ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.7
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/18
250
12684
35117
35105
2026-06-23T10:23:31Z
Taranpreet Goswami
90
35117
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|١٧|}}</noinclude>لڑکی نے اپنے گلے مین ایک کھرگ مارا تو جِسم سے گردن کٹ کر گر پڑی بیٹے بیٹی کو مردہ دیکھ بیربر کی عورت نے بھی طلوار اپنی گردن پر ماری کہ دھڑ سے سر جدا ہو گیا پھر اُن تیون کا مرنا دیکھ بیربر اپنے جی مین سوچ کر کہنے لگا جب لڑکے مر گئے تو نوکری کِسکے واسطے کرون گا اور سونا راجہ سے لیکر کِسے دون گا یہ سوچ کر ایک شمشیر ایسی اپنی گردن پر ماری کہ سر تن سے جُدا ہو گیا پھر اُن چارون کا مرنا دیکھ راجہ نے اپنے دل مین کہا کہ میرے واسطے اسکی جان گئی اب ایسے راج کرنے کو لعنت ہو کہ جس راج کے لئے ایک خانداُن کا ناس ہو وے اور ایک راج کرے ایسا راج کرنا دھرم نہی ہے یہ بچار کر راجہ نے چاہا کہ کھانڈا مار کر مر جاوُن اتنے مین دیبی نے آکے ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ بیٹا مجھے تیری ہمت سے خوشی ہوئی جو تو مجھ سے بر مانگے سو مین دون راجہ نے کہا ماتا جو تو خوش ہوئی ہے تو اِن چارون کو جلا دے دیبی نے کہا یہی ہوگا اور یہ کہتے ہی بھوانی نے پاتال سے امرت لا کر چارون کو جلا دیا بعد اسکے راجہ نے اپنا آدھا راج بیربر کو بانٹ دیا اتنی بات کہکر بیتال بولا
شاباش ہے اس نوکر کو کہ جس نے مالک کے لیے اپنے جیو اور کٹمب کا دریغ نہ کیا اور دھن ہے اس راجہ کو جسنے راج اور اپنے جی کا لالچ نہ کیا راجہ مین تم سے پوچھتا ہون کہ ان پانچون مین کس کا کام بڑھ کر ہوا تب راجہ بکرماجیت بولا کہ راجہ کا کام بہت بڑھکر ہوا بیتال بالا کِس کارن تب راجہ نے جواب دیا کہ مالک کے واسطے جی دینا چاکر کو لازم ہے کیونکہ اسکا یہی دھرم ہے لیکن راجہ نے جو چاکر کے لیے راج پاٹ چھوڑ جان کو تنکے برابر نہ جانا اس باعث راجہ کا ست سوا ہوا اتنی بات سُن بیتال اسی درخت مین جا لٹکا راجہ پھر وہان جا بتیال کو باندھکر لیچلا
{{center|
<big>چوتھی کہانی</big>}}
تب بیتال بولا کہ اے راجہ بھوگوتی نام ایک نگری ہے وہان
کا راجہ روپ سین ہے اور چورامن نام ایک طوطا اسکے پاس ہے ایک دن اس طوطے سے راجہ نے پوچھا تو کیا کیا جانتا ہے تب طوطا بولا کہ مہاراج مین سب کچھ جانتا ہون راجہ نے کہا جو تو جانتا ہے تو بتا کہ میری برابر خوبصورت عورت کہان ہے تب اس طوطے نے کہا مہاراج مگدھ دیس صوبہ بہار نام من مگدعیشر نام راجہ ہے اور اکسی بیٹی کا نام چندراوتی ہی تمھاری شادی اسکے ساتھ ہوگی وہ بڑی خوبصورت ہے اور بہت پڑھی لکھی ہے راجہ نے طوطے سے یہ بات سنکر ایک چندر کرانت نام جوتشی کو بلاکر پوچھا کہ ہمارا بیاہ کِس کنیا سے ہوگا اس نے بھی اپنے نجوم منو معلوم کر کے کہا چندراوتی نام ایک کنیا ہے اسکے ساتھ تمھاری شادی ہوگی یہ بات سنکر راجہ نے ایک برہمن کو
بلوا سب کچھ سمجھا راجہ مگرھیشر کے پاس بھیجنے کے وقت یہ کہا کہ اگر ہمارے بیاہ کی بات پکی کر آؤگے تو ہم تمھین خوش کر دینگے یہ بات سنکر یرہمین رخصت ہوا وہان مگدھیشر راجہ کی بیٹی کے پاس ایک میںا تھی اسکا نام
(2)<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
hxmilk8eyx9jhnk18uodw2h7wdrp3dh
35118
35117
2026-06-23T11:39:18Z
Taranpreet Goswami
90
35118
