ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.8 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/282 250 13704 35131 35075 2026-06-24T15:04:27Z Kaur.gurmel 74 35131 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>{{Block center|۲۷۶}} راون نے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا۔ 'بیٹی ۔ تیرے پتی کا سر تجھے اُسی وقت مِلیگا جب میں دونو بھائیوں کا سر کاٹ لُونگا ۔ صبر کر. {{gap}}سلوچنا اپنی ساس مندودری کے پاس آئی ۔ دونو ساس بہو وہیں گلے مِل کر خوب روئیں ۔ تب سلوچنا بولی - 'ماتا جی ۔ میں اب اناتھ ہو گئی ۔ میرے پتی کا سر منگوا دیجئے تو ستی ہو جاؤں ۔ اب جی کہ کیا کرونگی ۔ جہاں سوامی ہیں وہیں میں بھی جاؤنگی ۔ یہ جدائی اب مجھ سے نہیں سہی جاتی،. {{gap}}مندودری نے بہو کو پیار کر کے کہا ۔ 'بیٹی اگر تم نے یہی فیصلہ کیا ہے تو مُبارک ہو۔ میگھناد کا سر اور تو کسی طرح نہ ملیگا ۔ تم خود جا کر مانگو تو البتہ مِل سکتا ہے ۔ رامچندر بڑے نیک آدمی ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ تمہارے سوال کو رد نہ کرینگے'.<noinclude></noinclude> esba44dbc08y75rgt8ulpf59bbc3nje 35135 35131 2026-06-25T08:34:56Z Kaur.gurmel 74 35135 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>{{Block center|۲۷۶}} راون نے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا۔ 'بیٹی ۔ تیرے پتی کا سر تجھے اُسی وقت مِلیگا جب میں دونو بھائیوں کا سر کاٹ لُونگا ۔ صبر کر. {{gap}}سلوچنا اپنی ساس مندودری کے پاس آئی ۔ دونو ساس بہو وہیں گلے مِل کر خوب روئیں ۔ تب سلوچنا بولی - 'ماتا جی ۔ میں اب اناتھ ہو گئی ۔ میرے پتی کا سر منگوا دیجئے تو ستی ہو جاؤں ۔ اب جی کہ کیا کرونگی ۔ جہاں سوامی ہیں وہیں میں بھی جاؤنگی ۔ یہ جدائی اب مجھ سے نہیں سہی جاتی،. {{gap}}مندودری نے بہو کو پیار کر کے کہا ۔ 'بیٹی اگر تم نے یہی فیصلہ کیا ہے تو مُبارک ہو۔ میگھناد کا سر اور تو کسی طرح نہ ملیگا ۔ تم خود جا کر مانگو تو البتہ مِل سکتا ہے ۔ رامچندر بڑے نیک آدمی ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ تمہارے سوال کو رد نہ کرینگے'.{{nop}}<noinclude></noinclude> 694qlr9nxql89hs9mbbvj7aq1q6yu59 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/283 250 13705 35134 35094 2026-06-25T08:34:16Z Kaur.gurmel 74 35134 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{Block center|٢٧٧}}</noinclude>{{gap}}سلوچنا اُسی وقت راج محل سے نِکل کر رامچندر کی فوج میں آئی ۔ اُور رامچندر کے روبرو جاکر بولی' مہاراج - ایک اناتھ بدھوا آپ سے ایک درخواست کرنے آئی ہے ۔ اُسے قبول کیجۓ ۔ میرے پتی ویہ میگھناد کا سر مجھے دے دیجئے ۔ {{gap}} رامچندر نے فوراً میگھناد کا سر سلوچنا کو دلوا دیا ۔ اور اُس کے تھوڑی ہی دیر بعد سلوچنا ستی ہو گئی ۔ چتا کی لپٹ آسمان تک پہنچی۔ کسی نے سلوچنا کو جاتے نہ دیکھا ۔ پر وہ بہشت میں داخل ہو گئی ؟ {{Block center|'''(۵) راون میدان میں'''}} {{gap}}رات بھر تو راون غم اور غصہ سے جلتا رہا ۔ صبح ہوتے ہی میدان کی طرف چلا ۔ لنکا کی ساری فوج اُس کے ساتھ تھی ۔ آج لڑائی کا فیصلہ ہو جائیگا ۔ اس لئے دونو طرف کے لوگ اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لئے تیار<noinclude></noinclude> 0meutxp11sprg2rrtg4datq9zeriz2h 35136 35134 2026-06-25T08:38:42Z Kaur.gurmel 74 35136 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{Block center|٢٧٧}}</noinclude>{{gap}}سلوچنا اُسی وقت راج محل سے نِکل کر رامچندر کی فوج میں آئی ۔ اَور رامچندر کے روبرو جاکر بولی' مہاراج - ایک اناتھ بدھوا آپ سے ایک درخواست کرنے آئی ہے ۔ اُسے قبول کیجۓ ۔ میرے پتی ویہ میگھناد کا سر مجھے دے دیجئے ۔ {{gap}} رامچندر نے فوراً میگھناد کا سر سلوچنا کو دلوا دِیا ۔ اور اُس کے تھوڑی ہی دیر بعد سلوچنا ستی ہو گئی ۔ چتا کی لپٹ آسمان تک پہنچی۔ کسی نے سلوچنا کو جاتے نہ دیکھا ۔ پر وہ بہشت میں داخل ہو گئی ؟ {{Block center|'''(۵) راون میدان میں'''}} {{gap}}رات بھر تو راون غم اور غصہ سے جلتا رہا ۔ صبح ہوتے ہی میدان کی طرف چلا ۔ لنکا کی ساری فوج اُس کے ساتھ تھی ۔ آج لڑائی کا فیصلہ ہو جائیگا ۔ اس لئے دونو طرف کے لوگ اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لئے تیار<noinclude></noinclude> ia5t8wo5k6hi6sowibsno2xew26chw2 صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/59 250 13724 35132 34964 2026-06-25T06:18:48Z BalramBodhi 60 35132 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۷}} <div style="border:1px solid #000; padding:3px;"> <div style="border:1px solid #000; padding:1em;"> {{center|{{xx-larger|نقل اشتہار}}}}</br> {{gap}}دریں نزدیک بسمع مبارک نواب معلّٰی القاب لفٹنٹ گورنر بہادر بنگال چنان رسیده کہ بعضے اشخاص ازراه تعصب و نادانی محض برائے حیرانی و پریشانی جمہور خلائق چند سخنان بے اصل و نالائق متعلق بمذہب و ملت و رسم و طریقت ہندو و مسلماناں چناں مشہور و اعلان کردہ اند کہ باستماعِ خطرات پر خطر در دل مردماں جا کردہ جناب نواب لفٹنٹ گورنر بہادر رابسیار حیرت و حسرت است کہ سکنہایس ملک حقیقت حال را دریافت نہ کردہ صرف با فساد مفسدان چرا خود را زیر بار تشویش میکنند لاجرم بذریعہ اشتہار عام حقیقت نفس الامری اختراعات کہ بگوش حقیقت نیوش نواب معتشم الیہ در آمدہ مشتہر کردہ می شود تاکافہ انام بر حقیقت حال و ارسند و بہیقین معلوم نمایند کہ سرکار بہادر را نوعے در ملت و مذہب و طریق و رسم و راہِ رعایا مداخلت و مزاحمت نیست و آئندہ را نیز نخواہد بود بلکہ حفاظت جان و مال و عزت و حرمت ایناں پیش نہاد است و مساعی جمیلہ در \نیباب\ بکار مے آید و آمدنی است. {{gap}}اوّل اینکہ بعضے پادریاں کلکتہ بطریق طریقہ و وظیفہ معمولی خود افراد سوال دربارہ مذہب و ملت بطریق مناظرہ و مباحثہ چاپ کردہ ملفوف بلفا فہا عموماً پیش ہندوستانیاں فرستادہ و آنها از غلط فہمی خودانگاشتند کہ آنچناں مضامین باشارہ سرکار ابد پائدار بظہور رسیدہ حالانکہ سرکار بہادر را ازاں ہیچگونہ اطلاعے و آگاہی نیست و نیز ہرگز و ہر آئینہ شان سرکار عالی اقتدار چناں نبودہ کہ ترغیب و تحریص کسے از رعایا بسوئے ملت و دین خود فرماید چہ ظاہر است کہ رعایائے ایں ملک ہر قسم محرمِ اند و ملت و مذہب و کیش و آئین جداگانہ میدارند و رقبہ ایشاں تحت ربقہ اقتدار سرکار والا اقتدار است و نظر لطف و کرم برحال آںہا </div> </div><noinclude></noinclude> rdeqs5t0behp3bytluxhvg0m7qgq996 صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/60 250 13725 35133 34966 2026-06-25T07:19:45Z BalramBodhi 60 35133 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۸}} <div style="border:1px solid #000; padding:3px;"> <div style="border:1px solid #000; padding:1em;"> مساوی و یکسان است با وجود امتداد مدت سلطنت سرکار ابد پائدار ہیچ و قتے مزاحمت تعرض کیش و ملت کدامی اہل اسلام و دیگر مذہب بعمل نیامده و پادری صاحباں ایں قسم امور از طرف خود اجرا میکنند و انہیں گویا لوازمہ عادات معمولی شاں است چنانکہ مسلمانان و ہندوآن در مساجد معابد و عظ و نصائح می کنند و اظہار و ابرازِامورات شرعی و ترغیبِ یطاعت و اجتناب از نواحی می سازند و اگر تامل کردہ شود صاف واضح شود کہ ایں معنی سخنے نو و امرے جدید نیست بلکہ طریق مناظرہ و مباحثہ درمیان علمائے مختلف الذا ہب ہموارہ جاری است و از ہمچو امورات سرکار بہادر رایچ علاقہ نیست . {{gap}}دوم ایں کہ بعض اخبار اخبار کردہ و در عوام نیز شہرت یافتہ است کہ بالفعل از طرف سرکار آنچنان قوانین جاری شدنی ست کہ ازاں رسم تعزیہ داری و مراسمِ فتنہ و پردہ نشینی زنان شرفا وغیرہ احکامات شرع و شاستر بر افتد و یکسر موقوف گرد و حالانکہ اینہم غلط است و افتراے محض سرکار بہادر اور راہ و رسم و کیش و مذہبِ کدامی کس دست اندازی منظور نیست بلکہ انمیعنی بر خلاف طریقہ و رعیت پروری کہ سجیہ مرضیہ سرکار بہادر است بودہ است. {{gap}}سیوم ایں کہ صاحب سپرنڈنٹ جہانی نہ بعضے اضلاع بلا اطلاع و واقفیت سرکار والا اقتدار حکم سنیدہ گرفتن ظروف اکل و شرب از قیدیاں بخیال و تصور تفرقہ و امتیاز در مصایب قید و راحت خانہ صادر کردہ بُود لیکن سرکار بہادر را معلوم گردید کہ ایں امر نقصانے است در مذہب آںاں و از لاعلمی مہتمم جہلخانہ آنچنان حکم صادر گردیدہ علی الفور رببیلڈاک برقی حکمِ محکم موقوفی آں صادر گشت. </br> {{gap}}چہارم ایں کہ بسمع معدلت مجتمع در آمد کہ سکنہ ایں مملکت بناے اسکول و اسباب علوم و تحصیلِ فنون و ترویج زبان انگریزی را اسباب تبدیل </div> </div><noinclude></noinclude> jhypgo7yypbgbq0xnm24raqrrq01o0f صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/287 250 13753 35122 35109 2026-06-24T12:14:19Z Jinder77 234 35122 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>{{Block center|٢٨١}} مارے جانے سے میں ڈر گیا ہوں ۔ راون کو اپنی ہمت اور قوت کا بھروسہ ہے ۔ وہ دوسروں کے بل پر نہیں لڑتا ۔ دلیروں کی اولاد لڑائی میں مرنے کے سوا اور ہوتی ہی کس لئے ہے۔ اب سنبھل جاؤ ۔ میں پھر وار کرتا ہوں. {{gap}}مگر یہ محض گیدڑ بھبکی تھی ۔ رامچندر نے جو تیر مارا تو وہ پھر راون کے سینہ میں لگا ۔ ایک زخم پہلے لگ چکا تھا ۔ اس دوسرے زخم نے خاتمہ کر دیا ۔ راون رتھ کے نیچے گر پڑا ۔ اور تڑپ تڑپ کر جان دے دی ۔ ظالم تھا ۔ بےانصاف تھا ۔ کمینہ تھا ۔ مگر دلیر بھی تھا مرتے وقت بھی کمان اُس کے ہاتھ میں تھی. {{gap}}راون کو رتھ کے نیچے گرتے دیکھ بھبھیشن دوڑ کر اُس کے پاس آگیا ۔ دیکھا تو وہ دم توڑ رہا تھا ۔ اس وقت بھائی کے خون نے جوش مارا ۔ بھبھیشن راون کی خون آلود لاش سے لپٹ کر زار زار رونے لگا ۔ اتنے میں -<noinclude></noinclude> fkpldl1404q9d39n1satxqkhlncl31e صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/288 250 13754 35123 35006 2026-06-24T12:20:15Z Jinder77 234 35123 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>{{Block center|٢٨٢}} راون کی رانی مندو دری اور دوسری رانیاں بھی آکر ماتم کرنے لگیں ۔ رامچندر نے انہیں سمجھا کر رخصت کیا ۔ سپاہیوں نے چاہا کہ چل کر لنکا کو ٹو میں ، مگر رامچندر نے انہیں منع کیا۔ ہارے ہوئے دشمن کے ساتھ وہ کسی قسم کی زیادتی نہیں کرنی چاہتے تھے . {{center|<big>'''(٦) بھبھیشن کی تاجپوشی'''</big>}} {{gap}}ایک دن وہ تھا کہ بھبھیشن ذلیل ہو کر روتا ہوا نکلا تھا ۔ آج وہ فتحمند اور سرخرو ہو کہ لنکا میں داخل ہوا ۔ سامنے سواروں کا ایک دستہ تھا ۔ طرح طرح کے باجے بج رہے تھے ۔ بھھیشن ایک خوبصورت رتھ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ لکشمن بھی اُن کے ساتھ تھے ۔ فوج کے نامی سورما اپنے اپنے رکھوں پر شان سے بیٹھے ہوئے چلے جا رہے تھے ۔ آج بھھیشن کا باقاعدہ راج تیلک ہوگا نہ وہ<noinclude></noinclude> nf6epbbnlha338uh8c37dj5if7m9wpf 35124 35123 2026-06-24T12:56:55Z Jinder77 234 35124 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>{{Block center|٢٨٢}} راون کی رانی مندودری اور دوسری رانیاں بھی آکر ماتم کرنے لگیں ۔ رامچندر نے انہیں سمجھا کر رُخصت کیا ۔ سپاہیوں نے چاہا کہ چل کر لنکا کو لوٹیں ، مگر رامچندر نے انہیں منع کیا۔ ہارے ہوئے دشمن کے ساتھ وہ کسی قسم کی زیادتی نہیں کرنی چاہتے تھے . {{center|<big>'''(٦) بھبھیشن کی تاجپوشی'''</big>}} {{gap}}ایک دن وہ تھا کہ بھبھیشن ذلیل ہو کر روتا ہوا نکلا تھا ۔ آج وہ فتحمند اور سرخرو ہو کہ لنکا میں داخل ہوا ۔ سامنے سواروں کا ایک دستہ تھا ۔ طرح طرح کے باجے بج رہے تھے ۔ بھبھیشن ایک خوبصورت رتھ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ لکشمن بھی اُن کے ساتھ تھے ۔ پیچھے فوج کے نامی سورما اپنے اپنے رتھوں پر شان سے بیٹھے ہوئے چلے جا رہے تھے ۔ آج بھبھیشن کا باقاعدہ راج تیلک ہوگا نہ وہ<noinclude></noinclude> lhu7yld8sdkjuuu8krm9gbjj05h4w8w 35125 35124 2026-06-24T13:09:17Z Jinder77 234 35125 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>{{Block center|٢٨٢}} راون کی رانی مندودری اور دوسری رانیاں بھی آکر ماتم کرنے لگیں ۔ رامچندر نے انہیں سمجھا کر رُخصت کیا ۔ سپاہیوں نے چاہا کہ چل کر لنکا کو لوٹیں ، مگر رامچندر نے انہیں منع کیا۔ ہارے ہوئے دشمن کے ساتھ وہ کسی قسم کی زیادتی نہیں کرنی چاہتے تھے . {{center|<big>'''(٦) بھبھیشن کی تاجپوشی'''</big>}} {{gap}}ایک دن وہ تھا کہ بھبھیشن ذلیل ہو کر روتا ہوا نکلا تھا ۔ آج وہ فتحمند اور سرخرو ہو کہ لنکا میں داخل ہوا ۔ سامنے سواروں کا ایک دستہ تھا ۔ طرح طرح کے باجے بج رہے تھے ۔ بھبھیشن ایک خوبصورت رتھ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ لکشمن بھی اُن کے ساتھ تھے ۔ پیچھے فوج کے نامی سورما اپنے اپنے رتھوں پر شان سے بیٹھے ہوئے چلے جا رہے تھے ۔ آج بھبھیشن کا باقاعدہ راج تیلک ہوگا ۔ وہ<noinclude></noinclude> 2nli009bbmwk3p3z9qef41qkz6uns5z 35126 35125 2026-06-24T13:11:48Z Jinder77 234 35126 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>{{Block center|٢٨٢}} راون کی رانی مندودری اور دوسری رانیاں بھی آکر ماتم کرنے لگیں ۔ رامچندر نے انہیں سمجھا کر رُخصت کیا ۔ سپاہیوں نے چاہا کہ چل کر لنکا کو لوٹیں ، مگر رامچندر نے انہیں منع کیا۔ ہارے ہوئے دشمن کے ساتھ وہ کسی قسم کی زیادتی نہیں کرنی چاہتے تھے . {{center|<big>'''(٦) بھبھیشن کی تاجپوشی'''</big>}} {{gap}}ایک دن وہ تھا کہ بھبھیشن ذلیل ہو کر روتا ہوا نکلا تھا ۔ آج وہ فتحمند اور سرخرو ہو کہ لنکا میں داخل ہوا ۔ سامنے سواروں کا ایک دستہ تھا ۔ طرح طرح کے باجے بج رہے تھے ۔ بھبھیشن ایک خوبصورت رتھ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ لکشمن بھی اُن کے ساتھ تھے ۔ پیچھے فوج کے نامی سورما اپنے اپنے رتھوں پر شان سے بیٹھے ہوئے چلے جا رہے تھے ۔ آج بھبھیشن کا باقاعدہ راج تیلک ہوگا ۔ وُہ<noinclude></noinclude> 5hmoalq5ccfqkjnyty71uju4h7l6erb صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/289 250 13755 35127 35007 2026-06-24T13:26:19Z Jinder77 234 35127 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>{{Block center|٢٨٣}} لنکا کی گدی پر بیٹھینگے ۔ رامچندر نے اُن سے جو وعدہ کیا تھا اُسے پورا کرنے کے لئے لکشمن کے ساتھ جا رہے ہیں ۔ شہر میں ڈونڈی پٹ گئی ہے. کہ اب راجہ بھھیشن لنکا کے راجہ ہوئے ۔ دونو طرف چھتوں سے اُن پر پھولوں کی بارش ہو رہی ہے ۔ امرا نذریں پیش کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں ۔ عام معافی کا اعلان کر دیا گیا ہے ۔ راون کا غم کوئی نہیں کرتا۔ سبھی اُس کے ظلم سے بیزار تھے ۔ بھھیشن کا سبھی جس گا رہے ہیں. {{gap}}بھیجھیشن کو گدی پر بٹھا کر رامچندر نے ہنومان کو سیتاجی کے پاس بھیجا بھبھیشن پالکی لے کر پہلے ہی سے حاضر تھے ۔ سیتاجی کی خوشی کا کون اندازہ کر سکتا ہے ۔ اتنے دنوں کی قید کے بعد آج اُنہیں آزادی ملی ہے مارے خوشی کے انہیں غش آگیا ۔ جب ہوش آیا تو ہنومان نے اُن کے قدموں پر سر جھکا کر کہا ۔ ماتا !<noinclude></noinclude> p4ngbinunqa9o8bd9pztdzpmye9204b 35128 35127 2026-06-24T13:51:45Z Jinder77 234 35128 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>{{Block center|٢٨٣}} لنکا کی گدی پر بیٹھینگے ۔ رامچندر نے اُن سے جو وعدہ کیا تھا اُسے پورا کرنے کے لئے لکشمن اُن کے ساتھ جا رہے ہیں ۔ شہر میں ڈونڈی پٹ گئی ہے. کہ اب راجہ بھبھیشن لنکا کے راجہ ہوئے ۔ دونو طرف چھتوں سے اُن پر پھولوں کی بارش ہو رہی ہے ۔ امرا نذریں پیش کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں ۔ عام معافی کا اعلان کر دیا گیا ہے ۔ راون کا غم کوئی نہیں کرتا۔ سبھی اُس کے ظلم سے بیزار تھے ۔ بھبھیشن کا سبھی جس گا رہے ہیں. {{gap}}بھیجھیشن کو گدی پر بٹھا کر رامچندر نے ہنومان کو سیتاجی کے پاس بھیجا بھبھیشن پالکی لے کر پہلے ہی سے حاضر تھے ۔ سیتاجی کی خوشی کا کون اندازہ کر سکتا ہے ۔ اتنے دنوں کی قید کے بعد آج اُنہیں آزادی ملی ہے مارے خوشی کے انہیں غش آگیا ۔ جب ہوش آیا تو ہنومان نے اُن کے قدموں پر سر جھکا کر کہا ۔ ماتا !<noinclude></noinclude> bg3zak0vber1yv8wsvgm5z3mlyjos1v صفحہ:1912 Tareekh Awadh urdu.pdf/8 250 13782 35129 2026-06-24T14:15:28Z Charan Gill 46 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”{{center|{{x-larger|'''تاریخ اودہ حصہ سویم'''}}}} <big>'''نواب سعادت علی خان ابن نواب شجاع الدلولہ'''</big> آب حیات میں لکھا ہے کہ نواب سعادت علی خانحرم کے شکر سے تھے اون کو میں میں نکل رکھتے تھے کہ منگل کو پیدا ہوئے تھے ۔ انین زیر کی اور دانائی کے آثار مکین ہی سے ع...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35129 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>{{center|{{x-larger|'''تاریخ اودہ حصہ سویم'''}}}} <big>'''نواب سعادت علی خان ابن نواب شجاع الدلولہ'''</big> آب حیات میں لکھا ہے کہ نواب سعادت علی خانحرم کے شکر سے تھے اون کو میں میں نکل رکھتے تھے کہ منگل کو پیدا ہوئے تھے ۔ انین زیر کی اور دانائی کے آثار مکین ہی سے عیان تھے ۔ نواب تجارت الدولہ آصف الدولہ کی والدہ سےکہا کرتے تھے کر یگا اگر ملک کے سربرتر بانو کھوگی تو اتارتے دو پنے کا پھر پر لگاہے گا اور شکر کا علم مرید کے اوس پار کار ے گا۔ سنہ ہجری میں پیدا ہوئے تھے ۔ اربعین عالم شباب میں وکیل السلطنه مانده از منار الملک نواب سیدی استانجان بہادر صمصام جنگ کی بیٹی سے اکبر آباد بین شادی ہوئی تھی علم سنین بیان کیا ہے ۔ کہ مرزا سف خان نے علاقہ ہندون، میانہ وغیرہ جسکی جمع سالانه ساته الا کہ روپیہ بھی نواب معاد قلیخان کے سپرد کیا۔ نواب کے ساتھ اسوقت آٹھ ہزار آدمی مجلے ہوتے تھے ۔ اور نواب مدار الدولا نیابت کرتے تھے اور نواب موصوف علاقہ کے معندو کی سرکوبی میں ہمہ تن مصروف تھے لیکن ولی منشا یہ تھی کہ مرزا نجف خان اور دوسرے کارپردازان بادشاہی کی کمی سے عہدہ نیابت وزارت جو شجاع الدوار کے عہدمیں اونکو حاصل تھا یا کوئی عمدہ جاگیر میں میں کسی قسم کا فرشتہ ہوں اور صورت ثروت بظا ہری قائم ہے ہا تھ آ ہے۔ مگر یہ نا ہے ولی پوری نہوئی ۔ مرزا تخفیفان کی ہمیشہ جنگ و جدل میں گذرتی بھی اور نواب سعادت علی خان کے خراج کو رات دن کی محبت ناگوار تی آراکبر آبادن بهنجار وارن سنگر گور تر جبل کو جانبہ کلکتہ خداشو تب اس مضمون کا لک ها کہ مرزا نجف خان کے لشکر کا عنقریب آگے بڑہنے کا ارادہ ہو اس کے جواب میں گورنر جنرل نے لکہا کہ آپ کا اور کے ساتھ جانا مناسب نہیں کہ ہند کی جانب مراجعت بہتر سے بیگو نواب آصف الدولہ کے عہد تک کوئی اسرمان منصور نہیں۔ نگر میں اس بات کا دروار ہو سکا ارن<noinclude></noinclude> tvzmhwf4t480hpctoe20c9noqtx9s6k 35130 35129 2026-06-24T14:17:06Z Charan Gill 46 35130 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>{{center|{{x-larger|'''تاریخ اودہ حصہ سویم'''}}}} <big>'''نواب سعادت علی خان ابن نواب شجاع الدلولہ'''</big> آب حیات میں لکھا ہے کہ نواب سعادت علی خانحرم کے شکر سے تھے اون کو میں میں نکل رکھتے تھے کہ منگل کو پیدا ہوئے تھے ۔ انین زیر کی اور دانائی کے آثار مکین ہی سے عیان تھے ۔ نواب تجارت الدولہ آصف الدولہ کی والدہ سےکہا کرتے تھے کر یگا اگر ملک کے سربرتر بانو کھوگی تو اتارتے دو پنے کا پھر پر لگاہے گا اور شکر کا علم مرید کے اوس پار کار ے گا۔ سنہ ہجری میں پیدا ہوئے تھے ۔ اربعین عالم شباب میں وکیل السلطنه مانده از منار الملک نواب سیدی استانجان بہادر صمصام جنگ کی بیٹی سے اکبر آباد بین شادی ہوئی تھی علم سنین بیان کیا ہے ۔ کہ مرزا سف خان نے علاقہ ہندون، میانہ وغیرہ جسکی جمع سالانه ساته الا کہ روپیہ بھی نواب معاد قلیخان کے سپرد کیا۔ نواب کے ساتھ اسوقت آٹھ ہزار آدمی مجلے ہوتے تھے ۔ اور نواب مدار الدولا نیابت کرتے تھے اور نواب موصوف علاقہ کے معندو کی سرکوبی میں ہمہ تن مصروف تھے لیکن ولی منشا یہ تھی کہ مرزا نجف خان اور دوسرے کارپردازان بادشاہی کی کمی سے عہدہ نیابت وزارت جو شجاع الدوار کے عہدمیں اونکو حاصل تھا یا کوئی عمدہ جاگیر میں میں کسی قسم کا فرشتہ ہوں اور صورت ثروت بظا ہری قائم ہے ہا تھ آ ہے۔ مگر یہ نا ہے ولی پوری نہوئی ۔ مرزا تخفیفان کی ہمیشہ جنگ و جدل میں گذرتی بھی اور نواب سعادت علی خان کے خراج کو رات دن کی محبت ناگوار تی آراکبر آبادن بهنجار وارن سنگر گور تر جبل کو جانبہ کلکتہ خداشو تب اس مضمون کا لک ها کہ مرزا نجف خان کے لشکر کا عنقریب آگے بڑہنے کا ارادہ ہو اس کے جواب میں گورنر جنرل نے لکہا کہ آپ کا اور کے ساتھ جانا مناسب نہیں کہ ہند کی جانب مراجعت بہتر سے بیگو نواب آصف الدولہ کے عہد تک کوئی اسرمان منصور نہیں۔ نگر میں اس بات کا دروار ہو سکا ارن<noinclude></noinclude> 3xm68xl6w7nncc4huco7c7l7ply83ig صفحہ:1901 Safarnama-Roam-O-Misr-O-Shaam urdu.pdf/5 250 13783 35137 2026-06-25T08:47:54Z Kaur.gurmel 74 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”{{center|{{center|{{xx-larger|'''سفرنامئه روم'''</br> '''و'''</br> مصروشام'''}}}}}} اس میں کام یہ ان جزئی کا پ نے اتھایہ کے جو سلسلہ بیان میں آگئے میتی ند رت سید الترین نامه و ولی در گیتی اقوات اور بہنیں شہر کی عام بمالی بات قابل به مقامات میشه و عمارات سری تعلیم والعلوم...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35137 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>{{center|{{center|{{xx-larger|'''سفرنامئه روم'''</br> '''و'''</br> مصروشام'''}}}}}} اس میں کام یہ ان جزئی کا پ نے اتھایہ کے جو سلسلہ بیان میں آگئے میتی ند رت سید الترین نامه و ولی در گیتی اقوات اور بہنیں شہر کی عام بمالی بات قابل به مقامات میشه و عمارات سری تعلیم والعلوم اورداس پور ونگ اور طلباکی ترسی تعلیم نسوان مصنفین اور تصنیفات کتخانے اخبارات اور رسالے۔ مشہور پاشاؤں اور ارباب کمال کی ملاقات ترکوں اور عربوں کے اخلاق و عادات کو تفصیل کے ساتھ لکھا۔ ہے آخر میں ان الفان سول و کی منقرسی فرسنگ ہے جو آسیکل محصور شام میں مستعمل ہو گئے ہیں۔ اور جن کے نہ جاننے کی وجہ سے لوگ عربی اخبارات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ {{center|<big>'''شیمان نعمانی'''</big>}}<noinclude></noinclude> s8hcqwhqcdaslxltkukqoiucppgnolt 35138 35137 2026-06-25T08:58:41Z Kaur.gurmel 74 35138 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>{{center|{{center|{{xx-larger|'''سفرنامئه روم'''</br> '''و'''</br> مصروشام'''}}}}}} اس میں کام یہ ان جزئی کا پ نے اتھایہ کے جو سلسلہ بیان میں آگئے میتی ند رت سید الترین نامه و ولی در گیتی اقوات اور بہنیں شہر کی عام بمالی بات قابل به مقامات میشه و عمارات سری تعلیم والعلوم اورداس پور ونگ اور طلباکی ترسی تعلیم نسوان مصنفین اور تصنیفات کتخانے اخبارات اور رسالے۔ مشہور پاشاؤں اور ارباب کمال کی ملاقات ترکوں اور عربوں کے اخلاق و عادات کو تفصیل کے ساتھ لکھا۔ ہے آخر میں ان الفاظ سول و کی منقرسی فرسنگ ہے جو آسیکل مصروشام میں مستعمل ہو گئے ہیں۔ اور جن کے نہ جاننے کی وجہ سے لوگ عربی اخبارات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ {{center|<big>'''شبلی نعمانی'''</big>}}<noinclude></noinclude> pk46dcw7hp8scj6y8uovwa6n2eu4kfe