ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.4 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/22 250 12075 34755 34754 2026-06-01T12:44:57Z Charan Gill 46 34755 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 20</noinclude>میں چرچا کیا کہ کالا پادری آیا عوام الناس یوں خیال کرتے تھے۔ کہ یہ یسائی مکتب ہیں اور کرشٹان بنانے کو بٹھاتے ہیں او فہمیدہ آدمی اگرچہ انہیں سمجھتے تھے مگر یوں جانتے تھے کہ ان مکاتیب میت صرف اردو کی تعلیم ہوتی ہے ہمارے لڑکے اس میں پڑھ کر اپنے مزھب کے احکام اور مسائل اور اعتقادات اور رسمیات سے بالکل ناواقت ہو جاوینگے اور عیسائی بنجاوینگے اور یوں سمجھتے تھے کہ گورنمنٹ کا بھی ارادہ ہے کہ ہندوستان کے مذہبی علوم کو معدوم کر دے تا کہ آیندہ کو یسائی مذہب پھیلجاوے اکثر اضلاع شرقی بندشان میں اِن مکتبوں کا جاری ہوتا اور لڑکوں کا داخل ہونا صاب تحکماً ہوا اور کہدیا کہ گورنمنٹ کا حکم ہے کہ لڑکوں کو داخل کیا جاوے. '''لڑکیوں کے اسکول کا ازرہے''' لڑکیوں کی تعلیم کا بہت چرچا ہندوستان میں تھا اور سب یقین جانتے تھے کہ سرکار کا مطلب یہ ہے کہ لڑکیاں اسکولوں میں آویں اور تعلیم پاویں اور بے پردہ ہو جاویں کہ یہ بات حد سے یادہ ہندستانیوں کو ناگوار تھی بعض بعض اضلاع میں اس کا نمونہ قائم ہو گیا تھا۔ پرگنہ وزیٹر اور ڈپٹی انسپیکٹر یہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم سعی کرکر لڑکیوں کے مکتب قایم کرینگے تو ہماری بری نیکنامی گورنمنٹ میں ہوگی اس سبب سے وہ ہر طرح پر طریق جائز و نا جائز لوگوں کو واسطے قائم کرنے لیے مکتبوں کے فہمایش کرتے تھے اور اس سبب سے زیادہ لوگوں کے دلوں کو ناراضی اور اپنے غلط خیالات کا اُن کو یقین ہوتا جاتا تھا. '''بڑے کالجوں میں طریقہ تعلیم کا تبدیل''' بڑے بڑے کالج جو شہروں میں مقرر تھے اور اول اول گواُن سے بھی کچھ کچھ وحشت لوگوں کو ہوئی تھی اس زمانہ میں بیوی جو تمام ہندوستان میں نامی مولوی تھے زندہ تھے مسلمانوں نے اُن سے فتوے پوچھا اُنہوں نے صاف جواب دیا کہ کالج انگریزی<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]] [[زمرہ:اردو]] [[زمرہ:سید احمد خان]] [[زمرہ:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude> mv0xh2rhumvnbyez2tsjb9602mia3qb صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/23 250 12076 34759 27352 2026-06-02T00:52:57Z Charan Gill 46 34759 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 21</noinclude>میں جانا اور پڑھنا اور انگریزی زبان کا سیکھنا بموجب مزھب کے سب درست ہے اس پر سینکڑوں مسلماں کالجوں میں داخل ہوئے مگر اس زمانہ میں کالجوں کا حال ایسا نہ تھا بلکہ ان میں تعلیم کا سررشتہ بہت اچھا تھا ہر قسم کے علوم فارسی اور عربی اور سنسکرت اور انگریزی پڑھائے جاتے تھی۔ فقہ اور حدیث اور علم ادب پڑھانے کی اجازت تھی ۔ فقہ میں امتحان ہوتا تھا سندیں ملتی تھیں کیسی طرح کی ترغیب مذہبی نہ تھی، مدرس بہت ذیعزت اور معتبر اور مشہور اور ذی علم اور پرہیزگار مقرر ہوتے تھے مگر آخر کو یہ بات نہ رہی قدر عربی کی بہت کم ہو گئی۔ اور فقہ حدیث کی تعلیم کی جاتی رہی ۔ فارسی بھی چنداں قابل لحاظ نہ رہی تعلیم کی صورت اور کتابوں کے رواج نے بالکل یہ تغیر پکڑی اردو اور انگریزی کا رواج بہت زیادہ ہوا جس کے سبب وہی شبہ کہ گورنمنٹ کو ہندوستان کے مذہبی علوم کا معدوم کرنا منظور ہے قائم ہو گیا مدرس لوگ معتبر اور ذی علم نہ رہے وہی مدرسہ کے طالب علم کہ جنہوں نے ابھی تک لوگوں کی آنکھوں میں اعتبار پیدا نہ کیا تھا مدرس ہونے لگے اس لئے ان مدرسوں کا بھی وہی حال ہو گیا. '''گورمنٹ کا اشتہار در باب استحفاق نوکری''' ادھر تو دیہاتی مکاتیب اور کالجوں کا یہ حال تھا کہ ان پر سب کو شبہ رواج دینے مذہب یسائی کا ہو رہا تھا کہ دفتاً پیشگاہ گورمنٹ سے اشتہار جاری ہوا کہ جوشخص مدرسہ کا تعلیم یافتہ ہوگا اور فلاں فلاں علوم اور زبان انگریزی میں امتہان دیکر سند یافتہ ہوگا وہ نوکری میں سب سے مقدم سمجھا یاویکا چھوٹی چھوٹی نوکریاں بھی ڈپٹی انسپکٹروں کے سارٹیپھکٹ پر جن کو ابھی تک سب لوگ کالا پادری سمجھے جاتے تھے منحصر ہو گئیں اور ان غلط خیالات کے سبب لوگوں کے دل پر ایک علم کا بوجھ پڑ گیا اور سب کے دل میں ہماری گورمنٹ سے ناراضی پیدا ہو گئی اور لوگ یہ سمجھے کہ ہندوستان کو ہر طرح بے معاش اور محتاج<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]] [[Category:اردو]] [[Category:سید احمد خان]] [[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude> l8moqd1u7t1yf0cb0ctumeimkgnmt9e صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/12 250 12678 34756 31831 2026-06-01T18:35:55Z Jagdish Papra 66 34756 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|بیتال پچیسی|١١|}}</noinclude>ہوگا تب دیوان کا بیٹا بولا تم میرے واستے زہر لائے ہو اسی مین خیر ہوئی کہ آپ نے نہین کھائی مہاراج ایک بات میری سنیئے کہ رنڈی اپنے دوست کے دوست کو نہین چاہتی آپ نے یہ خوب نہ کیا جو میرا نام وہان لیا یہ سُن کنور بولا ایسی بات تم کہتے ہو جو کبھی کسو سے نہ ہو سکے اگر آدمی آدمی سے نہ ڈرے پر خدا سے تو ڈریگا اتنا کہ اسے اسمین سے ایک لڈّو کتّے کے آگے ڈال دیا جوہین کتے نے کھایا وہین چٹ پٹا کر مر گیا یہ طور دیکھہ راج پتر اپنے جی مین غصّہ ہو کہنے لگا ایسی کھوٹی رنڈی سے ملنا لازم نہین آجتک تو میرے دل مین اسکی محبت تھی پر اب معلوم ہوا یہ سُن دیوان کا بیٹا بولا مہاراج جو ہوا سو ہوا اب وہ بات کیا چاہیے جس سے اسکو اپنے گھر لے چلئے راج کمار بولا بھائی یہ بھی تمھین سے ہوگا دیوان کے بیٹے نے کہا آج ایک کام کیجئے پھر پدماوتی کے پاس جائیے