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|١٧|}}</noinclude>لڑکی نے اپنے گلے مین ایک کھرگ مارا تو جِسم سے گردن کٹ کر گر پڑی بیٹے بیٹی کو مردہ دیکھ بیربر کی عورت نے بھی طلوار اپنی گردن پر ماری کہ دھڑ سے سر جدا ہو گیا پھر اُن تیون کا مرنا دیکھ بیربر اپنے جی مین سوچ کر کہنے لگا جب لڑکے مر گئے تو نوکری کِسکے واسطے کرون گا اور سونا راجہ سے لیکر کِسے دون گا یہ سوچ کر ایک شمشیر ایسی اپنی گردن پر ماری کہ سر تن سے جُدا ہو گیا پھر اُن چارون کا مرنا دیکھ راجہ نے اپنے دل مین کہا کہ میرے واسطے اسکی جان گئی اب ایسے راج کرنے کو لعنت ہو کہ جس راج کے لئے ایک خانداُن کا ناس ہو وے اور ایک راج کرے ایسا راج کرنا دھرم نہی ہے یہ بچار کر راجہ نے چاہا کہ کھانڈا مار کر مر جاوُن اتنے مین دیبی نے آکے ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ بیٹا مجھے تیری ہمت سے خوشی ہوئی جو تو مجھ سے بر مانگے سو مین دون راجہ نے کہا ماتا جو تو خوش ہوئی ہے تو اِن چارون کو جلا دے دیبی نے کہا یہی ہوگا اور یہ کہتے ہی بھوانی نے پاتال سے امرت لا کر چارون کو جلا دیا بعد اسکے راجہ نے اپنا آدھا راج بیربر کو بانٹ دیا اتنی بات کہکر بیتال بولا
شاباش ہے اس نوکر کو کہ جس نے مالک کے لیے اپنے جیو اور کٹمب کا دریغ نہ کیا اور دھن ہے اس راجہ کو جسنے راج اور اپنے جی کا لالچ نہ کیا راجہ مین تم سے پوچھتا ہون کہ ان پانچون مین کس کا کام بڑھ کر ہوا تب راجہ بکرماجیت بولا کہ راجہ کا کام بہت بڑھکر ہوا بیتال بالا کِس کارن تب راجہ نے جواب دیا کہ مالک کے واسطے جی دینا چاکر کو لازم ہے کیونکہ اسکا یہی دھرم ہے لیکن راجہ نے جو چاکر کے لیے راج پاٹ چھوڑ جان کو تنکے برابر نہ جانا اس باعث راجہ کا ست سوا ہوا اتنی بات سُن بیتال اسی درخت مین جا لٹکا راجہ پھر وہان جا بتیال کو باندھکر لیچلا
{{center|
<big>'''چوتھی کہانی'''</big>}}
تب بیتال بولا کہ اے راجہ بھوگوتی نام ایک نگری ہے وہان
کا راجہ روپ سین ہے اور چورامن نام ایک طوطا اسکے پاس ہے ایک دن اس طوطے سے راجہ نے پوچھا تو کیا کیا جانتا ہے تب طوطا بولا کہ مہاراج مین سب کچھ جانتا ہون راجہ نے کہا جو تو جانتا ہے تو بتا کہ میری برابر خوبصورت عورت کہان ہے تب اس طوطے نے کہا مہاراج مگدھ دیس صوبہ بہار نام من مگدعیشر نام راجہ ہے اور اکسی بیٹی کا نام چندراوتی ہی تمھاری شادی اسکے ساتھ ہوگی وہ بڑی خوبصورت ہے اور بہت پڑھی لکھی ہے راجہ نے طوطے سے یہ بات سنکر ایک چندر کرانت نام جوتشی کو بلاکر پوچھا کہ ہمارا بیاہ کِس کنیا سے ہوگا اس نے بھی اپنے نجوم منو معلوم کر کے کہا چندراوتی نام ایک کنیا ہے اسکے ساتھ تمھاری شادی ہوگی یہ بات سنکر راجہ نے ایک برہمن کو
بلوا سب کچھ سمجھا راجہ مگرھیشر کے پاس بھیجنے کے وقت یہ کہا کہ اگر ہمارے بیاہ کی بات پکی کر آؤگے تو ہم تمھین خوش کر دینگے یہ بات سنکر یرہمین رخصت ہوا وہان مگدھیشر راجہ کی بیٹی کے پاس ایک میںا تھی اسکا نام<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
9idhf3y47luy8u4qcqd3y01nfwojhi6
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/280
250
13702
35113
35065
2026-06-23T08:00:17Z
Kaur.gurmel
74
35113
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Block center|٢٧٤}}
ہو جائے ۔ ذرا دیکھ لو کہ شیر زخمی ہو کر کتنا خونخوار ہو جاتا ہے ۔ بڑے بھائی صاحب کا مقابلہ تو تمہارے باپ ہی سے ہوگا'.
