ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.5
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/25
250
12078
34776
34775
2026-06-06T00:50:56Z
Charan Gill
46
34776
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 23</noinclude>نہیں آئی لوگ جواب دیتے تھے کہ اب آجاویگی کیا تم سرکار کے نوکر
نہیں ہو اگر سچ پوچھو تو یہ چٹھیاں تمام ہندوستانیوں کے غلط شبہات
کو پکّا اور مستحکم کرنے والی تھیں چنانچہ انہوں نے کر دیا اور اُسکے مٹانے کو کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی.
کچھ عذب نہ تھا کہ اُسی زمانہ میں کچھ برہمی اور تھوڑا بہت فساد ملک میں شروع ہو جاتا چنانچہ اُس وقت کے حالات سے ظاہر ہوتا ہے مگر جناب علی القاب نواب لفٹنٹ گور بہادر بنگال نے بہت جلد خبر لی اور ایک اشتہار جاری کیا جس سے فی الجمال لوگوں کے دلوں میں تسلّی ہوئی اور وہ اخطرار جو ہوگیا تھا دھیما ہوا۔ مگر جیسا کہ چاہئے ویسا قلع\نفع اور فنع اس کا نہ ہوا لوگ سمجھے کہ یہ بات بالفعل موقوف ہوگئی پھر کبھی قابو کے وقت پر جاری ہوگی۔ پادری صاحبان اے ایڈمنڈ کی چٹھی اور نواب معلے القاب نواب لفٹنٹ گورنر بہادر بنگال کا اشتہار آخر کتاب میں مندرج ہے وہاں دیکھو .
'''مسلمانوں کو مداخلت امور مذہبی سے زیادہ رنج ہوتااور اس کا سبب'''
ان سب باتوں سے مسلمان نسبت ہندو کے بہت زیادہ ناراض تھے اس کا سبب یہ ہے کہ ہندو اپنے مزھب کے احکام بطور رسم و رواج کے ادا کرتے ہیں نہ بطور احکام مزہب کے اُن کو اپنے مزہب کے احکاما اور عقاید اور وہ دلی اور اعتقادی باتیر جن پر نجات عاقبت کی موافق اُن کے مذہب کے منحصر ہے مطلق معلوم نہیں ہیں اور نہ ان کے برتاؤ میں ہیں۔ اس سبب سے وہ اپنے مذہب میں نہایت سُست اور بجز اُن رسمی باتوں کے اور کھانے پینے کی پرہیز کے اور کسی مذہبی عقیدہ میں پختہ اور متعصب نہیں ہیں اُن کے سامنے اُن کے اُس عقیدہ کے جس کا دل میں اعتقاد چاہئے برخلاف باتیں ہوا کریں ان کو کچھ غصہ یا رنج نہیں آتا۔ برخلاف مسلمانوں کے وہ اپنے مذہب کے عقاید موجب<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
nmyti7mrttwktb9mc2cr4xr7g4zlgx9
34777
34776
2026-06-06T01:04:10Z
Charan Gill
46
34777
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 23</noinclude>نہیں آئی لوگ جواب دیتے تھے کہ اب آجاویگی کیا تم سرکار کے نوکر
نہیں ہو اگر سچ پوچھو تو یہ چٹھیاں تمام ہندوستانیوں کے غلط شبہات
کو پکّا اور مستحکم کرنے والی تھیں چنانچہ انہوں نے کر دیا اور اُسکے مٹانے کو کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی.
کچھ عذب نہ تھا کہ اُسی زمانہ میں کچھ برہمی اور تھوڑا بہت فساد ملک میں شروع ہو جاتا چنانچہ اُس وقت کے حالات سے ظاہر ہوتا ہے مگر جناب معلّی القاب نواب لفٹنٹ گور بہادر بنگال نے بہت جلد خبر لی اور ایک اشتہار جاری کیا جس سے فی الجمال لوگوں کے دلوں میں تسلّی ہوئی اور وہ اخطرار جو ہوگیا تھا دھیما ہوا۔ مگر جیسا کہ چاہئے ویسا قلع\نفع اور فنع اس کا نہ ہوا لوگ سمجھے کہ یہ بات بالفعل موقوف ہوگئی پھر کبھی قابو کے وقت پر جاری ہوگی۔ پادری صاحبان اے ایڈمنڈ کی چٹھی اور نواب معلے القاب نواب لفٹنٹ گورنر بہادر بنگال کا اشتہار آخر کتاب میں مندرج ہے وہاں دیکھو .
