب سے بڑا سبب اس سرکشی میں یہی ہے. ہر شخص دل سے جانتا تھا کہ ہماری گورنمنٹ کے احکامت بہت آہستہ آہستہ ظہور میں آتے ہیں اور جو کام کرنا ہوتا ہے رفتہ رفینہ کیا کرتے ہیں اس واسطے دفعتاً اور جبراً مسلمانوں کی طرح دین بدلنے کو نہیں کہتے مگر جتنا جتنا قابو پاتے جاوینگے اُتنی اُتنی مداخلت کرتے جاوینگے اور جو باتیں رفتہ رفتہ ظہور میں آتی گئیں جن کا بیان آویگا اُن کے اس غلط شُبہ کو زیادہ تر مستحکم اور مضبوط کرتی گئیں سب کو یقین تھا کہ ہماری گونیست علانیہ جبر مذہب بدلیں پر نہیں کرینگے بلکہ خفیہ تدبیریں کر کر مشل نابود کر دینے عام عربی و سنسکرت کے اور مقلس و محتاج کرد ینے مُلک کے اور لوگوں کو جو اُن کا مذهب ہے اُس کے مسائل سے ناواق کر کر اور اپنے دین و مذہب کی کتابیں اور مسائل اور وعظ کو پھیلا کر نوکریوں کا لالچ دیکر لوگوں کو بے بین کر دینگے ١٨٣٧ء کی قحط سالی میں جو یتیم لڑکے کم عمر عیسائی کئے گئے وہ تمام ضلاع ممالک مغربی و شمالی میں ارادہ گورنمنٹ کے ایک نمونہ گنے جاتے تھے کہ ہندوستان کو اس طرح پرمفلس اورب محتاج کر کر اپنے مذھب میں لے آوینگے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ جب سرکار بلانر ایسٹ انڈیا کمپنی کوئی ملک فتح کرتی تھی ہندوستان کی رعایا کو کمال رنچ ہوتا تھا اور یہ بھی میں سچ کہتا ہوں کہ متشا اس رنج کا اور کُچھ نہیں ہوتا تھا بجز اسکے کہ لوگ جانتے تھے کہ جوں جوں اختیار ہماری گورنمنٹ کا زیادہ ہوتا جاویگا اور کسی دشمن اور ہمسایہ حاکم کے مقابلہ اور نساد کا اندیشہ نہ رہیگا ڈوں دوں ہمارے مذہب اور رسم اور رواج میں زیادہ تر مداخلات کرینگے. ہماری گورنمنٹ کی ابتداے حکومت ہندوستان میں گفتگو مذھب<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> 0r3asxmzgvglzvrm0j9xu0g2i519p08 34741 34740 2026-05-31T11:41:11Z Charan Gill 46 34741 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 17</noinclude>اور کیا مسلمان عیسائی مزہب اور اپنے ملک کی رسم رواج پر ڈالے اور سب سے بڑا سبب اس سرکشی میں یہی ہے. ہر شخص دل سے جانتا تھا کہ ہماری گورنمنٹ کے احکامت بہت آہستہ آہستہ ظہور میں آتے ہیں اور جو کام کرنا ہوتا ہے رفتہ رفینہ کیا کرتے ہیں اس واسطے دفعتاً اور جبراً مسلمانوں کی طرح دین بدلنے کو نہیں کہتے مگر جتنا جتنا قابو پاتے جاوینگے اُتنی اُتنی مداخلت کرتے جاوینگے اور جو باتیں رفتہ رفتہ ظہور میں آتی گئیں جن کا بیان آویگا اُن کے اس غلط شُبہ کو زیادہ تر مستحکم اور مضبوط کرتی گئیں سب کو یقین تھا کہ ہماری گونیست علانیہ جبر مزہب بدلیں پر نہیں کرینگے بلکہ خفیہ تدبیریں کر کر مشل نابود کر دینے عام عربی و سنسکرت کے اور مقلس و محتاج کرد ینے مُلک کے اور لوگوں کو جو اُن کا مذهب ہے اُس کے مسائل سے ناواق کر کر اور اپنے دین و مزہب کی کتابیں اور مسائل اور وعظ کو پھیلا کر نوکریوں کا لالچ دیکر لوگوں کو بے بین کر دینگے ١٨٣٧ء کی قحط سالی میں جو یتیم لڑکے کم عمر عیسائی کئے گئے وہ تمام ضلاع ممالک مغربی و شمالی میں ارادہ گورنمنٹ کے ایک نمونہ گنے جاتے تھے کہ ہندوستان کو اس طرح پرمفلس اورب محتاج کر کر اپنے مذھب میں لے آوینگے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ جب سرکار بلانر ایسٹ انڈیا کمپنی کوئی ملک فتح کرتی تھی ہندوستان کی رعایا کو کمال رنچ ہوتا تھا اور یہ بھی میں سچ کہتا ہوں کہ متشا اس رنج کا اور کُچھ نہیں ہوتا تھا بجز اسکے کہ لوگ جانتے تھے کہ جوں جوں اختیار ہماری گورنمنٹ کا زیادہ ہوتا جاویگا اور کسی دشمن اور ہمسایہ حاکم کے مقابلہ اور نساد کا اندیشہ نہ رہیگا ووں ووں ہمارے مزہب اور رسم اور رواج میں زیادہ تر مداخلات کرینگے. ہماری گورنمنٹ کی ابتداے حکومت ہندوستان میں گفتگو مزہب<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> qi2gavn0eanfp0cspgyhna2kql5dbgz صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/10 250 12676 34733 31809 2026-05-31T02:56:55Z Jagdish Papra 66 34733 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|بیتال پچیسی|٩|}}</noinclude>دیکھنے کو روز ایک وقت جاتی ہون وہان سے آنکر گھر مین اپنا کام کاج کرتی ہون یہ بات راج پتر نے سن دل مین خوش ہو بڑھیا سے کہا کل جسوقت چلنے لگنا تو ایک پیغام ہمارا بھی لیتی جائیو اس نے کہا بیٹا کل پر کیا موقوف ہے ابھی مجھ سے جو کچھ کہہ سو مین تیرا پیغام پہنچاؤن تب اسنے کہا تو اتنا جاکر کہدے کہ جیٹھ کی پنچمی کو تالاب کے کنارے جس راج پتر کو تمنے دیکھا تھا سو آن پہونچا ہے اتنی بات کے سنتے ہی بڑھیا لاٹھی ہاتھ مین لے راج مندر کو گئی وہان جاکر دیکھا کہ راج کنیا اکیلی بیٹھی ہے جب یہ سامنے پہونچی تو اسنے سلام کیا دعا دیکر بولی بیٹی بچپن مین تیری خِدمت کی اور دودھ پلایا اب خدا نے تجھے بڈا کیا یہ جی چاہتا ہے کہ تیری جوانی کا سکھ دیکھون تو مجھے بھی چین ہووے اسی طرح کی باتین محبت آمیز کر کے کہنے لگی کہ جیٹھ کی پنچمین کو تالاب کے کنارے جس کنور کا تونے دل لیا ہے سو میرے گھر آن کر اترا ہے اسنے تجھے یہ پیغام دیا ہے کہ جو اکرار کیا تھا وہ پورا کرو ہم آن پہونچے ہین اور مین بھی یہ کہتی ہون کہ وہ کنور تیرے ہی لائق ہے جیسی تو حسین ہے ویسے ہی وہ گبھرو ہے یہ سب باتین سُن خفا ہو ہاتھون مین صندل لگا بڑھیا کے گالون مین طمانچے مار وہ کہنے لگی کمبخت میرے گھر سے نکل یہ دق ہو اسطرح سے اٹھتی بیٹھتی کنور کے پاس آئی اور سب احوال کہا راج کمار سنکر ہکابکا ہو گیا تب دیوان کا بیٹا بولا مہاراج کچھ فکر نہ کیجئے یہ بات آپکے دھیان مین نہین آئی پھر اسنے کہا سچ ہے مگر تو مجھے سمجھا کہ میرے جی کو چین ہووے اسنے کہا جو دسون انگلیان صندل کی بھر کر منھ پر مارین تو اسنے یہ بتایا کہ دس روز چاندنی کے ہو چکین تو اندھیرے مین ملونگی غرض دس روز کے بعد بڑھیا نے اسکی خبر جا کر کہی تب اسنے کیسر سے تین انگلیان بھر اسکے گال پر مارین اور کہا میرے گھر سے نکل آخر بڑھیا چار نچار ہو کر وہان سے چلی اور جو کچھ حال تھا سب راج پتر سے آکر کہا یہ سنتے ہی وہ غم کے دریا مین ڈوب گیا اسکا یہ احوال دیکھہ پھر دیوان