{{gap}}دونو دلاوروں نے تیر چلانے شروع کر دئے۔ گھن گھن، تن تن کی آوازیں آنے لگیں میگھناد پہلے تو غالب آیا ۔ لکشمن کو اس کے واروں کا کاٹنا مُشکل پڑ گیا ۔ مگر جوں جوں وقت گُزرتا گیا لکشمن سنبھلتے گئے ۔ اور میگھناد کمزور پڑتا جاتا تھا ۔ یہاں تک کہ لکشمن اُس پر غالب آ گئے اور ایک تیر اُس کی گردن پر ایسا مارا کہ اُس کا سر کٹ کر الگ جا گرا.
میگھناد کے گرتے ہی راکشسوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ۔ بھگدر پڑ گئی ۔ راوں نے یہ خبر سُنی تو اُس کے مُنہ سے ٹھنڈی آہ نکل گئی ۔ آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا ۔ انتقام کے جوش سے پاگل ہو گیا ۔ رام اور لکشمن تو اُس کے قابو سے باہر تھے ۔ سیتاجی کو قتل<noinclude></noinclude>
r6yoifhvsr925bywv8kpeuued69aspo
35114
35113
2026-06-23T08:01:17Z
Kaur.gurmel
74
/* پروف خوانی شدہ */
35114
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>{{Block center|٢٧٤}}
ہو جائے ۔ ذرا دیکھ لو کہ شیر زخمی ہو کر کتنا خونخوار ہو جاتا ہے ۔ بڑے بھائی صاحب کا مقابلہ تو تمہارے باپ ہی سے ہوگا'.
{{gap}}دونو دلاوروں نے تیر چلانے شروع کر دئے۔ گھن گھن، تن تن کی آوازیں آنے لگیں میگھناد پہلے تو غالب آیا ۔ لکشمن کو اس کے واروں کا کاٹنا مُشکل پڑ گیا ۔ مگر جوں جوں وقت گُزرتا گیا لکشمن سنبھلتے گئے ۔ اور میگھناد کمزور پڑتا جاتا تھا ۔ یہاں تک کہ لکشمن اُس پر غالب آ گئے اور ایک تیر اُس کی گردن پر ایسا مارا کہ اُس کا سر کٹ کر الگ جا گرا.
میگھناد کے گرتے ہی راکشسوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ۔ بھگدر پڑ گئی ۔ راوں نے یہ خبر سُنی تو اُس کے مُنہ سے ٹھنڈی آہ نکل گئی ۔ آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا ۔ انتقام کے جوش سے پاگل ہو گیا ۔ رام اور لکشمن تو اُس کے قابو سے باہر تھے ۔ سیتاجی کو قتل<noinclude></noinclude>
owmkccbggs4m6uqfewbxoc6hllawbus
35115
35114
2026-06-23T08:19:36Z
Kaur.gurmel
74
35115
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" />{{Block center|٢٧٤}}</noinclude>ہو جائے ۔ ذرا دیکھ لو کہ شیر زخمی ہو کر کتنا خونخوار ہو جاتا ہے ۔ بڑے بھائی صاحب کا مقابلہ تو تمہارے باپ ہی سے ہوگا'.
{{gap}}دونو دلاوروں نے تیر چلانے شروع کر دئے۔ گھن گھن، تن تن کی آوازیں آنے لگیں میگھناد پہلے تو غالب آیا ۔ لکشمن کو اس کے واروں کا کاٹنا مُشکل پڑ گیا ۔ مگر جوں جوں وقت گُزرتا گیا لکشمن سنبھلتے گئے ۔ اور میگھناد کمزور پڑتا جاتا تھا ۔ یہاں تک کہ لکشمن اُس پر غالب آ گئے اور ایک تیر اُس کی گردن پر ایسا مارا کہ اُس کا سر کٹ کر الگ جا گرا.
