ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.5
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/26
250
12079
34786
34784
2026-06-07T02:00:48Z
Charan Gill
46
34786
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 24</noinclude>جو باتیں کہ اُن کے مذہب میں نجات دینے والی اور عزاب میں ڈالنے ہیں بخوبی جانتے ہیں اور ان احکام کو مذھبی احکام اور خدا کی طرف کے احکام سمجھ کر کرتے ہیں اِس سبب سے اپنے مذہب میں پختہ اور متہعصب ہیں ان وجوہات سے سلمان زیادہ تر ناراض تھے اور ہندوں کی بہ نسبت زیادہ تر فساد میں اُن کا شریک ہونا قرین قیاس تھا چنانچہ وہی ہوا بلاشبہ جتنی گورنمنٹ کی مداخلت مذہب میں خلاف قواعد ملکداری
ہے ویسا ہی کسی مذہب کی تعلیم کو روکنا علی الخصوص اُس مذہب کی جس کو وہ حق سمجھتی ہے برخلاف اور بیجا ہے مگر ہمارا مطلب صرف اتنا ہے کہ باوجود یکہ ہماری گورنمنٹ ایسی ہی ہے مگر کام اس طرح پر ہوئے کہ رعایا یہ غلط شبہ رفع نہ ہوا.
{{center|{{x-larger|'''اصل دوم'''}}}}
'''دوم اجرای ضوابط آئینِ نامناسب'''
{{center|جاری ہونا ایسے آئین اور ضوابط اور طریقہ حکومت</br>
کا جو ہندوستان کی حکومت اور ہندستانیوں</br>
کی عادات کے مناسب نہ تھی}}
'''ایکٹ ٢١ ١٨٥٠ء'''
لیجس لیٹف کونسل سے بھی امور مذہبی میں مداخلت ہوئی ایکت ٢١ ١٨٥٠ء صاف مذہبی قواعد پر خلل انداز تھا پھر اس ایکٹ سے ایک یہ بدگمانی لوگوں کو تھی کہ یہ ایکٹ خاص واسطے ترغیب عیسائی مذہب قبول کرنے کے جاری ہوا ہے۔ کیونکہ یہ بات ظاہر تھے کہ گیر مذھب کا کوئی آدمی ہندوں میں شامل نہیں ہو سکتا پس ہندو تو اس قانون کے مفاد سے محروم تھے گیر مذہب کا آدمی اگر مسلمان ہو جاوے تو اُس کو اپنے مذہب کی رُو سے جو اُس نے اختیار کیا ہے اپنے مورثوں کا متروکہ جو غیر مذہب میں تھے لینا منع ہے پس کوئی نو مسلم بھی<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
db6gb3a6iknf1drgozsa8m8zuszunj6
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/27
250
12080
34787
34783
2026-06-07T02:19:08Z
Charan Gill
46
34787
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 25</noinclude>اس ایکٹ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا البتہ عیسائی مذہب جس نے قبول کیا ہے وہ فائدہ مند ہو سکتا تھا اس سبب سے لوگ خیال کرتے تھے کہ علاوہ مداخلت مذہبی کے اِس ایکٹ سے صاف ترغیب ہے.
'''ایکٹ ۱۵ ١٨٥٦ء'''
ایکٹ ۱۵ ١٨٥٦ء درباب بیوہ ہنود کے رسوم مذہبی مین خلل ڈالتا تھا گو اس میں بڑی بڑی بحسیں ہوئیں اور بیوستہ بھی لئے گئے مگر ہندو لوگ جو مذھب سے زیادہ پابند رسم و رواج کے ہیں اس ایکٹ کو نہایت ناپسند کرتے تھے بلکہ باعث اپنی تنگ ہتک نفرت اور بربادی خاندان کا جانتے تھے اور یوں بدگمانی کرتے تھے کہ یہ ایکٹ اس مراد سے جاری ہوا ہے کہ بندو کی بیوائیں خود مختار ہو جائیں اور جو چاہیں سو کرنے لگیں.
