ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.5
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/24
250
12077
34769
34768
2026-06-04T14:31:50Z
Charan Gill
46
34769
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 22</noinclude>کیا جاتا ہے کہ نا مجبور ہوکر رفتہ رفتہ ان لوگوں کی مذہبی باتوں میں تغیر و تبدیل ہو جاوے .
'''جلگانوں میی اخالاط اکل و شرب'''
اسی زمانہ میں بعض اضلاع میں تجوز ہوئی کہ قیدی جلخانوں میں ایک شخص کے ہاتھ کا پکا ہوا کھاویں جس سے ہندونکا مذہب بالکل جاتا رہتا تھا۔ مسلمانوں کے مذہب میں اگرچہ کچھ نقصان نہیں آتا تھا مگر اس کا رنج سب کے دل پر تھا کہ سرکار ہر ایک کا مذہب لینے پر آمادہ اور ہر طرح پر اُس کی تدبیر میں ہے.
'''پادری صاحبان اے اڈمنڈ کی چٹھیات کا ازرعے'''
یہ سب خرابیاں لوگوں کے دلوں میں ہو رہی تھی کہ دفتاً ١٨٥٥ع میں پادری صاحبان اے اڈمنڈ نے دارالامارہ کلکتہ سے اموماً اور خصوصاً سرکاری معزز لوگوں کے پاس چھٹیات بھیجیں جن کا مطلب یہ تھا کہ اب تمام ہندوستان میں ایک عملداری ہوگئی تار برقی سے سب جگہ کی خبر ایک ہو گئی ریلوے مشرک سے سب جگہ کی آمد و رفت ایک ہوگئی۔ مذہب بھی ایک چاہئے اس لئے مناسب ہے کہ تم لوگ بھی عیسائی ایک مذہب ہو جاو۔ میں سچ کہتا ہوں کہ ان چٹھات کے آنے کے بعد خوف کے مارے سب کی آنکھوں میں اندھیرا آ گیا۔ پاؤں کے تلے کی مٹی نکل گئی سب کو یقین ہوگیا کہ ہندستانی جس وقت کے منتظر تھے وہ وقت اب آ گیا اب جتنے سرکاری نوکر ہیں اول اُن کو کریشٹان ہونا پڑیگا اور پھر تمام رعیت کو سب لوگ بیشک سمجھتے تھے کہ یہ چٹھیات گورنمنٹ کے حکم سے آئیں ہیں آپس میں ہندوستانی لوگ اہلکاران سرکاری سے پوچھتے تھے کہ تمہارے پاس بھی چٹھی آئی۔ اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ تم بھی سبب لالچ نوکری کے کرشٹان ہو گئے اِن چٹھیوں نے یہاں تک ہندوستانی اہلکاروں کو الزام لگایا کہ جن پاس چٹھیاں آئیں تھیں وہ مارے شرمندگی اور بدنامی کے چھپاتے تھے اور انکار کرتے تھے ہمارے پاس تو<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
83o6r3ffijclt8x7cfhlrfe95lnwbqb
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/25
250
12078
34770
27356
2026-06-04T15:06:46Z
Charan Gill
46
34770
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 23</noinclude>نہیں آئی لوگ جوا ب دیتے تھے کہ اب آجاویگی کیا تم سرکارکے نوکر
نہیں ہو اگر سچ پوچھو تو چٹھیاں تمام ہندوستانیوں کے غلط شبہات
کو پکّا اور مستحکم کرنے والی تھیں چنانچہ انہوں نے کر دیا اور اُسکے
مٹانے کو کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی .
کچھ عذب نہ تھا کہ اُسی زمانہ میں کچھ برہمی اور تھوڑا بہت
فساد ملک میں شروع ہو جاتا چنانچہ اس وقت کے حالات سے
ظاہر ہوتا ہے مگر جناب علی نقاب ڈا لفٹنٹ گوریبا دربنگال
نے بہت با خبر لی اور ایشتانیاری کیا جس سے فی الجمال لوگوں کے
ولوں میں تسلی ہوئی اور وہ تھا جو ہو گیا تھا دھیا ہوا ۔ گر
جیسا کہ چا ہئے ویسا قلع اور تم اس کا نہ ہوا لوگ سمجھے کہ یہ بات
بالفعل موقوت ہوگئی پھر بھی قابو سے وقت پر باری ہو گی ۔
پادری صاحبان اسے ایڈمنڈ کی بیٹی اور نواب علیے انفا با نواب
نفشت گورنر بها در بنگال کا اشتہار آخر کتاب میں مندرج
ہے وہاں دیکھیو +
ان سب باتوں سے سلمان نسبت ہنود کے بہت زیا دوران سامان کولیت
تھے اس کا سبب یہ ہے کہ ہندوا اپنے ند کے احکام طور رسم ورواج سے
زیادہ ترین ہوتا
کے ادا کرتے ہیں بطور حکام نہ کیے ان کو اپنے منہ کے احکاما در اور اسکا سمبل
مقایدا در وہ دلی اور اعتقادی با تیر بین پنجاستہ عاقبت کی موافق
ان کے مذہب کے منحصر ہے طلق معلوم نہیں ہیں اور نہ ان کے
برتاؤ میں ہیں ۔ اس سے وہ اپنے مذہب میں نمای ست اور
جوان بیٹی باتوں کے اور کھانے پینے کی پر ہیز کے اور کسی مذہبی
نیدہ میں چند اور غصہ نہیں ہیں ان کے سامنے ان کے اس قید
سے میرے دل میں اعتماد چاہئے بخلاف باتیں ہوا کریں ان کو کچہ
بارنج نہیں تا ۔ برخلاف سے نمانوں کے وہ اپنے مذہب کے بھتی
اور منہ<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
tj45ayfm3jpukpzbjxfjsf09361u6f2
34771
34770
2026-06-04T15:17:57Z
Charan Gill
46
34771
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 23</noinclude>نہیں آئی لوگ جوا ب دیتے تھے کہ اب آجاویگی کیا تم سرکارکے نوکر
نہیں ہو اگر سچ پوچھو تو چٹھیاں تمام ہندوستانیوں کے غلط شبہات
کو پکّا اور مستحکم کرنے والی تھیں چنانچہ انہوں نے کر دیا اور اُسکے
مٹانے کو کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی .
کچھ عذب نہ تھا کہ اُسی زمانہ میں کچھ برہمی اور تھوڑا بہت
فساد ملک میں شروع ہو جاتا چنانچہ اس وقت کے حالات سے
ظاہر ہوتا ہے مگر جناب علی نقاب ڈا لفٹنٹ گور بہادر بنگال
نے بہت با خبر لی اور ایشتانیاری کیا جس سے فی الجمال لوگوں کے
ولوں میں تسلی ہوئی اور وہ تھا جو ہو گیا تھا دھیا ہوا ۔ گر
جیسا کہ چا ہئے ویسا قلع اور تم اس کا نہ ہوا لوگ سمجھے کہ یہ بات
بالفعل موقوت ہوگئی پھر بھی قابو سے وقت پر باری ہو گی ۔
پادری صاحبان اسے ایڈمنڈ کی بیٹی اور نواب علیے انفا با نواب
نفشت گورنر بها در بنگال کا اشتہار آخر کتاب میں مندرج ہے وہاں دیکھو .