'''مسلمانوں کو مداخلت امور مذہبی سے زیادہ رنج ہوتااور اس کا سبب'''
ان سب باتوں سے مسلمان نسبت ہندو کے بہت زیادہ ناراض تھے اس کا سبب یہ ہے کہ ہندو اپنے مزھب کے احکام بطور رسم و رواج کے ادا کرتے ہیں نہ بطور احکام مزہب کے اُن کو اپنے مزہب کے احکاما اور عقاید اور وہ دلی اور اعتقادی باتیر جن پر نجات عاقبت کی موافق اُن کے مذہب کے منحصر ہے مطلق معلوم نہیں ہیں اور نہ ان کے برتاؤ میں ہیں۔ اس سبب سے وہ اپنے مذہب میں نہایت سُست اور بجز اُن رسمی باتوں کے اور کھانے پینے کی پرہیز کے اور کسی مذہبی عقیدہ میں پختہ اور متعصب نہیں ہیں اُن کے سامنے اُن کے اُس عقیدہ کے جس کا دل میں اعتقاد چاہئے برخلاف باتیں ہوا کریں ان کو کچھ غصہ یا رنج نہیں آتا۔ برخلاف مسلمانوں کے وہ اپنے مذہب کے عقاید موجب<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
fu8ybmfxuk8c30v824ughxp6tqmfa65
34778
34777
2026-06-06T01:07:58Z
Charan Gill
46
34778
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 23</noinclude>نہیں آئی لوگ جواب دیتے تھے کہ اب آجاویگی کیا تم سرکار کے نوکر
نہیں ہو اگر سچ پوچھو تو یہ چٹھیاں تمام ہندوستانیوں کے غلط شبہات
کو پکّا اور مستحکم کرنے والی تھیں چنانچہ انہوں نے کر دیا اور اُسکے مٹانے کو کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی.
کچھ عذب نہ تھا کہ اُسی زمانہ میں کچھ برہمی اور تھوڑا بہت فساد ملک میں شروع ہو جاتا چنانچہ اُس وقت کے حالات سے ظاہر ہوتا ہے مگر جناب معلیٰ القاب نواب لفٹنٹ گور بہادر بنگال نے بہت جلد خبر لی اور ایک اشتہار جاری کیا جس سے فی الجمال لوگوں کے دلوں میں تسلّی ہوئی اور وہ اخطرار جو ہوگیا تھا دھیما ہوا۔ مگر جیسا کہ چاہئے ویسا قلع\نفع اور فنع اس کا نہ ہوا لوگ سمجھے کہ یہ بات بالفعل موقوف ہوگئی پھر کبھی قابو کے وقت پر جاری ہوگی۔ پادری صاحبان اے ایڈمنڈ کی چٹھی اور نواب معلیٰ القاب نواب لفٹنٹ گورنر بہادر بنگال کا اشتہار آخر کتاب میں مندرج ہے وہاں دیکھو .
