ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.8 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/56 250 13721 35119 34960 2026-06-24T05:25:19Z BalramBodhi 60 35119 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۴}} <div style="border:1px solid #000; padding:3px;"> <div style="border:1px solid #000; padding:1em;"> جدید کو کوئی نہ کاٹے ابتک تمام فوج کے دِل میں ناراضی اور غصہ تو ہے مگر میری رائے میں ابھی تک کچھ فاسد ارادہ نہیں. {{gap}}دفعتاً تقدیر سے کمبخت مئی ۱۸۵۷ء کی آگئی میرٹھ میں سپاہ کو بہت سخت سزا دی گئی جس کو ہر ایک عقلمند بہت بُرا اور ناپسند جانتا ہے اِس سزا کا رنج جو کچھ فوج کے دِل پر گذرا بیان سے باہر ہے وہ اپنی تمغنوں کو یاد کرتے تھے اور بجائے اُس کے بیڑیوں اور ہتھکڑیوں کو پہنے ہوئے دیکھ کر روتے تھے وہ اپنی وفاداریوں کا خیال کرتے تھے اور پھر اُس کے صلہ میں جو ان کو انعام ملا تھا دیکھتے تھے اور علاوہ اُس کے اُن کا بے انتہا غرور جو اُن کے سر میں تھا اور جس کے سبب وہ اپنے تئیں ایک بہت ہی بڑا سمجھتے تھے اُن کو زیادہ رنج دیتا تھا۔ پھر سب فوج مقیم میرٹھ کو یقین ہو گیا کہ یا ہم کو کارتوس کاٹنا پڑیگا یا یہی دن نصیب ہوگا اُسی رنج اور غصہ کیحالت میں دسویں مئی کو فوج سے وہ حرکت سرزد ہوئی کہ شاید اُس کا نظیر بھی کسی تاریخ میں نہیں ملنے کا اُس فوج کو کیا چارہ رہا تھا اس حرکت کے بعد بجز اس کے کہ جہاں تک ہو سکے مفسدے پورے کرے . {{gap}}جہاں جہاں فوج میں یہ خبر پہنچی تمام فوج زیادہ تر رنجیدہ ہوئی میرٹھ کی فوج سے جو حرکت ہوئی تھی اُس سے تمام ہندوستانی فوج نے یقین جان لیا تھا کہ اب سرکار کو ہندوستانی فوج کا اعتبار نہ رہا سرکار وقت پا کر سب کو سزا دیگی اور اُس سبب سے تمام فوج کو اپنے افسروں کے فعل اور قول کا اعتبار اور اعتماد نہ تھا۔ سب آپس میں کہتے تھے کہ اِس وقت تو یہ ایسی باتیں ہیں جب وقت نکل جاویگا تو یہ سب آنکھیں بدل لینگے۔ میں بہت معتبر بات کہتا ہوں کہ دلّی میں جو فوج باغی جمع تھی اُس میں سے ہزاروں آدمیوں کو اس بیجا حرکت اور بیفائدہ بغاوت کا رنج تھا وہ روتے اور کہتے تھے کہ ہماری قسمت نے یہ کام ہم سے کروایا پھر بہت افسوس سے کہتے تھے کہ اگر ہم نہ کرتے تو کیا کرتے ایک نہ ایک دن سرکار ہم کو تباہ </div> </div> {{Float right|میرٹھ میں سزاے}}</br> {{Float right|نامناسب کا ہونا اور}}</br> {{Float right|بہ سبب رنج اور غرور کے}}</br> {{Float right|فوج کی سرکشی کرنا}}</br> {{Float right|بعد فساد میرٹھ کے}}</br> {{Float right|فوج کو گورنمنٹ کا}}</br> {{Float right|اعتبار نہ رہنا}}<noinclude></noinclude> iqjdi8t98narcfa6neeeafyacvaim5u صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/57 250 13722 35120 34961 2026-06-24T05:45:30Z BalramBodhi 60 35120 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۵}} <div style="border:1px solid #000; padding:3px;"> <div style="border:1px solid #000; padding:1em;"> کردیتی۔ کیونکہ سرکار کو اب ہندوستانی فوج پر اعتماد نہیں رہا تھا وہ قابو کا وقت جب پاتے ہم کو تباہ کرد یتے۔ ابتدائے غدر میں جب کہ ہنڑن پر فوج کشی کا ارادہ ہوا ہے ہنوز فوج روانہ نہ ہوئی تھی کہ بعضے آدمیوں کی صاف رائے تھی کہ جس وقت دلّی پر فوج سے لڑائی شروع ہوئی بلا شبہ تمام ہندوستانی فوج بگڑ جاویگی۔ چنانچہ یہی ہوا سبب اِس کا یہی تھا کہ فوج سے لڑائی شروع ہونے کے بعد ممکن نہ تھا کہ باقی فوج سرکار سے مطمئن رہتی وہ ضرور سمجھتے تھے کہ جب ہمارے بھائی بندوں کو مار لینگے تب ہم پر متوجہ ہونگے۔ اِس لئے سب نے فساد پر کمر باندھ لی اور بگڑتے گئے جن کے دل میں فساد نہ تھا وہ بھی بہ سبب شامل ہونے فوج کے اُس جتھے سے الگ نہ ہو سکے۔ ہندوستانی رعایا جانتی تھی کہ سرکار کے پاس جو کچھ ہے وہ ہندوستانی فوج ہے جب تمام فوج کا بگڑنا مشہور ہو گیا۔ سب نے سر اُٹھایا عملداری کا ڈر دلوں سے جاتا رہا اور سب جگہ فساد برپا ہو گیا. {{gap}}اب ہماری اس رائے کو پنجاب کے حالات پر تولو پنجاب کے مسلمان بہت ستم رسیدہ تھے سکھوں کے ہاتھ سے سرکاری عملداری سے اُن کا چنداں نقصان نہ ہوا تھا سرکار نے پنجاب میں ابتدائے عملداری میں بہت تشدّد کیا تھا اور اب دن بدن رفاہ کرتی جاتی تھی۔ برخلاف ہندوستان کے کہ یہاں معاملہ بالعکس تھا۔ ابتدائے عملداری میں تمام ملک کے ہتھیار لئے گئے کسی کو قابو فساد کا نہ رہا تھا۔ اگرچہ وہ تمول سکھوں کو جو پہلے تھا نہ رہا تھا مگر اُن کا کمایا ہوا روپیہ جو اُن کے پاس جمع تھا ابھی خرچ نہ ہو چکا تھا اور وہ مفلسی جو ہندوستان میں تھی وہاں ابھی نہیں آئی تھی اس کے سوا تین سبب اور بہت قوی تھے جو پنجاب نہ بگڑا :۔ </div> </div> {{Float right|پنجاب میں سرکشی}}</br> {{Float right|نہ ہونے کا سبب}}<noinclude></noinclude> 17x2dy2lxy1uyie7sdulp67oo3rycr3 صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/58 250 13723 35121 34963 2026-06-24T05:55:24Z BalramBodhi 60 35121 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۶}} <div style="border:1px solid #000; padding:3px;"> <div style="border:1px solid #000; padding:1em;"> {{gap}}اول یہ کہ فوج انگلشیہ وہاں موجود تھی. {{gap}}دوسرے یہ کہ وہاں کے حکام کی ہوشیاری سے دفعتاً بے خبری میں ہندوستانی فوج کے ہتھیار لے لئے گئے۔ بہ سبب طغیانی اور کثرت سے واقع ہونے دریاؤں اور بند ہو جانے گھاٹوں کے ہندوستانی فوج بے قابو ہو گئی فوج کا فساد برپا نہ ہو سکا۔ ؎ {{gap}}تیسرے یہ کہ تمام سکھ اور پنجابی اور پٹھان جن سے احتمال فساد تھا سرکار میں نوکر ہو گئے اور لوٹ کا لالچ اُس پر مزید تھا جو بات رعایائے ہندوستان اور روزگار پیشہ کو باغیوں کے ہاں بمُشکل اور بزلت حاصل ہوتی تھی وہ اہل پنجاب کو سرکار کے ہاں بعزت و بلا دقت نصیب تھا پھر حالات پنجاب کے ہندوستان کے حالات سے بالکل مخالف تھے.{{nop}} </div> </div><noinclude></noinclude> ss81jpqmwsyd8ofusb1u5qelwhphume