ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.4 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/20 250 12073 34742 27343 2026-05-31T12:02:43Z Charan Gill 46 34742 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 18</noinclude>کی بہت کم تھی روز بروز زیادہ ہوتی گئی اور اس زمانہ میں بدرجہ کمال پہُنچ گئی اس میں کچھ شک نہیں کہ ہماری گوزنمنٹ کو ان امور میں کچھ مداخلت نہ تھی مگر ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ یہ سب معاملہ بموجب حکم اور بموجب اشاره او مرسی گوزنمنٹ ہوتے ہیں سب جانتے تھے کہ گورنمنٹ نے پادری صاہبوں کو ہندوستان میں مقرر کیا ہے گورنمنٹ سے پادری صاحب تنخواہ پاتے ہیں۔ گورنمنٹ اور اور کام انگریزی دلایت ناجو اس ملک میں تو کر ہیں وہ پادری صاحبوں کو بہت سارو بہ ور نیچ کے اور کتابیں بانٹنے کو دیتے ہیں اور ہرطرح ان کے مدو گارا در معاون میں اکثر کاهد حکام متعہ کا اور افسران فوج نے اپنے تابعین سے مدہی کی گفتگو شروع کی تنبی بڑھنے صاحب اپنے ملازمین کو کر دیتے تھے کہ ہماری کوٹھی پر ان کرا رینا * صاحب کا وعظ سنو اور ایسا ہی ہوتا قانونکہ اس بات نے ایسی ترقی بڑی تھی کہ کوئی شخص نہیں جانتا تھا کہ گورنمنٹ کی عملداری میں ها را با ہماری اولاد کا مذہب قایم رہیگا * کا وعطره پادری ہوں پادری صاحبوں کے وعظ سنے نئی صورت نکالی تھی تکرار مذہب کی کتابیں بطور سوال و جوان چینی اورسیم ہونی شروع ہوئیں۔ ان کتابوں میں دوسرے مذہب کے مقدس لوگوں کی نسبت الفاظ اور مضامینی مندرج ہوئے ہندوستان میں دستو روعناد کتنا کا یہ ہے کہ اپنے اپنے معبد یا مکان پر بھی کر کہتے ہیں جس کا دل چا ہے اور میں کو محبت ہوٹاں جا کرنے پادری ساحیوں کا علاقہ اس کے برخلاف تھا وہ خود یہ مارے مجمع اور تیری گاہ اور بعد میں جاکر وعظ کہتے تھے اور کوئی شخص صرت حکام کے ڈر سے مانع نہ ہوتا تنالیف ضلعوں میں یہ رواج نکاکہ پادری صاحبوں کے ساتھ نا کا ایک سیاسی جانے لگا پادری صاحب عظ میر صرف اسی مقدس کے بیان پر کتنا نہیں کرتے تھے بانیدند کے مقامی لوگوں کو اور مقدس مقاموں کو بہت برائی سے اور بہت سے<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> mecalyeoltj3mypv4ikb8pot7mgwfgn 34743 34742 2026-05-31T13:21:54Z Charan Gill 46 34743 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 18</noinclude>کی بہت کم تھی روز بروز زیادہ ہوتی گئی اور اس زمانہ میں بدرجہ کمال پہُنچ گئی اس میں کچھ شک نہیں کہ ہماری گوزنمنٹ کو ان امور میں کچھ مداخلت نہ تھی مگر ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ یہ سب معاملہ بموجب حکم اور بموجب اشاره او مرسی گوزنمنٹ ہوتے ہیں سب جانتے تھے کہ گورنمنٹ نے پادری صاہبوں کو ہندوستان میں مقرر کیا ہے گورنمنٹ سے پادری صاحب تنخواہ پاتے ہیں۔ گورنمنٹ اور اور کام انگریزی ولایت زا جو اس ملک میں نوکر ہیں وہ پادری صاحبوں کو بہت سا روپیہ واسطے خرچ کے اور کتابیں بانٹنے کو دیتے ہیں اور ہر طرح ان کے مددگار اور معاون میں اکثر کاهد حکام متعہ کا اور افسران فوج نے اپنے تابعین سے مدہی کی گفتگو شروع کی تھی بڑھنے صاحب اپنے ملازمین کو کر دیتے تھے کہ ہماری کوٹھی پر ان کرا رینا * صاحب کا وعظ سنو اور ایسا ہی ہوتا قانونکہ اس بات نے ایسی ترقی بڑی تھی کہ کوئی شخص نہیں جانتا تھا کہ گورنمنٹ کی عملداری میں ها را با ہماری اولاد کا مذہب قایم رہیگا * کا وعطره پادری ہوں پادری صاحبوں کے وعظ سنے نئی صورت نکالی تھی تکرار مذہب کی کتابیں بطور سوال و جوان چینی اورسیم ہونی شروع ہوئیں۔ ان کتابوں میں دوسرے مذہب کے مقدس لوگوں کی نسبت الفاظ اور مضامینی مندرج ہوئے ہندوستان میں دستو روعناد کتنا کا یہ ہے کہ اپنے اپنے معبد یا مکان پر بھی کر کہتے ہیں جس کا دل چا ہے اور میں کو محبت ہوٹاں جا کرنے پادری ساحیوں کا علاقہ اس کے برخلاف تھا وہ خود یہ مارے مجمع اور تیری گاہ اور بعد میں جاکر وعظ کہتے تھے اور کوئی شخص صرت حکام کے ڈر سے مانع نہ ہوتا تنالیف ضلعوں میں یہ رواج نکاکہ پادری صاحبوں کے ساتھ نا کا ایک سیاسی جانے لگا پادری صاحب عظ میر صرف اسی مقدس کے بیان پر کتنا نہیں کرتے تھے بانیدند کے مقامی لوگوں کو اور مقدس مقاموں کو بہت برائی سے اور بہت سے<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> 3ijvi1ts45vlyp2jjhye9sjlxk3r9yn 34745 34743 2026-06-01T05:08:50Z Charan Gill 46 34745 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 18</noinclude>کی بہت کم تھی روز بروز زیادہ ہوتی گئی اور اس زمانہ میں بدرجہ کمال پہُنچ گئی اس میں کچھ شک نہیں کہ ہماری گوزنمنٹ کو ان امور میں کچھ مداخلت نہ تھی مگر ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ یہ سب معاملہ بموجب حکم اور بموجب اشاره او مرسی گوزنمنٹ ہوتے ہیں سب جانتے تھے کہ گورنمنٹ نے پادری صاہبوں کو ہندوستان میں مقرر کیا ہے گورنمنٹ سے پادری صاحب تنخواہ پاتے ہیں۔ گورنمنٹ اور اور کام انگریزی ولایت زا جو اس ملک میں نوکر ہیں وہ پادری صاحبوں کو بہت سا روپیہ واسطے خرچ کے اور کتابیں بانٹنے کو دیتے ہیں اور ہر طرح ان کے مددگار اور معاون میں اکثر کاهد حکام متعد اور افسران فوج نے اپنے تابعین سے مزہب کی گفتگو شروع کی تھی بعضے صاحب اپنے ملازمین کو حکم دیتے تھے کہ ہماری کوٹھی پر آن کر پادری صاحب کا وعظ سنو اور ایسا ہی ہوتا تھا غرضکہ اس بات نے ایسی ترقی پکڑی تھی کہ کوئی شخص نہیں جانتا تھا کہ گورنمنٹ کی عملداری میں همارا یا ہماری اولاد کا مزہب قایم رہیگا. پادری صاحبوں کے وعظ سنے نئی ضرورت نکالی تھی تکرار مزہب کی کتابیں بطور سوال و جوان چینی اورسیم ہونی شروع ہوئیں۔ ان کتابوں میں دوسرے مذہب کے مقدس لوگوں کی نسبت الفاظ اور مضامین مندرج ہوئے ہندوستان میں دستور وعضط اور کتھا کا یہ ہے کہ اپنے اپنے معبد یا مکان پر بھی کر کہتے ہیں جس کا دل چا ہے اور میں کو محبت ہوٹاں جا کرنے پادری ساحیوں کا علاقہ اس کے برخلاف تھا وہ خود یہ مارے مجمع اور تیری گاہ اور بعد میں جاکر وعظ کہتے تھے اور کوئی شخص صرت حکام کے ڈر سے مانع نہ ہوتا تنالیف ضلعوں میں یہ رواج نکاکہ پادری صاحبوں کے ساتھ نا کا ایک سیاسی جانے لگا پادری صاحب عظ میر صرف اسی مقدس کے بیان پر کتنا نہیں کرتے تھے بانیدند کے مقامی لوگوں کو اور مقدس مقاموں