ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.6 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/35 250 12634 34852 34840 2026-06-12T05:26:34Z BalramBodhi 60 34852 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{center|٣٣}}</noinclude>ناجایز لوگوں کے سر پر ہو گیا تھا وہ جھوٹی ڈگریون ہو گئے تھے اور اسی سبب سے دیوانی عدالت پر الزام لگایا جاتا ہے خیال کرنا چاہئے کہ جس قدر تہکم توجی اور ابتری اور سرسری تحقیقات اور خود اختیاری حکام مجوز مقدمات دیوانی کی پنجاب میں ہے وہ بہت اس سے زیادہ خرابیاں پیدا کریگی دیوانی عدالت کی تاثیر دس برس میں ظاہر نہیں ہوتی۔ پچاس برس بعد پنجاب کو ممالک مغربی شمالی کے انتظام اور تاثیر عدالت دیوانی سے مقابلہ کرنا چاہئے۔ نہ اب ہم اس بات کو منظور کرتے ہیں کہ پریسیڈنسی بنگال اور آگرہ کا قانون مطلق مقدمات دیوانی قابل اصلاح ہے انفصال مقدمات میں بہت تاخیر ہوتی ہے اسٹماپ کے بیش قیمت ہونے سے اپیل کے ہر مقدمہ میں بہت سے درجات قائم ہونے سے لوگوں کو زیر باری ہے حکام دیوانی کو بعض قسم کا اختیار نہ دینے سے انفصال مقدمات میں ہرج تھا۔ سو اُس کو ایکٹ ١٩ ١٨٥٣ء نے کچھ کچھ رفع کیا اور جس قدر باقی ہے۔ وہ قابل اصلاح ہے اِس میں اگر زیادہ گفتگو دیکھنی منظور ہو ہماری دوسری رائے کو جو درباب انتظام ہندوستان ہے اُس کو ملاحظہ کرو. {{center|<big>'''اصل سوم'''</big>}} {{center|ناواقف رہنا گورنمنٹ کا رعایا کے اصلی حالات اور</br> اطوار اور عادات اور ان مصائب سے جو اُن پر گزرتے تھے اور</br> جن سے رعایا کا دل ہماری گورنمنٹ سے پھٹتا</br> جاتا تھا}} '''سوم ناواقفیت گورنمنٹ حال رعایا سے''' اِس میں کچھ شک نہیں کہ ہماری گورنمنٹ کو رعایا کے حالات اور اطوار اور جو جو دکھ اُن کو تھے اُن کی اطلاع نہ تھی اور اطلاع نہ ہونیکا کیا سبب تھا کیونکہ حالات اور اطوار کی اطلاع اختلاط اور ارتباط<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> phh9q9r34q93caiv2kl4j6oefdek33u صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/36 250 12635 34842 30558 2026-06-11T13:12:09Z Charan Gill 46 34842 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{center|٣٤}}</noinclude>اور باہم آمد رفت بے تکلفانہ سے ہوتی ہے اور یہ بات جب ہوتی ہے کہ ایک قوم دوسری قوم میں ملجل کر اور محبت اور اخلاص پیدا کر کر بطور ہموطنوں کے توطن اختیار کرے جیسا کہ مسلمان غیر مذہب اور غیر ملک کے رہنے والوں نے ہندوستان میں توطن اختیار کر کے رعایا سر مطلق پیدا کیا اور غیر ملکیوں سے برادرانہ راہ و رسم پیدا کی مگر در حقیقت ہماری گورنمنٹ کو یہ بات جو اصلی سبب رعایا کے حالات کی اطلاع کا ہے حاصل نہیں ہو سکتی اور نہ اس طرح کی سکونت مختلطانہ ھماری کو ہونی متخیل ہے اب رہی یہ بات کہ رعایا خود اپنے مصائب کی اطلاع کرتی تو اس کا قابو رعایا کو نہ تھا کیونکہ رعایا سے ہندوستان کو تجاویز گورنمنٹ میں ذرا بھی مداخلت نہ تھی اور اگر کسی نے کچھ بیقاعدہ کوئی عرضی پرچہ بھیجا یا بحضور نواب گورنر جنرل بهادر وہ بطور استغاثہ تصور کیا گیا نہ بطور تحقاق مداخلت نجا در گورنمنٹ میں اور اسی لئے کچھ فائدہ حاصل نہ ہوا اب ضرور ہوا کہ کوئی اور شخص حالات رعایا کی اطلاع گورنمنٹ میں کرے وہ اطلاع منحصر تھی حکام متعدد ضلاع کی رپورٹ پر وہ خود اُس سے نا واقعت تھے اور کوئی راہ نہ تھی اُن کو اطلاع حاصل ہونے کو اور اُن کی عدم توجہی اس باب میں اور اُن کی نازک مزاجی ایک مشہور بات ہے اُن کے رعہ سے سب ڈر تے تھے کسی کہ سچی بات علی الخصوص وہ کہ جو مخالف طبع اور مزاج حاکموں کے ہوتی تھی کہنے کا مقدور نہ تھا شخص ملازم اور درباری ریمیں سب ڈر کے مارے خوشامد کی بات کہتے تھے اور ہماری گورنمنٹ نے جو در حقیقت گورنمنٹ نوعیہ ہے ان باتوں سے گورنمنٹ شخصیہ کی صورت پیدا کی تھی پھر یہ طریقہ اطلاع حالات رعایا کا بذریعہ حکام ضلاع ناکافی ہی نہ تھا بلکہ در حقیقت معلوم تھا اس لئے حالات رعایا کے ہمیشہ ہماری گورنمنٹ سے مخفی رہے جو نیا قانون گورنمینٹ سے جاری ہوا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> toxdl3kts11lbl6o3p5pv3o6xlk307i 34853 34842 2026-06-12T05:49:19Z BalramBodhi 60 34853 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{center|٣٤}}</noinclude>اور باہم آمد رفت بے تکلفانہ سے ہوتی ہے اور یہ بات جب ہوتی ہے کہ ایک قوم دوسری قوم میں ملجل کر اور محبت اور اخلاص پیدا کر کر بطور