ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.6 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/31 250 12084 34809 27368 2026-06-09T12:23:49Z Charan Gill 46 34809 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 29</noinclude>پیداوار کا تہائی حصہ لینا پسند کیا اوراسی کو جاری کیا مگر بندولسبت پختہ کر دیا جس کا ذکر لارڈ الفنشتن صاحب کی عمدہ تاریخ میں مندرج ہے اور آعین اکبری میں بھی اُس کا بیان ہے اکبر نے اقسائم زمیں کے مقرر کئے. '''اول'''۔ قسم کی زمین ہے جس کا نام پولچ تھا اور ہر سال بوئی جاتی تھی برابر مالگذاری کا حصہ لیا جاتا تھا. '''دوم'''۔ قسم کی زمین جس کا نام پڑوتی تھا اور ہمیشہ کاشت نہ ہوتی تھی بلکہ چندے واسطے اور بڑھانے کے چھوڑ دیتے تھے اس زمین سے انہیں سالوں کی بابت مانگذاری لیجاتی تھی میں میں وہ کاشت ہوتی تھی. '''سوم'''۔ قسم کی زمین میں کا نام چھ تھا اور تین چار برس سے یے تر ددھی اور اس کی درستی کے لئے نیچ بھی درکار تو تھا اول سال زراعت میں پہنچہ ولیا جاتا تھا اور نچر بڑھتا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ پا بینچویں میں پورا ہوتا تھا ۔ چهارم قسم زمین میں کا نام پنجر تھا اور پانچ برس سے زیادہ یسے ترد دپرسی تھی * اور نبی ملایم شہیں تھیں اس نام ہندوسیت کا اقدیے بدلتا اس طرح یہ تھا کہ پیدا وار ہر بیگیہ کی اور ہرقسم زمین کی اوسط پر کے حساب سے غلہ کے وزن پر نکالی جاتی تفتیشدا میکہ پیچھے معلی کی اوسط پیدا وار نکالی اور تین من عقد اس جگہ کا کاشتکار سے لینا حصہ گورنمنٹ ٹھیر گیا پھرا وسط نرخ ناموں سے قیمت غلہ قرار بیٹی اور وہ نقدی اس بیگیہ کی ٹھرگئی پھر اس میں بڑی رفاہ بیٹی کہ اگر کاشت کا رجوش نقدی گرانی نرخ سمجھ کرتین من نلہ وید سے تو اس کو اختیار تھا۔ سرکاری بند وبست میں ان میں سے بہت<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]] [[Category:اردو]] [[Category:سید احمد خان]] [[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude> oj4f5wx4qajf90u0b3wk7562l6bixer 34810 34809 2026-06-09T12:33:06Z Charan Gill 46 34810 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 29</noinclude>پیداوار کا تہائی حصہ لینا پسند کیا اوراسی کو جاری کیا مگر بندولسبت پختہ کر دیا جس کا ذکر لارڈ الفنشتن صاحب کی عمدہ تاریخ میں مندرج ہے اور آعین اکبری میں بھی اُس کا بیان ہے اکبر نے اقسائم زمیں کے مقرر کئے. '''اول'''۔ قسم کی زمین ہے جس کا نام پولچ تھا اور ہر سال بوئی جاتی تھی برابر مالگذاری کا حصہ لیا جاتا تھا. '''دوم'''۔ قسم کی زمین جس کا نام پڑوتی تھا اور ہمیشہ کاشت نہ ہوتی تھی بلکہ چندے واسطے زور بڑھانے کے چھوڑ دیتے تھے اُس زمین سے انہیں سالوں کی بابت مالگذاری لیجاتی تھی جس میں وہ کاشت ہوتی تھی. '''سوم'''۔ قسم کی زمین میں کا نام چچر تھا اور تین چار برس سے بےتردد تھی اور اس کی درستی کے لئے نیچ بھی درکار تو تھا اول سال زراعت میں پہنچہ ولیا جاتا تھا اور نچر ڑھتا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ پا بینچویں میں پورا ہوتا تھا ۔ چهارم قسم زمین میں کا نام پنجر تھا اور پانچ برس سے زیادہ یسے ترد دپرسی تھی * اور نبی ملایم شہیں تھیں اس نام ہندوسیت کا اقدیے بدلتا اس طرح یہ تھا کہ پیدا وار ہر بیگیہ کی اور ہرقسم زمین کی اوسط پر کے حساب سے غلہ کے وزن پر نکالی جاتی تفتیشدا میکہ پیچھے معلی کی اوسط پیدا وار نکالی اور تین من عقد اس جگہ کا کاشتکار سے لینا حصہ گورنمنٹ ٹھیر گیا پھرا وسط نرخ ناموں سے قیمت غلہ قرار بیٹی اور وہ نقدی اس بیگیہ کی ٹھرگئی پھر اس میں بڑی رفاہ بیٹی کہ اگر کاشت کا رجوش نقدی گرانی نرخ سمجھ کرتین من نلہ وید سے تو اس کو اختیار تھا۔ سرکاری بند وبست میں ان میں سے بہت<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]] [[Category:اردو]] [[Category:سید احمد خان]] [[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude> er2wids5bdkyjf39mzjr4ye4l84ui9o 34815 34810 2026-06-09T15:32:43Z Charan Gill 46 34815 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 29</noinclude>پیداوار کا تہائی حصہ لینا پسند کیا اوراسی کو جاری کیا مگر بندولسبت پختہ کر دیا جس کا ذکر لارڈ الفنشتن صاحب کی عمدہ تاریخ میں مندرج ہے اور آعین اکبری میں بھی اُس کا بیان ہے اکبر نے اقسائم زمیں کے مقرر کئے. '''اول'''۔ قسم کی زمین ہے جس کا نام پولچ تھا اور ہر سال بوئی جاتی تھی برابر مالگذاری کا حصہ لیا جاتا تھا. '''دوم'''۔ قسم کی زمین جس کا نام پڑوتی تھا اور ہمیشہ کاشت نہ ہوتی تھی بلکہ چندے واسطے زور بڑھانے کے چھوڑ دیتے تھے اُس زمین سے انہیں سالوں کی بابت مالگذاری لیجاتی تھی جس میں وہ کاشت ہوتی تھی. '''سوم'''۔ قسم کی زمین میں کا نام چچر تھا اور تین چار برس سے بےتردد تھی اور اس کی درستی کے لئے نیچ بھی درکار تو تھا اول سال زراعت میں پہنچہ ولیا جاتا تھا اور نچر ڑھتا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ پا بینچویں میں پورا ہوتا تھا. '''چهارم''' قسم زمین جس کا نام بنجر تھا اور پانچ برس سے زیادہ یے تردد پڑی تھی. اور نبی ملایم شرطیں تھیں اس خام ہندوبست کا نقدی سے بدلتا اس طرح پر تھا کہ پیداوار ہر بیگہ کی اور ہر قسم زمین کی اوسط کے حساب سے غلہ کے وزن پر نکالی جاتی تفتیشدا میکہ پیچھے معلی کی اوسط پیدا وار نکالی اور تین من عقد اس جگہ کا کاشتکار سے لینا حصہ گورنمنٹ ٹھیر گیا پھرا وسط نرخ ناموں سے قیمت غلہ قرار بیٹی اور وہ نقدی اس بیگیہ کی ٹھرگئی پھر اس میں بڑی رفاہ بیٹی کہ اگر کاشت کا رجوش نقدی گرانی نرخ سمجھ کرتین من نلہ وید سے تو اس کو اختیار تھا۔ سرکاری بند وبست میں ان میں سے بہت<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]] [[Category:اردو]] [[Category:سید احمد خان]] [[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude> eri0c3o62udcd0flglkwpnw28e444j7 34819 34815 2026-06-10T01:02:56Z Charan Gill 46 34819 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 29</noinclude>پیداوار کا تہائی حصہ لینا پسند کیا اوراسی کو جاری کیا مگر بندولسبت پختہ کر دیا جس کا ذکر لارڈ الفنشتن صاحب کی عمدہ تاریخ میں مندرج ہے اور آعین اکبری میں بھی اُس کا بیان ہے اکبر نے اقسائم زمیں کے مقرر کئے. '''اول'''۔ قسم کی زمین ہے جس کا نام پولچ تھا اور ہر سال بوئی جاتی تھی برابر مالگذاری کا حصہ لیا جاتا تھا. '''دوم'''۔ قسم کی زمین جس کا نام پڑوتی تھا اور ہمیشہ کاشت نہ ہوتی تھی بلکہ چندے واسطے زور بڑھانے کے چھوڑ دیتے تھے اُس زمین سے انہیں سالوں کی بابت مالگذاری لیجاتی تھی جس میں وہ کاشت ہوتی تھی. '''سوم'''۔ قسم کی زمین میں کا نام چچر تھا اور تین چار برس سے بےتردد تھی اور اس کی درستی کے لئے نیچ بھی درکار تو تھا اول سال زراعت میں پہنچہ ولیا جاتا تھا اور نچر ڑھتا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ پا بینچویں میں پورا ہوتا تھا. '''چهارم''' قسم زمین جس کا نام بنجر تھا اور پانچ برس سے زیادہ یے تردد پڑی تھی. اور بھی ملایم شرطیں تھیں اس خام ہندوبست کا نقدی سے بدلنا اس طرح پر تھا کہ پیداوار ہر بیگہ کی اور ہر قسم زمین کی اوسط کے حساب سے غلہ کے وزن پر نکالی جاتی تھی مثلاً بیگہ پیچھے نومن غلہ کی اوسط پیداوار نکالی اور تین من غلّہ اُس بیگہ کا کاشتکار سے لینا حصہ گورنمنٹ ٹھیر گیا پھر اوسط نرخ ناموں سے قیمت غلہ قرار بیٹی اور وہ نقدی اس بیگیہ کی ٹھرگئی پھر اس میں بڑی رفاہ بیٹی کہ اگر کاشت کا رجوش نقدی گرانی نرخ سمجھ کرتین من نلہ وید سے تو اس کو اختیار تھا۔ سرکاری بند وبست میں ان میں سے بہت<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]] [[Category:اردو]] [[Category:سید احمد خان]] [[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude> gx3u9u66xguo6o8d0b7adxtbr8pqht1 34820 34819 2026-06-10T01:16:32Z Charan Gill 46 34820 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 29</noinclude>پیداوار کا تہائی حصہ لینا پسند کیا اوراسی کو جاری کیا مگر بندولسبت پختہ کر دیا جس کا ذکر لارڈ الفنشتن صاحب کی عمدہ تاریخ میں مندرج ہے اور آعین اکبری میں بھی اُس کا بیان ہے اکبر نے اقسائم زمیں کے مقرر کئے. '''اول'''۔ قسم کی زمین ہے جس کا نام پولچ تھا اور ہر سال بوئی جاتی تھی برابر مالگذاری کا حصہ لیا جاتا تھا. '''دوم'''۔ قسم کی زمین جس کا نام پڑوتی تھا اور ہمیشہ کاشت نہ ہوتی تھی بلکہ چندے واسطے زور بڑھانے کے چھوڑ دیتے تھے اُس زمین سے انہیں سالوں کی بابت مالگذاری لیجاتی تھی جس میں وہ کاشت ہوتی تھی. '''سوم'''۔ قسم کی زمین میں کا نام چچر تھا اور تین چار برس سے بےتردد تھی اور اس کی درستی کے لئے نیچ بھی درکار تو تھا اول سال زراعت میں پہنچہ ولیا جاتا تھا اور نچر ڑھتا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ پا بینچویں میں پورا ہوتا تھا. '''چهارم''' قسم زمین جس کا نام بنجر تھا اور پانچ برس سے زیادہ یے تردد پڑی تھی. اور بھی ملایم شرطیں تھیں اس خام ہندوبست کا نقدی سے بدلنا اس طرح پر تھا کہ پیداوار ہر بیگہ کی اور ہر قسم زمین کی اوسط کے حساب سے غلہ کے وزن پر نکالی جاتی تھی مثلاً بیگہ پیچھے نومن غلہ کی اوسط پیداوار نکالی اور تین من غلّہ اُس بیگہ کا کاشتکار سے لینا حصہ گورنمنٹ ٹھیر گیا پھر اوسط نرخ ناموں سے قیمت غلہ قرار دیگئی اور وہ نقدی اُس بیگہ کی ٹھیر گئی پھر اُس میں بڑی رفاہ یہ تھی کہ اگر کاشت کار بعوض نقدی گرانی نرخ سمجھ کر تین من غلہ دیدے تو اس کو اختیار تھا۔ سرکاری بندوبست میں ان میں سے بہت<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]] [[Category:اردو]] [[Category:سید احمد خان]] [[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude> cwwxqxgoazxumivcd040n9pshj72hbh 34822 34820 2026-06-10T06:44:59Z BalramBodhi 60 34822 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 29</noinclude>پیداوار کا تہائی حصہ لینا پسند کیا اور اسی کو جاری کیا مگر بندوبست پختہ کر دیا جس کا ذکر لارڈ الفنشتن صاحب کی عمدہ تاریخ میں مندرج ہے اور آعین اکبری میں بھی اُس کا بیان ہے اکبر نے اقسام زمیں کے مقرر کئے:- '''اول'''۔ قسم کی زمین ہے جس کا نام پولچ تھا اور ہر سال بوئی جاتی تھی برابر مالگذاری کا حصہ لیا جاتا تھا. '''دوم'''۔ قسم کی زمین جس کا نام پڑوتی تھا اور ہمیشہ کاشت نہ ہوتی تھی بلکہ چندے واسطے زور بڑھانے کے چھوڑ دیتے تھے اُس زمین سے انہیں سالوں کی بابت مالگذاری لیجاتی تھی جس میں وہ کاشت ہوتی تھی. '''سوم'''۔ قسم کی زمین جس کا نام چچر تھا اور تین چار برس سے بےتردد تھی اور اُس کی درستی کے لئے خرچ بھی درکار ہوتا تھا اول سال زراعت میں پچد ولیا جاتا تھا اور بڑھتا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ پانچویں میں پورا ہوتا تھا. '''چهارم''' قسم زمین جس کا نام بنجر تھا اور پانچ برس سے زیادہ بے تردد پڑی تھی. اور بھی ملایم شرطیں تھیں اس خام ہندوبست کا نقدی سے بدلنا اس طرح پر تھا کہ پیداوار ہر بیگہ کی اور ہر قسم زمین کی اوسط کے حساب سے غلہ کے وزن پر نکالی جاتی تھی مثلاً بیگہ پیچھے نو من غلہ کی اوسط پیداوار نکالی اور تین من غلّہ اُس بیگہ کا کاشتکار سے لینا حصہ گورنمنٹ ٹھیر گیا پھر اوسط نرخ ناموں سے قیمت غلہ قرار دیگئی اور وہ نقدی اُس بیگہ کی ٹھیر گئی پھر اُس میں بڑی رفاہ یہ تھی کہ اگر کاشت کار بعوض نقدی گرانی نرخ سمجھ کر تین من غلہ دیدے تو اُس کو اختیار تھا۔ سرکاری بندوبست میں ان میں سے بہت<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]] [[Category:اردو]] [[Category:سید احمد خان]] [[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude> c43djfpqbv7twg5n305iz4j2i0xnxg5 صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/32 250 12085 34823 27370 2026-06-10T07:17:31Z BalramBodhi 60 34823 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind <br> رسالہ اسباب بغاوت ہند <br> از سر سید احمد خان <br> صفحہ نمبر 30</noinclude>باتوں کا خیال نہیں رہا اُفتاده زمین پر برابر محصوُل لگ گیا زمینونکا زور بڑھانے کو کچھ دنوں اُفتادہ رکھنا تھا اُس کی منہائی نہیں ہوئی ہر سال برابر جوتے جانے سے روز کم ہوتا گیا پیداوار کم ہونے لگی جو حساب کہ بندوبست کے وقت لگایا تھا وہ نہ رہا اکثر اضلاع میں ہر ایک بندوبست سخت ہو گیا زمینداروں کاشتکاروں کو نقصان عاید ہوئے رفتہ رفتہ وہ بے سامان ہو گئے رزاعت کا سامان بہت کم ہو گیا اور اس سبب سے جو زمین کاشت کرتے تھے وہ جیسا کہ چاہئے کمائی نہ گئی اس سبب سے بھی کمی پیداوار ہوئی اداے مالگزاری کے لئے وہ قرضدار ہوئے سود قرضہ زیادہ ہونے لگا بہت سے زمیندار مانگذار جو بہت اچھا سامان اور معقول خوچ رکھتے تھے مفلس ہو گئے جن دیہات مین افتاده زمین سوا تھی وہ اور زیادہ خراب ہوگئی انریل ٹامسن صاحب بہادر اپنے ہدایت نامہ کی دفہ ٦۴ میں لکھتے ہیں کہ آئین نہم ۱۸۳۳ء کے بندوبیت میں علی ا لعموم یہ بات نظر آتی ہے کہ اچھے دیہات کی جمع کچھ نرم تجویز ہوئی اور خراب دیہات کی جمع سنگین ہوگئی۔ زمینداروں کی ناجائز منفتیں جاتی رہیں۔ اگرچہ یہ بات بہت اچھی تھی مگر بندوبست کے وقت اس کی رعایت چاہئے تھی جو نہ ہوئی غرضکہ ان اسباب سے زمینداروں اور کاشتکاروں کو مفلسی نے گھیر لیا تھا جس کے سبب باوجود اس امن اور اسائش کے جو زمینداروں کو تھی اُن کے دل سے پچھلی عملداریوں کی یاد بھولتی نہ تھے. تعلقہ داری بندوبست کا شکست کر دنیا اگرچہ ہم یہ نہیں کہتے کہ اس مین کچھ اس میں کچھ ناانصافی ہوئی عمدہ سبب فساد کا ہوا خصوصاً ملک اودھ میں یہ تعلقہ دار راجہ بنہ ہوئے تھے اپنی تعلقہ داری کے دیہات میں حکومتیں کرتے تھے نفع اٹھاتے تھے وہ بادشاہت اور منفعت<noinclude>[[Category:Urdu]] [[Category:Syed Ahmad Khan]] [[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]] [[Category:اردو]] [[Category:سید احمد خان]] [[Category:اسباب بغاوت ہند]]</noinclude> t97kf4k5un4u1o47j7wwahu4o8najw3 صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/33 250 12632 34824 30550 2026-06-10T11:03:54Z Charan Gill 46 34824 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{center|٣١}}</noinclude>اُن کی دفعتاً جاتی رہی -اس باب میں بھی کہ اگر سرکار یہ نکرتی تواصل زمینداروں کو ان ظالموں کو ہاتھ سے کیونکر نکالتی اس مقام پر بحث نہیں کرنے کے بلکہ اس کی بحث ہماری وسری راے میں ہے یہاں صرف یہ بیان کرنا ہے کہ شکست تعلقہ داری بھی سبب سرکشی ہے٠ '''استامپ''' استامپ کا جاری ہونا بالکل ایک ولایتی پیداوار ملک کا قاعده ہے جہاں زمین کی آمدنی گویا کہ نہیں لیجاتی ہندوستان میں اس کا جاری کرنا اور پھر رفتہ رفتہ اُس کی قیمت میں اضافہ ہوتا جاتا جس کی انتہا اب قانون موسم اسماء میں ہے بلاشبہ خلاف طبائع اہل سند بلکہ نظر حالات مفلس الهند نامناسب تھا، اسٹامپ کے جاری ہونے میں عملی لوگ بہت بحث کر گئے ہیں اور بہت سی دلیلیں پیش ہوئی ہیں کہ اس کا اجرا مفید ہے اور بہت غالب تر دلیلیں ہوئی ہیں کہ اصلی بابت بہ خلافت اس کے ہے مگر ہم اس مقام پر اُن سب بخشوں سے قطع نظر کرتے ہیں اور اتنا لکھنا کافی سمجھتے ہیں کہ ان بحثوں کی حاجت اُن ملکوں میں ہے جہاں کی رعایا تربیت یافتہ اور متمول اور راستباز معاملہ فہم ہے ۔ ہندوستان کی رعایا جو دن بدن مفلس ہوتی جاتی ہے وہ ہر گز اس زیر باری اُٹھانے کے لایق نہیں میت کراس محصول کو نا پسند کر گئے ہیں اُن کا قول ہے کہ دستاویزات پر محصول لگانا جتنا قابل الزام اور ہو یہ محض ہے اُس سے زیادہ برا و محصول ہے جو کا فضات پر انصاف کرنے کے لئے لیا جاتا ہے علاوہ زیرہ باری اخراجات کی بہت سی صورتوں میں عدالت گستری سے باز رکھتا ہے چنانچہ صاحب کی کتاب پولٹیکل اکو نمی اور لا ۔ ڈبر وم صاحب کی پولیٹیکل فلوز وفی اس کے ناپسندیدہ ہونے سے پر ہیں اور جس قدر کہ ولایت میں اُس پر عذر ہے اُس سے بہت زیادہ ہندوستان میں اس کے رواج پر الزام ہے نہ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> hvq8m2qm4bjd3mdkd9rculvdnavzy9b 34825 34824 2026-06-10T11:07:06Z Charan Gill 46 34825 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{center|٣١}}</noinclude>اُن کی دفعتاً جاتی رہی -اس باب میں بھی کہ اگر سرکار یہ نکرتی تواصل زمینداروں کو ان ظالموں کو ہاتھ سے کیونکر نکالتی اس مقام پر بحث نہیں کرنے کے بلکہ اس کی بحث ہماری وسری راے میں ہے یہاں صرف یہ بیان کرنا ہے کہ شکست تعلقہ داری بھی سبب سرکشی ہے٠ '''استامپ''' استامپ کا جاری ہونا بالکل ایک ولایتی پیداوار ملک کا قاعده ہے جہاں زمین کی آمدنی گویا کہ نہیں لیجاتی ہندوستان میں اس کا جاری کرنا اور پھر رفتہ رفتہ اُس کی قیمت میں اضافہ ہوتا جاتا جس کی انتہا اب قانون دہم ١٨٢٩ء میں ہے بلاشبہ خلاف طبائع اہل سند بلکہ نظر حالات مفلس الهند نامناسب تھا، اسٹامپ کے جاری ہونے میں عملی لوگ بہت بحث کر گئے ہیں اور بہت سی دلیلیں پیش ہوئی ہیں کہ اس کا اجرا مفید ہے اور بہت غالب تر دلیلیں ہوئی ہیں کہ اصلی بابت بہ خلافت اس کے ہے مگر ہم اس مقام پر اُن سب بخشوں سے قطع نظر کرتے ہیں اور اتنا لکھنا کافی سمجھتے ہیں کہ ان بحثوں کی حاجت اُن ملکوں میں ہے جہاں کی رعایا تربیت یافتہ اور متمول اور راستباز معاملہ فہم ہے ۔ ہندوستان کی رعایا جو دن بدن مفلس ہوتی جاتی ہے وہ ہر گز اس زیر باری اُٹھانے کے لایق نہیں میت کراس محصول کو نا پسند کر گئے ہیں اُن کا قول ہے کہ دستاویزات پر محصول لگانا جتنا قابل الزام اور ہو یہ محض ہے اُس سے زیادہ برا و محصول ہے جو کا فضات پر انصاف کرنے کے لئے لیا جاتا ہے علاوہ زیرہ باری اخراجات کی بہت سی صورتوں میں عدالت گستری سے باز رکھتا ہے چنانچہ صاحب کی کتاب پولٹیکل اکو نمی اور لا ۔ ڈبر وم صاحب کی پولیٹیکل فلوز وفی اس کے ناپسندیدہ ہونے سے پر ہیں اور جس قدر کہ ولایت میں اُس پر عذر ہے اُس سے بہت زیادہ ہندوستان میں اس کے رواج پر الزام ہے نہ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> lxmfm0punv6xwz3549yg1vla32jwxmh صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/11 250 12677 34816 34735 2026-06-09T17:15:02Z Taranpreet Goswami 90 34816 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh||١٠|بیتال پچیسی}}</noinclude>رنگ رنگ کی پوشاکین پہنے ہاتھ باندھے باادب کھڑی ہین ایک طرف سیج پھولونکی بچھی اپنے اپنے قرینہ سے عِطردان گلاب پاش چنگیری چوگھڑے ارگجا مشک زعفران کٹوریون مین بھرا ہوا دھرا ہے کہین اچھی اچھی معجون کی ڈبیان چنی ہین کہین طرح طرح کے پکوان دہرے ہین تمام در و دیوار نقش و نگار سے آراستہ اور انپر ایسی صورتین بنی ہوئی ہین کہ ہر ایک دیکھتے ہی محو ہو جاوے غرض سارے عیش و طرب کے سامان و ساز مُہیا ہین عجب عالم ہے کہ جسکا کچھ بیان نہین ہو سکتا اسی مکان مین رانی پدماوتی نے راج کنور کو لیجا کر بیٹھایا اور پانون دھُلوا صندل بدن مین لگا پھولون کا ہار پہنا گلاب چھٹک پنکھا اپنے ہاتھ سے جھلنے لگی اسیمین کنور بولا ہم تمھارے دیکھنے سے بہت خوش ہوئے اتنی محنت کیون کرتی ہو تمھارے نازک نازک ہاتھ پنکھا کے لائق نہین ہمین پنکھا دو تم بیٹھو تب پدماوتی بولی کہ مہاراج آپ بڑی محنت کر کے ہمارے واسطے آئے ہین ہمین آپ کی خِدمت کرنی لازم ہے تب ایک سہیلی نے رانی کے ہاتھ سے پنکھا لیکر کہا یہ ہمارا کام ہے ہم خدمت کرین اور تم عیش کرو وہ باہم پان کھانے لگے اوراختلاط کی باتین کرتے کہ اتنے مین سبح ہوئی راج کنیا نے اسے چھپا رکھا جب رات ہوئی تو پھر باہم عیش مین مشغول ہوئے اِسی طرح سے کتنے ایک دِن بیت گئے راجکنور جب جانے کا ارادہ کرتا تو راج کنیا جانے نہ دیتی اسی طرح ایک مہینہ گزر گیا تب تو راجہ بہت گھبرایا اور فکرمند ہوا ایک روز کی بات ہے کہ رات کے وقت اکیلا بیٹھا ہوا یہ فکر کرتا تھا کہ دیش راج پاٹ گھر سب چھوٹا ہی پر ایک دوست ہمارا کہ جس کے باعث سے یہ شکھ پایا اس سے بھی مہینے بھر سے ملاقات نہین ہوئی وہ اپنے جی مین کیا کہتا ہوگا اور کیا جانیئے اسپر کیا گذرتی ہوگی اِسی فِکر مین بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے مین راج کنیا بھی آن پہونچی اور حالت دیکھ کر پوچھنے لگی مہاراج تمھین کیا دکھ ہے جو تم ایسے اُداس بیٹھے ہو مجھ سے کہو تب وہ بولا کہ ایک ہمارا بہت پیارا دیوان کا بیٹا ہے اسکا حال مہینہ بھر سے معلوم نہین وہ ایسا عقلمند عالم ہے کہ اسکے سبب سے مین نے تمھین پایا اور اسی نے تمھارا بھید بتایا راج کنیا بولی مہاراج تمھارا دھیان تو وہان ہے تم جہان سکھ کیا کروگے اس سے بہتر یہ ہے کہ مین پکوان مٹھائی سب کچھ تیار کر کے بھجواتی ہون آپ ابھی جائے اسکو کھلا پلا بہت تسلی کر خاطر جمع سے پھر آئیے یہ سنتے ہی راجکنور وبان سے اٹھ کر باہر آیا اور رانی نے زہر ملوا طرح طرح کی مٹھائی بنوا کر بھجوائی کنور دیوان کے لڑکے کے پاس جا کر بیٹھا ہی تھا کہ اتنے مین وہ مٹھائی آن پہونچی پر دیوان کے بیٹے نے پوچھا مہاراج یہ مٹھائی کس طرح سے آئی راج پتر بولا مین وہان تیری فکر مین اُداس بیٹھا تھا کہ اتنے مین رانی نے میری طرف دیکھ کر پوچھا اُداس کیون بیٹھی ہو کچھ سبب اسکا بتاؤ پھر مین نے حالات تیرے عقلمندی کے سب اُس سے بیان کیئے تو یہ اجوال سنکے اسنے مجھے تیرے پاس آنیکی اجازت دی اور یہ تیرے واسطے بھجوائی جو تو ابھی کھائیگا تو میرا جی خوش<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> ojjtfqp81gnl95c1x28dlhhmmmocuxz صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/12 250 12678 34821 34756 2026-06-10T03:22:58Z Taranpreet Goswami 90 34821 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|بیتال پچیسی|١١|}}</noinclude>ہوگا تب دیوان کا بیٹا بولا تم میرے واستے زہر لائے ہو اسی مین خیر ہوئی کہ آپ نے نہین کھائی مہاراج ایک بات میری سنیئے کہ رنڈی اپنے دوست کے دوست کو نہین چاہتی آپ نے یہ خوب نہ کیا جو میرا نام وہان لیا یہ سُن کنور بولا ایسی بات تم کہتے ہو جو کبھی کسو سے نہ ہو سکے اگر آدمی آدمی سے نہ ڈرے پر خدا سے تو ڈریگا اتنا کہہ اسے اسمین سے ایک لڈّو کتّے کے آگے ڈال دیا جوہین کتے نے کھایا وہین چٹ پٹا کر مر گیا یہ طور دیکھہ راج پتر اپنے جی مین غصّہ ہو کہنے لگا ایسی کھوٹی رنڈی سے ملنا لازم نہین آجتک تو میرے دل مین اسکی محبت تھی پر اَب معلوم ہوا یہ سُن دیوان کا بیٹا بولا مہاراج جو ہوا سو ہوا اب وہ بات کیا چاہیے جس سے اسکو اپنے گھر لے چلئے راج کمار بولا بھائی یہ بھی تمھین سے ہوگا دیوان کے بیٹے نے کہا آج ایک کام کیجئے پھر پدماوتی کے پاس جائیے اور جو کہون سو کیجۓ پہلے تو اس سے جا کر بہت سا اخلاص پیار کرو جب وہ سو جائے تب اسکا زیور اتار یہ ترسول اسکی بائین جانگھ مین مار وہان سے فوراً چلے آؤ یہ سن راجکمار رات کو پدماوتی کے پاس گیا اور بہت سی باتین دوستی کی کر دونون ملکر سو رہے لیکن باطن مین یہ قابو دیکھتا تھا غرض جب راج کنیا سو گئی تو اُن نے سارا گہنا اتار لیا اور جانگھ مین ترسول مار اپنے مکان کو چلا آیا سارا احوال دیوان کے بیٹے سے بیان کر سب گہنا اسکے آگے رکھ دیا پھر وہ زیور اٹھا راج کمار کو ساتھ لے جوگی کا بھیس بنا کر ایک مرگھٹ مین جا بیٹھا آپ تو گرو بنا اور اسے چیلا بنا کر اس سے کہا بازار مین جاکر اس گہنے کو بیج اگر کوئی اسمین تجھے پکڑے تو اسے میرے پاس لے آنا اسکی بات سُن راج پتر نے زیور کو لے شہر مین جا متصِل راجہ کی ڈیوڑھی کے ایک سنار کو دکھایا اسنے دیکھتے ہی پہچان کر کہا کہ راج کنیا کا گہنا ہے سچ کہہ تونے کہان پایا یہ اس سے کہہ رہا تھا کہ دس بیس آدمی اور بھی آکھٹے ہو گئے غرض کوتوال نے یہ خبر سُن آدمی بھیج راج کمار کو مع زیور اور سنار پکڑوا منگایا اور اس زیور کو دیکھ اس سے پوچھا کہ سچ کہہ تونے کہان سے پایا جب اسنے کہا مجھے گرو نے بیچنے کو دیا ہے پر مجھے معلوم نہین کہ وہ کہان سے لائے تب کوتوال نے اسکے گرو کو بھی پکڑوا منگایا اور دونون کو زیور سمیت راجہ کے حضور مین لا کر تمام حال عرض کیا یہ ماجرا سنکے راجہ جوگی سے پوچھنے لگا کہ ناتھ جی یہ گہنا تمنے کہان سے پایا جوگی بولا مہاراج کالی چودس کی رات کو مین مرگھٹ مین ڈاکنی منتر سِدہ کرنیکو