اور جو کہون سو کیجۓ پہلے تو اس سے جا کر بہت سا اخلاص پیار کرو جب وہ سو جائے تب اسکا زیور اتار یہ ترسول اسکی بائین جانگھ مین مار وہان سے فوراً چلے آؤ یہ سن راجکمار رات کو پدماوتی کے پاس گیا اور بہت سی باتین دوستی کی کر دونون ملکر سو رہے لیکن باطن مین یہ قابو دیکھتا تھا غرض جب راج کنیا سو گئی تو اُن نے سارا گہنا اتار لیا اور جانگھ مین ترسول مار اپنے مکان کو چلا آیا سارا احوال دیوان کے بیٹے سے بیان کر سب گہنا اسکے آگے رکھ دیا پھر وہ زیور اٹھا راج کمار کو ساتھ لے جوگی کا بھیس بنا کر ایک مرگھٹ مین جا بیٹھا آپ تو گرو بنا اور اسے چیلا بنا کر اس سے کہا بازار مین جاکر اس گہنے کو بیج اگر کوئی اسمین تجھے پکڑے تو اسے میرے پاس لے آنا اسکی بات سُن راج پتر نے زیور کو لے شہر مین جا متصِل راجہ کی ڈیوڑھی کے ایک سنار کو دکھایا اسنے دیکھتے ہی پہچان کر کہا کہ راج کنیا کا گہنا ہے سچ کہہ تونے کہان پایا یہ اس سے کہہ رہا تھا کہ دس بیس آدمی اور بھی آکھٹے ہو گئے غرض کوتوال نے یہ خبر سُن آدمی بھیج راج کمار کو مع زیور اور سنار پکڑوا منگایا اور اس زیور کو دیکھ اس سے پوچھا کہ سچ کہہ تونے کہان سے پایا جب اسنے کہا مجھے گرو نے بیچنے کو دیا ہے پر مجھے معلوم نہین کہ وہ کہان سے لائے تب کوتوال نے اسکے گرو کو بھی پکڑوا منگایا اور دونون کو زیور سمیت راجہ کے حضور مین لا کر تمام حال عرض کیا یہ ماجرا سنکے راجہ جوگی سے پوچھنے لگا کہ ناتھ جی یہ گہنا تمنے کہان سے پایا جوگی بولا مہاراج کالی چودس کی رات کو مین مرگھٹ مین ڈاکنی منتر سِدہ کرنیکو گیا تھا جب وہ ڈاکنی آئی تو مین نے اسکا زیور اور کپڑا اتار لیا اور بائین جانگ مین اسکے ترسول کا نِشان کر دیا اسطرح سے یہ گہنا میرے ہاتھ آیا یہ بات راجہ جوگی سے سُن محل مین گیا اور جوگی آسن پر راجہ نے رانی سے کہا تو پدماوتی کی بائین جانگ مین دیگھ تو نِشان ہے کہ نہین اور کیسا نِشان ہے رانی نے جاکر دیکھا تو ترسول کا داغ ہے راجہ سے آکر کہا مہاراج تین نِشان برابر ہین اور ایسے معلوم ہوتے ہین گویا کِسو نے ترسول مارا ہے راجہ یہ بات سُن باہر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> ky5y6igjyz9rsj17mgqyns4uhx9ljgs صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/269 250 13177 34760 34744 2026-06-02T01:06:34Z Kaur.gurmel 74 34760 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>چاہتا تھا کہ ذرا دم لینے کی مُہلت ہے تو دوسرا رتھ لاؤں مگر لکشمن اتنی تیزی سے تیر چلاتے تھے کہ اُسے ہلنے کی بھی مُہلت نہ ملتی تھی۔ آخر اُس نے غضبناک ہو کر شکتی بان چلا دیا ۔ یہ بان اتنا قاتل تھا کہ اس کا زخمی آناً فاناً مر جاتا تھا ۔ یہ تیر لگتے ہی لکشمن بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔ میگھناد خوشی سے متوالا ہو گیا ۔ اُسی وقت بھاگا ہوا راون کے پاس گیا اور بولا - 'دو بھائیوں میں سے ایک کو تو میں نے آج ٹھنڈا کر دیا ۔ ایسا شکستی بان مارا ہے کہ بچ نہیں سکتا ۔ کل دوسرے بھائی کو مار لونگا۔ بس لڑائی کا خاتمہ ہو جائیگا ۔ راون نے بیٹے کو چھاتی سے لگا لیا'. ادھر رامچندر کی فوج میں کہرام مچ گیا۔ ہنومان نے بیہوش لکشمن کو گود میں اُٹھایا اور رامچندر کے پاس لائے ۔ رام نے لکشمن<noinclude></noinclude> lld9n6lmi4p8ppklu0sfauelaqebu7q صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/270 250 13178 34761 32683 2026-06-02T01:29:31Z Kaur.gurmel 74 34761 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کی یہ کیفیت دیکھی تو بے اختیار آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ رو رو کر کہنے لگے ۔ 'ہائے لکشمن ! تم مجھے چھوڑ کر کہاں چلے گئے ۔ ہائے! مجھے کیا معلوم تھا کہ تم یوں میرا ساتھ چھوڑ دوگے نہیں تو میں پتا کے حُکم کو رد کر دیتا، کبھی بن کی طرف قدم نہ اُٹھاتا ۔ اب میں کون منہ لے کہ اجودھیا جاؤنگا ۔ عورت کے پیچھے بھائی کی جان گنوا کر کس کو مُنہ دکھاؤنگا ۔ عورت تو پھر بھی مل سکتی ہے پر بھائی کہاں ملیگا ۔ ہاے ! میں نے ہمیشہ کے لئے اپنے ماتھے پر کلنک لگا لیا ۔ جامونت ابھی تک کہیں لڑ رہا تھا۔ رام کا وِلاپ سُن کر دوڑا ہوا آیا ۔ اور لکشمن کو غور سے دیکھنے لگا ۔ بوڑھا، تجربہ کار آدمی تھا ۔ کتنی ہی لڑائیاں دیکھ چُکا تھا۔ بولا مہاراج! آپ اتنے نراس کیوں ہوتے ہیں ۔ لکشمن جی ابھی زندہ ہیں۔ صرف بیہوش ہو گئے ہیں ۔ زہر سارے بدن میں دوڑ گیا ہے ۔ اگر<noinclude></noinclude> 57uf0i9zkfthlyin0q8hdr4cbb7zz0x صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/67 250 13689 34757 2026-06-01T23:30:43Z Charan Gill 46 /* غیر پروف خوانی شدہ */ «۵۹ اور شوق کا لن پوچها - فرمایا خاک پک شیراز ۔ اس نے کہ کو بیدی کا کا مراد ہے ؟ شیخ نے بطریق فروت اسی وقت دو عربی شرک کرتا ہے ۔ اُس نے کسی قدر حمل کے بعد کیا سحری کا زیاد تو کلام فارسی ہے اگر کچھہ اس میں سے یاد ہو توپر کیے۔ آپ نے ویسے ہی دو فارسی شعر پ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 34757 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>۵۹ اور شوق کا لن پوچها - فرمایا خاک پک شیراز ۔ اس نے کہ کو بیدی کا کا مراد ہے ؟ شیخ نے بطریق فروت اسی وقت دو عربی شرک کرتا ہے ۔ اُس نے کسی قدر حمل کے بعد کیا سحری کا زیاد تو کلام فارسی ہے اگر کچھہ اس میں سے یاد ہو توپر کیے۔ آپ نے ویسے ہی دو فارسی شعر پر ہے جن میں سے ایک یہ ہے شعر ے دل عشاق بدام توی اما تو شغول و تو با عروزید میں کو جب شیخ نے کا شعر سے چلنے کا ارادہ کیا کسی سے اس طالب علم نے کرنے پاک سعدی یہی شخص ہے۔ وہ بہاگا ہوا شیخ کے پاس چلا آیا اور نہایت افسوس کیا کہ پہلے سے آپ نے اپنا تام نہ بنایا ہمیں آپ کی خدمت گزاری ہے۔ معارت واپس آیا مگر اب بھی بندر از شهر مین چکار نیام کیجئے توہم وگ خدمتگزاری سے مستفید ہوں اسکے جواب میں آپ نے یہ اشعار پر ہے ۔ اشعار بزرگے دیدم اندر و بسیاری قناعت کرده از دنیا به فارسی چرا گفته به شهراندیب کی کہ بارے بندازوں پر کشائی : بگفت آنجا به به ریان نزند پرگل بسیار شد سی ان بلغزند سی طرح ملتان سے جوکہ شیراز سے چودہ سو میل ہے دو بارخان شہید سلطان محمد قاآن نے شیخ کی شہرت سنگریہ سکو وطن سے بلا یا گروہ بڑہاپے کے سبب نہ آسکا۔ تبریز کے حمام میں میر شیخ اورمشہور شاعری کو تیزی کی نوک جھوک ہوئی ہے وہ نہایت ا این باد و نسبت اعلی اور کالا علی کے ان کے ارمان سے مارا یاری می تا معاصرین<noinclude></noinclude> 69zdyo8uynv4yu3q1o4ekklk1d0qscj صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/68 250 13690 34758 2026-06-01T23:31:23Z Charan Gill 46 /* غیر پروف خوانی شدہ */ «شہور قصہ ہے۔ جب تک ہمام نے یہ جانا کہ شخصی سعدی ہے تب تک اس سے چیتر پارکرتا رہا۔ لیکن جب معلوم کہ پاس ہی شیرازی ہے اورا نہایت شرمندگی سے مدد معذرت کر کے اپنے مکان رہے گی اور جب تک شی تر زمین، با کمال تعلیم اور است اسکی مهمانداری کی۔ سرگورا وسلی نے...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 34758 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>شہور قصہ ہے۔ جب تک ہمام نے یہ جانا کہ شخصی سعدی ہے تب تک اس سے چیتر پارکرتا رہا۔ لیکن جب معلوم کہ پاس ہی شیرازی ہے اورا نہایت شرمندگی سے مدد معذرت کر کے اپنے مکان رہے گی اور جب تک شی تر زمین، با کمال تعلیم اور است اسکی مهمانداری کی۔ سرگورا وسلی نے کتاب مجالس العشاق سے ایک حکا بہت نقل کی ہے جسکا خلاصہ یہ کیم نزاری استانی جا بخراسان کا یک مشهور شاعر و میکیان زمان آدمی تا ا اور سمعیل ذب رکھتاتھا شیراز کے عالمین شیخ سے ایک معنی صورت میں ملا معلوم ہوا کہ شخص خراسان کا رہنے والا ہے شیخ نے پوچھا کہ سندی کو کوئی خراسان میں جانتا ہے ؟ کہاں اک کا اور ان مونا زبان زد خالق ہے اور پر شیخ کی درخواست ہے اسکے چند اشعار پر ہے ی خطا ہو اور مجھا کہ شیخی شہر کی عمدہ مذاق رکھتا ہے ۔ آخر دونوں پر ایک دوستر کی حقیقت کھل گئی۔ شیخ زواری کو اپنے مکان پر لے گیا۔ اور بہت دن تک اسکو جانے دیا۔ در بہت خوشی سے دل کویل کراسکی کمانداری کی حکم مزاری نے وہان سے رخصت ہوتے وقت اپنے کام کو کیا ہے کہ ان کی مواضع دور ارات کس طرح کیا کرتے ہیں یہ جلد شیخ کے کان تک بھی پہنچ گیا۔ اسکور سال فسوس ہوا اور یہ تھاکہ حکیم نے ہماری مہمانداری بین شاید کوئی تصور دیکھا۔ حسن اتفاق سے شیخ کا گورتا نان میں ہیں اوریکو نزاری سے ملاقات ہوئی میر بہت محبت اور اخلاق سے بقیعائشہ صفحہ 27 - اسکہ اتنے تھے۔ محق طریسی سے تحصیل علم کی تی اور شاہ حسین وفات پائی۔ ادرس<noinclude></noinclude> jiysjg5azm6f92qv0l57zk0bjbn0vro