{{gap}}میگھناد کے گرتے ہی راکشسوں کے ہاتھ پاؤں پھُول گئے ۔ بھگدر پڑ گئی ۔ راوں نے یہ خبر سُنی تو اُس کے مُنہ سے ٹھنڈی آہ نکل گئی ۔ آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا ۔ انتقام کے جوش سے پاگل ہو گیا ۔ رام اور لکشمن تو اُس کے قابو سے باہر تھے ۔ سیتاجی کو قتل<noinclude></noinclude>
tidinuub2jlw5cioxl6ht22fv92e0op
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/281
250
13703
35116
35070
2026-06-23T08:24:41Z
Kaur.gurmel
74
35116
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{Block center|٢٧٥}}</noinclude>کر ڈالنے کے لئے تیار ہو گیا ۔ تلوار لے کر دوڑتا ہوا اشوک باٹکا میں پہنچا ۔ سیتا جی نے اُس کے ہاتھ میں ننگی تلوار دیکھی تو سہم اٹھیں۔ مگر راون کا وزیر بڑا دانا تھا ۔ وہ بھی اُس کے پیچھے پیچھے دوڑتا چلا گیا تھا ۔ راون کو ایک بیکس کی جان لینے پر آمادہ دیکھ کر بولا ۔ مہاراج - گستاخی معاف ہو ، عورت پر ہاتھ اُٹھانا آپ کی شان کے خلاف ہے ۔ آپ ویدوں کے عالم ہیں ۔ ہمت اور دلاوری میں آج دُنیا میں آپ کا ہمسر نہیں ۔ اپنے رُتبے اور علم کا خیال کیجئے اور اس فعل سے باز آئیے ان باتوں نے راون کا غصُہ ٹھنڈا کر دیا ۔ تلوار میان میں رکھ لی ۔ اور لوٹ آیا .
{{gap}}اُسی وقت میگھناد کی عصمت مآب بیوی سلوچنا نے آکر کہا ۔ 'مہاراج - اب میں زندہ رہ کر کیا کرونگی ۔ میرے پتی کا سر منگوا دیجئے ۔ اُسے لے کر ستی ہو جاؤنگی .<noinclude></noinclude>
t17k5tiiy5gpimq8ts503h81uom1luv
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/54
250
13719
35110
34958
2026-06-23T05:10:52Z
BalramBodhi
60
35110
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۲}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
دبانے کو موجود تھی اور جب افغانی فوج سرتابی کرتی تو قزلباشی اُس کے تدارک کو موجود ہوتی۔ ہماری گورنمنٹ نے یہ کام ہندوستان میں نہیں کیا ہم نے مانا کہ ہندوستانی فوج سرکار کی بڑی تابعدار اور خیر خواہ اور جاں نثار تھی مگر یہ کہاں سے عہد ہو گیا تھا کہ کبھی اِس فوج کی خلافِ مرضی حکم نہ ہوگا اور کسی حکم سے یہ فوج آزردہ خاطر نہ ہوگی پھر در صورتِ ناراض ہونےاس فوج کے جیسا کہ ہوا کیا راہ رکھتی تھی ہماری گورنمنٹ نے جس سے اُس تمردی کا رفع فی الفور ہو سکتا +</br>
{{gap}}یہ بات سچ ہے کہ ہماری گورنمنٹ نے ہندو مسلمان دونوں قوموں کو جو آپس میں مخالف ہیں نوکر رکھا تھا مگر بہ سبب مخلوط ہو جانے ان دونوں قوموں کے ہر ایک پلٹن میں یہ تفرقہ نہ رہا تھا ظاہر ہے کہ ایک پلٹن کےجتنے نوکر ہیں اُن میں بہ سبب ایک جگہ رہنے کے اور ایک لڑی میں مرتبہ ہونے کے آپس میں اتحاد اور ارتباط برادرانہ ہوتا جاتا تھا ایک پلٹن کے سپاہی اپنے آپ کو ایک برادری سمجھتے تھے اور اسی سبب سےہندو مسلمان کی تمیز نہ تھی دونوں قومیں آپس میں اپنے آپ کو بھائی سمجھتی تھیں اُس پلٹن کے آدمی جو کچھ کرتے تھے سب اُس میں شریک ہو جاتے تھے ایک دوسرے کے حامی اور مددگار ہو جاتا تھا اگر اُنہی دونوں قوموں کی پلٹن اِس طرح پر آراستہ ہوتیں کہ ایک پلٹن نری ہندوؤں کی ہوتی۔جس میں کوئی مسلمان نہ ہوتا اور ایک پلٹن نری مسلمانوں کی ہوتی جس میں کوئی ہندو نہ ہوتا تو یہ آپس کا اتحاد اور برادری نہ ہونے پاتی اور