ہموطنوں کے توطن اختیار کرے جیسا کہ مسلمان غیر مذہب اور غیر ملک کے رہنے والوں نے ہندوستان میں توطن اختیار کر کے پیدا کیا اور غیر ملکیوں سے برادرانہ راہ و رسم پیدا کی مگر در حقیقت ہماری گورنمنٹ کو یہ بات جو اصلی سبب رعایا کے حالات کی اطلاع کا ہے حاصل نہیں ہو سکتی اور نہ اس طرح کی سکونت مختلطانہ ھماری کو ہونی متخیل ہے اب رہی یہ بات کہ رعایا خود اپنے مصائب کی اطلاع کرتی تو اس کا قابو رعایا کو نہ تھا کیونکہ رعایا سے ہندوستان کو تجاویز گورنمنٹ میں ذرا بھی مداخلت نہ تھی اور اگر کسی نے کچھ بیقاعدہ کوئی عرضی پرچہ بھیجا یا بحضور نواب گورنر جنرل بهادر پیش کیا وہ بطور استغاثہ تصور کیا گیا نہ بطور استحقاق مداخلت تجاویز گورنمنٹ میں اور اسی لئے کچھ فائدہ حاصل نہ ہوا اب ضرور ہوا کہ کوئی اور شخص حالات رعایا کی اطلاع گورنمنٹ میں کرے وہ اطلاع منحصر تھی حکام متعہد اضلاع کی رپورٹ پر وہ خود اُس سے ناواقف تھے اور کوئی راہ نہ تھی اُن کو اطلاع حاصل ہونے کو اور اُن کی عدم توجہی اس باب میں اور اُن کی نازک مزاجی ایک مشہور بات ہے اُن کے رُعب سے سب ڈرتے تھے کسی کو سچی بات علی الخصوص وہ کہ جو مخالف طبع اور مزاج حاکموں کے ہوتی تھی کہنے کا مقدور نہ تھا ہر شخص ملازم اور درباری رئیس سب ڈر کے مارے خوشامد کی بات کہتے تھے اور ہماری گورنمنٹ نے جو در حقیقت گورنمنٹ نوعیہ ہے ان باتوں سے گورنمنٹ شخصیہ کی صورت پیدا کی تھی پھر یہ طریقہ اطلاع حالات رعایا کا بذریعہ حکام اضلاع ناکافی ہی نہ تھا بلکہ در حقیقت معلوم تھا اِس لئے حالات رعایا کے ہمیشہ ہماری گورنمنٹ سے مخفی رہے جو نیا قانون گورنمینٹ سے جاری ہوا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 1ixtwmhulms9y07rktlfj5jtnn3ozo7 صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/37 250 12636 34843 30561 2026-06-11T13:50:06Z Charan Gill 46 34843 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{center|٣٥}}</noinclude>اُس سے جو مضرت رعایا کے حال اور رفاہ اور فراج کو پہنچی اُس کا رفع کرنے والا اور اُس کی خبر دینے والا کوئی نہ تھا اس قسم کے امور میں کوئی غمخوار رعایا کا نہ تھا بجز اُن کے لہو کے جو جل جل کر ان کے بدن میں رہتا تھا۔ اور بجز ان کی بے کسی کے جس پر وہ آپ رو رو کر چپ رہتے تھے٠ منمی بیند پستان زبان بہت قبیل و دگار کو سختی مفلسی اور تنگی معاش ہندوستان کی رعایا کو ہماری گورٹینٹ کی حکومت میں کیوں ہوتی سب سے بڑی معاش رعایا ہے ہندوستان کی نوکری تھی اور یہ ایک پیشہ گنا جاتا تھا اگرچہ پر ایک قدم کے لوگ روزگار نہ ہونے کے شاکی تھے مگر یہ شکایت سب سے زیادہ مسلمانوں کو غور کرنا چاہیئے کہ ہند و جو اصلی باشندہ اس ملک کے ہیں زمانہ سلف پیشہ جو کالا میں اُن میں سے کوئی شخص روزگار پیشہ نہ تھا بلا کسب ارگ مکلی کا رویا سادی تھے میں مصروف تھے برہمن کو روز گار سے کچھ علاقہ تھا ہمیں برن جو کہا اتنے بہت تنگ تھے ہیں وہ ہمیشہ ہو یا را در مصاحبنی میں مصروف تھے چھتری جو اس ملک کے - کسی زمانہ میں حاکم بھی تھے نیانی تاریخوں سے ثابت ہے کہ وہ بھی روزگار پیشہ نہ تھے بلکہ زمین سے اور ایک ایک ٹکڑہ زمین کی حکومت سے بطور بھیا چارہ علاقہ رکھتے تھے سیاہ اُن کی ملازم نہ تھی بلکہ بیٹو نہ بھائی بندمی کے وقت پر جمع ہو کر تشکر آراستہ ہوتا تھا جیسا کہ کچھ تھوڑا سا نمونہ روس کی مملکت میں پایا جاتا ہے البتہ قوم کا یت اس ملک میں قدیم سے روزگار میشہ دکھلائی دیتے ہیں مسلمان اس ملک کے رہنے والے نہیں ہیں اگر بادشاہوں کے ساتھ بوسیلہ روزگار کے ہندوستان میں آئے اور یہاں توطن اختیار کیا اس لئے سب کے سب روزگار میشہ تھے اور کمی روزگار سے اُن کو زیادہ تر شکایت پنسیت صلی باشندوں اس ملک کے تھی۔ بعزت دار سپاہ کا نہ نگا جو یہاں کی جاہل رعایا کے مزاج سے زیادہ تر مناسبت رکھتا ہے مسلمان<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> t6wmje88vfq14rf7lqldhips1c6ds51 34844 34843 2026-06-11T14:18:47Z Charan Gill 46 34844 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{center|٣٥}}</noinclude>اُس سے جو مضرت رعایا کے حال اور رفاہ اور فراج کو پہنچی اُس کا رفع کرنے والا اور اُس کی خبر دینے والا کوئی نہ تھا اس قسم کے امور میں کوئی غمخوار رعایا کا نہ تھا بجز اُن کے لہو کے جو جل جل کر ان کے بدن میں رہتا تھا۔ اور بجز ان کی بے کسی کے جس پر وہ آپ رو رو کر چپ رہتے تھے. '''مفلسی ہندوستان الی الخصوص مسلمانوں کی''' مفلسی اور تنگی معاش ہندوستان کی رعایا کو ہماری گورٹینٹ کی حکومت میں کیوں نہ ہوتی سب سے بڑی معاش رعایا ہے ہندوستان کی نوکری تھی اور یہ ایک پیشہ گنا جاتا تھا اگرچہ پر ایک قدم کے لوگ روزگار نہ ہونے کے شاکی تھے مگر یہ شکایت سب سے زیادہ مسلمانوں کو غور کرنا چاہیئے کہ ہند و جو اصلی باشندہ اس ملک کے ہیں زمانہ سلف پیشہ جو کالا میں اُن میں سے کوئی شخص روزگار پیشہ نہ تھا بلا کسب ارگ مکلی کا رویا سادی تھے میں مصروف تھے برہمن کو روز گار سے کچھ علاقہ تھا ہمیں برن جو کہا اتنے بہت تنگ تھے ہیں وہ ہمیشہ ہو یا را در مصاحبنی میں مصروف تھے چھتری جو اس ملک کے - کسی زمانہ میں حاکم بھی تھے نیانی تاریخوں سے ثابت ہے کہ وہ بھی روزگار پیشہ نہ تھے بلکہ زمین سے اور ایک ایک ٹکڑہ زمین کی حکومت سے بطور بھیا چارہ علاقہ رکھتے تھے سیاہ اُن کی ملازم نہ تھی بلکہ بیٹو نہ بھائی بندمی کے وقت پر جمع ہو کر تشکر آراستہ ہوتا تھا جیسا کہ کچھ تھوڑا سا نمونہ روس کی مملکت میں پایا جاتا ہے البتہ قوم کا یت اس ملک میں قدیم سے روزگار میشہ دکھلائی دیتے ہیں مسلمان اس ملک کے رہنے والے نہیں ہیں اگر بادشاہوں کے ساتھ بوسیلہ روزگار کے ہندوستان میں آئے اور یہاں توطن اختیار کیا اس لئے سب کے سب روزگار میشہ تھے اور کمی روزگار سے اُن کو زیادہ تر شکایت پنسیت صلی باشندوں اس ملک کے تھی۔ بعزت دار سپاہ کا نہ نگا جو یہاں کی جاہل رعایا کے مزاج سے زیادہ تر مناسبت رکھتا ہے مسلمان<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 3bcs8zdve4rmmn281cr42a8eczoa7ue 34845 34844 2026-06-11T15:01:39Z Charan Gill 46 34845 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{center|٣٥}}</noinclude>اُس سے جو مضرت رعایا کے حال اور رفاہ اور فراج کو پہنچی اُس کا رفع کرنے والا اور اُس کی خبر دینے والا کوئی نہ تھا اس قسم کے امور میں کوئی غمخوار رعایا کا نہ تھا بجز اُن کے لہو کے جو جل جل کر ان کے بدن میں رہتا تھا۔ اور بجز ان کی بے کسی کے جس پر وہ آپ رو رو کر چپ رہتے تھے. '''مفلسی ہندوستان الی الخصوص مسلمانوں کی''' مفلسی اور تنگی معاش ہندوستان کی رعایا کو ہماری گورٹینٹ کی حکومت میں کیوں نہ ہوتی سب سے بڑی معاش رعایا ہے ہندوستان کی نوکری تھی اور یہ ایک پیشہ گنا جاتا تھا اگرچہ پر ایک قوم کے لوگ روزگار نہ ہونے کے شاکی تھے مگر یہ شکایت سب سے زیادہ مسلمانوں کو تھی غور کرنا چاہیئے کہ ہندو جو اصلی باشندہ اس ملک کے ہیں میں اُن میں سے کوئی شخص روزگار پیشہ نہ تھا بلکہ سب لوگ ملکی کارویار میں مصروف تھے برہمن کو روزگار سے کچھ علاقہ نہ تھا بیس برن جو کہلاتے ہہت وہ ہمیشہ بیوپار اور مہاحنی میں مصروف تھے چھتری جو اس ملک کے کسی زمانہ میں حاکم بھی تھے نیانی تاریخوں سے ثابت ہے کہ وہ بھی روزگار پیشہ نہ تھے بلکہ زمین سے اور ایک ایک ٹکڑہ زمین کی حکومت سے بطور بھیا چارہ علاقہ رکھتے تھے سیاہ اُن کی ملازم نہ تھی بلکہ بیٹو نہ بھائی بندمی کے وقت پر جمع ہو کر تشکر آراستہ ہوتا تھا جیسا کہ کچھ تھوڑا سا نمونہ روس کی مملکت میں پایا جاتا ہے البتہ قوم کا یت اس ملک میں قدیم سے روزگار میشہ دکھلائی دیتے ہیں مسلمان اس ملک کے رہنے والے نہیں ہیں اگر بادشاہوں کے ساتھ بوسیلہ روزگار کے ہندوستان میں آئے اور یہاں توطن اختیار کیا اس لئے سب کے سب روزگار میشہ تھے اور کمی روزگار سے اُن کو زیادہ تر شکایت پنسیت صلی باشندوں اس ملک کے تھی۔ بعزت دار سپاہ کا نہ نگا جو یہاں کی جاہل رعایا کے مزاج سے زیادہ تر مناسبت رکھتا ہے مسلمان<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> d93nus7lmib6fs4dtncmuq8ct6yo2zk 34846 34845 2026-06-12T01:00:31Z Charan Gill 46 34846 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{center|٣٥}}</noinclude>اُس سے جو مضرت رعایا کے حال اور رفاہ اور فراج کو پہنچی اُس کا رفع کرنے والا اور اُس کی خبر دینے والا کوئی نہ تھا اس قسم کے امور میں کوئی غمخوار رعایا کا نہ تھا بجز اُن کے لہو کے جو جل جل کر ان کے بدن میں رہتا تھا۔ اور بجز ان کی بے کسی کے جس پر وہ آپ رو رو کر چپ رہتے تھے. '''مفلسی ہندوستان الی الخصوص مسلمانوں کی''' مفلسی اور تنگی معاش ہندوستان کی رعایا کو ہماری گورنمنٹ کی حکومت میں کیوں نہ ہوتی سب سے بڑی معاش رعایا ہے ہندوستان کی نوکری تھی اور یہ ایک پیشہ گنا جاتا تھا اگرچہ پر ایک قوم کے لوگ روزگار نہ ہونے کے شاکی تھے مگر یہ شکایت سب سے زیادہ مسلمانوں کو تھی غور کرنا چاہیئے کہ ہندو جو اصلی باشندہ اس ملک کے ہیں میں اُن میں سے کوئی شخص روزگار پیشہ نہ تھا بلکہ سب لوگ ملکی کارویار میں مصروف تھے برہمن کو روزگار سے کچھ علاقہ نہ تھا بیس برن جو کہلاتے ہیں وہ ہمیشہ بیوپار اور ہاجنی میں مصروف تھے چھتری جو اِس ملک کے کسی زمانہ میں حاکم بھی تھے پرانی تاریخوں سے ثابت ہے کہ وہ بھی روزگار پیشہ نہ تھے بلکہ زمین سے اور ایک ایک ٹکڑہ زمین کی حکومت سے بطور بھیا چارہ علاقہ رکھتے تھے سیاہ اُن کی ملازم نہ تھی بلکہ بیٹو نہ بھائی بندمی کے وقت پر جمع ہو کر تشکر آراستہ ہوتا تھا جیسا کہ کچھ تھوڑا سا نمونہ روس کی مملکت میں پایا جاتا ہے البتہ قوم کا یت اس ملک میں قدیم سے روزگار میشہ دکھلائی دیتے ہیں مسلمان اس ملک کے رہنے والے نہیں ہیں اگر بادشاہوں کے ساتھ بوسیلہ روزگار کے ہندوستان میں آئے اور یہاں توطن اختیار کیا اس لئے سب کے سب روزگار میشہ تھے اور کمی روزگار سے اُن کو زیادہ تر شکایت پنسیت صلی باشندوں اس ملک کے تھی۔ بعزت دار سپاہ کا نہ نگا جو یہاں کی جاہل رعایا کے مزاج سے زیادہ تر مناسبت رکھتا ہے مسلمان<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> ck1g5j3e2hf8sbhjsnecqn5yk11izht 34847 34846 2026-06-12T01:42:08Z Charan Gill 46 34847 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" />{{center|٣٥}}</noinclude>اُس سے جو مضرت رعایا کے حال اور رفاہ اور فراج کو پہنچی اُس کا رفع کرنے والا اور اُس کی خبر دینے والا کوئی نہ تھا اس قسم کے امور میں کوئی غمخوار رعایا کا نہ تھا بجز اُن کے لہو کے جو جل جل کر ان کے بدن میں رہتا تھا۔ اور بجز ان کی بے کسی کے جس پر وہ آپ رو رو کر چپ رہتے تھے. '''مفلسی ہندوستان الی الخصوص مسلمانوں کی''' مفلسی اور تنگی معاش ہندوستان کی رعایا کو ہماری گورنمنٹ کی حکومت میں کیوں نہ ہوتی سب سے بڑی معاش رعایا ہے ہندوستان کی نوکری تھی اور یہ ایک پیشہ گنا جاتا تھا اگرچہ پر ایک قوم کے لوگ روزگار نہ ہونے کے شاکی تھے مگر یہ شکایت سب سے زیادہ مسلمانوں کو تھی غور کرنا چاہیئے کہ ہندو جو اصلی باشندہ اس ملک کے ہیں میں اُن میں سے کوئی شخص روزگار پیشہ نہ تھا بلکہ سب لوگ ملکی کارویار میں مصروف تھے برہمن کو روزگار سے کچھ علاقہ نہ تھا بیس برن جو کہلاتے ہیں وہ ہمیشہ بیوپار اور ہاجنی میں مصروف تھے چھتری جو اِس ملک کے کسی زمانہ میں حاکم بھی تھے پرانی تاریخوں سے ثابت ہے کہ وہ بھی روزگار پیشہ نہ تھے بلکہ زمین سے اور ایک ایک ٹکڑہ زمین کی حکومت سے بطور بھیا چارہ علاقہ رکھتے تھے سپاہ اُن کی ملازم نہ تھی بلکہ بٹور بھائی بندی کے وقت پر جمع ہو کر لشکر آراستہ ہوتا تھا جیسا کہ کچھ تھوڑا سا نمونہ روس کی مملکت میں پایا جاتا ہے البتہ قوم کایت اس ملک میں قدیم سے روزگار پیشہ دکھلائی دیتے ہیں مسلمان اس ملک کے رہنے والے نہیں ہیں اگلے بادشاہوں کے ساتھ بوسیلہ روزگار کے ہندوستان میں آئے اور یہاں توطن اختیار کیا اس لئے سب کے سب روزگار پیشہ تھے اور کمی روزگار سے اُن کو زیادہ تر شکایت بہ نسبت اصلی باشندوں اس ملک کے تھی۔ بعزت دار سپاہ کا نہ نگا جو یہاں کی جاہل رعایا کے مزاج سے زیادہ تر مناسبت رکھتا ہے مسلمان<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> tepss4z7tg5f2bndnhko6awgq5wkhum صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/13 250 12679 34850 31856 2026-06-12T03:46:45Z Taranpreet Goswami 90 34850 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" />{{rh||١٢|بیتال پچیسی}}</noinclude>آیا اور کوتوال کو بلاکر کہا جاؤ جوگی کو لے آؤ کوتوال حکم پاتے ہی جوگی کے لینے کو گیا اور راجہ اپنے من مین اچنبھا کر کے کہنے لگا کہ احوال گھر کا اور دل کا ارادہ اور جو کچھہ نقصان ہو سو کسو کے آگے ظاہر کرنا مناسب نہین کہ اتنے مین کوتوال نے جوگی کو لاکر حاضر کیا پھر جوگی کو راجہ نے کنارے لیجا پوچھا گشائین جی دھرم شاستر مین استری کیواسطے کیا ڈنڈ لکھا ہے تب جوگی بولا مہاراج برہمن کو استری لڑکا اور جو کہ اپنے آسرے مین ہو اگر ان مین جس کسو سے کچھہ کھوٹا کام ہو تو انکے واسطے لِکھا ہے کہ دیس نکالا دیجئے یہ سنکے راجہ نے پدماوتی کو ڈولی مین سوار کروا ایک جنگل مین چھڑوا دیا پھر اپنے مکان سے راجکمار اور دیوان کا بیٹا دونون گھوڑون پر سوار ہو اس بن مین جا رانی پدماوتی کو ساتھ لے اپنے شہر کو چلے بعد چند روز کے دونون اپنے اپنے باپ کے پاس جا پہونچے تب چھوٹے بڑون کو خوشی نہایت ہوئی اور یہ باہم عیش کرنے لگے اتنی بات کہہ بیتال نے راجہ بیر بکرماجیت