'''عورتوں کی فعل مختاری'''
ضابطہ عورتوں کی فعل مختاری کا جو فوجداری سے عدالتوں میں جاری تھا کس قدر ہندوستانیوں کی عزت اور آبرو اور رسم اور رواج میں نقصان پہُنچانا تھا- منکوحہ عورتیں تک فوجداری سے فعل مختار ہو گیں دلیوں کی ولایت عورات پر سے اٹھ گئی اور یہ باتین شریع مذہب مین نکسان پہنچاتی تھیں دیوانی عدالت پر جو اس کا تدارک حوالہ کیا گیا تھا بلاشبہ نکافی اور بیفایده تھا اور جس بات کا فی الفور تدارک ہونا از رویے مذھب اور رسم و رواج کے چاہئے تھا وہ ایسی تاخیر اور جھمیلے مین ڈالا گیا تھا کہ زیادہ تر فساد اس سے برپا ہوتا تھا دیوانی کی ڈگریات بابت دلا پانے زوجہ کے بہت ہی کم تعمیل ہوئی ہونگی اکثر مقدمات ایسے نکلینگے کہ عورت نے غاصب کے گھر دو دو تین تین بچے بھی جن لئے اور ہنوز مدعی اُس کی نشاندہی کی تدبیر میں سرگرداں ہے.
چند ایکٹ اور قانون ایسے ہیں کہ جن کی رو سے باوصف متہد امین غلا ہصب ہونے متخاصمین کے برخلاف ان کے مذھب کے مقدمات دیوانی عدالت سے فیصل ہوتے تھے ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہماری<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
ee84twpsgz81g123xcf36933uqd8dm4
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/28
250
12081
34788
27362
2026-06-07T03:29:06Z
Charan Gill
46
34788
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 26</noinclude>کوزیشن کسی مذہب کی طرف داری کرے مختلف مذہب ہونے
کی صورت میں بلاست باضات کا لحاظ چاہئے بشرطیکہ وہ انصاف
دونوں مذہبوں کے یا دونوں اہل مقدمہ کے معاہدہ کے بڑجات
نہ ہو الا حبیب طرفین متحد المذہب میں تو ضرور ہے کہ انہیں کے مذہب
یا انہیں کے رسم ورواج کے مطابق مقدمات حقوق متعلقہ دیوانی
کے فیصل ہوں.
شیلی باشی
قوانین مذہبی اراضیات لاخراج میں کا آخر قانون ۱۸۱۹
حکومت ہندوستان کو نہایت مضر تقابلی اراضیات نے بر قدر
رعایا سے ہندوستان کو ناراض اور بدخواہ بہاری گورنمنٹ کا کر دیا تھا۔
ار مرد اور اس سے زیادہ اور کسی چیز نے نہیں کیا تھا سچ فرما یا تالارڈ منرواؤ
ڈیولز، پٹن
امج
سام کا قول ؟ ڈیوک آن ولنگٹر صاحب بہادر نے کو ضبط کرنا معانیاست کا ہو
یون روشن و یوگ آت و النگتر ساحر
سے منی پیدا کرنی اور ان کومحتاج کر دیا ہے میں بیان نہی کرتے
کہ ہندوستانیوں کو کس قدر ناراضی اور دلی پنجا در ساری گورنمنٹ
کی بدخواہی در نیز کتنی مصیبت اورنگی معاشر اس سبب سے
ان کونی بہت سی معانیات صد ہا سال سے پلی آتی تھیں
اوراد نے او نے حیلہ پرنبط ہوگئیں ۔ ہندوستانی صاف خیال کرتے
تھے کہ سرکار نے خود تو ہماری پرو شیر نہیں کی بلکہ جو جا کہ ہم کوا در بہار
بزرگوں کو اگلے بادشاہوں نے دی تھیں بھی گورنمنٹ نے چین
لیں پھر تو ہم کو اور کیا توقع گورنمنٹ سے ہے منبطی اراضیات کے
باپ میں اگر ہماری گورنمنٹ کی طرف سے یہ مند صحیح اور واقعی بی
سمجھا جائے کہ اگر مضبطی اراضیات لاخراجی نہ ہوتی تو وہ اسطے پورا کرنے
انتجرامات گورنمنٹ کے بیس کو نہایت کفایت شعاری سے مان لینا
چاہے ہندوستانی آدمیوں سے کسی حصول کے لینے کی تدبیرکرنی
رتی مگر رعایا کو اس سے کسی طرح پرنسلی اور جو سیبت کہ ان پر پڑی<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
b1y5nmjnzcb71e2foiggz2u9zi0ycg0
34789
34788
2026-06-07T04:01:45Z
Charan Gill
46
34789
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 26</noinclude>گورنمنٹ کسی مذہب کی طرف داری کرے مختلف مذہب ہونے کی صورت میں بلاسبہ انصاف کا لحاظ چاہئے بشرطیکہ وہ انصاف دونوں مذہبوں کے یا دونوں اہل مقدمہ کے معاہدہ کے بر خلاف نہ ہو الا حب طرفین متحد المذہب میں تو ضرور ہے کہ انہیں کے مذہب یا انہیں کے رسم و رواج کے مطابق مقدمات حقوق متعلقہ دیوانی کے فیصل ہوں.