وہی تفرقہ قائم رہتا اور میں خیال کرتا ہوں کہ شاید مسلمان پلٹنوں کو کارتوس جدید کاٹنے میں بھی کچھ عذر نہ ہوتا +</br>
{{gap}}فوجِ انگلشیہ کے کم ہونے سے رعایا کو بھی کچھ خوف تھا وہ حشرہندوستانی ہی فوج کا تھا علاوہ اس کےہندوستانی فوج کو بھی یہ تنہاغرور تھا وہ اپنے سوا کسی کو نہیں دیکھتے تھے فوج انگلشیہ کی کچھ حقیقت نہیں
</div>
</div>
{{Float right|مسلمانوں اور}}</br>
{{Float right|ہندوؤں کو مخلوط}}</br>
{{Float right|کر کے پلٹنوں میں}}</br>
{{Float right|نوکر رکھنا}}</br>
{{Float right|اگر مسلمانوں کی جدا}}</br>
{{Float right|پلٹن ہوتی تو شاید}}</br>
{{Float right|مسلمانوں کو کارتوس}}</br>
{{Float right|کاٹنے میں عذر نہ ہوتا}}<noinclude></noinclude>
assok7t8jlhf9hf5xipqbkiol1pak4o
35111
35110
2026-06-23T05:30:32Z
BalramBodhi
60
35111
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۲}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
دبانے کو موجود تھی اور جب افغانی فوج سرتابی کرتی تو قزلباشی اُس کے تدارک کو موجود ہوتی۔ ہماری گورنمنٹ نے یہ کام ہندوستان میں نہیں کیا ہم نے مانا کہ ہندوستانی فوج سرکار کی بڑی تابعدار اور خیر خواہ اور جاں نثار تھی مگر یہ کہاں سے عہد ہو گیا تھا کہ کبھی اِس فوج کی خلافِ مرضی حکم نہ ہوگا اور کسی حکم سے یہ فوج آزردہ خاطر نہ ہوگی پھر در صورتِ ناراض ہونےاس فوج کے جیسا کہ ہوا کیا راہ رکھتی تھی ہماری گورنمنٹ نے جس سے اُس تمردی کا رفع دفع فی الفور ہو سکتا.
{{gap}}یہ بات سچ ہے کہ ہماری گورنمنٹ نے ہندو مسلمان دونوں قوموں کو جو آپس میں مخالف ہیں نوکر رکھا تھا مگر بہ سبب مخلوط ہو جانے ان دونوں قوموں کے ہر ایک پلٹن میں یہ تفرقہ نہ رہا تھا ظاہر ہے کہ ایک پلٹن کے جتنے نوکر ہیں اُن میں بہ سبب ایک جہ رہنے کے اور ایک لڑی میں مرتب ہونے کے آپس میں اتحاد اور ارتباط برادرانہ ہوتا جاتا تھا ایک پلٹن کے سپاہی اپنے آپ کو ایک برادری سمجھتے تھے اور اسی سبب سے ہندو مسلمان کی تمیز نہ تھی دونوں قومیں آپس میں اپنے آپ کو بھائی سمجھتی تھیں اُس پلٹن کے آدمی جو کچھ کرتے تھے سب اُس میں شریک ہو جاتے تھے ایک دوسرے کا حامی اور مددگار ہو جاتا تھا اگر اُنہی دونوں قوموں کی پلٹن اِس طرح پر آراستہ ہوتیں کہ ایک پلٹن نری ہندوؤں کی ہوتی۔ جس میں کوئی مسلمان نہ ہوتا اور ایک پلٹن نری مسلمانوں کی ہوتی جس میں کوئی ہندو نہ ہوتا تو یہ آپس کا اتحاد اور برادری نہ ہونے پاتی اور
وہی تفرقہ قائم رہتا اور میں خیال کرتا ہوں کہ شاید مسلمان پلٹنوں کو کارتوس جدید کاٹنے میں بھی کچھ عذر نہ ہوتا.
