ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.6 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/33 250 12632 34826 34825 2026-06-10T13:13:30Z Charan Gill 46 34826 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{center|٣١}}</noinclude>اُن کی دفعتاً جاتی رہی -اس باب میں بھی کہ اگر سرکار یہ نکرتی تواصل زمینداروں کو ان ظالموں کو ہاتھ سے کیونکر نکالتی اس مقام پر بحث نہیں کرنے کے بلکہ اس کی بحث ہماری وسری راے میں ہے یہاں صرف یہ بیان کرنا ہے کہ شکست تعلقہ داری بھی سبب سرکشی ہے٠ '''استامپ''' استامپ کا جاری ہونا بالکل ایک ولایتی پیداوار ملک کا قاعده ہے جہاں زمین کی آمدنی گویا کہ نہیں لیجاتی ہندوستان میں اس کا جاری کرنا اور پھر رفتہ رفتہ اُس کی قیمت میں اضافہ ہوتا جانا جس کی انتہا اب قانون دہم ١٨٢٩ء میں ہے بلاشبہ خلاف طبائع اہل ہند بلکہ بنظر حالات مفلسی اہلہند نامناسب تھا، اسٹامپ کے جاری ہونے میں پچھلے لوگ بہت بحث کر گئے ہیں اور بہت سی دلیلیں پیش ہوئی ہیں کہ اس کا اجرا مفید ہے اور بہت غالب تر دلیلیں ہوئی ہیں کہ اصلی بات برخلافت اس کے ہے مگر ہم اس مقام پر اُن سب بحشوں سے قطع نظر کرتے ہیں اور اتنا لکھنا کافی سمجھتے ہیں کہ اُن بحثوں کی حاجت اُن ملکوں میں ہے جہاں کی رعایا تربیت یافتہ اور متمول اور راستباز معاملہ فہم ہے ۔ ہندوستان کی رعایا جو دن بدن مفلس ہوتی جاتی ہے وہ ہرگز اِس زیر باری اُٹھانے کے لایق نہیں ست عقلا کراس محصوُل کو نا پسند کر گئے ہیں اُن کا قول ہے کہ دستاویزات پر محصول لگانا جتنا قابل الزام اور بیوجہ محض ہے اُس سے زیادہ بُرا وہ محصوُل ہے جو کاغضات پر انصاف کرنے کے لئے لیا جاتا ہے علاوہ زیرباری اخراجات کی بہت سی صورتوں میں عدالت گستری سے باز رکھتا ہے چنانچہ ملّ صاحب کی کتاب پولٹیکل اکونمی اور لارڈ بروم صاحب کی پولیٹیکل فلوزوفی اِس کے ناپسندیدہ ہونے سے پُر ہیں اور جس قدر کہ ولایت میں اُس پر عذر ہے اُس سے بہت زیادہ ہندوستان میں اس کے رواج پر الزام ہے .{{nop}}<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> cc261azp7dzp7jha9sfvzoug9zgfw9w 34827 34826 2026-06-10T15:04:19Z Charan Gill 46 34827 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{center|٣١}}</noinclude>اُن کی دفعتاً جاتی رہی -اس باب میں بھی کہ اگر سرکار یہ نکرتی تواصل زمینداروں کو ان ظالموں کو ہاتھ سے کیونکر نکالتی اس مقام پر بحث نہیں کرنے کے بلکہ اس کی بحث ہماری وسری راے میں ہے یہاں صرف یہ بیان کرنا ہے کہ شکست تعلقہ داری بھی سبب سرکشی ہے٠ '''استامپ''' استامپ کا جاری ہونا بالکل ایک ولایتی پیداوار ملک کا قاعده ہے جہاں زمین کی آمدنی گویا کہ نہیں لیجاتی ہندوستان میں اس کا جاری کرنا اور پھر رفتہ رفتہ اُس کی قیمت میں اضافہ ہوتا جانا جس کی انتہا اب قانون دہم ١٨٢٩ء میں ہے بلاشبہ خلاف طبائع اہل ہند بلکہ بنظر حالات مفلسی اہلہند نامناسب تھا، اسٹامپ کے جاری ہونے میں پچھلے لوگ بہت بحث کر گئے ہیں اور بہت سی دلیلیں پیش ہوئی ہیں کہ اس کا اجرا مفید ہے اور بہت غالب تر دلیلیں ہوئی ہیں کہ اصلی بات برخلافت اس کے ہے مگر ہم اس مقام پر اُن سب بحشوں سے قطع نظر کرتے ہیں اور اتنا لکھنا کافی سمجھتے ہیں کہ اُن بحثوں کی حاجت اُن ملکوں میں ہے جہاں کی عایا تربیت یافتہ اور متمول اور راستباز معاملہ فہم ہے ۔ ہندوستان کی رعایا جو دن بدن مفلس ہوتی جاتی ہے وہ ہرگز اِس زیر باری اُٹھانے کے لایق نہیں ست عقلا کراس محصوُل کو نا پسند کر گئے ہیں اُن کا قول ہے کہ دستاویزات پر محصول لگانا جتنا قابل الزام اور بیوجہ محض ہے اُس سے زیادہ بُرا وہ محصوُل ہے جو کاغضات پر انصاف کرنے کے لئے لیا جاتا ہے علاوہ زیرباری اخراجات کی بہت سی صورتوں میں عدالت گستری سے باز رکھتا ہے چنانچہ ملّ صاحب کی کتاب پولٹیکل اکونمی اور لارڈ بروم صاحب کی پولیٹیکل فلوزوفی اِس کے ناپسندیدہ ہونے سے پُر ہیں اور جس قدر کہ ولایت میں اُس پر عذر ہے اُس سے بہت زیادہ ہندوستان میں اس کے رواج پر الزام ہے .{{nop}}<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 6udfcjy984cx335hrewdftbx7ix5wq6 34834 34827 2026-06-11T05:29:40Z BalramBodhi 60 34834 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{center|٣١}}</noinclude>اُن کی دفعتاً جاتی رہی -اس باب میں بھی کہ اگر سرکار یہ نکرتی تو اصل زمینداروں کو ان ظالموں کو ہاتھ سے کیونکر نکالتی اس مقام پر بحث نہیں کرنے کے بلکہ اس کی بحث ہماری دوسری راے میں ہے یہاں صرف یہ بیان کرنا ہے کہ شکست تعلقہ داری بھی سبب سرکشی ہے٠ '''استامپ''' استامپ کا جاری ہونا بالکل ایک ولایتی پیداوار ملک کا قاعده ہے جہاں زمین کی آمدنی گویا کہ نہیں لیجاتی ہندوستان میں اس کا جاری کرنا اور پھر رفتہ رفتہ اُس کی قیمت میں اضافہ ہوتا جانا جس کی انتہا اب قانون دہم ١٨٢٩ء میں ہے بلاشبہ خلاف طبائع اہلِ ہند بلکہ بنظر حالات مفلسی اہلہند نامناسب تھا اسٹامپ کے جاری ہونے میں پچھلے لوگ بہت بحث کر گئے ہیں اور بہت سی دلیلیں پیش ہوئی ہیں کہ اس کا اجرا مفید ہے اور بہت غالب تر دلیلیں ہوئی ہیں کہ اصلی بات برخلافت اس کے ہے مگر ہم اس مقام پر اُن سب بحشوں سے قطع نظر کرتے ہیں اور اتنا لکھنا کافی سمجھتے ہیں کہ اُن بحثوں کی حاجت اُن ملکوں میں ہے جہاں کی رعایا تربیت یافتہ اور متمول اور راستباز معاملہ فہم ہے۔ ہندوستان کی رعایا جو دن بدن مفلس ہوتی جاتی ہے وہ ہرگز اِس زیر باری اُٹھانے کے لایق نہیں سب عقلا اس محصوُل کو ناپسند کر گئے ہیں اُن کا قول ہے کہ دستاویزات پر محصول لگانا جتنا قابل الزام اور بیوجہ محض ہے اُس سے زیادہ بُرا وہ محصوُل ہے جو کاغضات پر انصاف کرنے کے لئے لیا جاتا ہے علاوہ زیرباری اخراجات کی بہت سی صورتوں میں عدالت گستری سے باز رکھتا ہے چنانچہ ملّ صاحب کی کتاب پولٹیکل اکونمی اور لارڈ بروم صاحب کی پولیٹیکل فلوزوفی اِس کے ناپسندیدہ ہونے سے پُر ہیں اور جس قدر کہ ولایت میں اُس پر عذر ہے اُس سے بہت زیادہ ہندوستان میں اس کے رواج پر الزام ہے.{{nop}}<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 636ythft0glcrjzlekzt2v4gqdmgca1 صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/34 250 12633 34828 30552 2026-06-10T15:12:31Z Charan Gill 46 34828 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{center|٣٢}}</noinclude>'''دیوانی عدالت کا انتظام پنجاب سےاچّھا ہے مگر اصلاح طلب ہے''' دیوانی عدالت کا انتظام جو پر یہ نسی جنگال اور اگرہ میں ہے وہ انتظام پنجاب سے نہایت شایستہ ہے اُس کو اس قدر میں کچھ مداخلت نہیں میں جانتا اچھا ہے ہوں کہ اکثر حکام کی راے اس کے برخلاف ہوگی اور پنجاب کی انتظام کو پسند کرتے ہونگے مگر یہ گفتگو نہایت قابل سحبت کے ہے، قانون پنجاب کا ایک مجمل مطلب ہے انہی قوانین کا جو اس ملک میں جاری ہیں اُن کے لبط اور پھیلاو اور عمل درآمدکیو اسطے تواعد مقرر نہیں ہیں ہر حاکم اس میں خود مختار ہے سب حاکموں کی لڑے سلیم ہوتی ضرور ہیں ہے پھر اس میں کس قدر خرابیاں انجام کو پڑنی منصور میں دیوانی کا محکمہ سب محکموں سے زیادہ تر عمدہ ہے جس پر نہایت اہتمام چاہئے۔ یہی محکمہ ہے جس پر آبادی ملک اور اجرا سے تجارت اور افزونی بیج بیوپارہ اتحکام حقوق منحصر ہیں۔ پنجاب میں یہ محکمہ نہایت کم قدر ہو رہا ہے حکام مطلق منتوجہ نہیں بلکہ ہم کہتے ہیں کہ متوجہ ہونے کی فرصت نہیں جس قدر مقدمات غور طلب بسبب انتقالات اور بھایا ہے کثیر اور بہ سبب زیادہ مدت ہو جانے عملداری سرکار کے اس ملک میں ان ملکوں کی عدالتوں میں درپیش ہوتے ہیں وہ ابھی تک پنجاب میں نہیں اور جب ہونگے تو اس میں کچھ شک نہیں کہ قوانین پنجاب اُن کی درستی سے فیصلہ کرنے کو کافی نہیں اس قدر ہیں دیوانی عدالت کا جس قدر اثر پایا جاتا ہے وہ صرف اتنا ہے ادل انتقالات حقیت - دوم مقروض ہونا یا مدیون ڈگری ہونا لوگوں کا کہ یہ دونوں باتیں آپس کے فساد کی باعث ہوئیں مقابلہ سرکار کی ان باتوں سے آپس میں دلی رنج تھا اور یہ قاعدہ ہے کہ جب عملداری کو سستی ہوتی ہے آپس کے تنازع سے فسادات. برپا ہوتے ہیں پھر ان دونوں باتوں میں جو لوگوں کو آپس میں پنج تھا سے بڑا اُس کا سبب یہ تھا کہ انتقالات نا واجبی اور قرضہ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> alg9uba65jerg5nejlpnbgc1jk895z6 34829 34828 2026-06-10T15:32:06Z Charan Gill 46 34829 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{center|٣٢}}</noinclude>'''دیوانی عدالت کا انتظام پنجاب سےاچّھا ہے مگر اصلاح طلب ہے''' دیوانی عدالت کا انتظام جو پریسیڈنسی بنگال اور آگرہ میں ہے وہ انتظام پنجاب سے نہایت شایستہ ہے اُس کو اس قدر میں کچھ مداخلت نہیں میں جانتا ہوں کہ اکثر حکام کی راے اس کے برخلاف ہوگی اور پنجاب کے انتظام کو پسند کرتے ہونگے مگر یہ گفتگو نہایت قابل بحت کے ہے، قانون پنجاب کا ایک مجمل مطلب ہے انہی قوانین کا جو اس ملک میں جاری ہیں اُن کے بسط اور پھیلاو اور عمل درآمد کیواسطے قواعد مقرر نہیں ہیں ہر حاکم اس میں خود مختار ہے سب حاکموں کی راے سلیم ہونی ضرورینہیں ہے پھر اس میں کس قدر خرابیاں انجام کو پڑنی منصور میں دیوانی کا محکمہ سب محکموں سے زیادہ تر عمدہ ہے جس پر نہایت اہتمام چاہئے۔ یہی محکمہ ہے جس پر آبادی ملک اور اجرا سے تجارت اور افزونی بیج بیوپارہ اتحکام حقوق منحصر ہیں۔ پنجاب میں یہ محکمہ نہایت کم قدر ہو رہا ہے حکام مطلق منتوجہ نہیں بلکہ ہم کہتے ہیں کہ متوجہ ہونے کی فرصت نہیں جس قدر مقدمات غور طلب بسبب انتقالات اور بھایا ہے کثیر اور بہ سبب زیادہ مدت ہو جانے عملداری سرکار کے اس ملک میں ان ملکوں کی عدالتوں میں درپیش ہوتے ہیں وہ ابھی تک پنجاب میں نہیں اور جب ہونگے تو اس میں کچھ شک نہیں کہ قوانین پنجاب اُن کی درستی سے فیصلہ کرنے کو کافی نہیں اس قدر ہیں دیوانی عدالت کا جس قدر اثر پایا جاتا ہے وہ صرف اتنا ہے ادل انتقالات حقیت - دوم مقروض ہونا یا مدیون ڈگری ہونا لوگوں کا کہ یہ دونوں باتیں آپس کے فساد کی باعث ہوئیں مقابلہ سرکار کی ان باتوں سے آپس میں دلی رنج تھا اور یہ قاعدہ ہے کہ جب عملداری کو سستی ہوتی ہے آپس کے تنازع سے فسادات. برپا ہوتے ہیں پھر ان دونوں باتوں میں جو لوگوں کو آپس میں پنج تھا سے بڑا اُس کا سبب یہ تھا کہ انتقالات نا واجبی اور قرضہ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 70e0tle41w4nq5y8pfl86aq9eqpdna0 34830 34829 2026-06-11T00:28:10Z Charan Gill 46 34830 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{center|٣٢}}</noinclude>'''دیوانی عدالت کا انتظام