ان سب باتوں سے سلمان نسبت ہنود کے بہت زیا دوران سامان کولیت تھے اس کا سبب یہ ہے کہ ہندوا اپنے ند کے احکام طور رسم ورواج سے زیادہ ترین ہوتا کے ادا کرتے ہیں بطور حکام نہ کیے ان کو اپنے منہ کے احکاما در اور اسکا سمبل مقایدا در وہ دلی اور اعتقادی با تیر بین پنجاستہ عاقبت کی موافق ان کے مذہب کے منحصر ہے طلق معلوم نہیں ہیں اور نہ ان کے برتاؤ میں ہیں ۔ اس سے وہ اپنے مذہب میں نمای ست اور جوان بیٹی باتوں کے اور کھانے پینے کی پر ہیز کے اور کسی مذہبی نیدہ میں چند اور غصہ نہیں ہیں ان کے سامنے ان کے اس قید سے میرے دل میں اعتماد چاہئے بخلاف باتیں ہوا کریں ان کو کچہ بارنج نہیں تا ۔ برخلاف سے نمانوں کے وہ اپنے مذہب کے بھتی اور منہ<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
iezgbofsq6w78mrtlsx0uljpyry57wy
34772
34771
2026-06-04T15:26:01Z
Charan Gill
46
34772
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 23</noinclude>نہیں آئی لوگ جوا ب دیتے تھے کہ اب آجاویگی کیا تم سرکارکے نوکر
نہیں ہو اگر سچ پوچھو تو چٹھیاں تمام ہندوستانیوں کے غلط شبہات
کو پکّا اور مستحکم کرنے والی تھیں چنانچہ انہوں نے کر دیا اور اُسکے
مٹانے کو کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی .
کچھ عذب نہ تھا کہ اُسی زمانہ میں کچھ برہمی اور تھوڑا بہت
فساد ملک میں شروع ہو جاتا چنانچہ اس وقت کے حالات سے
ظاہر ہوتا ہے مگر جناب علی نقاب ڈا لفٹنٹ گور بہادر بنگال
نے بہت با خبر لی اور ایشتانیاری کیا جس سے فی الجمال لوگوں کے
ولوں میں تسلی ہوئی اور وہ تھا جو ہو گیا تھا دھیا ہوا ۔ گر
جیسا کہ چا ہئے ویسا قلع اور تم اس کا نہ ہوا لوگ سمجھے کہ یہ بات
بالفعل موقوت ہوگئی پھر بھی قابو سے وقت پر باری ہو گی ۔
پادری صاحبان اسے ایڈمنڈ کی بیٹی اور نواب علیے انفا با نواب
نفشت گورنر بها در بنگال کا اشتہار آخر کتاب میں مندرج ہے وہاں دیکھو .
ان سب باتوں سے سلمان نسبت ہنود کے بہت زیا دوران سامان کولیت تھے اس کا سبب یہ ہے کہ ہندوا اپنے ند کے احکام طور رسم ورواج سے زیادہ ترین ہوتا کے ادا کرتے ہیں بطور حکام نہ کیے ان کو اپنے منہ کے احکاما در اور اسکا سمبل مقایدا در وہ دلی اور اعتقادی با تیر بین پنجاستہ عاقبت کی موافق ان کے مذہب کے منحصر ہے طلق معلوم نہیں ہیں اور نہ ان کے برتاؤ میں ہیں ۔ اس سے وہ اپنے مذہب میں نمای ست اور جوان بیٹی باتوں کے اور کھانے پینے کی پر ہیز کے اور کسی مذہبی نیدہ میں چند اور غصہ نہیں ہیں ان کے سامنے ان کے اس قید سے میرے دل میں اعتماد چاہئے بر خلاف باتیں ہوا کریں ان کو غصہ با رنج نہیں آتا ۔ برخلاف مسلمانوں کے وہ اپنے مذہب کے بھتی اور منہ<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
31ey8e472zavjg7mz64qsykxgpj04qz
34773
34772
2026-06-04T15:45:52Z
Charan Gill
46
34773
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 23</noinclude>نہیں آئی لوگ جوا ب دیتے تھے کہ اب آجاویگی کیا تم سرکارکے نوکر
نہیں ہو اگر سچ پوچھو تو چٹھیاں تمام ہندوستانیوں کے غلط شبہات
کو پکّا اور مستحکم کرنے والی تھیں چنانچہ انہوں نے کر دیا اور اُسکے
مٹانے کو کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی .
کچھ عذب نہ تھا کہ اُسی زمانہ میں کچھ برہمی اور تھوڑا بہت
فساد ملک میں شروع ہو جاتا چنانچہ اس وقت کے حالات سے
ظاہر ہوتا ہے مگر جناب علی نواب ڈا لفٹنٹ گور بہادر بنگال
نے بہت با خبر لی اور اشتہار جاری کیا جس سے فی الجمال لوگوں کے
ولوں میں تسلی ہوئی اور وہ تھا جو ہو گیا تھا دھیا ہوا ۔ گر
جیسا کہ چا ہئے ویسا قلع اور تم اس کا نہ ہوا لوگ سمجھے کہ یہ بات
بالفعل موقوت ہوگئی پھر بھی قابو سے وقت پر باری ہو گی ۔
پادری صاحبان اسے ایڈمنڈ کی بیٹی اور نواب علیے انفا با نواب
نفشت گورنر بها در بنگال کا اشتہار آخر کتاب میں مندرج ہے وہاں دیکھو .
ان سب باتوں سے سلمان نسبت ہنود کے بہت زیا دوران سامان کولیت تھے اس کا سبب یہ ہے کہ ہندوا اپنے ند کے احکام طور رسم ورواج سے زیادہ ترین ہوتا کے ادا کرتے ہیں بطور حکام نہ کیے ان کو اپنے منہ کے احکاما در اور اسکا سمبل مقایدا در وہ دلی اور اعتقادی با تیر بین پنجاستہ عاقبت کی موافق ان کے مذہب کے منحصر ہے طلق معلوم نہیں ہیں اور نہ ان کے برتاؤ میں ہیں ۔ اس سے وہ اپنے مذہب میں نمای ست اور جوان بیٹی باتوں کے اور کھانے پینے کی پر ہیز کے اور کسی مذہبی نیدہ میں چند اور غصہ نہیں ہیں ان کے سامنے ان کے اس قید سے میرے دل میں اعتماد چاہئے بر خلاف باتیں ہوا کریں ان کو غصہ با رنج نہیں آتا ۔ برخلاف مسلمانوں کے وہ اپنے مذہب کے بھتی اور منہ<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
pwcggapltmpnihi5lmzzna56wptzeau
34774
34773
2026-06-05T01:35:43Z
Charan Gill
46
34774
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 23</noinclude>نہیں آئی لوگ جوا ب دیتے تھے کہ اب آجاویگی کیا تم سرکارکے نوکر
نہیں ہو اگر سچ پوچھو تو چٹھیاں تمام ہندوستانیوں کے غلط شبہات
کو پکّا اور مستحکم کرنے والی تھیں چنانچہ انہوں نے کر دیا اور اُسکے
مٹانے کو کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی .
کچھ عذب نہ تھا کہ اُسی زمانہ میں کچھ برہمی اور تھوڑا بہت
فساد ملک میں شروع ہو جاتا چنانچہ اس وقت کے حالات سے
ظاہر ہوتا ہے مگر جناب علی نواب ڈا لفٹنٹ گور بہادر بنگال
نے بہت با خبر لی اور اشتہار جاری کیا جس سے فی الجمال لوگوں کے
ولوں میں تسلی ہوئی اور وہ تھا جو ہو گیا تھا دھیا ہوا ۔ گر
جیسا کہ چا ہئے ویسا قلع اور تم اس کا نہ ہوا لوگ سمجھے کہ یہ بات
بالفعل موقوت ہوگئی پھر بھی قابو سے وقت پر باری ہو گی ۔
پادری صاحبان اسے ایڈمنڈ کی بیٹی اور نواب علیے انفا با نواب
نفشت گورنر بها در بنگال کا اشتہار آخر کتاب میں مندرج ہے وہاں دیکھو .