کے بیٹے نے کہا اندیشہ نہ کر اس بات کا مدّعا اور کچھہ ہے وہ بولا میرا جی بیچین ہے مجھہ سے جلد کہو تب اسنے کہا وہ کپڑون سے ہے اس لئے اور تین روز کا وعدہ کیا ہے چوتھے دن تمھین بلائیگی غرضکہ جب تین روز ہو چکے تو بڑھیا نے اسکی طرف سے خیر و عافیت پوچھی تب اسنے بڑھیا کو خفا ہو کر پچھم کی کھڑکی سے نکال دیا پھر یہ احوال بڑھیا نے راج کنور سے آکر کہا وہ سنکر اداس ہوا اتنے مین دیوان کا لڑکا بولا کہ اسبات کا یہ مطلب ہے کہ آج رات کے وقت تمکو اسی کھڑکی کی راہ بلایا ہے یہ سنتے ہی نهایت خوش ہوا غرض جب وہ وقت آیا اودے رنگ کے جوڑے پگڑیان باندھ کپڑے پہن ہتھیار سج سجا تیار ہوے کہ اِس عرصہ مین دو پہر رات گذر گئی اس وقت ایک عالم سنسان کا تھا کہ یہ بھی سونٹھ مارے چپ چاپ چلے جاتے تھے جب کھڑکی کے پاس پہونچے دیوان کا بیٹا باہر کھڑا رہا اور یہ کھڑکی کے اندر گیا دیکھتا کیا ہے کہ راج کنیا بھی وہین کھڑی راہ دیکھتی ہے کہ اسمین ان دونون کی چار نظرین ہوئین تب راج کنیا ہنسین اور کھڑکی بند کر کے راج کنور کو ساتھ لے رنگ محل مین گئی وہان جاکر کنور دیکھتا کیا ہے کہ جابجا لخلخے روشن اور سہیلیان<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 3ingsmm2bs9ck4672jsdadrog10kftt صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/11 250 12677 34734 30717 2026-05-31T03:12:37Z Jagdish Papra 66 34734 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh||١٠|بیتال پچیسی}}</noinclude>رنگ رنگ کی پوشاکین پہنے ہاتھ باندھے باادب کھڑی ہین ایک طرف سیج پھولونکی بچھی اپنے اپنے قرینہ سے عِطردان گلاب پاش چنگیری چوگھڑے ارگجا مشک زعفران کٹوریون مین بھرا ہوا دھرا ہے کہین اچھی اچھی معجون کی ڈبیان چینی ہین کہین طرح طرح کے پکوان دہرے ہین تمام در و دیوار نقش و نگار سے آراستہ اور انپر ایسی صورتین بنی ہوئی ہین کہ ہر ایک دیکھتے ہی محو ہو جاوے غرض سارے عیش و طرب کے سامان و ساز مُہیا ہین عجب عالم ہے کہ جسکا کچھہ بیان نہین ہو سکتا اسی مکان مین رانی پدماوتی نے راج کنور کو لیجا کر بیٹھایا اور پانون دھُلوا صندل بدن مین لگا پھولون کا ہار پہنا گلاب چھٹک پنکھا اپنے ہاتھہ سے جھلنے لگی اسیمین کنور بولا ہم تمھارے دیکھنے سے بہت خوش ہوئے اتنی محنت کیون کرتی ہو تمھارے نازک نازک ہاتھہ پنکھا کے لائق نہین ہمین پنکھا دو تم بیٹھو تب پدماوتی بولی کہ مہاراج آپ بڑی محنت کر کے ہمارے واستے آئے ہین ہمین آپ کی خدمت کرنی لازم ہے تب ایک سہیلی نے رانی کے ہاتھہ سے پنکھا لیکر کہا یہ ہمارا کام ہے ہم خدمت کرین اور تم عیش کرو وہ باہم پان کھانے لگے اوراختلاط کی باتین کرنے کہ اتنے مین سبح ہوئی راج کنیا نے اسے چھپا رکھا جب رات ہوئی تو پھر باہم عیش مین مشغول ہوئے اِسی طرح سے کتنے ایک دِن بیت گئے راجکنور جب جانے کا ارادہ کرتا تو راج کنیا جانے نہ دیتی اسی طرح ایک مہینہ گزر گیا تب تو راجہ بہت گبرایا اور فکرمند ہوا ایک روز کی بات ہے کہ رات کے وقت اکیلا بیٹھا ہوا یہ فکر کرتا تھا کہ دیش راج پاٹ گھر سب چھوٹا ہی پر ایک دوست ہمارا کہ جس کے باعث سے یہ شکھہ پایا اس سے بھی مہینے بھر سے ملاقات نہین ہوئی وہ اپنے جی مین کیا کہتا ہوگا اور کیا جانیئے اسپر کیا گذرتی ہوگی اسی فکر مین بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے مین راج کنیا بھی آن پہونچی اور حالت دیکھہ کر پوچھنے لگی مہاراج تمھین کیا دکھہ ہے جو تم ایسے اُداس بیٹھے ہو مجھہ سے کہو تب وہ بولا کہ ایک ہمارا بہت پیارا دیوان کا بیٹا ہے اسکا حال مہینہ بھر سے معلوم نہین وہ ایسا عقلمند عالم ہے کہ اسکے سبب سے مین نے تمھین پایا اور اسی نے تھارا بھید بتایا راج کنیا بولی مہاراج تمھارا دیان تو وہان ہے تم جہان سکھہ کیا کروگے اس سے بہتر یہ ہے کہ مین پکوان مٹھائی سب کچھہ تیار کر کے بھجواتی ہون آپ ابھی جائے اسکو کھلا پلا بہت تسلی کر خاطر جمع سے پھر آئیے یہ سنتے ہی راجگنور وبان سے اٹھہ کر باہر آیا اور رانی نے زہر ملوا طرح طرح کی مٹھائی بنوا کر بھجوائی کنور دیوان کے لڑکے کے پاس جا کر بیٹھا ہی تھا کہ اتنے مین وہ مٹھائی آن پہونچی پر دیوان کے بیٹے نے پوچھا مہاراج یہ مٹھائی کس طرح سے آئی راج پتر بولا مین وہان تیری فکر مین اُداس بیٹھا تھا کہ اتنے مین رانی نے میری طرف دیکھہ کر پوچھا اُداس کیون بیٹھی ہو کچھہ سبب اسکا بتاؤ پھر مین نے حالات تیرے عقلمندی کے سب اُس سے بیان کیئے تو یہ اجوال سنکے اسنے مجھے تیرے پاس آنیکی اجازت دی اور یہ تیرے واسطے بھجوائی جو تو ابھی کھائیگا تو میرا جی خوش<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 9g2pdq4jn8qywl6xqmehkdugurfw74a 34735 34734 2026-05-31T03:52:08Z Jagdish Papra 66 34735 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh||١٠|بیتال پچیسی}}</noinclude>رنگ رنگ کی پوشاکین پہنے ہاتھ باندھے باادب کھڑی ہین ایک طرف سیج پھولونکی بچھی اپنے اپنے قرینہ سے عِطردان گلاب پاش چنگیری چوگھڑے ارگجا مشک زعفران کٹوریون مین بھرا ہوا دھرا ہے کہین اچھی اچھی معجون کی ڈبیان چنی ہین کہین طرح طرح کے پکوان دہرے ہین تمام در و دیوار نقش و نگار سے آراستہ اور انپر ایسی صورتین بنی ہوئی ہین کہ ہر ایک دیکھتے ہی محو ہو جاوے غرض سارے عیش و طرب کے سامان و ساز مُہیا ہین عجب عالم ہے کہ جسکا کچھ بیان نہین ہو سکتا اسی مکان مین رانی پدماوتی نے راج کنور کو لیجا کر بیٹھایا اور پانون دھُلوا صندل بدن مین لگا پھولون کا ہار پہنا گلاب چھٹک پنکھا اپنے ہاتھ سے جھلنے لگی اسیمین کنور بولا ہم تمھارے دیکھنے سے بہت خوش ہوئے اتنی محنت کیون کرتی ہو تمھارے نازک نازک ہاتھ پنکھا کے لائق نہین ہمین پنکھا دو تم بیٹھو تب پدماوتی بولی کہ مہاراج آپ بڑی محنت کر کے ہمارے واسطے آئے ہین ہمین آپ کی خدمت کرنی لازم ہے تب ایک سہیلی نے رانی کے ہاتھ سے پنکھا لیکر کہا یہ ہمارا کام ہے ہم خدمت کرین اور تم عیش کرو وہ باہم پان کھانے لگے اوراختلاط کی باتین کرتے کہ اتنے مین سبح ہوئی راج کنیا نے اسے چھپا رکھا جب رات ہوئی تو پھر باہم عیش مین مشغول ہوئے اِسی طرح سے کتنے ایک