'''مسلمانوں کو مداخلت امور مذہبی سے زیادہ رنج ہوتااور اس کا سبب'''
ان سب باتوں سے مسلمان نسبت ہندو کے بہت زیادہ ناراض تھے اس کا سبب یہ ہے کہ ہندو اپنے مزھب کے احکام بطور رسم و رواج کے ادا کرتے ہیں نہ بطور احکام مزہب کے اُن کو اپنے مزہب کے احکاما اور عقاید اور وہ دلی اور اعتقادی باتیر جن پر نجات عاقبت کی موافق اُن کے مذہب کے منحصر ہے مطلق معلوم نہیں ہیں اور نہ ان کے برتاؤ میں ہیں۔ اس سبب سے وہ اپنے مذہب میں نہایت سُست اور بجز اُن رسمی باتوں کے اور کھانے پینے کی پرہیز کے اور کسی مذہبی عقیدہ میں پختہ اور متعصب نہیں ہیں اُن کے سامنے اُن کے اُس عقیدہ کے جس کا دل میں اعتقاد چاہئے برخلاف باتیں ہوا کریں ان کو کچھ غصہ یا رنج نہیں آتا۔ برخلاف مسلمانوں کے وہ اپنے مذہب کے عقاید موجب<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
7jiqdfma395bu3yso0qefxgd5tka4z4
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/26
250
12079
34779
27358
2026-06-06T01:27:14Z
Charan Gill
46
34779
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 24</noinclude>جو باتیں کہ ان کے مذہب میں نجات دینے والی اور مناسب ڈالنے
میں بخوبی جانتے ہیں اور ان احکام کونڈ ہی احکام اور خدا کی با یکے
احکام سمجھ کر کرتے ہیں اس سے اپنے مذہب میں چند اورنصب
ہیں ان وجولات سے مسلمان زیادہ تر ناراض تھے اور بندوں کی
بنسبت زیادہ تر فساد میں ان کا شریک ہونا قرین قیاس تھا چنانچہ ہی
ہوا بلاش بتنی گورنمنٹ کی مداخلت مذہب میں خلاف قواعد یکتای
ہے ویسا ہی کسی مذہب کی تعلیم کو روکنا علی الخصوص اس مذہب کی
جس کو وہ سمجھتی ہے برخلاف اور بیجا ہے مگر ہمارا مطالب مرت
اننا ہے کہ باوجودیکہ ہماری گورنمنٹ ایسی ہی ہے مگر کام اس طرح
پر ہوئے کہ ر ما یا یہ غلط است به رفع نہ ہوا.
{{center|{{x-larger|'''اصل دوم'''}}}}
'''دوم اجرای ضوابط آئینِ نامناسب'''
{{center|جاری ہونا ایسے آئین اور ضوابط اور طریقہ حکومت</br>
کا جو ہندوستان کی حکومت اور ہندستانیوں</br>
کی عادات کے مناسب نہ تھی}}
یجر نیٹ کونسل سے بھی امور ند ہی میں مداخلت ہوئی ایکمت؟
شنو صاف مذہبی قواعد پر خلل انداز تھا پھر اس ایکٹ سے
را
ایک یہ بدگمانی لوگوں کوننی کہ یہ ایکٹ نام اسطو ترغیب میائی
قبول کرنے کے جاری ہوا ہے ۔ کیونکہ یہ بات لا سکتی کہ نیندست
کوئی آدمی ہندوں میں شامل نہیں ہوسکتا میں ہند و تواس قانون
کے مفاد سے محروم تھے نیبرند آپ کا آدمی اگر مسلمان ہو جاو سے
تو اس کو اپنے مذہب کی رو سے جو اس نے اختیار کیا ہے اپنے
مورثوں کا متروکہ جو غیر مذہب میں تھے لینا منع ہے میں کوئی مسلم<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
gxv6dc9nue248lh81m6zep48x5gew4s
34780
34779
2026-06-06T03:44:51Z
Charan Gill
46
34780
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 24</noinclude>جو باتیں کہ ان کے مذہب میں نجات دینے والی اور عزاب میں ڈالنے ہیں بخوبی جانتے ہیں اور ان احکام کونڈ ہی احکام اور خدا کی با یکے
احکام سمجھ کر کرتے ہیں اس سے اپنے مذہب میں چند اورنصب
ہیں ان وجولات سے مسلمان زیادہ تر ناراض تھے اور بندوں کی
بنسبت زیادہ تر فساد میں ان کا شریک ہونا قرین قیاس تھا چنانچہ ہی
ہوا بلاش بتنی گورنمنٹ کی مداخلت مذہب میں خلاف قواعد یکتای
ہے ویسا ہی کسی مذہب کی تعلیم کو روکنا علی الخصوص اس مذہب کی
جس کو وہ سمجھتی ہے برخلاف اور بیجا ہے مگر ہمارا مطالب مرت
اننا ہے کہ باوجودیکہ ہماری گورنمنٹ ایسی ہی ہے مگر کام اس طرح
پر ہوئے کہ ر ما یا یہ غلط است به رفع نہ ہوا.