کو بہت برائی سے اور بہت سے<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> azwysp14iw1vc33gif1hye9638jie59 34746 34745 2026-06-01T05:30:03Z Charan Gill 46 34746 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 18</noinclude>کی بہت کم تھی روز بروز زیادہ ہوتی گئی اور اس زمانہ میں بدرجہ کمال پہُنچ گئی اس میں کچھ شک نہیں کہ ہماری گوزنمنٹ کو ان امور میں کچھ مداخلت نہ تھی مگر ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ یہ سب معاملہ بموجب حکم اور بموجب اشاره او مرسی گوزنمنٹ ہوتے ہیں سب جانتے تھے کہ گورنمنٹ نے پادری صاہبوں کو ہندوستان میں مقرر کیا ہے گورنمنٹ سے پادری صاحب تنخواہ پاتے ہیں۔ گورنمنٹ اور اور کام انگریزی ولایت زا جو اس ملک میں نوکر ہیں وہ پادری صاحبوں کو بہت سا روپیہ واسطے خرچ کے اور کتابیں بانٹنے کو دیتے ہیں اور ہر طرح ان کے مددگار اور معاون میں اکثر کاهد حکام متعد اور افسران فوج نے اپنے تابعین سے مذہب کی گفتگو شروع کی تھی بعضے صاحب اپنے ملازمین کو حکم دیتے تھے کہ ہماری کوٹھی پر آن کر پادری صاحب کا وعظ سنو اور ایسا ہی ہوتا تھا غرضکہ اس بات نے ایسی ترقی پکڑی تھی کہ کوئی شخص نہیں جانتا تھا کہ گورنمنٹ کی عملداری میں همارا یا ہماری اولاد کا مذہب قایم رہیگا. پادری صاحبوں کے وعظ نے نئی ضرورت نکالی تھی تکرار مذہب کی کتابیں بطور سوال و جواب چپنی اور تقسیم ہونی شروع ہوئیں۔ ان کتابوں میں دوسرے مذہب کے مقدس لوگوں کی نسبت الفاظ اور مضامین مندرج ہوئے ہندوستان میں دستور وعط اور کتھا کا یہ ہے کہ اپنے اپنے معبد یا مکان پر بھی کر کہتے ہیں جس کا دل چاہے اور میں کو محبت ہوٹاں جا کرنے پادری ساحیوں کا تریقہ اس کے برخلاف تھا وہ خود یہ مارے مجمع اور تیری گاہ اور بعد میں جاکر وعظ کہتے تھے اور کوئی شخص صرت حکام کے ڈر سے مانع نہ ہوتا تنالیف ضلعوں میں یہ رواج نکاکہ پادری صاحبوں کے ساتھ نا کا ایک سیاسی جانے لگا پادری صاحب عظ میر صرف اسی مقدس کے بیان پر کتنا نہیں کرتے تھے بانیدند کے مقامی لوگوں کو اور مقدس مقاموں کو بہت برائی سے اور بہت سے<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> oxor14tt7frt29vzeprjo61gwarpfz0 34749 34746 2026-06-01T07:44:22Z BalramBodhi 60 34749 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 18</noinclude>کی بہت کم تھی روز بروز زیادہ ہوتی گئی اور اس زمانہ میں بدرجہ کمال پہُنچ گئی اس میں کچھ شک نہیں کہ ہماری گوزنمنٹ کو ان امور میں کچھ مداخلت نہ تھی مگر ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ یہ سب معاملہ بموجب حکم اور بموجب اشاره اُوّ مرسی گورنمنٹ ہوتے ہیں سب جانتے تھے کہ گورنمنٹ نے پادری صاہبوں کو ہندوستان میں مقرر کیا ہے گورنمنٹ سے پادری صاحب تنخواہ پاتے ہیں۔ گورنمنٹ اور آور حکّام انگریزی ولایت زا جو اس ملک میں نوکر ہیں وہ پادری صاحبوں کو بہت سا روپیہ واسطے خرچ کے اور کتابیں بانٹنے کو دیتے ہیں اور ہر طرح ان کے مددگار اور معاون ہیں اکثر حکّام متعد اور افسران فوج نے اپنے تابعین سے مذہب کی گفتگو شروع کی تھی بعضے صاحب اپنے ملازمین کو حکم دیتے تھے کہ ہماری کوٹھی پر آن کر پادری صاحب کا وعظ سنو اور ایسا ہی ہوتا تھا غرضکہ اس بات نے ایسی ترقی پکڑی تھی کہ کوئی شخص یہ نہیں جانتا تھا کہ گورنمنٹ کی عملداری میں همارا یا ہماری اولاد کا مذہب قایم رہیگا. پادری صاحبوں کے وعظ نے نئی صورت نکالی تھی تکرار مذہب کی کتابیں بطور سوال و جواب چھپنی اور تقسیم ہونی شروع ہوئیں۔ اُن کتابوں میں دوسرے مذہب کے مقدس لوگوں کی نسبت الفاظ اور مضامین رنجدہ مندرج ہوئے۔ ہندوستان میں دستور وعظ اور کتھا کا یہ ہے کہ اپنے اپنے معبد یا مکان پر بیٹھ کر کہتے ہیں جس کا دل چاہے اور جس کورغبت ہو وہاں جا کر سُنے پادری ساحبوں کا تریقہ اس کے برخلاف تھا وہ خود غیر مجمع اور تیرتھ گاہ اور بعد میں جاکر وعظ کہتے تھے اور کوئی شخص حرف حکام کے ڈر سے مانع نہ ہوتا تھا بعض مضلموں میں یہ رواج نِکلا کہ پادری صاحبوں کے ساتھ تھانہ کا ایک چپراسی جانے لگا پادری صاحب وعظ میر صرف انجیل مقدس کے بیان پر کتنا نہیں کرتے تھے بلکہ گیر مذہب کے مقدس لوگوں کو اور مقدس مقاموں کو بہت برائی سے اور ہتک سے<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> e38bu191wj0aksbuq6zzcylgulbv611 34752 34749 2026-06-01T11:20:00Z Charan Gill 46 /* پروف خوانی شدہ */ 34752 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 18</noinclude>کی بہت کم تھی روز بروز زیادہ ہوتی گئی اور اس زمانہ میں بدرجہ کمال پہُنچ گئی اس میں کچھ شک نہیں کہ ہماری گوزنمنٹ کو ان امور میں کچھ مداخلت نہ تھی مگر ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ یہ سب معاملہ بموجب حکم اور بموجب اشاره اور مرضی گورنمنٹ ہوتے ہیں سب جانتے تھے کہ گورنمنٹ نے پادری صاہبوں کو ہندوستان میں مقرر کیا ہے گورنمنٹ سے پادری صاحب تنخواہ پاتے ہیں۔ گورنمنٹ اور آور حکّام انگریزی ولایت زا جو اس ملک میں نوکر ہیں وہ پادری صاحبوں کو بہت سا روپیہ واسطے خرچ کے اور کتابیں بانٹنے کو دیتے ہیں اور ہر طرح ان کے مددگار اور معاون ہیں اکثر حکّام متعد اور افسران فوج نے اپنے تابعین سے مذہب کی گفتگو شروع کی تھی بعضے صاحب اپنے ملازمین کو حکم دیتے تھے کہ ہماری کوٹھی پر آن کر پادری صاحب کا وعظ سنو اور ایسا ہی ہوتا تھا غرضکہ اس بات نے ایسی ترقی پکڑی تھی کہ کوئی شخص یہ نہیں جانتا تھا کہ گورنمنٹ کی عملداری میں همارا یا ہماری اولاد کا مذہب قایم رہیگا. پادری صاحبوں کے وعظ نے نئی صورت نکالی تھی تکرار مذہب کی کتابیں بطور سوال و جواب چھپنی اور تقسیم ہونی شروع ہوئیں۔ اُن کتابوں میں دوسرے مذہب کے مقدس لوگوں کی نسبت الفاظ اور مضامین رنجدہ مندرج ہوئے۔ ہندوستان میں دستور وعظ اور کتھا کا یہ ہے کہ اپنے اپنے معبد یا مکان پر بیٹھ کر کہتے ہیں جس کا دل چاہے اور جس کورغبت ہو وہاں جا کر سُنے پادری ساحبوں کا تریقہ اس کے برخلاف تھا وہ خود غیر مجمع اور تیرتھ گاہ اور بعد میں جاکر وعظ کہتے تھے اور کوئی شخص حرف حکام کے ڈر سے مانع نہ ہوتا تھا بعض مضلموں میں یہ رواج نِکلا کہ پادری صاحبوں کے ساتھ تھانہ کا ایک چپراسی جانے لگا پادری صاحب وعظ میر صرف انجیل مقدس کے بیان پر کتنا نہیں کرتے تھے بلکہ گیر