'''ضبطی اراضی لاخراج'''
قوانین ضبطی اراضیات لاخراج جس کا آخر قانون ٢ ۱۸۱۹ء ہے حکومت ہندوستان کو نہایت مضر تقابلی اراضیات نے بر قدر
رعایا سے ہندوستان کو ناراض اور بدخواہ بہاری گورنمنٹ کا کر دیا تھا۔
ار مرد اور اس سے زیادہ اور کسی چیز نے نہیں کیا تھا سچ فرما یا تالارڈ منرواؤ
ڈیولز، پٹن
امج
سام کا قول ؟ ڈیوک آن ولنگٹر صاحب بہادر نے کو ضبط کرنا معانیاست کا ہو
یون روشن و یوگ آت و النگتر ساحر
سے منی پیدا کرنی اور ان کومحتاج کر دیا ہے میں بیان نہی کرتے
کہ ہندوستانیوں کو کس قدر ناراضی اور دلی پنجا در ساری گورنمنٹ
کی بدخواہی در نیز کتنی مصیبت اورنگی معاشر اس سبب سے
ان کونی بہت سی معانیات صد ہا سال سے پلی آتی تھیں
اوراد نے او نے حیلہ پرنبط ہوگئیں ۔ ہندوستانی صاف خیال کرتے
تھے کہ سرکار نے خود تو ہماری پرو شیر نہیں کی بلکہ جو جا کہ ہم کوا در بہار
بزرگوں کو اگلے بادشاہوں نے دی تھیں بھی گورنمنٹ نے چین
لیں پھر تو ہم کو اور کیا توقع گورنمنٹ سے ہے منبطی اراضیات کے
باپ میں اگر ہماری گورنمنٹ کی طرف سے یہ مند صحیح اور واقعی بی
سمجھا جائے کہ اگر مضبطی اراضیات لاخراجی نہ ہوتی تو وہ اسطے پورا کرنے
انتجرامات گورنمنٹ کے بیس کو نہایت کفایت شعاری سے مان لینا
چاہے ہندوستانی آدمیوں سے کسی حصول کے لینے کی تدبیرکرنی
رتی مگر رعایا کو اس سے کسی طرح پرنسلی اور جو سیبت کہ ان پر پڑی<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
hxoefwg32l6pb0dhwkuqxriy5001tw0
34790
34789
2026-06-07T04:14:06Z
Charan Gill
46
34790
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 26</noinclude>گورنمنٹ کسی مذہب کی طرف داری کرے مختلف مذہب ہونے کی صورت میں بلاسبہ انصاف کا لحاظ چاہئے بشرطیکہ وہ انصاف دونوں مذہبوں کے یا دونوں اہل مقدمہ کے معاہدہ کے بر خلاف نہ ہو الا حب طرفین متحد المذہب میں تو ضرور ہے کہ انہیں کے مذہب یا انہیں کے رسم و رواج کے مطابق مقدمات حقوق متعلقہ دیوانی کے فیصل ہوں.