{{center|{{x-larger|'''اصل دوم'''}}}}
'''دوم اجرای ضوابط آئینِ نامناسب'''
{{center|جاری ہونا ایسے آئین اور ضوابط اور طریقہ حکومت</br>
کا جو ہندوستان کی حکومت اور ہندستانیوں</br>
کی عادات کے مناسب نہ تھی}}
یجر نیٹ کونسل سے بھی امور ند ہی میں مداخلت ہوئی ایکمت؟
شنو صاف مذہبی قواعد پر خلل انداز تھا پھر اس ایکٹ سے
را
ایک یہ بدگمانی لوگوں کوننی کہ یہ ایکٹ نام اسطو ترغیب میائی
قبول کرنے کے جاری ہوا ہے ۔ کیونکہ یہ بات لا سکتی کہ نیندست
کوئی آدمی ہندوں میں شامل نہیں ہوسکتا میں ہند و تواس قانون
کے مفاد سے محروم تھے نیبرند آپ کا آدمی اگر مسلمان ہو جاو سے
تو اس کو اپنے مذہب کی رو سے جو اس نے اختیار کیا ہے اپنے
مورثوں کا متروکہ جو غیر مذہب میں تھے لینا منع ہے میں کوئی مسلم<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
pzaqv0wyvldt3qp26rweatjwlmvqesh
34782
34780
2026-06-06T05:57:06Z
BalramBodhi
60
34782
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 24</noinclude>جو باتیں کہ اُن کے مذہب میں نجات دینے والی اور عزاب میں ڈالنے ہیں بخوبی جانتے ہیں اور ان احکام کو مذھبی احکام اور خدا کی طرف کے احکام سمجھ کر کرتے ہیں اِس سبب سے اپنے مذہب میں پختہ اور متہعصب ہیں ان وجوہات سے مسلمان زیادہ تر ناراض تھے اور ہندوں کی
بنسبت زیادہ تر فساد میں اُن کا شریک ہونا قرین قیاس تھا چنانچہ وہی ہوا بلاشبہ جتنی گورنمنٹ کی مداخلت مذہب میں خلاف قواعد ملکداری
ہے ویسا ہی کسی مذہب کی تعلیم کو روکنا علی الخصوص اُس مذہب کی جس کو وہ حق سمجھتی ہے برخلاف اور بیجا ہے مگر ہمارا مطلب صرف اننا ہے کہ باوجود یکہ ہماری گورنمنٹ ایسی ہی ہے مگر کام اس طرح
پر ہوئے کہ رعایا یہ غلط شبہ رفع نہ ہوا.
{{center|{{x-larger|'''اصل دوم'''}}}}
'''دوم اجرای ضوابط آئینِ نامناسب'''
{{center|جاری ہونا ایسے آئین اور ضوابط اور طریقہ حکومت</br>
کا جو ہندوستان کی حکومت اور ہندستانیوں</br>
کی عادات کے مناسب نہ تھی}}
لیجس لیٹف کونسل سے بھی امور مذہبی میں مداخلت ہوئی ایک مت ١٨٥٠ ع صاف مذہبی قواعد پر خلل انداز تھا پھر اس ایکٹ سے ایک یہ بدگمانی لوگوں کو تھی کہ یہ ایکٹ خاص واسطے ترغیب عیسائی ... قبول کرنے کے جاری ہوا ہے۔ کیونکہ یہ بات ظاہر تھے کہ گیر مذھب کا کوئی آدمی ہندوں میں شامل نہیں ہو سکتا پس ہند تو اس قانون کے مفاد سے محروم تھے گیر مذھب کا آدمی اگر مسلمان ہو جاوے تو اُس کو اپنے مذہب کی رو سے جو اُس نے اختیار کیا ہے اپنے مورثوں کا متروکہ جو غیر مذہب میں تھے لینا منع ہے پس کوئی نو مسلم<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
366vbpd1yyfx9wzbtymdr3l2ppxlqd0
34784
34782
2026-06-06T07:59:15Z
Charan Gill
46
34784
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 24</noinclude>جو باتیں کہ اُن کے مذہب میں نجات دینے والی اور عزاب میں ڈالنے ہیں بخوبی جانتے ہیں اور ان احکام کو مذھبی احکام اور خدا کی طرف کے احکام سمجھ کر کرتے ہیں اِس سبب سے اپنے مذہب میں پختہ اور متہعصب ہیں ان وجوہات سے مسلمان زیادہ تر ناراض تھے اور ہندوں کی
بنسبت زیادہ تر فساد میں اُن کا شریک ہونا قرین قیاس تھا چنانچہ وہی ہوا بلاشبہ جتنی گورنمنٹ کی مداخلت مذہب میں خلاف قواعد ملکداری
ہے ویسا ہی کسی مذہب کی تعلیم کو روکنا علی الخصوص اُس مذہب کی جس کو وہ حق سمجھتی ہے برخلاف اور بیجا ہے مگر ہمارا مطلب صرف اننا ہے کہ باوجود یکہ ہماری گورنمنٹ ایسی ہی ہے مگر کام اس طرح
پر ہوئے کہ رعایا یہ غلط شبہ رفع نہ ہوا.