مذہب کے مقدس لوگوں کو اور مقدس مقاموں کو بہت برائی سے اور ہتک سے<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude> qnmj775789y6a25bj6imm90t9kk7qg3 صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/21 250 12074 34748 27346 2026-06-01T06:51:54Z Charan Gill 46 34748 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 19</noinclude>یاد کرتے تھے جس سے سننے والوں کو نہایت رنج اور دلی تکلیف پہُنچتی تھی اور ہماری گورنمنٹ سے ناراضی کا بیج لوگوں کے دل میں ہویا جانا تھا. مشفری سکول بیت جاری ہوئے اوراس میں مذہبی تعلیم شروع ہوئی سب لوگ کہتے تھے کہ سرکار کی طرف سے ہیں بعض اضلاع میں بہت ہے بڑے عالی تدریکا متعهد ان اسکولوں میں جاتے تھے اور لوگوں کو اس میں داخل در شامل ہونے کی ترغیب دیتے تھے اتحان مذہبی کتابوں کا لیا جاتا تھا اور طالب علموں سے جو لڑ کے کم عمر ہوتے تھے پوچھاجاتا کہ تمہارا خدا کون تمہارا نجات دینے والا کون اور وہ عیسائی مذہب کے موافق جواب دیتے تھے اس پر ان کو انعام ملنا تھا ان باتوں سے رعایا کا دل ہماری گوینٹ سے بہلتا جاتا تھا ۔ یہاں ایک بڑا اعتراض یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر لوگ استعدے ناراض تھے تو اپنے لڑکوں کو کیوں داخل کرتے تھے اس بات کو عام ناراضی پر خیال کرنا نہیں چاہئے بلکہ یہ ایک بڑی دلیل ہے ہندوستان کے کمال خرا سال اور فلس اور نہایت تنگ اور تباہ حال ہو جانے پر صرف ہندوستان کی محتاجی اورفلسی کا باعث تھا کہ لوگ اس خیال سے کہ ان اسکولوں میں داخل ہوکر ساری اولا د کوکچه و معیشت اور روزگار حال ہوگا ایسی سخت بات کو میں سے بلاشبہ ان کو دلی بینچ اور بیانی غم تھا گوارا کرتے تھے نہ رضا مندی سے * دیہاتی کتبوں کے مقرر ہونے سے سب لوگ یقین سمجھتے تھے دیاتی نکاتیب کہ صرف عیسائی بنانے کو ریکت باری ہوئے ہیں پرگنہ ڈریٹر اور ویٹی کی جو ہر ہرگاؤں اورقصہ میں لوگوں کو نصیحت کرتے پھرتے تھے کہ اپنے لڑکوں کو مکتبوں میں اخل کرو ہر ہرگانوں میں کالا پا درمی ان کا نام تھا جس گاؤں میں پرگنہ زریر یا ڈپٹی انسپکٹر پہنچا اور گنواروں نے انہیں<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]] [[زمرہ:اردو]] [[زمرہ:سید احمد خان]] [[زمرہ:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude> q91awauc6q8lh2phsk57f75pf04ilnn 34750 34748 2026-06-01T08:12:27Z BalramBodhi 60 34750 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 19</noinclude>یاد کرتے تھے جس سے سننے والوں کو نہایت رنج اور دلی تکلیف پہُنچتی تھی اور ہماری گورنمنٹ سے ناراضی کا بیج لوگوں کے دل میں بویا جاتا تھا. مشنری سکول بہت جاری ہوئے اور اس میں مذہبی تعلیم شروع ہوئی سب لوگ کہتے تھے کہ سرکار کی طرف سے ہیں بعض اضلاع میں بہت ہڑے بڑے عالی قدر حکام متعهد اُن اسکولوں میں جاتے تھے اور لوگوں کو اُس میں داخل اور شامل ہونے کی ترغیب دیتے تھے امتحان مذہبی کتابوں کا لیا جاتا تھا اور طالب علموں سے جو لڑکے کم عمر ہوتے تھے پوچھا جاتا کہ تمہارا خدا کون۔ تمہارا نجات دینے والا کون اور وہ عیسائی مذہب کے موافق جواب دیتے تھے اس پر اُن کو انعام ملتا تھا اِن سب باتوں سے رعایا کا دل ہماری گورنمنٹ سے پھرتا جاتا تھا. یہاں ایک بڑا اعتراض یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر لوگ اس تعلیم سے ناراض تھے تو اپنے لڑکوں کو کیوں داخل کرتے تھے اس بات کو عدم ناراضی پر خیال کرنا نہیں چاہئے بلکہ یہ ایک بڑی دلیل ہے ہندوستان کے کمال خراب حال اور مفلس اور نہایت تنگ اور تباہ حال ہو جانے پر یہ صرف ہندوستان کی محتاجی اور مفلسی کا باعث تھا کہ لوگ اس خیال سے کہ ان اسکولوں میں داخل ہوکر ہماری اولاد کو کچھ وجہ معیشت اور روزگار حاسل ہوگا ایسی سخت بات کو جس سے بلاشبہ اُن کو دلی رنچ اور روحانی غم تھا گوارا کرتے تھے نہ رضا مندی سے. دیہاتی مکتبوں کے مقرر ہونے سے سب لوگ یقین سمجھتے تھے کہ صرف یسائی بننے کو یہ مککت جاری ہوئے ہیں پرگنہ وزیڑ اور ڈپٹی انسپکٹر جو ہر ہر گاؤں اور قصبہ میں لوگوں کو نصیحت کرتے پھرتے تھے کہ اپنے لڑکوں کو مکتبوں میں داخل کرو ہر ہر گانوں میں کالا پادرمی اُن کا نام تھا جس گاؤں میں پرگنہ وزریڑ یا ڈپٹی انسپکٹر پہنچا اور گنواروں نے آپس<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]] [[زمرہ:اردو]] [[زمرہ:سید احمد خان]] [[زمرہ:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude> gpy84m001glc2gdit241cfwye96jx63 34751 34750 2026-06-01T11:04:50Z Charan Gill 46 34751 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 19</noinclude>یاد کرتے تھے جس سے سننے والوں کو نہایت رنج اور دلی تکلیف پہُنچتی تھی اور ہماری گورنمنٹ سے ناراضی کا بیج لوگوں کے دل میں بویا جاتا تھا. مشنری سکول بہت جاری ہوئے اور اس میں مذہبی تعلیم شروع ہوئی سب لوگ کہتے تھے کہ سرکار کی طرف سے ہیں بعض اضلاع میں بہت ہڑے بڑے عالی قدر حکام متعهد اُن اسکولوں میں جاتے تھے اور لوگوں کو اُس میں داخل اور شامل ہونے کی ترغیب دیتے تھے امتحان مذہبی کتابوں کا لیا جاتا تھا اور طالب علموں سے جو لڑکے کم عمر ہوتے تھے پوچھا جاتا کہ تمہارا خدا کون۔ تمہارا نجات دینے والا کون اور وہ عیسائی مذہب کے موافق جواب دیتے تھے اس پر اُن کو انعام ملتا تھا اِن سب باتوں سے رعایا کا دل ہماری گورنمنٹ سے پھرتا جاتا تھا. یہاں ایک بڑا اعتراض یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر لوگ اس تعلیم سے ناراض تھے تو اپنے لڑکوں کو کیوں داخل کرتے تھے اس بات کو عدم ناراضی پر خیال کرنا نہیں چاہئے بلکہ یہ ایک بڑی دلیل ہے ہندوستان کے کمال خراب حال اور مفلس اور نہایت تنگ اور تباہ حال ہو جانے پر یہ صرف ہندوستان کی محتاجی اور مفلسی کا باعث تھا کہ لوگ اس خیال سے کہ ان اسکولوں میں داخل ہوکر ہماری اولاد کو کچھ وجہ معیشت اور روزگار حاسل ہوگا ایسی سخت بات کو جس سے بلاشبہ اُن کو دلی رنچ اور روحانی غم تھا گوارا کرتے تھے نہ رضا مندی سے. دیہاتی مکتبوں کے مقرر ہونے سے سب لوگ یقین سمجھتے تھے کہ صرف یسائی بننے کو یہ مکتب جاری ہوئے ہیں پرگنہ وزڑر اور ڈپٹی انسپکٹر جو ہر ہر گاؤں اور قصبہ میں لوگوں کو نصیحت کرتے پھرتے تھے کہ اپنے لڑکوں کو مکتبوں میں داخل کرو ہر ہر گانوں میں کالا