'''ضبطی اراضی لاخراج'''
قوانین ضبطی اراضیات لاخراج جس کا آخر قانون ٢ ۱۸۱۹ء ہے حکومت ہندوستان کو نہایت مضر تھا ضبطی اراضیات نے جس قدر ہندوستان کو ناراض اور بدخواہ ہماری گورنمنٹ کا کر دیا تھا۔
اِس سے زیادہ کسی چیز نے نہیں کیا تھا سچ فرمایا تھا لارڈ منرواؤ ڈیوک آف ولنگٹن صاحب
بہادر نے کو ضبط کرنا معانیاست کا ہو
یون روشن و یوگ آت و النگتر ساحر امج
سام کا قول ؟ ڈیوک آن ولنگٹر صاحب
سے منی پیدا کرنی اور ان کومحتاج کر دیا ہے میں بیان نہی کرتے
کہ ہندوستانیوں کو کس قدر ناراضی اور دلی پنجا در ساری گورنمنٹ
کی بدخواہی در نیز کتنی مصیبت اورنگی معاشر اس سبب سے
ان کونی بہت سی معانیات صد ہا سال سے پلی آتی تھیں
اوراد نے او نے حیلہ پرنبط ہوگئیں ۔ ہندوستانی صاف خیال کرتے
تھے کہ سرکار نے خود تو ہماری پرو شیر نہیں کی بلکہ جو جا کہ ہم کوا در بہار
بزرگوں کو اگلے بادشاہوں نے دی تھیں بھی گورنمنٹ نے چین
لیں پھر تو ہم کو اور کیا توقع گورنمنٹ سے ہے منبطی اراضیات کے
باپ میں اگر ہماری گورنمنٹ کی طرف سے یہ مند صحیح اور واقعی بی
سمجھا جائے کہ اگر مضبطی اراضیات لاخراجی نہ ہوتی تو وہ اسطے پورا کرنے
انتجرامات گورنمنٹ کے بیس کو نہایت کفایت شعاری سے مان لینا
چاہے ہندوستانی آدمیوں سے کسی حصول کے لینے کی تدبیرکرنی
رتی مگر رعایا کو اس سے کسی طرح پرنسلی اور جو سیبت کہ ان پر پڑی<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
g4yy97fwbsjvxo1ilgb8ygkeo26dj7r
34791
34790
2026-06-07T04:19:02Z
Charan Gill
46
34791
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 26</noinclude>گورنمنٹ کسی مذہب کی طرف داری کرے مختلف مذہب ہونے کی صورت میں بلاسبہ انصاف کا لحاظ چاہئے بشرطیکہ وہ انصاف دونوں مذہبوں کے یا دونوں اہل مقدمہ کے معاہدہ کے بر خلاف نہ ہو الا حب طرفین متحد المذہب میں تو ضرور ہے کہ انہیں کے مذہب یا انہیں کے رسم و رواج کے مطابق مقدمات حقوق متعلقہ دیوانی کے فیصل ہوں.
