ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.7
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/18
250
12684
35105
31770
2026-06-22T04:13:32Z
Taranpreet Goswami
90
/* پروف خوانی شدہ */
35105
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|١٧|}}</noinclude>لڑکی نے اپنے گلے مین ایک کھرگ مارا تو جِسم سے گردن کٹ کر گر پڑی بیٹے بیٹی کو مردہ دیکھ بیربر کی عورت نے بھی طلوار اپنی گردن پر ماری کہ دھڑ سے سر جدا ہو گیا پھر اُن تیون کا مرنا دیکھ بیربر اپنے جی مین سوچ کر کہنے لگا جب لڑکے مر گئے تو نوکری کِسکے واسطے کرون گا اور سونا راجہ سے لیکر کِسے دون گا یہ سوچ کر ایک شمشیر ایسی اپنی گردن پر ماری کہ سر تن سے جُدا ہو گیا پھر اُن چارون کا مرنا دیکھ راجہ نے اپنے دل مین کہا کہ میرے واسطے اسکی جان گئی اب ایسے راج کرنے کو لعنت ہو کہ جس راج کے لئے ایک خانداُن کا ناس ہو وے اور ایک راج کرے ایسا راج کرنا دھرم نہی ہے یہ بچار کر راجہ نے چاہا کہ کھانڈا مار کر مر جاوُن اتنے مین دیبی نے آکے ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ بیٹا مجھے تیری ہمت سے خوشی ہوئی جو تو مجھ سے بر مانگے سو مین دون راجہ نے کہا ماتا جو تو خوش ہوئی ہے تو اِن چارون کو جلا دے دیبی نے کہا یہی ہوگا اور یہ کہتے ہی بھوانی نے پاتال سے امرت لا کر چارون کو جلا دیا بعد اسکے راجہ نے اپنا آدھا راج بیربر کو بانٹ دیا اتنی بات کہکر بیتال بولا
شاباش ہے اس نوکر کو کہ جس نے مالک کے لیے اپنے جیو اور کٹمب کا دریغ نہ کیا اور دھن ہے اس راجہ کو جسنے راج اور اپنے جی کا لالچ نہ کیا راجہ مین تم سے پوچھتا ہون کہ ان پانچون مین کس کا کام بڑھ کر ہوا تب راجہ بکرماجیت بولا کہ راجہ کا کام بہت بڑھکر ہوا بیتال بالا کِس کارن تب راجہ نے جواب دیا کہ مالک کے واسطے جی دینا چاکر کو لازم ہے کیونکہ اسکا یہی دھرم ہے لیکن راجہ نے جو چاکر کے لیے راج پاٹ چھوڑ جان کو تنکے برابر نہ جانا اس باعث راجہ کا ست سوا ہوا اتنی بات سُن بیتال اسی درخت مین جا لٹکا راجہ پھر وہان جا بتیال کو باندھکر لیچلا
<big>چوتھی کہانی</big>
تب بیتال بولا کہ اے راجہ بھوگوتی نام ایک نگری ہے وہان
کا راجہ روپ سین ہے اور چورامن نام ایک طوطا اسکے پاس ہے ایک دن اس طوطے سے راجہ نے پوچھا تو کیا کیا جانتا ہے تب طوطا بولا کہ مہاراج مین سب کچھ جانتا ہون راجہ نے کہا جو تو جانتا ہے تو بتا کہ میری برابر خوبصورت عورت کہان ہے تب اس طوطے نے کہا مہاراج مگدھ دیس صوبہ بہار نام من مگدعیشر نام راجہ ہے اور اکسی بیٹی کا نام چندراوتی ہی تمھاری شادی اسکے ساتھ ہوگی وہ بڑی خوبصورت ہے اور بہت پڑھی لکھی ہے راجہ نے طوطے سے یہ بات سنکر ایک چندر کرانت نام جوتشی کو بلاکر پوچھا کہ ہمارا بیاہ کِس کنیا سے ہوگا اس نے بھی اپنے نجوم منو معلوم کر کے کہا چندراوتی نام ایک کنیا ہے اسکے ساتھ تمھاری شادی ہوگی یہ بات سنکر راجہ نے ایک برہمن کو
بلوا سب کچھ سمجھا راجہ مگرھیشر کے پاس بھیجنے کے وقت یہ کہا کہ اگر ہمارے بیاہ کی بات پکی کر آؤگے تو ہم تمھین خوش کر دینگے یہ بات سنکر یرہمین رخصت ہوا وہان مگدھیشر راجہ کی بیٹی کے پاس ایک میںا تھی اسکا نام
(2)<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
l0i52jgi8rrym7druf5p4b6tt2zvfq8
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/285
250
13707
35103
35102
2026-06-21T13:40:10Z