{{gap}}فوجِ انگلشیہ کے کم ہونے سے رعایا کو بھی جو کُچھ خوف تھا وہ صرف ہندوستانی ہی فوج کا تھا علاوہ اس کے ہندوستانی فوج کو بھی بے انتہا غرور تھا وہ اپنے سوا کسی کو نہیں دیکھتے تھے فوج انگلشیہ کی کچھ حقیقت نہیں
</div>
</div>
{{Float right|مسلمانوں اور}}</br>
{{Float right|ہندوؤں کو مخلوط}}</br>
{{Float right|کر کے پلٹنوں میں}}</br>
{{Float right|نوکر رکھنا}}</br>
{{Float right|اگر مسلمانوں کی جدا}}</br>
{{Float right|پلٹن ہوتی تو شاید}}</br>
{{Float right|مسلمانوں کو کارتوس}}</br>
{{Float right|کاٹنے میں عذر نہ ہوتا}}<noinclude></noinclude>
2kpbfhfz2nj2h05zle3smnxr7f8vjwi
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/55
250
13720
35112
34959
2026-06-23T05:54:49Z
BalramBodhi
60
35112
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۳}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
سمجھتے تھے تمام ہندوستان کی فتوحات صرف اپنی تلوار کے زور سے جانتے تھے اُن کا یہ قول تھا کہ برہما سے لے کر کابل تک ہم نے سرکار کو فتح کر دیا ہے علیٰ الخصوص پنجاب کی فتح کے بعد ہندوستانی فوج کا غرور بہت زیادہ ہو گیا تھا اب ان کے غرور نے یہاں تک نوبت پہنچائی تھی کہ ادنےٰ ادنےٰ بات پر تکرار کرنے پر مستعد تھے۔ میں خیال کرتا ہوں کہ فوج کے غرور اور تکبر کی یہاں نوبت پہنچی تھی کہ کچھ عجب نہ تھا کہ وہ کھچ اور مقام پر بھی تکرار کرنے لگتی.
{{gap}}ایسے وقت میں کہ جب فوج کا یہ حال تھا اور اُن کے سر غرور و تکبر سے بھرے ہوئے تھے اور دل میں یہ جانتے تھے کہ جس بات پر ہم اڑینگے اور تکرار کرینگے خواہ نخواہ سرکار کو ماننا پڑیگا اُن کو نئے کارتوس دئے گئے جس میں وہ یقین سمجھتے تھے کہ چربی کا میل ہے اور اس کے استعمال سے ہمارا دھرم جاتا رہیگا انہوں نے اس کے کاٹنے سے انکار کیا۔ جب بارک پور کی پلٹن اس جرم میں موقوف ہو گئی اور حکم سُنایا گیا تو تمام فوج نہایت رنجیدہ ہوئی۔ کیونکہ وہ یوں سمجھتے تھے کہ بہ سبب تخلل مذہب کے بارک پور کی پلٹن کا کچھ قصور نہ تھا وہ محض بے قصور اور صرف سرکار کی نا انصافی سے موقوف ہوئی ہے تمام فوج نہایت رنجیدہ تھی کہ ہم نے سرکار کے ساتھ رفاقتیں کیں اپنے سر کٹائے سرکار کو ملک در ملک فتح کر دئے اور سرکار ہمارے مذہب لینے کے در پے ہوئی اور واجبی بات پر موقوف کر دیا اُس وقت کچھ فساد نہ ہوا۔ کیونکہ فوج پر بجز موقوفی کے اور کچھ جبر نہ ہوا تھا۔ مگر تمام فوج کے دل میں کچھ تو بہ سبب یقین ہونے چربی کارتوس میں اور کچھ بہ سبب رنج موقوفی پلٹن بارک پور کے اور سب سے زیادہ بہ سبب غرور اور خود بینی اور اس خیال سے کہ جو کچھ ہیں ہمیں ہیں مصمم ارادہ ہو گیا کہ ہم میں سے کوئی بھی کارتوس نہیں کاٹنے کا اس میں کچھ ہی ہو جائے بلا شبہ بجد واقعہ بارک پور آپس میں فوجوں کی خط و کتابت ہوئی پیغام آئے کے کارتوس
</div>
</div>
{{Float right|فوج ہندوستانی}}</br>
{{Float right|کا نہایت مغرور}}</br>
{{Float right|ہو جانا اور اُس کے}}</br>
{{Float right|سبب}}</br>
{{Float right|جنوری ۱۸۵۷ء}}</br>
{{Float right|کے بعد فوج میں سلح}}</br>
{{Float right|اور پیغام ہونے}}</br>
{{Float right کے|کارتوس کاٹنے کے}}<noinclude></noinclude>
f88c8f9jugolebjlam29jhspe4gjyft