'''ضبطی اراضی لاخراج'''
قوانین ضبطی اراضیات لاخراج جس کا آخر قانون ٢ ۱۸۱۹ء ہے حکومت ہندوستان کو نہایت مضر تھا ضبطی اراضیات نے جس قدر ہندوستان کو ناراض اور بدخواہ ہماری گورنمنٹ کا کر دیا تھا۔
اِس سے زیادہ کسی چیز نے نہیں کیا تھا
'''لارڈ منرواؤ ڈیوک آف ولنگٹن صاحب کا قول'''
سچ فرمایا تھا لارڈ منرواؤ ڈیوک آف ولنگٹن صاحب
بہادر نے کو ضبط کرنا معانیاست کا ہو
یون روشن و یوک آت و النگتر ساحر امج
سام کا قول ؟ ڈیوک آن ولنگٹر صاحب
سے منی پیدا کرنی اور ان کومحتاج کر دیا ہے میں بیان نہی کرتے
کہ ہندوستانیوں کو کس قدر ناراضی اور دلی پنجا در ساری گورنمنٹ
کی بدخواہی در نیز کتنی مصیبت اورنگی معاشر اس سبب سے
ان کونی بہت سی معانیات صد ہا سال سے پلی آتی تھیں
اوراد نے او نے حیلہ پرنبط ہوگئیں ۔ ہندوستانی صاف خیال کرتے
تھے کہ سرکار نے خود تو ہماری پرو شیر نہیں کی بلکہ جو جا کہ ہم کوا در بہار
بزرگوں کو اگلے بادشاہوں نے دی تھیں بھی گورنمنٹ نے چین
لیں پھر تو ہم کو اور کیا توقع گورنمنٹ سے ہے منبطی اراضیات کے
باپ میں اگر ہماری گورنمنٹ کی طرف سے یہ مند صحیح اور واقعی بی
سمجھا جائے کہ اگر مضبطی اراضیات لاخراجی نہ ہوتی تو وہ اسطے پورا کرنے
انتجرامات گورنمنٹ کے بیس کو نہایت کفایت شعاری سے مان لینا
چاہے ہندوستانی آدمیوں سے کسی حصول کے لینے کی تدبیرکرنی
رتی مگر رعایا کو اس سے کسی طرح پرنسلی اور جو سیبت کہ ان پر پڑی<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
7cpoz07feggyxezb9oa9v231mls75d5
34792
34791
2026-06-07T04:26:57Z
Charan Gill
46
34792
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 26</noinclude>گورنمنٹ کسی مذہب کی طرف داری کرے مختلف مذہب ہونے کی صورت میں بلاسبہ انصاف کا لحاظ چاہئے بشرطیکہ وہ انصاف دونوں مذہبوں کے یا دونوں اہل مقدمہ کے معاہدہ کے بر خلاف نہ ہو الا حب طرفین متحد المذہب میں تو ضرور ہے کہ انہیں کے مذہب یا انہیں کے رسم و رواج کے مطابق مقدمات حقوق متعلقہ دیوانی کے فیصل ہوں.
'''ضبطی اراضی لاخراج'''
قوانین ضبطی اراضیات لاخراج جس کا آخر قانون ٢ ۱۸۱۹ء ہے حکومت ہندوستان کو نہایت مضر تھا ضبطی اراضیات نے جس قدر ہندوستان کو ناراض اور بدخواہ ہماری گورنمنٹ کا کر دیا تھا۔
اِس سے زیادہ کسی چیز نے نہیں کیا تھا.
'''لارڈ منرو اور ڈیوک آف ولنگٹن صاحب کا قول'''
سچ فرمایا تھا لارڈ منرو اور ڈیوک آف ولنگٹن صاحب بہادر نے کو ضبط کرنا معانیاست کا ہندوستانیوں سے دشمنی پیدا کرنی اور اُن کومحتاج کر دیا ہے میں بیان نہی کرتے
کو کس قدر ناراضی اور دلی پنجا در ساری گورنمنٹ
کی بدخواہی در نیز کتنی مصیبت اورنگی معاشر اس سبب سے
ان کونی بہت سی معانیات صد ہا سال سے پلی آتی تھیں
اوراد نے او نے حیلہ پرنبط ہوگئیں ۔ ہندوستانی صاف خیال کرتے
تھے کہ سرکار نے خود تو ہماری پرو شیر نہیں کی بلکہ جو جا کہ ہم کوا در بہار
بزرگوں کو اگلے بادشاہوں نے دی تھیں بھی گورنمنٹ نے چین
لیں پھر تو ہم کو اور کیا توقع گورنمنٹ سے ہے منبطی اراضیات کے
باپ میں اگر ہماری گورنمنٹ کی طرف سے یہ مند صحیح اور واقعی بی
سمجھا جائے کہ اگر مضبطی اراضیات لاخراجی نہ ہوتی تو وہ اسطے پورا کرنے
انتجرامات گورنمنٹ کے بیس کو نہایت کفایت شعاری سے مان لینا
چاہے ہندوستانی آدمیوں سے کسی حصول کے لینے کی تدبیرکرنی
رتی مگر رعایا کو اس سے کسی طرح پرنسلی اور جو سیبت کہ ان پر پڑی<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
1ubs93c9zprckbuh4j39n4fx7qu1lub
34794
34792
2026-06-07T04:56:00Z
Charan Gill
46
34794
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 26</noinclude>گورنمنٹ کسی مذہب کی طرف داری کرے مختلف مذہب ہونے کی صورت میں بلاسبہ انصاف کا لحاظ چاہئے بشرطیکہ وہ انصاف دونوں مذہبوں کے یا دونوں اہل مقدمہ کے معاہدہ کے بر خلاف نہ ہو الا حب طرفین متحد المذہب میں تو ضرور ہے کہ انہیں کے مذہب یا انہیں کے رسم و رواج کے مطابق مقدمات حقوق متعلقہ دیوانی کے فیصل ہوں.