Jinder77
234
35103
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Block center|٢٧٩
}}
تھا۔ آخر اُس نے موقع پا کر ایک تیر ایسا چلایا کہ لکشمن بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔ دوسرا تیر رامچندر پر پڑا ۔ وہ بھی گِھر پڑے ۔ راون نے فوراً تلوار نکالی اور چاہتا تھا کہ رامچندر کو قتل کر دے کہ ہنومان نے لپک کر اُس کے سینہ میں ایک گدا اتنے زور سے ماری کہ وہ سنبھل نہ سکا ۔ اس کا گرنا تھا کہ رام اور لکشمن اُٹھ بیٹھے ۔ راون بھی ہوش میں آگیا ۔ پھر لڑائی ہونے لگی ۔ آخر رامچندر کا ایک تیر راون کے سینہ میں ترازو ہو گیا ۔ خون کی دھار یہ نکلی اُس کی آنکھیں بند ہو گئیں ۔ رتھ بان نے سمجھا راون کا کام تمام ہو گیا ۔ رتھ کو میدان سے بھگا کر شہر کی طرف چلا ۔ راستہ میں راون کو ہوش آ گیا ۔ رتھ کو شہر کی طرف جاتے دیکھ کر غصہ سے آگ ہو گیا ۔ اُسی وقت رتھ کو میدان کی طرف لے چلنے کا حکم دیا ۔ اتفاق سے اسی وقت بھھیشن سامنے آگیا ۔ راون نے اُسے<noinclude></noinclude>
eea3w0kgper790gi9yaxs89tidq9w9f
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/52
250
13717
35106
34956
2026-06-22T05:24:06Z
BalramBodhi
60
35106
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۰}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
کہ اب ہمارے اس قصُور اتفاقیہ یا مجبورانہ یا جاہلانہ سے سرکار درگزر نہیں کرنے کی اور سزا دیگی اس خوف اور ڈر سے لاچار باغیوں کے ساتھ جا شامل ہوئے بہت سے آدمیوں نے در حقیقت کچھ نہیں کیا تھا مگر خوف اور بہ سبب اور خیالات چند در چند باغیوں میں مل گئے بہت لوگوں نے اس زمانہ میں وہ باتیں کیں جن باتوں کو وہ لوگ اپنے ذہن اور اپنی سمجھ میں جرمِ مخالف سرکار نہیں سمجھتے اگر تمام ہندوستان کے حالات بغاوت پر نظر کی جاویگی تو ہم کو یقین ہے کہ دونو فومیں جو ہندوستان میں بستی ہیں برابر بلکہ ایک سے زیادہ ایک اور ایک سے زیادہ ایک اس فساد میں مفسد نظر پڑیگی اور اُس کے اثبات پر تمام حالاتِ ہندوستان کے گواہ موجود ہیں۔ مگر جن اضلاع میں مسلمان زیادہ تر مفسد دکھائی دئے اس کا سبب صرف یہی نہیں خیال کرنا چاہئے کہ دلّی کی سلطنت پر مسلمان بادشاہ نے دعوےٰ کیا تھا اور درحقیقت مسلمان اُسی قدر مفسد ہوئے تھے جیسا کہ نظر پڑے نہیں حکام کا مزاج دفعتاً اُن باتوں سے جو ظاہر میں مسلمانوں سے ہوئیں ناراض ہو گیا اُن کے مخالفوں کو بڑی گنجایش مل گئی خود غرضانہ باتیں پیش کرنے کو تھوڑی بات کو بہت بڑھا کر کہا ادھر حکام کو زیادہ ناراضی ہوئی اُدھر مسلمانوں کو زیادہ تر خوف اور مایوسی ہوئی اور اپنی تقدیر سے جتنے تھے اُس سے زیادہ مفسد دکھائی دئے اس میں کچھ شک نہیں کہ پانچویں قسم کی بغاوت مسلمانوں میں بہت تھی اور وہ تبدلِ عملداری کے خیال سے بہت خوش ہوتے تھے جس کا سبب ہر ایک مقام ہم بیان کرتے آئے ہیں با این ہمہ ہماری گورنمنٹ پر مخفی نہ ہوگا کہ اس حال پر بھی جاں بازی کی خیرخواہیاں اس ہنگامہ میں کس سے زیادہ ظہور میں آئی ہیں خدا کے آگے جس کو حقیقی بادشاہت ہے اور دنیا کے بادشاہوں کے آگے جن کو مجازی سلطنت خداوند نے عطا کی ہے سب گنہگار ہیں سچ فرمایا داؤد مقدس علیہ السلام نے کہ اے خداوند اپنے بندے سے حساب
</div>
</div>
{{Float right|زبور ۱۴۳ درس ۲}}</br>
{{Float right|زبور ٥۱}}</br>
{{Float right|درس ۱ و ۲}}<noinclude></noinclude>