سے پوچھا ان چارون مین گناہ کِسکو ہوا ہے تم اس بات کا انصاف نہ کروگے تو تم نرک مین پڑوگے راجہ بکرم بولا اس راجہ کو گناہ ہوا بیتال نے کہا راجہ کو کس طرح سے پاپ ہوا بکرم نے یہ جواب دیا کہ دیوان کے بیٹے نے تو اپنے مالک کا کام کیا اور کوتوال نے راجہ کا حکم مانا اور راج کنیا نے اپنا مقصد حاصِل کیا اس سے یہ پاپ راجہ کو ہوا کہ بنا بچارے اسے دیس سے نِکال دیا اتنی بات راجہ کے منھ سے سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا {{rule}} {{center|'''<big>دوسری کہانی</big>'''}} {{rule}} راجہ دیکھے تو بتال نہین ہے پھر الٹا پھرا اور اس جگہ پہنچ درخت پر چڑھ مردے کو باندھ کاندھے پر رکھ کے لیچلا تب بیتال بولا کہ اے راجہ دوسری کتھا یون ہے کہ جمنا کے پاس دھرم استھل نام ایک نگر ہے جہان کا گنادہپ نام راجہ اور وہان کیشو رام برہمن ہے کہ وہ جمنا کے کنارے ریاضت کیا کرتا اور اسکی بیٹی کا نام مدھماوتی تھا وہ بڑی خوبصورت تھی جب بیاہنے کے قابل ہوئی تب اسکے مان باپ بھائی تینون اسکی شادی کی فکر مین تھے اتفاقاً ایک روز اسکا باپ کسی اپنے ججمان کے ساتھ شادی مین کہین گیا تھا اور بھائی اسکا ایک روز گاؤن گرو کے یہان پڑھنے گیا کہ پیچھے انکے گھر من ایک برہمن کا لڑکا آیا اسکی مان نے اس لڑکے کی صورت سیرت دیکھ کر کہا مین لڑکی کی شادی تجھ سے کرونگی اور وہان برہمن نے ایک اور برہمن کے لڑکے کو بیٹی دینی قبول کی اور اسکے بیٹے نے جہان پڑھنے کو گیا تھا وہان ایک برہمن سے بچن ہارا کہ اپنی بہن تجھے دونگا کتنے دنون کے پیچھے وے دونون ان دونون لڑکون کو ساتھ لے آئے اور یہان تیسرا لڑکا آگے سے بیٹھا تھا ایک نام نر بکرم دوسریکا نام بامن تیسریکا نام مدھسودن وے تینون خوبصورتی ہنر و علم مین برابر تھے ان کو دیکھ برہمن سوچنے لگا کہ ایک کنیا اور تین بر کِسے دون اور کِسے نہ دون اور ہم<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> snfkokrjfo6e8ckyiva10bsijg73ied صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/272 250 13180 34851 34836 2026-06-12T04:44:05Z Kaur.gurmel 74 34851 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>سکھین لاجواب ہو گیا ۔ اُسی وقت ہنومان کے ساتھ چل کھڑا ہوا۔ بڑھاپے کے باعث وُہ تیز نہ چل سکتا تھا۔ اس لئے ہنومان نے اُسے گود میں اٹھا لیا اور بھاگے ہوئے اپنی فوج میں آ پہنچے ۔ سکھین نے لکشمن کی نبض دیکھی، جسم دیکھا اور بولا ۔ ابھی بچنے کی اُمید ہے۔ سنجیونی بوٹی مِل جائے تو بچ سکتے ہیں ۔ مگر سورج نکلنے کے پہلے بوٹی یہاں آجانی چاہئے۔ ورنہ جان نہ بچیگی'. جامونت نے پوچھا ۔ سنجیونی بوٹی ملیگی کہاں ؟ سکھین بولا - اُتّر کی طرف ایک پہاڑ ہے ۔ وہیں یہ بوٹی ملگی'. بارہ گھنٹے کے اندر وہاں جانا اور بوٹی تلاش کر کے لانا آسان کام نہ تھا ۔ سب ایک دوسرے کا مُنہ تاکتے تھے ۔ کسی کی ہمت نہ پڑتی تھی کہ جانے کو تیار ہو ۔ آخر را مچندر نے ہنومان سے کہا ۔ دوست ! یہ مشکل تمہیں آسان کر سکتے<noinclude></noinclude> 6p8rl5pj7gzl0vngecxf0cquqii5d7d صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/273 250 13181 34856 32686 2026-06-12T07:50:23Z Sonia Atwal 220 34856 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>ہو۔ تمہارے سوا مجھے دوسرا کوئی نظر نہیں آتا ۔ ہنومان کو حکم ملنے کی دیر تھی ۔ سکھین سے بوٹی کا پتہ پوچھا اور آندھی کی طرح دوڑے کئی گھنٹوں م یں وہ اُس پہاڑ پر جا پہنچے مگر رات کے وقت بوٹی کی پہچان نہ ہو سکی ۔ بہت سی گھاس پات بھی ہوئی تھی ۔ ہنومان نے اُن سبھوں کو اُکھاڑ لیا اور اُلٹے قدم لوٹے ہے ادھر سب لوگ بیٹھے ہنومان کا انتظار کر تھے ۔ ایک ایک پل کا شمار کیا جا رہا تھا۔ اب ہنومان فلاں مقام پر پہنچے ہونگے۔ رہے. اب وہاں سے چلے ہونگے ۔ اب پہاڑ پر ہونگے ۔ اس طرح اندازہ کرتے کرتے تڑکا ہوگیا۔ پر ہنومان کا کہیں پتہ نہیں۔ رامچندر گھرانے لگے ۔ ایک گھنٹہ میں ہنومان نہ آگئے تو غضب ہو جائیگا ۔ کئی آدمی اُنہیں دیکھنے کے لئے چھوٹے ۔ کئی آدمی درختوں پر چڑھ کر انہ کی طرف نظریں دوڑانے لگے ۔ پہ ہنومان کا کہیں نشان نہیں!<noinclude></noinclude> 154x9p99wofnpd3fzsb0701qwsiatc8 34858 34856 2026-06-12T09:32:38Z Sonia Atwal 220 34858 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>ہو۔ تمہارے سوا مجھے دوسرا کوئی نظر نہیں آتا ۔ ہنومان کو حکم ملنے کی دیر تھی ۔ سکھین سے بوٹی کا پتہ پوچھا اور آندھی کی طرح دوڑے کئی گھنٹوں م یں وہ اُس پہاڑ پر جا پہنچے مگر رات کے وقت بوٹی کی پہچان نہ ہو سکی ۔ بہت سی گھاس پات بھی ہوئی تھی ۔ ہنومان نے اُن سبھوں کو اُکھاڑ لیا اور اُلٹے قدم لوٹے ہے ادھر سب لوگ بیٹھے ہنومان کا انتظار کر رہی تھے ۔ ایک ایک پل کا شمار کیا جا رہا تھا۔ اب ہنومان فلاں مقام پر پہنچے ہونگے۔ اب وہاں سے چلے ہونگے ۔ اب پہاڑ پر ہونگے ۔ اس طرح اندازہ کرتے کرتے تڑکا ہوگیا ۔ پر ہنومان کا کہیں پتہ نہیں۔ رامچندر گھرانے لگے ۔ ایک گھنٹہ میں ہنومان نہ آگئے تو غضب ہو جائیگا ۔ کئی آدمی اُنہیں دیکھنے کے لئے چھوٹے ۔ کئی آدمی درختوں پر چڑھ کر انہ کی طرف نظریں دوڑانے لگے ۔ پہ ہنومان کا کہیں نشان نہیں!<noinclude></noinclude> lq0q9tcj6k4xkxmcldaycepmza30nnb 34859 34858 2026-06-12T11:54:25Z Sonia Atwal 220 34859 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>ہو۔ تمہارے سوا مجھے دوسرا کوئی نظر نہیں آتا ۔ ہنومان کو حکم ملنے کی دیر تھی ۔ سکھین سے بوٹی کا پتہ پوچھا اور آندھی کی طرح دوڑے کئی گھنٹوں میں وہ اُس پہاڑ پر جا پہنچے مگر رات کے وقت بوٹی کی پہچان نہ ہو سکی ۔ بہت سی گھاس پات بھی ہوئی تھی ۔ ہنومان نے اُن سبھوں کو اُکھاڑ لیا اور اُلٹے قدم لوٹے ہے ادھر سب لوگ بیٹھے ہنومان کا انتظار کر رہی تھے ۔ ایک ایک پل کا شمار کیا جا رہا تھا۔ اب ہنومان فلاں مقام پر پہنچے ہونگے۔ اب وہاں سے چلے ہونگے ۔ اب پہاڑ پر ہونگے ۔ اس طرح اندازہ کرتے کرتے تڑکا ہوگیا ۔ پر ہنومان کا کہیں پتہ نہیں۔ رامچندر گھرانے لگے ۔ ایک گھنٹہ میں ہنومان نہ آگئے تو غضب ہو جائیگا ۔ کئی آدمی اُنہیں دیکھنے کے لئے چھوٹے ۔ کئی آدمی درختوں پر چڑھ کر انہ کی طرف نظریں دوڑانے لگے ۔ پہ ہنومان کا کہیں نشان نہیں!<noinclude></noinclude> 24vtw2ero30minuyn64xkz0xfd1fgrv صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/38 250 13203 34848 32758 2026-06-12T02:35:56Z Charan Gill 46 34848 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="2401:4900:46D8:F11E:BBFE:5838:54F6:7B00" /></noinclude>یاد آنه ہماری گونیت میں بہت کم تھا۔ سنکھاری فوج جو غالبا مرکب تھی تلنگوں سے اس میں اشراف لوگ نوکری کرنی معیوب سمجھتے تھے سواروں میں البتہ اشرافوں کی نوکری باقی تھی مگر وہ تعداد میں اس قدر قلیل تھی کہ انگلی سپاہ سوار سے اُس کو کچھ بھی نسبت نہ تھی علاوہ سرکا ری تو کری کے اگلے عہد کے صوبہ داروں اور سرداروں اور امیروں کے عج کے۔ تو کر ہوتے تھے کہ اُن کی تعداد بھی کچھ کر خیال کرنی نہیں چاہئے ۔ اب یہ بات ہماری گورنمنٹ میں نہیں ہے اس سبب سے رعایا کو حدس ۵ ان کے بیت گئے کہ زیادہ قلت روز گار تھی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب باغیوں نے لوگوں کو اینکه با شیعت تو کر رکھنا چاہا تہا ہے آدمی تو کری کو جمع ہوگئے اور جیسے بھو کا آدمی تحط یومیہ سیر پر ہو یا یہ جانے کے دنوں اناج پر گرتا ہے اسی طرح یہ لوگ نوکریوں پر جا گرے {{center|<poem>ملحد گرسنه در خانه خالی بر خوان عقل باور نکند کز رمضان اندیشد</poem>}} کرتا ہے بہت سے آدمی صرف آنہ ڈیڑھ آنہ یومیہ پر تو کر ہوئے تھے اور بہت سے آدمی بعوض یومیہ کے سیر ڈیرھ سیرا اناج پاتے تھے اس سے صفات ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان کی رعا یا جیسی نوکری کی خواہش مند تھی ویسی ہی مفلسی اور ناداری سے محتاج اور تنگ تھی ۔ ایک اور راہ تھی اگلی عملداریوں میں آسودگی رعایا کی یعنی جاگیر روسیه یراتی میشن اور انعام چھے سے ہندوستانی انعام اکرام جب شاہجہان تخت پر بیٹھا تو صرف بروز تخت نشینی مالا کے ہ زیادہ محتاج ہونا بیگہ زمین اور ایک سو میں گانوں جاگیر میں اور لاکھوں روپیہ انعام میں وئے یہ بات ہماری گورنمنٹ میں یک قلم مسدود تھی بلکہ پہلی جاگیریں بھی ضبط ہوگئی تھیں میں ضبطی کے سبب ہزار ہا آدمی نان شبینہ کو محتاج ہو گئے تھے ۔ زمینداروں کاشت کاروں کی مفلسی کا حال ہم پہلے بیان کر چکے اہل حرفہ کا روزگار سبب جاری اور رشیح ہونے اشیا تجارت ولایت کے بالکل جاتا رہا تھا یہاں تک کہ ہندوستان<noinclude></noinclude> fts0oubad2bh2iceng195l6i42u66ro 34849 34848 2026-06-12T02:42:01Z Charan Gill 46 34849 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="2401:4900:46D8:F11E:BBFE:5838:54F6:7B00" /></noinclude>یاد آنه ہماری گونیت میں بہت کم تھا۔ سنکھاری فوج جو غالبا مرکب تھی تلنگوں سے اس میں اشراف لوگ نوکری کرنی معیوب سمجھتے تھے سواروں میں البتہ اشرافوں کی نوکری باقی تھی مگر وہ تعداد میں اس قدر قلیل تھی کہ انگلی سپاہ سوار سے اُس کو کچھ بھی نسبت نہ تھی علاوہ سرکا ری تو کری کے اگلے عہد کے صوبہ داروں اور سرداروں اور امیروں کے عج کے۔ تو کر ہوتے تھے کہ اُن کی تعداد بھی کچھ کر خیال کرنی نہیں چاہئے ۔ اب یہ بات ہماری گورنمنٹ میں نہیں ہے اس سبب سے رعایا کو حدس ۵ ان کے بیت گئے کہ زیادہ قلت روز گار تھی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب باغیوں نے لوگوں کو اینکه با شیعت تو کر رکھنا چاہا تہا ہے آدمی تو کری کو جمع ہوگئے اور جیسے بھو کا آدمی تحط یومیہ سیر پر ہو یا یہ جانے کے دنوں اناج پر گرتا ہے اسی طرح یہ لوگ نوکریوں پر جا گرے ؎ {{center|<poem>ملحد گرسنه در خانه خالی بر خوان عقل باور نکند کز رمضان اندیشد</poem>}} بہت سے آدمی صرف آنہ ڈیڑھ آنہ یومیہ پر تو کر ہوئے تھے اور بہت سے آدمی بعوض یومیہ کے سیر ڈیرھ سیرا اناج پاتے تھے اس سے صفات ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان کی رعا یا جیسی نوکری کی خواہش مند تھی ویسی ہی مفلسی اور ناداری سے محتاج اور تنگ تھی . ایک اور راہ تھی اگلی عملداریوں میں آسودگی رعایا کی یعنی جاگیر روسیه یراتی میشن اور انعام چھے سے ہندوستانی انعام اکرام جب شاہجہان تخت پر بیٹھا تو صرف بروز تخت نشینی مالا کے ہ زیادہ محتاج ہونا بیگہ زمین اور ایک سو میں گانوں جاگیر میں اور لاکھوں روپیہ انعام میں وئے یہ بات ہماری گورنمنٹ میں یک قلم مسدود تھی بلکہ پہلی جاگیریں بھی ضبط ہوگئی تھیں میں ضبطی کے سبب ہزار ہا آدمی نان شبینہ کو محتاج ہو گئے تھے ۔ زمینداروں کاشت کاروں کی مفلسی کا حال ہم پہلے بیان کر چکے اہل حرفہ کا روزگار سبب جاری اور رشیح ہونے اشیا تجارت ولایت کے بالکل جاتا رہا تھا یہاں تک کہ ہندوستان<noinclude></noinclude> 6t66vtqddf290gk46ydaho1mx5681c2 34854 34849 2026-06-12T06:50:42Z Charan Gill 46 34854 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="2401:4900:46D8:F11E:BBFE:5838:54F6:7B00" /></noinclude>یاد آنه ہماری گونیت میں بہت کم تھا۔ سنکھاری فوج جو غالبا مرکب تھی تلنگوں سے اس میں اشراف لوگ نوکری کرنی معیوب سمجھتے تھے سواروں میں البتہ اشرافوں کی نوکری باقی تھی مگر وہ تعداد میں اس قدر قلیل تھی کہ انگلی سپاہ سوار سے اُس کو کچھ بھی نسبت نہ تھی علاوہ سرکا ری تو کری کے اگلے عہد کے صوبہ داروں اور سرداروں اور امیروں کے عج کے۔ تو کر ہوتے تھے کہ اُن کی تعداد بھی کچھ کر خیال کرنی نہیں چاہئے ۔ اب یہ بات ہماری گورنمنٹ میں نہیں ہے اس سبب سے رعایا کو حدس ۵ ان کے بیت گئے کہ زیادہ قلت روز گار تھی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب باغیوں نے لوگوں کو اینکه با شیعت تو کر رکھنا چاہا تہا ہے آدمی تو کری کو جمع ہوگئے اور جیسے بھو کا آدمی تحط یومیہ سیر پر ہو یا یہ جانے کے دنوں اناج پر گرتا ہے اسی طرح یہ لوگ نوکریوں پر جا گرے ؎ {{center|<poem>ملحد گرسنه در خانه خالی بر خوان عقل باور نکند کز رمضان اندیشد</poem>}} '''اسے مفلسی کے سبب لوگوں کا ایک آنہ یا ڈیڑھ آنہ یومیہ یا سیر بھر اناج پر باغیوںکی نوکری اختیار کرنا''' بہت سے آدمی صرف آنہ ڈیڑھ آنہ یومیہ پر تو کر ہوئے تھے اور بہت سے آدمی بعوض یومیہ کے سیر ڈیرھ سیرا اناج پاتے تھے اس سے صفات ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان کی رعا یا جیسی نوکری کی خواہش مند تھی ویسی ہی مفلسی اور ناداری سے محتاج اور تنگ تھی . ایک اور راہ تھی اگلی عملداریوں میں آسودگی رعایا کی یعنی جاگیر روسیه یراتی میشن اور انعام چھے سے ہندوستانی انعام اکرام جب شاہجہان تخت پر بیٹھا تو صرف بروز تخت نشینی مالا کے ہ زیادہ محتاج ہونا بیگہ زمین اور ایک سو میں گانوں جاگیر میں اور لاکھوں روپیہ انعام میں وئے یہ بات ہماری گورنمنٹ میں یک قلم مسدود تھی بلکہ پہلی جاگیریں بھی ضبط ہوگئی تھیں میں ضبطی کے سبب ہزار ہا آدمی نان شبینہ کو محتاج ہو گئے تھے ۔ زمینداروں کاشت کاروں کی مفلسی کا حال ہم پہلے بیان کر چکے اہل حرفہ کا روزگار سبب جاری اور رشیح ہونے اشیا تجارت ولایت کے بالکل جاتا رہا تھا یہاں تک کہ ہندوستان<noinclude></noinclude> c2ff2xkolj5p7qmvmiw4gwsw3i0jarb 34855 34854 2026-06-12T06:58:57Z Charan Gill 46 34855 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="2401:4900:46D8:F11E:BBFE:5838:54F6:7B00" /></noinclude>یاد آنه ہماری گونیت میں بہت کم تھا۔ سنکھاری فوج جو غالبا مرکب تھی تلنگوں سے اس میں اشراف لوگ نوکری کرنی معیوب سمجھتے تھے سواروں میں البتہ اشرافوں کی نوکری باقی تھی مگر وہ تعداد میں اس قدر قلیل تھی کہ انگلی سپاہ سوار سے اُس کو کچھ بھی نسبت نہ تھی علاوہ سرکا ری تو کری کے اگلے عہد کے صوبہ داروں اور سرداروں اور امیروں کے عج کے۔ تو کر ہوتے تھے کہ اُن کی تعداد بھی کچھ کر خیال کرنی نہیں چاہئے ۔ اب یہ بات ہماری گورنمنٹ میں نہیں ہے اس سبب سے رعایا کو حدس ۵ ان کے بیت گئے کہ زیادہ قلت روز گار تھی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب باغیوں نے لوگوں کو اینکه با شیعت تو کر رکھنا چاہا تہا ہے آدمی تو کری کو جمع ہوگئے اور جیسے بھو کا آدمی تحط یومیہ سیر پر ہو یا یہ جانے کے دنوں اناج پر گرتا ہے اسی طرح یہ لوگ نوکریوں پر جا گرے ؎ {{center|<poem>ملحد گرسنه در خانه خالی بر خوان عقل باور نکند کز رمضان اندیشد</poem>}} '''اسے مفلسی کے سبب لوگوں کا ایک آنہ یا ڈیڑھ آنہ یومیہ یا سیر بھر اناج پر باغیوںکی نوکری اختیار کرنا''' بہت سے آدمی صرف آنہ ڈیڑھ آنہ یومیہ پر نوکر ہوئے تھے اور بہت سے آدمی بعوض یومیہ کے سیر ڈیرھ سیر اناج پاتے تھے اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان کی رعایا جیسی نوکری کی خواہش مند تھی ویسی ہی مفلسی اور ناداری سے محتاج اور تنگ تھی . ایک اور راہ تھی اگلی عملداریوں میں آسودگی رعایا کی یعنی جاگیر روسیه یراتی میشن اور انعام چھے سے ہندوستانی انعام اکرام جب شاہجہان تخت پر بیٹھا تو صرف بروز تخت نشینی مالا کے ہ زیادہ محتاج ہونا بیگہ زمین اور ایک سو میں گانوں جاگیر میں اور لاکھوں روپیہ انعام میں وئے یہ بات ہماری گورنمنٹ میں یک قلم مسدود تھی بلکہ پہلی جاگیریں بھی ضبط ہوگئی تھیں میں ضبطی کے سبب ہزار ہا آدمی نان شبینہ کو محتاج ہو گئے تھے ۔ زمینداروں کاشت کاروں کی مفلسی کا حال ہم پہلے بیان کر چکے اہل حرفہ کا روزگار سبب جاری اور رشیح ہونے اشیا تجارت ولایت کے بالکل جاتا رہا تھا یہاں تک کہ ہندوستان<noinclude></noinclude> h0pvoliwxfvgwbrzshfpi2x8h4dv8z0 34857 34855 2026-06-12T09:12:19Z Charan Gill 46 34857 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="2401:4900:46D8:F11E:BBFE:5838:54F6:7B00" /></noinclude>یاد آنه ہماری گونیت میں بہت کم تھا۔ سنکھاری فوج جو غالبا مرکب تھی تلنگوں سے اس میں اشراف لوگ نوکری کرنی معیوب سمجھتے تھے سواروں میں البتہ اشرافوں کی نوکری باقی تھی مگر وہ تعداد میں اس قدر قلیل تھی کہ انگلی سپاہ سوار سے اُس کو کچھ بھی نسبت نہ تھی علاوہ سرکا ری تو کری کے اگلے عہد کے صوبہ داروں اور سرداروں اور امیروں کے عج کے۔ تو کر ہوتے تھے کہ اُن کی تعداد بھی کچھ کر خیال کرنی نہیں چاہئے ۔ اب یہ بات ہماری گورنمنٹ میں نہیں ہے اس سبب سے رعایا کو حدس ۵ ان کے بیت گئے کہ زیادہ قلت روز گار تھی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب باغیوں نے لوگوں کو اینکه با شیعت تو کر رکھنا چاہا تہا ہے آدمی تو کری کو جمع ہوگئے اور جیسے بھو کا آدمی تحط یومیہ سیر پر ہو یا یہ جانے کے دنوں اناج پر گرتا ہے اسی طرح یہ لوگ نوکریوں پر جا گرے ؎ {{center|<poem>ملحد گرسنه در خانه خالی بر خوان عقل باور نکند کز رمضان اندیشد</poem>}} '''اسے مفلسی کے سبب لوگوں کا ایک آنہ یا ڈیڑھ آنہ یومیہ یا سیر بھر اناج پر باغیوںکی نوکری اختیار کرنا''' بہت سے آدمی صرف آنہ ڈیڑھ آنہ یومیہ پر نوکر ہوئے تھے اور بہت سے آدمی بعوض یومیہ کے سیر ڈیرھ سیر اناج پاتے تھے اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان کی رعایا جیسی نوکری کی خواہش مند تھی ویسی ہی مفلسی اور ناداری سے محتاج اور تنگ تھی . '''خیراتی پنشن اور انعام ہونے سے ہندوستان کا زیادہ محتاج ہونا''' ایک اور راہ تھی اگلی عملداریوں میں آسودگی رعایا کی یعنی جاگیر روسیه یراتی میشن اور انعام چھے سے ہندوستانی انعام اکرام جب شاہجہان تخت پر بیٹھا تو صرف بروز تخت نشینی مالا کے ہ زیادہ محتاج ہونا بیگہ زمین اور ایک سو میں گانوں جاگیر میں اور لاکھوں روپیہ انعام میں وئے یہ بات ہماری گورنمنٹ میں یک قلم مسدود تھی بلکہ پہلی جاگیریں بھی ضبط ہوگئی تھیں میں ضبطی کے سبب ہزار ہا آدمی نان شبینہ کو محتاج ہو گئے تھے ۔ زمینداروں کاشت کاروں کی مفلسی کا حال ہم پہلے بیان کر چکے اہل حرفہ کا روزگار سبب جاری اور رشیح ہونے اشیا تجارت ولایت کے بالکل جاتا رہا تھا یہاں تک کہ ہندوستان<noinclude></noinclude> 73zkc1haqinja5mjc6wlxquxhods9mb