'''ضبطی اراضی لاخراج'''
قوانین ضبطی اراضیات لاخراج جس کا آخر قانون ٢ ۱۸۱۹ء ہے حکومت ہندوستان کو نہایت مضر تھا ضبطی اراضیات نے جس قدر ہندوستان کو ناراض اور بدخواہ ہماری گورنمنٹ کا کر دیا تھا۔
اِس سے زیادہ کسی چیز نے نہیں کیا تھا.
'''لارڈ منرو اور ڈیوک آف ولنگٹن صاحب کا قول'''
سچ فرمایا تھا لارڈ منرو اور ڈیوک آف ولنگٹن صاحب بہادر نے کو ضبط کرنا معانیاست کا ہندوستانیوں سے دشمنی پیدا کرنی اور اُن کومحتاج کر دیا ہے میں بیان نہی کرتے
کو کس قدر ناراضی اور دلی پنجا در ساری گورنمنٹ
کی بدخواہی در نیز کتنی مصیبت اورنگی معاشر اس سبب سے
ان کونی بہت سی معانیات صد ہا سال سے پلی آتی تھیں
اوراد نے او نے حیلہ پرنبط ہوگئیں ۔ ہندوستانی صاف خیال کرتے
تھے کہ سرکار نے خود تو ہماری پرو شیر نہیں کی بلکہ جو جا کہ ہم کوا در بہار
بزرگوں کو اگلے بادشاہوں نے دی تھیں بھی گورنمنٹ نے چین
لیں پھر تو ہم کو اور کیا توقع گورنمنٹ سے ہے منبطی اراضیات کے
باپ میں اگر ہماری گورنمنٹ کی طرف سے یہ مند صحیح اور واقعی بی
سمجھا جائے کہ اگر مضبطی اراضیات لاخراجی نہ ہوتی تو وہ اسطے پورا کرنے
انتجرامات گورنمنٹ کے بیس کو نہایت کفایت شعاری سے مان لینا
چاہے ہندوستانی آدمیوں سے کسی حصول کے لینے کی تدبیرکرنی
رتی مگر رعایا کو اس سے کسی طرح پرتسلّی اور جو مسیبت کہ اُن پر پڑی<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
917mu9qgc7njy3sbh5nmrtjn4ggp2os
34795
34794
2026-06-07T09:54:59Z
BalramBodhi
60
34795
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 26</noinclude>گورنمنٹ کسی مذہب کی طرف داری کرے مختلف مذہب ہونے کی صورت میں بلاشبہ انصاف کا لحاظ چاہئے بشرطیکہ وہ انصاف دونوں مذہبوں کے یا دونوں اہل مقدمہ کے معاہدہ کے برخلاف نہ ہوالا حب طرفین متحد المذہب ہیں تو ضرور ہے کہ اُنہیں کے مذہب یا انہیں کے رسم و رواج کے مطابق مقدمات حقوق متعلقہ دیوانی کے فیصل ہوں.