gllu39sfbei07ysz3axsdpjwjwmgvgj
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/53
250
13718
35107
34957
2026-06-22T05:48:44Z
BalramBodhi
60
35107
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۱}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
نہ لے کیونکہ کوئی جاندار تیرے حضور بیگناہ ٹھیر نہیں سکتا اے خدا اپنے کامل کرم سے مجھ پر رحم کر اور اپنے رحموں کی فراوانی سے میرے گناہ مٹا دے مجھے میری برائی سے خوب دھو اور مجھے میرے گناہ سے پاک کر آمین خدا ہمیشہ ہماری ملکہ معظمہ وکٹوریا کا حافظ ہے میں بیان نہیں کر سکتا خوبی اُس پُر رحم اشتہار کی جو ہماری ملکہ معظمہ نے جاری کیا بیشک ہماری ملکہ معظمہ کے سر پر خدا کا ہاتھ ہے۔ بیشک یہ پُر رحم اشتہار الہام سے جاری ہوا ہے ہندوستان کا بہت قدیم قاعدہ چلا آیا ہے۔ کہ جب دارالسلطنت پر کوئی بادشاہ خواہ ازروےِ استحقاق اور خواہ بغیر استحقاق کے قائم ہوا سب سردار ملکوں کے اُس کی طرف رجوع کرتے تھے اس ہنگامہ میں بھی یہی ہوا کہ جب دِلّی کا بادشاہ تخت پر بیٹھا اور ملکوں میں خبر پہنچی کہ دِلّی کے بادشاہ نے تخت سنبھالا۔ سب نے بادشاہ کی طرف رجوع کی جب کہ دِلّی کا بادشاہ پکڑا گیا اور وہ دارالسلطنت ہماری گورنمنٹ کے قبضہ میں آیا سب کو یقین تھا کہ جملہ مفسد جنہوں نے سر اُٹھایا ہے اطاعت کرینگے شاید فوج باغی کے لوگ رہجاتے رہجاتے مگر یہ امر جو ظہور میں نہ آیا اس کا سبب لکھنا ہم اپنی اس رائے میں ضرور نہیں سمجھتے.
{{center|{{xx-larger|ا'''اصل پنجم'''}}}}
{{center|بدانتظامی اور بے اہتمامی فوج}}
{{gap}}ہماری گورنمنٹ کا انتظام فوج ہمیشہ قابلِ اعتراض کے تھا فوج انگلشیہ کی کمی ہمیشہ اعتراض کی جگہ تھی۔ جب کہ نادر شاہ نے خاسان پر فتح پائی اور ایران اور افغانستان دو مختلف ملک اُس کے قبضہ میں آئے اُس نے برابر کی دو فوجیں آراستہ کیں ایک ایرانی قجلباسی دوسری افغانی جب ایرانی فوج کچھ عدول حکمی کا ارادہ کرتی تو افغانی فوج اُس کے
</div>
</div>
{{Float right|ملکہ معظمہ کا اشتہار}}</br>
{{Float right|نہایت قابلِ تعریف}}</br>
{{Float right|کے ہے بلکہ خدا کے الہام}}</br>
{{Float right|سے جاری ہوا ہے}}</br>
{{Float right|پنجم بدانتظامی و بےاہتمامی}}</br>
{{Float right|فوج}}</br>
{{Float right|فوج انگلشیہ کی کمی}}<noinclude></noinclude>
4di74h92oalzf3lfafa3hbuhp7kpqrb
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/286
250
13752
35104
35004
2026-06-21T13:44:22Z
Jinder77
234
35104
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>{{Block center|٢٨٠}}
ہی بھالے سے وار کیا ۔ چاہتا تھا ۔ کہ
اُس کی دغا بازی کی سزا دے دے۔ مگر لکشمن
نے ایک تیر چلا کر بھالے کو کاٹ ڈالا ۔ بھبھیشن کی جان بچ گئی ۔ اب کی راون نے اگن بان چھوڑنے شروع کئے ۔ ان تیروں سے آگ کے شعلے نکلتے تھے ۔ رامچندر کی فوج میں ھلبلی پر گئی ۔ مگر راون کے سینہ میں جو زخم لگا تھا اُس سے وہ ہر لمحہ کمزور ہوتا جاتا تھا ۔ یہاں تک کہ اُس کے ہاتھ سے کمان چھوٹ کر گر پڑا ۔ اس وقت رامچندر رامچندر نے کہا ۔ راجہ راون - اب تو تمہیں معلوم ہو گیا کہ ہم لوگ اتنے کمزور نہیں ہیں جتنا تم سمجھتے تھے ۔ تمہارا سارا خاندان تمہاری ۔ حماقت کا شکار ہو گیا ۔ کیا اب بھی تمہاری آنکھیں نہیں کھلیں ۔ اب بھی اگر تم اپنی شرارت سے بانہ آؤ تو ہم تمہیں معاف کر دینگے.