پنجاب سےاچّھا ہے مگر اصلاح طلب ہے''' دیوانی عدالت کا انتظام جو پریسیڈنسی بنگال اور آگرہ میں ہے وہ انتظام پنجاب سے نہایت شایستہ ہے اُس کو اس قدر میں کچھ مداخلت نہیں میں جانتا ہوں کہ اکثر حکام کی راے اس کے برخلاف ہوگی اور پنجاب کے انتظام کو پسند کرتے ہونگے مگر یہ گفتگو نہایت قابل بحت کے ہے، قانون پنجاب کا ایک مجمل مطلب ہے انہی قوانین کا جو اس ملک میں جاری ہیں اُن کے بسط اور پھیلاو اور عمل درآمد کیواسطے قواعد مقرر نہیں ہیں ہر حاکم اس میں خود مختار ہے سب حاکموں کی راے سلیم ہونی ضرورینہیں ہے پھر اس میں کس قدر خرابیاں انجام کو پڑنی منصور میں دیوانی کا محکمہ سب محکموں سے زیادہ تر عمدہ ہے جس پر نہایت اہتمام چاہئے۔ یہی محکمہ ہے جس پر آبادی ملک اور اجراے تجارت اور افزونی بیج بیوپارہ اتحکام حقوق منحصر ہیں۔ پنجاب میں یہ محکمہ نہایت کم قدر ہو رہا ہے حکام مطلق منتوجہ نہیں بلکہ ہم کہتے ہیں کہ متوجہ ہونے کی فرصت نہیں جس قدر مقدمات غور طلب بسبب انتقالات اور بھایا ہے کثیر اور بہ سبب زیادہ مدت ہو جانے عملداری سرکار کے اس ملک میں ان ملکوں کی عدالتوں میں درپیش ہوتے ہیں وہ ابھی تک پنجاب میں نہیں اور جب ہونگے تو اس میں کچھ شک نہیں کہ قوانین پنجاب اُن کی درستی سے فیصلہ کرنے کو کافی نہیں اس قدر ہیں دیوانی عدالت کا جس قدر اثر پایا جاتا ہے وہ صرف اتنا ہے ادل انتقالات حقیت - دوم مقروض ہونا یا مدیون ڈگری ہونا لوگوں کا کہ یہ دونوں باتیں آپس کے فساد کی باعث ہوئیں مقابلہ سرکار کی ان باتوں سے آپس میں دلی رنج تھا اور یہ قاعدہ ہے کہ جب عملداری کو سستی ہوتی ہے آپس کے تنازع سے فسادات. برپا ہوتے ہیں پھر ان دونوں باتوں میں جو لوگوں کو آپس میں پنج تھا سے بڑا اُس کا سبب یہ تھا کہ انتقالات نا واجبی اور قرضہ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> ora6ar72h0l43772199ttz5h2mmrcwn 34831 34830 2026-06-11T00:51:58Z Charan Gill 46 34831 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{center|٣٢}}</noinclude>'''دیوانی عدالت کا انتظام پنجاب سےاچّھا ہے مگر اصلاح طلب ہے''' دیوانی عدالت کا انتظام جو پریسیڈنسی بنگال اور آگرہ میں ہے وہ انتظام پنجاب سے نہایت شایستہ ہے اُس کو اس قدر میں کچھ مداخلت نہیں میں جانتا ہوں کہ اکثر حکام کی راے اس کے برخلاف ہوگی اور پنجاب کے انتظام کو پسند کرتے ہونگے مگر یہ گفتگو نہایت قابل بحت کے ہے، قانون پنجاب کا ایک مجمل مطلب ہے انہی قوانین کا جو اس ملک میں جاری ہیں اُن کے بسط اور پھیلاو اور عمل درآمد کیواسطے قواعد مقرر نہیں ہیں ہر حاکم اس میں خود مختار ہے سب حاکموں کی راے سلیم ہونی ضرورینہیں ہے پھر اس میں کس قدر خرابیاں انجام کو پڑنی منصور میں دیوانی کا محکمہ سب محکموں سے زیادہ تر عمدہ ہے جس پر نہایت اہتمام چاہئے۔ یہی محکمہ ہے جس پر آبادی ملک اور اجراے تجارت اور افزونی بنج بیوپارہ اتحکام حقوق منحصر ہیں۔ پنجاب میں یہ محکمہ نہایت کم قدر ہو رہا ہے حکام مطلق منتوجہ نہیں بلکہ ہم کہتے ہیں کہ متوجہ ہونے کی فرصت نہیں جس قدر مقدمات غور طلب بسبب انتقالات اور بھایا ہے کثیر اور بہ سبب زیادہ مدت ہو جانے عملداری سرکار کے اس ملک میں ان ملکوں کی عدالتوں میں درپیش ہوتے ہیں وہ ابھی تک پنجاب میں نہیں اور جب ہونگے تو اس میں کچھ شک نہیں کہ قوانین پنجاب اُن کی درستی سے فیصلہ کرنے کو کافی نہیں اس قدر ہیں دیوانی عدالت کا جس قدر اثر پایا جاتا ہے وہ صرف اتنا ہے ادل انتقالات حقیت - دوم مقروض ہونا یا مدیون ڈگری ہونا لوگوں کا کہ یہ دونوں باتیں آپس کے فساد کی باعث ہوئیں مقابلہ سرکار کی ان باتوں سے آپس میں دلی رنج تھا اور یہ قاعدہ ہے کہ جب عملداری کو سُستی ہوتی ہے آپس کے تنازع سے فسادات برپا ہوتے ہیں پھر ان دونوں باتوں میں جو لوگوں کو آپس میں رنج تھا سب سے بڑا اُس کا سبب یہ تھا کہ انتقالات نا واجبی اور قرضہ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> gy311fn1fg9lv4sglmjl0gwd2lcdl3w 34835 34831 2026-06-11T06:00:28Z BalramBodhi 60 34835 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{center|٣٢}}</noinclude>'''دیوانی عدالت کا انتظام پنجاب سےاچّھا ہے مگر اصلاح طلب ہے''' دیوانی عدالت کا انتظام جو پریسیڈنسی بنگال اور آگرہ میں ہے وہ نہایت شایستہ ہے اُس کو اس غدر میں کچھ مداخلت نہیں میں جانتا ہوں کہ اکثر حکام کی راے اس کے برخلاف ہوگی اور پنجاب کے انتظام کو پسند کرتے ہونگے مگر یہ گفتگو نہایت قابل بحت کے ہے قانون پنجاب کا ایک مجمل مطلب ہے اُنہی قوانین کا جو اِس ملک میں جاری ہیں اُن کے بسط اور پھیلاو اور عمل درآمد کیواسطے قواعد مقرر نہیں ہیں ہر حاکم اس میں خود مختار ہے سب حاکموں کی راے سلیم ہونی ضرورینہیں ہے پھر اس میں کس قدر خرابیاں انجام کو پڑنی متصور ہیں دیوانی کا محکمہ سب محکموں سے زیادہ تر عمدہ ہے جس پر نہایت اہتمام چاہئے۔ یہی محکمہ ہے جس پر آبادی ملک اور اجراے تجارت اور افزونی بنج بیوپار و استحکام حقوق منحصر ہیں۔ پنجاب میں یہ محکمہ نہایت کم قدر ہو رہا ہے حکام مطلق متوجہ نہیں بلکہ ہم کہتے ہیں کہ متوجہ ہونے کی فرصت نہیں جس قدر مقدمات غور طلب بسبب انتقالات اور معاملات کثیر اور بہ سبب زیادہ مدت ہو جانے عملداری سرکار کے اِس ملک میں ان ملکوں کی عدالتوں میں درپیش ہوتے ہیں وہ ابھی تک پنجاب میں نہیں اور جب ہونگے تو اس میں کچھ شک نہیں کہ قوانین پنجاب اُن کی درستی سے فیصلہ کرنے کو کافی نہیں اس قدر میں دیوانی عدالت کا جس قدر اثر پایا جاتا ہے وہ صرف اتنا ہے اول انتقالات حقیت۔ دوم مقروض ہونا یا مدیون ڈگری ہونا لوگوں کا کہ یہ دونوں باتیں آپس کے فساد کی باعث ہوئیں نہ مقابلہ سرکار کی ان باتوں سے آپس میں دلی رنج تھا اور یہ قاعدہ ہے کہ جب عملداری کو سُستی ہوتی ہے آپس کے تنازع سے فسادات برپا ہوتے ہیں پھر ان دونوں باتوں میں جو لوگوں کو آپس میں رنج تھا سب سے بڑا اُس کا سبب یہ تھا کہ انتقالات ناواجبی اور قرضہ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 8gjn3de0yvsnzgq4dyv0necth38adg8 صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/35 250 12634 34832 30556 2026-06-11T04:24:50Z Charan Gill 46 34832 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{center|٣٣}}</noinclude>ناجایز لوگوں کے سر پر ہو گیا تھا وہ جھوٹی ڈگریون ہو گئے تھے اور اسی سبب سے دیوانی عدالت پر الزام لگایا جاتا ہے خیال کرنا چاہئے کہ جس قدر کم توجی اور ابتری اور سرسری تحقیقات اور خود اختیاری حکام مجوز مقدمات دیوانی کی پنجاب میں ہے وہ بہت اس سے زیادہ خرابیاں پیدا کریگی دیوانی عدالت کی تاثیر دس برس میں ظاہر نہیں ہوتی۔ پچاس برس بعد پنجاب کو ممالک مغربی شمالی کے انتظام اور تاثیر عدالت دیوانی سے مقابلہ کرنا چاہئے ۔ نہ اب ہم اس بات کو منظور کرتے ہیں کہ پریسیڈنسی بنگال اور آگرہ کا قانون مطلق مقدمات دیوانی قابل اصلاح ہے انفصال مقدمات میں بہت تاخیر ہوتی ہے اسٹاپ کے بیش قیمت ہونے سے بیل کے ہر مقدمہ میں بہت سے درجات قائم ہونے سے لوگوں کو زیر باری ہے حکام دیوانی کو بعض قسم کا اختیار نہ دینے سے انفصال مقدمات میں ہرج تھا۔ سو اُس کو ایکٹ 19 س ضیاء نے کچھ کچھ رفع کیا اور جس قدر باقی ہے۔ وہ قابل اصلاح ہے اس میں اگر زیادہ گفتگو دیکھنی منظور ہو ہماری دوسری رائے کو جو دریاب انتظام ہندوستان ہے اُس کو ملاحظہ کرد ۸۵۱ {{center|<big>'''اصل سوم'''</big>}} نا واقف رہنا گورنمنٹ کا رعایا کے صلی حالات اور سوم نا واقفیت اطوار اور عادات اور ان مصائب سے جو اُن پر گزرتے تھے اور عورت حال شما جن سے رعایا کا دل ہماری گورنمنٹ سے پھٹتا جاتا تھا اِس میں کچھ شک نہیں کہ ہماری گورنمنٹ کو رعایا کے حالات اور اطوارا اور جو جو دکھ اُن کو تھے اُن کی اطلاع نہ تھی اور اطلان ہونیکا کیا سبب تھا کیونکہ حالات اور اطوار کی طلاع اختلاط اور ارتباط سے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> mw7sl5vanzmtcxqk3x59cauefcz4czf 34837 34832 2026-06-11T11:08:30Z Charan Gill 46 34837 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{center|٣٣}}</noinclude>ناجایز لوگوں کے سر پر ہو گیا تھا وہ جھوٹی ڈگریون ہو گئے تھے اور اسی سبب سے دیوانی عدالت پر الزام لگایا جاتا ہے خیال کرنا چاہئے کہ جس قدر کم توجی اور ابتری اور سرسری تحقیقات اور خود اختیاری حکام مجوز مقدمات دیوانی کی پنجاب میں ہے وہ بہت اس سے زیادہ خرابیاں پیدا کریگی دیوانی عدالت کی تاثیر دس برس میں ظاہر نہیں ہوتی۔ پچاس برس بعد پنجاب کو ممالک مغربی شمالی کے انتظام اور تاثیر عدالت دیوانی سے مقابلہ کرنا چاہئے ۔ نہ اب ہم اس بات کو منظور کرتے ہیں کہ پریسیڈنسی بنگال اور آگرہ کا قانون مطلق مقدمات دیوانی قابل اصلاح ہے انفصال مقدمات میں بہت تاخیر ہوتی ہے اسٹاپ کے بیش قیمت ہونے سے بیل کے ہر مقدمہ میں بہت سے درجات قائم ہونے سے لوگوں کو زیر باری ہے حکام دیوانی کو بعض قسم کا اختیار نہ دینے سے انفصال مقدمات میں ہرج تھا۔ سو اُس کو ایکٹ 19 س ضیاء نے کچھ کچھ رفع کیا اور جس قدر باقی ہے۔ وہ قابل اصلاح ہے اس میں اگر زیادہ گفتگو دیکھنی منظور ہو ہماری دوسری رائے کو جو دریاب انتظام ہندوستان ہے اُس کو ملاحظہ کرد ۸۵۱ {{center|<big>'''اصل سوم'''</big>}} نا واقف رہنا گورنمنٹ کا رعایا کے صلی حالات اور سوم نا واقفیت اطوار اور عادات اور ان مصائب سے جو اُن پر گزرتے تھے اور عورت حال شما جن سے رعایا کا دل ہماری گورنمنٹ سے پھٹتا جاتا تھا اِس میں کچھ شک نہیں کہ ہماری گورنمنٹ کو رعایا کے حالات اور اطوارا اور جو جو دکھ اُن کو تھے اُن کی اطلاع نہ تھی اور اطلان نہ ہونیکا کیا سبب تھا کیونکہ حالات اور اطوار کی اطلاع اختلاط اور راتباط<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 3cbtztsdum06vjxb8mr91y5lqyhltli 34839 34837 2026-06-11T11:27:32Z Charan Gill 46 34839 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{center|٣٣}}</noinclude>ناجایز لوگوں کے سر پر ہو گیا تھا وہ جھوٹی ڈگریون ہو گئے تھے اور اسی سبب سے دیوانی عدالت پر الزام لگایا جاتا ہے خیال کرنا چاہئے کہ جس قدر کم توجی اور ابتری اور سرسری تحقیقات اور خود اختیاری حکام مجوز مقدمات دیوانی کی پنجاب میں ہے وہ بہت اس سے زیادہ خرابیاں پیدا کریگی دیوانی عدالت کی تاثیر دس برس میں ظاہر نہیں ہوتی۔ پچاس برس بعد پنجاب کو ممالک مغربی شمالی کے انتظام اور تاثیر عدالت دیوانی سے مقابلہ کرنا چاہئے ۔ نہ اب ہم اس بات کو منظور کرتے ہیں کہ پریسیڈنسی بنگال اور آگرہ کا قانون مطلق مقدمات دیوانی قابل اصلاح ہے انفصال مقدمات میں بہت تاخیر ہوتی ہے اسٹاپ کے بیش قیمت ہونے سے بیل کے ہر مقدمہ میں بہت سے درجات قائم ہونے سے لوگوں کو زیر باری ہے حکام دیوانی کو بعض قسم کا اختیار نہ دینے سے انفصال مقدمات میں ہرج تھا۔ سو اُس کو ایکٹ 19 س ضیاء نے کچھ کچھ رفع کیا اور جس قدر باقی ہے۔ وہ قابل اصلاح ہے اس میں اگر زیادہ گفتگو دیکھنی منظور ہو ہماری دوسری رائے کو جو دریاب انتظام ہندوستان ہے اُس کو ملاحظہ کرد ۸۵۱ {{center|<big>'''اصل سوم'''</big>}} {{center|ناواقف رہنا گورنمنٹ کا رعایا کے اصلی حالات اور</br> اطوار اور عادات اور ان مصائب سے جو اُن پر گزرتے تھے اور</br> جن سے رعایا کا دل ہماری گورنمنٹ سے پھٹتا</br> جاتا تھا}} '''سوم ناواقفیت گورنمنٹ حال رعایا سے''' اِس میں کچھ شک نہیں کہ ہماری گورنمنٹ کو رعایا کے حالات اور اطوارا اور جو جو دکھ اُن کو تھے اُن کی اطلاع نہ تھی اور اطلان نہ ہونیکا کیا سبب تھا کیونکہ حالات اور اطوار کی اطلاع اختلاط اور ارتباط<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 00s2en6eh3zfkj9mp2w0u2axzz502zi 34840 34839 2026-06-11T11:36:19Z Charan Gill 46 34840 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{center|٣٣}}</noinclude>ناجایز لوگوں کے سر پر ہو گیا تھا وہ جھوٹی ڈگریون ہو گئے تھے اور اسی سبب سے دیوانی عدالت پر الزام لگایا جاتا ہے خیال کرنا چاہئے کہ جس قدر کم توجی اور ابتری اور سرسری تحقیقات اور خود اختیاری حکام مجوز مقدمات دیوانی کی پنجاب میں ہے وہ بہت اس سے زیادہ خرابیاں پیدا کریگی دیوانی عدالت کی تاثیر دس برس میں ظاہر نہیں ہوتی۔ پچاس برس بعد پنجاب کو ممالک مغربی شمالی کے انتظام اور تاثیر عدالت دیوانی سے مقابلہ کرنا چاہئے ۔ نہ اب ہم اس بات کو منظور کرتے ہیں کہ پریسیڈنسی بنگال اور آگرہ کا قانون مطلق مقدمات دیوانی قابل اصلاح ہے انفصال مقدمات میں بہت تاخیر ہوتی ہے اسٹاپ کے بیش قیمت ہونے سے اپیل کے ہر مقدمہ میں بہت سے درجات قائم ہونے سے لوگوں کو زیر باری ہے حکام دیوانی کو بعض قسم کا اختیار نہ دینے سے انفصال مقدمات میں ہرج تھا۔ سو اُس کو ایکٹ ١٩ ١٨٥٣ء نے کچھ کچھ رفع کیا اور جس قدر باقی ہے۔ وہ قابل اصلاح ہے اس میں اگر زیادہ گفتگو دیکھنی منظور ہو ہماری دوسری رائے کو جو دریاب انتظام ہندوستان ہے اُس کو ملاحظہ کرو. {{center|<big>'''اصل سوم'''</big>}} {{center|ناواقف رہنا گورنمنٹ کا رعایا کے اصلی حالات اور</br> اطوار اور عادات اور ان مصائب سے جو اُن پر گزرتے تھے اور</br> جن سے رعایا کا دل ہماری گورنمنٹ سے پھٹتا</br> جاتا تھا}} '''سوم ناواقفیت گورنمنٹ حال رعایا سے''' اِس میں کچھ شک نہیں کہ ہماری گورنمنٹ کو رعایا کے حالات اور اطوارا اور جو جو دکھ اُن کو تھے اُن کی اطلاع نہ تھی اور اطلان نہ ہونیکا کیا سبب تھا کیونکہ حالات اور اطوار کی اطلاع اختلاط اور ارتباط<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> sswf2bv7qqk1lvdfi979y6whgbhbsh8 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/228 250 12826 34838 31391 2026-06-11T11:16:24Z Jagdish Papra 66 34838 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>ہنومان نے ہاتھ جوڑ کر کہا : ماتا جی ! میں سری رامچندر ہی کے پاس سے آ رہا ہوں ۔ یہ انگوٹھی اُنہیں نے مجھے دی تھی میں آپ دیکھ کر سمجھ گیا کہ آپ ہی جانگی بھی ہیں۔ کی تلاش میں سینکڑوں سپاہی چھوٹے ہوئے ہیں ۔ میری خوش نصیبی ہے کہ آپ کے درشن ہوئے : سیتاجی کا زرد چہرہ کھل گیا ۔ بولیں ۔ کیا سچ مُچ تُم میرے سوامی کے پاس سے آ رہے ہو ۔ ابھی تک وہ میری یاد کر رہے ہَیں؟ ہنومان - 'آپ کی یاد اُنہیں ہمیشہ ستایا کرتی ہے ۔ سوتے جاگتے آپ ہی کے نام کی رٹ لگایا کرتے ہیں ۔ آپ کا پتہ اب تک نہ تھا۔ اس وجہ سے آپ کو چھڑا نہ سکتے تھے ۔ اب جونہی میں پہنچ کر انہیں آپ کی خبر دونگا وہ فورا لنکا پر حملہ کرنے کی<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> iyfsrmk415bsvx2f4kqk59rd8krbnqg 34841 34838 2026-06-11T11:40:19Z Jagdish Papra 66 34841 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>ہنومان نے ہاتھ جوڑ کر کہا : ماتا جی ! میں سری رامچندر ہی کے پاس سے آ رہا ہوں ۔ یہ انگوٹھی اُنہیں نے مجھے دی تھی میں آپ کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ آپ ہی جانکی جی ہیں۔آپ کی تلاش میں سینکڑوں سپاہی چھوٹے ہوئے ہیں ۔ میری خوش نصیبی ہے کہ آپ کے درشن ہوئے سیتاجی کا زرد چہرہ کھل گیا ۔ بولیں ۔ کیا سچ مُچ تُم میرے سوامی کے پاس سے آ رہے ہو ۔ ابھی تک وہ میری یاد کر رہے ہَیں؟ ہنومان - 'آپ کی یاد اُنہیں ہمیشہ ستایا کرتی ہے ۔ سوتے جاگتے آپ ہی کے نام کی رٹ لگایا کرتے ہیں ۔ آپ کا پتہ اب تک نہ تھا۔ اس وجہ سے آپ کو چھڑا نہ سکتے تھے ۔ اب جونہی میں پہنچ کر انہیں آپ کی خبر دونگا وہ فورا لنکا پر حملہ کرنے کی<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> kceowailddveh9xsfrctjxoodk3m5wh صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/272 250 13180 34833 32685 2026-06-11T04:38:54Z Taranpreet Goswami 90 34833 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>سکھین لاجواب ہو گیا ۔ اُسی وقت ہنومان کے ساتھ چل کھڑا ہوا۔ بڑھاپے کے باعث دُہ تیز نہ چل سکتا تھا۔ اس لئے ہنومان نے اُسے گود میں اٹھا لیا اور بھاگے ہوئے اپنی فوج میں آ پہنچے ۔ سکھین نے لکشمن کی نبض دیکھی، جسم دیکھا اور بولا ۔ ابھی بچنے کی اُمید ہے۔ سنجیونی بوٹی مل جائے تو بچ سکتے ہیں ۔ مگر سورج نکلنے کے پہلے بوٹی یہاں آجانی چاہئے۔ ورنہ جان نہ بچیگی'. جامونت نے پوچھا ۔ سنجیونی بوٹی ملیگی کہاں ؟ سکھین بولا - اُتّر کی طرف ایک پہاڑ ہے ۔ وہیں یہ بوٹی ملنگی'. بارہ گھنٹے کے اندر وہاں جانا اور بوٹی تلاش کر کے لانا آسان کام نہ تھا ۔ سب ایک دوسرے کا منہ تا کتے تھے ۔ کسی کی ہمت نہ پڑتی تھی کہ جانے کو تیار ہو ۔ آخر را مچندر نے ہنومان سے کہا ۔ دوست ! یہ مشکل تمہیں آسان کر سکتے<noinclude></noinclude> 5s3k3py68xgo544rzeilqhao9cjr31q 34836 34833 2026-06-11T06:51:32Z Harry sidhuz 157 34836 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>سکھین لاجواب ہو گیا ۔ اُسی وقت ہنومان کے ساتھ چل کھڑا ہوا۔ بڑھاپے کے باعث وُہ تیز نہ چل سکتا تھا۔ اس لئے ہنومان نے اُسے گود میں اٹھا لیا اور بھاگے ہوئے اپنی فوج میں آ پہنچے ۔ سکھین نے لکشمن کی نبض دیکھی، جسم دیکھا اور بولا ۔ ابھی بچنے کی اُمید ہے۔ سنجیونی بوٹی مل جائے تو بچ سکتے ہیں ۔ مگر سورج نکلنے کے پہلے بوٹی یہاں آجانی چاہئے۔ ورنہ جان نہ بچیگی'. جامونت نے پوچھا ۔ سنجیونی بوٹی ملیگی کہاں ؟ سکھین بولا - اُتّر کی طرف ایک پہاڑ ہے ۔ وہیں یہ بوٹی ملنگی'. بارہ گھنٹے کے اندر وہاں جانا اور بوٹی تلاش کر کے لانا آسان کام نہ تھا ۔ سب ایک دوسرے کا منہ تا کتے تھے ۔ کسی کی ہمت نہ پڑتی تھی کہ جانے کو تیار ہو ۔ آخر را مچندر نے ہنومان سے کہا ۔ دوست ! یہ مشکل تمہیں آسان کر سکتے<noinclude></noinclude> 85bh6qv0vkarqe5np8s691nukjzu9fa