گیا تھا جب وہ ڈاکنی آئی تو مین نے اسکا زیور اور کپڑا اتار لیا اور بائین جانگ مین اسکے ترسول کا نِشان کر دیا اسطرح سے یہ گہنا میرے ہاتھ آیا یہ بات راجہ جوگی سے سُن محل مین گیا اور جوگی آسن پر راجہ نے رانی سے کہا تو پدماوتی کی بائین جانگ مین دیگھ تو نِشان ہے کہ نہین اور کیسا نِشان ہے رانی نے جاکر دیکھا تو ترسول کا داغ ہے راجہ سے آکر کہا مہاراج تین نِشان برابر ہین اور ایسے معلوم ہوتے ہین گویا کِسو نے ترسول مارا ہے راجہ یہ بات سُن باہر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> gdbbvbc1vl50tt9q4y1eafwg5inml8g صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/226 250 12822 34817 31371 2026-06-09T23:56:51Z Jagdish Papra 66 34817 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>رانی بنا لے ۔ مگر کتنا نیک ہے کہ تمہاری مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں کرنا چاہتا ۔ اُس کے ساتھ تمہاری اتنی بے پروائی مناسب نہیں ۔ نا حق رامچندر کے پیچھے جان دے رہی ہو - لنکا کی رانی بن کر زندگی کے سُکھ اُٹھاؤ ۔ رام کو بُھول جاؤ ۔ وہ اب یہاں نہیں آ سکتے اور آ بھی جائیں تو راجہ راون کا کُچھ بگاڑ نہیں سکتے. اِنہیں عورتوں میں ایک کا نام ترجٹا تھا۔ وُہ بڑی نیک اور پارسا تھی اور سیتاجی کو اکیلے میں ڈھارس دیا کرتی تھی ۔ ان عورتوں کی باتیں اُسے بُری لگیں ۔ بولی 'چُپ بھی رہو، کیوں مُفت میں اپنی زبان خراب کر رہی ہو ۔ راون کی تعریف کرتے ہُوئے تمہیں شرم نہیں آتی ۔ ایسے پاپی کو جو دُوسروں کی عورتوں کو زبر دستی اُٹھا لاتا ہے تم نیک اور دھرماتما کہتی ہو ۔ اُس سے بڑا پاپی تو سنسار میں نہ ہوگا' ہنومان اوپر بیٹھے ہوئے ان عورتوں کی<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> qfcoiobro2tj23cuag3fzcssnhcvkam صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/227 250 12824 34818 31384 2026-06-10T00:11:11Z Jagdish Papra 66 34818 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>باتیں سُن رہے تھے ۔ جب وہ سب وہاں سے چلی گئیں اور سیتاجی اکیلی رہ گئیں تو ہنومان جی نے اوپر سے رامچندر کی انگوٹھی ان کے سامنے گرا دی ۔ سیتا جی نے انگوٹھی اُٹھا کر دیکھی تو رام چندر کی تھی ۔ رنج اور حیرت سے ان کا کلیجہ دھڑکنے لگا ۔ رنج اس بات کا ہوا کہ کہیں راون نے رام چندر کو مروا نہ ڈالا ہو۔ حیرت اس بات کی تھی کہ رامچندر کی انگوٹھی یہاں کیسے آئی ۔ وہ انگوٹھی کو ہاتھ میں ملئے اسی سوچ میں بیٹھی ہوئی تھیں کہ ہنومان درخت سے اُتر کر اُن کے سامنے آئے اور اُن کے پیروں پر سر جھکا دیا . سیتا جی نے اور بھی حیرت میں آکر پوچھا +تم کون ہو؟ کیا یہ انگوٹھی تمہیں نے گرائی ہے ؟ تمہاری صورت سے معلوم ہوتا ہے کہ تم نیک اور بہادر ہو ۔ کیا بتلا سکتے ہو کہ تمہیں یہ انگوٹھی کہاں مِلی؟<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> l4n2vttlrga4iov9zfr3pa1tol0w8h7 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/271 250 13179 34811 34807 2026-06-09T13:57:06Z Kaur.gurmel 74 34811 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کوئی ہوشیار وید مِل جائے تو ابھی زہر اُتر جائے۔ اور یہ اُٹھ بیٹھیں ۔ وید کی تلاش کرنی چاہئے ۔ بھبھیشن نے کہا شہر میں سُکھین نام کا ایک وید رہتا ہے ۔ زہر کا علاج کرنے میں وہ بہت ماہر ہے ۔ اُسے کِسی طرح بُلانا چاہئے ۔ ہنومان نے کہا میں جاتا ہوں اُسے لئے آتا ہوں بھ ی ج یشن سے سکھین کے مکان کا پتہ پوچھ کر وہ بھبھیشن بدل کر شہر میں جا پہنچے اور سکھین سے یہ حال کہا ۔ سکھین نے کہا ۔ بھائی میں وید ہوں ۔ راون کے دربار سے میری پرورش ہوتی ہے۔ اُسے معلوم ہو جائیگا کہ میں نے لکشمن کا علاج کیا ہے تو مجھے زندہ نہ چھوڑیگا'. ہنومان نے کہا۔ آپ کو ایشور نے جو کمال بخشا ہے اُس سے ہر ایک شخص کو فائدہ پہنچانا آپ کا فرض ہے ۔ خوف کے باعث فرض سے مُنہ موڑنا آپ جیسے بزرگ کے لئے شایاں نہیں'.