{{center|{{x-larger|'''اصل دوم'''}}}}
'''دوم اجرای ضوابط آئینِ نامناسب'''
{{center|جاری ہونا ایسے آئین اور ضوابط اور طریقہ حکومت</br>
کا جو ہندوستان کی حکومت اور ہندستانیوں</br>
کی عادات کے مناسب نہ تھی}}
'''ایکت ٢١ ١٨٥٠ ع'''
لیجس لیٹف کونسل سے بھی امور مذہبی میں مداخلت ہوئی ایکت ٢١ ١٨٥٠ ع صاف مذہبی قواعد پر خلل انداز تھا پھر اس ایکٹ سے ایک یہ بدگمانی لوگوں کو تھی کہ یہ ایکٹ خاص واسطے ترغیب عیسائی مذہب قبول کرنے کے جاری ہوا ہے۔ کیونکہ یہ بات ظاہر تھے کہ گیر مذھب کا کوئی آدمی ہندوں میں شامل نہیں ہو سکتا پس ہند تو اس قانون کے مفاد سے محروم تھے گیر مذھب کا آدمی اگر مسلمان ہو جاوے تو اُس کو اپنے مذہب کی رو سے جو اُس نے اختیار کیا ہے اپنے مورثوں کا متروکہ جو غیر مذہب میں تھے لینا منع ہے پس کوئی نو مسلم<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
gpbzx9sn64j8j65yrijk1vrvinj60yz
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/27
250
12080
34783
27360
2026-06-06T07:01:49Z
BalramBodhi
60
34783
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 25</noinclude> اس ایکٹ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا البنہ عیسائی مذہب جس نے
قبول کیا ہے وہ فائدہ مند ہو سکتا تھا اس سبب سے لوگ خیال کرتے تھے کہ \نمائدہ\ مداخلت مذہبی کے اِس ایکٹ سے صاف ترغیب ہے.
ایکٹ ۱۵ ١٨٥٦ء درباب بیوہ ہنود کے رسوم مذہبی مین خلل ڈالتا تھا گو اس میں بڑی بڑی بحسیں ہوئیں اور بیوستہ بھی لئے گئے مگر ہندو لوگ جو مذھب سے زیادہ پابند رسم و رواج کے ہیں اس ایکٹ کو نہایت ناپسند کرتے تھے بلکہ باعث اپنی تنگ ہتک نفرت اور بربادی خاندان
کا جانتے تھے اور یوں بدگمانی کرتے تھے کہ یہ ایکٹ اس مراد سے جاری ہوا ہے کہ بندو کی بیوائیں خود مختار ہو جائیں اور جو چاہیں سو کرنے لگیں.
عورتوں کی \پھل\مختاری
ضابطہ عورتوں کی \نسل\ مختاری کا جو فوجداری سے عدالتوں میں جاری تھا کس قدر ہندوستانیوں کی عزت اور آبرو اور رسم اور رواج میں نقصان پہُنچانا تھا- منکوحہ عورتیں تک فوجداری سے \کار\مختار ہو گیں دلیوں کی ولایت عورات پر سے اٹھ گئی اور یہ باتین شریع مذہب مین نکسان پہنچاتی تھیں دیوانی عدالت پر جو اس کا تدارک حوالہ کیا
گیا تھا بلاشبہ نکافی اور بیفایده تھا اور جس بات کا فی الفور تدارک ہونا از رویے مذھب اور رسم و رواج کے چاہئے تھا وہ ایسی تاخیر اور جھمیلے مین ڈالا گیا تھا کہ زیادہ تر فساد اس سے برپا ہوتا تھا دیوانی کی ڈگریات بابت دلا پانے زوجہ کے بہت ہی کم تعمیل
ہوئی ہونگی اکثر مقدمات ایسے نکلینگے کہ عورت نے غاصب کے گھر دو دو تین تین بچے بھی جن لئے اور ہنوز مدعی اُس کی نشاندہی کی تدبیر میں سرگرداں ہے.