دِن بیت گئے راجکنور جب جانے کا ارادہ کرتا تو راج کنیا جانے نہ دیتی اسی طرح ایک مہینہ گزر گیا تب تو راجہ بہت گھبرایا اور فکرمند ہوا ایک روز کی بات ہے کہ رات کے وقت اکیلا بیٹھا ہوا یہ فکر کرتا تھا کہ دیش راج پاٹ گھر سب چھوٹا ہی پر ایک دوست ہمارا کہ جس کے باعث سے یہ شکھ پایا اس سے بھی مہینے بھر سے ملاقات نہین ہوئی وہ اپنے جی مین کیا کہتا ہوگا اور کیا جانیئے اسپر کیا گذرتی ہوگی اسی فکر مین بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے مین راج کنیا بھی آن پہونچی اور حالت دیکھ کر پوچھنے لگی مہاراج تمھین کیا دکھ ہے جو تم ایسے اُداس بیٹھے ہو مجھ سے کہو تب وہ بولا کہ ایک ہمارا بہت پیارا دیوان کا بیٹا ہے اسکا حال مہینہ بھر سے معلوم نہین وہ ایسا عقلمند عالم ہے کہ اسکے سبب سے مین نے تمھین پایا اور اسی نے تمھارا بھید بتایا راج کنیا بولی مہاراج تمھارا دھیان تو وہان ہے تم جہان سکھ کیا کروگے اس سے بہتر یہ ہے کہ مین پکوان مٹھائی سب کچھ تیار کر کے بھجواتی ہون آپ ابھی جائے اسکو کھلا پلا بہت تسلی کر خاطر جمع سے پھر آئیے یہ سنتے ہی راجکنور وبان سے اٹھ کر باہر آیا اور رانی نے زہر ملوا طرح طرح کی مٹھائی بنوا کر بھجوائی کنور دیوان کے لڑکے کے پاس جا کر بیٹھا ہی تھا کہ اتنے مین وہ مٹھائی آن پہونچی پر دیوان کے بیٹے نے پوچھا مہاراج یہ مٹھائی کس طرح سے آئی راج پتر بولا مین وہان تیری فکر مین اُداس بیٹھا تھا کہ اتنے مین رانی نے میری طرف دیکھ کر پوچھا اُداس کیون بیٹھی ہو کچھ سبب اسکا بتاؤ پھر مین نے حالات تیرے عقلمندی کے سب اُس سے بیان کیئے تو یہ اجوال سنکے اسنے مجھے تیرے پاس آنیکی اجازت دی اور یہ تیرے واسطے بھجوائی جو تو ابھی کھائیگا تو میرا جی خوش<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> ldr6eb6y4hpb46pazqnauwk2n6map16 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/223 250 12816 34732 31332 2026-05-31T01:27:55Z Jagdish Papra 66 34732 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>قریب بیٹھی ہوئی اُسے سمجھا رہی ہیں ۔ ہنومان اُس حسینہ کو دیکھ کر سمجھ گئے کہ یہی سیتا جی ہیں۔ اُن کا زرد چہرہ آنسوؤں سے بھیگی ہوئی آنکھیں، اور پریشان صورت دیکھ کر یقین آگیا ۔ اُن کے جی میں آیا کہ چل کر اس دیوی کے قدموں پر سر رکھ دوں اور سارا حال کہ سُناؤں۔ وہ درخت سے اُترنا ہی چاہتے تھے کہ راون کو باغ میں آتے دیکھ کر رک گئے ۔ راون غرور سے اکڑتا ہوا سیتا کے پاس جا کر بولا سیتا دیکھو کیا سنانا وقت ہے۔ پھولوں کی خوشبو سے مست ہو کر ہوا جھوم رہی ہے ۔ چڑیاں گا رہی ہیں پھولوں پر بھونرے منڈلا رہے ہیں ۔ مگر آج بھی اُسی طرح اُداس اور غمگین بیٹھی ہوئی ہو۔ تمہارے لئے میں نے جو بیش قیمت جوڑے اور زیور بھیجے تھے اُن کی طرف تم نے آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ نہ سر میں تیل ڈالا' نہ عطر ملا ، اس کا کیا سبب ہے ؟ کیا اب بھی تمہیں من<noinclude>[[Category:urdu ]]</noinclude> ogpa1anw8dh30onk93tk9gmioq1jlko