{{nop}}<noinclude></noinclude> ss6kkb8tygr24zb7t1qxi5syxke7bi3 34812 34811 2026-06-09T14:00:28Z Kaur.gurmel 74 34812 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کوئی ہوشیار وید مِل جائے تو ابھی زہر اُتر جائے۔ اور یہ اُٹھ بیٹھیں ۔ وید کی تلاش کرنی چاہئے ۔ بھبھیشن نے کہا شہر میں سُکھین نام کا ایک وید رہتا ہے ۔ زہر کا علاج کرنے میں وہ بہت ماہر ہے ۔ اُسے کسی طرح بلانا چاہئے ۔ ہنومان نے کہا میں جاتا ہوں اُسے لئے آتا ہوں ۔ بھبھیشن سے سکھین کے مکان کا پتہ پوچھ کر وہ بھبھیشن بدل کر شہر میں جا پہنچے اور سکھین سے یہ حال کہا ۔ سکھین نے کہا ۔ بھائی میں وید ہوں ۔ راون کے دربار سے میری پرورش ہوتی ہے۔ اُسے معلوم ہو جائیگا کہ میں نے لکشمن کا علاج کیا ہے تو مجھے زندہ نہ چھوڑیگا'. ہنومان نے کہا۔ آپ کو ایشور نے جو کمال بخشا ہے اُس سے ہر ایک شخص کو فائدہ پہنچانا آپ کا فرض ہے ۔ خوف کے باعث فرض سے مُنہ موڑنا آپ جیسے بزرگ کے لئے شایاں نہیں'.{{nop}}<noinclude></noinclude> gg5htkuhkzp9lt3h3d3l3ezx8cmpg3y 34814 34812 2026-06-09T15:11:27Z Kaur.gurmel 74 34814 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کوئی ہوشیار وید مِل جائے تو ابھی زہر اُتر جائے۔ اور یہ اُٹھ بیٹھیں ۔ وید کی تلاش کرنی چاہئے ۔ بھبھیشن نے کہا شہر میں سُکھین نام کا ایک وید رہتا ہے ۔ زہر کا علاج کرنے میں وہ بہت ماہر ہے ۔ اُسے کسی طرح بلانا چاہئے ۔ ہنومان نے کہا میں جاتا ہوں اُسے لئے آتا ہوں ۔ بھبھیشن سے سکھین کے مکان کا پتہ پوچھ کر وہ بھیس بدل کر شہر میں جا پہنچے اور سکھین سے یہ حال کہا ۔ سکھین نے کہا ۔ 'بھائ میں وید ہوں ۔ راون کے دربار سے میری پرورش ہوتی ہے۔ اُسے معلوم ہو جائیگا کہ میں نے لکشمن کا علاج کیا ہے تو مجھے زندہ نہ چھوڑیگا'. ہنومان نے کہا۔ آپ کو ایشور نے جو کمال بخشا ہے اُس سے ہر ایک شخص کو فائدہ پہنچانا آپ کا فرض ہے ۔ خوف کے باعث فرض سے مُنہ موڑنا آپ جیسے بزرگ کے لئے شایاں نہیں'.{{nop}}<noinclude></noinclude> iwbo82zlhm2wzmfn3cgofon5qtnwrqa صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/39 250 13692 34813 2026-06-09T14:34:59Z Aleezarafiq69 215 /* بدون متن */ 34813 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="0" user="Aleezarafiq69" /></noinclude> میں کوئی سوئی بنانے والا اور دیا سلائی جلانے والا کو بھی نہیں پوچھتا تھا جو لاہوں کا تار تو بالکل ٹوٹ گیا تھا جو بذات سب سے زیادہ اس ہنگامہ میں گرمجوش تھے خدا کے فضل سے جب کہ ہندوستان سلطنتِ گریٹ برٹن میں داخل ہوا تو سب کار کو رعایا کے اس تنگیِ حال پر توجہ کرنی اور اُن کے روحانی غم اور دلی رنجشوں کے مٹانے میں سعی کرنی ضرور تھی* کمپنی لوٹ سے ایک نئی طرح کی زیر و زبری ملک ہوئی تھی جو کسی پہلی عملداری میں اس کی نظیر نہیں ہے یعنی قرض لیا جاتا تھا اُس کے سود کے وصول کرنے کی تدبیر بلکہ سود اور اخراجات اور انتفاع کے وصول کرنے کی تدبیر ملک سے ہوتی تھی غرضکہ ہر طرح سے ملک مفلس اور محتاج ہو گیا اگلا خاندان جن کو ہزاروں کا نقد و رتخا - معاش سے بھی تنگ تھے اور یہ ایک اصلی سبب ناراضی رعایا کا گورنمنٹ سے تھا لوگوں کے دل جو تبدیل عملداری کو چاہتے تھے اور نئی عملداری کے راغب اور دل سے اُس سے خوش تھے میں بہت سچ کہتا ہوں کہ اسی سبب سے تھے ہم سچ کہتے ہیں اور پھر ہم کہتے ہیں کہ ہم بہت سچ کہتے ہیں جب افغانستان سرکار نے فتح کیا لوگوں کو بُرا غم ہوا۔ کیا سبب تھا صرف یہ تھا کہ اب مذہب پر علانیہ دست اندازی ہوگی جب گوالیار فتح ہوا پنجاب فتح ہوا اودھ لیا گیا لوگوں کو کمال رنج ہوا کیوں ہوا اس لئے ہوا کہ ان پاس کی ہندوستانی عملداریوں سے ہندوستانیوں کو بہت آسودگی تھی نوکریاں کثرت سے آتی تھیں ہر قسم کی ہندوستانی اشیا کی تجارت بکثرت تھی اُن عملداریوں کے خراب ہونے سے زیادہ افلاس اور محتاجی ہوتی جاتی تھی ہماری گورنمنٹ کی عملداری میں خوبیاں اور بھلائیاں بھی حد سے زیادہ تھیں میں سب پر عیب نہیں لگاتا بقول شخصے؎<noinclude></noinclude> hg7w26sfk1pewixhl5u465wgozpt6nx