چند ایکٹ اور قانون ایسے ہیں کہ جن کی رو سے باوصف متہد امین غلا
ہصب ہونے متخاصمین کے برخلاف ان کے مذھب کے مقدمات دیوانی عدالت سے فیصل ہوتے تھے ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہماری<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
8vbx5w5nh27ykxknt9g3htw79ays8h2
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/10
250
12676
34781
34733
2026-06-06T04:27:51Z
Taranpreet Goswami
90
34781
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|بیتال پچیسی|٩|}}</noinclude>دیکھنے کو روز ایک وقت جاتی ہون وہان سے آنکر گھر مین اپنا کام کاج کرتی ہون یہ بات راج پتر نے سن دل مین خوش ہو بڑھیا سے کہا کل جسوقت چلنے لگنا تو ایک پیغام ہمارا بھی لیتی جائیو اس نے کہا بیٹا کل پر کیا موقوف ہے ابھی مجھ سے جو کچھ کہہ سو مین تیرا پیغام پہنچاؤن تب اسنے کہا تو اتنا جاکر کہدے کہ جیٹھ کی پنچمی کو تالاب کے کنارے جس راج پتر کو تمنے دیکھا تھا سو آن پہونچا ہے اتنی بات کے سنتے ہی بڑھیا لاٹھی ہاتھ مین لے راج مندر کو گئی وہان جاکر دیکھا کہ راج کنیا اکیلی بیٹھی ہے جب یہ سامنے پہونچی تو اسنے سلام کیا دعا دیکر بولی بیٹی بچپن مین تیری خِدمت کی اور دودھ پلایا اب خدا نے تجھے بڈا کیا یہ جی چاہتا ہے کہ تیری جوانی کا سکھ دیکھون تو مجھے بھی چین ہووے اسی طرح کی باتین محبت آمیز کر کے کہنے لگی کہ جیٹھ کی پنچمین کو تالاب کے کنارے جس کنور کا تونے دل لیا ہے سو میرے گھر آن کر اترا ہے اسنے تجھے یہ پیغام دیا ہے کہ جو اکرار کیا تھا وہ پورا کرو ہم آن پہونچے ہین اور مین بھی یہ کہتی ہون کہ وہ کنور تیرے ہی لائق ہے جیسی تو حسین ہے ویسے ہی وہ گبھرو ہے یہ سب باتین سُن خفا ہو ہاتھون مین صندل لگا بڑھیا کے گالون مین طمانچے مار وہ کہنے لگی کمبخت میرے گھر سے نکل یہ دق ہو اسطرح سے اٹھتی بیٹھتی کنور کے پاس آئی اور سب احوال کہا راج کمار سنکر ہکابکا ہو گیا تب دیوان کا بیٹا بولا مہاراج کچھ فکر نہ کیجئے یہ بات آپکے دھیان مین نہین آئی پھر اسنے کہا سچ ہے مگر تو مجھے سمجھا کہ میرے جی کو چین ہووے اسنے کہا جو دسون انگلیان صندل کی بھر کر منھ پر مارین تو اسنے یہ بتایا کہ دس روز چاندنی کے ہو چکین تو اندھیرے مین ملونگی غرض دس روز کے بعد بڑھیا نے اسکی خبر جا کر کہی تب اسنے کیسر سے تین انگلیان بھر اسکے گال پر مارین اور کہا میرے گھر سے نکل آخر بڑھیا چار نچار ہو کر وہان سے چلی اور جو کچھ حال تھا سب راج پتر سے آکر کہا یہ سنتے ہی وہ غم کے دریا مین ڈوب گیا اسکا یہ احوال دیکھ پھر دیوان کے بیٹے نے کہا اندیشہ نہ کر اس بات کا مدّعا اور کچھ ہے وہ بولا میرا جی بیچین ہے مجھہ سے جلد کہو تب اسنے کہا وہ کپڑون سے ہے اس لئے اور تین روز کا وعدہ کیا ہے چوتھے دن تمھین بلائیگی غرضکہ جب تین روز ہو چکے تو بڑھیا نے اسکی طرف سے خیر و عافیت پوچھی تب اسنے بڑھیا کو خفا ہو کر