{{gap}}که اون نے سنبھل کر کمان اُٹھا لی اور بولا- کیا تم سمجھتے ہو کہ کمبھ کرن اور میگھنا د کے<noinclude></noinclude>
07oiqh4i79msjm520gy5kb4qx0ipyzi
35108
35104
2026-06-22T10:30:51Z
Jinder77
234
35108
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>{{Block center|٢٨٠}}
دیکھتے ہی بھالے سے وار کیا ۔ چاہتا تھا ۔ کہ اُس کی دغابازی کی سزا دے دے۔ مگر لکشمن
نے ایک تیر چلا کر بھالے کو کاٹ ڈالا ۔ بھبھیشن کی جان بچ گئی ۔ اب کی راون نے اگن بان چھوڑنے شروع کئے ۔ ان تیروں سے آگ کے شعلے نکلتے تھے ۔ رامچندر کی فوج میں کھلبلی پڑ گئی ۔ مگر راون کے سینہ میں جو زخم لگا تھا اُس سے وہ ہر لمحہ کمزور ہوتا جاتا تھا ۔ یہاں تک کہ اُس کے ہاتھ سے کمان چھوٹ کر گر پڑا ۔ اس وقت رامچندر نے کہا ۔ راجہ راون - اب تو تمہیں معلوم ہو گیا کہ ہم لوگ اتنے کمزور نہیں ہیں جتنا تم سمجھتے تھے ۔ تمہارا سارا خاندان تمہاری حماقت کا شکار ہو گیا ۔ کیا اب بھی تمہاری آنکھیں نہیں کھلیں ۔ اب بھی اگر تم اپنی شرارت سے باز آؤ تو ہم تمہیں معاف کر دینگے.
{{gap}}راون نے سنبھل کر کمان اُٹھا لی اور بولا- کیا تم سمجھتے ہو کہ کمبھ کرن اور میگھناد کے<noinclude></noinclude>
1gyh2mqo40r48eupnn8khn4lig77ewu
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/287
250
13753
35109
35005
2026-06-22T10:34:42Z
Jinder77
234
35109
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>{{Block center|٢٨١}}
مارے جانے سے میں ڈر گیا ہوں ۔ راون کو
اپنی ہمت اور قوت کا بھروسہ ہے ۔ وہ دوسروں
کے بل پر نہیں لڑتا ۔ دلیروں کی اولاد لڑائی
میں مرنے کے سوا اور ہوتی ہی کس لئے ہے۔
اب سنبھل جاؤ ۔ میں پھر وار کرتا ہوں.
{{gap}}مگر یہ محض گیدڑ بھبکی تھی ۔ امچندر نے جو تیر مارا تو وہ پھر راون کے سینہ میں
لگا ۔ ایک زخم پہلے لگ چکا تھا ۔ اس دوسرے
زخم نے خاتمہ کر دیا ۔ ساون رتھ کے نیچے گر پڑا ۔ اور تڑپ تڑپ کر جان دے دی ۔ ظالم تھا ۔ بے انصاف تھا ۔ کمینہ تھا ۔ مگر دلیر بھی تھا مرتے وقت بھی کمان اُس کے ہاتھ میں تھی.
{{gap}}راون کو رتھ کے نیچے گرتے دیکھ بھھیشن دوڑ کر اُس کے پاس آگیا ۔ دیکھا تو وہ دم توڑ رہا تھا ۔ اس وقت بھائی کے خون نے جوش مارا ۔ بھھیشن راون کی خون آلود لاش
سے لپٹ کر زار زار رونے لگا ۔ اتنے میں
-<noinclude></noinclude>
74ox55e2f2nauprkukgchepkdrs29xb