زیادہ ترین ہوتااور اس کا سبب
ان سب باتوں سے مسلمان نسبت ہندو کے بہت زیادہ ناراض تھے اس کا سبب یہ ہے کہ ہندو اپنے مزھب کے احکام بطور رسم و رواج کے ادا کرتے ہیں نہ بطور احکام مزہب کے اُن کو اپنے مزہب کے احکاما در اور اسکا سمبل مقایدا در وہ دلی اور اعتقادی با تیر بین پنجاستہ عاقبت کی موافق ان کے مذہب کے منحصر ہے طلق معلوم نہیں ہیں اور نہ ان کے برتاؤ میں ہیں ۔ اس سے وہ اپنے مذہب میں نمای ست اور جوان بیٹی باتوں کے اور کھانے پینے کی پر ہیز کے اور کسی مذہبی نیدہ میں چند اور غصہ نہیں ہیں ان کے سامنے ان کے اس قید سے میرے دل میں اعتماد چاہئے بر خلاف باتیں ہوا کریں ان کو غصہ با رنج نہیں آتا ۔ برخلاف مسلمانوں کے وہ اپنے مذہب کے بھتی اور منہ<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
be25lcfgpk22hiagkb7k6q5qiwy129w
34775
34774
2026-06-05T06:48:43Z
BalramBodhi
60
34775
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 23</noinclude>نہیں آئی لوگ جواب دیتے تھے کہ اب آجاویگی کیا تم سرکار کے نوکر
نہیں ہو اگر سچ پوچھو تو یہ چٹھیاں تمام ہندوستانیوں کے غلط شبہات
کو پکّا اور مستحکم کرنے والی تھیں چنانچہ انہوں نے کر دیا اور اُسکے مٹانے کو کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی.
کچھ عذب نہ تھا کہ اُسی زمانہ میں کچھ برہمی اور تھوڑا بہت فساد ملک میں شروع ہو جاتا چنانچہ اُس وقت کے حالات سے ظاہر ہوتا ہے مگر جناب علی القاب نواب لفٹنٹ گور بہادر بنگال نے بہت جلد خبر لی اور ایک اشتہار جاری کیا جس سے فی الجمال لوگوں کے دلوں میں تسلّی ہوئی اور وہ اخطرار جو ہوگیا تھا دھیما ہوا۔ مگر جیسا کہ چاہئے ویسا قلع\نفع اور فنع اس کا نہ ہوا لوگ سمجھے کہ یہ بات بالفعل موقوف ہوگئی پھر کبھی قابو کے وقت پر جاری ہوگی۔ پادری صاحبان اے ایڈمنڈ کی چٹھی اور نواب معلے القاب نواب لفٹنٹ گورنر بہادر بنگال کا اشتہار آخر کتاب میں مندرج ہے وہاں دیکھو .
زیادہ ترین ہوتااور اس کا سبب
ان سب باتوں سے مسلمان نسبت ہندو کے بہت زیادہ ناراض تھے اس کا سبب یہ ہے کہ ہندو اپنے مزھب کے احکام بطور رسم و رواج کے ادا کرتے ہیں نہ بطور احکام مزہب کے اُن کو اپنے مزہب کے احکاما اور عقاید اور وہ دلی اور اعتقادی باتیر جن پر نجات عاقبت کی موافق اُن کے مذہب کے منحصر ہے مطلق معلوم نہیں ہیں اور نہ ان کے برتاؤ میں ہیں۔ اس سبب سے وہ اپنے مذہب میں نہایت سُست اور بجز اُن رسمی باتوں کے اور کھانے پینے کی پرہیز کے اور کسی مذہبی عقیدہ میں پختہ اور متعصب نہیں ہیں اُن کے سامنے اُن کے اُس عقیدہ کے جس کا دل میں اعتقاد چاہئے برخلاف باتیں ہوا کریں ان کو کچھ غصہ یا رنج نہیں آتا۔ برخلاف مسلمانوں کے وہ اپنے مذہب کے عقاید موجب<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
ec2rdri9tn8i1r4r646ag200f2nok9s