پادرمی اُن کا نام تھا جس گاؤں میں پرگنہ وزڑر یا ڈپٹی انسپکٹر پہنچا اور گنواروں نے آپس<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]] [[زمرہ:اردو]] [[زمرہ:سید احمد خان]] [[زمرہ:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude> gdjt8c4okzlm0mm7e9o870ed6ndqilw صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/22 250 12075 34753 27349 2026-06-01T11:38:13Z Charan Gill 46 34753 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 20</noinclude>میں چرچا کیا کہ کالا پادری آیا عوام الناس یوں خیال کرتے تھے۔ کہ یہ یسائی مکتب ہیں اور کرشٹان بنانے کو بٹھاتے ہیں او فہمیدہ آدمی اگرچہ انہیں سمجھتے تھے مگر یوں جانتے تھے کہ ان مکاتیب میت صرف اردو کی تعلیم ہوتی ہے ہمارے لڑکے اس میں پڑھ کر اپنے مزھب کے احکام اور مسائل اور اعتقادات اور رسمیات سے بالکل ناواقت ہو جاوینگے اور عیسائی بنجاوینگے اور یوں سمجھتے تھے کہ گونمنٹ کا بھی ارادہ ہے کہ ہندوستان کے مذہبی علوم کو معدوم کے تاکہ آیندہ کومیسائی مذہبی بیجا دے اکثر ملاع شرقی بندشان میں ان مکنیوں کا جاری ہوتا اور لڑکوں کا داخل ہونا صاب کیا ہوا اور کہدیا کہ گورنمنٹ کا حکم ہے کہ لڑکوں کو داخل کیا جا وے ۔ہ ڑکیوں کے لڑکیوں کی تعلیم کا بہت پر پابند دستان میں تھا اور سب ینیں مانتے تھے کہ سرکار کا مطلب یہ ہے کہ لڑکیاں اسکولوں میں ہیں اوریم پاویں اور بے پردہ ہو یا میں کہ یہ بات صد سے یادہ ہندستانیوں کو ناگوارتھی بعض مضر اضلاع میں اس کا نو ن قائم ہوگیا تھا۔ پرگنہ وزیر اور ڈپٹی انسیکٹر یہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم سعی کرگر لڑکیوں کے مکتب قایم کر دینگے تو ہماری بری نیکنای گونمنٹ میں ہوگی ہاں سبب سے وہ ہر طرح پر طریق مبانز و تا باز لوگوں کو واسطے قائم کرنے لیے کیوں کے کنبوں کے نمایش کرتے تھے اور اس سب سے زیادہ لوگوں کے دلوں کو نا رامنی اور اپنے غلط خیالات کا ان سراج الجوں میں کو یقین ہوتا جاتا تھا + بڑے بڑے کا لج جو شہروں میں مقررہ تھے اور دل کو ہے طری تعلیم بھی کی کہ وحشت لوگوں کو ہوئی تھی اس زمانہ میں بیوی جو تمام ہندوستان میں نامی مولوی تھے زندہ تھے سلمانوں نے ان سے فتوے پوچھا انہوں نے سادہ جواب دیا کہ کالج انگریزی کا تبدیل *<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]] [[زمرہ:اردو]] [[زمرہ:سید احمد خان]] [[زمرہ:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude> dgjrzrz81w5b6wlknwjdkm41t4vzoer 34754 34753 2026-06-01T11:47:15Z Charan Gill 46 34754 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 20</noinclude>میں چرچا کیا کہ کالا پادری آیا عوام الناس یوں خیال کرتے تھے۔ کہ یہ یسائی مکتب ہیں اور کرشٹان بنانے کو بٹھاتے ہیں او فہمیدہ آدمی اگرچہ انہیں سمجھتے تھے مگر یوں جانتے تھے کہ ان مکاتیب میت صرف اردو کی تعلیم ہوتی ہے ہمارے لڑکے اس میں پڑھ کر اپنے مزھب کے احکام اور مسائل اور اعتقادات اور رسمیات سے بالکل ناواقت ہو جاوینگے اور عیسائی بنجاوینگے اور یوں سمجھتے تھے کہ گورنمنٹ کا بھی ارادہ ہے کہ ہندوستان کے مذہبی علوم کو معدوم کر دے تا کہ آیندہ کو یسائی مذہب پھیلجاوے اکثر اضلاع شرقی بندشان میں اِن مکتبوں کا جاری ہوتا اور لڑکوں کا داخل ہونا صاب تحکماً ہوا اور کہدیا کہ گورنمنٹ کا حکم ہے کہ لڑکوں کو داخل کیا جاوے. ڑکیوں کے لڑکیوں کی تعلیم کا بہت پر پابند دستان میں تھا اور سب ینیں مانتے تھے کہ سرکار کا مطلب یہ ہے کہ لڑکیاں اسکولوں میں ہیں اوریم پاویں اور بے پردہ ہو یا میں کہ یہ بات صد سے یادہ ہندستانیوں کو ناگوارتھی بعض مضر اضلاع میں اس کا نو ن قائم ہوگیا تھا۔ پرگنہ وزیر اور ڈپٹی انسیکٹر یہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم سعی کرگر لڑکیوں کے مکتب قایم کر دینگے تو ہماری بری نیکنای گونمنٹ میں ہوگی ہاں سبب سے وہ ہر طرح پر طریق مبانز و تا باز لوگوں کو واسطے قائم کرنے لیے کیوں کے کنبوں کے نمایش کرتے تھے اور اس سب سے زیادہ لوگوں کے دلوں کو نا رامنی اور اپنے غلط خیالات کا ان سراج الجوں میں کو یقین ہوتا جاتا تھا + بڑے بڑے کا لج جو شہروں میں مقررہ تھے اور دل کو ہے طری تعلیم بھی کی کہ وحشت لوگوں کو ہوئی تھی اس زمانہ میں بیوی جو تمام ہندوستان میں نامی مولوی تھے زندہ تھے سلمانوں نے ان سے فتوے پوچھا انہوں نے سادہ جواب دیا کہ کالج انگریزی کا تبدیل *<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]] [[زمرہ:اردو]] [[زمرہ:سید احمد خان]] [[زمرہ:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude> 5hucgigxleqx1nc35gth5d9mhxrn3l9 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/269 250 13177 34744 32682 2026-06-01T01:29:55Z Kaur.gurmel 74 34744 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>چاہتا تھا کہ ذرا دم لینے کی مہلت ہے تو دوسرا رتھ لاؤں مگر لکشمن اتنی تیزی سے تیر چلاتے تھے کہ اُسے ہلنے کی بھی مُہلت نہ ملتی تھی۔ آخر اُس نے غضبناک ہو کر شکتی بان چلا دیا ۔ یہ بان اتنا قاتل تھا کہ اس کا زخمی آناً فاناً مر جاتا تھا ۔ یہ تیر لگتے ہی لکشمن بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔ میگھناد خوشی سے متوالا ہو گیا ۔ اُسی وقت بھاگا ہوا راون کے پاس گیا اور بولا - - دو بھائیوں میں سے ایک کو تو میں نے آج ٹھنڈا کر دیا ۔ ایسا شکستی بان مارا ہے کہ بچ نہیں سکتا ۔ کل دوسرے بھائی کو مار لونگا۔ بس لڑائی کا خاتمہ ہو جائیگا ۔ راون نے بیٹے کو چھاتی سے لگا لیا،. ادھر رامچندر کی فوج میں کہرام مچ گیا۔ ہنومان نے بیہوش لکشمن کو گود میں اُٹھایا اور رامچندر کے پاس لائے ۔ رام نے لکشمن<noinclude></noinclude> q5y4xly9z733kdqpcv0dn8mensombpj تبادلۂ خیال صارف:Rachmat04 3 13184 34747 32702 2026-06-01T05:39:10Z Rachmat04 110 Restored revision 32700 by [[Special:Contributions/Rachmat04|Rachmat04]] ([[User talk:Rachmat04|talk]]) 34747 wikitext text/x-wiki == Test == This is a test. '''· · ·''' <span title="Cherry blossom">🌸</span> [[User:Rachmat04|'''Rachmat04''']] '''·''' [[User talk:Rachmat04|<span title="Let's discuss!">🍵</span>]] 16:57، 24 مئی 2026ء (UTC) eqip13wmif3n9jr362dw8qprjeusaiw