'''ضبطی اراضی لاخراج'''
قوانین ضبطی اراضیات لاخراج جس کا آخر قانون ٢ ۱۸۱۹ء ہے حکومت ہندوستان کو نہایت مضر تھا ضبطی اراضیات نے جس قدر رعایاے ہندوستان کو ناراض اور بدخواہ ہماری گورنمنٹ کا کر دیا تھا۔
اِس سے زیادہ اور کسی چیز نے نہیں کیا تھا.
'''لارڈ منرو اور ڈیوک آف ولنگٹن صاحب کا قول'''
سچ فرمایا تھا لارڈ منرو اور ڈیوک آف ولنگٹن صاحب بہادر نے کے ضبط کرنا معانیات کا ہندوستانیوں سے دشمنی پیدا کرنی اور اُن کو محتاج کر دینا ہے میں بیان نہی کر سکتا
\\کو کس قدر ناراضی اور دلی پنجا در ساری گورنمنٹ\\
کے ہندوستانیوں کو کس قدر ناراضی اور دلی رنج اور ہماری گورنمنٹ کی بدخواہی اور نیز کتنی مصیبت اور تنگی معاش اس سبب سے
اُن کو تھی بہت سی معانیات صد ہا سال سے پلی آتی تھیں اور ادنے ادنے حیلہ پر ضبط ہو گئیں۔ ہندوستانی صاف خیال کرتے تھے کہ سرکار نے خود تو ہماری پرورش نہیں کی بلکہ جو جاگیہ ہم کو اور ہمارے
بزرگوں کو اگلے بادشاہوں نے دی تھیں وہ بھی گورنمنٹ نے چھین لیں پھر تو ہم کو اور کیا توقع گورنمنٹ سے ہے ضبطی اراضیات کے باب میں اگر ہماری گورنمنٹ کی طرف سے یہ عزر صحیح اور واقعی یبی
سمجھا جاوے کہ اگر ضبطی راضیات لاخراجی نہ ہوتی تو واسطے پورا کرنے
اخراجات گورنمنٹ کے جس کو نہایت کفایت شعاری سے مان لینا چاہے ہندوستانی آدمیوں سے اور کسی محصول کے لینے کی تدبیر کرنی
پڑتی مگر رعایا کو اس سے کسی طرح پرتسلّی اور جو مسیبت کہ اُن پر پڑی<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]
[[Category:اردو]]
[[Category:سید احمد خان]]
[[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude>
bv8o2oim5c2y87rxcibincq2tkabcw0
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/271
250
13179
34793
32684
2026-06-07T04:37:55Z
Kaur.gurmel
74
34793
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کوئی ہوشیار وید مِل جائے تو ابھی زہر اُتر جائے۔
اور یہ اُٹھ بیٹھیں ۔ وید کی تلاش کرنی چاہئے ۔
بھبھیشن نے کہا شہر میں سُکھین نام کا ایک وید
رہتا ہے ۔ زہر کا علاج کرنے میں وہ بہت ماہر
ہے ۔ اُسے کسی طرح بلانا چاہئے ۔ ہنومان نے
کہا میں جاتا ہوں اُسے لئے آتا ہوں بھیجیشن
سے سکھین کے مکان کا پتہ پوچھ کر وہ بھیس
بدل کر شہر میں جا پہنچے اور سکھین سے یہ حال
کہا ۔ سکھین نے کہا ۔ بھائی میں وید ہوں ۔
راون کے دربار سے میری پرورش ہوتی ہے۔
اُسے معلوم ہو جائیگا کہ میں نے لکشمن کا علاج
کیا ہے تو مجھے زندہ نہ چھوڑیگا'.
ہنومان نے کہا۔ آپ کو ایشور نے جو کمال
بخشا ہے اُس سے ہر ایک شخص کو فائدہ
پہنچانا آپ کا فرض ہے ۔ خون کے باعث
فرض سے منہ موڑنا آپ جیسے بزرگ کے لئے
شایاں نہیں'.{{nop}}<noinclude></noinclude>
d3ejuxsw98s0h6pto2c4obouappujdn