پچھم کی کھڑکی سے نکال دیا پھر یہ احوال بڑھیا نے راج کنور سے آکر کہا وہ سنکر اداس ہوا اتنے مین دیوان کا لڑکا بولا کہ اسبات کا یہ مطلب ہے کہ آج رات کے وقت تمکو اسی کھڑکی کی راہ بلایا ہے یہ سنتے ہی نهایت خوش ہوا غرض جب وہ وقت آیا اودے رنگ کے جوڑے پگڑیان باندھ کپڑے پہن ہتھیار سج سجا تیار ہوے کہ اِس عرصہ مین دو پہر رات گذر گئی اس وقت ایک عالم سنسان کا تھا کہ یہ بھی سونٹھ مارے چپ چاپ چلے جاتے تھے جب کھڑکی کے پاس پہونچے دیوان کا بیٹا باہر کھڑا رہا اور یہ کھڑکی کے اندر گیا دیکھتا کیا ہے کہ راج کنیا بھی وہین کھڑی راہ دیکھتی ہے کہ اسمین ان دونون کی چار نظرین ہوئین تب راج کنیا ہنسین اور کھڑکی بند کر کے راج کنور کو ساتھ لے رنگ محل مین گئی وہان جاکر کنور دیکھتا کیا ہے کہ جابجا لخلخے روشن اور سہیلیان<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
pzsw6ixbvv18p75r4g062kmokx056x3
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/42
250
13691
34785
2026-06-06T08:58:50Z
Krupal (OKI)
219
/* پروف خوانی شدہ */
34785
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Krupal (OKI)" /></noinclude>www.urduchannel.inces
خلاصہ یہی ہے مراد سیح مقدس کی اس نصیحت سے محبت ہے غرضکہ کوئی عقلمند اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ محبت اور اتحاد بہت عمدہ چیز ہے اور بہت اچھے اچھے نتیجہ دیتی ہے اور بہت سی برائیوں کو روکتی ہے آج تک ہماری گورنمنٹ نے یہ محبت ہندوستان کی رعایا کے ساتھ پیدا نہیں کی ؟
یہ بھی ایک قاعدہ محبت کا جبلت انسانی بلکہ حیوانی میں بھی قدرتی پیدا کیا گیا ہے کہ اعلیٰ کی طرف سے اونٹے کی طرف محبت چلتی ہے باپ کی محبت اپنے بیٹے کی طرف پہلے اُس سے شروع ہوتی ہے کہ بیٹے کو باپسے ہے اسی طرح مرد کی محبت اپنی عورت کی طرف عورت کی محبت سے جو مرد کی طرف ہے مقدم ہے اسی بنا پر یہ بات ہے کہ ادنئے جو اعلنے سے محبت شروع کر لئے ، خوشا انی جاتی ہے نہ محبت اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری گورنمنٹ کو اول چاہئے تھا کہ رعایا کے ساتھ محبت اور اتحاد کرنے میں تقدم کرتی پھر محبت کا یہ قاعدہ جو ہزار ہا تجربہ سے حاص عربیہ سے حاصل ہوا ہے کہ خواہ مخواہ محبت ، دوسرے دوست کی دل میں اثر کرتی ہے اور اور اپنی طرف کھینچ لاتی ہے رعایا کے دل میں اثر کرتی اور رعایا اُس سے زیادہ ہماری گورنمنٹ کی محبت بلکہ فریفتہ ہو جاتی ہے
عش آن خانماں خرابی بست
که ترا آورد سبخانه ما
مگر افسوس کہ ہماری گورنمنٹ نے ایسا نہیں کیا ؟
اگر ہماری گورنمنٹ دعوے کرے کہ یہ بات غلط ہے ہم نے ایسا نہیں کیا بلکہ محبت کی اور نیکی کا بدلا بدی پائی تو اس کا انصاف ہم خود گورنمنٹ کے سپرد کر ینگے اگر یہ بات یوں ہی ہوتی تو رعایا کو بلاشبہ ہماری گورنمنٹ کی محبت سے زیادہ محبت ہوتی ۔ بیشک<noinclude></noinclude>
eh5jht5o6yl7m8q853flm3rlp28am9f